بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ آخرت ہے۔ اس کے مطابق اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے۔ کیا اس عقیدے کی کوئی عقلی و منطقی توجیہ کی جاسکتی ہے۔؟

جواب:اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہماری اس زندگی میں کئی خلا موجود ہیں۔ ہماری یہ زندگی بڑی عجیب سی ہے۔ اس زندگی میں کسی کو مکمل اطمینان (Absolute Satisfaction)حاصل نہیں۔ افریقہ کے کسی قحط زدہ ملک کے کسی غریب سے غریب شخص سے لے کر امریکہ کے متمول ترین شخص تک کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے زندگی میں کبھی کوئی تکلیف پیش نہیں آئی اور اس کی ہر خواہش پوری ہوئی ہے۔یہاں وسائل محدود اور خواہشات لامحدود ہیں۔ یہاں سب سے بڑی تکلیف موت کی ہے جو انسان سے اس کے تمام وسائل کو چھین لیتی ہے۔ موت کے وقت غریب و امیر کا فرق مٹ جاتا ہے اور ہر انسان ایک ہی مقام پر جا کھڑا ہوتا ہے۔

††††††††† سب سے بڑا مسئلہ اس زندگی میں انصاف کا کامل صورت میں موجود نہ ہونا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نالائق افراد بعض اوقات اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ کئی قابل اور ذہین ترین افراد محض جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا۔ بڑے بڑے مجرم بسا اوقات چھوڑ دیے جاتے ہیں اور بے گناہ مارے جاتے ہیں۔ کسی طور سے بھی یہ زندگی کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔

††††††††††† ایک آئیڈیل زندگی کی خواہش ہر انسان کے لاشعور میں موجود ہے۔ ایک ایسی زندگی جہاں کوئی تکلیف نہ ہو حتی کہ موت کا خوف بھی زندگی کی آسائشوں سے محروم کرنے کے لئے موجود نہ ہو۔ ارسطو سے لے کر کارل مارکس تک بڑے بڑے فلسفیوں نے ایسے Utopiaتخلیق کئے ہیں لیکن ان کے آئیڈیل شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔اس زندگی کے مسائل کو اگر مختصرا بیان کیا جائے تو یہ دو چیزوں پر مبنی ہے ایک ماضی کے پچھتاوے اور دوسرے مستقبل کے اندیشے۔

††††††††††† انسان کی آئیڈیل زندگی کی یہ خواہشیہ تقاضا کرتی ہے کہ ایسی زندگی ہونی چاہیے لیکن کیا ایسی زندگی واقعتہً موجود ہے، یہ انسان نہیں جان سکتا۔ اس کا جواب تو اس کا خالق ہی دے سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے بہت تفصیل سے بیان کردیا ہے کہ ایسی ابدی زندگی موجود ہے اور وہ جنت کی زندگی ہے لیکن اس میں داخلہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی دنیا کی زندگیاللہ کا بندہ بن کر گزاری ہوگی۔ یہی آخرت کا عقیدہ ہے جو تمام الہامی مذاہب میں موجود ہے۔

††††††††††† اللہ تعالیٰ نے اس بات کو محض اپنی کتابوں میں بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسی آخرت اور جزا سزا کے تصور کو عملی طور پر دنیا میں بطور نمونہ ††(Sample)برپا کرکے بھی دکھا دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے چند اقوام کا انتخاب کیا اور انہیں اپنے رسولوں کے ذریعے خبردار کیا کہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزارو ورنہ تم پر اسی دنیا میں اس کا عذاب آئے گا۔جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کی بات مان لی، ان پر اللہ تعالیٰ نے اس دنیامیں سرفرازعطا کی اور انہیں اس دنیا میں سپر پاور کا درجہ عطا کیا۔ان اقوام میں سیدنا موسیٰ، سلیمان اور عیسیٰ اور محمد علیہم الصلوۃ السلامکے پیروکار شامل ہیں۔ اس کے برعکس جن اقوام نے انکار کی روش اختیار کی، ان کو دنیا میں سزا دی گئی۔ان کی مثال سیدنا نوح، ہود، صالح، شعیب علیہم الصلوۃ السلام کی اقوام ہیں۔

††††††††††† اللہ تعالیٰ نے آخرت کے تصور کو بیان کرنے کے لئے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کو آخرت کے تصور کا زندہ نمونہ بنا دیا ہے۔ اولاد ابراہیم کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے ساتھ بحیثیت قوم دنیا میں وہ معاملہ کیا گیا جو وہ سب کے ساتھ آخرت میں بحیثیت فرد کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے بنی اسرائیل کا انتخاب کیا ۔ جب تک بنی اسرائیل اس کے احکام پر چلتے رہےوہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بن کر رہے۔ تمام اقوام ان کے زیر نگیں رہیں۔ جب انہوں نے برائی کی راہ اختیار کی ان کو دنیا میں بھرپور سزا ملی۔ ان پر ایسے حملہ آور مسلط کئے گئے جنہوں نے ان کے مردوں کا قتل عام کیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا ڈالا۔ یہی معاملہ بنی اسماعیل کے ساتھ ہوا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور محض پندرہ بیس سال کے عرصےمیں انہیں بلوچستان سے لے کر مراکش تک کے علاقے کی سلطنت عطا کی گئی۔ لیکن جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو ان پر تاتاریوں، صلیبیوں اور پھر مغربی اقوام کو مسلط کر دیاگیا اور انہیں غلامی کی سزا دی گئی۔ کئی مرتبہ ان پر ایک دوسرے کی تلواروں کے ذریعے قتل عام کی سزا مسلط کی گئی۔

††††††††††† اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کی تاریخ کو بھی مذہبی اور غیر مذہبی دونوں ذرائع سے محفوظ کردیا ہے۔جو چاہے ان اقوام کی تاریخ سے یہ سمجھ لے کہ جزا و سزا کا یہ معاملہ اس کے ساتھ بھی ہونے والا ہے اور جو چاہے اس سے منہ موڑ کر آخری فیصلے کا انتظار کرے۔

محمد مبشر نذیر

April 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability