بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیا رسولوں پر ایمان ضروری ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: قرآن مجید میں ہے:

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ (البقرۃ 2:256   ) ’’بے شک جو لوگ اب مسلمان ہوئے، یا یہودی یا عیسائی یا صابی ، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہوگا اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

 اس آیت کے مطابق کوئی بھی یہودی، عیسائی، صابی یا مسلمان اگر اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہواور نیک عمل کرتا ہو، جنت میں جائے گا۔ کیا رسول کو ماننا ضروری نہیں؟ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے عقیدہ رسالت کی کوئی اہمیت نہیں۔ 

 

جواب:   یہ غلط فہمی اس آیت کے سیاق و سباق  کو نظر انداز کرکے اسے  پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں بنی اسرائیل کے اس غلط نظریے کی تردید کررہا ہے کہ ہم محض پیغمبروں کی اولاد ہونے کے باعث جنت کے مستحق ہیں۔  اللہ تعالیٰ یہ واضح کر رہا ہے کہ کسی مخصوص گروہ خواہ وہ یہودی ، عیسائی  یا مسلمان ہو، سے تعلق نجات کی ضمانت نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل ہی آخرت کی نجات کا باعث ہے۔  رسالت یہاں زیر بحث ہی نہیں۔ 

          اگر کوئی  شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور کسی کو قتل کردے تو اسے اس جرم کی سزا ضرور ملے گی۔ اسی طرح جو شخص جانتے بوجھتے اللہ تعالیٰ کے کسی رسول (خواہ وہ سیدنا موسیٰ ہوں ، عیسیٰ ہوں یا محمد علیہم الصلوۃ والسلام ہوں) کا انکار کردے تو یہ بھی ایک جرم عظیم ہے جس کی سزا اسے آخرت میں ضرور ملے گی۔ موجودہ دور کے غیر مسلموں کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ  حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جان بوجھ کر انکار کر رہے ہیں یا نہیں۔ کسی شخص پر آپ کی رسالت کی حقانیت کس حد تک واضح ہوئی ہے، یہ بات صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔ 

          ایسے تمام افراد خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم جنہوں نے حق کو کبھی تلاش کرنے کی زحمت ہی نہیں کی اور اس سے بے پرواہی کا رویہ اختیار کئے رکھا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یقینا مجرموں کی حیثیت سے پیش کئے جائیں گے۔ ان کا جرم حق کا انکار نہیں بلکہ اس سے بے اعتنائی ہوگا۔

محمد مبشر نذیر

April 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability