بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مسلمانوں کے مظلوم ہونے کے باوجود اقوام عالم کو ان سے ہمدردی کیوں نہیں ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: آج مسلمان دنیا بھر میں ایک مظلوم قوم ہیں۔ بہت سے ممالک میں ان پر ظلم کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود اقوام عالم کو ان سے ہمدردی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

 

جواب:مسلمان ایک طویل عرصے تک دنیا میں سپر پاور کی حیثیت سے دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے لے کر یورپ اور افریقہ کے دور دراز علاقے ان کے زیر نگیں رہے اور غیر مسلم حکومتیں بھی ان کی باج گزار رہیں۔ بارہ تیرہ سو سال کی اس تاریخ میں تمام ادوار خلافت راشدہ کے اخلاقی معیار کے نہیں رہے بلکہ کئی ایسے مسلمان بادشاہ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے غیر مسلم رعایا پر ظلم کیا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا۔ یورپ کے عروج کے ساتھ دنیا سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

††††††††† دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ایک عمومی رد عمل پایا جاتا رہا ہے جو کسی بھی مغلوب قوم میں غالب قوم کے خلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی رویہ ہے جیسا کہ اس وقت کی مغلوب اقواممیں امریکہ کے خلاف ایک عمومی نفرت پائی جاتی ہے۔

††††††††† شاید پچھلے دو سو سال میں مسلمانوں سے متعلق اس نفرت کا خاتمہ ہو جاتا کیونکہ مسلمانوں کی حیثیت اب مظلوم قوم کی تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں سے جب اقتدار چھینا گیا تو انہوں نے صورت حال کا حقیقی تجزیہ کرنے کی بجائے یہ سمجھا کہ ان اقوام نے ہمیں ہمارے پیدائشی حق سے محروم کر دیا ہے۔ دنیا میں جن عوامل کے نتیجے میں یہ عظیم تبدیلی رونما ہوئی تھی، مسلمان ان کا ادراک نہ کر سکے۔ انہوں نے رد عمل کی نفسیات کے تحت بہت سے مقامات پر مسلح جدوجہد کو اختیارکیا جس کے نتیجے میں مسلم اور غیر مسلم اقوام میں نفرت، تعصب اور دشمنی کی یہ فضا برقرار رہی۔

††††††††† موجودہ دور میں میڈیا کے فروغ کے باعث ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ انسان اب اپنے پرانے تعصبات کے جال سے نکل رہا ہے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ عراق پر امریکی حملے کی تقریباً تمام غیر مسلم اقوام نے مخالفت کی اور اس کے خلاف یورپ، آسٹریلیا اور خود امریکہ میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ آہستہ آہستہ دنیا اپنے تعصبات کے خول سے باہر آ رہی ہے۔

محمد مبشر نذیر

April 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/ اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability