بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بعض احادیث میں بظاہر تضاد کیوں نظر آتا ہے؟

 

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com.

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال: بہت مرتبہ یہ دیکھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک ہی حدیث میں ایک بات ہوتی ہے اور دوسری میں اس کے بالکلمتضاد۔ ایسا کیوں ہے اور اس کے بارے میں ہمیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیئے؟

 

جواب:†††† انسان کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کے ہر پہلو کو جزوی تفصیلات کی حد تک یاد نہیں رکھتا۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو اپنے خیالات، نظریات، دلچسپیوں اور تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ کوئی قتل کا واقعہ ہو جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گواہ تو پوری تفصیل سے قاتل کا حلیہ بتا دیتا ہے لیکن آلہ قتل کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کر پاتا کیونکہ اس میں اس کی دلچسپی نہیں ہوتی ۔اگر کوئی ایسا شخص بھی وہاں موجود ہو جواسلحے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو تو وہ باقی چیزوں کی نسبت آلہ قتل کی جزئیات کو بڑی تفصیل سے بیان کردے گا۔ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی شخص نے قاتل کو پہچان لیا ہو لیکن وہ کسی ذاتی مفاد یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں غلط معلومات فراہم کردے۔یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کو بیان کرنے والوں میں تفصیلات کے بارے میں کچھ نہ کچھ اختلاف واقع ہو ہی جاتا ہے۔

††††††††† یہ چیز بھی عام مشاہدے میں دیکھنے میں آتی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے سامنے واقعے کو بالکل درست بیان کردیتا ہے لیکن دوسرا تیسرے کے سامنے بیان کرتے وقت اپنے کسی مفاد کے تحت، یا پھر محض غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس میں کچھ کمی بیشی بھی کر دیتا ہے۔ آپ نے وہ کھیل کھیلا یا پھر دیکھا ضرور ہوگا جس میں ایک فرد کو کوئی جملہ بتایا جاتا ہے اور اس نے اسے اپنے ساتھی کے کان میں بتانا ہوتا ہے۔ بہت سے ساتھیوں سے گزر کر جب وہی جملہ آخری فرد سے پوچھا جاتا ہے تو اس کا جواب اصل جملے سے خاصا مختلف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں تواتر سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصدقطعی اور یقینی (Confirm) ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس خبر واحد سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد یقین کے درجے پر نہیں پہنچتیں بلکہ ان کے درست ہونے میں کسی نہ کسی حد تک شک و شبہ پایا جاتا ہے۔

††††††††† احادیث میں اختلاف کی صورت میں دین کے علماءقرآن مجید، سنت، اوراحادیث کے پورے ذخیرے کا جائزہ لینے کے بعد ان اختلافات میں مطابقت (Reconciliation) پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس معاملے میں بعض اوقات ایسی احادیث مل جاتی ہیں جن میں صورت حال کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں اختلاف حل ہو جاتا ہے۔ اگر یہ مطابقت پیدا نہ ہو سکے تو پھر اس حدیث کو قبول لیا جاتا ہے جو قرآن ، سنت اور دیگر صحیح احادیث سے مطابقت رکھتی ہو اور اس کے بیان کرنے والے راوی قابل اعتماد (Reliable) ہوں، جبکہ اس کی مخالف حدیث کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں یہ متعین کر لیا جاتا ہے کہ یا تو یہ حدیث محض جعلی (موضوع) ہے یا پھر اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو صحیح طریقے سے منتقل نہیں کیا گیا۔

محمد مبشر نذیر

August 2003

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام /قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability