بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالات  ذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہ کیا؟

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال:   اسلام نے غلامی کو بیک وقت ختم کرنے کی بجائے تدریجی طریقہ کیوں اختیار کیا؟ کیا ایسا ممکن نہ تھا کہ حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم تمام غلاموں کو بیک وقت  آزاد کردیتے اور دنیا سے اس لعنت کا خاتمہ ہو جاتا؟

 

جواب: انقلابی تبدیلیوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جہاں ایک برائی کو ختم کرتی ہیں وہاں دسیوں نئی برائیوں کو جنم دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے برائیوں کے خاتمے کے لئے بالعموم ’’انقلاب ‘‘(Revolution) کی بجائے ’’تدریجی اصلاح ‘‘ (Evolution) کا طریقہ اختیار کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں غلاموں کی حیثیت بالکل آج کے زمانے کے ملازمین کی تھی جن پر پوری معیشت کا دارومدار تھا۔  غلامی کے خاتمے کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لئے اگر درج ذیل مثال پر غور کیا جائے تو بات کو سمجھنا بہت آسان ہوگا۔

          موجودہ دور میں بہت سے مالک (Employers) اپنے ملازمین(Employees) کا استحصال کرتے ہیں۔  ان سے طویل اوقات تک بلامعاوضہ کام کرواتے ہیں، کم سے کم تنخواہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، بسا اوقات ان کی تنخواہیں روک لیتے ہیں، خواتین ملازموں کو بہت مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔  ان حالات میں آپ ایک مصلح ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دنیا سے ملازمت کا خاتمہ ہوجائے اور تمام لوگ آزادانہ اپنا کاروبار کرنے کے قابل (Self Employed) ہوجائیں۔ آپ نہ صرف ایک مصلح ہیں بلکہ آپ کے پاس دنیا کے وسیع و عریض خطے کا اقتدار بھی موجود ہے اور آپ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ 

          ان حالات میں آپ کا پہلا قدم کیا ہوگا؟ کیا آپ  یہ قانون بنا دیں گے کہ آج سے تمام ملازمین فارغ ہیں اور آج کے بعد کسی کے لئے دوسرے کو ملازم رکھنا ایک قابل تعزیر جرم ہے ؟ اگر آپ ایسا قانون بنائیں گے تو اس کے نتیجے میں کروڑوں بے روزگار وجود پذیر ہوں گے ۔ یہ بے روزگار یقینا روٹی ، کپڑے اور مکان کے حصول کے لئے چوری ، ڈاکہ زنی ، بھیک اور جسم فروشی کا راستہ اختیار کریں گے۔  جس کے نتیجے میں پورے معاشرے کا نظام تلپٹ ہوجائے گا اور ایک برائی کو ختم کرنے کی انقلابی کوشش کے نتیجے میں ایک ہزار برائیاں پیدا ہوجائیں گی۔

          یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملازمت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تدریجی اصلاح کا طریقہ ہی کارآمد ہے۔ اس طریقے کے مطابق مالک و ملازم کے تعلق کی بجائے کوئی نیا تعلق پیدا کیا جائے گا۔ لوگوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے گا وہ اپنے کاروبار کو ترجیح دیں۔ انہیں کاروبار کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ جو لوگ اس میں آگے بڑھیں ، انہیں بلا سود قرضے دیے جائیں گے اور تدریجاً تمام لوگوں کو 8 گھنٹے کی غلامی سے نجات دلا کر مکمل آزاد کیا جائے گا۔ (واضح رہے کہ کارل مارکس اس مسئلے کا ایک حل ’’کمیونزم ‘‘ پیش کرچکے ہیں اور دنیا کے ایک بڑے حصے نے اس کا تجربہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے جو ناکام رہا۔)

          عین ممکن ہے کہ اس سارے عمل میں صدیاں لگ جائیں۔  ایک ہزار سال کے بعد، جب دنیا اس مسئلے کو حل کرچکی ہو تو ان میں سے بہت سے لوگ اس مصلح پر تنقید کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا، ویسا کیوں کیا مگر اس دور کے انصاف پسند یہ ضرور کہیں گے کہ اس عظیم مصلح نے اس مسئلے کے حل کے لئے ابتدائی اقدامات ضرور کئے تھے۔

          اب اسی مثال کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر منطبق کیجئے۔ اسلام غلامی کا آغاز کرنے والا نہیں تھا۔ غلامی اسے ورثے میں ملی تھی۔  اسلام کو اس مسئلے سے نمٹنا تھا۔  عرب میں بلامبالغہ ہزاروں غلام موجود تھے۔ جب فتوحات کے نتیجے میں ایران ، شام  اورمصر کی مملکتیں مسلمانوں کے پاس آئیں تو ان غلاموں کی تعداد کروڑوں میں تھی۔ اگر ان سب غلاموں کو ایک ہی دن میں آزاد کر دیا جاتا تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلتا کہ کروڑوں کی تعداد میں طوائفیں، ڈاکو، چور، بھکاری وجود میں آتیں جنہیں سنبھالنا شاید کسی کے بس کی بات نہ ہوتی۔

 

اسلام نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے جو اقدامات کئے وہ یہ تھے۔ 

·        رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو غلاموں کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرنے کی تربیت دی۔ انہیں یہ حکم دیا کہ جو تم خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو، وہی انہیں پہناؤ اور ان کے کام میں ان کی مدد کرو ۔ غلاموں کو اپنا بھائی سمجھو،  ان کا خیال رکھو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اسی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ اپنے غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنے لگے۔ احادیث میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام کو دیکھ کر یہ پہچاننا مشکل تھا کہ آقا کون ہے اور غلام کون ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اپنے غلاموں سے بیٹوں کا سا سلوک کرتیں۔  

·        حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو اعلیٰ اخلاقی تربیت دیں اور انہیں آزاد کردیں۔  لونڈیوں کو آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے کو ایسا کام قراردیا جس پر اللہ تعالیٰ کے حضور دوہرے اجر کی نوید ہے۔   بعد کے دور میں ہمیں ایسے بہت سے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں کا ذکر ملتا ہے جو علمی اعتبار سے جلیل القدر علماء صحابہ کے ہم پلہ تھے۔  ایک مثال سیدنا سالم رضی اللہ عنہ تھے جن کا شمار ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے۔ 

·        مثال قائم کرنے کے لئے حضور  صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے تمام غلام آزاد کئے یہاں تک کہ اپنی وفات کے وقت آپ کے پاس کوئی غلام نہ تھا۔  آپ کے جلیل القدر صحابہ کا بھی یہی عمل تھا۔  سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی دولت سے ایسے غلام خرید کر آزاد کئے جن پر ان کے مالک اسلام لانے کے باعث ظلم کرتے تھے۔   صحابہ کی تاریخ میں ایسے بہت سے غلاموں کا ذکر ملتا ہے جو  آزاد کئے گئے تھے۔ ان کے حالات پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں جو کتب الموالی کہلاتی ہیں۔

·        دور جاہلیت میں آزاد کردہ غلاموں کو بھی کوئی معاشرتی مقام حاصل نہ تھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ان کے سابقہ مالکوں کا ہم پلہ قراد دیا۔

·        ایسے غلام جو آزادی کے طالب تھے، ان کی آزادی کے لئے قرآن نے مکاتبت کا دروازہ کھولا۔ اس کے مطابق جو غلام آزادی کا طالب تھا، وہ اپنے مالک کو اپنی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قسطوں میں رقم ادا کرکے آزاد ہو سکتا تھا۔  صحابہ کرام ایسے غلاموں کی مالی مدد کرتے جو مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالک کو رقم ادا کرکے انہیں آزاد کروایا تھا۔ قرآن نے حکومتی خزانے میں سے ایسے غلاموں کی مالی امداد کا حکم دیا ہے۔

·        جنگی قیدیوں کو غلام بنایا جاتا تھا۔ قرآن نے جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ یا تو انہیں بلامعاوضہ آزاد کردیا جائے یا پھر ان سے جنگی تاوان وصول کرکے آزاد کیا جائے۔ اگرچہ بعض جنگوں میں قیدیوں کو عارضی طور پر غلام بنایا گیا مگر معاشرے میں انہیں جذب کرنے کے بعد وقتاً فوقتاً  انہیں آزاد کیا جاتا رہا حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں عرب کے اندر غلامی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔

اس بحث سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کے لئے یا کم ازکم غلاموں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ایسے اقدامات کئے جن کا تصور بھی اس دور میں محال تھا۔ اس موضوع پر اگر آپ تفصیل سے مطالعہ کرنا چاہیں تو میری کتاب "اسلام میں ذہنی و جسمانی غلامی کے انسداد کی تاریخ " کا مطالعہ کیجیے۔

 

محمد مبشر نذیر

July 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability