بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Your Questions & Comments

Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!!

آپ کے سوالات و تاثرات

سوالات کو دبائیے نہیں! سوالاتذہنی صحت کی ضمانت ہیں!!!

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ثبوت کیا ہے؟

 

Don't hesitate to share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com .

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سوال:تاریخ میں بہت سے لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے جن میں سے بہت سوں کو مسلمان سچا اور بہت سوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ کیا ایسا کوئی معیار (Criteria)†† موجود ہے جس کی بنیاد پر یہ جانچا جاسکے کہ حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں؟

 

جواب:†† نبوت و رسالت اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ منصب ہیں جن پر اس نے اپنے منتخب بندوں کو فائز کیا ہے۔ نبی و رسول کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مدد (Support)†† حاصل رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے ۔ رسول کا معاملہ تھوڑا سا مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم پر اللہ کی برہان قاطع بن کر آتا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر اس کی قوم نے خدا کی طرف رجوع نہ کیا تو اس پر اسی کی زندگی میں ایک عذاب آئے گاجس میں نہ ماننے والے تہس نہس کر دیے جائیں گے۔ یہ سلسلہ حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے۔

††††††††† تاریخ عالم گواہ ہے کہ سیدنا نوح، ہود، صالح، شعیب، ابراہیم، لوط، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلوۃ والسلام نے اسی دعوے کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب کیا۔ جب ان کی قوموں نے ان کی بات نہ مانی تو ایک مخصوص وقت کے بعد ان کی قوموں کو تہس نہس کر دیا گیا۔ یہ عذاب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کے سچے رسول ہیں کیونکہ ان انبیا کے علاوہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے سے خبردار کرکے کوئی آسمانی یا زمینی آفت کسی قوم پر مسلط کی گئی ہو۔

††††††††† حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آپ نے اپنے مخاطبین کو اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کے اقرار کی دعوت دی۔ جن لوگوں نے انکار کیا، ان پر یہ عذاب آسمانی آفت کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تلواروں کے ذریعے آیا۔مشرکین عرب کو موت کی سزا دی گئی اور یہود و نصاریٰ پر محکومی اور جزیہ کا عذاب مسلط کیا گیا۔ اس پورے واقعے کی تفصیل قرآن میں درج کر دی گئی جس کے تاریخی وجود میں اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ا س واقعے سے یہ حقیقت مبرہن ہوتی ہے کہ محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے رسول ہیں اور آپ کی رسالت واقعتا اللہ ہی کی جانب سے ہے۔

††††††††† دل چسپ بات یہ ہے کہ نبوت و رسالت کے وہ دعوے دار ،جنہیں امت مسلمہ نے دجال اور کذاب قرار دیا ہے، کے ہاں ایسی کسی واضح نشانی کے آثار نہیں ملتے۔ ان کی زیادہ تر تعلیماتکا منبع ان کے اپنے خواب اور الہام ہوتے ہیں ۔ اپنی ذات سے باہر کی دنیا میں وہ کوئی ایسی نشانی پیش نہیں کرسکتے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ وہ واقعتا اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا رسول ہیں۔

محمد مبشر نذیر

August 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability