بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سیکس کے بارے میں متضاد رویے

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

برصغیر کے لوگ بھی عجیب ہیں۔سیکس سے متعلق ان کے ہاں بالکل متضاد رویے پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف ان کے ہاں شرم وحیا ایک بہت بڑی اخلاقی قدر ہے۔ سیکس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بھی انسان خود کو کھسیانا سا محسوس کرتا ہے اور دوسری طرف یہ عالم ہے کہ معاشرے میں جنسی بے راہ روی بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس مغربی معاشروں میں اگرچہ فحاشی اپنے عروج پر ہے لیکن وہ لوگ اس معاملے میں دوغلے رویوں کا شکار نہیں ہیں۔

††††††††† برصغیر کی قدیم معاشرت میں عورت کو بری طرح دبایا گیا اور اقدار کا ایسا نظام قائم کیا گیا جس میں عورت کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہے۔یہ تصور قائم کیا گیا کہ عورت صرف مرد کی خدمت کے لئےپیدا ہوئی ہے۔ پہلے باپ، پھر بھائی، اس کے بعد خاوند اور آخر میں بیٹے کی خدمت اس کا فرض ہے۔ اگر خاوند اپنی بیوی سے بے وفائی کرتے ہوئے کسی اور عورت سے ناجائز تعلقات استوار کر لے تو یہ جرم قابل معافی سمجھا جاتا ہےاور کہا جاتا ہے کہ چلو مرد ہے، لیکن اگر بیوی ایسا کرلے تو یہ جرم ناقابل معافی ہے اور اس کی سزا موت ہے جو عورت کو اس کا خاوند ، باپ یا بھائی دے سکتا ہے۔

††††††††† انسان کی نفسیات رد عمل کی نفسیات ہے۔جب انسان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو وہانہیں آسانی سے قبول نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ اگر اسے ہر طرح سے باندھ کر رکھا جائے تو وہ چور راستے تلاش کر لیتا ہے۔ جب کبھیاسے کوئی ایسا موقع ملتا ہے جس سے وہ ان پابندیوں کو توڑ سکے تو وہ انہیںپوری قوت سے توڑ دیتا ہے۔ یہی معاملہ برصغیر کی عورت کے ساتھ ہوا۔ بیسویں صدی کے اواخر سے میڈیا کے فروغ سے ایک بہت بڑی معاشرتی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔پرانی اقدار ٹوٹ رہی ہیں اور نئی جنملے رہی ہیں۔ میڈیا نے اپنا کاروبار چمکانے کے لئے انسان کے سفلی جذبات کو بھرپور استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں ایک خاموش تبدیلی آ رہی ہے۔ اس تبدیلی کا ہدف نئی نسل ہے۔ برصغیر کی عورت نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر خود پر عائد جائز و ناجائز پابندیوں کو توڑنے کا ارادہ کی جس کے اثرات واضح طور پر ہمارے معاشرے میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ آپ نے پاکستان کے بازاروں میں اکثر یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ماں برقعے میں ہے اور اس کی بیٹینے انتہائی نامعقول سا لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔†† دراصل یہ عورت کی قدیم اقدار کے خلاف بغاوت ہے جن میں اس پر بہت سی ناجائز پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

††††††††† ان قدیم و جدید اقدار کے درمیان ایک خدا سے ڈرنے والے مسلمان کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ شرم و حیا سے متعلق جو احکام ہمیں قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتے ہیں، وہ انتہائی معقول ہیں اور انسانی عقل بھی انہیں تسلیم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جو پابندیاں ہماری معاشرت میں رائج ہیں، ان میں زیادہ تر نامعقول ہیں۔ہمیں چاہیئے کہ اس معاملے میں افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے اعتدال پسندی کا رویہ اختیار کریں۔دین کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے اور بے جا پابندیوں سے اجتناب کرکے ہم اپنی نئی نسل کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی معاشرتی پابندیوں پر ہی اصرار کیا تو عین ممکن ہے کہ نئی نسل دینی احکام کو بھی پس پشت ڈال دے۔

محمد مبشر نذیر

December 2005

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability