بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دین کا مطالعہ معروضی طریقے (Objective) سے کیجئے

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کسی بھی چیز کے مطالعے کے دو طریقے دنیا میں رائج ہیں۔ ایک غیر معروضی (Subjective)†† طریقہ کہلاتا ہے اور دوسرا معروضی (Objective)†† طریقہ۔ غیر معروضی طریقے میں انسان کچھ چیزوں کو پہلے سے ہی فرض کر لیتا ہے اور پھر اس کے مطالعے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس نے جو نقطہ نظر پہلے سے ہی متعین کر لیا ہے، وہ اس کے حق میں دلائل تلاش کرے اور اگر اس کے خلاف کوئی بات اسے نظر آئے تو اسے یا تو نظر انداز کردے یا پھر توڑ مروڑ کر اس سے اپنے مطلب کی بات اخذ کرلے۔ معروضی طریقے میں انسان پہلے سے کوئی چیز طے نہیں کرتا بلکہ اپنے مطالعے اور مشاہدے سے اس پر جو حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے وہ اسے تسلیم کرلیتا ہے۔ دنیا بھر میں عام طور پرمذہبی رہنما، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اپنے مطالعے اور تعلیم میں غیر معروضی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے برعکس سائنس دان عموماً غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے، معروضی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل اس طرح بیان کرتے ہیں:

 

"جب دو سائنس دانوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو وہ اختلاف کو دور کرنے کے لئے ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ جس کے حق میں ٹھوس اور واضح ثبوت مل جاتے ہیں، وہ راست قرار پاتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ سائنس دان ہونے کے حیثیت سے ان دونوں میں سے کوئی بھی خود کو بے خطا خیال نہیں کرتا۔ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہوسکتے ہیں۔ اس کے برخلاف جب دو مذہبی علماء میں اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ دونوں اپنے آپ کو مبرا عن الخطا خیال کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے کوئی غلطی نہیں ہوسکتی۔ دونوں میں سے ہر ایک کو یقین ہوتا ہے کہ صرف وہی راستی پر ہے۔ لہٰذا ان کے درمیان فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ دونوں کو یقین ہوتا ہے کہ دوسرا نہ صرف غلطی پر ہے ، بلکہ راہ حق سے ہٹ جانے کے باعث گناہ گار بھی ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور نظری مسائل حل کرنے کے لئے دنگا فساد تک نوبت جاپہنچتی ہے۔" (برٹرینڈ رسل: لوگوں کو سوچنے دو، اردو ترجمہ از قاضی جاوید، ص 86 )

 

یہ بات بدیہی طور پر واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن اور اس کے پیارے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا مطالعہ غیر معروضی طریقے سے نہیں بلکہ معروضی طریقے پر کرنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص پہلے ہی سے کوئی عقیدہ بنا لے اور پھر قرآن و سنت کا مطالعہ شروع کرے تو وہ دراصل اپنے دل و دماغ کو اللہ کے سامنے نہیں جھکا رہا بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ العیاذ باللہ قرآن و سنت اس کی خواہش اور اس کے نظریے کے سامنے جھک جائیں۔ اس لئے ایسے لوگوں سے،جو مختلف مذاہب، مسالک اور فرقوں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں، ہماری گذارش یہ ہے کہ وہ پہلے سے کوئی چیز طے نہ کریں بلکہ جیسا انہیں قرآن اور سنت سے ملے ، اسے ہی اپنے عقیدے یا عمل کے طور پر اختیار کریں۔

محمد مبشر نذیر

January 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability