بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دین میں اضافہ

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دین کو اسی طرح پیش کیا جانا چاہیئے جیسا کہ وہ ہے۔  دین کے کسی حکم میں جہاں کوئی کمی ایک ناقابل معافی جرم ہے، وہاں اس میں زیادتی بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جو لوگ اپنی طرف سے دینی احکام میں اضافہ کرتے ہیں یا پھر دین نے اگر کسی حکم کو پسندیدہ (مستحب) کے درجے پر رکھا ہے اور وہ اسے فرض قرار دیتے ہیں، وہ اسی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔  دینی احکام میں اضافہ کرنے کے اس رجحان پر امین احسن اصلاحی صاحب کا تبصرہ قابل مطالعہ ہے۔

’’انسان کے اندر یہ عام کمزوری پائی جاتی ہے کہ جن چیزوں کے ساتھ اس کا تعلق محض عقلی ہی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہوتا ہے، ان کے معاملے میں وہ بسا اوقات غیر متوازن اور غیر معتدل ہو جایا کرتا ہے۔ آدمی اپنے بیوی بچوں سے محبت کرتا ہے تو صرف محبت ہی نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات اس محبت میں وہ ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ عداوت بھی کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس اندھے پن میں اس کو خدا کے حقوق کا بھی کچھ ہوش نہیں رہ جاتا۔ اگر اسے اپنے قبیلہ یا قوم یا ملک سے محبت ہے تو ان کی عصبیت اس پر بسا اوقات اتنی غالب آجاتی ہے کہ وہ ان کے لئے پوری انسانیت کا دشمن بن جاتا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان کی حمایت میں خود خدا سے بھی لڑنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

یہی چیز مذہب کے دائرہ میں آ کر اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے کیونکہ مذہب کے ساتھ اولاً تو عام لوگوں کا تعلق عقلی کم اور جذباتی زیادہ ہوتا ہے اور اگر عقلی ہوتا بھی ہے تو بھی اس معاملے میں انسان کے جذبات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ عقل کے لئے ان کو ضبط میں رکھنا آسان کام نہیں ہوتا۔یہ جام و سنداں کی بازی کھیلنا ہر شخص کے بس کا کام نہیں ہے۔ چنانچہ اس دائرہ کے اندر ایسا بہت ہوتا ہے کہ آدمی کو جس حد پر رک جانا چاہئے وہاں آکروہ نہیں رکتا بلکہ اس حد کو پھلانگ کر آگے نکل جانا چاہتا ہے۔ اگر ایک شخص اس کا مرشد ہے تو وہ اس کو مرشد ہی کے درجہ پر نہیں رکھے گا بلکہ اس کی خواہش ہو گی کہ وہ کسی طرح اس کو رسالت کے مرتبہ پر فائز کردے۔ اسی طرح اگر ایک ذات کو خدا نے منصب رسالت سے سرفراز فرمایا ہے تو یہ اپنے جوش عقیدت میں یہ چاہے گا کہ اس کو خدا کی صفات میں بھی کچھ نہ کچھ شریک کردے۔ اگر اس سے کسی کام کا مطالبہ پاؤ سیر کیا گیا ہے تو وہ چاہے گا کہ وہ اس کو بڑھا کر سیر بھر کردے۔ اس غلو پسندی نے دنیا میں بڑی بڑی بدعتوں کی بنیادیں ڈالی ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی کے سبب سے انہوں (اہل کتاب) نے اپنے صوفیوں اور عالموں کو اربابا من دون اللّٰہ کا درجہ دیا اور یہی چیز تھی جس نے ان کو رھبانیت کے فتنہ میں مبتلا کیا۔  ‘‘ (تزکیہ نفس کامل ، ص 208)

ٍٍ          اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس غلو کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلاَّ الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ۔  (النساء 4:171 )  ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرواور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ بے شک مسیح، عیسیٰ بن مریم تو صرف اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ ہیں۔ ‘‘  اسی بنا پر نبی رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق غلو سے منع فرمایا تھا: لا تطرونی کما اطرت النصاری عیسی ابن مریم ؛ فانما ان عبدہ، فقولوا: عبد اللّٰہ و رسولہ (بخاری، کتاب الانبیاء)   ’’تم مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس عیسائیوں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو حد سے بڑھایا۔ میں صرف اللہ کا بندہ ہوں، پس تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہنا۔‘‘

          اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو ہمیں دین میں اضافوں کی بے شمار مثالیں مل سکتی ہیں۔ ہمارے عقائد میں حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم سے متعلق بہت سے ایسے تصورات موجود ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ ہماری دینی رسومات میں ایک بہت بڑی تعداد ان رسومات کی ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔  ہم سے کوئی یہ پسند نہیں کرے گا کہ پانچ نمازوں میں ایک اور کا اضافہ کرکے دین میں نمازوں کی تعداد چھ کر دی جائے یا ہر رکعت میں تین سجدے مقرر کر دیے جائیں۔ اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر مثال کے طور پر دین کے 50 احکامات ہمیں عطا فرمائے ہیں تو اس پر 51 ویں کا اضافہ ہر طرح سے قابل مذمت ہے۔ ایسے اضافے کرنے والے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین معاذ اللہ کامل نہیں چنانچہ وہ اپنے تئیں اسے مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محمد مبشر نذیر

August 2003

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability