بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مشکل پسندی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر کام کو مشکل طریقے سے کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین پر مشکل طریقے سے عمل کرکے ہی اس کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ جب دین کی دعوت دیتے ہیں تو دین کو ایسا مشکل بنا کر پیش کرتے ہیں کہ سننے والا دین پر عمل کرنے کو دنیا کا سب سے مشکل کام سمجھنے لگے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کو اگر دو کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو ان میں سے آسان راستے ہی کا انتخاب فرماتے۔ چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دین کی دعوت دینے والوں کو ہدایت فرمائی:  فانما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین (بخاری، رقم 220)  ’’تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، دشواری پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔‘‘

          ہماری آسانی کے لئے دین میں بہت سی رخصتیں (Relaxations) دی گئی ہیں جیسے بیماری کی حالت میں بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنا۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ عادت بن گئی کہ وہ رخصتوں کا فائدہ نہ اٹھاتے بلکہ مشکل عمل ہی انجام دیتے۔ یہ بات جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے نوٹس میں لائی گئی تو آپ کا رد عمل بڑا شدید تھا۔ اس حدیث پر غور فرمائیے۔

  ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداً (نیکی کے) بعض کام کئے ، پھر کچھ عرصے بعد ان کے بارے میں لوگوں کو رخصت دے دی۔ کچھ لوگوں نے رخصت سے فائدہ اٹھانا اچھا نہ سمجھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ایک خطبہ دیا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا:  بعض لوگوں کو یہ کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی چیزوں سے احتراز کرتے ہیں جو میں خود کرتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور اس کا ڈر رکھنے والا ہوں۔ ‘‘(بخاری ، کتاب الادب)

           حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بسا اوقات کئی پسندیدہ چیزوں سے اس لئے اجتناب فرمایا کہ کہیں یہ امت پر فرض ہو کر لازم نہ ہوجائے اور دین میں ان کے لئے مشکل پیدا ہو۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشکل پسندی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں تھی۔

محمد مبشر نذیر

August 2003

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability