بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مذہبی علماء کی زبان

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جمعہ کا دن تھا۔ مساجد سے نماز جمعہ کے لئے پہلی اذان کی صدا بلند ہوئی۔بہت کم لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ کاروبار زندگی ویسے ہی چلتا رہا۔ دفاتر میں لوگ اپنے کام میں مشغول رہے۔ دکانوں پر خرید و فروخت ہوتی رہی اور گھروں میں بیٹھنے والے گھروں ہی میں بیٹھے رہے۔ امام صاحب نے چند سامعین کے سامنے اردو خطبے کا آغاز کیا اور یہ چند سامعین چند ہی رہے۔ کچھ دیر بعد امام صاحب خاموش ہوئے اور دوسری اذان سے قبل چار رکعت پڑھنے کا وقت دیا گیا۔ جیسے ہی امام صاحب خاموش ہوئے، لوگ جوق در جوق مسجد کی طرف جانے لگے۔دوسری اذان سے پہلے ہی مسجد کھچا کھچ بھر گئی اور عربی خطبہ جو کسی کی سمجھ میں شاید ہی آتا ہو، سننے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

††††††††† ہمارے علماء کے سامعین اتنے کم کیوں ہوتے جارہے ہیں؟ اگر یہ سوال انہی علماء سے کیا جائے تو وہ موجودہ دور کی خرابیاں بیان کریں گےاور معاشرتی بگاڑ کو اس کا ذمہ دار قرار دیں گے حالانکہ اسی معاشرتی بگاڑ کے باوجود بعض ایسے بھی اہل علم ہیں جن کی تقاریر سننے کے لئے ہزاروں افراد منتظر رہتے ہیں۔

††††††††† ہمارے نزدیک اس مسئلے کی اصل وجہ علماء کی زبان ہے۔ ہمارے علماء کو جو زبان سکھائی جاتی ہے وہ قرون وسطیٰ کے فقہ، فلسفے اور منطق کی زبان ہے۔ یہ زبان یقینا اس دور کی کتب کے مطالعے کے لئے تو نہایت مفید ہے لیکن دعوت و تبلیغ کے لئے انتہائی ناموزوں۔ سینکڑوں سالوں میں جو تبدیلیاں دنیا میں رونما ہو چکی ہیں، اس کی طرف ان کی توجہ مبذول نہیں کروائی جاتی۔ جب دور جدید کا کوئی شخص ان کی بات سنتا ہے تو ان کی زبان اور گفتگو کو وہ اپنی زندگی سے قطعی غیر متعلق محسوس کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ مسجد میں جانے کے لئے امام صاحب کی تقریر کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں ۔ اگر ہمارے اہل علم اپنے افکار کو لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں ، اسی معاشرے اور اسی دور کی زبان کو سیکھ کر اس میں اپنی دعوت ان تک پہنچانی ہو گی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے جو نبی و رسول بھیجے وہ اپنے مخاطبین کو انہی کی زبان میں خطاب کیا کرتے تھے۔

محمد مبشر نذیر

August 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability