بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بزرگوں کی کرامات یا ان کا کردار؟

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہر قوم اپنے بزرگوں اور قومی ہیروز کے حالات زندگی کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ ان کی سیرت پر کتب لکھی جاتی ہیں، فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ان کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔اگر ہم اہل برصغیر کے بزرگوں کے تذکروں کا جائزہ لیں تو عجیب بات یہ سامنے آتی ہے کہ ان کے اعلیٰ کردار اور سیرت کی تالیف پر بہت ہی کم توجہ دی گئی ہے۔ اس کے برعکس سارا زور ان کی کرامات پر لگا دیا گیا ہے۔ان کی کرامات کو پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے وہ جادوگر ہوں یا سپر مین کی طرح مافوق الفطرت صلاحیتیں رکھتے ہوں۔

††††††††† کسی قوم کی تصنیفات اس کی ذہنی حالت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں ان کے مذہبی اکابرین مافوق الفطرت صلاحیتوں کے حامل سمجھے جاتے رہے ہیں۔صدیوں کے ساتھ نے مسلمانوں کو ان کی جن چیزوں نے متاثر کیا، ان میں سے ایک اکابر پرستی تھی۔ جس طرح ہندوؤں کا مذہبی لٹریچر ، جوگیوں اور باباؤں کی کرامتوں سے بھرا پڑا ہے، اسی طرح مسلمانوں کا لٹریچر ان کی بزرگوں کے سپر نیچرل کارناموں سے لبریز ہے۔

††††††††† دین اسلام میں انسانیت کا درجہ بہت بلند ہے۔ انبیاء کرام کے بارے میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین کردار کے حامل انسان تھے۔اسی سے یہ بات واضح ہے کہ ایک اچھے کردار کے حامل انسان کا درجہ بہت بلند ہے۔ اگر ہم بھی کرامات کے حصول کی بجائے اپنی سیرت و اخلاق کی تعمیر کی طرف توجہ دیں اور ایک اچھا انسان بننے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ مقام اس سے بہت بلند ہے کہ ہم لوگوں کو ہوا میں اڑنے اور پانی پر چلنے کے کرتب دکھاتے پھریں۔

††††††††† ہمیں اپنی تقریر و تحریر میں بھی اپنے بزرگوں کے اعلیٰ اخلاقی معیار اور ان کی سیرت و کردار کے پہلو کو اجاگر کرنا چاہیئے جو کہ ان کا اصل طرہ امتیاز ہے۔

محمد مبشر نذیر

July 2006

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability