بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ساس اور بہو کا مسئلہ

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ساس بہو کا جھگڑا 99 فیصد گھروں کے لئے مسائل کا باعث بنتا ہے۔یہ جھگڑا عورت کی Lust for Possession کی بنیاد پر وجود پذیر ہوتا ہے۔عورت میں ملکیت کا جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ اس میں شراکت برداشت نہیں کر سکتی ۔ بیوی کی حیثیت سے وہ سوکن کو اور ماں کی حیثیت سے وہ بہو کو برداشت کرنے پر بڑی مشکل سے تیار ہوتی ہے۔ جب ایک دوسری عورت اس کے بیٹے کی زندگی میں آتی ہے اور اس کے وقت اور مال و دولت میں شریک بنتی ہے تو یہ بات ماں کے لئے برداشت کرنا بہت مشکل ہوتی ہے۔وہ طرح طرح سے اپنی بہو پر ظلم ڈھاتی ہے۔ اگر بہو نرم مزاج کی ہو تو وہ ان تمام سختیوں کو سہتی رہتی ہے لیکن اگر وہ بھی اسی طرح مضبوط ہو تو اس کی جوابی کاروائیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں جو اکثر گھروں کی تباہی پر منتج ہوتی ہیں۔ جب یہ بہو ساس بنتی ہے تو پھر سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

††††††††† اگر دیکھا جائے تو اس مسئلے کا محرک وہی حسد کا جذبہ ہے جس کی بنیاد پر ابلیس اللہ تعالیٰ کا سرکش بنا۔ذرا غور کیجئے تو اللہ تعالیٰ کا ایک عابد و زاہد بندہ جس کی ساری عمر ہی اس کی عبادت میں گزری ہو، کس طرح اس کا سرکش بن سکتا ہے؟ یہ حسد ہی کا جذبہ ہے جو بندے کے وجود کو کھوکھلا کر کے اسے اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنے مالک سے ٹکر لینے پر تیار ہو جائے جس کا نتیجہ ابدی تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

††††††††† حسد کا جذبہ انسان کی ملکیت کی خواہش (Lust of Possession)†† کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اسے آپ تکبر کا ثمر بھی قرار دے سکتے ہیں۔انسان خود کو بہت کچھ اور ہر چیز کا حق دار اور دوسرے کو کچھ نہ سمجھتا ہے جس کے نتیجے میں وہ تکبر اور پھر حسد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس مسئلے کا حل صرف اور صرف تزکیہ نفس ہے جو اچھی تربیت کا نتیجہ ہے۔ یہ والدین اوراساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد کو حسد کے نتائج سے آگاہ کریں ۔ ہمارے مذہبی طبقے کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ تزکیہ نفس کی عظیم تحریک بپا کریں جس کی ہمارے معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔

محمد مبشر نذیر

August 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability