بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دوہرے معیار

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے محلے میں ایک غیر مسلم نالی پر بیٹھا پیشاب کر رہا تھا اور اس کا منہ قبلے کی طرف تھا۔ ایک مسلمان نے اسے دیکھا تو گردن سے پکڑ لیا اور گرج کر بولا ،’’ تم ہمارے قبلے کی توہین کر رہے تھے۔ ‘‘ غیر مسلم  نے معذرت کی اور کہا ، ’’ مجھے آپ کے قبلے کی سمت معلوم نہ تھی۔ آئندہ خیال رکھوں گا۔‘‘ کچھ دن بعد اس غیر مسلم نے اسی مسلمان کو دیکھا کو وہ قبلہ رو بیٹھا پیشاب کر رہا ہے۔ اس نے بڑی عاجزی سے اس کی وجہ دریافت کی۔ مسلمان کو بڑا غصہ آیا اور وہ کہنے لگا، ’’ہمارا قبلہ ہے، ہم جو چاہے کریں، تمہیں اس سے کیا؟‘‘      

          یہ واقعہ ہم مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دوہرے معیارات (Double Standards) کی تصویر کشی کرتا ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں ہم دوسروں کی آنکھ کے تنکے کو تو بہت گہری نظر سے نوٹ کرتے ہیں لیکن اپنی آنکھ کے شہتیر کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم مچھر چھاننے میں تو بڑی احتیاط کرتے ہیں لیکن اونٹ بغیر ڈکار لئے نگل جاتے ہیں۔  ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارے مذہب کا پوری دنیا احترام کرے لیکن دوسری اقوام کے مذہبی شعائر کا مذاق اڑانا ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔ غیرمسلم ممالک میں جاکر اسلام کی تبلیغ کے مواقع سے ہم بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن اپنے ممالک میں ہم یہ حق غیر مسلموں کو دینے کو تیار نہیں۔  جب ہم پر کوئی حملہ ہو تو ہم پوری دنیا میں چیخ و پکار کرتے ہیں لیکن دوسروں پر حملہ کرتے ہوئے ہم اسے اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

          انہی دوہرے معیارات کے باعث دنیا میں ہماری بات کی کوئی وقعت نہیں رہی۔ اقوام عالم میں ہمارا کوئی مقام نہیں رہا ۔ کوئی ہماری بات کو اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ اگر ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں پر حملہ کرنے سے پہلے ہمیں خود کو دوہرے معیارات سے آزاد کرنا ہوگا۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ اگر ایک چیز دوسرے کے لئے برائی ہے تو ہم اس سے خود بھی اجتناب کرنے والے ہوں۔ اگر ہم دوسرے سے حق مانگیں تو پہلے اسے اس کا حق ادا کریں۔

محمد مبشر نذیر

December 2005

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability