بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

فرشتے، جانور اور انسان

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

امام غزالی پانچویں صدی کے بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ انہوں نے تزکیہ نفس کے نقطہ نظر سے انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا۔ اپنی کتاب ’’کیمیائے سعادت‘‘ میں انہوں نے فرشتے، جانور اور انسان کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے:

          فرشتے، جانور اور انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔  فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اور وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر رہتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کی عقل ہمیشہ غالب رہتی ہے اور وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔  ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تکمیل میں گزرتا ہے۔  وہ ہمیشہ اس کے بندے بن کر رہتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ 

           جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے عقل نہیں دی بلکہ خواہشات سے نوازا ہے۔ ان کی پوری زندگی خوراک کی تلاش، جنسی تسکین اور دیگر جبلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ ان کے ہاں کوئی اخلاقی اصول نہیں ہوتا اور Might is Right  کے اصول کے تحت بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے۔  جانوروں کی زندگی کا مقصد بھوک مٹانے، جنسی خواہش کی تکمیل اور نیند پوری کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

          ان دونوں کے مقابلے میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے خواہشوں  اور عقل دونوں سے نوازا ہے۔ انسان کا ڈائرکٹ تعلق اللہ تعالیٰ سے نہیں جس کی وجہ سے وہ ہر دم نیکی کرنے کے لئے تازہ دم ہو۔ اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو عقل کو خواہشات پر حاکم بنا لے اور چاہے تو خواہشات کا غلام بن کر زندگی بسر کرے۔  یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان عقل کو خواہشات پر غالب کرلے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتا ہے اور اگر اس کی خواہشات ، عقل پر حکمرانی کرنے لگیں تو اس کا درجہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ جانور تو اللہ کی سزا سے بچ جائیں گے لیکن انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی جیسی جنت انسانوں کو میسر ہوگی ویسی فرشتوں کو نہ ہو سکے گی۔ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیئے کہ ہماری زندگی کیسی گزر رہی ہے۔

محمد مبشر نذیر

July 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability