بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

صوفیاء کی حکمت عملی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مجھے بعض صوفیاء کے عقائد و نظریات اور ان کے اعمال سے شدید اختلاف ہے لیکن میں ان کے طریق تبلیغ کا پوری طرح قائل ہوں۔ انہوں نے دوسروں کے سر جھکانے کی بجائے ان کے دلوں کو فتح کرنے کو اپنا ہدف بنا لیا۔ وہ جانتے تھے کہ جن لوگوں کو انہوں نے اپناپیغام پہنچانا ہے، انہیں ان کے جیسا ہی بننا پڑے گا۔ ہندوستان میں زیادہ تر صوفیا وسطی ایشیا سے آئے۔انہوں نے ہندوستان کو اپنا وطن سمجھا۔ اس کی زبان سیکھی، یہاں کے کلچر سے واقفیت حاصل کی، یہاں کا لباس پہننا شروع کیا اور یہاں کا رہن سہن اپنایا ۔

††††††††† انہوں نے اپنے مخاطبین کو جاہل و حقیر قرار نہیں دیا بلکہ ان سے محبت و الفت کا سلوک کیا۔ کیا ہندو اور کیا مسلمان، جو بھی ان کے پاس آتا، اس سے پیار کرتے، اسے اپنا بناتے۔ ان کے لنگر ہر مذہب کے لوگوں کے لئے بلا تفریق جاری رہتے۔انہوں نے اپنی دعوت کو لوگوں کی زبان میں عوامی کہانیوں اور نظموں کی صورت میں پیش کیا۔ ان میں اتنی اپنائیت اور محبت ہوتی کہ لوگ انہیں حفظ کرلیتے اور اپنی محفلوں، تقریبات اور یہاں تک کہ روزانہ کی چوپال میں گا گا کر پڑھتے۔ان کی اس دعوتی حکمت عملی††† (Strategy)کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورا برصغیر ہندو و مسلم کی تفریق کے بغیر ان کا دیوانہ ہے۔آج بھی پنجاب و سندھ کے دیہات میں ان کی نظمیں لوگ بڑے شوق سے پڑھ کر ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔

††††††††† اس کے برعکس ہمارے آج کے بہت سے مبلغین عوام سے کٹ کر رہتے ہیں۔اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، رہن سہن اور لباس میں عام لوگوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کی بات سنے بغیر انہیں اپنی سنانے کی فکر میں رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کی تقاریر سے دور بھاگتے ہیں، ان کی کتب کو کوئی کھول کر دیکھنا پسند نہیں کرتا۔اگر کوئی ان کی سن بھی لیتا ہے تو دوسرے کان سے نکال دیتا ہے۔ دل پر وہی بات اثر کرتی ہے جس کے پیچھے محبت، اپنائیت اور خلوص کے جذبات ہوں اور مخاطب کو ویسی ہی عزت دی جائے جس کی ہم اپنے لئے توقع کرتے ہیں۔

محمد مبشر نذیر

April 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability