بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سبز یا نیلا؟؟؟

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ایک شخص کہیں جا رہا تھا ۔ راستے میں اسے ایک نیلے رنگ کا بورڈ نظر آیا۔ وہ اسے پڑھنے کے لئے رک گیا۔ سامنے سے ایک اور شخص آرہا تھا، وہ بھی اس بورڈ کو پڑھنے کے لئے رک گیا ۔ پہلے نے دوسرے سے پوچھا، ’’اس نیلے بورڈ کے دوسری جانب کیا لکھا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا، ’’ یہ بورڈ نیلا تو نہیں سبز ہے۔‘‘ پہلا بولا، ’’نہیں نیلا ہے!‘‘ دونوں میں تکرار شروع ہو گئی۔ ایک عقل مند کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے کہا ، ’’ تم دونوں اگر دوسری جانب سے اس بورڈ کو دیکھو تو تمہارا مسئلہ سلجھ جائے گا۔‘‘

          ہماری عملی زندگی میں یہی ہوتا ہے۔ ہر شخص دنیا کو اپنے ہی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔  سب ہی نے الگ الگ رنگوں کے چشمے اپنی آنکھوں پر پہن رکھے ہیں اور اسی سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔  جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ حدیث مبارکہ کے مطابق اصل فطرت پر ہوتا ہے۔ اس کے والدین، اساتذہ اور ماحول اس کو مختلف تعصبات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جب وہ دنیا کو عینک کے انہی رنگین شیشوں سے دیکھتا ہے تو اسے دنیا اپنی عینک کے شیشوں کے رنگ کی نظر آتی ہے اور وہ اسے ہی حقیقت خیال کر لیتا ہے۔ 

          حق کو پہنچاننے کے لئے حقیقت پسند بننا بہت ضروری ہے۔ اس کے لئے لازم ہے کہ انسان اپنے دل و دماغ کے تمام دریچے کھول دے۔ ماحول اور معاشرے نے اس پر جو تعصبات مسلط کئے ہوئے ہیں، انہیں کھرچ کر پھینک دے اور فطرت کی آنکھ سے زیر نظر مسئلے کا جائزہ لے۔ تعصب تمام اختلافات کی جڑ ہے۔ 

          یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حقیقت پسند بننا آسان کام نہیں۔ انسان کو اس کے لئے نہ صرف اپنے تعصبات بلکہ بہت مرتبہ اپنے مفادات اور پسند و ناپسند کی قربانی دینا پڑتی ہے اور اپنے قریبی لوگوں کی گالیاں بھی سننا پڑتی ہیں لیکن حقیقت پسندی کا اجر انسان کو دنیا میں حق کی پہچان اور آخرت میں اللہ کی جنت کی صورت میں ملتا ہے۔ بند آنکھوں والے کبوتر کی طرح حقیقت سے نگاہ چرا کر سکون کی وادیوں میں مست رہنا بظاہر تو آسان ہے لیکن اس کے نتائج بہت بھیانک ہیں۔

محمد مبشر نذیر

August 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability