بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ہم اسلام نافذ کیوں نہ کرسکے؟

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا لیکن اتنے سالوں میں ہم ابھی تک اسلام نافذ نہ کر سکے۔ اس کی بہت سی وجوہات بیان کی گئی ہیں جو سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ہمارے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ دین کاسرچشمہ انسان کے اندر سے پھوٹتا ہے۔ اسے خارج سے زبردستی نافذ نہیں کیا جاسکتا۔اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ نماز اپنی حقیقت میں اپنے رب کریم کی یاد کا نام ہے۔ قانون کی طاقت سے یہ تو کیا جاسکتا ہے کسی کو زبردستی نماز کی سی حالت میں کھڑا کر دیا جائے لیکن اس کے دل کا خدا سے تعلق قائم کرنا کسی قانون اور حکومت کے بس کی بات نہیں۔

          بر صغیر کے مسلمانوں کی یہ خصوصیت ہے کہ ہم جذباتی قوم ہیں۔ جذباتی نعرے ہمیں بہت اپیل کرتے ہیں اور ہم اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ جب جذبات کا غبار بیٹھتا ہے تو ہم سب کچھ بھول بھال کر اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔  1940  کی دہائی میں ہم لوگ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے سے بڑے متاثر ہوئے اور کیا بچہ ، کیا جوان، کیا بوڑھا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کے حصول میں لگ گئے۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے جذبات کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور ہم اس نعرے کو بھول گئے۔ یہی حال ایوب خان کے خلاف 1968-69   کی تحریک اور پھر 1977   کی تحریک نظام مصطفی کا ہوا۔

          ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہمیں دل سے مسلمان بنانے کی کوشش کی جاتی۔ جب ہمارے دل و دماغ سے اسلام کا چشمہ پھوٹتا اور ہماری اکثریت اپنے پانچ چھ فٹ کے وجود پر اسلام نافذ کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو پورے ملک میں اجتماعی طور پر اسے نافذ کرنا کچھ مشکل نہ رہتا۔  ہماری مذہبی لیڈر شپ نے اس کے بالکل الٹ یہ فیصلہ کیا کہ اقتدار پر کسی طرح قابض ہو کر قانون کی طاقت سے زبردستی سب کو مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے۔ پچاس ساٹھ سالہ اس جدوجہد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ نہ تو دین دار کہلانے والے افراد اپنی ذاتی زندگیوں میں اسلام کو نافذ کر سکے ہیں اور نہ ہی بحیثیت قوم ہم اس میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

محمد مبشر نذیر

July 2006

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability