بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دیباچہ

انسان نے انسان پر جو ظلم کیے ہیں، ان میں سب سے بڑا ظلم غلامی ہے۔ نسل انسانیت پر اتنے ظلم کسی اور مخلوق نے نہ کیے ہوں گے جتنے خود انسانوں نے دوسرے انسانوں پر کیے ہیں۔ دور قدیم ہی سے انسان کو غلام بنانے کا رواج رہا ہے۔ ایک گروہ جب طاقت اور توانائی کے نئے ذخائر دریافت کر بیٹھتا تو وہ اپنے بھائیوں ہی کے دوسرے گروہوں پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیتا۔ جہاں طاقت کام نہ آتی، وہاں مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے ہی بھائیوں کو ذہنی اور نفسیاتی غلام بنا لیا جاتا۔

††††††††† جس دور میں دنیا میں غلامی کا سماجی ادارہ اپنے عروج پر رہا ہے، اسی دور میں دنیا میں اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ کے رسول اس دنیا میں آئیں اور اس خلاف انسانیت ادارے سے چشم پوشی برتیں۔ موجودہ دور میں دین اسلام پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان میں میرے نزدیک سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے غلامی کے ادارے کو قبولیت کی سند عطا کی ہے۔

††††††††† ظاہر ہے کہ اگر یہ الزام درست ہو تو خود اسلام کے بارے میں یہ شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ واقعتاً خدا ہی کا دین ہے بھی یا نہیں کیونکہ خود قرآن میں اللہ تعالی نے مساوات اور عدل کا درس دیا ہے۔ اگر اسلام غلامی کی حمایت کرتا ہے یا کم از کم اسے قبول ہی کرتا ہے تو پھر معاذ اللہ خود اسلام میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک طرف انسانیت، مساوات اور عدل کا درس اور دوسری طرف غلامی کی قبولیت؟ اس قسم کا تضاد کم از کم خدا کے دین میں نہیں ہو سکتا۔

††††††††† اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے میں نے دور جدید کے بہت سے مسلم مفکرین کی کتب کا مطالعہ کیا۔ ان میں روایتی علماء سے لے کر جدید طرز فکر کے علماء اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے ہاں بہت سے سوالات کو تشنہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مستشرقین کے لٹریچر کے مطالعے کی بھی تفصیلی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ انہوں نے جس دقت نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، اس کا عشر عشیر بھی مسلم علماء کے ہاں موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے مجھے مجبور کیا کہ میں چودہ صدیوں کے پورے لٹریچر کا تفصیلی مطالعہ کر کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کروں۔ یہ کتاب اسی تحقیق کے نتائج پر مشتمل ہے۔

††††††††† شروع میں میرا خیال تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے غلامی سے متعلق قرآن مجید کی تمام آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تمام احادیث کو اکٹھا کر لیا جائے تو یہ کافی رہے گا۔ جب میں نے مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اس مسئلے کہ بہت سی جہتیں (Dimensions) ہیں۔ اس کے نتیجے میں مجھے قرآن و حدیث کے علاوہ بہت سے دیگر علوم کی کتب کا مطالعہ کرنا پڑا جن میں فقہ، اصول فقہ، علم رجال، تاریخ، قدیم و جدید مسلم مفکرین اور مصلحین کی کتب اور مستشرقین کی کتب شامل ہیں۔ چونکہ یہ کتاب تاریخ سے متعلق ہے، اس وجہ سے اس میں احادیث و آثار کو اصول حدیث کے درجے پر پرکھنے کی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی کیونکہ غلامی ایک ایسا موضو ع ہے جو عہد قدیم میں متنازعہ نہیں تھا اور کسی بھی فرقے کو ضرورت نہیں تھی کہ وہ اس موضوع پر احادیث یا روایات گھڑتا۔ ہاں جہاں جہاں ہم نے احادیث سے فقہی احکام اخذ کیے ہیں، وہاں متعلقہ حدیث کی چھان بین کی گئی ہے۔

††††††††† اس کتاب میں میں نے یہ بھرپور کوشش کی ہے کہ ہر قسم کی معلومات کا تجزیہ بالکل غیر جانبداری سے کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کے بارے میں بھی ناانصافی سے کام نہ لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مقامات پر میں نے مسلمانوں کی تاریخ اور قوانین پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور جہاں جہاں غیر مسلم اقوام کے ہاں کوئی مثبت اقدام ملا ہے تو اس کی تعریف بھی کی ہے۔ یہ کتاب کسی قوم، مذہب یا نقطہ نظر کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد معروضی طور (Objectively) پر چند سوالات کا جواب حاصل کرنا ہے۔

††††††††† یہ کتاب تحقیق کی تفصیلات کی بجائے اس کے نتائج پر مشتمل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ یہ اعتراض کریں کہ یہ کتاب اسلام کے حق میں ایک متعصبانہ کتاب ہے۔ ان حضرات سے میری یہ گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کے تمام مندرجات کو چھوڑ کر قرآن، حدیث اور مسلم و غیر مسلم اہل علم کے جو اقتباسات میں نے پیش کئے ہیں، صرف ان ہی کا مطالعہ کر لیں۔ اگر انہیں میرے کئے ہوئے ترجمے پر اعتماد نہیں ہے تو بصد شوق خود ترجمہ کر لیں یا کسی اور سے اس کا ترجمہ کروا لیں۔ اس کے بعد اگر وہ میرے بیان کردہ نتائجسے کسی مختلف نتیجے پر پہنچتے ہیں تو مجھے اپنے نتائج فکر لکھ بھیجیں تاکہ اس مسئلے پر مزید غور و فکر کیا جا سکے۔

††††††††† اس کتاب کی تیاری کا سارا کریڈٹ میرے دوست محسن علی زین کو جاتا ہے جنہوں نے اس کتاب کے لکھنے کی حقیقی تحریک میرے اندر پیدا کی۔ ان کے علاوہ میں اپنے دوست ریحان احمد یوسفی کا شکر گزار ہوں جن سے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر میری بحث جاری رہی۔ میں اپنے استاذ محمد عزیر شمس صاحب کا بھرپور شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر قدیم مسلم مصنفین کی کتب سے متعلق مجھے نہایت ہی مفید معلومات فراہم کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ان تمام اداروں، محققین اور آئی ٹی ماہرین کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے چودہ صدیوں کے اسلامی لٹریچر کو سافٹ کاپی کی صورت میں انٹرنیٹ پر مہیا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جس کام کے لئے کم از کم دو سال درکار تھے، وہ محض دو ماہ میں ممکن ہو سکا ہے۔

††††††††† کتاب کے آخر میں میں نے اسلام اور غلامی کے حوالے سے ایک ببلیو گرافی (Bibliography) تیار کرنے کی کوشش کی ہے جو اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے والوں کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گی۔

††††††††† جو احباب اس کتاب کو پڑھیں، وہ بلا تکلف اس سلسلے میں اپنے تاثرات، آراء اور سوالات لکھ بھیجیں تاکہ ان کی روشنی میں اس کتاب کو مزید بہتر بنا دیا جائے۔ اس کے بعد ارادہ ہے کہ انشاء اللہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کر کے غیر مسلم محققین اور مستشرقین تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے سامنے حقیقت کو آشکار کیا جا سکے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

 

محمد مبشر نذیر

mubashirnazir100@gmail.com

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability