بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ دوم: زمانہ قبل از اسلام میں غلامی کی تاریخ

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 2: ایران، یونان، چین، مصر اور ہندوستان میں غلامی

دور قدیم ہی سے غلامی کم و بیش تمام معاشروں میں موجود رہی ہے۔ کچھ معاشروں میں غلاموں سے متعلق قوانین اور ان کی حالت دیگر معاشروں سے بہتر رہی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ غلامی بہرحال ہر معاشرتی نظام کا ایک اہم ادارہ رہی ہے۔ قدیم مصر، چین، ہندوستان، ایران اور بحیرہ روم کے ممالک میں غلاموں کے موجود ہونے کا سراغ ملتا ہے۔

          دور غلامی کی کچھ تفصیلات ہم دل پر پتھر رکھ کر یہاں بیان کر رہے ہیں۔ یہ تفصیلات انسان پر انسان کے ظلم کی ایسی بھیانک تصویر پیش کرتی ہیں کہ کلیجہ شق ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تفصیلات صرف اور صرف دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہیں۔ ممکن ہے کہ حقیقت ان سے مختلف ہو۔ اگر تاریخ کے کوئی محقق ان تفصیلات کو غلط ثابت کر سکیں تو سب سے زیادہ خوشی ہمیں ہو گی۔ مختلف تاریخی شخصیتوں کے زمانے کے اندازے بھی، جو دستیاب ہیں پیش کر دیے گئے ہیں۔ اگر یہ بالکل درست نہ بھی ہوں، تب بھی ان سے کم از کم اس شخصیت کے زمانے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

          ہم یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان تفصیلات کے بیان کا مقصد کسی قوم یا مذہب کی مذمت یا دل آزاری نہیں ہے۔ ان تفصیلات کو محض ایک علمی تحقیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی قوم یا مذہب سے تعلق رکھنے والے کوئی صاحب انہیں دلائل کی بنیاد پر غلط قرار دے سکیں تو ہمیں حق بات کو قبول کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ ہو گی۔

ایران بشمول عراق

بابل کے بادشاہ حمورابی (1796 – 1750 BC) کے قوانین پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے ملے ہیں۔ آثار قدیمہ اور قدیم زبانوں کے ماہر ایل ڈبلیو کنگ نے ان قوانین کا ترجمہ کیا ہے جو کہ انٹرنیٹ پر پر دستیاب ہے۔ ان کے لنک http://www.wsu.edu اور http://eawc.evansville.edu ہیں۔

ان قوانین کے مطالعے سے ہم یہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں:

·       بابل کے معاشرے میں غلاموں کی حیثیت بھی وہی تھی جو بے جان مال و اسباب اور جائیداد کی ہوا کرتی ہے۔ (قانون نمبر 7, 15-20, 116)

·       زیادہ تر قوانین کا تعلق غلاموں کے مالکوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ غلاموں کے حقوق سے متعلق کچھ زیادہ تفصیلات ہمیں ان قوانین میں نہیں ملتیں۔ (قانون نمبر 7, 15-20, 116, 278-280 )

·       اولاد کی حیثیت بھی والدین کے غلام ہی کی ہوا کرتی تھی اور والدین کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنی اولاد کو کسی کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ (قانون نمبر 7)

·       غلاموں سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔ (قانون نمبر 118)

·       لونڈیوں سے ازدواجی تعلقات رکھے جاتے تھے۔ اگر لونڈی کے مالک کا اس لونڈی سے بچہ پیدا ہو جاتا تو وہ لونڈی ناقابل فروخت تصور کی جاتی تھی۔ اس لونڈی کو کچھ حالات میں آزادی بھی عطا کر دی جاتی تھی۔ اس لونڈی کا درجہ کسی حد تک بیوی کے برابر ہو جاتا تھا لیکن مالک اگر چاہتا تو اسے نوکرانی بنا کر رکھ سکتا تھا۔ آقا کے مرنے کے بعد وہ لونڈی اور اس کے بچے آزاد ہو جایا کرتے تھے۔ (قانون نمبر 119, 146, 171)

·       بابل کے تمام عوام کو بادشاہ کا غلام سمجھا جاتا تھا اور بادشاہ کو انہیں سزا دینے یا جرائم کے باوجود معاف کر دینے کا حق حاصل تھا۔ (قانون نمبر 129)

·       بہت سے غلام براہ راست ریاست کی ملکیت بھی ہوا کرتے تھے۔ (قانون نمبر 175)

·       اگر کوئی غلام کسی آزاد شخص کی بیٹی سے شادی کر لیتا تو اس کے بچوں کو آزاد قرار دیا جاتا تھا۔ (قانون نمبر 175)

·       غلام کی آنکھ نکال دینے یا اس کی ہڈی کو توڑ دینے پر اس کے مالک کو غلام کی نصف قیمت ادا کرنا ضروری تھا۔ قانون میں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والے کے لئے قصاص کی سزا مقرر تھی یا نہیں۔  (قانون نمبر 199)

·       اگر غلام کسی آزاد شخص کو مار بیٹھتا تو اس کی پاداش میں اس کا کان کاٹ دیا جائے۔ (قانون نمبر 205)

·       طبی معالج کے لئے آزاد شخص کے علاج کا معاوضہ پانچ شیکل (ان کی کرنسی) اور غلام کے علاج کو معاوضہ دو شیکل تھا۔ (قانون نمبر 223)

·       اگر میڈیکل آپریشن کے دوران غلام مر جاتا تو معالج کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس کے بدلے دوسرا غلام مالک کو دے۔ (قانون نمبر 219)

·       غلاموں کو ممیز کرنے کے لئے ان کے جسم پر جراحی کے ذریعے کچھ علامتیں کھود دی جاتی تھیں۔ یہ کام ان کے حجام سر انجام دیا کرتے جو جراحت کے ماہر ہوتے۔ ان علامتوں کو کاٹنے یا توڑنے والے شخص کی سزا یہ مقرر کی گئی کہ اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ (قانون نمبر 226)

·       کسی دوسرے شخص کے غلام کو قتل کرنے کی سزا اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ اس کے بدلے میں مالک کو دوسرا غلام دے دے۔ (قانون نمبر 231)

·       اگر غلام یہ دعوی کرتا کہ فلاں اس کا مالک نہیں ہے اور دعوی غلط ثابت ہو جاتا تو غلام کا کان کاٹ دیا جاتا۔ (قانون نمبر 282)

غلامی سے متعلق سائرس اعظم کی اصلاحات

بعد کے ادوار میں ایران میں سائرس اعظم (590 – 530BC) کا دور ایرانی سلطنت کا روشن ترین دور سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سائرس نے غلامی کے خاتمے کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔ انہوں نے کثیر تعداد میں اسرائیلی غلاموں کو آزاد کیا اور انہیں اپنے وطن واپس جا کر آباد ہونے کی اجازت دی۔ مسلم محققین کا خیال ہے کہ یہ سائرس ہی ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں "ذوالقرنین" کے لقب آیا ہے۔

قدیم یونان

قدیم یونانی معاشرے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں جمہوری نظام قائم کیا تھا۔ اس جمہوری معاشرے میں بھی غلامی نہ صرف موجود تھی بلکہ اس کی جڑیں معاشرتی نظام میں بہت گہری تھیں۔ اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ہندو مورخ کے ایس لال لکھتے ہیں:

قدیم یونانی معاشرہ تین طبقات میں منقسم تھا۔ (سب سے اوپر) یونان کے وہ شہری تھے جو آزاد پیدا ہوئے تھے۔ انہیں تمام حقوق حاصل تھے اور یہ لوگ سیاست میں بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ دوسرا طبقہ پیریاسی (perioeci) تھا جو کہ غیر ملکیوں پر مشتمل تھا۔ انہیں سیاسی حقوق حاصل نہ تھے البتہ ان کی حالت غلاموں سے بہتر تھی کیونکہ یہ لوگ بعض اوقات معاشی اور فوجی معاملات چلایا کرتے تھے۔

       تیسرا طبقہ ہیلوٹس کا تھا جو غلاموں پر مشتمل تھا۔ یونان میں بہت سے لوگوں کے پاس اپنی زمین نہ تھی اور (مزارعت پر کاشت کرنے کی وجہ سے) انہیں اپنی فصل کا بڑا حصہ جاگیر داروں کو دینا ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ لوگ قرض لینے پر مجبور ہوتے اور سوائے اپنے جسم و جان کے ان کے پاس کوئی چیز رہن رکھنے کے لئے نہ ہوا کرتی تھی۔ ان لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا۔  کہا جاتا ہے کہ ایک وقت میں ایتھنز شہر میں محض 2100 شہری اور 460,000 غلام موجود تھے۔

      ہر آقا کے پاس کثیر تعداد میں مرد و عورت غلام ہوا کرتے تھے۔ مرد غلام کانوں اور کھیتوں میں کام کرتے جبکہ خواتین گھروں میں کام کرتیں۔ غلاموں کو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے سب کچھ کرنا پڑتا تھا۔ پہلے عبرانیوں کے ہاں اور پھر یونانیوں میں غلاموں سے نہایت ہی سخت برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ یونان کی تمام شہری ریاستوں میں معاملہ ایک جیسا نہ تھا۔ ایتھنز میں غلاموں سے کچھ نرمی برتی جاتی جبکہ سپارٹا میں ان سے نہایت سخت سلوک کیا جاتا لیکن عمومی طور پر غلام بالکل ہی بے آسرا تھے۔

       ڈریکو کے آئین (621 BC) اور سولون کے قوانین سے غلاموں کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔ انہیں (افراد کی بجائے) ریاست کی ملکیت قرار دیا گیا اور کچھ بنیادی حقوق بھی فراہم کیے گئے۔ سوائے ریاست کے اب انہیں کوئی اور موت کی سزا نہ دے سکتا تھا۔ بہرحال یہ غلام ہی تھے جنہوں نے (اپنی محنت و مشقت کے باعث) یونانیوں کو سیاست کرنے اور سیاسی فلسفے ایجاد کرنے کا وقت فراہم کیا جس کی بدولت یونانی پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔  (Muslim Slave System, Chapter I)

یونانی قوانین میں غلاموں کے مختلف طبقات مقرر کیے گئے تھے۔ ان میں سے ہر طبقے کے حقوق و فرائض ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ وکی پیڈیا کے مقالہ نگاروں نے اپنی تحریر "قدیم یونان میں غلامی (Slavery in Ancient Greek)" میں ان کی کچھ تفصیل بیان کی ہے۔

·       ایتھنز کے غلاموں کو اپنے مالک کی جائیداد سمجھا جاتا تھا۔

·       غلام کو شادی کرنے کی اجازت تھی لیکن قانون کی نظر میں "غلام خاندان" کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ مالک جب چاہتا وہ غلام کے بیوی بچوں کو اس سے الگ کر سکتا تھا۔

·       غلاموں کے قانونی حقوق عام شہریوں کی نسبت بہت کم تھے اور غلاموں کو عدالتی معاملات اپنے آقاؤں  کے توسط سے ہی کرنا پڑتے تھے۔

·       قانونی تفتیش کے علاوہ غلاموں پر بالعموم تشدد نہ کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی شخص دوسرے کے غلام پر تشدد کرتا تو اس کا آقا جرمانہ وصول کر سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اپنے غلام پر ظلم کرتا تو کوئی بھی آزاد شہری اس معاملے کو عدالت تک لے جا سکتا تھا۔ سقراط کے بقول، ادنی ترین غلام کو بھی سوائے قانونی تفتیش کے موت کی سزا نہ دی جا سکتی تھی۔

·       ڈریکو کا آئین، جو کہ ایتھنز کا پہلا تحریری آئین مانا جاتا ہے، میں غلام کے قتل کی سزا بھی موت ہی مقرر کی گئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اگر غلاموں کو بکثرت قتل کر دیا گیا تو یہ معاشرے کے لئے نقصان دہ ہو گا کہ لوگ ایک دوسرے کے غلاموں کو مارنے لگیں گے۔ بہرحال اس آئین کو یہ کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اس نے بہرحال غلام اور جانور میں فرق کیا ہے۔

·       ایتھنز میں غلاموں سے بہتر سلوک کیا جاتا۔ نئے غلام کا استقبال پھلوں وغیرہ سے کیا جاتا۔ غلاموں کو اپنے آقاؤں کے دیوتاؤں کی عبادت کی اجازت بھی ہوتی۔

·       ایتھنز میں غلاموں کو الگ سے مال رکھنے کی اجازت نہ تھی لیکن وہ مالک سے آزادی خریدنے کے لئے مال جمع کر سکتے تھے۔

·       ایتھنز میں غلاموں کو اپنے مالکوں کی طرح کسی آزاد لڑکے سے ہم جنس پرستانہ تعلقات رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ ایسا کرنے کی صورت میں انہیں پچاس کوڑے کی سزا دی جاتی۔

·       مالکوں کو اس کی اجازت تھی کہ وہ اپنے غلاموں سے ہم جنس پرستانہ تعلقات قائم کر سکیں۔

·       غلاموں کو آزاد کرنے کی روایت موجود تھی۔ آزادی کے بعد کسی کو دوبارہ غلام نہ بنایا جا سکتا تھا۔ بعض غلاموں کو اس بات کی اجازت بھی دی گئی کہ وہ اپنے مالک کو ایک طے شدہ معاوضہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا الگ کاروبار کر سکیں۔

چین اور کنفیوشن ممالک

چین میں بھی دور قدیم میں غلامی موجود رہی ہے۔ چونکہ تاریخ کے تمام ادوار میں چین ایک زیادہ آبادی والا خطہ رہا ہے اس وجہ سے یہاں غلامی اور نیم غلامی کی مختلف صورتیں موجود رہی ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مقالہ نگار کے الفاظ میں:

چین میں غلامی شانگ خاندان (اٹھارہویں سے بارہویں صدی قبل مسیح) کے دور سے موجود رہی ہے۔ تفصیلی تحقیق کے مطابق ہان خاندان (206BC – 220CE) کے دور میں چین کی کم و بیش پانچ فیصد آبادی غلاموں پر مشتمل تھی۔ غلامی بیسویں صدی عیسوی تک چینی معاشرے کا حصہ رہی ہے۔ زیادہ تر عرصے میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بھی غلام انہی طریقوں سے بنائے جاتے تھے جن طریقوں سے دنیا کے دوسرے حصوں میں غلام بنائے جاتے تھے۔ ان میں جنگی قیدی، آبادی پر حملہ کر کے انہیں غلام بنانا اور مقروض لوگوں کو غلام بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ چین میں قرضوں کی ادائیگی یا خوراک کی کمی کے باعث اپنے آپ کو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بیچ ڈالنے کا رواج بھی رہا ہے۔ جرائم میں ملوث مجرموں کے قریبی رشتہ داروں کو بھی غلام بنا لیا جاتا۔ بعض ادوار میں اغوا کر کے غلام بنانے کا سلسلہ بھی رائج رہا ہے۔

 http://www.britannica.com/eb/article-24156/slavery

چین روم کی طرح مکمل طور پر ایک غلام معاشرہ نہیں بن سکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں ہمیشہ سے عام طور پر سستے کارکن موجود رہے ہیں۔ بعض غلاموں سے اچھا سلوک بھی کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں بہت سے انسانی حقوق حاصل نہ رہے ہیں۔

          کنفیوشس (551 – 479BC) کے فلسفے اور اخلاقیات پر یقین رکھنے والے دیگر ممالک جیسے مشرقی چین، جاپان اور کوریا میں بھی غلامی موجود رہی ہے۔ اسمتھ کے مطابق ابتدائی طور صرف حکومت کو غلام بنانے کی اجازت دی گئی جو کہ جنگی قیدیوں اور دیگر مجرموں کو غلام بنانے تک محدود تھی۔ کچھ عرصے بعد پرائیویٹ غلامی اور جاگیردارانہ مزدوری کا نظام بھی آہستہ آہستہ پیدا ہو گیا۔

قدیم مصر

مصر میں بھی دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح غلامی موجود رہی ہے۔ مصری قوانین کے تحت پوری رعایا کو فرعون کا نہ صرف غلام سمجھا جاتا تھا بلکہ ان سے فرعون کی عبادت کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اہرام مصر کی تعمیر سے متعلق جو تفصیلات ہمیں ملتی ہیں، ان کے مطابق اہرام کی تعمیر ہزاروں کی تعداد میں غلاموں نے کی تھی۔ کئی کئی ٹن وزنی پتھر اٹھانے کے دوران بہت سے غلام حادثات کا شکار بھی ہوئے تھے۔

          مصر میں زیادہ تر غلام دریائے نیل کی وادی اور ڈیلٹا کے علاقوں میں موجود تھے اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ بہت سے غلام مندروں سے وابستہ ہوا کرتے تھے۔ غلاموں کے ساتھ عام طور پر اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ یہاں سرکاری غلاموں کا طبقہ بھی موجود تھا جو سرکاری ملازمتیں سرانجام دیا کرتا تھا۔ یہ غلام نسبتاً بہتر حالت میں موجود تھے۔

(دیکھیے http://nefertiti.iwebland.com/timelines/topics/slavery.htm )

          مصر میں چوری جیسے جرائم کی سزا کے طور پر غلام بنانے کے رواج کا ذکر قرآن مجید کی سورہ یوسف میں ہوا ہے۔ یہاں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ ایسے شخص کو ساری عمر کے لئے غلام بنا دیا جاتا تھا یا پھر کچھ مخصوص مدت کے لئے ایسا کیا جاتا تھا۔

          مصر میں غربت کے باعث لوگوں میں خود کو فروخت کر دینے کا رجحان بھی موجود تھا۔ مصر کی تاریخ میں سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام وہ پہلے ایڈمنسٹریٹر تھے جنہوں نے اس رواج کو ختم کرتے ہوئے کثیر تعداد میں غلاموں کو آزادی عطا کی۔ حافظ ابن کثیر اہل کتاب کے علماء کے حوالے سے لکھتے ہیں:

وعند أهل الكتاب أن يوسف باع أهل مصر وغيرهم من الطعام الذي كان تحت يده بأموالهم كلها من الذهب والفضة والعقار والأثاث وما يملكونه كله، حتى باعهم بأنفسهم فصاروا أرقاء. ثم أطلق لهم أرضهم، وأعتق رقابهم، على أن يعملوا ويكون خمس ما يشتغلون من زرعهم وثمارهم للملك، فصارت سنة أهل مصر بعده. (ابن کثير؛ قصص الانبياء)

اہل کتاب کے علم کے مطابق سیدنا یوسف علیہ السلام نے اہل مصر اور دیگر لوگوں کو سونا، چاندی، زمین اور دیگر اثاثوں کے بدلے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کیں۔ جب ان کے پاس کچھ نہ رہا تو انہوں نے خود کو ہی بیچ دیا اور غلام بن گئے۔ اس کے بعد آپ نے انہیں ان کی زمینیں واپس کر دیں اور ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا اور شرط یہ رکھی کہ وہ کام کریں گے اور فصلوں اور پھلوں کا پانچواں حصہ حکومت کو دیں گے۔ اس کے بعد مصر میں یہی قانون جاری ہو گیا۔

یہی واقعہ بائبل کی کتاب پیدائش کے باب 47 میں موجود ہے۔ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے دور اقتدار کے کافی عرصے بعد میں مصر کے قدیم باشندوں میں قوم پرستی کی ایک عظیم تحریک پیدا ہوئی اور بنی اسرائیل کے سرپرست ہکسوس بادشاہوں کو اقتدار سے بے دخل کر کے بنی اسرائیل کو غلام بنایا گیا۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ ایک عظیم آزمائش تھی۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں انہیں آزادی نصیب ہوئی۔ بعد کے ادوار میں بھی مصر میں غلامی موجود رہی ہے۔

ہندوستان

کے ایس لال کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق قدیم ہندوستان میں بھی غلامی موجود رہی ہے البتہ دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت یہاں غلاموں سے بہتر سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ گوتم بدھ نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ وہ غلاموں سے صرف اتنا ہی کام لیں جو وہ کر سکیں۔

          چندر گپت موریہ (300BC – 100BC) کے دور میں غلاموں سے متعلق قوانین بنائے گئے جن میں یہ شامل تھا کہ غلاموں کو بغیر کسی معقول وجہ کے ان کا مالک سزا نہیں دے سکتا۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو حکومت اس آقا کو سزا دے سکتی ہے۔ اشوک اعظم نے غلاموں سے نرم برتاؤ رکھنے کا حکم دیا۔ غلاموں سے اتنا اچھا سلوک کیا جاتا تھا کہ یونانی سیاح میگاستھینز (350BC – 290BC) یہ سمجھ بیٹھا کہ ہندوستان میں غلامی پائی ہی نہیں جاتی۔

       موریہ دور میں لکھی گئی ارتھ شاستر میں آریہ غلاموں کو بہت سے حقوق دیے گئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مقالہ نگار کے مطابق مقروض شخص یا اس کے بیوی بچوں کو صرف عدالتی حکم کے تحت ہی غلام بنایا جا سکتا ہے۔ غلام بننے کے بعد بھی اسے جائیداد رکھنے، اپنی محنت کی اجرت وصول کرنے اور اپنی آزادی خریدنے کا حق رہتا ہے۔ غلامی ایک محدود مدت کے لئے ہوتی ہے جس کے اختتام پر غلام خود بخود آزاد ہو جاتا ہے۔

          قدیم ہندوستان کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ اس میں عام غلامی کے علاوہ غلامی کی ایک بالکل ہی الگ تھلگ شکل بھی پائی جاتی ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ملتی۔ یہ یہاں کا ذات پات کا نظام ہے۔ اس نظام کے تحت معاشرے کو چار بنیادی ذاتوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں برہمن کا کام مذہبی رسومات سر انجام دینا، کھشتری کا کام فوج اور حکومتی معاملات دیکھنا، ویش کا کام تجارت کرنا اور شودر کا کام زراعت، صفائی اور دیگر نچلے درجے کے کام کرنا ہے۔

          ذات پات کے نظام کے بارے میں ہندو اہل علم کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہندوستان کی قدیم کتب کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ تقسیم محض معاشی نوعیت کی تھی۔ ایک پیشے سے تعلق رکھنے والا دوسرے پیشے کو اختیار کر سکتا تھا۔ اس کی مثال ان آیات میں ملتی ہے:

A bard am I, my dad's a leech, mammy lays corn upon the stones. (Rig Veda, http://www.hinduwebsite.com)

میں شاعر ہوں، میرے والد ایک طبیب تھے اور والدہ پتھروں پر مکئی پیسنے والی ہیں۔ (رگ وید 9.112.3)

(Thus) a Sudra attains the rank of a Brahmana, and (in a similar manner) a Brahmana sinks to the level of  a Sudra; but know that it is the same with the offspring of a Kshatriya or of a Vaisya. (Manu Smriti, Sanskrit Text with English Translation, 10:65)

ایک شودر کا بیٹا برہمن بن سکتا ہے اور برہمن کا بیٹا شودر بن سکتا ہے۔ یہی معاملہ کھشتری اور ویش کا بھی ہے۔

بعد کے ادوار میں یہ نظام سختی اختیار کرتا چلا گیا اور میرٹ کی جگہ وراثت نے لے لی۔ مغربی محقق کلارنس اسمتھ کے الفاظ میں:"

غلامی کی جڑوں کو قدیم ہندو کتب میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ آواگون کے عقیدے کے تحت (کسی شخص کے) غلام ہونے کو اس کے پچھلے جنم کے گناہوں کی سزا قرار دیا گیا۔۔۔۔۔غلامی اور ذات پات کے نظام اگرچہ بعض مشترک پہلو بھی رکھتے تھے لیکن انہیں یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ برہمنوں نے خود کو غلام بنائے جانے سے مستثنی قرار دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ غلام صرف اور صرف نچلے درجے کی ذاتوں سے بنائے جائیں لیکن عملی طور پر غلام کسی بھی ذات کے ہو سکتے تھے۔

(Relgions & Abolition of Slavery – a comparative approach, p.2)

آہستہ آہستہ اس نظام نے وہ شکل اختیار کر لی جس میں شودر کو چھونے سے برہمن ناپاک ہو جاتا تھا۔ شودروں کا کام محض بڑی ذاتوں کی خدمت ہی رہ گیا۔ یہ سمجھا جانے لگا کہ بڑی ذاتوں کے افراد اپنی پیدائش سے ہی پاک اور چھوٹی ذاتوں کے لوگ ناپاک ہوتے ہیں۔ اس نظام کی مزید تفصیلات سدھیر برودکار کے آرٹیکل "جاتی ورنا میٹرکس" میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ آرٹیکل اس لنک پر دستیاب ہے۔

 http://www.hindubooks.org/sudheer_birodkar/hindu_history/castejati-varna.html 

          انڈین معاشرے کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ روم، یونان اور مصر کے برعکس یہاں اس قسم کی غلامی کے خلاف بھی بہت سی اصلاحی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان میں گوتم بدھ کی تحریک سب سے قدیم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جین مت اور بعد کے ادوار میں بھگتی اور سکھ تحریکیں قابل ذکر ہیں۔ دور جدید میں دلتوں کو بھارتی آئین میں بہت سے حقوق حاصل ہو چکے ہیں اور ذات پات کے قدیم نظام کے خلاف ایک مضبوط تحریک سیکولر انڈیا میں پائی جاتی ہے۔

غلامی اور بدھ حکومتیں

گوتم بدھ (623 – 543BC) نے غلاموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے غلاموں کی تجارت سے نفع کمانے سے منع فرمایا۔ گوتم بدھ بذات خود اگرچہ بہار کی ریاست کے ایک شہزادے تھے لیکن انہوں نے خود حکومت نہ کی۔ ان کے پیروکاروں میں سے اشوک اعظم (269 – 232BC) نے بدھ تعلیمات کی بنیاد پر حکومت قائم کی۔ اشوک نے غلامی کا مکمل خاتمہ کیے بغیر مہاتما بدھ کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کا حکم قانونی طور پر جاری کیا۔

          بعد کے ادوار میں سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں بدھ سلطنتیں قائم ہوئیں۔ ان میں اگرچہ غلامی کو تو بڑی حد تک کم کر دیا گیا لیکن غلاموں کی جگہ مزارعت کے نظام (Serfdom) نے لے لی جو غلامی ہی کی ایک نسبتاً بہتر شکل تھی۔ مغربی محقق ویلیم جی کلارنس اسمتھ اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قرون وسطی کے یورپ کی طرح، رحم دل بدھ کے یہ خیالات غلاموں کو مزارعوں (Serfdom) میں تبدیل کر سکتے تھے۔ تیرہویں صدی تک سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے مین لینڈ (برما، تھائی لینڈ، ویت نام وغیرہ) میں، تھیرو وادو (روایتی بدھ فرقہ) بدھ سلطنتوں میں مزدوروں کی تعداد غلاموں سے بڑھ چکی تھی۔ اکثر اوقات کی جانے والی فوجی کاروائیوں کا مقصد لوگوں کو قید کر کے انہیں پوری پوری کمیونٹی کی صورت میں زمین سے وابستہ کیا گیا جو بعض اوقات بدھ عبادت گاہوں کی جاگیر ہوا کرتی تھی۔ قرض ادا نہ کر سکنے والے مقروض جو کہ کثیر تعداد میں تھے، جبری مزارعوں میں شامل کر دیے گئے۔

(Religions & Abolition of Slavery – a comparative approach, p.3)

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability