بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ دوم: زمانہ قبل از اسلام میں غلامی کی تاریخ

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 3: غلامی اور بنی اسرائیل

قدیم اسرائیل میں بھی غلامی موجود رہی ہے۔ بنی اسرائیل حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے سیدنا یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد تھے۔ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں مصر میں دریائے نیل کے ڈیلٹا کے زرخیز علاقے میں آباد کیا تھا۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ آپ کے دور اقتدار کے کافی عرصے بعد میں مصر کے قدیم باشندوں میں قوم پرستی کی ایک عظیم تحریک پیدا ہوئی اور بنی اسرائیل کے سرپرست ہکسوس بادشاہوں کو اقتدار سے بے دخل کر کے بنی اسرائیل کو غلام بنایا گیا۔

          بائبل اور قرآن مجید میں بنی اسرائیل کی جو تاریخ ملتی ہے اس کے مطابق اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعون کی طرف مبعوث کیا۔ آپ نے اس کے سامنے جو مطالبات رکھے ان میں ایک خدا پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ دوسرا مطالبہ یہ بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر کے انہیں آپ کے ساتھ روانہ کر دے۔ فرعون نے یہ مطالبات منظور نہ کیے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد فرعون اور اس کا لشکر بحیرہ احمر میں غرق ہوا اور بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات مل سکی۔

          بائبل اور قرآن میں بار بار اللہ تعالی بنی اسرائیل اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے انہیں غلامی سے نجات عطا کی۔ اس وجہ سے ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کریں اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے بنیں۔ بائبل کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی غلامی سے نفرت کرتا ہے اور اسے ایک لعنت قرار دیتا ہے۔

          آزادی کے بعد سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ہی بنی اسرائیل کو موجودہ اردن کے علاقے میں اقتدار ملا اور اس کے لئے تفصیلی قوانین اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لئے نازل کیے گئے جن کا مجموعہ تورات ہے۔ موجودہ بائبل بنی اسرائیل کی تاریخ کا مجموعہ ہے جس میں تورات کا متن بھی شامل ہے۔

          بائبل کی تاریخ کے مطابق اسرائیلی سلطنت کو ہم دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ان کا ایک دور سیدنا موسی (1393BC – 1273BC) سے شروع ہو کر سیدنا سلیمان علیہما الصلوۃ والسلام  (1025BC – 953BC) پر ختم ہوتا ہے۔ اس دور میں تورات کی حقیقی تعلیمات اسرائیلی سلطنت کا قانون تھیں۔ بعد کے ادوار میں ایک سیدنا عزیر و نحمیاہ علیہما الصلوۃ والسلام کے دور (458BC – 397BC) کو چھوڑ کر بالعموم ان کے حکمرانوں میں دین سے انحراف کا رویہ عام رہا حتی کہ حکمرانوں اور امراء کی خواہشات کے مطابق تورات کے قانون میں بھی تحریفات کی جانے لگیں۔ غلامی سے متعلق تورات کے قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

          بنی اسرائیل کے ہاں بھی غلامی کا ماخذ جنگی قیدی ہی تھے۔ اس کے علاوہ جب وہ کوئی علاقہ فتح کرتے تو وہاں پہلے سے موجود غلاموں کا معاملہ بھی پیش آتا۔ اسرائیلیوں کے مفتوحہ علاقوں میں قرض کی عدم ادائیگی یا جرائم کی سزا کے طور پر غلام بنائے جانے کا سلسلہ بھی موجود تھا۔

غلامی سے متعلق تورات کی اصلاحات

بنی اسرائیل کے آئیڈیل دور میں جس میں ان کی حکومت براہ راست اللہ تعالی کے مبعوث کردہ انبیاء کرام کے ماتحت تھی، واضح طور پر ہمیں یہ ملتا ہے کہ بنی اسرائیل کو انسانوں سے عمومی طور پر اور غلاموں سے خصوصی طور پر اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ ان قوانین کی تفصیل یہ ہے:

·       اچھے سلوک کا یہ دائرہ صرف اسرائیلیوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ غیر اقوام کے افراد جنہیں بائبل میں "پردیسی (Gentiles)" کہا گیا ہے، ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنا ضروری ہے جیسا کہ اسرائیلیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے: "کوئی پردیسی (غیر قوم کا فرد) تمہارے ساتھ تمہارے ملک میں رہتا ہو تو اس کے ساتھ بدسلوکی نہ کرنا۔ جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اس سے دیسی (اسرائیلی) جیسا برتاؤ کرنا بلکہ تم اس سے اپنے ہی مانند محبت کرنا کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔" (احبار باب 19)

چھ برس بعد غلاموں کی آزادی کا قانون

·       چھ برس کی خدمت کے بعد غلام یا کنیز کو خود بخود آزاد کر دیے جانے کا قانون بنا دیا گیا: "اگر تو عبرانی غلام خریدے تو وہ چھ برس تیری خدمت کرے لیکن ساتویں برس وہ قیمت ادا کیے بغیر آزاد ہو کر چلا جائے۔" (خروج باب 21) "اگر کوئی عبرانی بھائی، خواہ مرد ہو یا عورت، تمہارے ہاتھ بیچا گیا ہو اور وہ چھ سال تمہاری خدمت کر چکے تو ساتویں سال تم اسے آزاد کر کے جانے دینا۔" (استثنا باب 15)

·        چھ برس بعد غلام کی آزادی کے وقت اس سے اعلی درجے کا حسن سلوک کرنے کا حکم دیا گیا۔ "اور جب تم اسے آزاد کر دو تو اسے خالی ہاتھ رخصت نہ کرنا بلکہ اپنے گلہ (مویشیوں)، کھلیان (زرعی پیداوار) اور کولہو (صنعتی پیداوار) میں سے اسے دل کھول کر دینا۔ یاد رکھو ملک مصر میں تم بھی غلام تھے اور خداوند تمہارے خدا نے تمہیں اسے سے خلاصی بخشی۔ اس لیے آج میں تمہیں یہ حکم دے رہا ہوں۔" (استثنا باب 15)

·        چھ برس بعد غلاموں کی اس آزادی کو خوش دلی سے قبول کرنا ضروری قرار دیا گیا: "اپنے خادم کو آزاد کرنا اپنے لیے تم بوجھ نہ سمجھنا۔ کیونکہ اس نے چھ سال تمہارے لیے دو مزدوروں کے برابر خدمت کی ہے اور خداوند تمہارا خدا تمہارے ہر کام میں تمہارے لیے برکت دے گا۔" (استثنا باب 15)

غلام کے ازدواجی حقوق

·       غلام کو شادی کا حق دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کو بھی آزاد کرنے کا حکم دیا گیا: "اگر وہ اکیلا خریدا جائے تو اکیلا ہی آزاد کیا جائے۔ اگر شادی شدہ ہو تو اس کی بیوی کو بھی اس کے ساتھ ہی آزاد کیا جائے۔" (خروج باب 21)

·       غلام کو اس فیصلے کا حق دیا گیا کہ اگر وہ اپنے آقا کی محبت یا اپنی مالی تنگدستی کے باعث آزادی کی ضرورت محسوس نہ کرتا ہو تو بدستور غلامی میں رہے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ بہت سے غلام اتنی صلاحیت نہ رکھتے تھے کہ وہ آزاد ہو کر اپنا پیٹ پال سکیں۔ ان کے مالک ان کے پورے خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے، جس کے ختم ہوتے ہی غلام کے روزگار کے چھن جانے کا خدشہ تھا: "اگر وہ غلام یہ اعلان کرے کہ میں اپنے آقا اور اپنی بیوی بچوں سے محبت رکھتا ہوں اور میں آزاد ہو کر نہیں جانا چاہتا، تو اس کا آقا اسے قاضیوں کے پاس لے جائے اور اسے دروازے یا اس کی چوکھٹ پر لا کر سوئے سے اس کا کان چھید دے۔ تب وہ عمر بھر اس کی خدمت کرتا رہے گا۔" (خروج باب 21 اور استثنا باب 15)

غلام پر تشدد کی حرمت کا قانون

·        غلام پر تشدد کو حرام قرار دے دیا گیا۔ ایسا کرنے والے کو حکومت کی جانب سے سزا دی جائے۔ "اگر کوئی شخص اپنے غلام یا کنیز کو لاٹھی سے ایسا مارے کہ وہ فوراً مر جائے تو اسے لازماً سزا دی جائے۔" (خروج باب 21)

·        غلام پر تشدد کے بدلے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ "اگر کوئی آدمی اپنے غلام یا کنیز کی آنکھ پر ایسا مارے کہ وہ پھوٹ جائے تو وہ اس کی آنکھ کے بدلے اسے آزاد کر دے۔ اور اگر وہ کسی غلام یا کنیز کا دانت مار کر اسے توڑ ڈالے تو وہ اس کے دانت کے بدلے اسے آزاد کر دے۔" (خروج باب 21)

آزاد شخص کو غلام بنانے کی ممانعت

·        آزاد شخص کو غلام بنانے کی سزا موت مقرر کی گئی۔ "جو کوئی دوسرے شخص کو اغوا کرے، خواہ اسے بیچ دے، خواہ اسے اپنے پاس رکھے اور پکڑا جائے تو وہ ضرور مار ڈالا جائے۔" (خروج باب 21)

·        اگر کوئی مفلسی کے ہاتھوں خود کو بیچنا چاہے تو اس کی ممانعت کر دی گئی۔ "اگر تمہارے درمیان تمہارا ہم وطن مفلس ہو جائے اور اپنے آپ کو تمہارے ہاتھ بیچ دے تو اس سے غلام کی مانند کام نہ لینا۔ بلکہ اس سے ایک مزدور یا تمہارے درمیان کسی مسافر کی طرح سلوک کیا جائے اور وہ (زیادہ سے زیادہ) جوبلی کے سال تک تمہارے لیے کام کرے۔" (احبار باب 25)

·       بنی اسرائیل کو خاص طور پر غلام بنانے کی ممانعت کی گئی۔ "بنی اسرائیل میرے خادم ہیں جنہیں میں مصر سے نکال کر لایا لہذا ان کو بطور غلام کے ہرگز نہ بیچا جائے۔" (احبار باب 25)

مظلوم غلاموں کی آزادی کا قانون

·        مظلوم غلام اگر بنی اسرائیل کی پناہ میں آ جائے تو اسے آزاد کر دینے کا حکم دیا گیا۔ "اگر کسی غلام نے تمہارے پاس پناہ لی ہو تو اسے اس کے آقا کے حوالے نہ کر دینا۔ اسے اپنے درمیان جہاں وہ چاہے اور جس شہر کو وہ پسند کرے وہیں رہنے دینا۔ اور تم اس پر ظلم نہ ڈھانا۔" (استثنا باب 23)

مقروض کو غلام بنا لینے کی ممانعت

·        سود کو قطعی حرام قرار دے دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سودی قرض، غلامی کا ایک اہم سبب تھے۔ "تم اپنے بھائی سے سود وصول نہ کرنا خواہ وہ روپوں پر، اناج پر یا کسی ایسی چیز پر ہو جس پر سود لیا جاتا ہے۔" (استثنا باب 23)

·        مقروض کی شخصی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ "جب تم اپنے ہمسائے کو کسی قسم کا قرض دو تو جو شے وہ رہن رکھنا چاہے اسے لینے کے لئے اس کے گھر میں داخل نہ ہو جانا بلکہ باہر ہی کھڑے رہنا ۔۔۔۔اگر وہ شخص مسکین ہو تو اس کی رہن رکھی ہوئی چادر کو اوڑھ کر نہ سو جانا۔" (استثنا باب 23)

·        مقروض اگر سات سال تک اپنا قرض ادا نہ کر سکے تو اس کا قرض معاف کر دینے کا حکم دیا گیا۔ "ہر سات سال کے بعد تم قرض معاف کر دیا کرنا۔" (استثنا باب 15)

·        غریب مزدوروں کی مفلسی سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کر دی گئی۔ "تم مزدور کی مفلسی اور محتاجی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا خواہ وہ اسرائیلی بھائی ہو یا کوئی اجنبی ہو جو تمہارے کسی شہر میں رہتا ہو۔" (استثنا باب 23)

لونڈیوں کی آزادی سے متعلق خصوصی اصلاحات

·        اگر کوئی آقا اپنی کنیز کے طرز عمل سے خوش نہ ہو تو وہ اسے آزاد کر دے۔ "اگر وہ (کنیز) آقا کو جس نے اسے اپنے لئے منتخب کیا تھا خوش نہ کرے تو وہ اس کی قیمت واپس لے کر اسے اپنے گھر جانے دے۔ اسے اس کنیز کو کسی اجنبی قوم کو بیچنے کا اختیار نہیں کیونکہ وہ اس کنیز کو لانے کے بعد اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہ کر سکا۔" (خروج باب 21)

·        بیٹوں کی کنیزوں سے بیٹیوں جیسا سلوک کیا جائے اور ان پر بری نظر نہ رکھی جائے۔ "اگر وہ اسے (یعنی کنیز کو) اپنے بیٹے کے لئے خریدتا ہے تو اس کے ساتھ بیٹیوں والا سلوک کرے۔" (خروج باب 21)

·        کنیز کو کسی صورت میں بھی بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گی۔ "اگر وہ کسی دوسری عورت کو بیاہ لائے تو لازم ہے کہ وہ اس کنیز یعنی پہلی عورت کو کھانے، کپڑوں اور ازدواجی حقوق سے محروم نہ کرے۔ اگر وہ اسے یہ تین چیزیں مہیا نہیں کرتا تو وہ کنیز اپنے آزاد ہونے کی قیمت ادا کیے بغیر واپس جا سکتی ہے۔" (خروج باب 21)

·       تورات کے قانون کے مطابق آزاد شخص کو بدکاری کے جرم میں موت کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ لیکن کنیزوں کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے اس سزا میں تخفیف کر دی گئی۔ "اگر کوئی آدمی کسی ایسی کنیز سے جنسی تعلقات پیدا کر لے جو کسی اور کی منگیتر ہو لیکن نہ تو اس کا فدیہ دیا گیا ہو اور نہ ہی وہ آزاد کی گئی ہو تو کوئی مناسب سزا دینا ضروری ہے تاہم انہیں جان سے نہ مارا جائے کیونکہ وہ عورت آزاد نہیں کی گئی تھی۔" (احبار باب 19)

·       ایسی لاوارث خواتین جو جنگی قیدی کے طور پر اسرائیل میں لائی جائیں، کے لئے یہ ضابطہ مقرر کیا گیا کہ ان سے شادی کر لی جائے جو کہ ظاہر ہے کہ خاتون کی اجازت ہی سے ہو سکتی ہے۔ "جب تم اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے نکلو اور خداوند تمہارا خدا انہیں تمہارے ہاتھ میں کر دے اور تم انہیں اسیر کر کے لاؤ اور ان اسیروں میں سے کوئی حسین عورت دیکھ کر تم اس پر فریفتہ ہو جاؤ تو تم اس سے بیاہ کر لینا۔۔۔۔جب وہ تمہارے گھر میں رہ کر ایک ماہ تک اپنے ماں باپ کے لئے ماتم کر چکے تب تم اس کے پاس جانا اور تب تم اس کے خاوند ہو گے اور وہ تمہاری بیوی ہو گی۔ اور اگر وہ تمہیں نہ بھائے تو جہاں وہ جانا چاہے، اسے جانے دینا۔ تم اس کا سودا نہ کرنا، نہ اس کے ساتھ لونڈی کا سا سلوک روا رکھنا کیونکہ تم نے اسے بے حرمت کیا ہے (یعنی اس سے ازدواجی تعلقات قائم کیے ہیں۔)" (استثنا باب 21)

ان آیات کا بغیر کسی تعصب کے مطالعہ کیا جائے تو واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء راشدین کے دور میں غلامی کے خاتمے اور موجود غلاموں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی سطح پر اقدامات کئے گئے۔ غلاموں پر تشدد کو ممنوع قرار دیا گیا اور ایسا کرنے کی صورت میں انہیں آزاد کر دینے کا حکم دیا گیا۔

          غلام بنانے کا ایک اہم راستہ یہ تھا کہ غریب اور مقروض افراد، جو اپنا قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، کو غلام بنا لیا جائے۔ تورات نے واضح طور پر سود کی حرمت کا اعلان کیا اور تنگدست اور مقروض اگر خود بھی غلام بننا چاہے تو ایسا کرنے کی ممانعت کر دی۔ غربت سے لوگوں کو بچانے کے لئے مزدور کی مزدوری فوراً ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

          جو غلام پہلے سے معاشرے میں موجود تھے، ان کے لئے یہ قانون بنا دیا گیا کہ انہیں چھ سال کی سروس کے بعد آزاد کر دیا جائے۔ یہ آزادی تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو بلکہ اس غلام کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کو بھی نہ صرف آزاد کیا جائے بلکہ آقا اپنے مال و اسباب میں سے بھی دل کھول کر انہیں نوازے۔ غلاموں پر تشدد کرنے سے منع کر دیا گیا۔ ان خواتین کا خاص طور پر خیال رکھا گیا جو جنگی قیدی کے طور پر بنی اسرائیل کے ہاں آ جائیں۔ ان کے ساتھ ساتھ کنیزوں کے حقوق کا بھی پورا تحفظ کیا گیا۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability