بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ دوم: زمانہ قبل از اسلام میں غلامی کی تاریخ

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 4: بنی اسرائیل  کے دور انحطاط میں غلامی

سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بہت جلد بنی اسرائیل ایک عظیم اخلاقی انحطاط (Moral Degeneration) کا شکار ہو گئے۔ اس انحطاط کی تاریخ خود ان کے اپنے مورخین نے بیان کی ہے۔ بائبل میں "استثنا" کے بعد کی کتابوں میں اس اخلاقی انحطاط کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی اخلاقیات اس درجے میں تباہ ہو چکی تھیں کہ انہوں نے اللہ تعالی کی کتاب تورات کو بھی نہ چھوڑا اور اس میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرنے لگے۔ "نظریہ ضرورت" کے تحت تورات میں من گھڑت احکام داخل کئے گئے۔

دور انحطاط میں غلامی سے متعلق احکام میں تحریف

انسانی حقوق کو صرف اسرائیلیوں سے مخصوص کرنے کے لئے تورات میں تحریف

تورات میں انسانی حقوق سے متعلق جو قوانین بنائے گئے تھے، ان کا اطلاق نہ صرف اسرائیلیوں پر ہوتا تھا بلکہ تورات کی کتاب احبار میں آیت نمبر 19:34 کے حکم کے مطابق سلطنت اسرائیل کی حدود میں رہنے والے تمام باشندے، خواہ وہ اسرائیلی ہوں یا نہ ہوں، ان حقوق کے مستحق تھے۔ ان حضرات نے تمام انسانی حقوق کو "عبرانیوں" کے ساتھ خاص کر لیا اور دیگر اقوام کو “Gentiles” قرار دے کر ان کے استحصال کی اجازت دے دی۔ سودی لین دین، جو شریعت موسوی میں حرام تھا اور غلامی کا ایک اہم سبب تھا، کو دیگر اقوام کے معاملے میں جائز قرار دے دیا گیا۔ اس دور میں ان خدائی قوانین میں جو اضافے کئے گئے، وہ خط کشیدہ عبارت میں موجودہ بائبل کے الفاظ بیان کئے گئے ہیں:

·        "تمہارے غلام اور تمہاری کنیزیں ان قوموں میں سے ہوں جو تمہارے ارد گرد رہتی ہیں، انہی سے تم غلام اور لونڈیاں خریدا کرنا۔" (استثنا باب 25)

·        "تمہارے درمیان عارضی طور پر رہنے والوں اور ان کے گھرانوں کے ان افراد میں سے بھی جو تمہارے ملک میں پیدا ہوئے، کچھ کو خرید سکتے ہو اور وہ تمہاری ملکیت ہوں گے۔" (استثنا باب 25)

·        "تم انہیں میراث کے طور پر اپنی اولاد کے نام کر سکتے ہو اور یوں انہیں عمر بھر کے لئے غلام بنا سکتے ہو۔" (استثنا باب 25)

·        "تم چاہو تو پردیسیوں سے سود  وصول کرنا لیکن کسی اسرائیلی بھائی سے نہیں۔" (استثنا باب 23)

غلاموں سے متعلق قوانین میں ترامیم و اضافے

پہلے سے موجود خدائی قوانین میں جو ترامیم کی گئیں، ان کی تفصیل یہ ہے:

·       کتاب خروج باب 21 میں چھ سال کی سروس بعد غلام اور اس کے بیوی بچوں کو آزاد کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا، اس میں یہ تبدیلی کر دی گئی کہ "اگر اس کا بیاہ اس کے آقا نے کروایا ہو اور اس عورت کے اس سے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہوئی ہوں تو وہ عورت اور اس کے بچے آقا کے ہوں گے اور صرف آدمی آزاد کیا جائے گا۔"

·       کتاب استثنا باب 15 کے مطابق چھ سال بعد آزادی کا حکم مرد اور عورت دونوں قسم کے غلاموں کے لئے تھا۔ اس قانون میں تبدیلی کر کے یہ کہہ دیا گیا کہ "کنیز غلاموں کی طرح (چھ برس بعد) آزاد نہ کی جائے۔" اپنی بیٹیوں کو بائبل کے دیگر صریح احکام کے خلاف بطور کنیز بیچنے کی اجازت دے دی گئی۔ (خروج باب 21)

·       کتاب خروج باب 21 میں غلام پر تشدد کر کے اسے قتل کر دینے کی صورت میں جو سزا تورات نے نافذ کی تھی، اس میں یہ اضافہ کر دیا گیا کہ یہ معاملہ صرف اس صورت میں ہے کہ اگر غلام فوراً مر گیا ہو، "لیکن اگر وہ ایک دو دن زندہ رہے تو اسے سزا نہ دی جائے، اس لئے کہ وہ اس کی ملکیت ہے۔" تحریف کرنے والوں کو یہ خیال نہ آیا کہ غلام اگر تشدد کے نتیجے میں فوراً مر جائے یا ایک دو دن بعد، اس سے اس کے آقا کے جرم کی نوعیت میں کیا فرق واقع ہوا ہے۔ اس کا جرم تو ایک ہی ہے۔

·        جنگی قیدیوں کے لئے یہ قانون بنایا گیا تھا کہ ان میں شامل خواتین سے اسرائیلی ان کی مرضی سے شادی کر سکتے ہیں۔ اس قانون کو تبدیل کر کے صلح کرنے والوں کو بھی غلام بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ "جب تم کسی شہر پر حملہ کرنے کے لئے اس کے قریب پہنچو تو اس کے باشندوں کو صلح کا پیغام دو۔ اگر وہ اسے قبول کر کے اپنے پھاٹک کھول دیں تو اس میں کے سب لوگ بیگار میں کام کریں اور تمہارے مطیع ہوں۔ (استثنا باب 20)

حام کی غلامی کا فرضی قصہ

·       کتاب پیدائش میں ایک فرضی قصہ داخل کیا گیا جس کے مطابق سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام  کے بیٹے حام نے اپنے والد سے کچھ بدتمیزی کی جس پر انہوں نے حام کو بددعا دی کہ "حام، اپنے بھائیوں سام اور یافث کا غلام ہو۔" اس قصے کی بدولت انہوں نے حام کی اولاد یعنی افریقیوں کی غلامی کا جواز پیدا کیا۔انہوں نے اس بات کا خیال نہیں کیا کہ اگر حام نے کوئی بدتمیزی کی بھی تھی تو اس کی سزا ان کی پوری اولاد کو دینا کس قانون کے تحت درست ہو گا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید بار بار یہود کو ان کے آبا ؤ اجداد کے جرائم یاد دلاتا ہے تو ایسا کیوں ہے؟ اولاد تو اپنے آباء کی غلطیوں کی ذمہ دار نہیں ہے۔ نزول قرآن کے وقت بنی اسرائیہل ایک غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ چونکہ ہم نیک لوگوں کی اولاد ہیں، اس لئے ہماری نجات پکی ہے اور ہم سیدھے جنت میں جائیں گے۔ قرآن مجید نے انہیں ان کی اپنی تاریخ سے مثال پیش کی کہ تمہارے آبا ؤ اجداد کو ان کے جرائم کی سزا ملی ہے، بالکل اسی طرح تمہیں بھی تمہارے جرائم کی سزا ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے آباء کے جرم کی سزا اولاد کو ہرگز نہیں دی۔

تورات میں کی جانے والی تحریفات پر تبصرہ

ممکن ہے موجودہ دور کے یہودی اہل علم ہماری دی گئی تفصیلات سے اختلاف کریں۔ ہم نے تورات کی جن آیات کو بعد کی ایجاد کردہ آیات میں شمار کیا ہے، وہ انہیں خدا کا حکم ہی سمجھتے ہوں۔ اگر ایسا ہی ہو تو ان سے ہماری گزارش یہ ہو گی کہ وہ ان آیات کی اس آیت سے مطابقت پیدا کر کے دکھائیں جس کے مطابق پردیسیوں (Gentiles) سے وہی سلوک کرنا ضروری تھا جو اسرائیلی سے کیا جائے۔ اس آیت اور ان آیات جن میں غیر اسرائیلیوں کو غلام بنانے کی اجازت دی گئی ہے، ایک واضح تضاد نظر آتا ہے، جسے رفع کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ آیت کو ہم دوبارہ درج کر رہے ہیں:

"کوئی پردیسی (غیر قوم کا فرد) تمہارے ساتھ تمہارے ملک میں رہتا ہو تو اس کے ساتھ بدسلوکی نہ کرنا۔ جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اس سے دیسی (اسرائیلی) جیسا برتاؤ کرنا بلکہ تم اس سے اپنے ہی مانند محبت کرنا کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔" (احبار باب 19)

ممکن ہے کہ بعض حضرات یہ کہیں کہ ہمیں یہ کیسے علم ہوا کہ یہ تفصیلات بعد کی تحریفات پر مشتمل ہیں۔ اس کے لئے ہمارا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک اس کی تمام مخلوق برابر ہے۔ وہ اپنی پوری مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ انسانی جان، مال، آبرو اور آزادی کی حرمت ایسا معاملہ ہے جسے کسی مخصوص گروہ کے ساتھ اللہ تعالی نے کبھی خاص نہیں کیا۔ انسانوں نے تو اپنے مفاد کے لئے ایسا کیا ہے لیکن کائنات کا خدا کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔

          اللہ تعالی نے اپنی ہدایت کے ہر ورژن میں ایک انسان (نہ کہ صاحب ایمان) کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ یہی معاملہ غلامی کا ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جن کے معاملے میں مذہب، قوم اور رنگ کی بنیاد پر کوئی امتیاز کرنا کبھی درست نہیں ہو گا۔

دور انحطاط میں مبعوث ہونے والے انبیاء کرام کی تنبیہات

بنی اسرائیل کے دور انحطاط میں اللہ تعالی نے جن انبیاء کو مبعوث فرمایا، انہوں نے بنی اسرائیل کو ان کی غلط کاریوں پر کڑی تنبیہ کی اور انہیں ان نافرمانیوں کی بدولت آنے والے خدائی عذاب سے خبردار کیا۔ ان غلط کاریوں میں "غلام بنانا" بھی شامل تھا۔ کچھ تفصیلات یہ ہیں:

·       بائبل میں سیدنا عاموس علیہ الصلوۃ والسلام (793-740BC) کی کتاب اسرائیلیوں پر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب کی وارننگ ہے۔ اس میں غزہ کے علاقے کے رہنے والوں کے جو جرائم گنوائے گئے ہیں، ان میں غلام بنانا بھی شامل ہے۔ "غزہ کے تین بلکہ چار گناہوں کے باعث میں اپنے غضب سے باز نہ آؤں گا۔ چونکہ اس نے سارے گروہوں کو اسیر کر لیا اور انہیں ادوم کے ہاتھ بیچ دیا۔ میں غزہ کے شہر پناہ پر آگ بھیجوں گا جو اس کے قلعوں کو کھا جائے گی۔" (عاموس، باب 1)

·       اسی دور انحطاط میں سیدنا یسعیاہ علیہ الصلوۃ والسلام (740 – 681BC) کی بعثت ہوئی جنہوں نے غلاموں کو آزاد ہونے کی بشارت دی۔ "اس نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں شکستہ دلوں کو تسلی دوں، قیدیوں (غلاموں) کے لئے رہائی کا اعلان کروں اور اسیروں کو تاریکی سے رہا کروں۔" (یسعیاہ باب 61)

اسی عرصے میں اللہ تعالی نے سیدنا یرمیاہ علیہ الصلوۃ والسلام (627 – 580BC) کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا۔ انہوں نے انحطاط زدہ بنی اسرائیل کو ان کے جرائم کی چارج شیٹ پڑھ کر سنائی۔ ان جرائم میں غلام بنانا بھی شامل تھا (یرمیاہ باب 2)۔ بائبل کی کتاب یرمیاہ میں اس کے بعد بنی اسرائیل کو آخری وارننگ دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے اللہ تعالی کی شریعت پر عمل کرنا شروع نہ کیا تو پھر ان پر عظیم عذاب آنے والا ہے اور عنقریب اسرائیلیوں کی دونوں سلطنتیں یہوداہ اور اسرائیل تباہ ہونے والی ہیں۔ یہ سزا بنی اسرائیل کے قتل اور انہیں غلام بنا لئے جانے کی صورت میں ان پر نافذ کی جائے گی۔ بعد کی تاریخ گواہ ہے کہ پھر ایسا ہی ہوا۔

یہودیوں کے بعد کے ادوار میں غلامی

یہودیوں کی ایک خوبی یہ رہی ہے کہ انہوں نے کم از کم اپنی قوم کے بارے میں بائبل کے ان احکامات پر عمل کیا۔ اگر ان کا کوئی ہم مذہب کسی جنگ میں قیدی ہو جائے تو وہ اسے فدیہ ادا کر کے آزاد کرواتے تھے۔ "یہودیوں کی تاریخ" کے مصنف پال جانسن نے اپنی کتاب میں اس رواج کا تذکرہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں جو یہود مدینہ میں آباد تھے۔ ان کے ہاں بھی یہی معمول تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔

ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلاء تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقاً مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَتَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ۔ (2:85)

اس کے بعد تم اپنے افراد کو قتل کرتے ہو اور اپنے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے جلا وطن کرتے ہو اور ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھہ بندی کرتے ہو۔ اس کے بعد اگر انہیں جنگی قیدی بنا لیا جائے تو تم ان کا فدیہ دیتے ہو جبکہ انہیں گھروں سے جلا وطن کرنا ہی تمہارے لئے حرام ہے۔ کیا تم کتاب (تورات) کے بعض حصوں کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟

بعد کے ادوار میں یہودی علماء کے ہاں غلامی کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایسین (Essene) فرقے کے علماء نے غلامی کو کھلم کھلا خدا کی مرضی کے خلاف قرار دیا۔ یہی وہ فرقہ ہے جس کے بارے میں تاریخ میں یہ ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی کمیونٹی میں غلامی کا مکمل خاتمہ کر لیا تھا۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability