بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ دوم: زمانہ قبل از اسلام میں غلامی کی تاریخ

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 5: روم میں غلامی

سلطنت روما: عیسائیت سے پہلے

غلامی کی بدترین مثال

سلطنت روم ماضی کی عظیم ترین سلطنت رہی ہے۔ اس کا اقتدار 200BC سے شروع ہو کر کم و بیش 1500 عیسوی تک جاری رہا۔ غلاموں سے متعلق رومی قوانین اپنی ہم عصر سلطنتوں سے کافی مختلف تھے۔ ان قوانین کو غلامی سے متعلق سخت ترین قوانین قرار دیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر کیتھ بریڈلے اپنے آرٹیکل "قدیم روم میں غلاموں کی مزاحمت (Resisting Slavery in Ancient Rome)" میں اس دور کی غلامی کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں:

ٍ

 کے ایس لال نے رومی غلامی کی مزید خصوصیات بیان کی ہیں:

·       رومی غلام زیادہ تر وہ ہوا کرتے تھے جو یا تو جنگوں میں پکڑے جائیں یا پھر وہ جو اپنے قرضے ادا نہ کر سکیں۔

·       ان غلاموں کو قطعی طور پر کوئی حقوق حاصل نہ تھے۔ انہیں معمولی غلطیوں پر بھی موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔

·       غلام اتنی کثیر تعداد میں تھے کہ بادشاہ آگسٹس کے دور میں ایک شخص چار ہزار غلام بطور جائیداد کے چھوڑ کر مرتا تھا۔

·       کثیر تعداد میں موجود غلاموں کو کنٹرول کرنے کے لئے انہیں دائمی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی جاتی تھیں جو وہ سوتے وقت بھی اتار نہ سکتے تھے۔

·       آقاؤں کی تفریح کے لئے غلاموں کو ایک دوسرے یا وحشی درندوں سے لڑایا جاتا۔ ان غلاموں کو اس کی باقاعدہ تربیت دی جاتی اور ان لڑائیوں کا نتیجہ کسی ایک کی موت کی صورت ہی میں نکلتا۔ ایسے غلاموں کو گلیڈی ایٹر (Gladiator) کہا جاتا تھا۔ فتح یاب غلام کو آزادی دینا اس کے مالکوں اور تماشائیوں کی صوابدید پر منحصر ہوا کرتا تھا۔

غلاموں کی بغاوتیں

غلامی کی اس بدترین شکل کے نتیجے میں رومی سلطنت میں بہت سی بغاوتیں بھی ہوئیں۔ رومی سلطنت میں غلاموں کی بہت سی بغاوتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ کیتھ بریڈلے کا آرٹیکل انہی بغاوتوں کے بارے میں ہے۔ ان کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان میں سب سے مشہور بغاوت 73-71BC میں ہوئی جس کا لیڈر مشہور گلیڈی ایٹر اسپارٹکس تھا۔ اس بغاوت میں بہت سے غلاموں نے حصہ لیا اور اس بغاوت کے نتیجے میں سلطنت روما تباہ ہوتے ہوتے بچی۔ بغاوت ناکام رہی اور اسپارٹکس کو قتل کر دیا اور اس کے ہزاروں پیروکاروں کو صلیب پر چڑھا دیا گیا جو کہ رومیوں کا عام طریق کار تھا۔

          رومی ہمیشہ ان بغاوتوں سے خائف رہے۔ ایک مرتبہ روم کے سینٹ میں یہ خیال پیش کیا گیا کہ غلاموں کو علیحدہ لباس پہنایا جائے جس سے ان کی الگ سے شناخت ہو سکے لیکن اس خیال کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ اس طریقے سے غلام ایک دوسرے کو پہچان کر اپنی قوت سے آگاہ ہو سکتے تھے۔

          رومی غلامی اس حد تک خوفناک تھی کہ روم کے مقابلے پر لڑنے والوں کو اگر اپنی شکست کا یقین ہو جاتا تو یہ لوگ اس غلامی سے محفوظ رہنے کے لئے اجتماعی طور پر خود کشی کر لیا کرتے تھے۔ دوسری طرف بعض غلام تنگ آ کر اپنے مالکوں کو بھی قتل کر دیا کرتے تھے۔ ایسی صورت میں یہ قانون بنایا گیا کہ اگر قاتل پکڑا نہ جا سکے تو اس شخص کے تمام غلاموں کو ہلاک کر دیا جائے۔

          بہت سے غلاموں نے فرار کا راستہ بھی اختیار کیا۔ رومیوں نے اس کے جواب میں غلاموں کو پکڑنے کی ایک تربیت یافتہ پولیس تیار کی۔ یہ پولیس راستوں اور جنگلوں میں غلاموں کی تلاش کی ماہر ہوا کرتی تھی۔ ان غلاموں کو باقاعدہ جنگلی جانوروں کی طرح شکار کیا جاتا۔ پکڑے جانے والے غلام پر تشدد کے بعد اس کے گلے میں لوہے کا ایک دائمی طوق پہنا دیا جاتا۔

سلطنت روما: دور عیسائیت میں

سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام (33BC – 0CE) کی بعثت بنی اسرائیل میں اس دور میں ہوئی جب اسرائیلی اپنے عروج کا زمانہ دو مرتبہ گزار چکے تھے۔ یہود کا دوسرا عروج سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں ہوا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی دوبارہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو کر پہلے یونان اور پھر روم کی غلامی میں جا چکے تھے۔ آپ کی بعثت کے وقت فلسطین کے علاقے پر اگرچہ ایک یہودی بادشاہ "ہیرودوس" کی حکومت تھی لیکن اس کی ریاست مکمل طور پر رومنائز ہو چکی تھی اور اس کی حیثیت روم کے ایک گورنر کی سی تھی۔

          ان کے حکمرانوں کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض ایک رقاصہ کی فرمائش اپنی قوم کے صالح ترین شخص، یحیی (John the Baptist) علیہ الصلوۃ والسلام کا سر قلم کر کے اس کے حضور پیش کر دیا گیا تھا۔ سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو بادشاہ بھی صالح ترین مانتا تھا۔ آپ کا جرم صرف اتنا تھا کہ آپ نے بادشاہ کو اپنی سوتیلی بیٹی سے شادی کرنے سے منع فرمایا تھا۔

غلاموں اور پست طبقات سے متعلق سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات

سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر جو لوگ ایمان لائے، وہ معاشرے کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جن کا سیاسی اثر و رسوخ نہ ہونے کے برابر تھا۔ آپ کے قریبی صحابہ میں سیدنا پطرس، اندریاس، یعقوب اور یوحنا رضی اللہ عنہم گلیل کی جھیل کے مچھیرے اور سیدنا متی رضی اللہ عنہ محض ایک سرکاری ملازم تھے۔ اس صورت حال میں غلامی سے متعلق کوئی اقدام کرنا آپ کے لئے ممکن نہ تھا۔ آپ نے معاشرے کے پست ترین طبقات کو، جن میں غلام بھی شامل تھے، مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں  کیونکہ آسمان کی بادشاہی ان کے لئے ہے۔ مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جنہیں راستبازی کی بھوک و پیاس ہے کیونکہ وہ سیراب ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ ان پر رحم کیا جائے گا۔ مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کرواتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے (محبوب) کہلائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی (جنت) انہی کے لئے ہے۔ (متی باب 5)

اے محنت مشقت کرنے والو! اور وزنی بوجھ اٹھانے والو! تم میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام پہنچاؤں گا۔ (متی، 11:28)

آپ نے غلاموں کو آزادی کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اس نے مجھے مسح کیا ہے، تاکہ میں غریبوں کو خوشخبری سناؤں، اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی کی خبر دوں، کچلے ہوؤں کو آزادی بخشوں اور خداوند کے سال مقبول کا اعلان کروں۔ (لوقا باب 4)

آپ نے تمام انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا اور یہود کے علماء، جو سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی جانشینی کا منصب سنبھالے ہوئے تھے، کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

شریعت کے عالم اور فریسی موسی (علیہ الصلوۃ والسلام) کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ لہذا جو کچھ یہ تمہیں سکھائیں اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔ لیکن ان کے نمونے پر مت چلو کیونکہ وہ کہتے تو ہیں مگر کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جنہیں اٹھانا مشکل ہے، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں اور خود انہیں انگلی بھی نہیں لگاتے۔ وہ ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں اور عبادت خانوں میں اعلی درجے کی کرسیاں، اور چاہتے ہیں کہ بازاروں میں لوگ انہیں جھک جھک کر سلام کریں اور 'ربی' کہہ کر پکاریں۔ لیکن تم ربی نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا رب ایک ہی ہے اور تم سب بھائی بھائی ہو۔ (متی باب 23)

انجیل میں آپ کے کچھ ایسے ارشادات پائے جاتے ہیں جن میں آپ نے غلاموں کو اپنے مالکوں کا وفادار رہنے کی تلقین کی ہے لیکن اس سے یہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ آپ غلامی کو برقرار رکھنے کے قائل تھے۔ ان ارشادات کا تعلق غلام اور آقا کے تعلقات کو بہتر بنانے سے تھا۔

          غلامی کے خاتمے سے متعلق آپ کو علیحدہ سے تعلیم دینے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے۔ غلامی کو ختم کرنے سے متعلق شریعت موسوی میں جو تعلیمات موجود تھیں، انہی پر اگر صحیح روح کے ساتھ عمل کر لیا جاتا تو غلامی کے اثر کو کم کیا جا سکتا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

یہ نہ سمجھو کہ میں موسی کی کتاب، شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کو منسوخ کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں ان کو منسوخ کرنے کی بجائے انہیں پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ (متی، باب 5)

ہاں ایسا ضرور تھا کہ تورات میں علمائے یہود نے جو تحریفات کر رکھی تھیں، ان سے تورات کو پاک کرنا ضروری تھا۔ آپ نے اپنی تعلیمات میں یہود کی شریعت کے ان پہلوؤں کی طرف توجہ ضرور دلائی اور بتایا کہ یہ بوجھ اللہ تعالی نے نہیں بلکہ ان کے مذہبی راہنماؤں نے ان پر عائد کیے ہیں۔ افسوس کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے سوانح نگاروں نے یہ تفصیلات مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیں البتہ اس کے بعض اشارات انجیلوں میں ملتے ہیں۔ اگر آپ کی مکمل تعلیمات کو ریکارڈ کر لیا جاتا تو یقینی طور پر اس میں ہمیں خدا کی اصل شریعت اور انسانوں کی موشگافیوں کی تفصیلات مل جاتیں۔

          سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ عرصے بعد عیسائیوں کی اکثریت نے سینٹ پال کو بطور مذہبی راہنما کے قبول کر لیا۔ موجودہ دور کی عیسائیت سینٹ پال کی مذہبی تعبیرات پر مبنی ہے۔ پال نے آقاؤں کو غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ "خدا کی نظر میں سب برابر ہیں۔" پال کی تعلیمات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک موسوی شریعت کی سزاؤں کے حق داروں میں  لوگوں کو اغوا کر کے انہیں غلام بنانے والے بھی شامل تھے۔ وہ اپنے شاگرد ٹموتھی کو خط میں لکھتے ہیں:

شریعت (غالباً حدود و تعزیرات مراد ہیں) راستبازوں کے لئے نہیں بلکہ بے شرع لوگوں، سرکشوں، بے دینوں، گناہ گاروں، نا راستوں، اور ماں باپ کے قاتلوں اور خونیوں کے لئے ہے۔ اور ان کے لئے ہے جو زناکار ہیں، لونڈے باز ہیں، بردہ فروشی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے بہت سے کام کرتے ہیں جو اس صحیح تعلیم کے خلاف ہے۔ (ٹموتھی اول، باب 1)

انجیل کے بعد کی کتابوں میں عام طور پر غلاموں کو اپنے آقاؤں سے مخلص اور فرمانبردار رہنے کی تلقین ملتی ہے۔ دوسری طرف آقاؤں کو بھی یہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ غلاموں سے اچھا سلوک کریں اور خدا کی نظر میں وہ سب برابر ہیں۔ اس تعلیم کا مقصد آقا اور غلام کے تعلق کو بہتر بنانا معلوم ہوتا ہے کہ تاکہ غلاموں پر موجود سختیوں کو کم از کم عیسائی برادری کی حد تک کم کیا جا سکے۔

تم آزاد لوگوں کی طرح رہو لیکن اپنی آزادی کو بدکاری کا پردہ مت بناؤ بلکہ خدا کے بندوں کی طرح زندگی بسر کرو۔ سب کی عزت کرو، اپنی برادری سے محبت رکھو، خدا سے ڈرو اور بادشاہ کی تعظیم کرو۔ اے غلامو! اپنے مالکوں کے تابع رہو اور ان کا کہا مانو چاہے وہ نیک اور حلیم ہوں یا بدمزاج۔ (پطرس باب 2)

نوکرو! اپنے دنیاوی مالکوں کی صدق دلی سے ڈرتے اور کانپتے ہوئے فرمانبرداری کرو جیسی مسیح کی سی کرتے ہو۔۔۔۔مالکو! تم بھی اپنے نوکروں سے اسی قسم کا سلوک کرو۔ انہیں دھمکیاں دینا چھوڑ دو کیونکہ تم جانتے ہو کہ ان کا اور تمہارا دونوں کا مالک آسمان پر ہے اور اس کے ہاں کسی کی طرف داری نہیں ہوتی۔ (افسیوں باب 6)

نوکرو! اپنے دنیاوی مالکوں کے سب باتوں میں فرمانبردار رہو، نہ صرف دکھاوے کے طور پر انہیں خوش کرنے کے لئے بلکہ خلوص دلی سے جیسا کہ خداوند کا خوف رکھنے والے کرتے ہیں۔۔۔۔۔مالکو! اپنے نوکروں سے عدل و انصاف سے پیش آؤ کیونکہ تم جانتے ہو کہ آسمان پر تمہارا بھی ایک مالک ہے۔ (کلسیوں باب 4)

عیسائیوں میں بعد کے ادوار میں غلامی

اسمتھ کی تحقیق کے مطابق بعد کے ادوار میں بہت سے عیسائی اہل علم نے غلامی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ سینٹ اوریجن (154 – 185CE) نے ساتویں سال غلام کی آزادی کے قانون پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ سینٹ گریگوری (335 – 394CE) نے غلامی کو فطرت اور انسانیت کے خلاف قرار دیا۔ لیکن عیسائیوں کی اکثریت نے اس کے بالکل مخالف سینٹ آگسٹائن (354 – 430CE)  کے نظریات کو ترجیح دی جس کے مطابق "غلامی گناہ گار کے لئے خدا کی سزا ہے۔ غلامی تو جنگی قیدی کے لئے خوش قسمتی ہے کہ وہ مرنے سے بچ گیا۔ غلامی سماجی نظام قائم رکھنے کی گارنٹی ہے اور آقا اور غلام دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔" اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عیسائیت قبول کر لینے والے غلاموں کو آزاد کر دینے کی تلقین بھی کی۔ چھٹی سے نویں صدی عیسوی کے دوران آرتھوڈوکس فرقے کی جانب سے مسلمانوں کو خاص طور پر غلام بنا لینے کا فتوی جاری کیا گیا۔  سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی انسان دوست تعلیمات اور ان کے پیروکاروں کی زبردست دعوتی سرگرمیوں کے کچھ اثرات رومی سلطنت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ کے ایس لال لکھتے ہیں:

انتھونئس پائس (86 – 161CE) کے دور میں آقاؤں سے یہ حق چھین لیا گیا کہ وہ اپنے غلاموں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکیں۔ شہنشاہ قسطنطین (274 – 337 CE) کے دور میں یہ قانون بنا دیا گیا کہ آقا کی وراثت تقسیم کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ تقسیم ہونے والے غلاموں میں باپ بیٹے، میاں بیوی، اور بہن بھائی کو الگ نہ کیا جائے۔

روم میں اگرچہ عیسائی تعلیمات کے تحت غلاموں کے حالات قدرے بہتر ہوئے لیکن اس کے باوجود رومی سلطنت کے خاتمے تک غلاموں سے متعلق سخت قوانین موجود تھے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح بادشاہوں کو مذہب میں جہاں کوئی چیز اپنے مفاد میں ملتی ہے، وہ اسے اختیار کر لیتا ہے اور جہاں کوئی چیز اس کے مفاد کے خلاف نظر آتی ہے، اسے پس پشت پھینک دیتا ہے۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability