بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام اور ذہنی و جسمانی غلامی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 7: اسلام میں غلاموں کی آزادی کی تحریک (1)

اسلام اور غلامی کی بحث سے قبل چند امور ذہن نشین کر لینے چاہییں۔ پہلی بات تو یہ کہ اسلام نے غلامی کا آغاز نہیں کیا۔ جیسا کہ پچھلے باب میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلام سے پہلے غلامی موجود تھی۔ اس غلامی کی ایک پیچیدہ اور خوفناک شکل جزیرہ نما عرب اور اس کے گرد و نواح کے ممالک میں موجود تھی۔ پوری دنیا اس وقت غلامی کو برقرار رکھنے کے حق میں تھی اور غلامی کے خلاف کہیں کوئی آواز موجود نہ تھی۔ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس غلامی کے ساتھ کیا معاملہ کیا، اسے جاننے کے لئے عرب اور دیگر ممالک میں موجود غلامی کی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

          دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے ہاں غلامی کا مطالعہ کرتے وقت ہم نے ان کے آئیڈیل اور دیگر ادوار میں فرق کیا تھا، بالکل اسی طرح مسلمانوں کی تاریخ میں غلامی کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں آئیڈیل اور بعد کے ادوار میں فرق کرنا چاہیے۔ اسلام کا آئیڈیل دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے سے شروع ہو کر خلافت راشدہ کے خاتمے تک رہا ہے۔ اس کے بعد اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو بھی اسی میں شامل کر لیا جائے تو اسلام کے آئیڈیل دور کی مدت ساٹھ سال (1 – 60H / 622 – 680CE) کے قریب بنتی ہے۔ اسلامی حکومت قائم ہونے سے پہلے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی مکی زندگی کے تیرہ سالوں کو بھی اسی میں شمار کر لیا جائے تو یہ مدت کم و بیش 73 سال بنتی ہے۔

          آئیڈیل دور کے بعد کے ادوار میں بھی اگرچہ شریعت اسلامی ہی حکومت کا آفیشل قانون رہی ہے لیکن اس سے انحراف کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایک حدیث کے الفاظ کے مطابق خلافت راشدہ کو "کاٹ کھانے والی بادشاہت" اور پھر "جبر کی بادشاہت" میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ انحراف کے اس دور میں غلامی کے ادارے کی تفصیلات ہم متعلقہ باب میں بیان کریں گے۔

          تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ لوگ عام طور پر مسلمانوں کی فقہ کی کتب سے قوانین دیکھ کر ان کی بنیاد پر اسلام پر اعتراضات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریق کار بالکل غلط ہے۔ علم فقہ، مسلم فقہاء کی قانون سازی کا ریکارڈ ہے۔ اس ریکارڈ میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں جو خالصتاً قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کی بنیاد پر ہیں۔ ان کے علاوہ انہی کتب فقہ میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں جن کی بنیاد فقہاء کے اپنے اجتہادات ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اجتہادی قوانین کے لئے دین اسلام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

          دین اسلام صرف اور صرف انہی قوانین کے لئے ذمہ دار ہے جو اس کے اصل ماخذ یعنی قرآن مجید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت میں بیان کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس باب میں ہم صرف انہی احکامات کا جائزہ لیں گے جو قرآن مجید اور احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بعثت کم و بیش 609CE میں ہوئی۔ اس دور میں عرب بہت سی چھوٹی بڑی قبائلی ریاستوں کا مجموعہ تھا۔ جزیرہ نما عرب کے اردگرد ایران کی ساسانی اور روم کی بازنطینی سلطنتوں کی حکومت قائم تھی۔ عرب میں یمن کا علاقہ ایران کے اور شام کا علاقہ روم کے ماتحت تھا۔ ان تمام سلطنتوں میں غلامی کی صورتحال کم و بیش وہی تھی جسے ہم پچھلے باب میں بیان کر چکے ہیں۔

          دین اسلام کی تعلیمات میں غلامی کو ایک جھٹکے میں ختم نہ کیا گیا بلکہ اس سے متعلق کچھ اہم ترین اصلاحات نافذ کی گئیں۔ ان اصطلاحات کا ایک حصہ تو ان غلاموں سے متعلق ہے جو معاشرے میں پہلے سے ہی موجود تھے اور دوسرا حصہ آئندہ بنائے جانے والے غلاموں سے متعلق ہے۔

          جیسا کہ ہم پچھلے باب میں بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب میں کثیر تعداد میں غلام موجود تھے۔ غلاموں کا طبقہ عرب معاشرے میں "حقیر ترین" طبقہ تھا۔ ان غلاموں کی خرید و فروخت جانوروں یا بے جان اشیاء کی طرح کی جاتی تھی۔ مالک کو اپنے غلام پر مکمل حقوق حاصل تھے۔ ملکیت کا یہ حق مقدس سمجھا جاتا تھا۔ غلام کی کسی غلطی پر مالک اسے موت کی سزا بھی دے سکتا تھا۔ مجازی طور پر آقا کو اس کے غلام کا خدا تصور کیا جاتا تھا۔ غلاموں کی اولاد بھی غلام ہی ہوا کرتی تھی۔ ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کے غلام وراثت میں اسے کی اولاد کو منتقل ہو جایا کرتے تھے۔

          زیادہ غلاموں رکھنے کا مقصد آقاؤں کے جاہ و جلال اور دولت کی نمائش ہوا کرتا تھا۔ بعض امراء کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں غلام موجود تھے۔ غلام خطرے کی صورت میں آقاؤں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا کرتے تھے۔ اکثر مالکان غلاموں کے ساتھ نہایت ہی برا سلوک کیا کرتے تھے۔ غلاموں کو مال رکھنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ غلام کو جنگ میں ملنے والا مال غنیمت آقا کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔ 

          غلاموں کی ایک بڑی تعداد لونڈیوں پر بھی مشتمل تھی۔ انہیں زیادہ تر گھر کے کام کاج کے لئے رکھا جاتا۔ آقا کو لونڈی پر مکمل جنسی حقوق حاصل ہوا کرتے تھے لیکن اگر آقا کسی لونڈی کی شادی کر دے تو پھر وہ خود اپنے حق سے دستبردار ہو جایا کرتا تھا۔ بہت سے آقا ان لونڈیوں سے عصمت فروشی کا کام لے کر ان کی کمائی خود وصول کیا کرتے تھے۔ ایسی لونڈیوں کو جنس مخالف کو لبھانے کے لئے مکمل تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ شب بسری کے لئے کسی دوست کو ایک رات کے لئے لونڈی دے دینے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔

          غلاموں کے علاوہ کچھ نیم غلام قسم کے طبقات بھی اہل عرب کے ہاں پائے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک مزارعین کا طبقہ تھا جو خود زمین کے مالک نہ ہوا کرتے تھے بلکہ امراء کی جاگیروں پر کام کرتے اور انہیں زمین کا کرایہ ادا کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات جاگیردار، زمین کے کسی مخصوص ٹکڑے کی پیداوار کو اپنے لئے مخصوص کر لیتے۔ ایسا عام طور پر اس زمین کے سلسلے میں کیا جاتا تھا جو نہر یا برساتی نالے کے قریب واقع ہوا کرتی تھی۔ اس طریقے سے اچھی زمین کی فصل جاگیردار لے جاتا اور خراب زمین کی تھوڑی سی پیداوار مزارعوں کے حصے میں آیا کرتی۔

          عرب معاشرے میں طبقاتی تقسیم بہت شدید تھی۔ صنعتیں نہایت ہی معمولی درجے کی تھیں اور ہاتھ سے کام کرنے والوں کو نہایت ہی حقیر سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ نائی، موچی، قلی یا اس قسم کے دیگر کام کرتے۔ ادنی طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص سے اعلی طبقے کا کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا اور اس معاملے میں پورا معاشرہ نہایت ہی حساس تھا۔

          ان حالات میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالی نے جہاں مسلمانوں کو دیگر معاملات میں بہت سے احکامات دیے، وہاں غلامی سے متعلق بھی احکامات نازل ہوئے۔ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعلیمات میں غلاموں کو آزاد کرنے کی تحریک پیدا کرنے سے متعلق احکامات کو ان عنوانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

·       غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب

·       غلاموں کی آزادی کی مثال قائم کرنا

·       مکاتبت کے ادارے کا قیام

·       حکومتی سطح پر غلاموں کی آزادی کے اقدامات

·       مذہبی بنیادوں پر غلام آزاد کرنے کے احکامات

·       قریبی رشتے دار غلام کی آزادی کا قانون

·       اسلام قبول کرنے والے غلاموں کی آزادی کا قانون

اب ہم ان کی تفصیل بیان کرتے ہیں:

غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب

غلامی کے خاتمے کا وژن

اللہ تعالی نے وحی کے آغاز ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے مسلمانوں کو غلامی کے خاتمے کے لئے ایک وژن دے دیا تھا۔

فَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ (12) فَكُّ رَقَبَةٍ (13) أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ (14) يَتِيماً ذَا مَقْرَبَةٍ (15) أَوْ مِسْكِيناً ذَا مَتْرَبَةٍ (16) (البلد 90)

تو اس نے یہ دشوار گھاٹی پار کرنے کی ہمت نہ کی۔ تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے؟ غلاموں کو آزاد کرنا، یا بھوک کے دن  کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیوہ واٰلہ وسلم کو آغاز وحی سے ہی غلاموں کی آزادی کی ترغیب دی جانے لگی۔ آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ انہیں دوران وحی غلاموں کو آزاد کرنے کا خاص حکم دیا جاتا ہے:

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُوصِينِي بِالْمَمْلُوكِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَجْعَلُ لَهُ حَدًّا إِذَا بَلَغُوا عَتِقُوا. وحديث المملوك صحيح على شرطه وشرط البخاري (بيهقي، شعب الايمان،  عسقلانی، المطالب العالية، باب ابن عباس)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "جبریل مجھے مسلسل غلاموں کے بارے میں نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ خیال گزرا کہ وہ (اللہ تعالی کی جانب سے) کوئی ایسی حد مقرر فرما دیں گے کہ جس پر پہنچ کر غلام کو آزاد کر دیا جائے۔" بیہقی کہتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔

جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا خیال تھا، یہ حد بعد میں مکاتبت کے قانون میں مقرر کر دی گئی۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ غلامی کے بارے میں اسلام کا یہ وژن اتنا واضح ہے کہ اس کا اعتراف انصاف پسند مستشرقین بھی کرتے ہیں:

For, far from being passive submission to Allah’s inscrutable will, Islam gives each individual the chance to contribute actively towards his own salvation. For instance, in the Koran  slavery was taken for granted, in accordance with prevailing practice; but freeing of slaves was encouraged as meritorious. Thus, the Koran, in the seventh century A.D., does not consider slavery an immutable, God-given state for certain groups of human beings, but an unfortunate accident. It was within the reach of man to ameliorate this misfortune. (Ilse Lichtenstadter; Islam & the Modern World)

اسلام محض اللہ کی رضا کے سامنے سر جھکا دینے کا نام نہیں ہے۔ اسلام ہر شخص کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی نجات کے لئے خود متحرک ہو کر کام کرے۔ مثال کے طور پر قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ غلامی دنیا میں متواتر عمل کے طور پر موجود ہے لیکن غلام آزاد کرنے کو ایک بڑی نیکی قرار دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ساتویں صدی کے قرآن نے غلامی کو ناقابل تبدیلی قرار نہیں دیا کہ یہ ایک ایسی حالت ہے جو خدا نے چند انسانی گروہوں پر مسلط کر دی ہے، بلکہ (قرآن کے نزدیک) یہ ایک منحوس حادثہ ہے جس کا ازالہ کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔

ابتدائی مسلمان اور غلامی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی تو حیرت انگیز طور پر اس دعوت نے دو طبقات کو متاثر کیا۔ ان میں سے ایک طبقہ تو وہ تھا جو مکہ کی اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا لیکن وہ موجودہ مذہبی، سیاسی اور معاشرتی نظام سے مطمئن نہ تھا۔ اس طبقے کے اسلام کی دعوت قبول کرنے والے افراد کی مثال سیدنا ابوبکر، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، ابو عبیدہ، خدیجہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ دوسرا طبقہ غلاموں اور نیم غلاموں پر مشتمل تھا جس میں سیدنا بلال، یاسر، سمیہ، عمار، صہیب اور خباب رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

          یہ مذہبی جبر (Religious Persecution) کا دور تھا۔ جہاں ایک طرف اشرافیہ کے طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اپنے بزرگوں کے ہاتھوں جبر کا سامنا کرنا پڑا وہاں غلام طبقے کو تو باقاعدہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ ان غلاموں کو مکہ کی تپتی ریت اور دہکتی چٹانوں پر لٹا کر بھاری بھرکم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیے جاتے۔ اس موقع پر اسلام قبول کرنے والے امیر افراد سامنے آئے اور انہوں نے ان غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کا عمل شروع کیا۔

          اگر ہم اس دور میں نازل شدہ قرآنی آیات کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم ہو گا کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتیں یاد دلا کر غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ. وَلِسَاناً وَشَفَتَيْنِ. وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ. فَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ. وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ. فَكُّ رَقَبَةٍ۔ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ. يَتِيماً ذَا مَقْرَبَةٍ۔ أَوْ مِسْكِيناً ذَا مَتْرَبَةٍ. (90:11-15)

کیا ہم نے اس (انسان) کے لئے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھائے۔ مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گزار گھاٹی ہے کیا؟ کسی گردن کو غلامی سے آزاد کروانا، یا فاقے میں مبتلا کسی قریبی یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا۔

ان قرآنی تعلیمات کے نتائج خاطر خواہ نکلے اور اسلام کے آغاز ہی سے یہ بات طے ہو گئی کہ غلام بھی آزاد ہی کی طرح کے انسان ہیں اور آزاد افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ ان غلاموں کو برابری کی سطح پر لائیں۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی مستشرق ٹاؤن سینڈ لکھتے ہیں:

Numerous slaves also announced their adhesion to the new opinions. Abu Bekr exhausted great wealth for an Arab in purchasing slaves who had been persecuted for their admira tion of Mahommed, and from that day to this Islam has been distinguished by its adherence to one high principle. The slave who embraces Islam is free ; not simply a freed man, but a free citizen, the equal of all save the Sultan, competent de facto as well as de jure to all and every office in the state. (Townsend, Asia vs. Europe)

ان نئے عقائد کو قبول کرنے والوں میں بہت سے غلام بھی تھے۔ ابوبکر نے اپنی دولت، جو کہ کسی عرب کے لئے بڑی دولت تھی، کو ان غلاموں کو خرید کر (آزاد کرنے میں) صرف کیا جو کہ محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) پر ایمان لا چکے تھے۔ اس دن کے بعد آج تک اسلام میں ایک اصول تو طے شدہ ہے۔ ہر وہ غلام جو اسلام قبول کر لے، آزاد ہو جاتا ہے۔ نہ صرف ایک آزاد انسان، بلکہ ایک آزاد شہری جو کہ بادشاہ کے علاوہ دوسرے تمام شہریوں کے برابر اور قانونی اور حقیقی اعتبار سے ہر عہدے کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

ٹاؤن سینڈ کو یہ غلطی لاحق ہوئی ہے کہ غلام کا درجہ بادشاہ سے کم ہے۔ اسلام میں عزت اور مرتبے کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے۔ ایک غلام اگر متقی ہے تو اس کا درجہ ایک صحیح اسلامی معاشرے میں کسی بدکار بادشاہ سے کہیں زیادہ ہے۔ ہجرت کے بعد میں مزید ایسی آیات نازل ہوئیں جنہوں نے غلام آزاد کرنے کو بڑی نیکی قرار دیا۔

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ۔ (2:177)

نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ کوئی اللہ، یوم آخرت، فرشتوں، آسمانی کتب، اور نبیوں پر ایمان لائے اور اپنے مال کو اللہ کی محبت میں رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے خرچ کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

حدثنا أحمد بن يونس: حدثنا عاصم بن محمد قال: حدثني واقد ابن محمد قال: حدثني سعيد بن مرجانة، صاحب علي بن حسين، قال: قال لي أبو هريرة رضي الله عنه:  قال النبي صلى الله عليه وسلم: "أيما رجل أعتق امرأ مسلما، استنقذ الله بكل عضو منه عضوا منه من النار۔" قال سعيد بن مرجانة: فانطلقت به إلى علي بن حسين، فعمد علي بن حسين رضي لله عنهما إلى عبد له، قد أعطاه به عبد الله بن جعفر عشرة آلاف درهم، أو ألف دينار، فأعتقه. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2517)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص بھی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرتا ہے، اللہ تعالی اس (غلام) کے ہر ہر عضو کے بدلے (آزاد کرنے والے کے) ہر ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔" سعید بن مرجانہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں علی بن حسین (زین العابدین) رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے ایک غلام کی طرف رخ کیا اور اسے آزاد کر دیا۔ اس غلام کی قیمت عبداللہ بن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار لگا چکے تھے۔

اسلام میں آزادی کی اس تحریک کو صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں رکھا گیا بلکہ کسی بھی "نسمہ" (یعنی جاندار چیز جس میں انسان، جانور اور پرندے سبھی شامل ہیں) کی آزادی کو ایک نیکی قرار دے دیا گیا۔

وعن ابن عباس قال‏:‏ جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال‏:‏ يا رسول الله أصبت امرأتي وهي حائض فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعتق نسمة وقيمة النسمة يومئذ دينار‏. (مجمع الزوائد، کتاب الطهارة)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، "یا رسول اللہ! میں نے حالت حیض میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے ایک جاندار آزاد کرنے کا حکم دیا۔ آج کے دن جاندار چیز کی (کم سے کم قیمت) ایک دینار ہے۔

غیر مسلم غلاموں کی آزادی

ان آیات و حدیث سے کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ صرف مسلمان غلام ہی کو آزاد کرنا باعث اجر ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو، جنہوں نے بہت سے غیر مسلم غلاموں کو آزاد کیا تھا، کو بھی اجر ملنے کی بشارت دی۔

حدثنا عبيد بن إسماعيل: حدثنا أبو أسامة، عن هشام: أخبرني أبي:  أن حكيم بن حزام رضي الله عنه أعتق في الجاهلية مائة رقبة، وحمل على مائة بعير، فلما أسلم حمل على مائة بعير، وأعتق مائة رقبة، قال: فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، أرأيت أشياء كنت أصنعها في الجاهلية، كنت أتحنث بها؟ يعني أتبرر بها، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أسلمت على ما سلف لك من خير). (بخاری، کتاب العتق، حديث 2538)

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے کے زمانے میں سو غلام آزاد کئے اور ضرورت مند مسافروں کو سواری کے لئے سو اونٹ فراہم کئے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی انہوں نے سو اونٹ ضرورت مندوں کو دیے اور سو غلام آزاد کئے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھا، "یا رسول اللہ! ان نیک اعمال کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو میں دور جاھلیت میں کر چکا؟" آپ نے فرمایا، "جو نیکیاں تم اسلام لانے سے پہلے کر چکے ہو، وہ سب کی سب قائم رہیں گی۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غیر مسلم غلاموں کو آزاد کیا کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب "مصنف" میں غیر مسلم غلاموں کی آزادی کا باقاعدہ باب قائم کرتے ہوئے اس میں سیدنا عمر، علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کے غیر مسلم غلام آزاد کرنے کا تذکرہ کیا ہے۔

حدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هِلاَلٍ ، عَنْ أُسَّقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُمَرَ ، فَكَانَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ الإِسْلاَمَ وَيَقُولُ : {لاَ إكْرَاهَ فِي الدِّينِ} فَلَمَّا حُضِرَ أَعْتَقَه. (مصنف ابن ابی شيبة، باب فی عتق اليهودی و النصراني، حديث 12690)

اُسق کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیا کرتے تھے اور یہ بھی کہتے تھے، "دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔" ایک مرتبہ اسق کو ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اسق کو آزاد کر دیا۔

سعيد قال : حدثنا أبو شهاب عن يحيى بن سعيد : أن عمر بن عبد العزيز أعتق عبداً له نصرانياً ، فمات وترك مالاً ، فأمر عمر بن عبد العزيز ما ترك أن يجعل في بيت المال . (سنن سعيد بن منصور؛ كتاب الميراث)

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک عیسائی غلام آزاد کیا۔ جب وہ فوت ہوا تو اس کے ترکے میں مال تھا (اور اس کا سوائے عمر بن عبدالعزیز کے اور کوئی وارث بھی نہ تھا۔) عمر نے اس کے ترکے کو بیت المال میں داخل کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اہل علم جیسے امام مالک نے موطاء (پیراگراف نمبر 2258 میں) غیر مسلم غلاموں کو آزاد کرنے کو نیکی قرار دیا ہے۔ اس واقعے کو گولڈ زیہر نے بھی اپنی کتاب "محمد اینڈ اسلام" میں بیان کیا ہے۔

          مسلمانوں کے ہاں یہ عمل بھی رائج رہا ہے کہ وہ غیر مسلم غلاموں کو خود بھی آزاد کیا کرتے تھے اور دشمنوں سے بھی خرید کر آزاد کروایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں:

A document of the time of the Umaiyad caliph 'Umar ibn 'Abdal-'Aziz (reported by Ibn Sa'd) says that the payment of the ransoms by the Muslim government includes liberating even the non-Muslim subjects who would have been made prisoners by the enemy. (Dr. Hamidullah, Introduction to Islam)

اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (علیہ الرحمۃ) کے دور کے ایک سرکاری کاغذ کے مطابق جسے ابن سعد نے بیان کیا ہے، مسلمان حکومت کو اپنے ایسے غیر مسلم شہریوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیے جو کہ دشمن کی قید میں ہوں۔

قیمتی غلاموں کی آزادی

ایسا ممکن تھا کہ ان آیات اور احادیث کو سن کر لوگ اپنے کاہل اور نکمے قسم کے غلاموں کو تو آزاد کر دیتے لیکن قیمتی اور محنت کرنے والے غلاموں کو بدستور غلام رکھتے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا:

حدثنا عبيد الله بن موسى، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن أبي مراوح، عن أبي ذر رضي الله عنه قال:  سألت النبي صلى الله عليه وسلم: أي العمل أفضل؟ قال: (إيمان بالله، وجهاد في سبيله). قلت: فأي الرقاب أفضل؟ قال: (أغلاها ثمنا، وأنفسها عند أهلها). قلت: فإن لم أفعل؟ قال: (تعين صانعا، أو تصنع لأخرق). قال: فإن لم أفعل؟ قال: (تدع الناس من الشر، فإنها صدقة تصدق بها على نفسك). (بخاری، کتاب العتق، حديث 2518)

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھا، "کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟" آپ نے فرمایا، "اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔" میں نے عرض کیا، "کس غلام کو آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟" آپ نے فرمایا، "جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور اپنے آقاؤں کے لئے سب سے پسندیدہ ہو۔" میں نے عرض کیا، "اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟" آپ نے فرمایا، "تو پھر کسی کاریگر یا غیر ہنر مند فرد کی مدد کرو۔" میں نے عرض کیا، "اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟" آپ نے فرمایا، "لوگوں کو اپنی برائی سے بچاؤ۔ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم خود اپنے آپ پر کرو گے۔"

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کو جلدی جلدی آزاد کرنے کی ترغیب دلائی۔ آپ نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ غلام آزاد کرنے کے لئے اپنی موت کا انتظار نہ کریں بلکہ جلد از جلد غلاموں کو آزاد کریں۔

قال أخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو الأحوص ، عن أبي إسحاق ، عن أبي حبيبة ، عن أبي الدرداء أن رسول الله r قال الذي يعتق عند الموت كالذي يهدي بعدما شبع . (سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4873)

ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص بھی مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے، وہ تو اس شخص کی طرح ہے جو (گناہوں سے) اچھی طرح سیر ہونے کے بعد (نیکی کی طرف) ہدایت پاتا ہے۔

لونڈیوں کی آزادی

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس دور میں لونڈیوں کی اخلاقی حالت اچھی نہ تھی۔ نوجوان لونڈیوں کو عصمت فروشی کی تربیت دے کر انہیں تیار کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے کوئی شریف آدمی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان لونڈیوں کی اخلاقی تربیت کر کے انہیں آزاد کرنے کی ترغیب دلائی۔

أخبرنا محمد، هم ابن سلام، حدثنا المحاربي قال: حدثنا صالح بن حيان قال: قال عامر الشعبي: حدثني أبو بردة، عن أبيه قال:  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ثلاثة لهم أجران: رجل من أهل الكتاب، آمن بنبيه وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم، والعبد المملوك إذا أدى حق الله وحق مواليه، ورجل كانت عنده أمة يطؤها، فأدبها فأحسن أدبها، وعلمها فأحسن تعليمها، ثم أعتقها فتزوجها، فله أجران. (بخاری، کتاب العلم، حديث 97)

ابو بردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "تین قسم کے افراد کے لئے دوگنا اجر ہے: اھل کتاب میں سے کوئی شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور اس کے بعد محمد پر بھی ایمان لایا۔ ایسا غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالکان کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ ایسا شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جس سے وہ ازدواجی تعلقات رکھتا ہو، وہ اسے بہترین اخلاقی تربیت دے، اسے اچھی تعلیم دلوائے، اس کےبعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لئے بھی دوہرا اجر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود اس کی مثال قائم فرمائی۔ آپ نے سیدہ صفیہ اور ریحانہ رضی اللہ عنہما کو آزاد کر کے ان کے ساتھ نکاح کیا۔ اسی طرح آپ نے اپنی لونڈی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کی شادی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کی۔ آپ نے اپنی ایک لونڈی سلمی رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کی شادی ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کی۔

غلاموں کی آزادی میں رسول اللہ کی ذاتی دلچسپی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو غلاموں کی آزادی سے ذاتی طور پر دلچسپی تھی۔ اوپر بیان کردہ عمومی احکامات کے علاوہ آپ بہت سے مواقع پر خصوصی طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ بہت سی جنگوں جیسے غزوہ بدر، بنو عبدالمصطلق اور حنین میں فتح کے بعد آپ نے جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے اور انہیں آزاد کروا کر ہی دم لیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ مختلف غلاموں کے بارے میں ان کے مالکوں سے انہیں آزاد کرنے کی سفارش کیا کرتے تھے۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا سليمان بن داود حدثنا أبو عامر عن الحسن عن سعد مولى أبي بكر وكان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم وكان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه خدمته فقال: يا أبا بكر أعتق سعدا فقال: يا رسول الله ما لنا ما هن غيره قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعتق سعدا. (مسند احمد، باب سعد مولی ابوبکر)

ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام سعد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کی خدمت سے بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، "ابوبکر! سعد کو آزاد کر دو۔" ابو بکر کہنے لگے، "یا رسول اللہ! میرے پاس ان کے علاوہ اور کوئی غلام نہیں ہے۔" آپ نے پھر فرمایا، "سعد کو آزاد کر دو۔" چنانچہ ابوبکر نے سعد کو آزاد کر دیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر فرمایا تو انہیں بہت سی نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔ آپ نے غلاموں کی آزادی کو اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام قرار دیا۔

يا معاذ ما خلق الله شيئا على وجه الأرض أبغض إليه من الطلاق وما خلق الله عز وجل على وجه الأرض أحب إليه من العتاق وإذا قال الرجل لمملوكه أنت حر إن شاء الله فهو حر ولا استثناء له وإذا قال لامرأته أنت طالق إن شاء الله فله استثناؤه ولا طلاق عليه (ابن عدى ، والبيهقى ، والديلمى عن معاذ )أخرجه ابن عدى (2/279 ، ترجمة 443 حميد بن مالك) ، والبيهقى (7/361 ، رقم 14897) ، والديلمى (5/378 ، رقم 8485) . وأخرجه أيضًا : الدارقطنى (4/35) ، وابن الجوزى فى العلل المتناهية (2/643 ، رقم 1066) . (جمع الجوامع)

اے معاذ! اللہ تعالی نے روئے زمین پر جو چیزیں تخلیق کی ہیں، ان میں طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کام کوئی نہیں ہے اور اس نے زمین پر جو چیزیں تخلیق کی ہیں ان میں غلام آزاد کرنے سے زیادہ اچھا کام کوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے، اگر اللہ چاہے تو تم آزاد ہو تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اور اس میں کسی چیز کا استثناء نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اللہ چاہے تو تمہیں طلاق ہے تو اس صورت میں استثناء موجود ہے اور طلاق واقع نہیں ہو گی۔

کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے کی یہ ترغیب محض ایک ترغیب ہی تو تھی۔ اس میں مسلمانوں کو کسی بات کا قانونی طور پر پابند نہیں کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے محض ترغیب دینے کا کیا فائدہ؟

          یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دین اسلام کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ارشادات سے محبت اور وابستگی سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ صحابہ کرام اور ان کے تربیت یافتہ تابعین تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان اقدس سے نکلی ہوئی ہر بات کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہا کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال اوپر گزر چکی ہے جس میں سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ نے حدیث سنتے ہی اپنا قیمتی ترین غلام آزاد کر دیا تھا۔

          فقہی اور قانونی اعتبار سے انفرادی طور پر غلام کو آزاد کرنا اگرچہ محض ایک مستحب عمل ہی تھا لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ غلاموں کا درجہ خود تک بلند کریں۔ جب دین کا کوئی حکم مسلمانوں کو بحیثیت اجتماعی دیا جائے تو اس کی ادائیگی حسب استطاعت ہر مسلمان پر ضروری ہوتی ہے۔ امیر افراد پر ان کی طاقت کے مطابق اور غرباء پر ان کی استطاعت کے مطابق۔

          یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کے اس حکم کے نتیجے میں مسلمانوں میں سے امیر و غریب افراد نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے غلامی کے خاتمے کے لئے جو کچھ کیا، اس کی تفصیلات ہم آگے بیان کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس ترغیب و تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاں غلاموں کی آزادی ایک نیک اور متواتر عمل کے طور پر جاری ہو گئی اور موجودہ دور میں غلامی کے مکمل خاتمے تک جاری رہی۔

غلاموں کی آزادی کی مثال قائم کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کو آزاد کرنے کی محض ترغیب ہی نہ دی بلکہ ایسا کرنے کی بذات خود مثال قائم فرمائی۔ آپ جب یہ محسوس فرماتے کہ آپ کا کوئی غلام آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے تو اسے آزاد فرما دیتے۔ یہ سلسلہ آپ کی پوری زندگی میں جاری رہا حتی کہ آپ کی وفات کے وقت آپ کے پاس کوئی غلام نہ تھا۔

حدثنا إبراهيم بن الحارث: حدثنا يحيى بن أبي بكير: حدثنا زهير بن معاوية الجعفي: حدثنا أبو إسحاق، عن عمرو بن الحارث،  ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أخي جويرية بنت الحارث، قال: ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته درهما، ولا دينارا، ولا عبدا، ولا أمة، ولا شيئا، إلا بغلته البيضاء، وسلاحه، وأرضا جعلها صدقة. (بخاری، کتاب الوصايا، حديث 2739)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے برادر نسبتی عمرو بن حارث جو ام المومنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں، کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت درھم، دینار، غلام، لونڈی اور کوئی چیز نہ چھوڑی تھی۔ ہاں ایک سفید خچر، کچھ اسلحہ (تلواریں وغیرہ) اور کچھ زمین چھوڑی تھی جسے آپ صدقہ کر گئے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کزن سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جو آپ کی وفات کے وقت آپ کے قریب موجود تھے، بیان کرتے ہیں:

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا عفان وأبو سعيد المعني قالا: حدثنا ثابت حدثنا هلال بن خباب عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم التفت إلى أحد فقال: والذي نفس محمد بيده ما يسرني أن أحدا يحول لآل محمد ذهبا أنفقه في سبيل الله أموت يوم أموت أدع منه دينارين إلا دينارين أعدهما لدين إن كان فمات وما ترك دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا وليدة وترك درعه رهونة عند يهودي على ثلاثين صاعا من شعير. (مسند احمد، باب عبداللہ بن عباس)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (اپنی وفات سے پہلے) کسی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، "اس کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، یہ معاملہ میرے لئے آسان نہیں ہے کہ کوئی محمد کے خاندان کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا سونا دے۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں آج دو دینار ہی چھوڑ کر فوت ہو جاؤں سوائے اس کے کہ وہ قرض ادا کرنے کے لئے رکھے ہوئے ہوں۔ آپ نے ایسی حالت میں وفات پائی کہ آپ نے ترکے میں کوئی دینار، درہم، غلام، لونڈی نہ چھوڑی۔ آپ نے ترکے میں ایک زرہ چھوڑی جو کہ تیس صاع جو کا قرض لینے کے باعث ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔

ان احادیث کے بارے میں بعض لوگ یہ کہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے دو بڑے مکاتب فکر یعنی شیعہ اور سنی کا ان پر اتفاق نہیں ہے۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اہل تشیع کا اس معاملے میں اختلاف اس بات پر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ترکے میں کوئی غلام یا لونڈی چھوڑی تھی یا نہیں؟ ان کا اختلاف باغ فدک سے متعلق ہے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خاندان کا حق سمجھتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی چھوڑی ہوئی جائیداد صدقہ تھی اور اسے سرکاری خزانے کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔

          اگر حضور نے اپنے ترکے میں کوئی لونڈی یا غلام چھوڑا ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کا بھی دعوی کرتیں جبکہ اہل تشیع کی روایات ایسی کسی غلام یا لونڈی کے ذکر سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے اس معاملے میں سنی اور شیعہ دونوں مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا تھا۔

          حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن غلاموں اور لونڈیوں کو آزادی عطا فرمائی ، ان میں زید بن حارثہ، ثوبان، رافع، سلمان فارسی، ماریہ، ام ایمن، ریحانہ رضی اللہ عنہم مشہور ہوئے۔ ابن جوزی نے تلقیح الفہوم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جن آزاد کردہ غلاموں کے نام گنوائے ہیں ان کی تعداد 41 ہے جبکہ انہوں نے آپ کی 12 آزاد کردہ لونڈیوں کا تذکرہ کیا ہے۔

          بہت سے غلاموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مسلمانوں کے بیت المال کی رقم سے خرید کر آزاد فرمایا۔ ان کا درجہ بلند کرنے کے لئے انہیں آپ نے اپنا مولی قرار دے کر انہیں اپنے خاندان میں شامل کر دیا۔ ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ مرض وفات میں آپ نے چالیس غلاموں کو خرید کر آزاد فرمایا۔ (تاریخ الامم و الملوک، ج 4)

          غلام آزاد کرنے کی یہ مثال نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قائم فرمائی بلکہ آپ کے اہل بیت اور قریبی صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کی تفصیلات ہم غلاموں کی آزادی کی تحریک کے نتائج کے باب میں بیان کریں گے۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability