بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 7: اسلام میں غلاموں کی آزادی کی تحریک (2)

مکاتبت کے قانون کا نفاذ

مکاتبت کا سماجی ادارہ عرب میں پہلے سے موجود تھا یا نہیں تھا، اس معاملے میں اسلام سے پہلے کی تاریخ عرب لکھنے والے مورخین میں اختلاف ہے۔ اگر یہ ادارہ موجود بھی تھا تو یہ مالک کی مرضی پر ہوا کرتا تھا کہ وہ غلام کو اس طریقے سے آزاد کرے یا نہ کرے۔ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ قدیم عرب میں مکاتبت کا رواج بہت ہی کم تھا۔ (دیکھئے طبقات الکبری، باب ابوعبس بن جبر)

مکاتبت کے ادارے کا قانونی تحفظ

دین اسلام نے اس ادارے کو قانونی شکل دی اور مالکوں کے لئے یہ لازم قرار دیا کہ جب ان کے غلام ان سے اپنی آزادی خریدنا چاہیں تو وہ اس سے انکار نہ کریں۔ ارشاد باری تعالی ہے۔

وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۔ (النور 24:33)

تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتبت کرنا چاہیں، ان سے مکاتبت کر لو اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔

اس آیت کے الفاظ صریحاً اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ غلام اگر اپنی آزادی کو خریدنے کا طالب ہو تو اس سے مکاتبت کرنا ضروری ہے۔ "اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو" سے مراد سب اہل علم بشمول سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نے یہی لیا ہے کہ ان غلاموں کے پاس اتنا مال ہو یا وہ اتنا مال کمانے کی صلاحیت رکھتے ہوں جس سے وہ اپنی آزادی خرید سکیں۔ (دیکھیے مسند ابن ابی شیبہ، حدیث 23306) علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں:

واحتجوا أيضا بأن هذه الآية نزلت في غلام لحويطب بن عبد العزى يقال له صبيح سأل مولاه أن يكاتبه فأبى عليه فأنزل الله تعالى هذه الآية فكاتبه حويطب على مائة دينار ووهب له منها عشرين دينارا فأداها وقتل يوم حنين في الحرب. (عينی، شرح البخاری، کتاب المکاتب)

اہل علم نے اس بات سے بھی دلیل حاصل کی ہے کہ (مکاتبت کی یہ آیت) حویطب بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں صبیح کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے آقا سے مکاتبت کی درخواست کی جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔ انہوں نے حویطب سے سو دینار پر مکاتبت کر لی اور اس میں سے بیس دینار انہیں معاف بھی کر دیے۔ انہوں نے یہ رقم ادا کی۔ یہ صاحب جنگ حنین میں شہید ہو گئے۔

اس کے علاوہ مالکان، حکومت اور دیگر صاحب ثروت لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ایسے غلاموں کی مدد کریں جو مکاتبت کے خواہاں ہوں۔ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ غلام کی درخواست پر مکاتبت کرنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس ادارے کو باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل تھا۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

وقال روح، عن ابن جريج: قلت لعطاء: أواجب علي إذا علمت له مالا أن أكاتبه؟ قال: ما أراه إلا واجبا. وقاله عمرو بن دينار. قلت لعطاء: تأثره عن أحد، قال: لا. ثم أخبرني: أن موسى بن أنس أخبره: أن سيرين سأل أنسا المكاتبة، وكان كثير المال فأبى، فانطلق إلى عمر رضي الله عنه فقال: كاتبه، فأبى، فضربه بالدرة ويتلو عمر: {فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا}. فكاتبه. (بخاری، کتاب المکاتب، ترجمة الباب عند حديث 2559)

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا، "کیا مجھ پر یہ لازم ہے کہ اگر مجھے علم ہو کہ غلام ادائیگی کر سکتا ہے تو اس سے مکاتبت کر لوں؟" وہ کہنے لگے، "میں اسے ضروری تو نہیں سمجھتا۔" عمرو بن دینار نے ان سے کہا، "کیا آپ کو اس معاملے میں کسی صحابی کے قول و فعل کا علم ہے؟" وہ کہنے لگے، "نہیں"۔ انہوں نے یہ موسی بن انس کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کیا:

سیرین (جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے) کے پاس کثیر مال موجود تھا۔ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کی درخواست کی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ یہ معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لے گئے۔ انہوں نے (انس سے) کہا: "مکاتبت کرو۔" انہوں نے پھر انکار کیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں درے سے مارا اور یہ آیت تلاوت کی، "ان سے مکاتبت کرو اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو۔" اب انس نے مکاتبت کر لی۔ (یہ روایت طبرانی میں متصل سند کے ساتھ موجود ہے۔)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے وقت کثیر تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ کسی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات سے نہیں روکا کہ وہ انس رضی اللہ عنہ کو سزا کیوں دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اکابر صحابہ مکاتبت کو ضروری قرار دیتے تھے۔ یہ مکاتب جن کا نام سیرین تھا، تابعین کے مشہور امام محمد بن سیرین کے والد تھے۔ بعد کے ادوار میں بھی یہی معاملہ رہا۔

††††††††† مکاتبوں کے قانونی تحفظ کا یہ عالم تھا کہ مالک کو یہ قطعی اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ اس معاملے میں الٹی سیدھی شرائط عائد کر کے مکاتبت کے معاملے کو لٹکا سکے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَرَادَ مُكَاتَبٌ أَنْ يُعْطِيَ مَوْلاَهُ الْمَالَ كُلَّهُ ، فَقَالَ : لاَ آخُذُهُ إلاَّ نُجُومًا ، فَكَتَبَ لَهُ عُثْمَانُ عِتْقَهُ ، وَأَخَذَ الْمَالَ وَقَالَ : أَنَا أُعْطِيكَهُ نُجُومًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الرَّجُلَ أَخَذَ الْمَالَ. (مصنف ابن ابی شيبة، حديث 22993)

ایک مکاتب نے ارادہ کیا کہ وہ مکاتبت کی پوری رقم کی یک مشت ادائیگی کر دے۔ مالک کہنے لگا، "میں تو قسطوں ہی میں لوں گا۔" سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی آزادی کا فرمان لکھ کر جاری کر دیا اور اس سے مال لے لیا اور مالک سے فرمایا، "میں تمہیں قسطوں میں ادائیگی کر دیا کروں گا۔" اس شخص نے جب یہ دیکھا تو پورا مال قبول کر لیا۔

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرَهُ يَذْكُرُونَ: أَنَّ مَكَاتَباً كَانَ لِلْفُرَافِصَةِ بْنِ عُمَيْرٍ الْحَنَفِي، وَأَنَّهُ عَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ جَمِيعَ مَا عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ، فَأَبَى الْفُرَافِصَةُ، فَأَتَى الْمُكَاتَبُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَا مَرْوَانُ الْفُرَافِصَةَ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَبَى، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِذَلِكَ الْمَالِ أَنْ يُقْبَضَ مِنَ الْمُكَاتَبِ، فَيُوضَعَ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَقَالَ لِلْمُكَاتَبِ : اذْهَبْ فَقَدْ عَتَقْتَ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْفُرَافِصَةُ قَبَضَ الْمَالَ. (موطاء مالک، کتاب المکاتب، حديث 2324)

ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ فراصہ بن عمیر الحنفی کا ایک مکاتب غلام تھا۔ اس نے اپنے آقا کو یہ پیشکش کی کہ وہ کتابت کی پوری قیمت اکٹھی ادا کر کے مکمل آزاد ہونا چاہتا ہے۔ فرافصہ نے اس سے انکار کر دیا۔ وہ مکاتب مدینہ کے گورنر مروان بن الحکم کے پاس گیا اور اس بات کا ان سے تذکرہ کیا۔ مروان نے فرافصہ کو بلایا اور انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ مروان نے حکم دیا کہ مکاتب سے پورا مال لے کر اسے بیت المال میں جمع کر دیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے مکاتب سے کہا، " جاؤ، تم تو آزاد ہو گئے۔" فرافصہ نے جب یہ دیکھا تو پورا مال لے لیا۔

غلاموں میں نفسیاتی تبدیلی کے ذریعے آزادی کی خواہش پیدا کرنے کی کوشش

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں میں نفسیاتی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ آزادی کے خواہش مند بنیں اور اپنے مالکوں سے مکاتبت کر لیں۔ آپ کا ارشاد ہے:

أخبرنا أحمد بن عمرو بن السرح قال أنا بن وهب قال أخبرني الليث عن بن عجلان عن سعيد ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ثلاثة حق على الله عونهم المكاتب الذي يريد الأداء والناكح الذي يريد العفاف والمجاهد في سبيل الله . (سنن الکبری نسائی، کتاب العتق، حديث 4995)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی مدد کو اللہ نے خود پر لازم کر لیا ہے: ایسا مکاتب جو ادائیگی (کر کے آزاد ہونے) کا ارادہ رکھتا ہو؛ نکاح کرنے والا جو عفت و پاکدامنی کا طالب ہو؛ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔

آپ نے بہت سے غلاموں کو فرداً فرداً بھی ترغیب دلائی کہ وہ اپنے مالکان سے مکاتبت کر لیں۔ اس کی مثال سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی مکاتبت چالیس اوقیہ چاندی کے بدلے ہوئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس رقم کو ادا کر دیا تھا (دیکھیے سیرت ابن ہشام)۔

مکاتبین کی مدد کا نظام

اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مالکوں کو بھی تلقین کیا کرتے تھے کہ وہ قرآن کے حکم کے مطابق غلاموں کو مکاتبت میں سے رقم معاف کر دیں۔ آپ دوسرے لوگوں کو بھی یہ ترغیب دلایا کرتے تھے کہ وہ مکاتبوں کی مدد کریں تاکہ یہ رقم ادا کر کے جلد از جلد مکمل آزاد ہو سکیں۔ صحابہ کرام کا عمل بھی اس کے عین مطابق تھا اور وہ اپنے غلاموں کو مکاتبت کی رقم میں سے حسب توفیق کچھ نہ کچھ معاف کر دیا کرتے تھے اور دوسروں کے مکاتب غلاموں کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ : أَنَّ سَهْلَ بْن حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إلاَّ ظِلُّهُ. (مصنف ابن ابی شيبة، کتاب المکاتب، حديث 23474، مستدرک حاکم، کتاب المکاتب، حديث 2860)

سیدنا سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے، یا تنگدستی کی حالت میں جرمانہ ادا کرنے والے یا آزادی کے طالب مکاتب کی مدد کی، اللہ اسے قیامت کے اپنا خاص سایہ نصیب کرے گا۔ اس دن اس کے علاوہ کوئی اور سایہ بھی نہ ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس ترغیب کا کیا اثر ہوا۔ اس کا اندازہ ان روایات سے لگایا جا سکتا ہے:

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ مُوسَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ أَنَّ فُلاَنًا الْحَنَفِىَّ حَدَّثَهُ قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَامَ مُكَاتَبٌ إِلَى أَبِى مُوسَى رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ أَوَّلَ سَائِلٍ رَأَيْتُهُ فَقَالَ : إِنِّى إِنْسَانٌ مُثْقَلٌ مُكَاتَبٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَيْهِ فَقُذِفَتْ إِلَيْهِ الثِّيَابُ وَالدَّرَاهِمُ حَتَّى قَالَ حَسْبِى فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ فَوَجَدَهُمْ قَدْ أَعْطَوْهُ مُكَاتَبَتَهُ وَفَضَلَ ثَلاَثُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَسَأَلَهُ فَأَمْرَهُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِى نَحْوِهِ مِنَ النَّاسِ. (سنن الکبری بيهقى، كتاب قسم الصدقات، حديث 13192)

ایک حنفی بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز میں حاضر تھا تو ایک مکاتب سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑا ہوا۔ میں نے وہ پہلا سائل دیکھا تھا جو کہہ رہا تھا، "میں ایسا انسان ہوں جس پر مکاتبت کا بوجھ ہے۔ لوگ اس کی طرف گویا دوڑ پڑے اور اس پر کپڑے اور درہم نچھاور کرنے لگے یہاں تک کہ وہ کہنے لگا، "بس کافی ہے۔" اب وہ اپنے مالکوں کی طرف گیا اور انہیں مکاتبت کی رقم ادا کی۔ اس کے بعد بھی اس کے پاس 300 درہم بچ گئے۔ وہ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس رقم کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ اسے اپنے جیسے اور مکاتبوں کو دے دو۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ : أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَثَّ النَّاسَ عَلَى مُكَاتَبِهِ ، فَجَمَعُوا لَهُ فَأَدَّى مُكَاتَبَتَهُ ، وَبَقِيَتْ فَضْلَةٌ فَجَعَلَهَا عَبْدُ اللهِ فِي الْمُكَاتِبِينَ. (مصنف ابن ابی شيبة، حديث 21943)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لوگوں کو مکاتبت کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ (غلام) ان کے پاس اکٹھے ہو کر آیا کرتے اور وہ ان کی مکاتبت کی رقم ادا کر دیا کرتے تھے۔ ان کے پاس جو بھی مال باقی بچتا، وہ اسے مکاتبوں کی مدد پر ہی صرف کیا کرتے تھے۔

ایک طرف تو یہ معاملہ تھا کہ لوگ مکاتبین کی مدد کیا کرتے تھے اور دوسری طرف مالکان بھی متعدد مرتبہ مکاتبوں کی رقم حیلے بہانے سے چھوڑ دیا کرتے تھے:

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : كَاتَبَ ابْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَهُ فَجَاءَ بِنَجْمِهِ حِينَ حَلَّ فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا؟ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُ وَأَعْمَلُ. فَقَالَ : تُرِيدُ أَنْ تُطْعِمَنِى أَوْسَاخَ النَّاسِ أَنْتَ حُرٌّ وَلَكَ نَجْمُكَ. (سنن الکبری بيهقى، كتاب المکاتب، حديث 21666)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کے ساتھ مکاتبت کی۔ وہ ادائیگی کے وقت اپنی قسط لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا، "یہ رقم کہاں سے لائے؟" وہ بولا، "کچھ کام کر کے اور کچھ لوگوں سے مانگ کر لایا ہوں۔" آپ نے فرمایا، "کیا تم مجھے لوگوں کی میل کھلانا چاہتے ہو۔ جاؤ تم آزاد ہو اور تمہاری قسط بھی تمہاری ہی ہے۔"

حکومت کے اقتصادی نظام (Fiscal System) میں حکومت کا باقاعدہ ایک خرچ یہ مقرر کیا گیا کہ وہ غلام خرید کر آزاد کرے یا پھر مکاتبین کی مدد کرے۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔

مکاتب کا قانونی اسٹیٹس

احادیث میں مکاتبت کے حقوق و فرائض کا جو ذکر آیا ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکاتبت کا معاہدہ ہو جانے کے بعد مکاتب کا اسٹیٹس"آزاد" اور "غلام" کے درمیان ہو جایا کرتا تھا۔ مالک کے لئے لازم ہوا کرتا تھا کہ وہ اسے کام کر کے کمانے کی اجازت دے تاکہ وہ ادائیگی کر کے مکمل آزاد ہو سکے۔ امہات المومنین کو خاص طور پر پردہ کرنے کا جو حکم قرآن میں دیا گیا تھا، غلام اس سے مستثنی تھےلیکن مکاتبت کی صورت میں انہیں مکاتب سے پردہ کرنا ضروری تھا۔

حدثنا سعيد بن عبد الرحمن قال حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن نبهان مولى أم سلمة عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان عند مكاتب إحداكن ما يؤدي فلتحتجب منه قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح. (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1261)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (جنہوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کر لی تھی) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جب تم میں کوئی مکاتبت کرے اور اس نے پوری ادائیگی نہ بھی کی ہو تب بھی اس سے حجاب کرو۔"

حدثنا هارون بن عبد الله البزار حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن أيوب عن عكرمة عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا أصاب المكاتب حدا أو ميراثا ورث بحساب ما عتق منه وقال النبي صلى الله عليه وسلم يؤدي المكاتب بحصة ما أدى دية حر وما بقي دية عبد۔ (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1259، مستدرک حاکم، 2865-2866)

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اگر مکاتب کو (کسی جرم میں) سزا دی جائے یا اسے (مالک کے فوت ہو جانے کی صورت میں اس کے) وارثوں کے حوالے کیا جائے تو ایسا کرتے ہوئے اس کا معاملہ اس کی آزادی کے تناسب سے کیا جائے۔ آپ نے فرمایا، " (اگر مکاتب کو کسی حادثے میں نقصان پہنچا ہو تو) اس کی دیت کی ادائیگی اس حساب سے کی جائے گی کہ اس نے جتنے (فیصد مکاتبت کی رقم) ادا کی ہو، اسے اتنے (فیصد) آزاد سمجھا جائے گا اور جتنے (فیصد) باقی ہو، غلام سمجھا جائے گا۔

مکاتب کے حقوق و فرائض کے بارے میں اگر تمام روایات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بالعموم مکاتب کو اکثر حقوق وہ دیے گئے ہیں جو کسی آزاد شخص کو حاصل تھے لیکن اس پر زکوۃ، حج، جہاد اور حکومتی جرمانے وغیرہ کے معاملے میں وہ ذمہ داریاں عائد نہیں کی گئیں جو کہ آزاد افراد پر عائد کی گئی تھیں۔

حدثنا عبد الباقي بن قانع وعبد الصمد بن علي قالا نا الفضل بن العباس الصواف ثنا يحيى بن غيلان ثنا عبد الله بن بزيع عن بن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس في مال المكاتب زكاة حتى يعتق. (دارقطنى، سنن، كتاب الزكوة)

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "مکاتب کے مال میں کوئی زکوۃ نہیں ہے جب تک وہ مکمل آزاد نہ ہو جائے۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض تو اس بات کے قائل تھے کہ مکاتبت کرتے ہی غلام آزاد ہو جاتا ہے اور کی حیثیت سابقہ مالک کے مقروض کی سی ہو جاتی ہے اور بعض اسے ادائیگی کے تناسب سے آزاد قرار دیا کرتے تھے:

عند ابن عباس فإنه يعتق بنفس العقد وهو غريم المولى بما عليه من بدل الكتابة وعند علي رضي الله تعالى عنه يعتق بقدر ما أدى۔ (عينى، عمدة القارى شرح البخارى)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مکاتب معاہدہ کرتے ہی آزاد ہو جاتا ہے۔ اب وہ اپنے سابقہ مالک کا مقروض ہے کیونکہ اس پر مکاتبت کی رقم کی ادائیگی لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ جتنی رقم ادا کر دے، اسی تناسب سے آزاد ہو جاتا ہے۔

عدم ادائیگی کے باعث مکاتب کا قانونی تحفظ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو یہ قانون بنا دیا تھا کہ اگر مکاتب نصف رقم کی ادائیگی کر چکا ہو اور اس کے بعد وہ باقی رقم ادا نہ بھی کر سکے تب بھی اسے غلامی کی طرف نہ لوٹایا جائے گا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ: إنَّكُمْ تُكَاتِبُونَ مُكَاتَبِينَ ، فَإِذَا أَدَّى النِّصْفَ فَلاَ رَدَّ عَلَيْهِ فِي الرِّقِّ. (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 20960)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "تم لوگ مکاتبت کرتے ہو، جب مکاتب آدھی رقم ادا کر دے تو پھر اسے غلامی کی طرف نہ لوٹایا جائے گا۔

یہی بات سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نصف رقم کی ادائیگی کے بعد مکاتب آزاد ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت ایک مقروض شخص کی ہو جایا کرتی ہے۔ (مسند ابن الجعد)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام طور پر اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ مکاتب کا مالک کسی اور شخص سے رقم لے کر مکاتب کی بقیہ اقساط کو کسی اور شخص کی طرف منتقل کر دے۔ ہاں اگر وہ مکاتب خود اس کی اجازت دے دے تو اسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ بَيْعَ الْمُكَاتَبِ. (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 23054)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکاتب کے منتقل کئے جانے کو سخت ناپسند کیا کرتے تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مکاتب کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایاکہ اگر وہ پوری رقم کی ادائیگی سے پہلے فوت ہو جائے اور اس کے بچے ہوں تو وہ بچے آزاد ہی قرار پائیں گے۔ (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب المکاتب)

††††††††† صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ معمول تھا کہ اگر مکاتبین رقم ادا کرنے سے عاجز ادا آ جاتے تو وہ انہیں بالعموم رقم معاف کر کے آزاد کر دیا کرتے تھے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَاتَبَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ شَرْفًا بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا فَخَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ فَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى حُمُرٍ لَهُ حَتَّى أَدَّى خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَقَالَ مَجْنُونٌ أَنْتَ أَنْتَ هَا هُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَكَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَشْتَرِى الرَّقِيقَ يَمِينًا وَشِمَالاً ثُمَّ يُعْتِقُهُمَ ارْجَعْ إِلَيْهِ فَقَلْ لَهُ قَدْ عَجَزْتُ فَجَاءَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَتِهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ عَجَزْتُ وَهَذِهِ صَحِيفَتِى فَامْحُهَا فَقَالَ لاَ وَلَكِنِ امْحُهَا إِنْ شِئْتَ فَمَحَاهَا فَفَاضَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَحْسِنْ إِلَى ابْنىَّ قَالَ هُمَا حُرَّانِ قَالَ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَحْسِنْ إِلَى أُمَّىْ وَلَدَىَّ قَالَ هُمَا حُرَّتَانِ فَأَعْتَقَهُمْ خَمْسَتَهُمْ جَمِيعًا فِى مَقْعَدٍ. (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب المکاتب)

زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر نے ایک غلام، جس کا نام شرف تھا، سے 40,000 درہم پر مکاتبت کی۔ وہ کوفہ کی جانب نکل گیا اور وہاں وہ اسفالٹ کا کام کرنے لگا یہاں تک کہ اس نے 15,000 درہم ادا کر دیے۔ اس کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا، "تم تو پاگل ہو، تم یہاں سخت محنت کر رہے ہو جبکہ عبداللہ بن عمر تو ادھر ادھر سے غلام خریدتے ہیں اور اسے آزاد کر دیتے ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور کہو، میں رقم ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں۔"

†††††† (اب وہ واپس ان کے پاس آیا اور اس کے طلب کرنے پر) اس کے پاس اس کی مکاتبت کا معاہدہ لایا گیا۔ وہ کہنے لگا، "اے ابو عبدالرحمٰن! میں رقم ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں۔ یہ میرا معاہدہ ہے، اسے مٹا دیجیے۔" آپ نے فرمایا، "نہیں، ہاں تم ہی غلام رہنا چاہو تو میں اسے مٹا دوں گا۔" جب معاہدہ مٹایا گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، "جاؤ، تم آزاد ہو۔" وہ کہنے لگا، "اللہ آپ کے ساتھ بھلائی کرے، میرے دونوں بیٹوں پر بھی احسان کیجیے۔" فرمایا، "وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔" کہنے لگا، "میرے دونوں بچوں کی ماؤں پر بھی احسان کیجیے۔" آپ نے فرمایا، "وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔" اس طرح آپ نے بیٹھے بیٹھے وہیں ان پانچوں کو آزاد کر دیا۔

متعدد مالکوں کے مشترک غلام کی مکاتبت

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک شخص متعدد مالکوں کا غلام ہوتا تھا۔ اس کی صورت ایسی ہی تھی جیسا کہ اگر کوئی کسی پارٹنرشپ کمپنی کا ملازم ہو۔ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حکم دیا کہ اگر کوئی ایک پارٹنر غلام میں اپنے حصے کو آزاد کرے تو باقی پارٹنر بھی اپنے اپنے حصوں کو آزاد کر دیں۔ اگر وہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہوں تو غلام خود بخود مکاتب کا درجہ اختیار کر جائے گا۔ وہ کما کر اپنے باقی مالکان کو ادائیگی کرے گا اور اس معاملے میں اس پر سختی نہ کی جائے گی۔

حدثنا بشر بن محمد: أخبرنا عبد الله: أخبرنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن النضر بن أنس، عن بشير بن نهيك، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (من أعتق شقيصا من مملوكه فعليه خلاصه في ماله، فإن لم يكن له مال، قوم المملوك قيمة عدل، ثم استسعي غير مشقوق عليه). (بخاری، کتاب الشرکة، حديث 2492)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اگر کسی نے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اس غلام کو پورا آزاد کروائے۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی مناسب قیمت لگوائی جائے اور اسے سے اسے کمانے کو کہا جائے گا اور اس پر سختی نہ کی جائے گی۔

قانون مکاتبت کے اثرات

مکاتبت کا یہ قانون ایک انقلابی قانون تھا۔ غلاموں کی آزادی کے دیگر تمام اقدامات کا تعلق تو ان کے مالکان یا حکومت سے تھا لیکن مکاتبت وہ سماجی ادارہ تھا جس کی بدولت غلام خود اپنی آزادی کی تاریخ رقم کر سکتے تھے۔ یہ آزادی خود ان کی اپنی خواہش کی مرہون منت تھی۔ اس کے لئے حکومت اور مخیر حضرات ہمہ دم ان کی مدد کے لئے تیار تھے۔ اب اگر کوئی کمی باقی رہ گئی تھی تو وہ یہی تھی کہ غلام خود آزادی کا طالب نہ ہو ورنہ اسے آزاد کرنے کے تمام وسائل مہیا کر دیے گئے تھے۔ اس کے بعد وہی لوگ غلامی میں باقی رہ جاتے جو خود غلام رہنا چاہتے تھے یا آزادی کی امنگ نہ رکھتے تھے۔

††††††††† اس اقدام کا نتیجہ بہت ہی مثبت نکلا۔ غلاموں میں آزادی خریدنے کی زبردست تحریک پیدا ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ آزادی حاصل کرنے کا ایک باعزت طریقہ تھا جس میں مالک کا غلام پر کوئی احسان بھی قائم نہ ہوتا تھا اور غلام کی عزت نفس مجروح کئے بغیر اسے آزادی مل جایا کرتی تھی۔ مکاتبت کے ذریعے مالک کو بھی اپنی وہ رقم واپس مل جایا کرتی تھی جو اس نے غلام کی خدمات کو خریدنے پر صرف کی تھی۔

††††††††† صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بے شمار مکاتبین کا ذکر اسماء الرجال کی کتابوں میں ملتا ہے۔ یہ حضرات نہ صرف ان سے مکاتبت کر لیا کرتے تھے بلکہ اس میں سے جس قدر رقم کم کر سکتے کر دیتا کرت تھے اور آزادی کے وقت انہیں اپنے مال میں سے بھی بہت کچھ دے دلا کر بھیجا کرتے تھے۔

††††††††† سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام ابوامیہ سے مکاتبت کی اور جب ان کی آزادی کا وقت آیا تو سیدنا عمر کے پاس کچھ نہ تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے دو سو درہم ادھار لے کر ابو امیہ کو دیے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام سے مکاتبت کی اور پھر اس پر خود ہی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پوری رقم معاف کر دی۔ (طبقات ابن سعد اور سنن الکبری)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکاتبت کرتے تو اس کے آخر میں رقم معاف کر دیا کرتے تھے۔

††††††††† بعد کے ادوار میں مکاتبت کا ادارہ اتنی ترقی کر گیا کہ قانونی ماہرین کو ان میں باقاعدہ الگ سے مکاتبت کے ابواب قائم کر کے اس سے متعلق قانون سازی کرنا پڑی۔

مکاتبت کی انشورنس کا نظام

موطاء امام مالک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دور میں مکاتبت کا ادارہ اتنی ترقی کر چکا تھا کہ غلام اجتماعی طور پر بھی مکاتبت کیا کرتے تھے۔ یہ مکاتبت کی انشورنس کا نظام تھا۔ اس میں یہ معاملہ طے کیا جاتا کہ چند غلام مل کر اپنے مالکوں سے مکاتبت کریں گے۔ اگر بیماری یا کسی اور وجہ سے کوئی غلام اپنی ادائیگی نہ کر سکے تو اس کے دوسرے ساتھی اس کی ادائیگی کریں گے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability