بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 7: اسلام میں غلاموں کی آزادی کی تحریک (3)

حکومتی سطح پر غلاموں کی آزادی کے اقدامات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کو محض آزاد کرنے اور آزاد ہونے ہی کی ترغیب نہ دلائی بلکہ آپ نے مدینہ میں حکومت قائم کرنے کے بعد حکومتی سطح پر اس کا اہتمام بھی فرمایا۔ مدینہ کی اس ریاست کی اقتصادی پالیسی (Fiscal Policy) میں غلاموں کی آزادی کو ایک سرکاری خرچ کی حیثیت دی گئی۔ ریاست کی آمدنی کا ذریعہ زکوۃ تھی جسے قرآن مجید میں صدقہ کا نام بھی دیا گیا ہے۔

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۔ (التوبة 9:60)

یہ صدقات تو دراصل فقرا، مساکین اور سرکاری ملازموں (کی تنخواہوں) کے لئے ہیں، اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مقصود ہو۔ یہ غلام آزاد کرنے، قرض داروں کی مدد کرنے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کی مدد کے لئے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

حکومتی سطح پر بھی بہت سے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا گیا۔ بعض مکاتبوں کو اپنی رقم کی ادائیگی کے لئے ان کی مدد کی گئی۔ اس کی ایک مثال سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔ خلفاء راشدین کے دور میں بیت المال سے غلاموں کو خرید خرید کر آزاد کیا جاتا تھا۔ اگر کسی کا کوئی وارث نہ ہوتا تو اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو بیچ کر اس سے بھی غلام آزاد کئے جاتے۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَنَّ طَارِقَ بْنِ الْمرقَّع أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ لِلَّهِ ، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالا ، فَعُرِضَ عَلَى مَوْلاَهُ طَارِقٍ ، فَقَالَ : شَيْءٌ جَعَلْته لِلَّهِ ، فَلَسْت بِعَائِدٍ فِيهِ ، فَكُتِبَ فِي ذَلِكَ إلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ عُمَرُ : أَنِ اعْرِضُوا الْمَالَ عَلَى طَارِقٍ ، فَإِنْ قَبِلَهُ وَإِلاَّ فَاشْتَرَوْا بِهِ رَقِيقًا فَأَعْتِقُوهُمْ ، قَالَ : فَبَلَغَ خَمْسَةَ عَشَرَ رَأْسًا. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المیراث، حدیث 32086)

طارق بن مرقع نے ایک غلام کو اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا۔ وہ فوت ہو گیا اور اس نے کچھ مال ترکے میں چھوڑا۔ یہ مال اس کے سابقہ مالک طارق کے پاس پیش کیا گیا۔ وہ کہنے لگے، "میں نے تو اسے محض اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا تھا، میں اس میں سے کچھ نہ لوں گا۔" یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجی گئی کہ طارق مال لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا، "اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کرو۔" راوی کہتے ہیں کہ اس مال سے پندرہ غلام آزاد کئے گئے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں تو عرب میں موجود تمام غلاموں کو حکومت کے مال سے خرید کر آزاد کر دیا گیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ زکٰوۃ ایک حکومتی ٹیکس تھا جو مسلمانوں پر مذہبی طور پر واجب کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں تو یہاں تک اجازت دے دی گئی کہ اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ کی رقم سے خود ہی غلام خرید کر آزاد کر دے تو وہ حکومت کو ادائیگی کرتے ہوئے اس رقم کو قابل ادائیگی زکوۃ (Zakat Liability) سے منہا کر سکتا ہے۔ ابن زنجویۃ نے کتاب الاموال میں سیدنا ابن عباس اور حسن بصری کا یہ موقف بیان کیا ہے۔

مذہبی بنیادوں پر غلام آزاد کرنے کے احکامات

اللہ تعالی کو چونکہ غلاموں کی آزادی سے خاص دلچسپی تھی، اس وجہ سے کچھ دینی احکام کی خلاف ورزی کی صورت میں بطور کفارہ انہیں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان میں قسم توڑنے، ناجائز طریقے سے طلاق دینے اور غلطی سے کسی کی جان لے لینے کی صورتیں شامل تھیں۔

قسم توڑنے کا کفارہ

لا يُؤَاخِذُكُمْ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمْ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۔ (المائدة 5:89)

تم لوگ جو بغیر سوچے سمجھے قسمیں کھا لیتے ہو، ان پر تو اللہ تمہاری گرفت نہ کرے گا مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو، ان پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ تم دس مساکین کو اوسط درجے کا وہ کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو یا انہیں لباس فراہم کرو یا پھر غلام آزاد کرو۔ جسے یہ میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔

ناجائز طریقے سے طلاق دینے کا کفارہ

وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔ (المجادلة 58:3)

جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں قرار دے بیٹھیں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو ان کے لئے لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں۔ اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔

غلطی سے کسی کو قتل کر دینے کا کفارہ

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنْ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيماً حَكِيماً۔ (النساء 4:92)

کسی مومن کو یہ بات روا نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مومن کو قتل کرے سوائے اس کے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ تو جو شخص غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر بیٹھے وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو قانون کے مطابق دیت ادا کرے، سوائے اس کے کہ وہ معاف کر دیں۔

اگر وہ مقتول تمہاری دشمن قوم کا فرد ہے مگر مسلمان ہے تو اس کا کفارہ بھی ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے۔

اگر وہ کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جس کے اور تمہارے مابین معاہدہ ہے تو پھر بھی قانون کے مطابق اس کے وارثوں کو دیت کی ادائیگی اور مسلمان غلام آزاد کرنا ضروری ہے۔ جس کے پاس غلام نہ ہوں، اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اللہ سے توبہ کرتے ہوئے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

روزہ توڑنے کا کفارہ

ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے روزہ توڑنے پر بھی یہی کفارہ عائد کیا۔

حدثنا موسى: حدثنا إبراهيم: حدثنا ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن: أن أبا هريرة رضي الله عنه قال:أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: هلكت، وقعت على أهلي في رمضان، قال: (أعتق رقبة). قال: ليس لي، قال: (فصم شهرين متتابعين). قال: لا أستطيع، قال: (فأطعم ستين مسكيناً). قال: لا أجد، فأتي بعرق فيه تمر - قال إبراهيم: العرق المكتل - فقال: (أين السائل، تصدق بها). قال: على أفقر مني، والله ما بين لابتيها أهل بيت أفقر منا، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه، قال: (فأنتم إذاً). (بخاری، کتاب الادب، حديث 6087)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، "میں ہلاک ہو گیا۔ میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔" آپ نے فرمایا، "غلام آزاد کرو۔" وہ کہنے لگا، "میرے پاس کوئی غلام نہیں ہے۔" آپ نے فرمایا، "دو مہینے کے لگاتار روزے رکھو۔" وہ کہنے لگا، "مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے۔" آپ نے فرمایا، "پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔" وہ بولا، "میرے پاس یہ بھی تو نہیں ہے۔"

††††††††††† اسی اثنا میں آپ کے پاس کھجوروں کو ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا، "وہ سائل کہاں ہے؟" اسے ٹوکرا دے کر ارشاد فرمایا، "اسی کو صدقہ کر دو۔" وہ بولا، "مجھ سے زیادہ اور کون غریب ہو گا۔ اللہ کی قسم اس شہر کے دونوں کناروں کے درمیان میرے خاندان سے زیادہ غریب تو کوئی ہے نہیں۔" یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہنس پڑے اور آپ کے دانت ظاہر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا، "چلو تم ہی اسے لے جاؤ۔"

سورج گرہن پر غلاموں کی آزادی

اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر بھی غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔

حدثنا موسى بن مسعود: حدثنا زائدة بن قدامة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما قالت:أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالعتاقة في كسوف الشمس. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2519)

سیدہ اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔

اس بات کا اندازہ کرنا تو مشکل ہو گا کہ ان مذہبی احکام کے نتیجے میں کتنے غلام آزاد ہوئے البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام غلاموں کو آزاد کرنے سے کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔ عربوں کی معاشرت کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں قسم کھانے اور غصے میں بیوی کو ماں قرار دے لینے کے معاملات ہوتے ہی رہتے تھے۔ ایک حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ قسم توڑنے پر چالیس غلام آزاد فرمائے۔

قریبی رشتے دار غلام کی آزادی کا قانون

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا کہ اگر کوئی اپنے قریبی رشتہ دار جیسے ماں، باپ، بیٹے، بیٹی، بہن، بھائی وغیرہ کو غلام بنا دیکھے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ اگر کسی طریقے سے کوئی غلام اپنے ہی قریبی رشتے دار کی ملکیت میں آ جائے تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گا۔

أخبرنا إسحاق بن إبراهيم ، قال : حدثنا جرير عن سهيل ، عن أبيه ، عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى اللّه عليه وسلم لا يجزي ولد والدا إلا أن يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه . (سنن الکبری نسائی، کتاب العتق، حديث 4876)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کسی بیٹے کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے والدین کو غلام دیکھے تو انہیں خرید کر آزاد نہ کرے۔"

حدثنا مسلم بن إبراهيم وموسى بن إسماعيل قالا: ثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى اللّه عليه وسلم، وقال موسى في موضع آخر: عن سمرة بن جندب فيما يحسب حماد قال:قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم: "من ملك ذا رحمٍ محرمٍ فهو حرٌّ". (ابو داؤد، کتاب العتق، حديث 3949، ابن ماجة ، کتاب العتق، حديث 2326)

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جو کوئی اپنے ذی رحم کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا۔

اس بات کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ اس قانون کے تحت کتنے غلام آزاد ہوئے لیکن ان سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مختلف صورتوں میں غلام آزاد کرنے کی کس حد تک ترغیب دی ہے۔

وصیت کے ذریعے غلاموں کی آزادی کا قانون

بعض لوگ مرتے وقت یہ وصیت کر جایا کرتے تھے کہ ان کے غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔ ایسے غلام "مدبر" کہلایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے زیادہ پسند نہیں فرمایا بلکہ حکم دیا کہ غلام کو اپنی زندگی ہی میں جلد سے جلد آزاد کر دیا جائے۔

قال أخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو الأحوص ، عن أبي إسحاق ، عن أبي حبيبة ، عن أبي الدرداء أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الذي يعتق عند الموت كالذي يهدي بعدما شبع . (سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4873)

سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص بھی مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے، وہ تو اس شخص کی طرح ہے جو (گناہوں سے) اچھی طرح سیر ہونے کے بعد (نیکی کی طرف) ہدایت پاتا ہے۔

یہاں پر بعض لوگوں کو شاید یہ خیال گزرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود بھی تو مرض وفات میں چالیس غلاموں کو خرید کر آزاد کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان چالیس غلاموں سے ساری عمر خدمت لیتے رہے تھے اور عین وفات کے وقت نہیں آزاد فرما دیا تھا۔ آپ نے آخر وقت میں ان غلاموں کو خرید کر آزاد فرمایا۔

††††††††† اسلام کے قانون وراثت میں وصیت صرف ایک تہائی مال میں کرنے کی اجازت ہے اور دو تہائی مال کے بارے میں قرآن نے واضح طور پر مختلف وارثوں کے حصے مقرر کر دیے ہیں۔ بعض اوقات ایسی صورت پیش آ جاتی کہ ایک شخص نے غلاموں کی آزادی کے علاوہ اور بھی وصیتیں کر رکھی ہیں۔ ایسی صورت میں غلاموں کی آزادی کو فوقیت دی گئی۔ انہیں آزاد کرنے کے بعد اگر مالک کی جائیداد کے ایک تہائی حصے میں سے کچھ باقی بچتا تو اس سے وہ وصیتیں پوری کی جاتی تھیں ورنہ نہیں۔ اس ضمن میں اگرچہ کوئی مرفوع حدیث ہمیں نہیں مل سکی لیکن مسلمانوں کے بڑے اہل علم کا یہی نقطہ نظر رہا ہے۔

حدثنا الحسين بن بشر ثنا المعافى عن عثمان بن الأسود عن عطاء قال من أوصى أو أعتق فكان في وصيته عول دخل العول على أهل العتاقة وأهل الوصية قال عطاء ان أهل المدينة غلبونا يبدؤون بالعتاقة. (دارمی، کتاب الفرائض، حديث 3229)

عطاء کہتے ہیں، "جس نے غلام کی آزادی کے ساتھ ساتھ کوئی اور وصیت بھی کر دی اور وصیت کی مجموعی رقم میں عول داخل ہو گیا (یعنی مجموعی رقم ترکے کے تہائی حصے سے زیادہ ہو گئی) تو اہل مدینہ کی غالب اکثریت کا عمل یہ ہے کہ وہ غلاموں کی آزادی سے ابتدا کرتے ہیں۔

حدثنا المعلى بن أسد ثنا وهيب عن يونس عن الحسن في الرجل يوصي بأشياء ومنها العتق فيجاوز الثلث قال يبدأ بالعتق. (دارمی، کتاب الفرائض، حديث 3227)

حسن (بصری) نے ایسے شخص کے بارے میں، جس نے مختلف کاموں اور غلاموں کی آزادی کی وصیت کی تھی اور مجموعی رقم ایک تہائی سے زائد ہو گئی تھی، ارشاد فرمایا، "ابتدا غلاموں کی آزادی سے کی جائے گی۔"

حدثنا عبيد الله عن إسرائيل عن منصور عن إبراهيم قال يبدأ بالعتاقة قبل الوصية. (دارمی، کتاب الفرائض، حديث 3232)

ابراہیم (نخعی) کہتے ہیں کہ غلاموں کو آزادی وصیت (کے باقی معاملات) سے پہلے دی جائے گی۔

اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تابعین کے جلیل القدر ائمہ انسانی آزادی کو کس قدر اہمیت دیا کرتے تھے۔

اسلام قبول کرنے والے غلاموں کی آزادی کے اقدامات

دین اسلام میں مسلم اور غیر مسلم ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے غلام کو آزاد کرنے کو ثواب کا کام بتایا گیا ہے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں میں یہ صراحت موجود ہے کہ غیر مسلم غلام کو آزاد کرنا بھی ثواب کا کام ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل یہی رہا ہے کہ وہ غیر مسلم غلاموں کو بھی آزاد کیا کرتے تھے۔

††††††††† دنیا بھر کی اقوام کا یہ اصول ہے کہ کسی بھی نیکی یا بھلائی کے کام کا آغاز ہمیشہ اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم میں غرباء و مساکین پائے جاتے ہوں اور اس قوم کے امیر لوگ اپنی قوم کے غرباء کو چھوڑ کر دنیا کے دوسرے خطوں میں جا کر رفاہی کام کرنا شروع کر دیں تو یہ رویہ سب کے نزدیک قابل اعتراض ہی ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں غلام آزاد کرنے کے معاملے میں ترجیح انہی غلاموں کو دی گئی جو کہ اسلام قبول کر چکے ہوں۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی مکی زندگی میں مسلمانوں کو اقتدار حاصل نہ تھا۔ اس دور میں یہ طریق کار اختیار کیا گیا کہ جو غلام بھی اسلام قبول کرے، اسے صاحب ثروت مسلمان خرید کر آزاد کر دیں۔ یہ بات ہم تک تواتر سے منتقل ہوئی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دولت کا بڑا حصہ غلاموں کو آزاد کرنے پر صرف کیا گیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

حدثنا أبو نعيم: حدثنا عبد العزيز بن أبي سلمة، عن محمد بن المنكدر: أخبرنا جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال:كان عمر يقول: أبو بكر سيدنا، وأعتق سيدنا. يعني بلالا. (بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3754)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے، "ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا تھا۔"

مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مسلمانوں کی ایک حکومت قائم ہو گئی تھی جس کے سربراہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تھے۔ اس دور میں مسلمان ہونے والے غلاموں کو نہ صرف خرید کر آزاد کرنے کے لئے زکوۃ فنڈ کو استعمال کیا گیا بلکہ پورے عرب سے ہجرت کر کے مدینہ آنے والے غلاموں کے لئے یہ قانون بنا دیا گیا۔

حدثنا إبراهيم بن موسى: أخبرنا هشام، عن ابن جريج، وقال عطاء، عن ابن عباس: كان المشركون على منزلتين من النبي صلى الله عليه وسلم والمؤمنين: كانوا مشركي أهل حرب، يقاتلهم ويقاتلونه، ومشركي أهل عهد، لا يقاتلهم ولا يقاتلونه، وكان إذا هاجرت امرأة من أهل الحرب لم تخطب حتى تحيض وتطهر، فإذا طهرت حل لها النكاح، فإن هاجر زوجها قبل أن تنكح ردت إليه، وأن هاجر عبد منهم أو أمة فهما حران ولهما ما للمهاجرين، ثم ذكر من أهل العهد مثل حديث مجاهد: وأن هاجر عبد أو أمة للمشركين أهل عهد لم يردوا، وردت أثمانهم. (بخاری، کتاب النکاح، حديث 5286)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور مومنین کا مشرکین سے معاملہ دو طرح کا تھا۔ بعض مشرکین "اہل حرب" تھے۔ وہ مسلمانوں سے جنگ کرتے اور مسلمان ان سے جنگ کرتے۔ دوسری قسم کے مشرکین "اہل عہد" تھے۔ نہ تو وہ مسلمانوں سے جنگ کرتے اور نہ ہی مسلمان ان سے جنگ کرتے۔ اگر اہل حرب کی کوئی خاتون (مسلمان ہو کر) ہجرت کرتیں تو انہیں حیض آنے اور پھر پاک ہونے تک نکاح کا پیغام نہ بھیجا جاتا تھا۔ جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان کے لئے نکاح کرنا جائز ہو جاتا تھا۔ اگر نکاح کرنے سے پہلے ان کا خاوند بھی (مسلمان ہو کر) ہجرت کر کے آ پہنچتا تو ان کا رشتہ برقرار رکھا جاتا۔

اگر اہل حرب کے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتے تو انہیں آزاد قرار دے دیا جاتا اور ان کا درجہ مہاجرین کے برابر ہوتا۔۔۔۔اور اگر اہل عہد کے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتے تو انہیں واپس لوٹایا نہ جاتا بلکہ ان کی قیمت ان کے مالکان کو بھیج دی جاتی۔

اسی اصول پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر صلح کا معاہدہ طے پا جانے سے پہلے آنے والے دو غلاموں کو آزادی عطا فرمائی۔

حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحرَّاني، قال: حدثني محمد يعني ابن سلمة عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن منصور بن المعتمر، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن عليّ بن أبي طالب قال: خرج عِبْدَانٌ إلى رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم يعني يوم الحديبية قبل الصلح، فكتب إليه مواليهم فقالوا: يامحمد، واللّه ما خرجوا إليك رغبة في دينك، وإنما خرجوا هرباً من الرِّق، فقال ناس: صدقوا يارسول اللّه رُدَّهم إليهم، فغضب رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم وقال: "ما أراكم تنتهون يا معشر قريشٍ حتى يبعث اللّه [عزوجل] عليكم من يضرب رقابكم على هذا" وأبى أن يردَّهم، وقال: "هم عتقاء اللّه عزوجل". (ابو داؤد، کتاب الجهاد، حديث 2700)

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے (اہل مکہ کے) دو غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آ گئے۔ ان کے مالکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو خط لکھا اور کہا، "اے محمد! خدا کی قسم یہ آپ کے دین سے رغبت کے باعث آپ کے پاس نہیں آئے۔ یہ تو محض آزادی حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں۔"

لوگ کہنے لگے، "یا رسول اللہ! ان کے مالک درست کہہ رہے ہیں۔ آپ انہیں واپس بھجوا دیجیے۔" رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اس بات پر سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے، "اے گروہ قریش! میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کام (یعنی غلامی کو برقرار رکھنے) سے اس وقت تک باز نہ آؤ گے جب تک کہ اللہ عزوجل تمہاری طرف کسی ایسے کو نہ بھیجے جو تمہاری گردنوں پر اس کی پاداش میں ضرب لگائے۔" آپ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا، "وہ اللہ عزوجل کی رضا کے لئے آزاد ہیں۔"

اسی اصول پر آپ نے طائف کے محاصرے کے وقت اعلان فرما دیا تھا کہ اہل طائف کے غلاموں میں سے جو آزادی کا طالب ہو، وہ ہماری طرف آ جائے۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا يحيى بن زكريا حدثنا الحجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: لما حاصر رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الطائف أعتق من رقيقهم. (مسند احمد، باب عبدالله بن عباس، مصنف ابن ابی شيبة، حديث 34283)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اھل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے غلاموں میں سے (ان غلاموں کو جو مسلمانوں کی طرف آ گئے تھے) آزاد فرما دیا۔

مشہور مستشرق ولیم میور اس اعلان کے بارے میں لکھتے ہیں:

آپ نے محصورین کے پاس ایک اعلان بھیجا جس سے وہ لوگ بہت ناراض ہوئے۔ اس اعلان کا مضمون یہ تھا کہ اگر شہر سے کوئی غلام ہمارے پاس آئے گا تو اسے آزاد کر دیا جائے گا۔ تقریباً بیس غلاموں نے اس اعلان سے فائدہ اٹھایا اور وہ اپنے آزادی دینے والے کے سچے اور بہادر پیرو ثابت ہوئے۔(ولیم میور، The life of Mohamet)

مشہور مورخ بلاذری نے "فتوح البلدان" میں ان میں سے بعض غلاموں کے نام بیان کئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابوبکرہ نقیع بن مسروح رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ بکرہ عربی میں چرخی (Pulley) کو کہتے ہیں۔ انہیں یہ نام اس لئے دیا گیا کہ یہ قلعے کی دیوار پر موجود چرخی کے رسے سے لٹک کر نیچے اترے تھے۔ ان میں ایک رومی لوہار ابو نافع بن الازرق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

††††††††† ایسے تمام غلاموں کو درجہ بلند کرنے کے لئے ان کی ولاء کا تعلق بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے قائم کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سب کے سب غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اپنے خاندان میں شامل کر لئے گئے۔ اس کی تفصیل ہم "ولاء" کی بحث میں بیان کریں گے۔

††††††††† بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے ہاں یہ رسم رائج ہو گئی کہ جو غلام اسلام قبول کر لیتا، وہ اسے اس کے مالکان سے خرید کر آزاد کر دیا کرتے تھے۔ اس طریقے سے بے شمار غلاموں نے آزادی حاصل کی۔

ثم ذكر البيهقى لقصة منام شاهدا من طريق الاعمش ، عن أبى وائل ، عن عبدالله ، وأنه كان من جملة ما جاء به عبيد فأتى بهم أبا بكر ، فلما رد الجميع عليه رجع بهم ثم قام يصلى فقاموا كلهم يصلون معه . فلما انصرف قال : لمن صليتم ؟ قالوا : لله . قال : فأنتم له عتقاء . فأعتقهم . (ابن كثير، سيرة النبوية)

عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جو غلام لئے گئے ان میں سے میں بھی تھا۔ جب سب غلام ان کے سامنے پیش کئے گئے تو وہ ان سے ہٹ کر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ یہ سب غلام بھی ان کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ نماز کے بعد ابوبکر ان کی طرف مڑے اور پوچھا، "تم نے کس کے لئے نماز پڑھی ہے؟" وہ بولے، "اللہ کے لئے۔" آپ نے فرمایا، "پھر تم اسی کے لئے آزاد ہو۔" یہ کہہ کر آپ نے ان سب کو آزاد کر دیا۔

حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لاَ يَسْتَرِقَّ كَافِرٌ مُسْلِمًا. (مصنف ابن ابی شيبة، كتاب الجهاد، حديث 23290)

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ (مسلمانوں میں) یہ معمول کی بات ہے کہ مسلمان کو غیر مسلم کا غلام نہیں بننے دیا جاتا۔

انیسویں صدی کے مستشرق جارج بش لکھتے ہیں:

It has hence become a standing rule among his followers always to grant their freedom to such of their slaves as embrace the religion ofthe prophet. (George Bush A.M., Life of Mohammed)

(محمد کے) پیروکاروں میں یہ مستقل دستور بن گیا کہ ان کے غلاموں میں سے جو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو، اسے آزاد کر دیا جائے۔

جے ایم وڈنی لکھتے ہیں:

The absolute equality of all men. In theory at least, it knows neither high nor low, rich nor poor ; all stand upon the same level. The strong tie of a common brotherhood. Caste disappears at its touch. Early Christianity possessed somewhat of this, yet not to the same degree. "La Ilaha il Allah" and the slave was free. (J. M. Widney; The Genesis of Evolution of Islam & Judaeo - Christianity)

(اسلام میں) تمام انسانوں کو مستقلاً برابر قرار دیا گیا ہے۔ کم سے کم نظریاتی طور پر، بلند و پست، امیر و غریب سب ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں۔ مشترکہ بھائی چارے کا رشتہ بہت ہی مضبوط ہے۔ ذات و نسل سرے سے ہی مفقود ہے۔ ابتدائی دور کی عیسائیت میں بھی اگر اسی درجے میں نہ سی، لیکن کسی حد تک یہی چیز موجود ہے۔ "لا الہ الا اللہ" کہا اور غلام آزاد ہو گیا۔

 

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability