بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 8: غلاموں کا اسٹیٹس بہتر بنانے کے اقدامات (1)

دین اسلام نے غلاموں کو آزادی عطا کرنے کے لئے جو اقدامات کئے، ان کے نتائج فوری طور پر برآمد ہونا ممکن نہ تھا۔ غلامی کی جڑیں پوری دنیا کے معاشروں میں اتنی گہری تھیں کہ اسے ختم کرنے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ضمن میں دین اسلام نے تدریجی اصلاح کا طریقہ اختیار کیا۔

          انقلابی تبدیلیوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جہاں ایک برائی کو ختم کرتی ہیں وہاں دسیوں نئی برائیوں کو جنم دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے برائیوں کے خاتمے کے لئے بالعموم "انقلاب (Revolution)" کی بجائے "تدریجی اصلاح (Evolution)" کا طریقہ اختیار کیا۔

          حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں غلاموں کی حیثیت بالکل آج کے زمانے کے ملازمین کی تھی جن پر پوری معیشت کا دارومدار تھا۔ غلامی کے خاتمے کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لئے اگر درج ذیل مثال پر غور کیا جائے تو بات کو سمجھنا بہت آسان ہوگا۔

          موجودہ دور میں بہت سے مالکان (Employers) اپنے ملازمین (Employees) کا استحصال کرتے ہیں۔ ان سے طویل اوقات تک بلامعاوضہ کام کرواتے ہیں، کم سے کم تنخواہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، بسا اوقات ان کی تنخواہیں روک لیتے ہیں، خواتین ملازموں کو بہت مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ 

          ان حالات میں آپ ایک مصلح ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دنیا سے ملازمت کا خاتمہ ہوجائے اور تمام لوگ آزادانہ اپنا کاروبار کرنے کے قابل (Self Employed) ہو جائیں۔ آپ نہ صرف ایک مصلح ہیں بلکہ آپ کے پاس دنیا کے وسیع و عریض خطے کا اقتدار بھی موجود ہے اور آپ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ان حالات میں آپ کا پہلا قدم کیا ہوگا؟ کیا آپ  یہ قانون بنا دیں گے کہ آج سے تمام ملازمین فارغ ہیں اور آج کے بعد کسی کے لئے دوسرے کو ملازم رکھنا ایک قابل تعزیر جرم ہے ؟

          اگر آپ ایسا قانون بنائیں گے تو اس کے نتیجے میں کروڑوں بے روزگار وجود پذیر ہوں گے۔ یہ بے روزگار یقینا روٹی ، کپڑے اور مکان کے حصول کے لئے چوری ، ڈاکہ زنی ، بھیک اور جسم فروشی کا راستہ اختیار کریں گے۔  جس کے نتیجے میں پورے معاشرے کا نظام تلپٹ ہوجائے گا اور ایک برائی کو ختم کرنے کی انقلابی کوشش کے نتیجے میں ایک ہزار برائیاں پیدا ہوجائیں گی۔

          یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملازمت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تدریجی اصلاح کا طریقہ ہی کارآمد ہے۔ اس طریقے کے مطابق مالک و ملازم کے تعلق کی بجائے کوئی نیا تعلق پیدا کیا جائے گا۔ لوگوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے گا وہ اپنے کاروبار کو ترجیح دیں۔ انہیں کاروبار کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ جو لوگ اس میں آگے بڑھیں، انہیں بلا سود قرضے دیے جائیں گے اور تدریجاً تمام لوگوں کو 8 گھنٹے کی غلامی سے نجات دلا کر مکمل آزاد کیا جائے گا۔ (واضح رہے کہ کارل مارکس اس مسئلے کا ایک حل ’’کمیونزم ‘‘ پیش کرچکے ہیں اور دنیا کے ایک بڑے حصے نے اس کا تجربہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے جو ناکام رہا۔)

          عین ممکن ہے کہ اس سارے عمل میں صدیاں لگ جائیں۔ ایک ہزار سال کے بعد، جب دنیا اس مسئلے کو حل کرچکی ہو تو ان میں سے بہت سے لوگ اس مصلح پر تنقید کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا، ویسا کیوں کیا مگر اس دور کے انصاف پسند یہ ضرور کہیں گے کہ اس عظیم مصلح نے اس مسئلے کے حل کے لئے ابتدائی اقدامات ضرور کئے تھے۔

          اب اسی مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم کے دور پر غور کیجیے۔ اسلام غلامی کا آغاز کرنے والا نہیں تھا۔ غلامی اسے ورثے میں ملی تھی۔ اسلام کو اس مسئلے سے نمٹنا تھا۔  عرب میں بلامبالغہ ہزاروں غلام موجود تھے۔ جب فتوحات کے نتیجے میں ایران ، شام  اور مصر کی مملکتیں مسلمانوں کے پاس آئیں تو ان غلاموں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی۔ اگر ان سب غلاموں کو ایک ہی دن میں آزاد کر دیا جاتا تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلتا کہ کروڑوں کی تعداد میں طوائفیں، ڈاکو، چور اور بھکاری وجود میں آ جاتے جنہیں سنبھالنا شاید کسی کے بس کی بات نہ ہوتی۔

          اس صورتحال میں اس کے سوا اور کوئی حل نہ تھا کہ غلامی کو کچھ عرصے کے لئے برداشت کر لیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ غلاموں کو آزاد کرنے کی تحریک چلائی جائے۔ اس عرصے کے دوران جو لوگ غلامی کی حالت میں موجود ہیں، ان کے لئے قانونی اور سماجی نوعیت کی ایسی اصلاحات (Reforms) کر دی جائیں جس کے نتیجے میں ان لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے اور انہیں معاشرے میں پہلے کی نسبت بہتر مقام مل سکے۔

اس ضمن میں جو اصلاحات کی گئیں، انہیں ہم ان عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں:

·       غلاموں کی عزت نفس سے متعلق اصلاحات

·       غلاموں سے حسن سلوک

·       غلاموں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی

·       مالک کے معیار زندگی کے مطابق خوراک کی فراہمی

·       مالک کے معیار زندگی کے مطابق لباس کی فراہمی

·       مالک کے معیار زندگی کے مطابق علاج کی فراہمی

·       غلام کی طاقت و صلاحیت کے مطابق کام اور اس میں مالک سے مدد کا حصول

·       غلاموں پر ہر قسم کے تشدد کی ممانعت

·       غلاموں کے ازدواجی حقوق

·       شادی کا حق

·       طلاق کا حق

·       آزاد خاتون سے شادی کرنے اور طلاق دینے کا حق

·       اپنی فیملی کو اپنے ساتھ رکھنے کا حق

·       غلاموں کے قانونی حقوق

·       غلام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا حق

·       مالک پر عدالت میں مقدمہ کرنے کا حق

·       گواہی دینے کا حق

·       مال رکھنے کا حق

·       مال غنیمت میں حصہ لینے کا حق

·       جرم کرنے کی صورت میں نصف سزا

·       غلاموں کے سیاسی حقوق

·       آقا اور غلام کے تعلقات میں بہتری

·       غلاموں کی خرید و فروخت سے متعلق اصلاحات

·       نیم غلام طبقوں سے متعلق اصلاحات

اب ہم ان کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔

غلاموں کی عزت نفس سے متعلق اصلاحات

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلام سے قبل کے زمانے میں غلاموں کو اپنے آقاؤں کی نسبت کمتر مخلوق خیال کیا جاتا تھا۔ عرب میں تو آقا کو "رب" اور غلام کو "عبد" کہا جاتا تھا جس کے معنی ہی پالنے والے یعنی خدا اور بندے کے ہیں۔ دین اسلام نے ان تمام تصورات کو پاش پاش کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ امیر و غریب اور آقا و غلام سب خدا کے بندے ہیں۔ یہ سب ایک ہی باپ اور ماں کی اولاد ہیں۔ ان میں سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے نزدیک وہی افضل ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کے احکام کی پابندیاں کرنے والا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. (الحجرات 49:13)

اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور (اس کے بعد محض) تعارف کے لئے تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا۔ تم سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ بے شک اللہ علیم و خبیر ہے۔

اسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بار بار بیان فرمایا۔ امت مسلمہ کے سب سے بڑے اجتماع سے اپنے آخری خطاب میں بھی آپ نے ارشاد فرمایا:

أيها الناس إن ربكم واحد وإن أباكم واحد كلكم لآدم وآدم من تراب أكرمكم عند الله اتقاكم، وليس لعربي على عجمي فضل إلا بالتقوى۔

اے انسانو! تم سب ایک ہی رب کے بندے اور ایک ہی باپ آدم کی اولاد ہو اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر سوائے تقوی کے اور کوئی فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی۔

مساوات کے اسی اصول کی بنیاد کی بنیاد پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کو "عبد" اور آقا کو "رب" کہلائے جانے سے منع فرما دیا۔

حدثنا محمد: حدثنا عبد الرزاق: أخبرنا معمر، عن همام بن منبه: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: لا يقل أحدكم: أطعم ربك، وضئ ربك، اسق ربك، وليقل: سيدي مولاي، ولا يقل أحدكم: عبدي أمتي، وليقل: فتاي وفتاتي وغلامي۔ (بخاری، کتاب العتق، حديث 2552)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی (اپنے غلام سے) یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کرواؤ، اپنے رب کو پانی پلاؤ بلکہ یہ کہا کرو کہ میرے سردار یا میرے مولا۔ (اسی طرح) تم میں سے کوئی (اپنے غلام کو) اپنا بندہ یا بندی نہ کہا کرے بلکہ وہ اسے میرا بیٹا، میری بیٹی یا میرا لڑکا کہے۔

کہنے کو تو یہ محض الفاظ کی تبدیلی تھی لیکن اس کے اثرات نہایت ہی دور رس تھے۔ اس تبدیلی نے آقا اور غلام دونوں کی ذہنیت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں ہی کو یہ معلوم ہو گیا کہ ہم اللہ کے نزدیک ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ صرف دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے کا ماتحت ہے اور ہمیں دنیا میں اس تعلق کو بھی اس طریقے سے نبھانا چاہیے کہ غلام، آقا کو اپنے باپ کا درجہ دے اور آقا غلام کو بیٹا یا بیٹی سمجھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

فأرشد صلى الله عليه وسلم إلى ما يؤدي المعنى مع السلامة من التعاظم لأن لفظ التي والغلام ليس دالا على محض الملك كدلالة العبد فقد كثر استعمال الفتى في الحر وكذلك الغلام والجارية۔ (فتح الباری شرح بخاری، کتاب العتق)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ ایسے الفاظ میں معنی ادا کئے جائیں جو تکبر سے پاک ہوں۔ (عربی میں) لفظ "غلام (یعنی لڑکا)" ملکیت پر دلالت نہیں کرتا جیسا کہ لفظ "عبد" کرتا ہے۔ لفظ الفتی (یعنی بیٹا) ، غلام (لڑکا)، جاریہ (لڑکی) کے الفاظ آزاد لوگوں کے لئے بھی بکثرت استعمال کئے جاتے ہیں۔

غلام کو جو حقوق دیے گئے، اگر ان کی تفصیل دیکھی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان حقوق نے بھی غلاموں اور ان کے آقاؤں میں ایک بڑی نفسیاتی تبدیلی پیدا کی۔ چونکہ غلاموں کو بھی اتنا ہی انسان تسلیم کر لیا گیا تھا جتنے کہ ان کے آقا تھے، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خصوصی طور پر انہیں کچھ حقوق عطا فرمائے۔ یہ حقوق ایسے تھے کہ ان کی بدولت غلام اور آزاد کے اسٹیٹس میں زیادہ فرق باقی نہ رہ گیا۔

غلاموں سے حسن سلوک کا حکم

مسلمانوں کی ذہنیت کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں اس بات کا پابند کر دیا گیا کہ وہ غلاموں سے اچھا سلوک کریں اور اپنے دوسروں کے مقابلے میں بالعموم اور غلاموں کے مقابلے میں بالخصوص تکبر نہ کریں۔

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالاً فَخُوراً  (النساء 4:36)

اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ والدین، رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، پڑوسی رشتے داروں، ساتھ والے پڑوسیوں، دیگر ساتھیوں، مسافروں اور غلاموں سے اچھا سلوک کرو۔ اللہ کسی غرور کرنے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا۔ 

ذہنیت کی اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ غلاموں کو اپنے اسٹیٹس تک لانے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش انہیں آزاد کر کے بھی ہو سکتی ہے اور جب تک وہ غلام ہیں، ان کی حالت بہتر بنا کر بھی ہو سکتی ہے۔

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ ۔ (النحل 16:71)

اللہ نے تم میں سے بعض کو دیگر پر رزق کے معاملے میں بہتر بنایا ہے۔ تو ایسا کیوں نہیں ہے کہ جو رزق کے معاملے میں فوقیت رکھتے ہیں وہ اسے غلاموں کو منتقل کر دیں تاکہ وہ ان کے برابر آ سکیں۔ تو کیا اللہ کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو غلاموں کے حقوق کا اس حد تک خیال تھا کہ نزع کے عالم میں بھی آپ نے ان کے حقوق ادا کرنے اور ان سے حسن سلوک کرنے کی تلقین فرمائی۔

حدّثنا أَحْمَدُ بْنُ المِقْدَامِ. ثنا المُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانُ. سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولُ اللَهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَضَرَتْهُ الوَفَاةُ، وَهُوَ يُغَرْغِرُ بِنَفْسِهِ ((الصلاةَ. وَمَامَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ)). (ابن ماجة، کتاب الوصايا، حديث 2697)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات کا وقت آن پہنچا اور آپ کی روح نکالی جا رہی تھی، اس وقت آپ نے وصیت فرمائی، "نماز اور تمہارے غلام۔"

غلاموں کی بنیادی ضروریات اور ان پر کام کا بوجھ لادنے کی ممانعت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قرآن مجید کی انہی آیات پر عمل کرتے ہوئے غلاموں کو جو معاشرتی اور معاشی حقوق عطا کئے، ان میں سرفہرست یہ ہے کہ آقاؤں پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ غلاموں کی تمام ضروریات پوری کرنے کے اسی طرح پابند ہیں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ غلاموں سے صرف اتنا ہی کام لے سکتے ہیں، جتنا کام کرنے کی ان میں طاقت اور صلاحیت موجود ہے۔

غلام کی بنیادی ضروریات

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : « لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَلاَ يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا يُطِيقُ »۔ (موطاء مالک، کتاب الجامع، حديث 2806، مسلم، کتاب الايمان، حديث 4316)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "غلام کے لئے دستور کے مطابق کھانا اور لباس کی فراہمی (مالک کی) ذمہ داری ہے۔ اس پر کام کا بوجھ صرف اتنا ہی لادا جائے گا جتنی کہ اس میں طاقت ہے۔

ایک اور حدیث میں ان حقوق کی مزید تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے صحابہ کو غلاموں کے حقوق سے متعلق کیسے تربیت دیا کرتے تھے اور اس کا آپ کے صحابہ پر کیا اثر ہوا کرتا تھا۔

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة. حدثنا وكيع. حدثنا الأعمش عن المعرور بن سويد. قال:  مررنا بأبي ذر بالربذة. وعليه برد وعلى غلامه مثله. فقلنا يا أبا ذر! لو جمعت بينهما كانت حلة. فقال: إنه كان بيني وبين الرجل من إخوتي كلام. وكانت أمه أعجمية. فعيرته بأمه. فشكاني إلى النبي صلى الله عليه وسلم. فلقيت النبي صلى الله عليه وسلم. فقال (يا أبا ذر! إنك امرؤ فيك جاهلية). قلت: يا رسول الله! من سب الرجال سبوا أباه وأمه. قال (يا أبا ذر! إنك امرؤ فيك جاهلية. هم إخوانكم. جعلهم الله تحت أيديهم. فأطعموهم مما تأكلون. وألبسوهم مما تلبسون. ولا  تكلفوهم ما يغلبهم. فإن كلفتموهم فأعينوهم)۔ (مسلم، کتاب الايمان، حديث 4313)

معرور بن سعید کہتے ہیں کہ ہم لوگ (دوران سفر) ربذہ سے گزرے جہاں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ قیام پذیر تھے۔ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی ہے اور بالکل ویسی ہی چادر ان کے غلام نے اوڑھ رکھی ہے۔ ہم نے کہا، "ابے ابوذر! اگر آپ یہ دونوں چادریں لے لیتے تو آپ کا لباس مکمل ہو جاتا۔" انہوں نے فرمایا، "مجھ میں اور میرے ایک (غلام) بھائی میں کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی۔ ان کی والدہ عجمی تھیں۔ میں نے ان کی والدہ سے متعلق انہیں طعنہ دے دیا تھا۔ انہوں نے اس کی شکایت نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کی۔ جب میں آپ نے ملا تو آپ نے فرمایا تھا۔'اے ابوذر! تم میں تو ابھی جاہلیت کا اثر باقی ہے۔'

       میں نے عرض کیا، 'یا رسول اللہ! اگر کوئی کسی کو برا بھلا کہے گا تو وہ اس کے ماں باپ کو برا کہے گا۔' آپ نے فرمایا، 'اے ابوذر!تم میں جاہلیت کا اثر باقی ہے (کہ اگر تمہیں کوئی برا کہے تو تم بھی اسے ہی کہو نہ کہ اس کے ماں باپ کو۔)  یہ (غلام) تو تمہارے بھائی ہیں۔ انہیں اللہ تعالی نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور انہیں وہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔ ان پر کام کا اتنا بوجھ نہ لادو جس کی ان میں طاقت نہ ہو اور اگر کام سخت ہو تو پھر خود اس میں ان کی مدد کرو۔' "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ و اہل بیت غلاموں کی ضروریات کا خیال کس طرح رکھا کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ ملاحظہ فرما چکے۔ دوسری مثال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قائم کی۔

حدثنا أبو نعيم: حدثنا عبد الواحد بن أيمن قال: حدثني أبي قال:  دخلت على عائشة رضي الله عنها، وعليها درع قطر، ثمن خمسة دراهم، فقالت: ارفع بصرك إلى جاريتي انظر إليها، فإنها تزهى أن تلبسه في البيت، وقد كان لي منهن درع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما كانت امرأة تقين بالمدينة إلا أرسلت إلي تستعيره. (بخاری، کتاب الهبة، حديث 2628)

ایمن کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا۔ آپ نے قطر (یمن کا ایک کھردرا کپڑا) کا لباس پہن رکھا تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ آپ فرمانے لگیں، "میری اس لڑکی کو تو دیکھو، یہ اس لباس کو گھر میں پہننے سے بھی انکار کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس ایسی ایک ہی قمیص تھی۔ مدینہ میں جس عورت کی بھی شادی ہوتی، وہ مجھ سے اس قمیص کو ادھار مانگ لیتی (اور شادی کے بعد واپس کر جاتی۔)

سیدہ نے اپنی لونڈی پر یہ جبر نہیں کیا کہ جو لباس میں پہن رہی ہوں تم اسے پہننے سے کیوں انکار کرتی ہو بلکہ اس کے نخرے برداشت کئے اور اسے اپنے سے بھی بہتر لباس پہننے کو دیا۔

غلاموں پر کام کا بوجھ لادنے کی ممانعت

اوپر بیان کردہ احادیث سے واضح ہے کہ کسی غلام سے اتنا ہی کام اور وہی کام لیا جا سکتا ہے جو اس کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے مطابق ہو۔ اگر وہ کوئی کام سر انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مالک پر لازم ہے کہ وہ خود اس کی مدد کرے۔ ایسے مالک کو اللہ تعالی بہت اجر سے نوازے گا۔

أخبرنا أبو يعلى قال حدثنا أبو خيثمة قال حدثنا عبد الله بن يزيد قال حدثني سعيد بن أبي أيوب قال حدثني أبو هانئ قال حدثني عمرو بن حريث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما خففت عن خادمك من عمله كان لك اجرا في موازينك. (صحيح ابن حبان، حديث 4314)

عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جو اپنے خادم کے کام میں کمی کرتا ہے، اسے اس کا اجر اپنے اعمال کے وزن کے وقت ملے گا۔"

امام شافعی غلام پر بوجھ لادنے سے متعلق ہوئے فرماتے ہیں:

قال شافعی: و معنی قولہ "لا یکلف من العمل الا ما یطیق" یعنی ۔۔ واللہ اعلم ۔۔: الا ما یطیق الدوام علیہ، لاما یطیق یوما اور یومین، او ثلاثہ، و نحو ذلک ثم یعجز۔ و جملۃ ذلک ما لا یضر ببدنہ الضرر البین، فان عمی او زمن، انفق علیہ مولاہ، و لیس لہ ان یسترضع الامۃ غیر ولدھا الا ان یکون فیہا فضل عن ربہ، او یکون ولدھا یغتذی بالطعام، فیقیم بدنہ، فلا باس بہ۔ (بغوی، شرح السنۃ، کتاب النکاح)

شافعی کہتے ہیں، اس ارشاد کہ "غلام پر کام کا اتنا ہی بوجھ لادا جائے جس کی وہ طاقت رکھتا ہے۔" کا معنی یہ ہے، (اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے) کہ اس سے ایسا کام نہ لیا جائے جس کا ہمیشہ کرتے رہنا اس کے لئے ممکن نہ ہو۔ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ ایک، دو یا تین دن کسی کام کو تو کر لے اور اس کے بعد (بیمار پڑ کر) اس سے عاجز آ جائے۔ اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جن کے نتیجے میں اس کی صحت کو واضح نقصان پہنچ سکتا ہو جیسے وہ کسی کام کے نتیجے میں نابینا ہو جائے یا بیمار پڑ جائے۔

(بیماری کی صورت میں) مالک پر لازم ہے کہ وہ اس پر خرچ کرے۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی لونڈی کو اپنے بچے کے علاوہ دوسرے کسی بچے کو دودھ پلانے پر مجبور نہ کیا جائے سوائے اس کے کہ اس پر اپنے رب کا فضل ہو (یعنی ایک بچے کی ضرورت سے زیادہ دودھ اترتا ہو)، یا پھر اس کا اپنا بچہ کچھ اور کھا کر نشوونما پا رہا ہو (اور اس کا دودھ فالتو ہو گیا ہو) تو پھر کسی اور کے بچے کو دودھ پلانے میں حرج نہیں ہے۔

بنیادی ضروریات کی فراہمی میں حکومت اور معاشرے کا کردار

کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ ان حقوق کی تلقین محض اخلاقی نوعیت کی تھی۔ اگر ایسا بھی ہوتا تب بھی صحابہ کرام کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حکم ہی کافی تھا، لیکن ان حقوق کو قانونی طور پر بھی نافذ کر دیا گیا۔ اس کی تفصیل ان روایات میں بیان کی گئی ہے۔

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْعَوَالِي كُلَّ يَوْمِ سَبْتٍ، فَإِذَا وَجَدَ عَبْداً فِي عَمَلٍ لاَ يُطِيقُهُ، وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ۔ (موطاء مالک، کتاب الجامع، حديث 2807)

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر ہفتے کے دن مدینہ کے گرد و نواح میں (واقع کھیتوں وغیرہ) میں جایا کرتے اور اگر انہیں کوئی ایسا غلام مل جاتا جو اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کر رہا ہوتا تو آپ اس کا بوجھ کم کروا دیتے۔

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : لاَ تُكَلِّفُوا الأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْكَسْبَ, فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهَا ذَلِكَ كَسَبَتْ بِفَرْجِهَا، وَلاَ تُكَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْكَسْبَ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَرَقَ، وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّكُمُ اللَّهُ، وَعَلَيْكُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْهَا۔ (موطاء مالک، کتاب الجامع، حديث 2808)

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا، "اگر تمہاری لونڈیاں کوئی ہنر نہ جانتی ہوں تو انہیں کمانے کے لئے مت کہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اس کے نتیجے میں وہ عصمت فروشی کرنا شروع کر دیں گی۔ بچوں کو بھی کمانے کے لئے مت کہو کیونکہ اگر انہیں روزگار نہ ملے گا تو وہ چوری شروع کر دیں گے۔ ان سے مہربانی کا سلوک کرو کیونکہ اللہ نے تم سے مہربانی کی ہے۔ تم پر یہ لازم ہے کہ انہیں خوراک اور علاج کی سہولیات مہیا کرو۔

غلاموں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے مالکوں کے مال میں سے رواج کے مطابق بنیادی ضروریات کا سامان لے سکتے تھے۔

عبد الرزاق عن بن جريج قال سمعت نافعا يحدث أن عبد الله بن عمر يقول إن المملوك لا يجوز له أن يعطي من ماله أحدا شيئا ولا يعتق ولا يتصدق منه بشيء إلا بإذن سيده ولكنه يأكل بالمعروف ويكتسي هو وولده وامرأته. (مستدرک حاکم؛ حديث 2856)

نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے، "غلام کو اس کی اجازت تو نہیں ہے کہ وہ اپنے مالک کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی چیز دے یا مالک کا غلام آزاد کرے یا اس میں سے صدقہ کرے۔ لیکن اسے دستور کے مطابق اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے خوراک اور کپڑا لینے کا حق حاصل ہے۔"

غلاموں کے ان حقوق کا تقدس اس درجے کا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حقوق فراہم نہ کرنے والے مالک پر غلام کے جرم کی سزا نافذ کی۔

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَقِيقاً لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَمَرَ عُمَرُ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ. ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لأُغَرِّمَنَّكَ غُرْماً يَشُقُّ عَلَيْكَ. ثُمَّ قَالَ : لِلْمُزَنِيِّ كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ ؟ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ : قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِئَةِ دِرْهَمٍ. فَقَالَ عُمَرُ : أَعْطِهِ ثَمَانَ مِئَةِ دِرْهَمٍ۔ (موطاء مالک، کتاب الاقضية، حديث 2178)

عبدالرحمٰن بن حاطب بیان کرتے ہیں کہ (ان کے والد) حاطب کے ایک غلام نے بنو مزینہ کے کسی شخص کی اونٹنی چرا کر اسے ذبح کر (کے کھا گیا۔) یہ معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کی عدالت میں) لایا گیا۔ (پہلے) سیدنا عمر نے کثیر بن الصلت کو اس غلام کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا لیکن پھر (آقا سے) ارشاد فرمایا، "مجھے لگتا ہے تم انہیں بھوکا رکھتے ہو۔" پھر فرمایا، "اللہ کی قسم! میں تم پر ایسا جرمانہ عائد کروں گا جو تمہیں ناگوار گزرے گا۔" اس کے بعد بنو مزینہ کے اس مدعی سے پوچھا، "تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہے؟" اس نے کہا، "واللہ میں نے تو اس کے چار سو درہم قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آقا سے فرمایا، "اسے آٹھ سو درہم ادا کر دو۔"

غلام کو ساتھ بٹھا کر کھانے کا حکم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حکم دیا کہ اگر غلام کھانا بنا کر لائے تو مالک اسے ساتھ بٹھا کر کھلائے۔

وحدثنا القعنبي. حدثنا داود بن قيس عن موسى بن يسار، عن أبي هريرة. قال:  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (إذا صنع لأحدكم خادمه طعامه ثم جاءه به، وفقد ولى حره ودخانه، فلقعده معه. فليأكل. فإن كان الطعام مشفوها قليلا، فليضع في يده منه أكلة أو أكلتين۔ قال داود: يعني لقمة أو لقمتين. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2556، مسلم کتاب الايمان، حديث 4317)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جب تمہارا کوئی خادم کھانا پکائے اور اسے لے کر تمہارے پاس آئے تو چونکہ اس نے کھانا پکانے کے لئے تپش اور دھواں برداشت کیا ہے، اس وجہ سے اسے اپنے ساتھ بٹھا لو اور کھانا کھلاؤ۔ اگر کھانا کم مقدار میں ہو تو اپنے ہاتھ سے اس کے لئے (کم از کم) ایک دو لقمے ہی الگ کر دو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود غلاموں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے اور یہی معاملہ آپ کے صحابہ کا تھا۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اس معاملے میں امہات المومنین کو تردد ہوا کیونکہ یہ حکومت کے بیت المال کا گوشت تھا جو بریرہ کو دیا گیا تھا۔ بیت المال سے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خاندان کو کچھ لینے کی اجازت نہ تھی۔ آپ نے فرمایا، "یہ گوشت بریرہ کے لئے تو صدقہ ہے لیکن ہمارے لئے بریرہ کا تحفہ ہے اس لئے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔"

          صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی معاملہ تھا۔ وہ اپنے غیر مسلم غلاموں کے ساتھ بلا تکلف کھانا کھایا کرتے تھے۔

غلاموں کے حقوق اور صحابہ کرام کا کردار

خلفاء راشدین کا یہ بھی یہی دستور تھا کہ اگر کسی غلام کا مالک اس کی کفالت کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہو تو اس کی مدد کیا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَخْلَدٍ الْغِفَارِي أَنَّ ثَلاَثَةً مَمْلُوكِينَ شَهِدُوا بَدْرًا ، فَكَانَ عُمَرُ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ كُلَّ سَنَةٍ ثَلاَثَةَ آلاَفٍ ثَلاَثَةَ آلاَفٍ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 33553)

تین غلاموں نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان میں سے ہر ایک تو سالانہ تین تین ہزار درہم دیا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا يَرْزُقَانِ أَرِقَّاءَ النَّاسِ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 33554)

سیدنا عثمان اور علی رضی اللہ عنہما (اپنے ادوار میں) لوگوں کے غلاموں کو ان کی ضروریات کا سامان پہنچایا کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بہت سوں نے تو غلاموں کو معمولی سے خراج کے عوض خود کمانے اور کھانے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ خراج صرف ایک درہم روزانہ ہوا کرتا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب غلاموں کی قیمتیں40,000  درہم تک پہنچ چکی تھیں۔ اس طریقے سے یہ غلام عملاً آزاد ہو چکے تھے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِى أَبِى حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ حَدَّثَنِى مُغِيثُ بْنُ سُمَىٍّ قَالَ : كَانَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ أَلْفَ مَمْلُوكٍ يُؤَدِّى إِلَيْهِ الْخَرَاجَ فَلاَ يُدْخِلُ بَيْتَهُ مِنْ خَرَاجِهِمْ شَيْئًا. (بيهقى؛ سنن الكبرى؛ حديث 15787)

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار غلام تھے جو انہیں خراج ادا کیا کرتے تھے۔ اس خراج میں سے کوئی رقم ان کے گھر میں داخل نہ ہوا کرتی تھی (یعنی وہ سب کی سب رقم انہی غلاموں اور دیگر غرباء پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔)

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِى الْمَعْرُوفِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ عَنْ دِرْهَمٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : ضَرَبَ عَلَىَّ مَوْلاَى كُلَّ يَوْمٍ دِرْهَمًا فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَأَدِّ حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوْلاَكَ. (بيهقى؛ سنن الكبرى؛ حديث 15788)

سیدنا عبدالرحمٰن (بن عوف) رضی اللہ عنہ کے سابقہ غلام درہم کہتے ہیں، "میرے آقا نے مجھ پر روزانہ ایک درہم کا خراج مقرر کیا تھا۔ (ایک دن) میں نے یہ درہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا تو انہوں نے فرمایا، "اللہ سے ڈرو اور اللہ کا اور اپنے آقا کا حق (انہی کو) ادا کرو۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس کسی کو اپنے غلام پر زیادتی کرتے ہوئے دیکھتے تو فوراً اسے اچھا سلوک کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔

و روی ان اباھریرہ رای رجلا راکبا و غلامہ یسعی خلفہ، فقال: یا عبداللہ احملہ، فانہ اخوک، و روحک مثل روحہ۔ (بغوی، شرح السنۃ، کتاب النکاح)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سوار ہے اور اس کا غلام اس کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا، "اے عبداللہ! اسے بھی سوار کرو۔ یہ تمہارا بھائی ہی ہے۔ تمہارے اندر جو روح ہے وہ بھی اسی کی روح کی طرح ہی ہے۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability