بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 8: غلاموں کا اسٹیٹس بہتر بنانے کے اقدامات (2)

غلاموں پر ہر قسم کے تشدد کی ممانعت

تشدد زدہ غلاموں کی آزادی کا قانون

اسلام سے پہلے کے زمانے میں غلاموں پر جسمانی و نفسیاتی تشدد عام تھا۔ غلام کو مکمل طور پر آقا کی ملکیت تصور کیا جاتا اور اسے اپنے غلام کو قتل کر دینے کا حق بھی حاصل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بہت سختی سے غلاموں پر تشدد کی ممانعت فرمائی اور حکم دیا کہ اگر کوئی اپنے غلام کو تھپڑ بھی مار دے تو اس پر لازم ہے کہ وہاس غلام کو آزاد کر دے۔

وحدثنا محمد بن المثنى وابن بشار (واللفظ لابن المثنى). قالا: حدثنا محمد بن جعفر. حدثنا شعبة عن فراس. قال: سمعت ذكوان يحدث عن زاذان؛ أن ابن عمر دعا بغلام له. فرأى بظهره أثرا. فقال له: أوجعتك؟ قال: لا. قال: فأنت عتيق. قال: ثم أخذ شيئا من الأرض فقال: ما لي فيه من الأجر ما يزن هذا. إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (من ضرب غلاما له، حدا لم يأته، أو لطمه، فإن كفارته أن يعتقه). (مسلم کتاب الايمان، حديث 4299)

زاذان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کو بلایا۔ اس کی پیٹھ پر چوٹ کا نشان تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا، "کیا میں نے تمہیں تکلیف دی ہے؟" وہ بولا، "جی نہیں۔" آپ نے فرمایا، "تم آزاد ہو۔" اس کے بعد زمین سے کوئی چیز (لکڑی وغیرہ) اٹھا کر فرمایا، "مجھے اس کے وزن کے برابر بھی اجر نہیں ملا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، 'جو بھی غلام کو بغیر کسی جرم کے سزا دے یا اسے تھپڑ مار دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔' "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم غلاموں پر تشدد کے معاملے میں نہایت حساس تھے۔ آپ نے غلام کو مارنے پر آزاد نہ کرنے والے کو بتایا کہ اس صورت میں اسے جہنم کی آگ کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

وحدثنا أبو كريب محمد بن العلاء. حدثنا أبو معاوية. حدثنا الأعمش عن إبراهيم التيمي، عن أبيه، عن أبي مسعود الأنصاري. قال:كنت أضرب غلاما لي. فسمعت من خلفي صوتا (اعلم، أبا مسعود! لله أقدر عليك منك عليه) فالتفت فإذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت: يا رسول الله! هو حر لوجه الله. فقال (أما لو لم تفعل، للفحتك النار، أو لمستك النار). (مسلم کتاب الايمان، حديث 4308)

سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (کسی بات پر) اپنے غلام کو مار رہا تھا۔ میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی، "ابو مسعود! جان لو، اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، جتنی تم اس غلام پر قدرت رکھتے ہو۔" میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! یہ اللہ کے لئے آزاد ہے۔" آپ نے فرمایا، "اگر تم ایسا نہ کرتے تو (جہنم کی) آگ تمہیں جلا ڈالتی یا فرمایا کہ تمہیں چھو لیتی۔"

اسی حدیث کی دیگر روایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بات سن کر ابو مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے وہ چھڑی گر گئی جس سے وہ غلام کو مار رہے تھے اور انہوں نے آئندہ کسی غلام کو مارنے سے توبہ کر لی۔

ایک اور حدیث میں ہے:

من ضرب مملوكه ظلمًا له أقيد منه يوم القيامة (جمع الجوامع)

جس نے اپنے غلام پر ظلم کرتے ہوئے اسے مارا تو اس سے قیامت کے دن بدلہ لیا جائے گا۔

ابن القیم ایسا ہی ایک واقعہ نے بیان کیا ہے:

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا عبد الرزاق أخبرني معمر أن ابن جريج أخبره عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن زنباعا أبا روح وجد غلاما له مع جارية له فجدع أنفه وجبه فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال من فعل هذا بك قال زنباع فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما حملك على هذا فقال كان من أمره كذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه وسلم للعبد إذهب فأنت حر فقال يا رسول الله فمولى من أنا قال مولى الله ورسوله فأوصى به رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين قال فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء إلى أبي بكر فقال وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم نجري عليك النفقة وعلى عيالك فأجراها عليه حتى قبض أبو بكر فلما استخلف عمر جاءه فقال وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم أين تريد قال مصر فكتب عمر إلى صاحب مصر أن يعطيه أرضا يأكلها.‏ (ابن قیم، اعلام الموقعین)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو روح زنباع نے اپنے ایک غلام کو ایک لونڈی کے ساتھ مشغول پایا تو انہوں نے اس کی ناک کاٹ دی۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے پوچھا، "یہ کس نے کیا ہے؟" بتایا گیا، "زنباع نے۔" آپ نے زنباع کو بلایا اور فرمایا، "تم سے ایسا کرنے کے لئے کس نے کہا تھا؟" اس کے بعد آپ نے غلام سے فرمایا، "تم تو جاؤ، تم آزاد ہو۔" اس نے پوچھا، "یا رسول اللہ! میری ولاء کا رشتہ کس سے قائم ہو گا؟" فرمایا، "اللہ اور اس کے رسول سے۔" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے بارے میں مسلمانوں کو وصیت فرمائی۔

†††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات کے بعد وہی غلام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضور کی وصیت بیان کی۔ آپ نے فرمایا، "ہاں، ہم تمہارے اور تمہارے اہل و عیال کے اخراجات کے لئے وظیفہ جاری کریں گے۔" اس کے بعد انہوں نے یہ وظیفہ جاری کر دیا۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ پھر ان کے پاس آیا اور یہی وصیت بیان کی۔ انہوں نے فرمایا، "بالکل ٹھیک! تم کہاں جانا چاہتے ہو؟" وہ کہنے لگا، "مصر میں۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کو حکم جاری کیا کہ اسے اتنی (سرکاری) زمین دے دی جائے جسے کاشت کر کے وہ اپنے کھانے پینے کا بندوبست کر سکے۔

تشدد زدہ غلاموں سے متعلق صحابہ کی حساسیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کے صحابہ بھی اس معاملے میں بہت حساس تھے۔

وحدثنا عبدالوارث بن عبدالصمد. حدثني أبي. حدثنا شعبة. قال: قال لي محمد بن المنكدر: ما اسمك؟ قلت: شعبة. فقال محمد: حدثني أبو شعبة العراقي عن سويد بن مقرن؛ أن جارية له لطمها إنسان. فقال له سويد: أما علمت أن الصورة محرمة؟ فقال: لقد رأيتني، وإني لسابع إخوة لي، مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. وما لنا خادم غير واحد. فعمد أحدنا فلطمه. فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعتقه. (مسلم کتاب الايمان، حديث 4304)

سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک لونڈی کو اس کے آقا نے تھپڑ مارا۔ سوید اس سے کہنے لگے، "کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے؟ مجھے دیکھو، میرے سات بھائی تھے اور ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھی تھے۔ ہمارے پاس صرف ایک غلام تھا۔ ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔

سیدنا سوید رضی اللہ عنہ تو اس معاملے میں اتنے حساس تھے کہ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک اور روایت کے مطابق ان کے بیٹے نے اپنے غلام کو مارا تو انہوں نے غلام سے کہا کہ اپنا بدلہ لے لو۔ اس نے معاف کر دیا تو سیدنا سوید رضی اللہ عنہ نے بیٹے کو اس غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ یہی معاملہ خلفاء راشدین کے زمانے میں تھا۔ اگر غلام پر جسمانی تشدد کیا جاتا تو خلفاء راشدین اس غلام کو آزاد کر دیا کرتے تھے۔

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ، أَوْ أَصَابَهَا بِهَا، فَأَعْتَقَهَا. (موطاء مالک، کتاب العتق، حديث 2251)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی لائی گئی جسے اس کے مالک نے جلتی ہوئی (لکڑی وغیرہ) سے مارا تھا۔ آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ (اس کے دوسرے طرق میں یہ بھی ہے کہ مالک کو انہوں نے سو کوڑے کی سزا بھی دی۔ مستدرک حاکم، حدیث 2856)

ایسا ہی ایک واقعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا جس پر انہوں نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث 28619)

غلام پر نفسیاتی تشدد کی ممانعت

غلام پر صرف جسمانی تشدد کی ممانعت ہی نہ تھی بلکہ اسے ذہنی اذیت دینے سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے منع فرمایا۔

حدثنا مسدد: حدثنا يحيى بن سعيد، عن فضيل بن غزوان، عن ابن أبي نعم، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:سمعت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: (من قذف مملوكه، وهو بريء مما قال، جلد يوم القيامة، إلا أن يكون كما قال). (بخاری، كتاب الحدود، حديث 6858)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، "جس نے اپنے غلام پر الزام لگایا اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو اسے قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے۔ سوائے اس کے کہ اس نے سچ کہا ہو" (یا پھر وہ دنیا میں اپنے جرم کی سزا بھگت لے۔)

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے محدث ابن جوزی لکھتے ہیں:

اعلم أن المملوك عبد لله كما أن المالك عبد له والحق عز وجل عادل فإذا لم يجلد لموضع قذفه له في الدنيا من جهة استعلائه عليه بالملكة جلد له في القيامة. (ابن جوزی، کشف المشکل من حديث الصحيحين)

یہ بات جان رکھیے کہ غلام بھی اسی طرح اللہ کا بندہ ہے جیسا کہ مالک۔ اللہ تعالی عدل کرنے والا ہے۔ اگر کسی شخص کو اس دنیا میں اپنے غلام پر غلبے کے باعث سزا نہ مل سکی تو اسے اس جرم کی سزا میں قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے۔

غلاموں کے ازدواجی حقوق

غلاموں کی شادی کر دینے کا حکم

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے خاص طور پر یہ غلاموں کے مالکوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کی شادیاں کر دیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں گے اور اس کے نتیجے میں اگر یہ غلام اور لونڈیاں بدکاری پر مجبور ہوئے تو ان کے اس گناہ کے ذمہ دار ان کے مالکان ہوں گے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۔ (النور 24:32)

تم میں سے جو (مرد و عورت) مجرد ہوں، ان کی شادیاں کر دیا کرو اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح بھی کر دیا کرو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت اور علم والا ہے۔

یہاں صالحین کے لفظ کے استعمال کی وجہ یہ تھی کہ اسلام سے پہلے کے دور میں غلاموں اور لونڈیوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی جس کے باعث ان میں اخلاقی انحطاط اور بدکاری پائی جاتی تھی۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کے غریب لوگوں کو جو آزاد خواتین کے مہر ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، ترغیب دلائی کہ وہ لونڈیوں سے نکاح کر لیں۔

وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلاً أَنْ يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ۔ (النساء 4:25)

جو شخص تم میں سے اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ آزاد مسلمان خواتین سے شادی کر سکے تو تمہاری ان لڑکیوں میں سے کسی سے نکاح کر لے جو تمہاری ملکیت میں ہیں اور مومن ہیں۔ اللہ تمہارے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے لہذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو اور معروف طریقے سے ان کے مہر ادا کرو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں اور آزاد شہوت رانی اور چوری چھپے آشنائی سے بچ سکیں۔

اس سے کسی کو یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ لونڈیوں سے شادی کے لئے ان کے مالک کی اجازت لینا ضروری تھا۔ دین اسلام نے نہ صرف لونڈیوں بلکہ آزاد خواتین کو بھی یہی کہا ہے کہ وہ اپنے سرپرستوں کی اجازت سے شادی کریں کیونکہ نکاح محض دو افراد کے تعلق کا نام نہیں ہے بلکہ دو خاندانوں کے ملاپ کا نام ہے اور ایسا کرنے میں پورے خاندان کو شریک ہونا چاہیے۔ آزاد اور غلام خواتین کے سرپرستوں کو بھی یہ تاکید کی گئی کہ وہ اس معاملے میں قطعی کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں اور اگر وہ ایسا کریں تو خاتون اس معاملے کو عدالت میں لے جا سکتی ہے۔

طلاق کا حق

شادی کرنے کے بعد طلاق کا حق صرف اور صرف غلام کو ہی دیا گیا۔ کسی مالک کو اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ غلام کو اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں یہی عمل تھا۔

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ، فَالطَّلاَقُ بِيَدِ الْعَبْدِ، لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلاَقِهِ شَيْءٌ۔ (موطاء مالک، کتاب الطلاق، حديث 1676)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے، "جس نے اپنے غلام کو شادی کرنے کی اجازت دے دی، تو اب طلاق کا معاملہ غلام کے ہاتھ ہی میں ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کو طلاق کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔"

غلاموں کو شاید عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آزاد خاتون سے شادی کا حق بھی دے دیا گیا تھا۔ وہ عرب جو ہاتھ سے کام کرنے والے کسی شخص سے اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح کرنے کو توہین سمجھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعلیمات کے تحت ایسا کرنے پر تیار ہو گئے۔ نہ صرف نکاح، بلکہ آزاد خاتون کو طلاق دینا بھی ان کے لئے ممکن ہو گیا تھا۔ ایسا ضرور تھا کہ غلام کو طلاق دینے کا حق دو مرتبہ دیا گیا جبکہ آزاد خاوند کو یہ حق تین مرتبہ حاصل تھا۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ نُفَيْعاً مُكَاتَباً كَانَ لأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ عَبْداً لَهَا، كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ, فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذاً بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَسَأَلَهُمَا، فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعاً فَقَالاَ : حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَرُمَتْ عَلَيْكَ.(موطاء مالک، کتاب الطلاق، حديث 1672)

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام یا مکاتب نفیع تھے۔ ان کے نکاح میں ایک آزاد خاتون تھیں۔ انہوں نے انہیں دو مرتبہ طلاق دے دی اور پھر رجوع کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج نے معاملے کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (جو کہ خلیفہ تھے) کی عدالت میں لے جانے کا حکم دیا۔ وہ ان سے فیصلہ کروانے کے لئے گئے تو ان کی ملاقات سیڑھیوں کے نزدیک ان سے ہوئی۔ اس وقت وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ جلدی جلدی کہیں جا رہے تھے۔ ان سے پوچھا تو وہ دونوں کہنے لگے، "وہ اب تمہارے لئے حرام ہے، وہ اب تمہارے لئے حرام ہے۔"

لونڈیوں کے لئے طلاق کا حق

لونڈیوں کو اس بات کا حق دیا گیا کہ جب انہیں آزادی ملے تو اس موقع پر وہ چاہیں تو حالت غلامی میں کئے گئے اپنے سابقہ نکاح کو برقرار رکھیں یا اسے فسخ کر دیں۔ اس حق کو "خیار عتق" کہا جاتا ہے۔

حدثنا محمد: أخبرنا عبد الوهاب: حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن زوج بريرة عبد أسود يقال له مغيث، كأني أنظر إليه يطوف خلفها يبكي ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعباس: (يا عباس، ألا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثا). فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (لو راجعته). قالت يا رسول الله تأمرني؟ قال: (إنما أنا أشفع). قالت: لا حاجة لي فيه. (بخاری، کتاب الطلاق، حديث 5283)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ کے خاوند ایک سیاہ فام غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ میں گویا اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے ہیں اور ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا، "عباس! کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ مغیث بریرہ سے کس قدر محبت کرتا ہے اور وہ اس سے کتنی نفرت کرتی ہے۔" آپ نے بریرہ سے فرمایا، "کاش تم علیحدگی کا یہ فیصلہ بدل دو۔" وہ پوچھنے لگیں، "یا رسول اللہ! کیا یہ آپ کا حکم ہے؟" آپ نے فرمایا، "نہیں میں تو سفارش کر رہا ہوں۔" وہ بولیں، "پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔"

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دور رسالت میں کس حد تک لوگوں کو آزادی حاصل تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بھی انہیں ان کے حقوق و اختیارات کے معاملے میں مجبور نہ کیا کرتے تھے بلکہ زیادہ سے زیادہ مشورہ دے دیا کرتے تھے۔

††††††††† اس حدیث سے بعض فقہاء نے یہ نکتہ رسی کرنے کی کوشش کی ہے کہ لونڈی کو یہ اختیار اسی صورت میں ہوگا اگر اس کا شوہر غلام ہو۔ اگر شوہر آزاد ہو تو اسے یہ اختیار حاصل نہ ہو گا۔ یہ نقطہ نظر درست نہیں۔ حدیث بریرہ کے مختلف طرق کو اگر اکٹھا کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بریرہ کے شوہر مغیث سیاہ فام غلام تھے لیکن بریرہ کی آزادی کے وقت وہ پہلے ہی آزاد ہو چکے تھے۔

ثنا الحسين بن إسماعيل نا هارون بن إسحاق نا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن زوج بريرة كان حرا يوم أعتقت (دارقطنی، کتاب العتق)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس دن بریرہ آزاد ہوئیں، ان کے خاوند پہلے ہی آزاد ہو چکے تھے۔

خاندان کو اکٹھا رکھنے کا حق

غلام خاندانوں کو یہ حق بھی دے دیا گیا کہ ان کی کسی قسم کی منتقلی کی صورت میں ان کے خاندان کو الگ نہ کیا جائے گا۔

حدثنا عمر بن حفص بن عمر الشيباني أخبرنا عبد الله بن وهب أخبرني حيي عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن أبي أيوب قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة۔ قال أبو عيسى وفي الباب عن علي وهذا حديث حسن غريب۔ والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا التفريق بين السبي بين الوالدة وولدها وبين الولد والوالد وبين الأخوة ۔ (ترمذی، کتاب الجهاد، حديث 1566)

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "جس نے ماں اور اس کے بچے کو الگ کیا، اللہ قیامت کے دن اس کو اس کے پیاروں سے الگ کر دے گا۔"

ترمذی کہتے ہیں، "یہ حدیث حسن غریب درجے کی ہے اور اس کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علماء صحابہ اور دیگر اہل علم کا عمل بھی یہی ہے۔ وہ اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے کہ غلاموں میں ماں اور بچے، باپ اور بچے اور بہن بھائیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أهل البيت أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 23265)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب بھی جنگی قیدیوں کی خدمات کو تقسیم کرتے تو ان کے ایک پورے گھرانے کو ایک گھر کی خدمت کے لئے دیا کرتے۔ آپ اسے سخت ناپسند فرماتے کہ ایک ہی گھر کے افراد میں علیحدگی کروائی جائے۔

حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَعَثَ مَعِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُلاَمَيْنِ سَبِيَّيْنِ مَمْلُوكَيْنِ أَبِيعُهُمَا ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ ، قَالَ : جَمَعْتَ أَوْ فَرَّقْتَ ؟ قُلْتُ : فَرَّقْتُ ، قَالَ : فَأَدْرِكْ أَدْرِكْ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 23258)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دو جنگی قیدی غلاموں کو میرے ساتھ بھیجا کہ ان کی خدمات کو فروخت کر دیا جائے۔ جب میں واپس آیا تو آپ نے پوچھا، "انہیں اکٹھا رکھا ہے یا الگ الگ؟" میں نے عرض کیا، "الگ الگ۔"۔ آپ نے فرمایا، "تمہیں اس بات کا علم ہونا چاہیے تھا (کہ انہیں الگ کرنا جائز نہیں ہے۔"

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ ابْنَةِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ قَدِمَ يَعْنِي مِنْ أَيْلَةَ ، فَاحْتَاجَ إلَى ظَهْرٍ فَبَاعَ بَعْضَهُمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً مِنْهُمْ تَبْكِي ، قَالَ : مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ فَأُخْبِرَ أَنَّ زَيْدًا بَاعَ وَلَدَهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : اُرْدُدْهُ أَوِ اشْتَرِهِ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 23257)

فاطمہ بنت حسین بیان کرتی ہیں کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ایلہ سے واپس آئے۔ انہوں نے کچھ غلاموں کی خدمات کو فروخت کر دیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم آئے تو آپ نے ایک خاتون کو روتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے پوچھا، "انہیں کیا ہوا؟" آپ کو بتایا گیا کہ زید نے ان کے بیٹے کی خدمات کو فروخت کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے (خدمات خریدنے والوں سے) فرمایا، "یا تو ان کے بیٹے کو واپس کرو یا پھر ماں کی خدمات کو بھی خرید لو۔"

حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ فَرُّوخَ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ : أنْ لاَ تُفَرِّقُوا بَيْنَ الأَخَوَيْنِ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 23259)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قانون بنایا، "(خدمات کی منتقلی کے وقت) دو بھائیوں میں علیحدگی نہ کروائی جائے۔"

حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فَرُّوخَ - وَرُبَّمَا قَالَ : عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ تُفَرِّقُوا بَيْنَ الأُمِّ وَوَلَدِهَا. (ابن ابي شيبة؛ حديث 23260)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قانون بنایا، "(خدمات کی منتقلی کے وقت) ماں اور اس کی اولاد میں علیحدگی نہ کروائی جائے۔"

حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ ، قَالَ : قَالَ عِقَاْلُ - أَوْ حَكِيمُ بْنُ عِقَاْل - قَالَ : كَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إلَى عِقَاْل : أَنْ يَشْتَرِيَ مِئَة أَهْلِ بَيْتٍ يَرْفَعُهُمْ إلَى الْمَدِينَةِ ، وَلاَ تَشْتَرِي لِي شَيْئًا تُفَرِّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَالِدِهِ. (ابن ابي شيبة؛ حديث 23261)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عقال کو لکھا، "ایک ہی خاندان کے سو افراد کی خدمات کو خرید کر انہیں مدینہ روانہ کر دو۔ خدمات کی خریداری اس طرح سے مت کرنا جس کے نتیجے میں اولاد اور والدین میں علیحدگی ہو جائے۔"

ان احادیث کو درج ذیل حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو صورت اور واضح ہو جاتی ہے۔

حدثنا أبو كريب حدثنا وكيع عن زكريا بن إسحاق عن يحيى بن عبد الله بن صيفي عن أبي معبد عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذ بن جبل إلى اليمن فقال اتق دعوة المظلوم فإنها ليس بينها وبين الله حجاب۔ قال أبو عيسى وفي الباب عن أنس وأبي هريرة وعبد الله بن عمر وأبي سعيد وهذا حديث حسن صحيح وأبو معبد اسمه نافذ ۔ (ترمذی، کتاب الادب، حديث 2014)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو فرمایا، "مظلوم کی بددعا سے بچنا۔ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔" ترمذی نے اس حدیث کو انس، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

اس معاملے میں مسلمانوں کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کسی بھی حالت میں غلاموں کے خاندان کو تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ خطابی لکھتے ہیں:

و لا یختلف مذاہب العلماء فی کراھۃ التفریق بین الجاریۃ و ولدھا الصغیر سواء کانت مسبیۃ من بلاد الکفر او کان الولد من زنا او کان زوجہا اھلہا فی الاسلام فجاءت بولد۔ و لا اعلمھم یختلفون فی ان التفرقۃ بینہما فی العتق جائز و ذلک ان العتق لا یمنع من الحضانۃ کما یمنع منہا البیع۔ (خطابی، معالم السنن، کتاب الجہاد)

ایک لونڈی اور اس کے چھوٹے بچے کو علیحدہ کرنے کے بارے میں علماء کے نقطہ ہائے نظر میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ دشمن کے کسی ملک سے آئی ہو یا اس کا بچہ بدکاری کا نتیجہ ہو یا اس کے مالکوں نے اس کی شادی مسلمانوں میں کر دی ہو (ہر صورت میں اس کا بچہ اس کے پاس ہی رہے گا۔) اس معاملے میں بھی مجھے کوئی اختلاف نہیں مل سکا کہ (ماں یا بچے میں سے کسی ایک کو) آزاد کر دینے کی صورت میں علیحدگی جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزاد کر دینے کی صورت میں تو ماں اپنے بچے کی پرورش کر سکتی ہے مگر خدمات کی منتقلی کی صورت میں نہیں۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability