بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 8: غلاموں کا اسٹیٹس بہتر بنانے کے اقدامات (3)

غلاموں کے قانونی حقوق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قانونی نظام میں یہ اصلاح فرمائی کہ قانون کی نظر میں غلاموں کو برابر قرار دے دیا گیا۔ غلام کی جان، مال اور عزت کو بھی اسی طرح محترم قرار دیا گیا جیسا کہ آزاد شخص کی جان، مال اور عزت محترم ہے۔ آقاؤں کی زیادتیوں کے خلاف غلاموں کو عدالت میں جانے کا حق مل گیا۔ غلاموں کی گواہی کو عدالت میں قبول کیا جانے لگا۔ جنگ میں شریک ہونے والے غلاموں کو مال غنیمت میں سے بھی حصہ دیا جانے لگا اور غلاموں کو اپنے آقاؤں کا وارث بنایا جانے لگا۔

غلام کی جان کی حفاظت

قصاص کا قانون تورات ہی میں بیان کر دیا گیا تھا۔ قرآن مجید نے اسی قانون کی توثیق کرتے ہوئے حکم دیا کہ قاتل و مقتول خواہ کوئی بھی ہوں، مقتول کے قصاص میں قاتل کو موت کی سزا دی جائے گی۔ ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَى بِالأُنثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنْ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُوْلِي الأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۔ (البقرة 2:178-179)

اے ایمان والو! تمہارے لئے قصاص کا قانون بنا دیا گیا ہے۔ آزاد نے قتل کیا ہو تو وہی آزاد، غلام نے قتل کیا ہو تو وہی غلام، اور عورت نے قتل کیا ہو تو وہی عورت قتل کی جائے گی۔ جس قاتل کو اس کا (دینی) بھائی معاف کر دے تو اس پر لازم ہے کہ وہ قانون کے مطابق دیت کا تصفیہ کیا جائے اور قاتل اسے اچھے طریقے سے ادا کرے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرےتو اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ اے عقل مندو!، تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس کی خلاف ورزی سے پرھیز کرو گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نےبھی اس کی وضاحت فرما دی کہ اگر کوئی آزاد کسی غلام کو قتل کرے خواہ وہ اس کا مالک ہی کیوں نہ ہو، اسے بھی اس جرم کی پاداش میں قتل ہی کیا جائے گا۔

أخبرنا محمود بن غيلان وهو المروزي ، قال : حدثنا أبو داود الطيالسي ، قال : حدثنا هشام عن قتادة عن الحسن عن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من قتل عبده قتلناه ومن جدعه جدعناه ومن أخصاه أخصيناه .

أخبرنا نصر بن علي ، قال : حدثنا خالد ، قال : حدثنا سعيد ، عن قتادة عن الحسن عن سمرة۔ اخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو عوانة عن قتادة عن الحسن عن سمرة، حدّثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّد. ثنا وَكِيعٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ۔ قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب (ترمذی، کتاب الديات، حديث 1414، ابن ماجة، کتاب الدية، حديث 2663، نسائی، کتاب القسامة، حديث 4736)

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جو اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم بھی اسے ہی قتل کریں گے۔ جو اس کا کوئی عضو کاٹے گا تو ہم بھی اس کا وہی عضو کاٹیں گے، اور جو اسے خصی کرے گا، ہم بھی اسے خصی کریں گے۔

وَأَخْبَرَنِى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىُّ أَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِذَا قَتَلَ الْحُرُّ الْعَبْدَ مُتَعَمِّدًا فَهُوَ قَوَدٌ. (بيهقى؛ سنن الكبرى؛ حديث 15941)

سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے فرمایا، "اگر آزاد نے غلام کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو اسے قتل کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَن سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ حُرٍّ قَتَلَ مَمْلُوكًا ؟ قَالَ : يُقْتَلُ بِهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يُقْتَلُ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْيَمَنِ لَقَتَلْتهمْ بِهِ. (ابن ابی شيبة؛ حديث 28091)

(جلیل القدر تابعی عالم) سعید بن مسیب علیہ الرحمۃ سے ایسے آزاد شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے غلام کو قتل کر دیا تھا۔ انہوں نے فرمایا، "وہ بھی (قصاص میں) قتل کیا جائے گا۔" لوگ دوبارہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا، "وہ قتل کیا جائے گا۔ خدا کی قسم! اگر تمام اھل یمن نے مل کر بھی کسی غلام کو قتل کیا ہو تو وہ سب اس کے بدلے قتل کئے جائیں گے۔"

غلام کو خصی کرنا اس کا مثلہ کرنا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں غلام تو کیا جانوروں کو خصی کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

مالک پر عدالت میں مقدمہ کرنے کا حق

آقاؤں کے ظلم و زیادتی کے خلاف غلاموں کے عدالت میں جانے کے بہت سے واقعات حدیث کی کتب میں موجود ہیں۔ ان میں سے بعض واقعات ہم اس کتاب میں بیان کر چکے ہیں۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے غلام نے برا بھلا کہے جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے شکایت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سیرین اس وجہ سے آئے کہ ان کے آقا نے انہیں مکاتبت کے ذریعے آزاد کر دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود یہ جائزہ لیتے رہتے تھے کہ کہیں کوئی اپنے غلام پر ظلم تو نہیں کر رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تو غلاموں کے لئے ہر وقت اپنے دروازے کھلے رکھتے تھے تاکہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔

حدّثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ. حدّثنا عَبْدُ الصَّمَدِ وَسَلْمُ بْنُ قَتَيْبَةَ: قَالاَ: حدّثنا شُعْبَةَ عَنْ عَلِيِّ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَلِكٍ؛ قَالَ: إِنْ كَانَتِ الأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِيَنِةِ لَتَأْخدُ بِيَدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ مِنَ الْمَدِيَنةِ، فِي حَاجَتِهَا. (ابن ماجة، کتاب الزهد، حديث 4177)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اھل مدینہ کی ایک کنیز تھی۔ وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا بازو پکڑ لیتی۔ آپ اس سے بازو نہ چھڑاتے تھے بلکہ وہ اپنے مسئلے کے حل کے لئے مدینہ میں آپ کو جہاں چاہتی لے جایا کرتی تھی۔

حدّثنا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ. حدّثنا جَرِيرٌ عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَرِيضَ، وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ. (ابن ماجة، کتاب الزهد، حديث 4178)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مریضوں کی عیادت کیا کرتے، جنازے میں شرکت کیا کرتے، غلاموں کی فریاد پر اقدامات کرتے اور (عجز و انکسار کا یہ عالم تھا کہ حکمران ہونے کے باوجود) گدھے پر سواری بھی کر لیا کرتے تھے۔

مسلمانوں کے دور انحطاط میں اگرچہ غلاموں سے متعلق بہت سے مسائل بھی پیدا ہوئے لیکن ان کے قانونی حقوق ہمیشہ انہیں ادا کئے جاتے رہے۔ ٹی ڈبلیو آرنلڈ لکھتے ہیں:

The slaves, like other citizens, had their rights, and it is even said that a slave might summon his master before the Qadi for ill usage, and that if he alleged that their tempers were so opposite, that it was impossible for them to agree, the Qadi could oblige his master to sell him. (T. W. Arnold; Preaching of Islam)

دوسرے شہریوں کی طرح غلاموں کے حقوق بھی تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ برے سلوک پر ایک غلام اپنے آقا کے خلاف مقدمہ بھی قاضی کے پاس لے کر جا سکتا ہے۔اگر وہ یہ الزام لگا دے کہ (اس کے اور اس کے آقاکے) مزاج میں بہت فرق ہے اور ان کا اتفاق ناممکن ہے تو قاضی آقا کو حکم جاری کر سکتا ہے کہ وہ اس غلام کی خدمات کسی اور فروخت کر دے۔

غلاموں اور لونڈیوںکی عزت کی حفاظت

غلاموں اور لونڈیوں کی عزت کو اتنا محفوظ بنا دیا گیا تھا کہ ایک لونڈی کی آبرو ریزی کرنے کے جرم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ماعز اسلمی (جنہوں نے توبہ کر کے دنیا کی سزا قبول کی تھی) کو عبرت ناک طریقے سے رجم کی سزا دی تھی۔

حدثنا قتيبة بن سعيد وأبو كامل الجحدري (واللفظ لقتيبة). قالا: حدثنا أبو عوانة عن سماك، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لماعز بن مالك (أحق ما بلغني عنك؟) قال: وما بلغك عني؟ قال (أنك وقعت بجارية آل فلان) قال: نعم. قال: فشهد أربع شهادات. ثم أمر به فرجم. (مسلم، كتاب الحدود، حديث 4427، نسائی سنن الکبری، کتاب الرجم، حديث 7134)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ماعز بن مالک سے پوچھا، "کیا جو خبر مجھ تک پہنچی ہے وہ سچ ہے؟" انہوں نے کہا، "آپ تک کیا بات پہنچی ہے؟" آپ نے فرمایا، "تم نے فلاں کی لونڈی کی آبرو ریزی کی ہے؟" انہوں نے چار مرتبہ قسم کھا کر اقرار کر لیا۔ آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس شخص کے لئے سخت وعید بیان فرمائی جو اپنے غلام یا لونڈی پر جھوٹا الزام عائد کرے۔

حدثنا مسدد: حدثنا يحيى بن سعيد، عن فضيل بن غزوان، عن ابن أبي نعم، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:سمعت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: (من قذف مملوكه، وهو بريء مما قال، جلد يوم القيامة، إلا أن يكون كما قال). (بخاری، كتاب الحدود، حديث 6858)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، "جس نے اپنے غلام پر الزام لگایا اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو اسے قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے۔ سوائے اس کے کہ اس نے سچ کہا ہو" (یا پھر وہ دنیا میں اپنے جرم کی سزا بھگت لے۔)

صحابہ و تابعین کے زمانے میں اگر کوئی لونڈی مکاتبت کر لیتی تو اس کے بعد اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جاتا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , عَنِ الدَّسْتَوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ فِي رَجُل وَطِئَ مُكَاتَبَتَهُ قَالَ إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَعَلَيْهِ الْعُقْرُ وَالْحَدُّ , وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَلَيْسَ عَلَيْهِ الْعُقْرُ. (مصنف ابن ابی شيبة، كتاب الحدود، حديث 28619)

قتادہ ایسے شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جس نے اپنی مکاتبہ لونڈی سے ازدواجی تعلق قائم کیا تھا، وہ کہتے ہیں، "اگر اس نے ایسا جبراً کیا ہے تو اسے (بدکاری کی) شرعی حد کے علاوہ سزا بھی دی جائے گی۔ اگر اس نے ایسا اس کی رضامندی سے کیا ہے تو پھر اسے صرف شرعی حد لگائی جائے گی اور اضافی سزا نہ دی جائے گی۔

غلام کے لئے گواہی دینے کا حق

غلاموں کی گواہی کو بھی عدالت میں قبول کیا جاتا تھا۔

حدثنا علي بن عبد الله: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم: أخبرنا أيوب، عن عبد الله بن أبي مليكة قال: حدثني عبيد بن أبي مريم، عن عقبة ابن الحارث قال: وقد سمعته من عقبة لكني لحديث عبيد أحفظ، قال:تزوجت امرأة فجاءتنا امراة سوداء، فقال: أرضعتكما، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: تزوجت فلانة بنت فلان، فجاءتنا امراة سوداء فقالت لي: إني قد أرضعتكما، وهي كاذبة فأعرض عني، فأتيته من قبل وجهه، قلت: إنها كاذبة، قال: (كيف بها وقد زعمت أنها قد أرضعتكما، دعها عنك). وأشار إسماعيل بإصبعيه السبابة والوسطى، يحكي أيوب. (بخاری، کتاب النکاح، حديث 5104 نسائی سنن الکبری، کتاب القضاء، حديث 5983)

سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خاتون سے شادی کر لی تھی۔ ایک سیاہ رنگ کی خاتون (جو کہ نسائی کی روایت کے مطابق لونڈی تھیں) آئیں اور کہنے لگیں، "میں نے تو ان دونوں کو دودھ پلایا ہے۔" میں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو میں نے عرض کیا، "میں نے فلاں بنت فلاں سے شادی کی، یہ سیاہ رنگ کی خاتون آ کر کہہ رہی ہیں کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ یہ جھوٹ بول رہی ہیں۔"

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ آپ) نے رخ پھیر لیا۔ میں نے پھر عرض کیا، "یہ جھوٹ بول رہی ہیں۔" آپ نے انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا، "تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو جبکہ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو جاؤ۔"

ماعز اسلمی کے مقدمے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس لونڈی کی گواہی کو قبول فرمایا تھا جن کی آبرو ریزی کی گئی تھی۔ مسلمانوں کا عمل بھی اس کے بعد یہی رہا ہے کہ ان کے قاضی غلاموں کی گواہی کو قبول کیا کرتے تھے۔

وقال أنس: شهادة العبد جائزة إذا كان عدلا. وأجازه شريح وزرارة بن أوفى. وقال ابن سيرين: شهادته جائزة إلا العبد لسيده. وأجازه الحسن وإبراهيم في الشيء التافه. وقال شريح: كلكم بنو عبيد وإماء. (بخاری، کتاب الشهادة)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، "غلام کی گواہی درست ہے اگر وہ اچھے کردار کا مالک ہو۔" قاضی شریح اور زرارہ بن اوفی بھی اسے درست قرار دیتے ہیں۔ ابن سیرین کی رائے یہ ہے کہ، "غلام کی گواہی درست ہے سوائے ان معاملات کے جن میں وہ اپنے آقا کے حق میں گواہی دے۔" حسن بصری اور ابراہیم نخعی نے معمولی معاملات میں ان کی گواہی کو درست قرار دیا ہے۔ شریح تو یہاں تک کہا کرتے تھے، "تم سب غلاموں اور لونڈیوں کی اولاد ہی تو ہو۔"

آقا کے حق میں غلام کی گواہی کو قبول نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ممکن ہے وہ آقا کے دباؤ میں آ کر گواہی دے رہا ہے۔ مشہور واقعہ ہے کہ قاضی شریح جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انہی کے مقرر کردہ جج تھے، انہوں نے ایک یہودی کے مقدمے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں ان کے غلام قنبر رضی اللہ عنہ کی گواہی کو قبول نہیں کیا تھا اور فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا تھا۔

غلام کے لئے دولت کمانے اور رکھنے کا حق

غلاموں کو مال کمانے، رکھنے اور اس سے اپنی ضروریات پوری کرنے کا حق بھی دے دیا گیا تھا۔ حدیث میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جن میں غلاموں کے پاس مال کے موجود ہونے کا تذکرہ ملتا ہے۔ محمد بن سیرین نے جب مکاتبت کرنے کے لئے اپنا مقدمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا تو وہ کافی مالدار تھے۔ غلام کی آزادی کے وقت بھی اس کے مال کو اسی کی ملکیت قرار دیا جاتا تھا سوائے اس کے کہ مالک کچھ مال کو بطور مکاتبت کی قیمت کے وصول کر لے۔

حدثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى.عبد اللهِ بْنُ وَهْبٍ. أَخْبَرَنِي ابن لَهِيعَةَ. ح وَ حدّثَنَا مُحَمَّد بْنُ بحيى. ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ. أَنْبَأَنَا الَّليْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعاً، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفِرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابٍنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلى الله عليه وسلم:((مَنْ أَعْتَقَ عَبْداً ولَهُ مَالٌ، فَمَالُ العَبْدِ لَهُ. إِلاَّ أَنَّ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ، فَيَكُونَ لَهُ)). (ابن ماجة، کتاب العتق، حديث 2529)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس نے غلام آزاد کیا اور اس غلام کے پاس مال بھی تھا، تو وہ مال غلام ہی کا ہو گا سوائے اس کے کہ مالک (مکاتبت کی) شرط لگا لے تو وہ مال اسی کا ہو جائے گا۔

حدثنا مُحَمَّد بْنُ يَحْيَى. ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّد الجرمِيُّ. ثنا المُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ، وَهُو مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ؛ أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَالَ لَهُ:يَا عُمَيْرُ! إِنِّي أَعْتَقْتُكَ عِتْقاً هَنِيئاً. إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ:((أَيُّما رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلاماً، وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ، فَالْمَالُ لَهُ)). فأخْبَرَنِي مَا مَالُكَ؟ (ابن ماجة، کتاب العتق، حديث 2530)

عمیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے عمیر سے کہا، "عمیر! میں تمہیں اپنی خوشی سے آزادی دے رہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، 'جو شخص بھی غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا ذکر نہ کیا جائے، تو مال غلام ہی کا ہے۔' یہ تو بتاؤ تمہارے پاس مال کیا ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک شخص کے فوت ہو جانے پر اس کا کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں غلام ہی کو وارث بھی بنایا تھا۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا سفيان عن عمرو عن عوسجة عن ابن عباس: رجل مات على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يترك وارثا إلا عبدا هو أعتقه فأعطاه ميراثه. (مسند احمد، باب ابن عباس)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص فوت ہو گیا اور اس نے سوائے ایک غلام کے اور کوئی وارث نہ چھوڑا تھا جسے اس نے آزادی دے دی تھی۔ حضور نے اس شخص کی میراث بھی غلام کو دلا دی۔

یہ تمام احادیث اس بات کی شہادت پیش کرتی ہیں کہ غلاموں کو مال رکھنے اور اسے استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مال غنیمت میں سے غلاموں کو جو حصہ ملتا تھا وہ بھی انہی کا مال ہوا کرتا تھا۔

مال غنیمت میں سے حصہ

غلاموں کو جنگوں میں مال غنیمت میں سے بھی حصہ دیا جانے لگا۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا أبو النضر عن ابن أبي ذئب عن القاسم بن عباس عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي المرأة والمملوك من الغنائم ما يصيب الجيش. (مسند احمد، باب ابن عباس)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے لشکر کو جو بھی مال غنیمت ملتا تھا، آپ اس میں سے خواتین اور غلاموں کو بھی حصہ دیا کرتے تھے۔

حدثنا قتيبة حدثنا بشر بن المفضل عن محمد بن زيد عن عمير مولى أبي اللحم قال شهدت خيبر مع سادتي فكلموا في رسول الله صلى الله عليه وسلم وكلموه أني مملوك۔ قال فأمرني فقلدت السيف، فإذا أنا أجره فأمر لي بشيء من خرتي المتاع وعرضت عليه رقية كنت أرقي بها المجانين، فأمرني بطرح بعضها وحبس بعضها وفي الباب عن بن عباس وهذا حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند بعض أهل العلم لا يسهم للمملوك ولكن يرضخ له بشيء وهو قول الثوري والشافعي وأحمد وإسحاق. (ترمذی، کتاب السير، حديث 1557)

ابو اللحم کے آزاد کردہ غلام محمد بن زید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں اپنے آقاؤں کے ساتھ جنگ خیبر میں شریک تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بات کی کہ میں ان کا غلام ہوں (یعنی غنیمت میں سے غلام کا حصہ انہیں دیا جائے۔) آپ نے مجھے تلوار تیار کرنے کا حکم دیا۔ جب میں نے یہ کر دیا تو آپ نے مجھے مال غنیمت میں سے کچھ چیزیں دیں۔ میں نے آپ کے سامنے کچھ جنگی قیدی پیش کئے جنہیں میں نے گرفتار کیا تھا اور وہ پاگل سے معلوم ہوتے تھے۔ آپ نے ان قیدیوں میں سے بعض کو رکھنے اور بعض کو چھوڑنے کا حکم دیا۔

ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی روایت کی ہے اور حسن صحیح ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ بعض اہل علم غلاموں کو غنیمت میں سے حصہ تو نہیں دیتے لیکن انہیں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور دیتے ہیں۔ یہ ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق کا نقطہ نظر ہے۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ : قَسَمَ لِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ كَمَا قَسَمَ لِسَيِّدِي. (ابن ابی شيبة، حديث 33889)

ابو قرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جیسا میرے آقا کو غنیمت میں سے حصہ دیا ویسا ہی مجھے بھی دیا۔

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِيَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ , فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَالأَمَةِ , وَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ.. (ابن ابی شيبة، حديث 33895)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس ظبیہ کے مقام پر خرز لائی گئی۔ آپ نے اسے ایک آزاد اور ایک لونڈی میں تقسیم کر دیا۔ میرے والد (ابوبکر) بھی آزاد اور غلام دونوں کو حصہ دیا کرتے تھے۔

وراثت میں حصہ

مالک کے مرنے کی صورت میں اگرچہ اس کے غلام کا کوئی حصہ قرآن مجید میں مقرر نہیں کیا گیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر وارث نہ ہونے کی صورت میں آپ نے غلاموں کو مالک کی میراث میں سے حصہ دیا۔

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنَةِ حَمْزَةَ قَالَ مُحَمَّدٌ : وَهِيَ أُخْتُ ابْنِ شَدَّادٍ لأُمِّهِ - قَالَتْ : مَاتَ مَوْلًى لِي وَتَرَكَ ابْنَتَهُ ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مَالَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَتِهِ ، فَجَعَلَ لِي النِّصْفَ وَلَهَا النِّصْفَ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المیراث، حدیث 31783)

اخت بن شداد کی والدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے آقا فوت ہو گئے اور ان کی صرف ایک ہی بیٹی زندہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کا ترکہ میرے اور ان کی بیٹی کے درمیان اس طرح تقسیم فرمایا کہ آدھا ان کی بیٹی کو ملا اور آدھا مجھے۔

صحابہ کرام میں بھی یہی عمل جاری رہا۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ : أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ سَائِبَةً ، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالا ، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ ؟ فَقَالَ : إنَّ أَهْلَ الإسْلاَمِ لاَ يُسَيِّبُونَ ، إنَّمَا كَانَتْ يُسَيِّبُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَنْتَ مَوْلاَهُ وَوَلِيُّ نِعْمَتِهِ وَأَوْلَى النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ ، وَإلاَّ فَأرِنِهِ هَا هُنَا وَرَثَةٌ كَثِيرٌ. يَعْنِي : بَيْت الْمَالِ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المیراث، حدیث 32078)

عطا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو بطور سائبہ (ایک قسم کا وقف) آزاد کر دیا۔ اس کے بعد وہ فوت ہو گیا اور ترکے میں کچھ مال چھوڑ دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: "اھل اسلام میں تو سائبہ کی رسم نہیں ہے، ہاں اھل جاہلیت سائبہ بنایا کرتے تھے۔ تم اس کے آزاد کردہ غلام ہو، اس کے ولی نعمت ہو اور سب لوگوں سے زیادہ اس کی وراثت کے حقدار ہو۔ اگر تم اس کا یہ ورثہ چھوڑنا چاہو تو پھر اس کے وارثوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔" یعنی بیت المال میں یہ ورثہ جمع کروا دیا جائے گا اور اس کے وارث تمام شہری ہوں گے۔

دینی ذمہ داریوں میں تخفیف

چونکہ غلاموں پر اپنے آقاؤں کی خدمت کی ذمہ داری تھی، اس وجہ سے انہیں دین اسلام کی بیشتر ذمہ داریوں سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔ نماز پڑھنا ان کے لئے لازم تھا مگر ان کے ذمے زکوۃ کی ادائیگی نہیں تھی۔ حج اور جہاد بھی ان پر فرض نہ تھا۔ ہاں اگر ان کا آقا اجازت دے دیتا تو یہ غلام بھی اپنی مرضی سے حج یا جہاد کے لئے جا سکتے تھے، ان پر اس کی ذمہ داری نہیں تھی۔

جرم کرنے کی صورت میں نصف سزا

ان تمام حقوق کے باوجود غلاموں کو کسی بھی جرم کی پاداش میں آزاد شخص کی نسبت نصف سزا دی جاتی تھی۔ قرآن مجید میں بدکاری کے جرم میں لونڈیوں کو آزاد خواتین کی نسبت نصف سزا دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنْ الْعَذَابِ. (النساء 4:25)

جب لونڈیوں کو نکاح میں محفوظ کر دیا جائے اور اس کے بعد بھی وہ بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد خواتین کی نسبت آدھی ہے۔

اس آیت سے یہ واضح ہے کہ لونڈیوں کو یہ نصف سزا اس صورت میں دی جائے گی جب وہ شادی شدہ ہو جائیں۔ اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں اور بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کی سزا کے بارے میں قدیم اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک ایسی صورت میں انہیں کچھ تھوڑی بہت سزا محض تادیب کے لئے دے دی جائے گی لیکن ان پر شرعی حد جاری نہ کی جائے گی۔ (سنن سعید بن منصور بحوالہ تفسیر ابن کثیر آیت 4:25)

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی پر عمل فرمایا اور اس پر قیاس کرتے ہوئے غلاموں کے دوسرے جرائم کی سزا بھی نصف ہی مقرر فرمائی۔

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ قَالَ : جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَبْداً فِي فِرْيَةٍ ثَمَانِينَ. قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : أَدْرَكْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَالْخُلَفَاءَ هَلُمَّ جَرًّا، فَمَا رَأَيْتُ أَحَداً جَلَدَ عَبْداً فِي فِرْيَةٍ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ. (موطا مالک، کتاب الحدود، حديث 2396)

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بدکاری کا الزام عائد کرنے کے جرم میں ایک غلام کو اسی کوڑے کی سزا دی (جو کہ آزاد کی سزا ہے۔) ابو الزناد کہتے ہیں کہ میں نے اس سے متعلق عبداللہ بن عامر بن ربیعۃ اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگے، "عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما اور دیگر خلفاء کے سامنے بھی ایسے مقدمے لائے گئے تھے۔ انہوں نے قذف کے مقدمے میں کسی غلام کو چالیس کوڑوں سے زائد کی سزا نہ دی تھی۔"

دارقطنی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم چوری وغیرہ کے جرم میں اکثر اوقات غلاموں پر سزا نافذ ہی نہ کیا کرتے تھے۔ اگر وہ غلام بار بار چوری کرنے سے باز نہ آتا تب اس پر چوری کی سزا نافذ فرمایا کرتے تھے۔ (دارقطنی، کتاب الحدود)

مسلمانوں کے دشمن کو امان دینے کا حق

اسلام میں چونکہ ہر مسلمان کو برابر درجہ عطا کیا گیا ہے، اس وجہ سے ہر مسلمان کو اس بات کی اجازت ہے کہ اگر دشمن کا کوئی فرد کسی ایک مسلمان کی امان حاصل کر کے بھی مسلم ملک میں آ جائے تو حکومت پر لازم ہو گا کہ وہ اس کی دی گئی امان کا احترام کرتے ہوئے اس دشمن کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرے۔ ابن جوزی لکھتے ہیں:

ويصح أمان المسلم العاقل سواء كان ذكرا أو أنثى حرا أو مملوكا. (ابن جوزی، کشف المشکل من حديث الصحيحين)

ہر صاحب عقل مسلمان کی دی گئی امان درست ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ککہ وہ مرد ہو یا خاتون، آزاد ہو یا غلام۔

غلاموں کے سیاسی حقوق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کا درجہ اس قدر بلند کر دیا تھا کہ آپ نے مسلمانوں کو یہ حکم بھی دیا کہ اگر ایک حبشی غلام بھی ان پر حکمران بنا دیا جائے تو وہ اس کی بھی اطاعت کریں۔

وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وعبدالله بن براد الأشعري وأبو كريب. قالوا: حدثنا ابن إدريس عن شعبة، عن أبي عمران، عن عبدالله بن الصامت، عن أبي ذر. قال:إن خليلي أوصاني أن أسمع وأطيع. وإن كان عبدا مجدع الأطراف. (مسلم، کتاب الامارۃ، حديث 4755)

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، "میرے دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حکمران کی بات سنوں اور اس کی اطاعت کروں اگرچہ وہ ایک ایسا غلام ہو جس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹے ہوئے ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ بات صرف سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہی کو نہ ارشاد فرمائی بلکہ حدیث 4757 کے مطابق آپ نے صحابہ کرام کے سب سے بڑے اجتماع حجۃ الوداع کے موقع پر بھی یہی حکم دیا۔ اس حکم کی عملی صورت اس وقت سامنے آئی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے بعد آنے والے خلیفہ کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے اس منصب کے لئے دو افراد کو سب سے زیادہ مناسب قرار دیا، ایک امین الامت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہم۔ یہ دونوں حضرات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے، اس وجہ سے آپ نے پھر عشرہ مبشرہ کے چھ صحابہ میں سے خلیفہ کے انتخاب کی وصیت کی۔

††††††††† صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غلاموں کے پیچھے نماز پڑھ لینے میں بھی کوئی حرج محسوس نہ کیا کرتے تھے۔ اس دور میں نماز کی امامت وہی کیا کرتا تھا جو ان میں دین، علم اور کردار کے معاملے میں سب سے بہتر سمجھا جاتا تھا اور اسی شخص کو حکومتی عہدوں کے لئے بھی زیادہ موزوں تصور کیا جاتا تھا۔

عبد الرزاق عن الثوري وإسماعيل بن عبد الله عن داود بن أبي هند عن أبي نضرة عن أبي سعد مولى بني أسيد قال تزوجت وأنا مملوك فدعوت أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أبو ذر وبن مسعود وحذيفة فحضرت الصلاة فتقدم حذيفة ليصلي بنا فقال له أبو ذر أو غيره ليس ذلك لك فقدموني وأنا مملوك فأممتهم. (مصنف عبدالرزاق؛ حديث 7015)

بنو اسید کے آزاد کردہ غلام ابو سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابھی غلام ہی تھا جب میں نے شادی کی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ ابوذر، عبداللہ بن مسعود اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کی دعوت کی۔ نماز کا وقت آیا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ امامت کے لئے آگے بڑھنے لگے۔ انہیں ابوذر یا عبداللہ نے اس سے روکا اور مجھے امامت کرنے کے لئے کہا۔ میں نے آگے بڑھ کا امامت کی جبکہ میں ابھی غلام ہی تھا۔

مدینہ میں اسلام کے آغاز کے وقت ہی سیدنا سالم مولی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نماز کی امامت کیا کرتے تھے۔

آقا اور مالک کے تعلقات میں بہتری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک طرف غلاموں کو بہت سے حقوق دیے اور ان کے مالکوں کو ان سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا تو دوسری طرف غلاموں پر بھی یہ ذمہ داری عائد فرمائی کہ انہیں اپنے آقا کا خیر خواہ ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ خیانت نہیں کرنی چاہیے۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ آقا اور مالک کے تعلقات خلوص پر مبنی ہوں اور برادرانہ سطح پر آ جائیں۔ بالکل یہی تعلیمات ہمیں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاں بھی ملتی ہیں:

حدثني أبو الطاهر وحرملة بن يحيى. قالا: أخبرنا ابن وهب. أخبرني يونس عن ابن شهاب. قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: قال أبو هريرة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (للعبد المملوك المصلح أجران). والذي نفس أبي هريرة بيده! لولا الجهاد في سبيل الله، والحج، وبر أمي، لأحببت أن أموت وأنا مملوك. قال: وبلغنا؛ أن أبا هريرة لم يكن يحج حتى ماتت أمه، لصحبتها. (مسلم، کتاب الايمان، حديث 4320)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "نیک غلام کے لئے دوگنا اجر ہے۔" ابوہریرہ کہتے ہیں: خدا کی قسم جس کے قبضے میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر اللہ کی راہ میں جہاد، حج اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو میں یہ پسند کرتا کہ غلام ہی بن کر مروں (تاکہ دوگنا اجر مجھے ملے۔) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کی خدمت کے لئے ان کی وفات سے پہلے حج بھی نہ کیا تھا۔

اسی حدیث کی دوسری روایت میں غلام کو دوگنا اجر دیے جانے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے اصل مالک یعنی اللہ تعالی کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کو یہ تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ مالکوں کو بھی ان سے حسن سلوک کا حکم دیا۔ ہم اوپر بہت سی احادیث بیان کر چکے ہیں۔ دو اور ایمان افروز احادیث یہ ہیں:

حدّثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ مُحَمَّدٍ، قَالاَ: حدّثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ((لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّءُ الْمَلَكَةِ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هذِهِ الأُمَّةَ أَكْثَرُ الأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى؟ قَالَ ((نَعَمْ فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلاَدِكُمْ. وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ)). قَالُوا: فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ ((فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ. مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ. فَإذا صَلَّى، فَهُوَ أَخُوكَ (ابن ماجة، کتاب الادب، حديث 3691)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "برے مالک جنت میں داخل نہ ہوں گے۔" لوگوں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ ہماری امت میں (دوسری قوموں کی نسبت) زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے۔"

آپ نے فرمایا، "ہاں، ان غلاموں کو ویسی ہی عزت دو جیسی تم اپنی اولاد کو دیتے ہو۔ انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو۔" عرض کیا، "ہمارے لئے دنیا میں فائدے کی کیا چیز ہے؟" فرمایا، "ایسے گھوڑے جن پر تم زین کس کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور تمہارے غلام جو تمہارے لئے کافی ہوں۔ اگر وہ نماز پڑھتے ہوں تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔"

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل الجنة بخيل ولا خب ولا خائن ولا سيء الملكة وأول من يقرع باب الجنة المملوكون إذا أحسنوا فيما بينهم وبين الله عز وجل وفيما بينهم وبين مواليهم. (مسند احمد، مطالب العالية، باب ابوبکر)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جنت میں بخیل، بدمزاج، بددیانت اور غلاموں سے برا سلوک کرنے والے داخل نہ ہوں گے۔ جنت کا دروازہ سب سے پہلے ان غلاموں کے لئے کھولا جائے گا جو اپنے اور اللہ کے معاملے میں اور اپنے اور اپنے مالکان کے معاملے میں اچھے ہوں گے۔"

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو غلاموں کا اتنا خیال تھا کہ آپ نے اس حالت میں بھی جب آپ کی روح نکلنے کا عمل شروع ہو چکا تھا، ان سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے برے غلاموں سے بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔

وعن أبي هريرة قال‏:‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏:‏ ‏"‏ما من صدقة أفضل من صدقة تصدق بها على مملوك عند مليك سوء‏"‏‏.‏ رواه الطبراني في الأوسط‏. (مجمع الزوائد، کتاب العتق)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اس سے زیادہ کوئی صدقہ افضل نہیں ہے کہ کوئی اپنے برے غلاموں پر خرچ کرے۔"

وعن ابن عمر أن رجلاً أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال‏:‏ إن خادمي يسيء ويظلم أفأضربه‏؟‏ قال‏:‏ ‏"‏تعفو عنه كل يوم سبعين مرة‏"‏‏.‏ قلت‏:‏ رواه الترمذي باختصار‏.‏ رواه أبو يعلى ورجاله ثقات‏.‏ (مجمع الزوائد، کتاب العتق)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا، "میرے غلام غلط کام کرتے ہیں اور بعض اوقات (مجھ پر) زیادتی بھی کر بیٹھتے ہیں تو کیا میں انہیں مار سکتا ہوں؟" آپ نے فرمایا، "اس سے زیادہ کوئی صدقہ افضل نہیں ہے کہ کوئی اپنے برے غلاموں پر خرچ کرے۔" آپ نے فرمایا، "انہیں روزانہ ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو۔"

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability