بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 8: غلاموں کا اسٹیٹس بہتر بنانے کے اقدامات (4)

غلاموں کی خرید و فروخت سے متعلق اصلاحات

عہد رسالت سے پہلے غلاموں کی خرید و فروخت ایک "انسان" کی خرید و فروخت تھی جسے بھیڑ بکریوں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کے حقوق سے متعلق جو اصلاحات عملاً اپنے معاشرے میں رائج فرمائی تھیں، ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلاموں کی خرید و فروخت، اب انسان کی نہیں بلکہ محض اس کی "خدمات" کی خرید و فروخت بن کر رہ گئی کیونکہ کسی بھی آقا کو غلام پر جسمانی تصرف کا کوئی حق نہ رہ گیا تھا۔ ایک شخص کو اگر غلام کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے تو وہ ان خدمات کو کسی دوسرے کی طرف منتقل کر دے۔ یہ معاملہ کچھ اسی طرح کا تھا کہ جیسے آج کل کوئی کمپنی اپنے ملازم کو کام کرنے کے لئے دوسری کمپنی میں بھیج دے۔

††††††††† غلاموں کی اس منتقلی سے متعلق ایک اہم قانون بنایا گیا اور وہ یہ تھا کہ اس منتقلی کے دوران غلام کے خاندان کو کسی صورت تقسیم نہ کیا جائے بلکہ انہیں اکٹھا رکھا جائے۔

حدثنا عمر بن حفص بن عمر الشيباني أخبرنا عبد الله بن وهب أخبرني حيي عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن أبي أيوب قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة۔ قال أبو عيسى وفي الباب عن علي وهذا حديث حسن غريب۔ والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا التفريق بين السبي بين الوالدة وولدها وبين الولد والوالد وبين الأخوة ۔ (ترمذی، کتاب الجهاد، حديث 1566)

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "جس نے ماں اور اس کے بچے کو الگ کیا، اللہ قیامت کے دن اس کو اس کے پیاروں سے الگ کر دے گا۔"

ترمذی کہتے ہیں، "یہ حدیث حسن غریب درجے کی ہے اور اس کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علماء صحابہ اور دیگر اہل علم کا عمل بھی یہی ہے۔ وہ اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے کہ غلاموں میں ماں اور بچے، باپ اور بچے اور بہن بھائیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔

اس پابندی نے عملی طور پر بردہ فروش طبقہ جسے "نخاش"کہا جاتا تھا، کے مفادات پر کاری ضرب لگائی۔ اگر کوئی کسی غلام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کرنا چاہے تو اس کے لئے لازم تھا کہ وہ غلام کی پوری فیملی کو خریدے اور پھر اسے دوسرے شہر میں منتقل کرے۔

††††††††† بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دور میں غلاموں کی خرید و فروخت سے قطعی طور پر منع کیوں نہ کیا گیا؟ یہ سوال دراصل اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے وہ صورتحال نہیں ہے جس میں یہ معاملہ ہو رہا تھا۔ اس وجہ سے ہمیں موجودہ دور کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اس صورتحال کی وضاحت کرنا ہو گی۔

††††††††† فرض کر لیجیے کہ ایک شخص کسی وجہ سے اپنا کاروبار ختم کر رہا ہے یا کسی اور وجہ سے اسے ملازمین کی ضرورت نہیں ہے۔ اس صورت میں کیا اس کے لئے یہ ممکن ہو گا کہ وہ تاعمر اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرتا رہے؟ مالک اور ملازمین کے لئے بہترین صورت یہی ہو گی کہ وہ ان کی ملازمت کو کسی اور کمپنی میں منتقل کر دے۔ اس طرح سے ملازمین بھی فوری طور پر بے روزگار نہ ہوں گے اور مالک بھی اپنے کاروبار کو کم سے کم نقصان پر بند کر سکے گا۔

††††††††† بالکل یہی صورتحال اس دور میں تھی۔ ایک شخص کا کاروبار ختم ہو گیا اور اسے اب غلام کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ اس غلام کا کیا کرے؟ اس کے سامنے تین ہی راستے ہیں: یا تو وہ اس غلام کو ساری عمر بٹھا کر اس کے اخراجات برداشت کرتا رہے یا پھر اسے آزاد کرے یا پھر اس کی خدمات کسی دوسرے کو منتقل کر دے۔ پہلی صورت تو بہرحال مالک کے لئے ممکن نہ ہو گی۔ دوسری صورت دین اسلام کے مطابق سب سے بہتر ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس مالک نے ایک بڑی رقم لگا کر غلام کی خدمات حاصل کی تھیں اور اس کے مالی حالات ایسے ہیں کہ وہ اتنی بڑی رقم کے ڈوبنے کو افورڈ نہیں کر سکتا، تو اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ غلام کی خدمات کو دوسرے شخص کو منتقل کر دے۔

††††††††† یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر غلام کو نئے مالک کی شخصیت اور عادات پسند نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ اس مسئلے کا حل دین اسلام نے یہ پیش کیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کی منتقلی کے اگلے روز بھی اپنے مالک سے مکاتبت کر کے اس سے فوری نجات حاصل کر سکتا ہے۔ مکاتبت کرتے ہی وہ اپنے مالک کی سروس کا پابند نہ رہتا بلکہ آزادانہ طور پر رقم کما کر اپنے مالک کو آسان قسطوں میں ادائیگی کر کے اپنی آزادی خرید سکتا تھا۔ اس کے باوجود بسا اوقات یہ سہولت بھی دی گئی کہ اگر کسی غلام کو اپنے مالک کا مزاج پسند نہ ہو تو وہ حکومت سے درخواست کر کے اپنی خدمات کو کسی اور مالک کی طرف منتقل کروا سکتا تھا۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانے میں غلاموں کو یہ سہولت بھی میسر تھی کہ اگر ان کا مالک مکاتبت پر تیار نہ ہو تو وہ معاملے کو حکمران کی عدالت میں لے جا سکتے تھے اور حکمران بھی ایسے تھے جن کے ہاں کوئی دربان اور سکیورٹی فورس نہ تھی جو غلام کو آنے سے روکے۔

††††††††† اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تو یہاں تک مثال قائم کر دی تھی کہ ایک کنیز بھی آ کر آپ کو بازو سے پکڑ کر اٹھاتی اور اپنا مسئلہ حل کرنے کا کہہ سکتی تھی۔ خلفاء راشدین کے معاملے میں بھی یہی صورتحال تھی اور وہ ہر نماز کے وقت مسجد میں دستیاب رہا کرتے تھے۔ یہی معاملہ ان خلفاء کے مقامی گورنروں کا بھی تھا۔

††††††††† اس تفصیل کو مدنظر رکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ غلاموں کی خدمات کی منتقلی کا اس سے بہتر اور کوئی حل دستیاب ہی نہ تھا۔

نیم غلام طبقوں کے معاملات میں اصلاحات

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عربوں کے ہاں اسلام سے پہلے کے زمانے سے ہی کچھ نیم غلام طبقے بھی پائے جاتے تھے جن کی حالت غلاموں سے کچھ ہی بہتر تھی لیکن انہیں بھی نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ ان میں مزارعے اور ہاتھ سے کام کرنے والے دیگر افراد شامل تھے۔ نیم غلامی کی یہ صورتیں موجودہ دور میں بھی موجود ہیں اور اس پر تفصیلی بحث ہم موجودہ دور میں غلامی سے متعلق باب میں کریں گے۔

††††††††† انسانیت کی پوری تاریخ میں اگر نیم غلام طبقے کا جائزہ لیا جائے تو ان کے غلام بنائے جانے کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے اور وہ ہے غربت۔ غربت کے مارے لوگ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی قرض بعد میں سود در سود کے باعث انہیں غلامی کے شکنجے میں دھکیل دیتا ہے۔ اسی غربت کے باعث یہ غریب کارکن نہایت ہی غیر انسانی شرائط پر ملازمت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسلام سے پہلے کے عرب میں بھی کم و بیش یہی صورتحال تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس طبقے کے لئے جو اصلاحات فرمائیں انہیں بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

       غربت کا خاتمہ اور نیم غلام طبقے کا معاشی استحکام

       ملازمت میں استحصالی شرائط لگانے کا خاتمہ

       نیم غلام طبقے کے سماجی مرتبے (Social Status) کی بحالی

غربت کے خاتمے سے متعلق جو اقدامات کئے گئے ان میں سے بعض وقتی اور بعض دائمی نوعیت کے تھے۔ ان اقدامات اور ان کے اثرات پر پوری ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ یہ تمام اقدامات معروف و مشہور ہیں اس لئے یہاں پر ہم ان اقدامات کی تفصیل بیان کئے بغیر ان کا محض اجمالی جائزہ پیش کریں گے۔

غربت کا خاتمہ اور نیم غلام طبقے کا معاشی استحکام

       دین اسلام میں زکوۃ کا نظام ہمیشہ سے قائم ہے۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت میں بھی زکوۃ کا تصور موجود ہے۔ زکوۃ اس کم سے کم رقم کو کہا جاتا ہے جو ہر صاحب ثروت کو غربت کے خاتمے کے لئے ادا کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں دولت کی جو صورتیں موجود تھیں، ان میں آپ نے نے جمع شدہ اموال پر 2.5%، زرعی پیداوار پر 5-10%، معدنی پیداوار اور دفن شدہ خزانوں کی دریافت پر 20% اور جانوروں پر ان کی تعداد، عمر اور نوعیت کے اعتبار سے زکوۃ عائد فرمائی۔ اس زکوۃ کا بنیادی مصرف غربت کا خاتمہ ہی تھا۔

       صاحب ثروت افراد کو بھرپور ترغیب دلائی گئی کہ وہ زکوۃ تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ رقم حتی کہ اپنی ضرورت سے زائد پورے کے پورے مال کو اپنی خوشی سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ یہ محض ایک اپیل ہی نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسا زبردست جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں غربت کے خاتمے کے لئے خرچ کریں۔ اگر حدیث اور تاریخ کے ذخیرے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس طریقے سے خرچ کی جانے والی رقم زکوۃ کی رقم سے کہیں زیادہ تھی۔

       ہجرت کے بعد جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدینہ پہنچے تو ان کی اکثریت کی مالی حالت بہت خراب تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک ایک انصاری کو ایک ایک مہاجر کا بھائی بنا دیا۔ انصار کا ایثار اس درجے کا تھا کہ انہوں نے اپنی آدھی جائیداد اپنے مہاجر بھائی کو دے دی۔ مہاجرین نے بھی یہ جائیداد لینے کی بجائے خود کام کر کے کمانے کو ترجیح دی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان یہ طے پایا کہ مہاجر انصاریوں کے کھیتوں اور باغات میں پارٹنرشپ پر کام کریں گے اور پیداوار کو آپس میں برابر تقسیم کر لیا جائے گا۔ (بخاری، کتاب المزارعۃ، حدیث 2325)

       ایسے صحابہ جنہیں مواخات کے اس عمل میں شریک نہ کیا جا سکا تھا، ان کے لئے مسجد نبوی میں صفہ نامی چبوترہ بنا کر عارضی طور پر آباد کیا گیا۔ ان لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنا مدینہ کی پوری آبادی کے ذمہ تھا۔ ہر شخص کے پاس جو چیز بھی ضرورت سے زائد ہوتی وہ ان لوگوں کو دے دیتا۔ تھوڑے ہی عرصے میں یہ لوگ بھی مالی طور پر خود کفیل ہو گئے۔

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قابل کاشت زمین کی آباد کاری پر بھرپور توجہ دی۔ آپ نے زمین کاشت کرنے اور انسانوں اور جانوروں کے لئے غلہ اگانے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا۔ (بخاری، کتاب المزارعۃ، حدیث 2320)

       سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہاں تک حکم دیا کہ جن لوگوں کے پاس فالتو زمین ہے اور وہ تین سال سے اسے کاشت نہیں کر سکے، اسے اپنے ان بھائیوں کو کاشت کے لئے دے دیں جن کے پاس زمین نہیں ہے۔ (کتاب الخراج)

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایسی زمینیں جو کسی کی ملکیت نہ تھیں، آباد کرنے کے لئے ان لوگوں کو دیں جن کے پاس زمین موجود نہ تھی۔ (بخاری، کتاب المزارعۃ، حدیث 2335) ان میں سے جو لوگ زمین کو آباد نہ کر سکے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ان سے غیر آباد زمینوں کو واپس لے کر ان لوگوں کو دیا گیا جو انہیں آباد کر سکتے تھے۔ (کتاب الخراج)

       بعد کے دور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صحابہ کرام کے اجماع سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مفتوحہ ممالک کی زمینوں کو سرکاری ملکیت میں رکھا جائے گا اور ان کی آمدنی کو غربت کے خاتمے کے لئے خرچ کیا جائے گا۔ (بخاری، کتاب المزارعۃ، حدیث 2334)

اسلام کے قانون وراثت نے چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کو عملاً ناممکن بنا دیا۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی امیر کیوں نہ ہوتا، اگر وہ اور اس کی اولاد کام نہ کرتے تو محض دو نسلوں ہی میں اس کا خاندان مڈل کلاس میں آ جاتا۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کے بالائی طبقے میں جو خلا پیدا ہوتا، اس کے نتیجے میں غریب اور مڈل کلاس کے افراد کے لئے مسلسل معاشی اور معاشرتی مواقع پیدا ہوتے رہتے تھے جن کے ذریعے وہ اپنے مالی حالات اور سماجی رتبے کو بہتر بنا سکتے۔ اس پر مغربی مصنف ڈینیل پائپس نے نہایت خوبصورت تبصرہ کیا ہے:

No matter how rich the grandfather, two generations later his grandchildren usually received modest inheritances. Unable to concentrate their resources, great families did not often gain a hold on important positions. Islamicate society knew no rigid social boundaries but was a constant flux of persons and families; as a result, there was always room for new blood. Only in religious officialdom, where special skills (not money) formed the basis of power, does one find consistent hereditary patterns. Because no hereditary aristocracy dominated military and political offices, they were open to social climbers--including slaves.

Beyond keeping the positions open, this fluidity in social rank cut down on birthrights. The daintiness of born aristocrats in Hindu India or feudal Europe derived in large part from their assured superiority. They never allowed their ranks to be filled by persons of slave origins; but in Islamicate society, social fortunes were too transient for a personís birth to play too much of a role in his career. (Daniel Pipes, Slavery Soldiers & Islam, www.danielpipes.com )

قطع نظر اس کے کہ دادا کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، دو نسلوں کے بعد اس کے پوتے پوتیاں وراثت میں بس معقول حصہ ہی لے رہے ہوتے تھے۔ اپنے وسائل کو (چند ہاتھوں میں) مرکوز نہ رکھ سکنے کے سبب اعلی خاندان اکثر اوقات اہم عہدوں پر قبضہ برقرار رکھنے میں ناکام رہتے تھے۔ مسلم معاشروں میں کوئی سخت سماجی حد بندی نہ تھی بلکہ افراد اور خاندانوں کے (سماجی رتبے میں) حرکت ہوتی رہتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ہمیشہ نئے خون کے لئے جگہ موجود رہا کرتی تھی۔

صرف بعض مذہبی عہدوں پر، جہاں پیسے کی بجائے مخصوص صلاحیتیں ہی طاقت کا منبع تھیں، کسی کو موروثی اقتدار نظر آ سکتا ہے (اگرچہ ابتدائی صدیوں میں یہ بات بالکل غلط ہے)۔ چونکہ فوجی اور سیاسی عہدوں کے لئے کوئی موروثی صلاحیت درکار نہ تھی، اس وجہ سے غلاموں سمیت ترقی کے خواہشمند ہر طبقے کے لئے راستہ کھلا تھا۔

اس سماجی بہاؤ کی وجہ سے عہدے حاصل کرنے کا راستہ کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ پیدائشی حقوق میں بھی کمی واقع ہو چکی تھی۔ ہندو انڈیا یا فیوڈل یورپ میں مراعات یافتہ طبقے کے افراد پیدائش کے ساتھ ہی بہتر سماجی مرتبہ حاصل کر لیا کرتے تھے اور انہوں نے کبھی اپنے عہدوں کو سابقہ غلاموں کے حوالے کرنے اجازت نہ دی تھی، مگر مسلم معاشرے میں کسی شخص کی محض پیدائش کو اس کی قسمت بنانے میں بہت کم دخل حاصل تھا۔

ملازمت میں استحصالی شرائط کا خاتمہ

       مزارعوں کے ساتھ زیادتی کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ مالک زمین کے اس حصے کی پیداوار کو، جو پانی کے قریب ہوتا، اپنے لئے مخصوص کر لیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس استحصالی شرط سے منع فرما دیا۔ اس حدیث کو روایت کرنے والے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہیں جو خود زمیندار تھے اور اس طریقے سے زمین کاشت کے لئے دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ اتنے محتاط ہوئے کہ مزارعت سے ہی اجتناب کرنے لگے۔ (بخاری، کتاب المزارعۃ، حدیث 2327)

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بالائی علاقوں کے زمین داروں کو حکم دیا کہ وہ اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کے بعد پانی کو نشیبی علاقوں کی زمینوں کے لئے چھوڑ دیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔ (بخاری، کتاب المساقاۃ، حدیث 2369)

       حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے محنت کر کے کمانے کی بھرپور ترغیب دی۔ آپ نے فرمایا، "اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا لائے اور اسے بیچے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔" (بخاری، کتاب المساقاۃ، حدیث 2373)

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے چراگاہوں کو مخصوص کر کے اسے عام لوگوں کے مویشیوں کے لئے بند کر دینے سے منع فرما دیا۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ سب لوگوں کے مویشیوں کو خوراک میسر ہو سکے اور ان کی مالی حالت میں بہتری آ سکے۔ (بخاری، کتاب المساقاۃ، حدیث 2370)

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غرباء و مساکین کے لئے یہ طے کر دیا کہ اگر وہ کوئی قرض چھوڑ کر فوت ہوں گے تو ان کے قرض کی ادائیگی ان کے وارثوں کی نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ (مسلم، کتاب الفرائض، حدیث 4157)

نیم غلام طبقے کی سماجی رتبے (Social Status) کی بحالی سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اقدامات کی تفصیل ہم آزاد کردہ غلاموں کے سماجی مرتبے سے متعلق اصلاحات کے عنوان میں بیان کر رہے ہیں۔

سابقہ غلاموں اور نیم غلاموں کے سماجی رتبے (Social Status) میں اضافہ

ولاء کے سماجی ادارے کا استحکام

جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ اسلام سے پہلے کے زمانے میں بھی عرب میں نیک لوگ موجود تھے جو غلاموں کو آزاد کرنے کو نیکی تصور کرتے تھے۔ عربوں کے ہاں آزاد کردہ غلاموں کے لئے ایک سماجی ادارہ موجود تھا جسے "ولاء" کہا جاتا تھا۔ ولاء بنیادی طور پر کسی شخص کو عرب معاشرے میں رہنے کا حق دیتی تھی۔ عرب اپنے درمیان غیر قوم کے فرد کو صرف اسی صورت میں برداشت کیا کرتے تھے جب وہ کسی عرب کی پناہ حاصل کر لے۔ ولاء کے اس رشتے کے نتیجے میں غیر عرب کو عرب معاشرے میں رہنے کا حق مل جاتا۔ ایسے لوگوں کو "مولی" جمع "موالی" کہا جاتا تھا۔

††††††††† یہ موالی آزاد کردہ غلام بھی ہوا کرتے تھے اور دیگر غریب لوگ بھی۔ یہ موالی مجموعی طور پر نیم غلامی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ ان کا سماجی درجہ بہت پست سمجھا جاتا تھا اور ان سے کوئی اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ بھی کرنے کو تیار نہ ہوا کرتا تھا۔

††††††††† قرآن مجید نے آغاز وحی کے زمانے میں ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اللہ تعالی اسلام قبول کرنے والے امیر لوگوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں اور دیگر غرباء کا درجہ خود تک بلند کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جہاں پہلے سے موجود غلاموں کو آزاد کرنے اور ان کی حالت بہتر بنانے کے اقدامات کئے وہاں آپ نے آزاد کردہ غلاموں اور نیم غلاموں کے سماجی رتبے کو بہتر بنانے کے لئے بھی عملی اقدامات کئے۔ سب سے پہلے آپ نے مولی کا درجہ اس کی قوم کے برابر قرار دیا۔

حدثنا آدم: حدثنا شعبة: حدثنا معاوية بن قرَّة وقتادة، عن أنس بن مالك رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (مولى القوم أنفسهم). أو كما قال. (بخاری، کتاب المواريث، حديث 6761)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کسی قوم کا مولی بھی انہی میں سے ہے۔"

ولاء کے اس تعلق کے نتیجے میں اس بات کا امکان کئی گنا بڑھ گیا کہ سابقہ غلام نہ صرف مسلم معاشرے کا حصہ بن جائے بلکہ اسے معاشرے میں اعلی مقام اور مرتبہ حاصل ہو سکے۔ اس بارے میں ڈینیل پائپس لکھتے ہیں:

Slaves owned by a Muslim remained by their master long after emancipation, providing him with allegiance and service in return for protection and patronage. Few slaves returned to their countries of origin after becoming free; the majority stood by their patron. This continuing voluntary relationship increased the likelihood of men of slave origins serving their masters in important positions.

(Daniel Pipes, Slavery Soldiers & Islam, www.danielpipes.com )

آزادی کے بعد طویل عرصے تک کسی مسلمان کے سابقہ غلام اس کے ساتھ ہی رہتے۔ تحفظ اور سرپرستی کے بدلے یہ آزاد کردہ غلام ان کے ساتھ وفاداری اور خدمت کا تعلق قائم رکھتے۔ بہت کم ہی ایسے غلام ہوں گے جو آزاد ہونے کے بعد اپنے اصل ملکوں میں واپس گئے ہوں۔ اکثریت اپنے سابقہ مالک کے ساتھ ہی رہا کرتی تھی۔ رضا کارانہ تعلق کے اس سلسلے نے اس بات کا امکان بڑھا دیا کہ اصلاً غلامی سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اپنے سابقہ آقاؤں کے ہاں اہم عہدے حاصل کر سکے۔

ولاء کے اس تعلق کے نتیجے میں آزاد کردہ غلام کو اپنے سابقہ مالک کے برابر سماجی رتبہ مل جایا کرتا تھا۔ یہ لوگ عام طور پر اپنے سابقہ مالکوں کے ساتھ ہی رہا کرتے اور ان کے ہاں تنخواہ کے بدلے ملازمت کر لیا کرتے تھے۔ اس تعلق کا سابقہ مالک کو فائدہ یہ پہنچتا تھا کہ اسے ایک قابل اعتماد ساتھی میسر آ جایا کرتا تھا۔ جب یہ غلام فوت ہوتا تو اس کی وراثت کو اس کے ورثا میں قرآن کے قانون کے تحت تقسیم کرنے کے بعد جو رقم باقی بچتی، اسے اس کے سابقہ مالک کو دے دیا جاتا۔ اس طریقے سے اس مالک کو اپنی وہ انوسٹمنٹ واپس مل جاتی جو اس نے غلام کو خریدنے، اس کی تربیت کرنے اور پھر اسے آزاد کرنے پر کی ہوتی تھی۔

††††††††† ایسے غلام جو غیر عرب ممالک سے تعلق رکھتے تھے، ان کی ولاء کا رشتہ اس شخص سے قائم کر دیا جاتا جس کے ہاتھ پر انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس طریقے سے ان غلاموں کو بھی مسلم معاشرے میں ایک باوقار مقام حاصل ہو جایا کرتا تھا۔

††††††††† ولاء کے اسی رشتے کے باعث مسلمانوں کی تاریخ میں بہت سے افراد اور قبائل کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہوا۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ابن خلدون لکھتے ہیں:

قال صلى الله عليه وسلم: " مولى القوم منهم " ، وسواء كان مولى رق أو مولى اصطناع وحلف، وليس نسب ولادته بنافع له في تلك العصبية۔۔۔۔۔۔۔وهذا شأن الموالي في الدول والخدمة كلهم، فإنهم إنما يشرفون بالرسوخ في ولاء الدولة وخدمتها، وتعدد الآباء في ولايتها. ألا ترى إلى موالي الأتراك في دولة بني العباس، وإلى بني برمك من قبلهم، وبني نوبخت كيف أدركوا البيت والشرف وبنوا المجد والأصالة بالرسوخ في ولاء الدولة. فكان جعفر بن يحيى بن خالد من أعظم الناس بيتاً وشرفاً بالانتساب إلى ولاء الرشيد وقومه، لا بالانتساب في الفرس. وكذا موالي كل دولة وخدمها إنما يكون لهم البيت والحسب بالرسوخ في ولائها والأصالة في اصطناعها. (ابن خلدون؛ مقدمة؛ باب 2 فصل 14)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کسی قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہے۔" اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ شخص غلامی سے آزاد ہونے کے باعث مولی بنا ہو یا حلف یا محبت کے تعلق سے۔ اس قسم کی عصبیت میں نسلی خاندان کی کوئی اہمیت نہیں ہوا کرتی۔۔۔۔۔یہ سلطنتوں میں موالی اور ان کی خدمات کا معاملہ ہے۔ انہیں حکمران کی ولاء حاصل کرنے اور اسے اپنی خدمات پیش کرنے کے ذریعے غیر معمولی شرف اور رسوخ حاصل ہوا۔ کیا آپ بنو عباس کے عہد میں آزاد کردہ ترک غلاموں کو نہیں دیکھتے؟ ان سے پہلے یہی معاملہ بنو برمکہ کا ہے۔ اسی طرح بنو نوبخت نے کس طرح مقام اور مرتبہ حاصل کیا۔ ان دونوں کو حکمران کی ولاء کے ذریعے اس دور میں عزت و مقام اور اثر و رسوخ حاصل ہوا۔

اگر مسلم دنیا میں ولاء کے اس تعلق کے نتائج کا تقابل موجودہ دور کے مغربی معاشروں سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعلق کے نتیجے میں سابقہ غلام کس طریقے سے مسلم معاشرے میں اعلی مقام حاصل کرتے چلے گئے جبکہ مغربی معاشروں میں غلامی کے خاتمے کے ڈیڑھ سو برس بعد بھی یہ مسئلہ آج تک برقرار ہے۔ امتیاز کے خلاف بہت سے قوانین (Anti-Discrimination Laws) کی موجودگی میں بھی امریکی معاشرے میں آج بھی ووٹ رنگ اور نسل دیکھ کر دیے جاتے ہیں۔

سابقہ غلاموں سے صحابیات کی شادی کے اقدامات

موالی کا درجہ بلند کرنے کے لئے آپ نے اپنے خاندان سے مثال قائم فرمائی۔ آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی کزن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کیا۔ یہ خاتون قریش کے خاندان بنو ہاشم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ بات مشہور و معروف ہے کہ عربوں میں قریش کو سب سے افضل سمجھا جاتا تھا اور قریش میں بنو ہاشم کا درجہ خصوصی سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی لیکن بہرحال یہ مثال قائم ہو گئی کہ مولی کا درجہ اس کی قوم کے برابر ہے۔ اس کے بعد صحابہ کرام میں نہ صرف آزاد کردہ غلاموں بلکہ موجودہ غلاموں سے بھی اپنی لڑکیوں کی شادی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

حدثنا أبو اليمان: أخبرنا شعيب، عن الزهري قال: أخبرني عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها:أن أبا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس، وكان ممن شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم، تبنى سالما، وأنكحه بنت أخيه هند بنت الوليد ابن عتبة بن ربيعة، وهو مولى لإمرأة من الأنصار.(بخاری، کتاب النکاح، حديث 5088)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس (جو کہ قریش کے ایک ممتاز خاندان بنو عبدشمس سے تھے) اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حصہ لیا تھا، نے سالم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دی تھی۔ یہ سالم ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ نُفَيْعاً مُكَاتَباً كَانَ لأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ عَبْداً لَهَا، كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ, فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذاً بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَسَأَلَهُمَا، فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعاً فَقَالاَ : حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَرُمَتْ عَلَيْكَ.(موطاء مالک، کتاب الطلاق، حديث 1672)

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام یا مکاتب نفیع تھے۔ ان کے نکاح میں ایک آزاد خاتون تھیں۔ انہوں نے انہیں دو مرتبہ طلاق دے دی اور پھر رجوع کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج نے معاملے کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (جو کہ خلیفہ تھے) کی عدالت میں لے جانے کا حکم دیا۔ وہ ان سے فیصلہ کروانے کے لئے گئے تو ان کی ملاقات سیڑھیوں کے نزدیک ان سے ہوئی۔ اس وقت وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ جلدی جلدی کہیں جا رہے تھے۔ ان سے پوچھا تو وہ دونوں کہنے لگے، "وہ اب تمہارے لئے حرام ہے، وہ اب تمہارے لئے حرام ہے۔"

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ اشْتَرَى عَبْداً فَأَعْتَقَهُ، وَلِذَلِكَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ، فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ.، وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ : بَلْ هُمْ مَوَالِينَا. فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَضَى عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلاَئِهِمْ.†† (موطاء مالک، کتاب العتق و الولاء، حديث 2270)

ربیعۃ بن ابو عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کو خرید کر اسے آزاد کر دیا۔ اس غلام کے ایک آزاد بیوی میں سے بچے تھے۔ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے آزاد کیا تو فرمایا کہ تمہارے بچے بھی میرے موالی ہیں۔ اس شخص نےکہا، "نہیں، یہ تو اپنی ماں کے موالی ہوئے۔" وہ یہ مقدمہ لے کر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں گئے۔ آپ نے ان بچوں کی ولاء کا فیصلہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں کر دیا۔

انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کی شادی بھی ایک قریشی خاتون سے ہوئی تھی۔ انہی سالم کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ:

حدثنا إبراهيم بن المنذر قال: حدثنا أنس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر قال:لما قدم المهاجرون الأولون العصبة، موضع بقباء، قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان يؤمهم سالم، مولى أبي حذيفة، وكان أكثرهم قرآنا. (بخاری، کتاب الصلوۃ، حديث 693)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، "جب مہاجرین کا پہلا گروہ ہجرت کر کے مدینہ میں آیا تو انہوں نے قباء میں قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آمد سے قبل ابوحذیفہ کے مولی سالم رضی اللہ عنہما ہماری امامت کیا کرتے تھے کیونکہ وہ سب سے زیادہ قرآن کے عالم تھے۔

موجودہ اور سابقہ غلاموں کی امامت

موجودہ دور کے برعکس، اس دور میں نماز کی امامت کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ نماز کی امامت، دنیا کی امامت سے متعلق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو یہ دلیل پیش کی گئی کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی زندگی میں انہیں نماز کا امام بنایا تھا، اس وجہ سے وہ خلافت کے بھی سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ انہی سالم رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن سالم ان سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام زید رضی اللہ عنہ کو جنگ موتہ میں ایسے لشکر کا سربراہ بنا کر بھیجا جس میں ان کے نائب آپ کے اپنے کزن سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ تھے۔ نائب دوم انصار کے ایک بڑے رئیس عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے کمانڈر ان سب حضرات کے ماتحت عام سپاہی کی حیثیت سے اس لشکر میں شریک تھے۔ جب یہ تینوں قائدین شہید ہوئے تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی تھی۔ بعد میں آپ نے انہی زید کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ کو ایسے لشکر کا سربراہ مقرر فرمایا جس میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ بھی شامل تھے۔

حدثنا إسماعيل: حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا، وأمر عليهم أسامة بن زيد، فطعن الناس في إمارته، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فقال: (إن تطعنوا في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل، وايم الله إن كان لخليفا للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس لي، وإن هذا لمن أحب الناس إلي بعده). (بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3730)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنا کر بھیجا۔ لوگوں نے ان کے امیر ہونے پر اعتراض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، "تم لوگ ان کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو جبہ تم نے اس سے پہلے ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم وہ امارت کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ پسند تھے اور ان کے بعد اسامہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔"

اسی کو بیان کرتے ہوئے مغربی مورخ ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں:

The holy banner was entrusted to Zeid; and such was the discipline or enthusiasm of the rising sect, that the noblest chiefs served without reluctance under the slave of the prophet. (Edward Gibbon, The History of Decline & Fall of Roman Empire, http://www.ccel.org )

اس جنگ میں مقدس جھنڈا زید کو دیا گیا تھا۔ اس ابھرتے ہوئے گروہ کے ڈسپلن اور جوش کا یہ عالم تھا کہ (عرب کے) معزز ترین سرداروں نے بغیر کسی جھجک کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے تحت جنگ کی۔

موجودہ و سابقہ غلاموں اور نیم غلاموں کا درجہ اس قدر بلند کر دیا گیا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک آزاد کردہ غلام بلال کو اپنا سردار کہا کرتے تھے۔

حدثنا أبو نعيم: حدثنا عبد العزيز بن أبي سلمة، عن محمد بن المنكدر: أخبرنا جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال:كان عمر يقول: أبو بكر سيدنا، وأعتق سيدنا. يعني بلالا. (بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3754)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے، "ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا تھا۔"

آج کے دور کی طرح، اس دور کے اہل مکہ کے ہاں خانہ کعبہ میں داخل ہونا ایک بہت ہی خاص شرف تھا جو صرف رئیسوں اور حکمرانوں کے لئے محدود تھا۔ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہی بلال رضی اللہ عنہ کو کعبہ میں داخل ہو کر تو کیا، اس کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔ یہ ایسا انقلابی قدم تھا جس سے اہل مکہ کے سینے پر سانپ لوٹ گئے کہ ایک آزاد کردہ غلام کو کعبہ کی چھت پر چڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

سابقہ غلاموں سے برادرانہ تعلقات

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنہوں نے صہیب اور بلال رضی اللہ عنہما کو خرید کر آزاد کیا تھا۔ ان کا رویہ اپنے آزاد کردہ غلاموں سے کیسا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں کیسا رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دی تھی، اس کی کچھ جھلک اس حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔

حدثنا محمد بن حاتم. حدثنا بهز. حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت، عن معاوية بن قرة، عن عائذ بن عمرو؛ أن أبا سفيان أتى على سلمان و صهيب وبلال في نفر. فقالوا: والله! ما أخذت سيوف الله من عنق عدو الله مأخذها. قال فقال أبو بكر: أتقولون هذا لشيخ قريش وسيدهم؟. فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره. فقال "يا أبا بكر! لعلك أغضبتهم. لئن كنت أغضبتهم لقد أغضبت ربك". فأتاهم أبو بكر فقال: يا إخوتاه! أغضبتكم؟ قالوا: لا. يغفر الله لك. يا أخي!. (مسلم، کتاب الفضائل، حديث 6412)

عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ (قریش کے سردار) ابوسفیان رضی اللہ عنہ (اسلام قبول کرنے سے کچھ دیر پہلے) سلمان، صہیب، بلال اور ایک گروہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا، "اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن پر اپنے مقام پر نہ پہنچیں۔" سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو فرمایا، "کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہہ رہے ہو؟"

جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تشریف لائے تو انہیں یہ بات بتائی گئی۔ آپ نے فرمایا، "ابوبکر! شاید تم نے انہیں ناراض کر دیا۔ اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو گویا تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ہے۔" سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے، "میرے بھائیو! کیا میں نے تمہیں ناراض کر دیا ہے۔" وہ بولے، "ارے نہیں ہمارے بھائی! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔"

سابقہ غلاموں کا معاشی استحکام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نہ صرف آزاد کردہ غلاموں سے شفقت کا سلوک فرماتے بلکہ آپ ان کے معاشی مقام کو بھی بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہا کرتے تھے۔ آپ نے کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے بچے ہوئے مال میں آزاد کردہ غلاموں کو بھی وارث بنانے کی رسم شروع کی جس کے نتیجے میں ان کے مالی اسٹیٹس میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح آپ نے اپنی آزاد کردہ کنیز سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو مدینہ میں پورا ایک باغ تحفتاً دیا اور ان کی شادی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کر دی۔ (بخاری، کتاب الھبہ، حدیث 2630، مستدرک حاکم، حدیث 6910)

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability