بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 9: لونڈیوں سے متعلق خصوصی اصلاحات

ہم نے غلاموں سے متعلق اوپر جو اصلاحات بیان کی ہیں، یہ سب کی سب مرد و عورت ہر قسم کے غلام سے متعلق تھیں۔ جہاں ان اصلاحات کے نتیجے میں غلام آزاد ہوئے اور ان کا سماجی رتبہ بلند ہوا، وہیں خواتین غلاموں یعنی لونڈیوں کا درجہ بھی ان کی نسبت بلند ہوا۔ ان اصلاحات کے علاوہ لونڈیوں کے لئے خصوصی طور پر مزید اصلاحات بھی کی گئیں۔ ان کی تفصیل میں جانے سے پہلے، ہم زمانہ قبل از اسلام میں لونڈیوں کی صورتحال کا مختصر جائزہ دوبارہ پیش کرتے ہیں۔

††††††††† جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہدور جاہلیت میں غلاموں کی ایک بڑی تعداد لونڈیوں پر بھی مشتمل تھی۔ انہیں زیادہ تر گھر کے کام کاج کے لئے رکھا جاتا۔ آقا کو لونڈی پر مکمل جنسی حقوق حاصل ہوا کرتے تھے لیکن اگر آقا کسی لونڈی کی شادی کر دیتا تو پھر وہ خود اپنے حق سے دستبردار ہو جایا کرتا تھا۔

††††††††† بہت سے آقا اپنی لونڈیوں سے عصمت فروشی بھی کروایا کرتے تھے اور ان کی آمدنی خود وصول کیا کرتے تھے۔ اس قحبہ گری کا ایک مقصد یہ بھی ہوا کرتا تھا کہ لونڈیوں کی ناجائز اولاد کو غلام بنا لیا جائے۔ ایسی لونڈیوں کو جنس مخالف کو لبھانے کے لئے مکمل تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ عرب میں باقاعدہ قحبہ خانے موجود تھے جن میں موجود طوائفیں عام طور پر لونڈیاں ہی ہوا کرتی تھیں۔ شب بسری کے لئے کسی دوست یا مہمان کو لونڈی عطا کر دینے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔ ان لونڈیوں کے حالات کی تفصیل نقل کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں:

اس وقت عرب میں قحبہ گری کی دو صورتیں رائج تھیں۔ ایک خانگی کا پیشہ اور دوسرے باقاعدہ چکلہ۔ "خانگی" کا پیشہ کرنے والی آزاد شدہ لونڈیاں ہوتی تھیں جن کا کوئی سرپرست نہ ہوتا، یا ایسی آزاد عورتیں ہوتی تھیں جن کی پشت پناہی کرنے والا کوئی خاندان یا قبیلہ نہ ہوتا۔ یہ کسی گھر میں بیٹھ جاتیں اور کئی کئی مردوں سے بیک وقت ان کا معاہدہ ہوجاتا کہ وہ ان کو مدد خرچ دیں گے اور اپنی حاجت رفع کرتے رہیں گے۔ جب بچہ پیدا ہو جاتا تو وہ عورت ان مردوں میں سے جس کے متعلق کہہ دیتی کہ یہ بچہ اس کا ہے، اسی کا بچہ تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ یہ گویا معاشرے میں ایک مسلم ادارہ تھا جسے اہل جاہلیت ایک قسم کا "نکاح" سمجھتے تھے۔

دوسری صورت یعنی کھلی قحبہ گری صرف لونڈیوں کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔ ایک تو یہ کہ لوگ اپنی جوان لونڈیوں پر ایک بھاری رقم عائد کر دیتے کہ ہر مہینے اتنا کما کر ہمیں دیا کرو، اور وہ بے چاریاں بدکاری کروا کروا کر یہ مطالبہ پورا کیا کرتی تھیں۔ اس کے سوا نہ کسی دوسرے ذریعہ سے وہ اتنا کما سکتی تھیں، نہ مالک ہی یہ سمجھتے تھے کہ وہ کسی پاکیزہ کسب کے ذریعے یہ رقم لایا کرتی ہیں، اور نہ جوان لونڈیوں پر عام مزدوری کی شرح سے کئی کئی گنا رقم عائد کرنے کی کوئی دوسری معقول وجہ ہو سکتی تھی۔

دوسرا طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی جوان جوان اور خوبصورت لونڈیوں کو کوٹھوں پر بٹھا دیتے تھے اور ان کے دروازوں پر جھنڈے لگا دیتے تھے جنہیں دیکھ کر دور سے ہی معلوم ہو جاتا تھا کہ "حاجت مند" آدمی کہاں اپنی حاجت رفع کر سکتا ہے۔ یہ عورتیں "تعلیقیات" کہلاتی تھیں اور ان کے گھر "مواخیر" کے نام سے مشہور تھے۔ بڑے بڑے معزز رئیسین نے اس طرح کے چکلے کھول رکھے تھے۔ خود عبداللہ بن ابی کا مدینے میں ایک باقاعدہ چکلہ موجود تھا جس میں چھ خوبصورت لونڈیاں رکھی گئی تھیں۔ ان کے ذریعے وہ صرف دولت ہی نہیں کماتے تھے بلکہ عرب کے مختلف حصوں سے آنے والے معزز مہمانوں کی تواضع بھی انہی سے فرمایا کرتے تھے اور ان کی ناجائز اولاد سے اپنے خدم و حشم کی فوج بڑھایا کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن، سورۃ نور 24:33)

قحبہ گری کی ممانعت

لونڈیوں سے متعلق اللہ تعالی نے جو اصلاحات کرنے کے جو احکامات جاری کئے، ان میں سب سے اہم حکم یہی تھا کہ لونڈیوں سے عصمت فروشی کروانے کے کاروبار کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔

وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ. (النور24:33)

اگر تمہاری لونڈیاں پاکدامنی کی خواہشمند ہوں تو دنیا کا مال و دولت کمانے کے لئے انہیں بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اگر کوئی انہیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالی اس مجبوری کے باعث انہیں بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں مشہور منافق عبداللہ بن ابی کے پاس چھ لونڈیاں تھیں اور وہ ان سے عصمت فروشی کروایا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی معاذہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا اور پیشہ کرنے سے انکار کر دیا۔ عبداللہ بن ابی نے ان پر تشدد کیا۔ انہوں نے آ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی جو انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ نے حکم جاری کیا کہ اس لونڈی کو ہرگز واپس نہ بھیجا جائے۔ ابن ابی نے بہت شور مچایا کہ محمد تو ہماری لونڈیاں چھیننے لگ گئے ہیں لیکن اس کے شور کو کوئی اہمیت نہ دی گئی اور ان خاتون کو آزاد کر دیا گیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث 14528)

††††††††† اس حکم سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اگر وہ خود بدکاری کی خواہش مند ہوں تو انہیں کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ اس آیت کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کرے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا کا مستحق ان کا مالک ہی ہو گا۔ اگر لونڈی اپنی مرضی سے عصمت فروشی کرنا چاہے تو اس صورت میں ان کے لئے بھی سزا مقرر کی گئی۔ ابتدا میں یہ سزا انہیں انہی کے گھروں میں قید کرنے تک محدود تھی۔ یہ سزا صرف لونڈیوں ہی کے لئے نہ تھی بلکہ آزاد فاحشہ عورتوں کو ان کے آشنا مردوں سمیت سزا دی گئی۔

وَاللاَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً۔ وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّاباً رَحِيماً۔ (النساء 4:15-16)

تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں، ان پر اپنے لوگوں میں سے چار افراد کی گواہی لو۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکال دے ۔ اور جو دو مرد و عورت تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

اس سزا کو بعد میں ایک حتمی سزا میں تبدیل کر دیا گیا۔

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ۔ (النور24:2)

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے حکم میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھی موجود ہونا چاہیے۔

یہ سزا آزاد مرد و خواتین کے لئے تھی۔ لونڈیوں کی ناقص اخلاقی تربیت کے باعث انہیں یہ رعایت دی گئی کہ ان کے لئے نصف سزا مقرر کی گئی۔

فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنْ الْعَذَابِ. (قرآن 4:25)

جب لونڈیوں کو نکاح میں محفوظ کر دیا جائے اور اس کے بعد بھی وہ بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد خواتین کی نسبت آدھی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قحبہ خانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے یہ سزائیں نافذ کیں اور اپنے اقتدار کے علاقے میں ان قحبہ خانوں کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

حدثنا مسلم بن إبراهيم: حدثنا شعبة، عن محمد بن جحادة، عن أبي حازم، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كسب الإماء. (بخاری، کتاب الاجارة، حديث 2283)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لونڈیوں سے پیشہ کروانے سے منع فرمایا۔

حدثنا يعقوب بن إبراهيم، ثنا معتمر، عن سلم يعني ابن أبي الذيال قال: حدثني بعض أصحابنا، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس أنه قال: قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم: "لا مساعاة في الإِسلام، من ساعى في الجاهلية فقد لحق بعصبته، ومن ادَّعى ولداً من غير رشدةٍ فلا يرث ولا يورث". (ابو داؤد، کتاب الطلاق، حديث 2264)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اسلام میں کوئی قحبہ گری نہیں ہے۔ جس نے جاہلیت میں قحبہ گری کی ہو، اسے اپنی ماں کے رشتے داروں سے ملحق کیا جائے گا۔ جس نے کسی بچے کو غلط طور پر خود سے ملحق کیا، نہ تو وہ بچہ اس کا وارث ہو گا اور نہ ہی وہ شخص اس بچے کا وارث۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہاں تک حکم دیا کہ لونڈی کی کمائی بھی اسی صورت میں قبول کی جائے جب یہ معلوم ہو کہ اس نے اسے حلال طریقے سے کمایا ہے۔

حدثنا هارون بن عبد اللّه، ثنا هاشم بن القاسم، ثنا عكرمة، حدثني طارق بن عبد الرحمن القرشي قال: جاء رافع بن رفاعة إلى مجلس الأنصار فقال: لقد نهانا نبي اللّه صلى اللّه عليه وسلم اليوم فذكر أشياء، ونهى عن كسب الأمة إلا ما عملت بيدها، وقال هكذا بأصابعه نحو الخبز والغزل والنفش . (ابو داؤد، کتاب الاجارة، حديث 3426)

سیدنا رافع بن رفاعۃ رضی اللہ عنہ نے انصار کی مجلس میں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیں ان چیزوں سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے اس میں لونڈی کی کمائی کا ذکر بھی کیا سوائے اس کے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ جیسے روٹی پکانا، سوت کاتنا یا روئی دھنکنا۔

لونڈیوں کو رقص و موسیقی کے لئے استعمال کرنے پر پابندی

دور جاہلیت میں یہ عام معمول تھا کہ لونڈیوں کو رقص و موسیقی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی تھی۔ اس کے لئے باقاعدہ محفلیں جما کرتی تھیں جن میں لوگ ریشمی لباس پہن کر آتے، شراب پیتے، گانا سنتے، رقص دیکھتے، رقم نچھاور کرتے اور اگلے مرحلے پر انہی لونڈیوں کو اپنی ہوس مٹانے کے لئے استعمال کیا کرتے۔

††††††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان محفلوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں یہ حکم جاری فرمایا کہ لونڈیوں کو رقص اور موسیقی کی تعلیم نہ دی جائے اور ان کی خدمات کی خرید و فروخت کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔

حدثنا قتيبة أخبرنا بكر بن مضر عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن ولاخير في تجارة فيهن وثمنهن حرام في مثل هذا أنزلت هذه الآية { ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله } إلى آخر الآية قال وفي الباب عن عمر بن الخطاب قال أبو عيسى حديث أبي أمامة إنما نعرفه مثل هذا من هذا الوجه وقد تكلم بعض أهل العلم في علي بن يزيد وضعفه وهو شامي۔ قال الشيخ الألباني : حسن۔ (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1282)

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "رقص و موسیقی کی ماہر لونڈیوں کو نہ تو فروخت کرو اور نہ ہی خریدو۔ انہیں اس کی تعلیم مت دو۔ ان کی تجارت میں کوئی خیر نہیں ہے۔ ان کی قیمت حرام ہے۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ "لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو فضول باتیں خریدتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے وہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔"

ایسی محفلوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کاموں میں سے ایک قرار دیا جن کے بعد اہل زمین اللہ کے عذاب کے مستحق ہو جایا کرتے ہیں:

حدثنا صالح بن عبد الله الترمذي حدثنا الفرج بن فضالة أبو فضالة الشامي عن يحيى بن سعيد عن محمد بن عمر بن علي عن علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :إذا فعلت أمتي خمس عشرة خصلة حل بها البلاء فقيل وما هن يا رسول الله قال إذا كان المغنم دولا والأمانة مغنما والزكاة مغرما وأطاع الرجل زوجته وعق أمه وبر صديقه وجفا أباه وارتفعت الأصوات في المساجد وكان زعيم القوم أرذلهم وأكرم الرجل مخافة شره وشربت الخمور ولبس الحرير واتخذت القينات والمعازف ولعن آخر هذه الأمة أولها فليرتقبوا عند ذلك ريحا حمراء أو خسفا ومسخا۔(ترمذی، کتاب الفتن، حديث 2210)

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جب میری امت میں پندرہ خصلتیں اکٹھی ہو جائیں گی تو ان کے لئے مصیبتوں کے دروازے کھل جائیں گے۔" پوچھا گیا، "یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟"

فرمایا، "جب چرواہے امیر ہو جائیں گے، دولت ہی ایمان بن جائے گی، زکوۃ کو جرمانہ سمجھا جانے لگے گا، مرد اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کیا کریں گے، دوست کے ساتھ نیکی اور باپ کے ساتھ ظلم کیا جائے گا، مسجدوں میں شور مچایا جائے گا، قوم کے لیڈر ان کے بدترین لوگ ہوں گے، کسی شخص کی عزت اس کی برائی سے محفوظ رہنے کے لئے کی جائے گی، شراب پی جائے گی، ریشم پہنا جائے گا، رقص و موسیقی کی ماہر لونڈیوں اور آلات موسیقی کا اہتمام کیا جائے گا اور اس امت کے بعد کے لوگ پہلے زمانے کے لوگوں پر لعنت بھیجیں گے۔ جب ایسا ہو گا تو انہیں سرخ آندھی، زمین میں دھنسا دیے جانے اور صورتیں مسخ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

افسوس کہ لونڈیوں کو قحبہ گری اور رقص و موسیقی کے لئے استعمال کرنا مسلمانوں کے ان جرائم میں سے ہے جن پر انہوں نے اپنے نبی کی واضح تعلیمات کے خلاف عمل کیا۔ موجودہ دور میں قانونی غلامی کا خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن اس مقصد کے لئے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے ادارے پوری مسلم دنیا میں قائم ہیں جہاں تربیت دے کر انہیں مغربی اور مشرق وسطی کے ممالک میں اسمگل کر دیا جاتا ہے۔ یہ لڑکیاں اگرچہ قانونی طور پر آزاد ہوتی ہیں مگر عملاً غلام ہی ہوتی ہیں۔ اس پر تفصیلی بحث ہم نے باب 17 میں کی ہے۔ جب تک یہ معاملات ہمارے معاشروں میں موجود ہیں، ہمیں اللہ کے عذاب کا انتظار کرنا چاہیے جس کی لپیٹ میں نہ صرف یہ بدکار آئیں گے بلکہ وہ نیک لوگ بھی آ جائیں گے جو اس پر ان مجرموں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔

لونڈیوں کی شادیاں کر دینے کا حکم

اللہ تعالی نے لونڈیوں کو عصمت فروشی سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کی شادی کی ترغیب دلائی۔

وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۔ (النور 24:32)

تم میں سے جو (مرد و عورت) مجرد ہوں، ان کی شادیاں کر دیا کرو اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح بھی کر دیا کرو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت اور علم والا ہے۔

آزاد افراد کے لئے لونڈیوں سے شادی کرنے میں دو مسائل تھے۔ ایک تو یہ کہ لونڈیوں کو خاص طور پر قحبہ گری کی تربیت دی جاتی تھی۔ ایسی عورت سے شادی کر کے اس کے ساتھ نباہ کرنا ایک شریف آدمی کے لئے بڑا مشکل تھا۔ دوسرے یہ کہ ان سے ہونے والی اولاد کو بھی "غلام ماں کی اولاد" ہونے کا طعنہ دیا جاتا جو ان کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ اس وجہ سے لوگوں میں ان سے نکاح کرنے میں رغبت نہ پائی جاتی تھی۔ اللہ تعالی نے خاص طور پر مسلمانوں کے ان غریب لوگوں کو جو آزاد خواتین کے مہر ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، ترغیب دلائی کہ وہ لونڈیوں سے نکاح کر لیں۔

وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلاً أَنْ يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ۔ (النساء 4:25)

جو شخص تم میں سے اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ آزاد مسلمان خواتین سے شادی کر سکے تو تمہاری ان لڑکیوں میں سے کسی سے نکاح کر لے جو تمہاری ملکیت میں ہیں اور مومن ہیں۔ اللہ تمہارے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے لہذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو اور معروف طریقے سے ان کے مہر ادا کرو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں اور آزاد شہوت رانی اور چوری چھپے آشنائی سے بچ سکیں۔

لونڈیوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کا حکم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لونڈیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کر کے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرنے کی بھرپور ترغیب دی۔

أخبرنا محمد، هم ابن سلام، حدثنا المحاربي قال: حدثنا صالح بن حيان قال: قال عامر الشعبي: حدثني أبو بردة، عن أبيه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ثلاثة لهم أجران: رجل من أهل الكتاب، آمن بنبيه وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم، والعبد المملوك إذا أدى حق الله وحق مواليه، ورجل كانت عنده أمة يطؤها، فأدبها فأحسن أدبها، وعلمها فأحسن تعليمها، ثم أعتقها فتزوجها، فله أجران). (بخاری، کتاب العلم، حديث 97)

ابوبردہ کے والد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین افراد کے لئے دوگنا اجر ہے۔ (پہلا) اہل کتاب کا کوئی فرد جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور اس کے بعد محمد پر بھی ایمان لایا۔ (دوسرا) ایسا غلام کو اللہ اور اپنے آقا دونوں کا حق ادا کرتا ہے۔ اور (تیسرا) وہ شخص جس کی کوئی لونڈی ہو جس سے وہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہے تو اسے بہترین اخلاق اور علم کی تعلیم دے، اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے۔ اس کے لئے بھی دوگنا اجر ہے۔

لونڈیوں کے ازدواجی حقوق کا بیوی کے حقوق سے تقابلی جائزہ

لونڈیوں کے ضمن میں اہم ترین اصلاح یہ تھی کہ ان سے ازدواجی تعلقات کو صرف اور صرف ان کے آقا تک محدود قرار دے دیا گیا۔ اس طریقے سے لونڈی اپنے مالک کی ایک قسم کی بیوی ہی قرار پائی۔ اگر لونڈی کسی اور شخص کے ساتھ شادی شدہ ہو تو مالک کے لئے اس سے ازدواجی تعلقات ناجائز قرار دیے گئے۔

††††††††† اس مسئلے پر چونکہ بہت سے لوگوں کو تردد ہے، اس وجہ سے بہتر ہے کہ ہم بیوی اور لونڈی کے حقوق و فرائض کا ایک تقابلی جائزہ پیش کر دیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ مالک اور لونڈی کے درمیان ازدواجی تعلقات کی جو اجازت دی گئی تھی، اس کے نتیجے میں لونڈی کو مالک کی بیوی ہی کی ایک قسم قرار دیا گیا تھا۔ ان حقوق و فرائض کے بارے میں مسلمانوں کے اہل علم میں ایک عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

میاں اور بیوی کا تعلق ایک معاشرتی اور قانونی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے جسے نکاح کہتے ہیں۔ اس قانونی عمل کے بعد ہی انہیں ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

آقا اور لونڈی کا تعلق بھی ایک معاشرتی اور قانونی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے جس کے بعد انہیں ازدواجی تعلق کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے نتیجے میں ایک شخص "محصن" یعنی بدکاری وغیرہ سے محفوظ قرار پاتا ہے۔

لونڈی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے نتیجے میں بھی ایک شخص "محصن" قرار پاتا ہے۔ اس شخص پر بھی قانونی طور پر وہی احکام نافذ کئے جائیں گے جو شادی شدہ مرد پر نافذ ہوتے ہیں۔ (موطاء مالک، کتاب النکاح، 1555)

بیوی سے خاوند کی اولاد اپنے باپ کی وراثت میں پوری طرح حق دار ہوتی ہے۔

لونڈی سے آقا کی اولاد بھی اپنے باپ کی وراثت میں پوری طرح حق دار ہوتی ہے اور بیوی اور لونڈی کی اولاد کے سماجی رتبے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

بیوی کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا خاوند کی ذمہ داری ہے۔

لونڈی کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا آقا کی ذمہ داری ہے۔

اگر خاوند بیوی کی ضروریات پوری نہیں کرتا تو بیوی عدالت میں دعوی کر کے اپنے حقوق وصول کر سکتی ہے۔

اگر آقا لونڈی کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتا تو لونڈی بھی عدالت میں دعوی کر کے اپنے حقوق وصول کر سکتی ہے۔

اگر بیوی اپنے خاوند سے مطمئن نہ ہو تو وہ اس سے طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

اگر لونڈی اپنے آقا سے مطمئن نہ ہو تو وہ اس سے آزادی کا مطالبہ "مکاتبت" کی صورت میں کر سکتی ہے۔

اگر خاوند بیوی کے ازدواجی حقوق پورے نہ کر سکتا ہو تو بیوی اس سے طلاق لے سکتی ہے۔

اگر آقا لونڈی کے ازدواجی حقوق پورے نہ کر سکتا ہو، تو لونڈی کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ آقا سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کی کہیں شادی کر دے یا پھر اسے آزاد کر دے۔

اگر خاتون پہلے سے شادی شدہ ہو اور اس کی اپنے پہلے خاوند سے علیحدگی ہو جائے یا پہلا خاوند فوت ہو جائے تو اس صورت میں دوسری شادی کے لئے خاتون کو کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ اگر حمل موجود ہو تو وہ واضح ہو جائے۔ اس عمل کو "استبراء" کہا جاتا ہے۔ حمل ہونے کی صورت میں وضع حمل تک خاتون کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے۔

اگر لونڈی بھی پہلے کسی اور مالک کے پاس تھی تو اس صورت میں اسے دوسرے مالک کے پاس آنے سے پہلے استبراء کرنا ضروری ہے تاکہ اگر اسے حمل ہو تو وہ واضح ہو جائے۔ حمل ہونے کی صورت میں وضع حمل تک دوسرے مالک کو اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات کی اسے اجازت نہیں ہے۔ (موطاء مالک، کتاب النکاح، 1539, 1735)

کسی خاتون سے شادی کے بعد اس کی ماں اور بیٹی، اس خاتون کے شوہر کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہو جاتی ہیں۔

کسی لونڈی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے بعد لونڈی کی ماں اور بیٹی بھی آقا کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہو جاتی ہیں۔ (موطاء مالک، کتاب النکاح، 1543, 1547)

ایک بیوی کی موجودگی میں شوہر اس کی بہن، پھوپھی یا خالہ سے شادی نہیں کر سکتا۔

ایک لونڈی کی موجودگی میں آقا اس کی بہن، پھوپھی یا خالہ سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کر سکتا۔ (موطاء مالک، کتاب النکاح، 1539)

خاوند سے طلاق حاصل کرنے کے بعد خاتون کو اجازت ہے کہ وہ جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے۔

آقا سے آزادی حاصل کرنے کے بعد لونڈی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے۔ اگر اس کے آقا نے پہلے ہی اس کی شادی کسی سے کر رکھی ہے، تو آزادی کے وقت لونڈی کو یہ حق حاصل ہے کہ چاہے تو وہ اس شادی کو برقرار رکھے اور چاہے تو اس شادی کو بغیر طلاق کے ختم کر دے۔ اسے "خیار عتق" کہا جاتا ہے۔ (موطاء مالک، کتاب النکاح، 1625)

بیوی اور لونڈی میں جو فرق ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:

بیوی اپنی مرضی سے خاوند کے نکاح میں آتی ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر نکاح واقع ہی نہیں ہو سکتا۔

لونڈی کے معاملے میں یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ہی آقا کی ملکیت میں آئی ہو لیکن اگر اسے اپنا آقا پسند نہ ہو تو وہ مکاتبت حاصل کر کے فوری طور پر آقا سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔

بیوی کا اگر اپنے خاوند سے بچہ ہو جائے تو اس کی قانونی حیثیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔

لونڈی کا اگر اپنے آقا سے بچہ ہو جائے تو اس کی قانونی حیثیت یک دم بڑھ جاتی ہے۔ ایسی لونڈی کو ام ولد کہا جاتا ہے۔ ام ولد، مکاتب کی طرح غلام اور آزاد کی درمیانی حالت میں آ جاتی ہے اور آقا کے مرنے کی صورت میں وہ خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔

آزاد خاتون کی اپنے خاوند سے علیحدگی کی صورت میں اس کی عدت تین حیض (یا طہر) اور بیوگی کی صورت میں چار ماہ دس دن کی عدت مقرر کی گئی۔ حمل ہونے کی صورت میں یہ عدت وضع حمل ہی ہے۔

لونڈی کی عدت دو حیض مقرر کی گئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بیوہ لونڈی کی عدت ایک حیض مقرر کی گئی۔ حمل ہونے کی صورت میں یہ عدت وضع حمل ہی ہے۔

بیوی اور لونڈی کے مابین اس تفاوت میں دوسرا نکتہ، لونڈی کے حق میں ہے۔ تیسرا نکتہ بہت زیادہ اہم نہیں ہے۔ صرف پہلا نکتہ ایسا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں لونڈی، بیوی کی نسبت کمتر درجے کی حامل ہے۔ دین اسلام نے اس معاملے میں یہ اصلاح کی کہ لونڈی کو اگر اپنا آقا پسند نہ ہو، تو وہ اس کی ملکیت میں آنے کے فوراً بعد ہی، ازدواجی تعلقات قائم کئے بغیر، وہ مکاتبت کر سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں اس کی مثال موجود ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں پورا معاشرہ اس خاتون کی حمایت اور مدد کے لئے تیار تھا جو اپنے آقا کو ناپسند کرتی ہو۔

حدثنا عبد العزيز بن يحيى أبو الأصبغ الحراني، قال: حدثني محمد يعني ابن سلمة عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن عائشة [رضي اللّه عنها] قالت: وقعت جويرية بنت الحارث بن المصطلق في سهم ثابت بن قيس بن شماس، أو ابن عمّ له، فكاتبت على نفسها، وكانت امرأةً ملاّحة تأخذها العين، قالت عائشة رضي اللّه عنها: فجاءت تسأل رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم في كتابتها، فلما قامت على الباب فرأيتها كرهت مكانها وعرفت أن رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم سيرى منها مثل الذي رأيت، فقالت: يارسول اللّه، أنا جويرية بنت الحارث، وإنما كان من أمري ما لايخفى عليك، وإني وقعت في سهم ثابت بن قيس بن شماس، وإني كاتبت على نفسي فجئت أسألك في كتابتي فقال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم: "فهل لك إلى ما هو خيرٌ منه؟" قالت: وما هو يارسول اللّه؟ قال: "أؤدِّي عنك كتابتك وأتزوجك" قالت: قد فعلت، قالت: فتسامع تعني الناسَ أن رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم قد تزوج جُويرية، فأرسلوا ما في أيديهم من السَّبْيِ فأعتقوهم وقالوا: أصهار رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم، فما رأينا امرأة كانت أعظم بركة على قومها منها، أعتق في سببها مائة أهل بيت من بني المصطلق. (ابو داؤد، كتاب العتق، حديث 3931)

سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جویریۃ بنت حارث بن مصطلق، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے کزن کے حصے میں آئیں۔ انہوں نے ان سے اپنی آزادی کے بارے میں مکاتبت کر لی۔ آپ ایک نہایت شاندار خاتون تھیں اور آپ پر نظر نہ ٹکتی تھی۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں، "جویریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت کے سلسلے میں آئیں۔ جب وہ دروازے میں کھڑی تھیں تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ انہیں اپنی موجودہ جگہ پسند نہیں ہے۔"

وہ کہنے لگیں، "یا رسول اللہ! میں جویریہ بنت حارث ہوں۔ میرا معاملہ آپ نے مخفی نہیں ہے۔ میں ثابت بن قیس بن شماس کے حصے میں آئی ہوں۔ میں نے ان سے اپنی آزادی کے سلسلے میں مکاتبت کر لی ہے۔ میں آپ سے اس مکاتبت کے معاملے میں (مدد کی) درخواست کرنے آئی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اگر میں آپ کو اس سے بہتر پیشکش کروں تو کیا آپ کو قبول ہو گی؟ وہ کہنے لگیں، "وہ کیا یا رسول اللہ؟"آپ نے فرمایا، "میں آپ کی کتابت کی پوری رقم ادا کر دوں اور آپ سے شادی کر لوں؟" وہ کہنے لگیں، "میں یہی کرنا چاہوں گی۔"

لوگوں نے جب یہ بات سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو وہ کہنے لگے، "یہ (بنو عبدالمصطلق کے) قیدی تو اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سسرالی رشتے دار ہو گئے، ہم انہیں قید کیسے رکھیں۔" انہوں نے ان سب کو آزاد کر دیا۔ سیدہ عائشہ کہتی ہیں، "میں نے جویریہ سے بڑھ کر کوئی خاتون نہیں دیکھی جو اپنی قوم کے لئے اتنی بابرکت ثابت ہوئی ہو کہ ان کے باعث ان کے رشتے دار بنو عبدالمصطلق کے سو کے قریب قیدی آزاد ہوئے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دیگر مواقع پر بھی سسرالی تعلقات قائم کر کے جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے کی ترغیب دلائی تھی۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

ہم بیان کر چکے ہیں کہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں اگر کوئی لونڈی مکاتبت کر لیتی تو اس کے بعد اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جاتا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , عَنِ الدَّسْتَوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ فِي رَجُل وَطِئَ مُكَاتَبَتَهُ قَالَ إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَعَلَيْهِ الْعُقْرُ وَالْحَدُّ , وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَلَيْسَ عَلَيْهِ الْعُقْرُ. (مصنف ابن ابی شيبة، كتاب الحدود، حديث 28619)

قتادہ ایسے شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جس نے اپنی مکاتبہ لونڈی سے ازدواجی تعلق قائم کیا تھا، وہ کہتے ہیں، "اگر اس نے ایسا جبراً کیا ہے تو اسے (بدکاری کی) شرعی حد کے علاوہ سزا بھی دی جائے گی۔ اگر اس نے ایسا اس کی رضامندی سے کیا ہے تو پھر اسے صرف شرعی حد لگائی جائے گی اور اضافی سزا نہ دی جائے گی۔

لونڈیوں کی عفت و عصمت کی حفاظت

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عربوں میں لونڈیوں کو خاص طور پر قحبہ گری کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بطور خاص ان لونڈیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دی اور ان کے آقاؤں کو حکم دیا کہ وہ ان کی اخلاقی تعلیم و تربیت کر کے انہیں آزاد کر دیں۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لونڈیوں کی عفت و عصمت کو آزاد عورت کے برابر قرار دیا۔ لونڈی کی آبرو ریزی کرنے کی وہی سزا مقرر فرمائی گئی جو کہ آزاد عورت کی آبرو ریزی کرنے کی سزا تھی۔

حدثنا قتيبة بن سعيد وأبو كامل الجحدري (واللفظ لقتيبة). قالا: حدثنا أبو عوانة عن سماك، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لماعز بن مالك (أحق ما بلغني عنك؟) قال: وما بلغك عني؟ قال (أنك وقعت بجارية آل فلان) قال: نعم. قال: فشهد أربع شهادات. ثم أمر به فرجم. (مسلم، كتاب الحدود، حديث 4427، نسائی سنن الکبری، کتاب الرجم، حديث 7134)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ماعز بن مالک سے پوچھا، "کیا جو خبر مجھ تک پہنچی ہے وہ سچ ہے؟" انہوں نے کہا، "آپ تک کیا بات پہنچی ہے؟" آپ نے فرمایا، "تم نے فلاں کی لونڈی کی آبرو ریزی کی ہے؟" انہوں نے چار مرتبہ قسم کھا کر اقرار کر لیا۔ آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔

اگر کوئی لونڈی کسی شخص کی بیوی کی ملکیت ہو تو اسلام سے پہلے یہ کوئی بڑی بات نہ تھی کہ خاوند اپنی بیوی کی لونڈی سے بھی ازدواجی تعلقات قائم کر لے۔ دین اسلام نے اسے مکمل حرام قرار دیا اور ایسی صورت میں اس شخص کو سزا دینے کا حکم دیا۔

حدثنا أحمد بن صالح، ثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن قتادة، عن الحسن، عن قبيصة بن حريث، عن سلمة بن المحبَّق أن رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم قضى في رجل وقع على جارية امرأته: إن كان استكرهها فهي حُرَّة وعليه لسيدتها مثلها، فإِن كانت طاوعته فهي له وعليه لسيدتها مثلها. قال أبو داود: رواه يونس بن عبيد وعمرو بن دينار، ومنصور بن زاذان، وسلام عن الحسن هذا الحديث بمعناه، لم يذكر يونس ومنصور قبيصة. (ابو داؤد، كتاب الحدود، حديث 4460، نسائی سنن الکبری، حديث 7231)

سیدنا سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے تھے: "اگر تو اس نے ایسا زبردستی کیا ہے تو اس لونڈی کو آزاد کر دیا جائے اور اس شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ ویسی ہی لونڈی کی خدمات کو خرید کر اپنی بیوی کے حوالے کرے۔ اگر اس نے ایسا لونڈی کی رضامندی سے کیا تھا تو وہ لونڈی اسی شخص کو دے دی جائے اور اس شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ ویسی ہی لونڈی کی خدمات کو خرید کر اپنی بیوی کے حوالے کرے۔

وقال أبو الزناد، عن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلمي، عن أبيه:أن عمر رضي الله عنه بعثه مصدقا، فوقع رجل على جارية امرأته، فأخذ حمزة من الرجل كفيلا حتى قدم على عمر، وكان عمر قد جلده مائة جلدة، فصدقهم وعذره بالجهالة. (بخاری، كتاب الکفالة، حديث 2290)

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا۔ (جہاں وہ زکوۃ وصول کر رہے تھے وہاں کے) ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے تھے۔ حمزہ نے اس شخص کی دوسرے شخص سے ضمانت لی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے اس شخص کو سو کوڑے کی سزا سنائی۔ اس شخص نے جو جرم کیا تھا، اسے قبول کر لیا تھا لیکن یہ بھی بتایا تھا کہ دین کا یہ حکم اس کے علم میں نہ تھا۔ اس وجہ سے حضرت عمر نے اس عذر کو قبول کر لیا تھا۔

ام ولد سے متعلق اصلاحات

اسلام سے پہلے لونڈیوں اور ان کے بچوں کا معاشرے میں بہت پست مقام تھا۔ لونڈی کے بچوں کو آزاد خاتون کے بچوں کی نسبت حقیر سمجھا جاتا۔ ام ولد کو بیچنے کا رواج تو عرب میں کم ہی تھا لیکن تھوڑا بہت پایا جاتا تھا۔ اسلام نے اس ضمن میں یہ اصلاح کی کہ بچے والی لونڈی جسے ام ولد کہا جاتا ہے، کی خدمات کی منتقلی کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔ ایسی لونڈی اپنے خاوند کی بیوی کے ہم پلہ قرار پائی۔ اس کے بچے کا بھی معاشرے میں وہی مقام قرار پایا جو کہ آزاد عورت کے بچے کا تھا۔

حدثنا عبد اللّه بن محمد النفيلي، ثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن خطَّاب بن صالح مولى الأنصار، عن أمِّه، عن سلامة بنت معقل امرأة من خارجة قيس عَيْلان، قالت:قَدِمَ بي عمي في الجاهلية، فباعني من الحباب بن عمرو أخي أبي اليَسر بن عمرو، فولدت له عبد الرحمن بن الحباب ثم هلك، فقالت امرأته: الآن واللّه تباعين في دَيْنِهِ، فأتيت رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم فقلت: يارسول اللّه، إني امرأة من خارجة قيس عيلان قدم بي عمي المدينة في الجاهلية، فباعني من الحباب بن عمرو أخي أبي اليَسر بن عمرو، فولدت له عبد الرحمن بن الحباب، فقالت امرأته: الآن واللّه تباعين في دَيْنه، فقال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم: "من ولِيُّ الحباب؟" قيل: أخوه أبو اليسر بن عمرو، فبعث إليه فقال: "أعتقوها، فإِذا سمعتم برقيقٍ قدم عليَّ فأتوني أعوضكم منها" (ابو داؤد، کتاب العتق، حديث 3953)

سلامہ بنت معقل بیان کرتی ہیں کہ میں خارجہ قیس عیلان سے تعلق رکھتی ہوں اور اپنے چچا کے ساتھ آئی تھی۔ میرے چچا نے مجھے دور جاہلیت میں حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا تھا جو کہ ابی الیسر بن عمرو کے بھائی تھے۔ میرے ہاں ان سے عبدالرحمٰن بن حباب کی پیدائش ہوئی۔ اس کے بعد حباب فوت ہو گئے۔ ان کی بیوی کہنے لگی، "خدا کی قسم اب تو ہم اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے تمہیں بیچیں گے۔"

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی، "یا رسول اللہ! میں خارجۃ قیس علیان سے اپنے چچا کے ساتھ دور جاہلیت میں مدینہ آئی تھی۔ انہوں نے مجھے حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا تھا اور میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب کی پیدائش ہوئی ہے۔ اب ان کی بیوی کہہ رہی ہے کہ وہ ان کا قرض ادا کرنے کے لئے مجھے بیچ دیں گی۔" آپ نے فرمایا، "حباب کے بعد خاندان کا سرپرست کون ہے؟" کہا گیا، "ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو۔" آپ خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا، "انہیں آزاد کر دو۔ جب بھی تم کسی غلام کے بارے میں سنو تو میرے آ جایا کرو۔ میں تمہیں اس کا معاوضہ دوں گا۔"

حدّثنا أحَمَدُ بْنُ يَوسُفَ. نا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَبو بَكْرٍ، يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ، عَنِ الحُسَيْنِ ابنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: ذُكِرِتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ:((أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا)). (ابن ماجة، كتاب العتق، حديث 2516)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے ام ابراہیم (ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کا ذکر کیا گیا۔ آپ نے فرمایا، "اس کے بچے نے اسے آزاد کروا دیا ہے۔"

حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّد ومحمد بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَالاَ: ثنا وَكِيعٌ. ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قَالَ: قَال رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ((أَيُّمَا رَجلٍ وَلَدَتْ أمَتُهُ مِنُ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ)). (ابن ماجة، كتاب العتق، حديث 2515، مشکوۃ، کتاب العتق، حديث 3394)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس شخص کے ہاں بھی کسی لونڈی سے بچہ پیدا ہو جائے، تو وہ اس کے فوت ہوتے ہی آزاد ہو جائے گی۔"

ان دونوں احادیث کی سند میں اگرچہ حسین بن عبداللہ ضعیف راوی ہیں لیکن اس حدیث کی دیگر صحیح اسناد بھی موجود ہیں۔ دارمی میں یہی حدیث صحیح سند سے روایت کی گئی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہی فرمان تھا کہ ام ولد کی منتقلی کو مکمل طور پر روک کر اس کی آزادی پر عمل درآمد کیا جائے۔

نا عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم البغوي نا أبو زيد بن طريف نا إبراهيم بن يوسف الحضرمي نا الحسن بن عيسى الحنفي عن الحكم بن أبان عن عكرمة عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أم الولد حرة وإن كان سقطا. (دارقطنی، كتاب المکاتب، مسند ابن الجعد)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "ام ولد آزاد ہی ہے اگرچہ اس کا حمل ساقط ہو جائے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ام ولد کی آزادی کو بچے کے پیدا ہونے سے مشروط نہیں فرمایا بلکہ محض حمل ٹھہر جانے سے مشروط فرما دیا اگرچہ وہ حمل بعد میں ضائع بھی ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس ضمن میں سختی سے ام ولد کی آزادی کو نافذ کیا۔

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا، فَإِنَّهُ لاَ يَبِيعُهَا، وَلاَ يَهَبُهَا، وَلاَ يُوَرِّثُهَا, وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ. (موطا مالک، کتاب العتق، حديث 2248)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا: جس لونڈی کے بھی اپنے آقا سے بچہ پیدا ہو، تو اس کی خدمات کو نہ تو بیچا جائے گا، نہ ہی کسی کو تحفتاً منتقل کیا جائے گا، نہ ہی وراثت میں منتقل کیا جائے گا۔ وہ مالک ہی اس سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گی۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability