بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 10: غلاموں میں اضافے کا سدباب

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ دور قدیم میں مختلف معاشروں میں نئے غلاموں میں اضافے کے لئے مختلف طریقے رائج تھے جن کی تفصیل یہ ہے:

·       بچوں، خواتین اور مردوں کو اغوا کر کے غلام بنا لیا جائے۔

·       کسی آبادی پر حملہ کر کے اس کے تمام شہریوں کو غلام بنا لیا جائے۔

·       کسی شخص کو اس کے کسی جرم کی پاداش میں حکومت غلام بنا دے۔

·       اگر کسی کو کوئی لاوارث بچہ، عورت یا مرد ملے تو وہ اسے غلام بنا لے۔

·       قرض کی ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں مقروض کو غلام بنا دیا جائے۔

·       غربت کے باعث کوئی شخص خود کو یا اپنے بیوی بچوں کو فروخت کر دے۔

·       پہلے سے موجود غلاموں کی اولاد کو بھی غلام ہی قرار دے دیا جائے۔

·       جنگ جیتنے کی صورت میں فاتحین، مفتوحین کو غلام بنا دیں۔

دین اسلام نے اس ضمن میں جو اصلاحات کیں، ان کی تفصیل ہم الگ الگ عنوانات کے تحت بیان کرتے ہیں۔ جنگی قیدیوں کی تفصیل ہم اگلے باب میں بیان کریں گے۔

اغوا یا حملہ  کر کے غلام بنا لینے پر پابندی

اسلام سے پہلے دنیا بھر میں یہ معمول تھا کہ مختلف قومیں اور قبائل ایک دوسرے پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بردہ فروشوں کے گروہ سرگرم عمل رہتے اور بچوں وغیرہ کو اغوا کر کے انہیں غلام بنا لیتے۔ سیدنا زید بن حارثہ، سلمان فارسی اور صہیب رومی رضی اللہ عنہم کو اسی طریقے سے اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی بھی آزاد شخص، خواہ وہ بالغ مرد و عورت ہو یا بچہ، کو اغوا کر کے غلام بنا لینے کو ایک عظیم جرم قرار دیا۔

حدثني بشر بن مرحوم: حدثنا يحيى بن سليم، عن إسماعيل بن أمية، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة رضي الله عنه،  عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (قال الله: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره) (بخاری، كتاب البيوع، حديث 2227)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ تین افراد ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں قیامت کے دن میں خود ہی دعوی دائر کر دوں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر وعدہ کیا اور پھر اسے توڑ دیا۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد شخص کو پکڑ کر بیچا اور اس کی قیمت کھا گیا۔ تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کو کام پر رکھا، اس سے پورا کام لے لیا لیکن اس کی اجرت عطا نہیں کی۔"

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کی جو بچوں کو اغوا کر کے غلام بناتا ہو۔ ایک ضعیف حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بھی اسی سزا کا ذکر ملتا ہے۔ (دیکھیے، بیہقی، معرفۃ السنن و الآثار، کتاب السرقۃ)

          اسلام سے پہلے کے زمانے میں عرب میں جنگ و جدال عام تھا۔ بعض قبائل کا پیشہ ہی لوٹ مار ہوا کرتا تھا۔ بدامنی کا یہ عالم تھا کہ سوائے چار ماہ کے کسی قافلے کا عرب کے اطراف میں سفر کرنا ہی ایک مشکل کام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین نے عرب میں ایسا امن قائم کیا کہ اب اگر کوئی خاتون پورے زیورات پہن کر عرب کے ایک سرے سے دوسرے تک بھی اکیلی چلی جاتی تو کوئی اس سے تعرض کرنے والا نہ تھا۔ اس امن کا نتیجہ یہ نکلا کہ عملی طور پر اغوا کر کے غلام بنا لینے کا خاتمہ کر دیا گیا۔

جرم کی پاداش میں غلام بنا لینے پر پابندی

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جن جرائم پر انتہائی سزائیں مقرر کی ہیں، وہ سب کی سب جسمانی نوعیت کی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف جرائم کی سزاؤں کو حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور خلفاء راشدین کی پوری تاریخ میں کبھی کسی جرم میں کسی بھی شخص کو غلام بنا لینے کی سزا نہیں دی گئی۔ بعد کے ادوار میں بالعموم اسی پر عمل رہا ہے۔ اس کی وجہ وہی وعید ہے کہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے، اس پر دعوی اللہ تعالی خود قائم کرے گا۔

لاوارثوں کو غلام بنا لینے پر پابندی

اسلام میں لاوارث افراد کو غلام بنا لینے کی بھی قطعی ممانعت کی گئی۔ پوری امت مسلمہ میں یہ اجماعی اصول طے پا گیا کہ جس شخص یا بچے کے بارے میں یہ علم نہ ہو سکے کہ وہ آزاد ہے یا غلام، اسے آزاد ہی تصور کیا جائے گا۔ اسلام سے پہلے کے زمانے میں ایسا نہیں تھا بلکہ لاوارث بچوں کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ وہ غلام ہی ہیں۔ اس اجماعی اصول پر پوری طرح عمل کیا گیا۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَعْتَقَ لَقِيطًا. (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث 22327)

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لاوارث بچے کو آّزاد قرار دیا۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زُهَيْرٍ الَعَنَسِيّ أَنَّ رَجُلاً الْتَقَطَ لَقِيطًا فَأَتَى بِهِ عَلِيًّا , فَأَعْتَقَهُ وَأَلْحَقَهُ فِي مِئَةٍ. (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث 33609)

زھیر عنسی کہتے ہیں کہ ایک شخص کو ایک بچہ پڑا ہو ملا۔ اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ انہوں نے اسے آزاد قرار دیا اور (اس کے خرچ کی ذمہ داری کو) سو افراد کے ذمے لگا دیا۔

موجودہ دور میں دین اسلام اور مسلمانوں کے مشہور نقاد لیوس برنارڈ لکھتے ہیں:

But Qur'anic legislation, subsequently confirmed and elaborated in the Holy Law, brought two major changes to ancient slavery which were to have far-reaching effects. One of these was the presumption of freedom; the other, the ban on the enslavement of free persons except in strictly defined circumstances….. It became a fundamental principle of Islamic jurisprudence that the natural condition, and therefore the presumed status, of mankind was freedom, just as the basic rule concerning actions is permittedness: what is not expressly forbidden is permitted; whoever is not known to be a slave is free. (Race & Slavery in Middle East)

قرآنی قانون نے، جس کی بعد میں مقدس قانون کی شکل میں توثیق اور توضیح کی گئی، قدیم غلامی میں دو تبدیلیاں پیدا کیں جس کے اثرات دور رس تھے۔ ایک تو یہ کہ آزادی کو اصول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ دوسرا یہ کہ سختی سے متعین کردہ حالات کے علاوہ آزاد افراد کو غلام بنا لئے جانے پر پابندی لگا دی گئی۔۔۔۔۔یہ اسلامی فقہ کا ایک بنیادی اصول بن گیا کہ انسانوں کی فطری حالت، بنیادی طور پر آزادی ہی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ (اسلام میں) یہ بنیادی اصول ہے کہ جس چیز کے حرام ہونے کو بیان نہیں کیا گیا، وہ جائز اور حلال ہے۔ اسی اصول پر یہ طے پایا کہ جس شخص کے غلام ہونے کا علم نہیں ہے، وہ آزاد ہی ہے۔

قرض کی عدم ادائیگی پر غلام بنا لینے پر پابندی

دور قدیم سے ہی یہ اصول چلا آ رہا تھا کہ قرض کی عدم ادائیگی کے باعث کسی شخص کو اس کے بیوی بچوں سمیت غلام بنا لیا جائے۔ اس ضمن میں اسلام نے نہ صرف یہ کہ قرض ادا نہ کر سکنے والے شخص کو غلام بنا لینے کی ممانعت کر دی بلکہ اس کے علاوہ ایسے اقدامات بھی کئے جن کے نتیجے میں قرض دار کا استحصال کرنے کی تمام صورتیں ممنوع قرار پائیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لا يَقُومُونَ إِلاَّ كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوْا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنْ الرِّبَا إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ۔ (البقرة 2:275-279)

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو۔ یہ (سزا) اس لئے ہو گی کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت کرنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ تجارت کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا ہے اور (قیامت میں) اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو گا۔ اور جس نے دوبارہ سود لینا شروع کر دیا تو ایسے لوگ جہنمی ہیں اور وہ ہمیشہ جہنم میں (جلتے) رہیں گے۔

اللہ سود کو نیست و نابود (یعنی بےبرکت) کرتا ہے اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ اللہ کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

مومنو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ اگر ایسا نہ کرو گے  تو تمہیں خبردار کیا جاتا ہے (کہ تم) اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اگر تم توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی کوئی تم پر ظلم کرے۔

قرآن مجید نے سود لینے والوں کے لئے نہ صرف آخرت کے عذاب کی وعید سنائی بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ اگر وہ سود لینے کو ترک نہ کریں گے تو پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، جنہیں اللہ کی مدد حاصل ہو گی، سے جنگ کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔ اس جنگ کی نوبت اس لئے نہ آئی کہ مسلمانوں نے اپنے درمیان سود کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ مثال قائم فرمائی کہ آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا سودی قرضہ بہت سے لوگوں کے ذمہ واجب الادا تھا، آپ نے اس پورے کے پورے سود کو معاف فرما دیا۔

          قرآن مجید نے یہ حکم دیا کہ اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اصل زر کی وصولی کے لئے بھی اسے مہلت دی جائے اور بہتر یہی ہے اس اصل قرض کو بھی معاف کر دیا جائے۔

وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔ (البقرة 2:280)

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) آسانی کے حاصل ہونے تک مہلت دو اور اگر (اصل زر) معاف ہی کر دو توتمہارے لئے یہ زیادہ اچھا ہے اگر تم اس بات کو سمجھتے ہو۔

بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تنگ دست مقروضوں کے لئے یہ حکم جاری فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنا قرض ادا نہ کر سکے تو اس کے قرض کی ادائیگی حکومت کے ذمہ ہو گی۔

حدثني محمد بن رافع. حدثنا شبابة. قال: حدثني ورقاء عن أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال (والذي نفس محمد بيده! إن على الأرض من مؤمن إلا أنا أولى الناس به. فأيكم ما ترك دينا أو ضياعا فأنا مولاه. وأيكم ترك مالا فإلى العصبة من كان)۔ (مسلم، كتاب الفرائض، حديث 4517)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اس کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! روئے زمین پر کوئی ایسا مسلمان نہیں جس سے میرا قریب ترین تعلق نہ ہو۔ تم میں سے جو شخص کے ذمے قرض یا اور کوئی ادائیگی ہو اور وہ فوت ہو جائے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ تم میں سے اگر کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔"

ان اصلاحات کے نتیجے میں قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں غلام بنا لئے جانے کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔

غربت کے باعث اپنی ذات یا اولاد کو فروخت کرنے پر پابندی

دنیا کے بہت سے حصوں میں لوگ غربت کے باعث اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو فروخت کر دیا کرتے تھے اور اب بھی ایسا کرتے ہیں۔ دین اسلام میں ایسے لوگوں کو خریدنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی ایسے شخص کو خریدا ہے۔ مسلمان معاشرے کو بالعموم اور حکومت کو بالخصوص ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے معاشرے میں غربت کے خاتمے کے لئے جو اقدامات کئے ان کی تفصیل ہم "نیم غلامی سے متعلق اصلاحات" کے تحت تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

          ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زکوۃ کا نظام قائم فرمایا جس کا بنیادی مقصد غربت کا خاتمہ ہی تھا۔ آپ نے زمینوں کی آباد کاری پر بھرپور توجہ دی اور جو لوگ زمین سے محروم تھے، انہیں زمینیں عطا کیں تاکہ وہ انہیں آباد کر کے اپنی مالی حالت بہتر بنا سکیں۔ اس ضمن میں یہ شرط رکھی گئی کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین کے جتنے حصے کو آباد نہ کر سکا تو اس کی فالتو زمین اس سے لے کر کسی اور ضرورت مند کو دے دی جائے گی۔ زمیندار اور مزارعوں سے متعلق ہر قسم کی استحصالی شرائط سے منع فرما دیا گیا۔

          ان اصلاحات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی حکومت میں غربت کا تقریباً خاتمہ ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تو یہ مشہور ہے کہ لوگ خیرات کی رقم لے کر ان افراد کو ڈھونڈتے تھے جو اسے قبول کرنے پر تیار ہوں لیکن اس رقم کو قبول کرنے والا بڑی مشکل سے ہی ملا کرتا تھا۔ اس طریقے سے وہ وجہ ہی سرے سے ختم کر دی گئی جس کے باعث کوئی اپنی ذات یا اولاد کو فروخت کرنے پر تیار ہوتا تھا۔ لوئیس برنارڈ اس ضمن میں لکھتے ہیں۔

The enslavement of free Muslims was soon discouraged and eventually prohibited. It was made unlawful for a freeman to sell himself or his children into slavery, and it was no longer permitted for freemen to be enslaved for either debt or crime, as was usual in the Roman world and, despite attempts at reform, in parts of Christian Europe until at least the sixteenth century.  (Race & Slavery in Middle East)

آزاد مسلمانوں کو غلام بنائے جانے کی حوصلہ شکنی کی گئی اور بالآخر اسے مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ یہ بات خلاف قانون قرار دی گئی کہ کوئی شخص اپنی ذات یا اولاد کو بطور غلام فروخت کر سکے۔ اس بات کی اجازت بھی ختم کر دی گئی کہ کسی آزاد شخص کو قرض کی عدم ادائیگی یا کسی جرم کی پاداش میں غلام بنایا جائے گا۔ (غلام بنانے کے یہ تمام طریق ہائے کار) رومی دنیا میں عام تھے اور اصلاح کی تمام تر کوششوں کے باوجود عیسائی دنیا میں یہ طریق ہائے کار سولہویں صدی تک چلتے رہے ہیں۔

غلاموں کی آئندہ آنے والی نسلوں کی آزادی

دنیا بھر میں یہ دستور رائج تھا کہ غلاموں کی آئندہ نسلیں بھی غلام ہوں گی۔ دنیا کے تمام خطوں میں غلاموں کو عام طور پر شادی کی اجازت بھی اسی وجہ سے دی جاتی تھی کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے غلاموں کی فوج میں اضافہ کر سکیں گے۔ لونڈیوں سے عصمت فروشی کروانے کا مالکوں کو ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس کے نتیجے میں ان کے پاس لونڈیوں کی ناجائز اولاد کی صورت میں مزید غلام میسر آ جاتے۔ ان غلاموں کا کوئی متعین باپ بھی نہ ہوا کرتا جو ان کی آزادی کی کوشش کر سکتا۔

ظہور اسلام کے وقت غلاموں کی اولاد کی جو اقسام دور جاہلیت سے چلی آ رہی تھیں، وہ یہ تھیں:

·       آقاؤں کے اپنی لونڈیوں سے پیدا ہونے والے بچے

·       آزاد خواتین کے غلام شوہروں سے پیدا ہونے والے بچے

·       لونڈیوں کے اپنے آزاد خاوندوں سے پیدا ہونے والے بچے

·       غلام باپ اور کنیز ماں کے بچے

آقاؤں کی اپنی لونڈیوں سے اولاد

دور جاہلیت میں ان میں سے ہر قسم کے بچوں کو بالعموم غلام ہی سمجھا جاتا تھا۔ ان میں سے ان بچوں کی حالت نسبتاً بہتر تھی جو آقا اور لونڈی کے ازدواجی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہوں لیکن یہ بھی اپنے ان سوتیلے بہن بھائیوں کی نسبت کمتر درجے کے حامل ہوا کرتے تھے جو ان کے باپ اور ایک آزاد عورت کے ازدواجی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہوں۔ ان بچوں کے حقوق وراثت وغیرہ کے معاملات میں اپنے آزاد بہن بھائیوں کی نسبت نہ ہونے کے برابر تھے۔

          اسلام نے ان بچوں سے متعلق جو اصلاحات کیں، ان کے مطابق آقا اور لونڈی کے تعلق سے پیدا ہونے والے بچوں کو مکمل طور پر آزاد اور اپنے سوتیلے بہن بھائیوں کے ہم پلہ قرار دیا۔ انہیں وراثت میں بھی وہی حقوق دیے گئے جو ان کے بہن بھائیوں کو حاصل تھے۔ نہ صرف اولاد بلکہ اس اولاد کی کنیز ماں کے خود بخود آزاد ہو جانے کا قانون بنا دیا گیا جس کی تفصیل ہم "ام ولد" کے عنوان کے تحت بیان کر چکے ہیں۔

آزاد ماں اور غلام باپ کی اولاد

بالکل یہی معاملہ ان بچوں کے ساتھ کیا گیا جن کا باپ غلام اور ماں آزاد ہو۔ ان بچوں کو بھی مکمل طور پر آزاد قرار دے دیا گیا۔

حدثنا يعلى عن الأعمش عن إبراهيم قال قال عمر المملوك يكون تحته الحرة يعتق الولد بعتق أمه فإذا عتق الأب جر الولاء.‏ (دارمی، کتاب الفرائض، حدیث 3170)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "غلام باپ اور آزاد خاتون کے بچے اپنی ماں کے آزاد ہونے کے باعث آزاد ہی ہوں گے۔ جب ان کا باپ آزاد ہو گا تو (ان بچوں کی) ولاء کا رشتہ (باپ کے سابقہ مالک) سے قائم ہو جائے گا۔"

ابن تیمیہ، امام احمد بن حنبل کا یہ نقطہ نظر بیان کرتے ہیں کہ آزاد ماں اور غلام باپ کے بچے بھی آزاد ہی ہوں گے۔

قال أحمد : إذا تزوج العبد حرة عتق نصفه . ومعنى هذا ، أن أولاده يكونون أحراراً وهم فرعه ، فالأصل عبد وفرعه حر والفرع جزء من الأصل .‏ (ابن تیمیہ، السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی و الرعیۃ)

احمد بن حنبل کہتے ہیں، "جب کوئی غلام کسی آزاد خاتون سے شادی کر لے تو اس کا نصف آزاد ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس غلام کی اولاد آزاد ہو گئی کیونکہ وہ اسی کی ایک شاخ ہے۔ تنا تو غلام ہے لیکن شاخیں آزاد ہیں اور شاخ تو تنے کا ایک حصہ ہی ہے۔"

آزاد باپ اور غلام ماں کی اولاد

ایسے بچے جن کی ماں غلام اور باپ آزاد ہو تو ان کے ضمن میں کوئی مرفوع حدیث ہمیں نہیں مل سکی۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ رہی ہو گی کہ ایسا کوئی مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہی نہ ہوا ہو گا۔ اول تو ایسے جوڑوں کی تعداد ہی بہت کم تھی جن میں آزاد مردوں نے غلام خواتین سے نکاح کی ہو کیونکہ لونڈیوں کی اخلاقی حالت کے باعث ان سے آزاد مرد بہت کم نکاح کیا کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ جو ایسے جوڑے ہوں گے بھی، انہوں نے اپنے مالکان کو بچوں کی آزادی پر راضی کر لیا ہو گا اور عدالت میں مقدمے کی نوبت ہی نہ آئی ہو گی۔

          سیدنا عمر یا عثمان رضی اللہ عنہما کے دور میں ایک ایسا مقدمہ پیش کیا گیا جس میں ایک لونڈی نے جھوٹ بول کر خود کو آزاد عورت ظاہر کر کے شادی کر لی۔ اس مقدمے میں خلیفہ وقت نے ان بچوں کے آزاد باپ کو حکم دیا کہ وہ فدیہ ادا کر کے اپنے بچوں کو آزاد کروا لے۔ (موطاء مالک، کتاب الاقضیۃ، حدیث 2160)۔ ایک اور مقدمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے پاس پیش کیا گیا تو انہوں نے ایسے بچوں کو غلام بنانے سے منع فرما دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کیا:

قال (احمد): و اخبرنا ثقہ عن ابن ابی ذئب، عن الزھری، عن سعید بن المسیب، ان عمر بن الخطاب کان یقضی فی العرب الذین ینکحون الاماء بالفداء بالغرۃ۔ (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب السیر، حدیث 17964)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے عربوں سے جو لونڈیوں سے نکاح کر لیتے تھے، (کی اولاد کے بارے میں) یہ فیصلہ کیا کہ وہ فدیہ ادا کر کے (اپنی اولاد کو آزاد کروا سکتے ہیں۔)

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إلَى عَبْدِ اللهِ فَقَالَ : إنَّ عَمِّي زَوَّجَنِي وَلِيدَتَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَرِقَّ وَلَدِي ، قَالَ : لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ.  (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 21277)

ایک شخص عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا، میرے چچا نے اپنی لونڈی کی شادی مجھ سے کر دی تھی۔ اب وہ میری اولاد کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، "اس ایسا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔"

ابن کثیر نے امام شافعی کا ایک نقطہ نظر یہ درج کیا ہے کہ ماں یا باپ میں سے اگر ایک بھی آزاد ہو تو ان کے بچے بھی آزاد ہی تصور کئے جائیں گے۔ (تفسیر سورۃ نساء 4:25)

غلام ماں اور غلام باپ کی اولاد

وہ بچے جن کے ماں اور باپ دونوں ہی غلام ہوں، ان کے بارے میں بھی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں مل سکی۔ تفسیر و فقہ کی کتب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے تابع ہی ہوں گے۔ جب تک ان کے والدین غلام رہیں گے، یہ بچے بھی غلام ہی تصور کئے جائیں گے اور جب والدین آزاد ہوں گے یا ان میں سے کوئی مکاتبت کرے گا تو یہ بچے خود بخود ان کے ساتھ ہی آزاد ہو جائیں گے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَلَدُ أُمِّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَتِهَا.  (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 21000)

نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، "لونڈی کی (اپنے مالک کے علاوہ کسی اور شوہر کی اولاد) اپنی ماں کے درجے پر ہے (یعنی وہ ماں کے ساتھ ہی آزاد ہو جائے گی۔)

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ ؛ فِي الرَّجُلِ يُزَوِّجُ أُمَّ وَلَدِهِ عَبْدَهُ فَتَلِدُ لَهُ أَوْلاَدًا ، قَالَ : هُمْ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ ، يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا ، فَإِذَا مَاتَ سَيِّدُهُمْ عَتَقُوا.  (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 20996)

(تابعی عالم) ابراہیم نخعی نے ایسی صورت کے بارے میں فتوی دیا جس میں ایک شخص نے اپنی ام ولد کی شادی اپنے غلام سے کر دی تھی اور پھر اس غلام میں سے اس کی اولاد بھی پیدا ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا، "وہ اپنی ماں کے درجے پر ہوں گے۔ جب تک وہ غلامی کی حالت میں رہے گی، یہ بھی غلام رہیں گے اور جب وہ مکمل آزاد ہو جائے گی تو یہ بھی آزاد ہو جائیں گے۔ جب ماں کا آقا فوت ہو گا تو یہ سب کے سب آزاد ہو جائیں گے۔"

اس معاملے میں بھی کسی مرفوع حدیث کے نہ پائے جانے کا سبب بنیادی طور پر یہی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں پیش نہیں آیا جس میں کسی غلام یا لونڈی کے مالک نے ان کے بچوں کو آزاد کرنے سے انکار کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر اس اصول کو مان لیا گیا ہے کہ غلاموں کے نابالغ بچے اپنے والدین کے تابع ہی ہوں گے۔ اگر ان بچوں کے بالغ ہونے سے پہلے ان کے والدین آزاد نہیں ہو پاتے، جس کا امکان عہد رسالت میں بہت ہی کم تھا،  تو ان بچوں کو خود یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ یہ مکاتبت کے ذریعے اپنی آزادی خرید سکیں۔

          غلاموں کے بچوں کو اپنے والدین کی حالت پر برقرار رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر انہیں پیدائش کے وقت سے ہی آزاد کر دیا جاتا تو ان کی کفالت کا مسئلہ پیدا ہو جاتا۔ ان بچوں کی کفالت ان کے والدین کی کفالت کے ساتھ ساتھ والدین کے آقاؤں کے ذمہ تھی۔ اگر ان بچوں کو پیدائش کے وقت ہی آزاد قرار دے دیا جاتا تو پھر ان کی کفالت کی ذمہ داری ان کے والدین کے آقاؤں پر کیسے عائد کی جاتی؟ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے والدین کے تابع ہی رہنے دیا گیا اور بالغ ہونے پر اپنی آزادی خریدنے کا حق انہیں دے دیا گیا۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability