بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 11: جنگی قیدیوں سے متعلق خصوصی اصلاحات (3)

خلافت راشدہ کی جنگی مہمات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد آپ کے خلفاء راشدین (بشمول عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمۃ) کے طرز عمل سے متعلق تاریخی روایات کا جائزہ لیا جائے تو قیدیوں کے بارے میں ان کے یہ اقدامات سامنے آتے ہیں:

       عمومی طور پر خلفاء راشدین "اما منا او اما فداء" کے اصول کے تحت جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ یا پھر کچھ معاوضہ لے کر رہا کر دیا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قیدی کا فدیہ 400 درہم مقرر کیا گیا۔ بسا اوقات اس میں کمی بیشی بھی کی گئی۔ (دیکھیے عمری، عصر الخلافۃ الراشدہ)

         جنگی قیدیوں کا تبادلہ دشمن کی قید میں موجود اسلامی ریاست کے قیدیوں سے کیا جاتا تھا۔

       بعض موقعوں پر استثنائی طور پر جنگی قیدیوں کو غلام بھی بنایا گیا لیکن یہ معاملہ عارضی طور پر تھا۔ حکومت کی اطاعت قبول کر لینے پر ان جنگی قیدیوں کو آزاد کر دیا جاتا تھا۔

       اسلامی ریاست کے جو شہری جنگی قیدی بن کر دشمن کی غلامی میں چلے جاتے، خواہ وہ مذہباً مسلمان ہوں یا نہ ہوں، انہیں بیت المال سے رقم ادا کر کے آزاد کروا لیا جاتا تھا۔ اگر وہ قیدی جنگ کے ذریعے دوبارہ مسلمانوں کے پاس آ جاتے تو انہیں فوراً آزاد کر دیا جاتا تھا۔

اس تمام اقدامات کی مثالوں کے لئے یہ روایات ملاحظہ فرمائیے۔

قال شافعی: و لا نعلم النبی صلی اللہ علیہ وسلم سبی بعد حنین احدا۔ و لا نعلم ابابکر سبی عربیا من اھل الردۃ۔ ولکن اسرھم ابوبکر حتی خلاصھم عمر۔ (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب السیر، حدیث 17966)

امام شافعی کہتے ہیں، "ہمارے علم میں نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غزوہ حنین کے بعد کسی کو غلام بنایا ہو۔ نہ ہی ہمارے علم میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے ساتھ جنگوں میں کسی عرب کو غلام بنایا ہو۔ ابوبکر نے انہیں قید ضرور کیا۔ (یہ لوگ قید میں رہے) یہاں تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں رہا کر دیا۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِسَبِي فَأَعْتَقَهُمْ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33889)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جنگی قیدی لائے گئے، انہوں نے ان سب کو آزاد کر دیا۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْن أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : كُلَّ أَسِيرٍ كَانَ فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَفِكَاكُهُ مِنْ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33937)

سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا، "ہر وہ مسلمان قیدی جو مشرکین کے پاس ہے، اس کا فدیہ مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔"

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لأَنْ أَسْتَنْقِذَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَيْدِي الْكُفَّارِ أَحَبَّ إلَيَّ مِنْ جِزيَةِ الْعَرَبِ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33928)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے، "اگر میں مسلمانوں کے ایک شخص کو بھی دشمن کی قید سے آزاد کرواؤں تو یہ میرے لئے پورے عرب کے جزیہ سے زیادہ پسندیدہ ہے۔"

حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : سَأَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ، فَيُؤْسَرُ ؟ قَالَ : فَفِكَاكُهُ مِنْ خَرَاجِ أُولَئِكَ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَاتَلَ عَنْهُمْ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33938)

ابن زبیر نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جو (غیر مسلم) اھل ذمہ میں سے ہو اور قیدی بنا لیا گیا ہو۔ انہوں نے فرمایا، "اس کا فدیہ مسلمانوں کے خراج (بیت المال) میں سے ادا کیا جائے گا کیونکہ وہ انہی کی طرف سے جنگ کر رہا تھا۔"

حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ إِذَا أُتِيَ بِأَسِيرٍ يَوْمَ صِفِّينَ ، أَخَذَ دَابَّتَهُ ، وَأَخَذَ سِلاَحَهُ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَعُودَ ، وَخَلَّى سَبِيلَهُ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33944)

ابو جعفر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جنگ صفین کا ایک قیدی لایا گیا۔ آپ نے اس کا جانور اور اسلحہ لے لیا اور اس سے یہ وعدہ لے کر اسے آزاد کر دیا کہ وہ دوبارہ آپ سے جنگ کرنے نہیں آئے گا۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ عَلِيٌّ مُنَادِيَهُ ، فَنَادَى يَوْمَ الْبَصْرَةِ : لاَ يُقْتَلُ أَسِيرٌ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33950)

ابو جعفر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی جنگ میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے۔

حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ الْحَجَّاجَ أُتِيَ بِأَسِيرٍ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ : قُمْ فَاقْتُلْهُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا بِهَذَا أُمِرْنَا , يَقُولُ اللَّهُ : {حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً}. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33946)

حسن بصری کہتے ہیں کہ حجاج (بن یوسف) کے پاس ایک جنگی قیدی لایا گیا۔ اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا، "اٹھیے اور اسے قتل کر دیجیے۔" ابن عمر نے فرمایا، "ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ اللہ تعالی کا حکم ہے، 'جب تم انہیں (جنگ میں) قتل کر چکو تو انہیں مضبوطی سے باندھ لو۔ اس کے بعد یا تو بطور احسان رہا کر دو یا پھر بطور فدیہ رہا کر دو۔' " (اس طرح ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وقت کے ایک ظالم و جابر گورنر کے سامنے کلمہ حق ادا کیا۔)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، قَالَ : حدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إلَى بَنِي نَاجِيَةَ , فَانْتَهَيْنَا إلَيْهِمْ فَوَجَدْنَاهُمْ عَلَى ثَلاَثِ فِرَقٍ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمِيرُنَا لِفِرْقَةٍ مِنْهُمْ : مَا أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ نَصَارَى وَأَسْلَمْنَا , فثبتنا على إسلامنا ، قَالَ اعتزلوا , ثم قَالَ للثانية : ما أنتم ؟ قالوا نحن قوم من النصارى لم نر دينا أَفْضَلَ مِنْ دِينِنَا فثبتنا عليه فقال اعتزلو , ثم قَالَ لفرقة أخرى : ما أنتم ؟ قالوا نحن قوم من النصارى فَأَبَوْا ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : إذَا مَسَحْت رَأْسِي ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشُدُّوا عَلَيْهِمْ فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَوْا الذَّرَارِي , فَجِئْت بِالذَّرَارِيِّ إلَى عَلِيٍّ وَجَاءَ مِصْقَلَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَاشْتَرَاهُمْ بِمِائَتَيْ أَلْفٍ فَجَاءَ بِمِئَةِ أَلْفٍ إلَى عَلِي , فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ , فَانْطَلَقَ مِصْقَلَةُ بِدَرَاهِمِهِ وَعَمَدَ إلَيْهِمْ مِصْقَلَةُ فَأَعْتَقَهُمْ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33408)

ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں تھا جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ جب ہم ان تک پہنچے تو ہمیں ان کے تین گروہ ملے۔ ہمارے امیر نے ایک گروہ سے پوچھا، "تم کون ہو؟" وہ کہنے لگے، "ہم عیسائی قوم ہیں لیکن ہم اسلام قبول کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے اسلام پر ثابت قدم رہنے دیجیے۔" امیر نے کہا، انہیں چھوڑ دو۔

†††††† اس کے بعد ہمارا سامنا دوسرے گروہ سے ہوا تو ان سے پوچھا، "تم کون ہو؟" وہ کہنے لگے، "ہم عیسائی قوم ہیں۔ ہمیں اپنے دین سے اچھا کوئی دین نہیں لگتا۔ (ہم آپ کی اطاعت قبول کرتے ہیں بس) ہمیں اسی پر قائم رہنے دیجیے۔" امیر نے کہا، "انہیں بھی چھوڑ دو۔"

†††††† اس کے بعد ہمارا سامنا تیسرے گروہ سے ہوا۔ ان سے بھی پوچھا گیا کہ وہ کون ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم عیسائی قوم ہیں۔" اس کے بعد انہوں نے سرکشی دکھائی (یعنی جنگ پر تیار ہو گئے۔) امیر لشکر کہنے لگے، "جب میں اپنے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیروں تو ان پر حملہ کر دینا۔" ہم نے ان سے جنگ کی اور ان کے فوجیوں کو ہلاک کر کے ان کے بیوی بچوں کو قیدی بنا لیا۔ ہم ان قیدیوں کو لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ رہے تھے کہ مصقلہ بن ھبیرہ آیا اور اس نے ان قیدیوں کی خدمات کو دو لاکھ درہم (ایڈوانس دے کر) خرید لیا۔ اس کے بعد وہ ایک لاکھ درہم لے کر سیدنا علی کے پاس آیا۔ آپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے مصقلہ کو اس کی رقم واپس کی اور تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔

حدثنا حمید ثنا ابو جعفر النفیلی انا ابن عینیہ عن عبداللہ ابن شریک عن بشر بن غال مسع ابن الزبیر یسال الحسین بن علی عن الاسیر من اھل الذمہ یاسرہ العدو۔ قال: فکاکہ علی المسلمین۔ (حمید بن زنجویہ، کتاب الاموال)

سیدنا عبداللہ بن زبیر نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ذمی غیر مسلم قیدی کے بارے میں سوال کیا جسے دشمن نے قید کر رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا، "اسے آزاد کروانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔"

ثنا الحکم بن نافع انا صفوان بن عمرو ان عمر بن عبدالعزیز قال: اذا خرج الاسیر المسلم یفادی نفسہ، فقد وجب فداؤہ علی المسلمین۔ لیس لھم ردہ الی المشرکین۔ (حمید بن زنجویہ، کتاب الاموال)

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا، "اگر کوئی مسلمان جنگی قیدی اپنا فدیہ خود ادا کر کے نکل آئے تو اس فدیے کو اسے ادا کرنا مسلمانوں (کی حکومت) کی ذمہ داری ہو گی۔ اسے کسی صورت میں بھی مشرک دشمنوں کے حوالے نہ کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، وَعَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَدَى رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ جَرْمٍ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ بِمِئَةِ أَلْفٍ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33923)

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے ایک فوجی کا ایک لاکھ جرمانہ ادا کر کے اسے آزاد کروایا۔

جلیل القدر تابعین کا بھی یہی موقف تھا کہ جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ یا فدیہ لے کر رہا کرنا ہی قرآن کا بنیادی حکم ہے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَطَاءٍ ، قَالاَ فِي الأَسِيرِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : يُمَنَّ عَلَيْهِ ، أَوْ يُفَادَى. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33922)

حسن بصری اور عطا خراسانی (تابعین کے دو بڑے اور مشہور علماء) مشرکین کے قیدیوں کے متعلق کہا کرتے تھے، "یا تو انہیں بطور احسان رہا کیا جائے یا پھر ان سے فدیہ لے لیا جائے۔"

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ؛ فِي الأَسِيرِ : يُمَنَّ عَلَيْهِ ، أَوْ يُفَادَى بِهِ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33925)

شعبی (تابعین کے ایک جلیل القدر عالم) قیدیوں کے متعلق کہا کرتے تھے، "یا تو انہیں بطور احسان رہا کیا جائے یا پھر ان سے فدیہ لے لیا جائے۔"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : نِسَاءٌ حَرَائِرُ أَصَابَهُنَّ الْعَدُوُّ ، فَابْتَاعَهُنَّ رَجُلٌ , أَيُصِيبُهُنَّ ؟ قَالَ : لاَ , وَلاَ يَسْتَرِقُّهُنَّ ، وَلَكِنْ يُعْطِيهِنَّ أَنْفُسَهُنَّ بِاَلَّذِي أَخَذَهُنَّ بِهِ ، وَلاَ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 34203)

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا، "آزاد خواتین اگر دشمن کے قبضے میں چلی جائیں اور دشمن سے انہیں مسلمانوں کا کوئی شخص خرید لے تو کیا وہ اس کی لونڈیاں بن جائیں گی؟" انہوں نے کہاِ "ہرگز نہیں، وہ بالکل لونڈی نہیں بنائی جائیں گی۔ ہاں جو رقم اس شخص نے ادا کی ہے، وہ ان خواتین (یا ان کے وارثوں یا بیت المال) سے لے لی جائے گی اور اس رقم میں کوئی منافع شامل نہیں کیا جائے گا۔"

حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ؛ أَنَّهُ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : مَا كَانَ مِنْ أُسَارَى فِي أَيْدِي التُّجَّارِ ، فَإِنَّ الْحُرَّ لاَ يُبَاعُ ، فَارْدُدْ إِلَى التَّاجِرِ رَأْسَ مَالِه. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33211)

شعبی کہا کرتے تھے، "تاجروں کے ہاتھ میں جو قیدی ہیں، ان میں سے کسی آزاد کو نہ بیچا جائے۔ تاجر کو اس کی اصل رقم واپس کر دی جائے۔"

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ ؛ فِي أَهْلِ الْعَهْدِ إِذَا سَبَاهُمَ الْمُشْرِكُونَ ، ثُمَّ ظَهَرَ عَلَيْهِمَ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : لاَ يُسْتَرَقُّونَ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33939)

(جلیل القدر تابعی عالم) ابراہیم نخعی (غیر مسلم) اہل عہد کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر دشمن مشرک انہیں غلام بنا لیں اور اس کے بعد وہ مسلمانوں کے قبضے میں آ جائیں تو انہیں غلام نہ بنایا جائے۔

اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان جنگی قیدیوں کو غلام بنایا ہی کیوں گیا؟ اس کا جواب سید قطب نے یہ دیا ہے کہ ایسا اسلام کے قانون کے تحت نہیں بلکہ اس دور کے بین الاقوامی قانون کے تحت کیا گیا۔ موجودہ دور میں جب بین الاقوامی قانون تبدیل ہو چکا ہے، تو جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت اسلام میں موجود نہیں ہے۔

وقد سبق لنا في مواضع مختلفة من هذه الظلال القول بأنه كان لمواجهة أوضاع عالمية قائمة , وتقاليد في الحرب عامة . ولم يكن ممكنا أن يطبق الإسلام في جميع الحالات النص العام: (فإما منا بعد وإما فداء). . في الوقت الذي يسترق أعداء الإسلام من يأسرونهم من المسلمين . ومن ثم طبقه الرسول [ ص ] في بعض الحالات فأطلق بعض الأسارى منا . وفادى ببعضهم أسرى المسلمين , وفادى بعضهم بالمال . وفي حالات أخرى وقع الاسترقاق لمواجهة حالات قائمة لا تعالج بغير هذا الإجراء . فإذا حدث أن اتفقت المعسكرات كلها على عدم استرقاق الأسرى , فإن الإسلام يرجع حينئذ إلى قاعدته الإيجابية الوحيدة وهي: (فإما منا بعد وإما فداء) لانقضاء الأوضاع التي كانت تقضي بالاسترقاق . فليس الاسترقاق حتميا , وليس قاعدة من قواعد معاملة الأسرى في الإسلام . (سيد قطب، تفسير فی ظلال القرآن؛ سورة محمد 47:4)

ہماری اس تفسیر "ظلال" میں مختلف مقامات پر یہ بحث گزر چکی ہے کہ (عہد رسالت اور خلفاء راشدین کے دور میں) غلام بنائے جانے کا معاملہ بین الاقوامی جنگی قانون کے تحت تھا۔ ہر قسم کے حالات میں اس عام صریح حکم کہ "قیدیوں کو احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر آزاد کر دو" پر عمل کرنا ناممکن تھا۔ (خاص طور پر) اس دور میں جب اسلام کے دشمن مسلمان قیدیوں کو غلام بنا کر رکھا کرتے تھے۔

†††††† رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض حالات میں بعض قیدیوں کو احسان رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ بعض قیدیوں کو مسلمان قیدیوں کے بدلے رہا کر دیا گیا اور بعض قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ بعض ایسے حالات میں غلام بھی بنائے گئے جس کے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر کی افواج (اور حکومتیں) اس بات پر متفق ہو گئی ہیں کہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنایا جائے گا تو مسلمان بھی اپنے اصل قانون کی طرف لوٹ جائیں گے کہ "قیدیوں کو احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر آزاد کر دو"۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب وہ حالات ہی ختم ہو چکے ہیں جن میں غلام بنائے جاتے تھے۔ اب غلام بنائے جانے کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور غلام بنا لیا جانا اسلام کا قانون نہیں ہے۔

انسداد غلامی کی تحریک میں خلفاء راشدین کا کردار اور اس کے اثرات

انسداد غلامی کی اس تحریک میں خلفاء راشدین کے کردار کا ایک پہلو تو ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ حضرات غلاموں کو دیے جانے والے تمام حقوق کے ضامن تھے۔ اگر کوئی آقا کسی غلام کو اس کا حق دینے میں ٹال مٹول کرتا تو غلاموں کو یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ کسی بھی وقت آ کر خلیفہ سے شکایت کر سکیں اور ان کی شکایات پر خلیفہ فوراً حرکت میں آ جایا کرتے تھے۔ اس کی نوبت کم ہی آیا کرتی تھی کیونکہ آبادی کا بڑا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے قریبی صحابہ کا تربیت یافتہ تھا اور وہ خود ہی غلاموں کو ان کی آزادی سمیت وہ تمام حقوق دینے کو تیار تھے جس کی تفصیل ہم پچھلے ابواب میں بیان کر چکے ہیں۔

عرب میں غلامی کا مکمل خاتمہ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں غلامی کے خاتمے کے لئے ایک بہت بڑی پیش رفت کی گئی۔ آپ کے دور میں ایران، شام اور مصر کی طرف پیش قدمی جاری تھی جس کی وجہ سے خلافت اسلامیہ کی سرحدیں مسلسل پھیل رہی تھیں جبکہ عرب معاشرہ اب پوری طرح مستحکم ہو چکا تھا۔ عربوں میں اس وقت کسی قسم کی بغاوت موجود نہ تھی۔

††††††††† سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرب کی حدود میں غلامی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے یہ حکم جاری فرمایا کہ عرب کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔

بِذَلِكَ مَضَتْ سُنَّةُ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَرِقَّ أَحَدًا مِنْ ذُكُورِهِمْ . وَكَذَلِكَ حَكَمَ عُمَرُ فِيهِمْ أَيْضًا حَتَّى رَدَّ سَبْيَ أَهْل الْجَاهِلِيَّةِ وَأَوْلاَدَ الإِْمَاءِ مِنْهُمْ أَحْرَارًا إِلَى عَشَائِرِهِمْ عَلَى فِدْيَةٍ يُؤَدُّونَهَا إِلَى الَّذِينَ أَسْلَمُوا وَهُمْ فِي أَيْدِيهِمْ . قَال : وَهَذَا مَشْهُورٌ مِنْ رَأْيِ عُمَرَ . وَرَوَى عَنْهُ الشَّعْبِيُّ أَنَّ عُمَرَ قَال : لَيْسَ عَلَى عَرَبِيٍّ مِلْكٌ . وَنُقِل عَنْهُ أَنَّهُ قَضَى بِفِدَاءِ مَنْ كَانَ فِي الرِّقِّ مِنْهُمْ.

(ابو عبید، کتاب الاموال بحوالہ موسوعۃ الفقھیۃ الکويتیۃ)

یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے سے ہی جاری ہو گئی تھی کہ اہل عرب کے مردوں کو غلام نہ بنایا جائے۔ اسی بات کا حکم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس وقت جاری فرمایا جب انہوں نے مسلمانوں کے ہاں قید، اہل جاہلیت کے جنگی قیدیوں اور لونڈیوں کی اولادوں کو اہل اسلام کو فدیہ ادا کرنے کے بدلے آزاد کر کے اپنے قبائل میں جانے کی اجازت دے دی۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مشہور رائے ہے۔ شعبی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "عرب کو غلام نہ بنایا جائے گا۔" ان سے نقل کیا گیا ہے کہ کہ انہوں نے عرب میں موجود غلاموں کو فدیہ ادا کر کے آزاد کرنے کا فیصلہ دیا۔

آپ عربوں کو شرم دلایا کرتے تھے کہ وہ اپنے بھائیوں ہی کو غلام بنائے ہوئے ہیں:

وَلِذَلِكَ قَال عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مِنَ الْعَارِ أَنْ يَمْلِكَ الرَّجُل ابْنَ عَمِّهِ أَوْ بِنْتَ عَمِّهِ . (ابن حجر، فتح الباری بحوالہ موسوعۃ الفقھیۃ الکويتیۃ)

عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "یہ شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اپنے چچا کے بیٹے یا بیٹی کا مالک ہو۔

اپنی شہادت کے وقت آپ نے یہ حکم جاری کیا کہ عرب معاشرے میں جتنے غلام موجود ہیں ان سب کو اس طرح سے آزاد کر دیا جائے کہ ان کی قیمت کی ادائیگی حکومت کے ذمہ ہو گی۔ اس کے بعد آئندہ عرب میں کوئی نیا غلام نہ بنایا جائے۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن زيد بن أبي رافع أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان مستندا إلى ابن عباس وعنده ابن عمر وسعيد بن زيد رضي الله عنهما فقال: اعلموا أني لم أقل في الكلالة شيئا، ولم أستخلف من بعدي أحد، وأنه من ادرك وفاتي من سبي العرب فهو حر من مال الله عز وجل

فقال سعيد بن زيد: أما انك لو أشرت برجل من المسلمين لأتمنك الناس وقد فعل ذلك أبو بكر رضي الله عنه واتمنه الناس۔ فقال عمر رضي الله عنه قد رأيت من أصحابي حرصا سيئا۔ واني جاعل هذا الأمر إلى هؤلاء النفر الستة الذين مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض ثم قال عمر رضي الله عنه: لو أدركني أحد رجلين ثم جعلت هذا الأمر اليه لوثقت به سالم مولى أبي حذيفة وأبو عبيدة بن الجراح. (مسند احمد، باب عمر بن خطاب)

زید بن ابو رافع کہتے ہیں کہ (اپنی شہادت کے وقت) سیدنا عمر، ابن عباس کو وصیت لکھوا رہے تھے اور ان کے پاس ابن عمر اور سعید بن زید (عمر کے بیٹے اور بہنوئی) رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ آپ نے فرمایا، "یہ بات اچھی طرح جان لو کہ کلالہ کے بارے میں میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکا اور نہ ہی میں اپنے بعد کسی کو خلیفہ بنا کر جا رہا ہوں۔ عرب میں موجود جنگی قیدیوں میں جو شخص بھی (بطور غلام) میری وفات کے وقت موجود ہو، اسے اللہ کے مال کے ذریعے آزاد کر دیا جائے۔

سعید بن زید کہنے لگے، "کیا ہی اچھا ہو کہ آپ مسلمانوں میں سے کسی کو جانشین مقرر فرما دیں جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو جانشین بنایا تھا۔" عمر نے جواب دیا، "میں نے اس معاملے میں اپنے ساتھیوں میں خواہش دیکھی ہے۔ میں اس معاملے کو ان چھ افراد (علی، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم) کے سپرد کرنے والا ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنی وفات کے وقت خوش تھے۔" اس کے بعد فرمانے لگے، "اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم یا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہوتا تو میں اسے خلیفہ مقرر کر دیتا۔"

قال الشافعی اخبرنا سفیان عن یحیی بن یحیی الغسانی، عن عمر بن عبدالعزیز، قال و اخبرنا سفیان عن رجل، عن شعبی ان عمر قال: لا یسترق العربی۔(بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب السیر، حدیث 17958)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "اہل عرب کو غلام نہ بنایا جائے۔"

رواہ الشافعی فی الام، و البیہقی فی سننہ الکبری، و جاء فی الاموال، ان الفاروق فدی کل رجل من اسری العرب باربع مئۃ درہم۔ و جاء فی الاموال و فی سنن البیہقی الکبری ان الفاروق عمر قال: لیس علی عربی ملک، و لسنا نازعی من ید رجل اسلم علیہ، و لکنا نقومھم الدیۃ خمسا من الابل للذی سباہ۔ وھذا بالنسبۃ لاسری العرب الذین وقعوا فی الاسر فی ظل جاھلیۃ۔ ثم ادرکھم الاسلام فاسلم مالکوھم۔ فکان علی کل اسیر من ھذا النوع ضرب علیہ الرق ان یدفع ھو، او یدفع ذروہ فدا، لمن یملکہ حرا الی عشیرتہ۔†† (حاشیہ معرفۃ السنن والآثار، کتاب السیر، حدیث 17958)

امام شافعی کتاب الام میں، بیہقی سنن الکبری میں اور (ابوعبید) کتاب الاموال میں بیان کرتے ہیں، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرب کے قیدیوں میں سے ہر ایک کا فدیہ 400 درہم ادا کیا۔ کتاب الاموال اور سنن الکبری میں بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا، " عرب میں غلامی نہیں رہے گی اور ہم ہر اسلام قبول کرنے والے کو اس کے آقا کی غلامی سے نکال لیں گے۔ ہم ہر غلام کا فدیہ پانچ اونٹ مقرر کریں گے۔ یہ عرب کے ان غلاموں کا معاملہ ہے جو کہ دور جاہلیت میں غلام بن گئے تھے، اس کے بعد وہ اور ان کے مالک مسلمان ہو گئے تھے۔ اس قسم کے ہر قیدی پر "غلام" کا اطلاق ہوتا ہے اور اسے اور اس کی اولاد کو فدیہ ادا کر کے آزاد کروایا جائے گا۔ اس کے بعد وہ آزاد ہو کر اپنے خاندان کی طرف جا سکیں گے۔

فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن السُّلَمِىُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِى حَصِينٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ قَالَ : لَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَيْسَ عَلَى عَرَبِىٍّ مِلْكٌ وَلَسْنَا بِنَازِعِى مِنْ يَدِ رَجُلٍ شَيْئًا أَسْلَمَ عَلَيْهِ وَلَكِنَّا نُقَوِّمُهُمُ الْمِلَّةَ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ يَقُولُ هَذَا الَّذِى فِى يَدِهِ السَّبْىُ لاَ نَنْزِعُهُ مِنْ يَدِهِ بِلاَ عِوَضٍ لأَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَيْهِ وَلاَ نَتْرُكُهُ مَمْلُوكًا وَهُوَ مِنَ الْعَرَبِ وَلَكِنَّهُ قَوَّمَ قِيمَتُهُ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ لِلَّذِى سَبَاهُ وَيَرْجِعُ إِلَى نَسَبِهِ عَرَبِيًّا كَمَا كَانَ.†† (بيهقى، سنن الكبرى؛ کتاب السير، حديث 18069)

سیدنا عمر فاروق نے کھڑے ہو کر (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا، "عرب میں غلامی نہیں رہے گی اور ہم ہر اسلام قبول کرنے والے کو اس کے آقا کی غلامی سے نکال لیں گے۔ ہم ہر غلام کا فدیہ پانچ اونٹ مقرر کریں گے۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ انہوں نے ان غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ہم انہیں بلاعوض غلامی سے نہیں نکالیں گے لیکن چونکہ وہ اسلام قبول کر چکے ہیں اس وجہ سے انہیں غلام بھی نہیں رہنے دیں گے۔ یہ اہل عرب تھے، ان کا فدیہ ان کے مالکوں کے لئے پانچ اونٹ مقرر کیا گیا اور انہیں اپنے عرب خاندانوں میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہکے اس اقدام سے یہ واضح ہے کہ آپ نے ایسا عرب نسل کے لئے نہیں کیا بلکہ عرب معاشرے میں جو بھی غلام باقی رہ گئے تھے، انہیں آزاد کرنے کے لئے کیا۔ انہوں نے غلام کی آزادی کے لئے "عربیت" نہیں بلکہ "اسلام لانے" کی شرط لگائی تھی۔ یہ محض ایک اتفاق تھا کہ اس وقت عرب میں جو غلام موجود تھے، وہ عرب ہی تھے۔

††††††††† بعد کے دور میں چونکہ مسلمانوں کے اندر نسل پرستی پھیل گئی تھی اس وجہ سے آپ کے اس فرمان کو کہیں بعد میں بعض لوگوں نے نسل پرستی کا مسئلہ بنا لیا اور کہنے لگے کہ اب عربوں کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ جن افراد نے صرف قرآن مجید کی سورۃ حجرات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خطبہ حجۃ الوداع کا مطالعہ کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام میں کسی نسل کو کسی دوسری نسل پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تمام انسانیت کی طرف مبعوث کئے گئے تھے اور جو بھی آپ پر ایمان لے آئے وہ دوسرے مسلمان بھائی کے برابر ہے۔

††††††††† اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو امید کی جا سکتی تھی کہ عرب معاشرے سے باہر بھی آپ غلامی کا خاتمہ کر دیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اصلاحات پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر اکرم بن ضیاء العمری لکھتے ہیں:

وقد كثر المكاتبون من الرقيق في خلافة عمر، فكانوا يساعدون تنفيذاً لأمر الله تعالى، كما أن الدولة كانت ترضخ للعبيد من الغنائم والعطاء، لتكون لهم مال يعملون بتنميته حتى يتحرروا من الرق. وقد ألزم سادتهم بتحريرهم إذا سددوا ما تعهدوا به من مال، وكان مقدار الفداء حسب مهارة العبد وقد يبلغ 40,000۔ درهم أحياناً. ولما تحسنت موارد بيت المال في خلافة عمر رضي الله عنه قدم وصيته - قبل موته - بتحرير جميع الأرقاء المسلمين في الدولة.(عمری، عصر الخلافۃ الراشدہ)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں غلاموں میں سے مکاتبت کرنے والوں کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی۔ اللہ تعالی کے حکم کے نفاذ کے لئے حکومت مدد کیا کرتی تھی۔ یہ اسی طرح تھا کہ غنیمت اور وظائف میں غلاموں کو بھی حصہ دیا جاتا تھا تاکہ ان کے پاس مال آ جائے اور وہ ترقی کرتے ہوئے غلامی سے نجات حاصل کر کے آزاد ہو سکیں۔ ان کے آقاؤں پر یہ لازم تھا کہ معاہدے کے مطابق جب بھی غلام ادائیگی کر دے تو اسے آزاد کر دیا جائے۔ مکاتبت کے فدیے کی رقم کا تعین غلام کی صلاحیت و مہارت کے مطابق ہوا کرتا تھا جو بعض اوقات 40,000 درہم تک پہنچ جایا کرتی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بیت المال کی حالت جب بہت بہتر ہو گئی تو انہوں نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ ملک میں موجود تمام مسلمان غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔

آپ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آٹھ نو سال تک سکون سے کام کرنے کا موقع ملا لیکن فتوحات کے سیلاب کے باعث اس پر عمل کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہا۔ اس کے بعد امت مسلمہ انارکی کا شکار ہو گئی اور سیدنا عثمان کا آخری اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا پورا دور ہی خانہ جنگی کی نظر ہو گیا۔

††††††††† حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب معاشرے کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا گیا۔ اس حکم کو غلط سمجھ لینے کے باوجود بعد میں بھی کم از کم یہ فائدہ تو ہوا کہ اس کے بعد عربوں کو غلام نہیں بنایا گیا۔

عرب سے باہر موجود غلاموں سے متعلق اصلاحات

خلفاء راشدین کے دور میں صرف اٹھارہ سال کے عرصے میں موجودہ دور کے عراق، ایران، افغانستان اور پاکستان کے کچھ علاقے، شام، اردن، فلسطین، لبنان، ترکی کے کچھ علاقے، مصر اور کچھ افریقی علاقے فتح ہو چکے تھے۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ دنیا کے ان تمام علاقوں میں غلامی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کی فتح کے ساتھ غلاموں کی ایک بہت بڑی آبادی اسلامی حکومت کے زیر نگیں آ گئی تھی۔ ان غلاموں کی تعداد لازماً کروڑوں میں ضرور رہی ہو گی۔

††††††††† اگر ان تمام غلاموں کو بیک وقت آزادی عطا کر دی جاتی تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہ نکلتا کہ لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار مردوں اور خواتین کا ایک بہت بڑا طبقہ وجود میں آ جاتا جو کہ چور، ڈاکو، بھکاری اور طوائف بن کر اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ ان غلاموں کی آزادی کے لئے بھی وہی طریق کار اختیار کیا گیا جو عرب میں موجود غلاموں کے لئے اختیار کیا گیا تھا۔ اسلام کی وہ تمام مراعات جن کا ذکر ہم پچھلے ابواب میں کر چکے ہیں، ان غلاموں کو بھی حاصل ہو گئیں۔

††††††††† فوری طور پر ان غلاموں کو بھی یہ حق حاصل ہو گیا کہ ان کے آقا ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ انہیں شادی کی اجازت دے دیں۔ ان کی عزت نفس کو قائم رکھیں۔ ان غلاموں کو وہ تمام قانونی اور معاشرتی حقوق حاصل ہو گئے جو انہیں پہلے حاصل نہ تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی آزادی کا دروازہ بھی کھل گیا۔

††††††††† اسلام قبول کرنے والے نئے غلاموں کو تو فوراً خرید کر آزاد کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ بھی ہر مسلم یا غیر مسلم غلام کو یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ مکاتبت کے ذریعے اپنی آزادی خود خرید سکے۔ مسلمانوں کو ان کا دین یہی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں کو بلامعاوضہ آزاد کر دیں۔ اس کے نتیجے میں کثیر تعداد میں ان مسلم و غیر مسلم غلاموں کو آزادی بھی نصیب ہونے لگی۔ خود خلفاء راشدین نے مثال قائم کرتے ہوئے کثیر تعداد میں ایرانی اور رومی غلام آزاد کئے۔

††††††††† یہی وجہ تھی کہ ان غلاموں نے بالعموم اسلامی فتوحات کا خیر مقدم کیا۔ تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ جنگ کے دوران دشمن کے غلام اسلامی لشکر سے آ ملے اور انہوں نے دشمن کی اہم معلومات اسلامی لشکر تک پہنچا دیں۔ اسی طرح بعض اوقات یہ غلام اسلامی لشکر کے گائیڈ کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ بسا اوقات یہ لوگ اسلامی لشکر کا راستہ صاف کرنے کے لئے پلوں وغیرہ کی تعمیر بھی کر دیا کرتے تھے۔

††††††††† خلافت راشدہ کے دور میں ایسا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ ان غلاموں کی بڑے پیمانے پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی گئی ہو۔ اگر انہیں منتقل کیا بھی گیا تو اس طریقے سے کہ ان کے خاندانوں میں کوئی تفریق پیدا نہیں کی گئی۔ عام طور پر ان غلاموں کو ان کی آبائی زمینوں ہی میں رکھا جاتا جہاں یہ زراعت کے عمل میں حصہ لیا کرتے تھے۔

††††††††† ایڈورڈ گبن بیان کرتے ہیں کہ اسلام قبول کرتے ہی یہ غلام، سماجی رتبے کے اعتبار سے آزاد مسلمانوں کے برابر آ کھڑے ہوا کرتے تھے۔

But the millions of African and Asiatic converts, who swelled the native band of the faithful Arabs, must have been allured, rather than constrained, to declare their belief in one God and the apostle of God. By the repetition of a sentence and the loss of a foreskin, the subject or the slave, the captive or the criminal, arose in a moment the free and equal companion of the victorious Moslems. (Edward Gibbon, The History of Decline & Fall of Roman Empire, http://www.ccel.org )

افریقہ اور ایشیا کے کروڑوں نئے مسلمان، جو صاحب ایمان عربوں کے ساتھ شامل ہو جاتے، انہیں قید رکھنے کی بجائے آزاد کر دیا جاتا اگر وہ اس بات کا اعلان کر دیتے کہ وہ ایک خدا اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک کلمے کے دوہرانے اور ختنہ کروانے کے ساتھ ہی، آزاد یا غلام، قیدی یا مجرم، ایک لمحے ہی میں آزاد ہو کر فتح پانے والے مسلمانوں کے برابر آ کھڑے ہوا کرتے تھے۔

 

اگلا باب††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability