بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 12: اسلام کی انسداد غلامی کی مہم کے اثرات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں کی آزادی کی جو تحریک (Abolitionist Movement) شروع کی تھی، اس کے اثرات نہایت ہی مثبت نکلے۔ آپ کی اس تحریک کے نتیجے میں کثیر تعداد میں غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی۔ بے شمار غلاموں نے مکاتبت کے ذریعے آزادی حاصل کی۔ جو غلام باقی رہ گئے، ان کو ان کے معاشرتی، معاشی اور معاشرتی حقوق دیے گئے اور ان کے حقوق ان تک پہنچانے کو خلفاء راشدین نے اپنی ذمہ داری قرار دیا۔ انسداد غلامی کی اس مہم کے نتائج کو ہم حسب ذیل عنوانات کے تحت بیان کر سکتے ہیں۔

·       غلاموں کی آزادی کی تحریک کے صحابہ و تابعین پر اثرات

·       آزاد کردہ غلاموں سے متعلق اعداد و شمار

·       انسداد غلامی کی تحریک میں خلفاء راشدین کا کردار اور اس کے نتائج

·       غلاموں کے اسٹیٹس میں اضافے کے نتائج

غلاموں کی آزادی کی تحریک کے صحابہ و تابعین پر اثرات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، آپ کے خاندان اور آپ کے قریبی ساتھیوں نے اپنے طرز عمل سے بکثرت غلام آزاد کرنے کی جو مثال قائم کی تھی، اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں غلاموں کو آزاد کرنے اور غلاموں میں آزادی حاصل کرنے کی زبردست تحریک پیدا ہوئی۔ یہاں ہم بطور مثال چند مشہور صحابہ کا ذکر کر رہے ہیں:

ابوبکر صدیق

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو آپ کے پاس کثیر تعداد میں جمع کی گئی دولت موجود تھی۔ آپ نے اس دولت کا بڑا حصہ غلاموں کی آزادی پر صرف کیا۔ ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ غلام آزاد کرنے کی وجہ سے ان کا لقب "عتیق" مشہور ہو گیا تھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ متعدد غلاموں کا ذکر اپنی سیرت کی کتاب میں کیا ہے۔ غلاموں کی آزادی کے پیچھے کیا مقصد کار فرما تھا، اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ بِلاَلاً بِخَمْسِ أَوَاقٍ ، ثُمَّ أَعْتَقَهُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ بِلاَلٌ : يَا أَبَا بَكْرٍ إِنْ كُنْتَ إنَّمَا أَعْتَقْتنِي لِتَتَّخِذَنِي خَازِنًا , فَاِتَّخِذْنِي خَازِنًا وَإِنْ كُنْت إنَّمَا أَعْتَقْتنِي لِلَّهِ فَدَعَنْي فَأَعْمَلُ لِلَّهِ ، قَالَ : فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : بَلْ أَعْتَقْتُك لِلَّهِ. (مصنف ابن ابي شيبة، حديث 33002)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بلال کو پانچ اوقیہ (چاندی) کے بدلے خریدا اور انہیں آزاد کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ بلال مجھ سے کہنے لگے، "اے ابوبکر! اگر آپ نے مجھے (اپنے مال کا) خزانچی بنانے کے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے خزانچی بنا دیجیے۔ اگر آپ نے مجھے اللہ کے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے چھوڑ دیجیے کہ میں اللہ کے لئے عمل کروں۔" ابوبکر یہ سن کر رونے لگے اور فرمایا، "میں نے تو آپ کو صرف اللہ ہی کے لئے آزاد کیا تھا۔"

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چن چن کر کمزور غلام آزاد کرنےکا اتنا شوق تھا کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ (جو اس وقت اسلام نہ لائے تھے) کی تنبیہ کو بھی اہمیت نہ دی۔

حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببخارا حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ حدثنا سعيد بن يحيى الأموي حدثني عمي عبد الله بن سعيد عن زيادة بن عبد الله البكائي عن محمد بن إسحاق قال حدثني محمد بن عبد الله بن أبي عتيق عن عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه قال قال أبو قحافة لأبي بكر أراك تعتق رقابا ضعافا، فلو إنك إذ فعلت ما فعلت أعتقت رجالا جلدا يمنعونك ويقومون دونك۔ فقال أبو بكر يا أبت إني إنما أريد ما أريد لما۔ نزلت هذه الآية فيه فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى إلى قوله عز وجل { وما لأحد عنده من نعمة تجزى إلا ابتغاء وجه ربه الأعلى ولسوف يرضى } هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. (مستدرک حاکم، حديث 3942)

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو قحافہ نے ابوبکر سے کہا، "میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بہت سے کمزور غلاموں کو آزاد کر رہے ہو۔ اگر تمہیں یہ کرنا ہی ہے تو جوان مردوں کو آزاد کرو جو تمہاری حفاظت کریں اور تمہاری حمایت میں کھڑے ہوں۔" ابوبکر نے کہا، "ابا جان! میں دنیاوی فائدے کے لئے ایسا نہیں کرتا" اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ "جس نے اپنا مال (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا، اور پرھیزگاری اختیار کی، اور نیک بات کو سچ سمجھا، اس کے لئے ہم نیکی کو آسان کر دیں گے۔" (سورۃ والیل)

عمر فاروق

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بکثرت غلام آزاد کئے اور اپنی عمر کے آخری حصے میں آپ کے پاس جو غلام موجود تھے، ان سب کو آزاد کر دیا۔ ( دیکھیے مسند احمد، باب عمر بن خطاب) نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عمر نے اپنی زندگی میں ایک ہزار سے زائد غلام آزاد کئے۔ (دیکھیے مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ)

          غلاموں کو آزادی دیتے وقت آپ نے بحیثیت مسلمانوں کے لیڈر کے، ایسی مثالیں قائم کیں جو معاشرے کے دیگر افراد کے لئے قابل رشک تھیں۔ ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ غلام کو آزادی دیتے وقت آپ کے پاس رقم نہ تھی۔ آپ نے اپنی بیٹی ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے قرض لے کر اپنے غلام کو یہ رقم دی کہ اس سے وہ کاروبار کر سکے۔ یہ سب آپ نے اپنی ذاتی حیثیت سے کیا۔ اس کے علاوہ بحیثیت خلیفہ آپ بیت المال سے غلام خرید کر آزاد کیا کرتے تھے اور ضرورت مند مکاتبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔

عثمان غنی

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا۔ اللہ تعالی نے آپ کو بہت سی دولت سے نوازا تھا جسے آپ غلاموں کی آزادی پر خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایک ہی وقت میں بیس غلام آزاد فرمائے۔ (مسند احمد، باب عثمان بن عفان) آپ خود بیان فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بن دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ النَّضْرُ بن عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بن عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرٍ النَّهْمِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُثْمَانَ بن عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ رَبِّي عَشْرًا ، إِنِّي لَرَابِعُ أَرْبَعَةٍ فِي الإِسْلامِ ، وَمَا تَعَنَّيْتُ ، وَلا تَمَنَّيْتُ ، وَلا وَضَعْتُ يَمِينِي عَلَى فَرْجِي ، مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا مَرَّتْ عَلَيَّ جُمُعَةٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلا وَأَنَا أَعْتِقُ فِيهَا رَقَبَةً ، إِلا أَنْ لا يَكُونَ عِنْدِي فَأَعْتِقَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، وَلا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلا إِسْلامٍ. (طبرانی؛ معجم الکبير)

(جب باغیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا اور ان کے گھر کھانا اور پانی نہ پہنچنے دیا تو انہوں نے باغیوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: میں دس ایسی باتیں چھپاتا رہا ہوں جو میرے رب ہی کو معلوم ہیں۔ میں چوتھا شخص ہوں جس نے اسلام قبول کیا، میں نے کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش کی، نہ ہی میں نے کبھی اپنے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا ، جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی میں نے بیعت کی تو مجھ پر کوئی ایسا جمعہ نہیں گزرا ہے جب میں نے غلام آزاد نہ کیا ہو سوائے اس کے کہ میرے پاس کوئی غلام موجود ہی نہ ہو، میں نے نہ تو کبھی دور جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔"

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تراسی برس کی عمر پائی۔ اس قبول کرنے کے وقت آپ کم وبیش پچپن برس زندہ رہے۔ اگر ہر جمعے کو غلام آزاد کرنے کا حساب لگایا جائے تو آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 2860 بنتی ہے۔ اس میں ایسے مواقع بھی آئے ہیں جب آپ نے ایک سے زائد غلاموں کو آزادی دی تھی۔ اس کی ایک مثال ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔

علی المرتضی

سیدنا علی المرتضی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی زندگی زیادہ تر غربت میں گزری تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ زیادہ تر محنت مزدوری کر کے گزر بسر کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود ان میں غلاموں کو آزادی دینے کا بے پناہ جذبہ موجود تھا۔ غربت کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تربیت اور آپ کے غلام آزاد کرنے کے شوق کا اندازہ اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔

أخبرنا عبيد الله بن سعيد ، قال : حدثنا معاذ بن هشام ، قال : حدثني أبي عن يحيى بن أبي كثير ، قال : حدثني زيد ، عن أبي سلام ، عن أبي أسماء الرحبي أن ثوبان مولى رسول الله صلى اللّه عليه وسلم حدثه قال جاءت ابنة هبيرة إلى رسول الله وفي يدها فطخ فقال كذا في كتاب أبي أي خواتيم ضخام فجعل رسول الله يضرب يدها۔ فدخلت على فاطمة بنت رسول الله تشكو إليها الذي صنع بها رسول الله صلى اللّه عليه وسلم۔ فانتزعت فاطمة سلسلة في عنقها من ذهب وقالت هذه أهداها إلي أبو حسن فدخل رسول الله صلى اللّه عليه وسلم والسلسلة في يدها فقال يا فاطمة أيغرك أن يقول الناس ابنة رسول الله وفي يدها سلسلة من نار ثم خرج ولم يقعد فأرسلت فاطمة بالسلسلة إلى السوق فباعتها واشترت بثمنها غلاما وقال مرة أخرى عبدا وذكر كلمة معناها فأعتقته فحدث بذلك وقال الحمد لله الذي نجى فاطمة من النار . (سنن الکبری از نسائی، کتاب الزينة، حديث 9378، مستدرک حاکم، حديث 4725)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ابن ہبیرہ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور ان کے ہاتھ میں موٹی سی انگوٹھی تھی۔ (اسے ناپسند فرماتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پر (بطور تادیب ہلکی سی) ضرب لگائی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلی گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس عمل کی شکایت کرنے لگیں۔ وہ سیدہ سے کہہ رہی تھیں کہ آپ نے اپنے گلے میں سونے کی ایک چین کیوں پہن رکھی ہے؟

سیدہ فاطمہ کہنے لگیں، "یہ چین تو مجھے (میرے خاوند) ابو الحسن علی رضی اللہ عنہ نے تحفتاً دی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوئے تو سیدہ نے یہ زنجیر اتار کر ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا، "اے فاطمہ! کیا تم یہ چاہتی ہو کہ لوگ یہ کہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بیٹی کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے۔" یہ فرما کر آپ بغیر بیٹھے ان کے گھر سے نکل گئے۔ سیدہ نے وہ زنجیر بازار میں بھیجی اور اسے بیچ کر اس کا ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا۔ آپ نے فرمایا، "اللہ کا شکر ہے جس نے فاطمہ کو اس آگ سے نجات دے دی ہے۔"        

عائشہ صدیقہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے بھی بکثرت غلام آزاد کرنے کی مثال قائم کی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تو غلاموں کی آزادی سے خصوصی دلچسپی تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زندگی میں آپ کے گھر والوں کے مالی وسائل بہت محدود تھے۔ آپ اپنے خاندان کے لئے ایسا مال کبھی قبول نہ فرماتے تھے جو کسی نے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کیا ہو۔ اس مال کو آپ نے ضرورت مندوں یا دین کی اشاعت کے لئے خرچ کرنے کا حکم دیا۔ ان محدود مالی وسائل کے باوجود کہ جب آپ کے گھر میں کئی کئی دن چولہا نہ جلتا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا نامی کنیز کو خرید کر آزد کیا۔ یہ حدیث، صحاح ستہ کی تمام کتب میں بہت سے مقامات پر موجود ہے۔ ایک مثال یہ ہے:

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ : إنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوْقِيَةٌ، فَأَعِينِينِى. فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَنْكِ عَدَدْتُهَا, وَيَكُونَ لِي وَلاَؤُكِ فَعَلْتُ. فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ جَالِسٌ، فَقَالَتْ لِعَائِشَةَ إنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَىَّ، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ. فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ r فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: « خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاَءَ، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ». فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : « أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطاً لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِئَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ». (موطاء مالک، کتاب العتق و الولاء، حديث 2265، بخاری، کتاب الشرائط، حديث 2729)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں، "میں نے اپنے مالک سے نو اوقیہ چاندی کے بدلے آزادی خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ میری کچھ مدد کیجیے۔" عائشہ نے فرمایا، "اگر وہ پسند کریں تو میں انہیں تمہاری طرف سے پوری قیمت اکٹھی ادا کر کے آزاد کر دوں اور تمہارا ولاء کا رشتہ مجھ سے قائم ہو جائے۔" بریرہ اپنے مالک کے پاس گئیں اور ان سے یہی بات کہی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔

اب وہ واپس ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے پوری بات سیدہ عائشہ کو بتا دی۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، اس میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا، "لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کر رہے ہیں جن کی اجازت اللہ کے قانون میں نہیں دی گئی۔ جو شرط بھی اللہ کے قانون کے خلاف ہو، وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرائط ہوں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ ہی کی شرائط سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ ولاء کا رشتہ تو آزاد کرنے والوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد آپ کے خلفاء راشدین آپ کی ازواج مطہرات کا بہت خیال رکھا کرتے تھے اور باقاعدگی سے انہیں وظائف بھیجا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان وظائف کو زیادہ تر غلاموں کی آزادی کے لئے خرچ کیا کرتی تھیں۔ دو مزید واقعات ملاحظہ فرمائیے:

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ : تَوَفَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ، فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رِقَاباً كَثِيرَةً.   قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ. (موطاء مالک، کتاب العتق و الولاء، حديث 2262)

یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں کہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نیند کی حالت میں فوت ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ نے ان کی طرف سے کثیر تعداد میں غلام آّزاد کئے۔ مالک کہتے ہیں کہ یہ سب سے اچھی بات ہے جو اس ضمن میں میں نے سنی ہے۔

حدثنا عبد الله بن يوسف: حدثنا الليث قال: حدثني أبو الأسود، عن عروة بن الزبير قال:  كان عبد الله بن الزبير أحب البشر إلى عائشة بعد النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر، وكان أبر الناس بها، وكانت لا تمسك شيئا مما جاءها من رزق الله إلا تصدقت، فقال ابن الزبير: ينبغي أن يؤخذ على يديها، فقالت: أيؤخذ على يدي، علي نذر إن كلمته، فاستشفع إليها برجال من قريش، وبأخوال رسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة فامتنعت، فقال له الزهريون، أخوال النبي صلى الله عليه وسلم، منهم عبد الرحمن بن الأسود ابن عبد يغوث، والمسور بن مخرمة: إذا استأذنا فاقتحم الحجاب، ففعل فأرسل إليها بعشر رقاب فأعتقهم، ثم لم تزل تعتقهم، حتى بلغت أربعين، فقالت: وددت أني جعلت حين حلفت عملا أعمله فأفرغ منه. بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3505)

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے) عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد (سیدہ کے بڑے بھانجے) عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما انہیں سب انسانوں سے زیادہ پیارے اور اچھے لگتے تھے۔ سیدہ کے پاس جو بھی اللہ کا رزق آتا وہ اسے (غرباء و مساکین پر) خرچ کر دیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ابن زبیر نے (مذاقاً) کہا، "ان کے ہاتھ کو روکنا پڑے گا۔" (جب سیدہ کو خبر ہوئی تو) آپ نے فرمایا، "کیا وہ میرا ہاتھ روکے گا؟ میں قسم کھاتی ہوں کہ اب اس سے بات نہ کروں گی۔"

(عبداللہ ابن زبیر نے) قریش اور بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی رشتے داروں بنو زہرہ میں سے آپ کے رشتے کے ماموں عبدالرحمٰن بن اسود اور مسور بن مخرمہ کو ان کی خدمت میں معافی کی سفارش کے لئے بھیجا۔ انہوں نے ابن زبیر سے کہا، "جب سیدہ ہمیں اندر آنے کی اجازت دیں تو تم دوڑ کر ان کے پردے کے پیچھے گھس جانا (اور معافی مانگ لینا۔ ان کی اس حرکت اور بزرگوں کی سفارش پر سیدہ نے انہیں معاف کر دیا۔)

ابن زبیر نے (آپ کو خوش کرنے کے لئے) آپ کے پاس دس غلام (آزاد کرنے کے لئے) بھیجے اور آپ نے انہیں آزاد کر دیا۔ اس کے بعد آپ (اسی قسم کے کفارے میں) مسلسل غلام آزاد کرتی رہیں یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیے۔ آپ کہنے لگیں، "کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں قسم کھاتے ہوئے کوئی تعداد مقرر کر لیتی تو اب تک اس کام سے فارغ ہو چکی ہوتی۔"

دیگر امہات المومنین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر امہات المومنین بھی غلام آزاد کیا کرتی تھیں۔ احادیث اور اسماء الرجال کے ذخیرے میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کا ذکر ملتا ہے جسے انہوں نے آزاد کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشہور تابعی عالم سلیمان بن یسار کو ان کے چار بھائیوں سمیت آزاد کیا تھا۔ اسی طرح سیدہ ام سلمہ و ام حبیبہ رضی اللہ عنہما کے غلام آزاد کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

حدثنا مسدد بن مسرهد، قال: ثنا عبد الوارث، عن سعيد بن جُمْهان، عن سفينة قال: كنت مملوكاً لأم سلمة فقالت: أعتقك وأشترط عليك أن تخْدُمَ رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم ما عشت، فقلت: وإن لم تشترطي عليّ ما فارقت رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم ما عشتُ، فأعتقتني واشترطت عليَّ. (سنن ابو داؤد، کتاب العتق ، حديث 3932)

سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا۔ آپ مجھ سے کہنے لگیں، "میں تمہیں آزاد کرتی ہوں بشرطیکہ تم جب تک زندہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت کیا کرو۔" میں نے کہا، "اگر آپ یہ شرط نہ بھی رکھیں تب بھی میں جب تک زندہ ہوں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جدائی برداشت نہ کروں گا۔" انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور یہ شرط برقرار رکھی۔

دیگر صحابہ

احادیث میں ایسے بہت سے صحابہ کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے محض اللہ تعالی کی رضا کے لئے غلام آزاد کئے۔ چند مزید واقعات پیش خدمت ہیں:

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة أنبأنا أبو غالب عن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل من خيبر ومعه غلامان فقال علي رضي الله عنه: يا رسول الله أخدمنا فقال: خذ أيهما شئت فقال: خر لي قال: خذ هذا ولا تضربه فإني قد رأيته يصلي مقبلنا من خيبر وإني قد نهيت عن ضرب أهل الصلاة وأعطى أبا ذر الغلام الآخر فقال: استوص به خيرا ثم قال: يا أبا ذر ما فعل الغلام الذي أعطيتك قال: أمرتني أن أستوص به خيرا فأعتقته. (مسند احمد، باب ابو امامة باهلی)

ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب خیبر سے واپس آئے تو آپ کے ساتھ دو غلام تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے، "یا رسول اللہ! ان میں سے ایک مجھے کام کے لئے دے دیجیے۔" آپ نے فرمایا، "جو تمہیں پسند ہے، لے لو۔" میں نے ایک کو پسند کیا تو آپ نے فرمایا، "اسے کبھی مارنا نہیں۔ میں نے واپسی پر اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے میں نے تمہیں منع کیا ہے۔"

آپ نے دوسرا غلام ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا، "میں تمہیں اس کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔" کچھ عرصے بعد آپ نے پوچھا، "ابوذر! میں نے تمہیں جو غلام دیا تھا، تم نے اس کا کیا کیا؟" وہ بولے، "آپ نے مجھے اس کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا۔"

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، عن محمد بن بشر، عن إسماعيل، عن قيس، عن أبي هريرة رضي الله عنه:  أنه لما أقبل يريد الإسلام، ومعه غلامه، ضل كل واحد منهما من صاحبه، فأقبل بعد ذلك وأبو هريرة جالس مع النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (يا أبا هريرة، هذا غلامك قد أتاك). فقال: أما إني أشهدك أنه حر، قال: فهو حين يقول: يا ليلة من طولها وعنائها * على أنها من دارة الكفر نجت. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2530)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی (اسلام قبول کرنے کے ارادے سے) چلا۔ یہ دونوں حضرات راستے میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ (ابوہریرہ پہلے مدینہ پہنچ گئے) اور وہ بعد میں پہنچا تو ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا، "ابوہریرہ! تمہارا غلام بھی پہنچ گیا۔" وہ کہنے لگے، "میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ آج سے آزاد ہے۔" اس کے بعد انہوں نے شعر پڑھا، "آج کی رات بہت لمبی لیکن بہت پیاری ہے کیونکہ اس نے مجھے دار کفر سے نجات دی ہے۔"

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِي عَمْرَةَ الأَنْصَاري : أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ، ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَهَلَكَتْ، وَقَدْ كَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ : لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا، فَقَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم  : « نَعَمْ ».   (موطا مالک، کتاب العتق والولاء، حديث 2261)

عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ الانصاری بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ غلام آزاد کرنے کی وصیت کرنا چاہتی تھیں۔ اس میں کچھ تاخیر ہو گئی اور وہ وفات پا گئیں۔ عبدالرحمن نے قاسم بن محمد (بن ابوبکر صدیق) سے پوچھا، "اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا یہ ان کے لئے فائدہ مند ہو گا؟" قاسم کہنے لگے، "سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہی بات پوچھی تھی، "میری والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ اگر میں ان کی جانب سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں اس کا فائدہ ہو گا؟" آپ نے فرمایا تھا، "بالکل ہو گا۔"

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا أبو نوح قراد قال أنبأنا ليث بن سعد عن مالك بن أنس عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم وعن بعض شيوخهم أن زيادا مولى عبد الله بن عباد بن أبي ربيعة حدثهم عمن حدثه عن النبي صلى الله عليه وسلم أن رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس بين يديه فقال: يا رسول الله إن لي مملوكين يكذبونني ويخونونني ويعصونني وأضربهم وأسبهم فكيف أنا منعهم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:

بحسب ما خانوك وعصوك ويكذبوك وعقابك إياهم إن كان دون ذنوبهم كان فضلا لك عليهم۔ وإن كان عقابك إياهم بقدر ذنوبهم كان كفافا لا لك ولا عليك۔ وإن كان عقابك إياهم فوق ذنوبهم اقتص لهم منك الفضل الذي بقي قبلك۔ فجعل الرجل يبكي بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ويهتف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما له ما يقرأ كتاب الله ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين۔ فقال الرجل: يا رسول الله ما أجد شيئا خيرا من فراق هولاء يعني عبيده إني أشهدك أنهم أحرار كلهم. (مسند احمد، باب عائشة)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب آ کر آپ کے قریب بیٹھ گئے اور کہنے لگے، "یا رسول اللہ! میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے ہیں اور میری بات نہیں مانتے۔ میں نے انہیں مارا ہے اور برا بھلا کہا ہے۔ میں انہیں کس طریقے سے اس سے باز رکھوں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:

"اگر تم نے ان کی خیانت، نافرمانی اور جھوٹ کی نسبت کم سزا انہیں دی ہے تو یہ ان پر تمہاری مہربانی ہے۔ اگر تم نے ان کے جرائم کے مطابق سزا دی ہے تو معاملہ برابر برابر ہے۔ نہ تو تمہاری مہربانی ہے اور نہ ہی تم پر کوئی ذمہ داری ہے۔ اگر تم نے ان کے جرائم کی نسبت انہیں زیادہ سزا دی ہے تو پھر یاد رکھو کہ جتنی زیادتی تم نے کی ہے، اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔"

(ان صاحب پر اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے زور زور سے رونے لگے۔ حضور نے فرمایا، "کیا تم اللہ کی کتاب میں نہیں پڑھتے کہ 'ہم قیامت کے دن میزان لگا دیں گے۔ کسی شخص پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔ اگر کسی نے مٹی کے ذرے کے برابر بھی (نیکی یا برائی) کی ہو گی تو ہم اسے اس کا بدلہ دیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔' " وہ شخص یہ سن کر کہنے لگا، "یا رسول اللہ! میرے لئے ان غلاموں کو چھوڑنے سے بہتر کوئی بات نہیں ہے۔ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ سب کے سب آزاد ہیں۔"

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ : أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ مَرَّ بِرَاعٍ يَرْعَى ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ فَأَهْدَاهَا لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : حُرٌّ أَنْتَ أَمْ مَمْلُوكٌ ؟ فَقَالَ : مَمْلُوكٌ ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا لِي ، فَقِبَلهَا مِنْهُ ، ثُمَّ اشْتَرَاهُ وَاشْتَرَى الْغَنَمَ ، وَأَعْتَقَهُ وَجَعَلَ الْغَنَمَ لَهُ.  (ابن ابی شيبة، حديث 23642)

سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ایک چرواہے کے پاس سے گزرے جو کہ بھیڑیں چرا رہا تھا۔ اس نے ایک بھیڑ ان کی خدمت میں تحفتاً پیش کی۔ آپ نے پوچھا، "تم آزاد ہو یا غلام ہو؟" اس نے کہا، "غلام ہوں۔" آپ نے بھیڑ اسے واپس کر دی۔ اس نے کہا، "یہ میری اپنی ہے۔" آپ نے تب اس کا تحفہ قبول فرما لیا۔ اس کے بعد آپ نے اس غلام کو پورے گلے سمیت خرید لیا اور اسے آزاد کر کے تمام بھیڑ بکریاں اسے تحفتاً دے دیں۔

حدثنا علي بن حمشاذ ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثني أبو نعيم الفضل بن دكين ثنا زهير عن ليث عن مجاهد عن علي بن عبد الله بن عباس قال أعتق العباس عند موته سبعين مملوكا۔  (مستدرک حاکم، حديث 5402)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عباس نے اپنی وفات کے وقت ستر غلاموں کو آزاد کیا۔

یہ صرف چند واقعات ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرنے کی مثالوں سے اسماء الرجال کی کتب بھری ہوئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے غلاموں کی آزادی کو ایک سماجی ادارے (Social Institution) کی شکل دے دی تھی۔ اس بات کو تمام انصاف پسند مغربی مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ یہاں ہم بطور مثال برطانیہ کے لیجنڈ مورخ ایڈورڈ گبن کے کچھ اقتباسات پیش کر رہے ہیں:

A familiar story is related of the benevolence of one of the sons of Ali. In serving at table, a slave had inadvertently dropped a dish of scalding broth on his master: the heedless wretch fell prostrate, to deprecate his punishment, and repeated a verse of the Koran: "Paradise is for those who command their anger: " - "I am not angry: " - "and for those who pardon offences: " - "I pardon your offence: " - "and for those who return good for evil: " - "I give you your liberty and four hundred pieces of silver."

(Edward Gibbon, The History of Decline & Fall of Roman Empire, http://www.ccel.org )

علی کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے (حسن) کے حسن سلوک کی ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔ کھانا پیش کرتے ہوئے ایک غلام سے اچانک پلیٹ گر گئی جس سے آقا پر ابلتا ہوا سالن گر گیا۔ لاپرواہ غلام نے اپنی سزا کو کم کروانے کے لئے نہایت عاجزی سے قرآن کی ایک آیت تلاوت کی، "جنت ان کے لئے ہے جو اپنے غصے پر قابو رکھتے ہیں۔" (حسن نے جواب دیا،) "مجھے غصہ نہیں آیا۔" (غلام کہنے لگا،) "اور وہ جو لوگوں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔" (حسن نے فرمایا،) "میں نے تمہارا قصور معاف کیا۔" (غلام نے آیت کا باقی حصہ تلاوت کیا،) "اور وہ جو برائی کے بدلے بھلائی کرتے ہیں۔" (حسن کہنے لگے،) "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں اور چار سو درہم دیتا ہوں۔"

بعد کے ادوار میں غلاموں کی آزادی کی تحریک کے اثرات

غلاموں کی آزادی کی تحریک کے اثرات اس دور سے لے کر آج تک ہر دور میں برقرار رہے ہیں۔ غلاموں کی آزادی مسلمانوں کے ہاں مکمل اتفاق رائے کے ساتھ ایک نیکی رہی ہے۔ مسلمانوں کے نیک تو کیا برے لوگ بھی غلاموں کو آزاد کرتے رہے ہیں۔ ابن جوزی المنتظم میں بیان کرتے ہیں کہ بنو امیہ کے مشہور ظالم گورنر حجاج بن یوسف نے بھی مرتے وقت اپنے تمام غلاموں کو آزادی دے دی تھی۔

          کے ایس لال، جنہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے غلامی کے نظام کا نہایت ہی متعصبانہ اور یکطرفہ تجزیہ کرتے ہوئے بہت سے اسلامی قوانین اور تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا ہے، بیان کرتے ہیں:

Manumission was widely practised in India for various reasons and causes. For instance, many are the blessings to those who fast during Ramzan, but if neglected intentionally the offender must expiate his guilt by the manumission of one male slave (ghulam) for every day that he broke the fast. Or, when the emperor Shahjahan was ill, his daughter liberated several slaves, made them walk round her father, and then sent them away to carry his infirmities with them. (K. S. Lal, Muslim Slave System, Chapter XI)

مختلف وجوہات اور اسباب کی بنیاد پر غلاموں کی آزادی کا انڈیا میں عام معمول تھا۔ مثال کے طور پر، جو شخص رمضان میں روزے رکھے تو اس کے لئے بہت سے انعام ہوں گے لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر روزہ توڑ دے تو ہر روزے کے بدلے اسے ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔ اسی طرح جب شاہجہان بیمار ہوا تو اس کی بیٹی نے متعدد غلام آزاد کئے اور انہیں اپنے باپ کے گرد پھیرے لینے کا حکم دیا تاکہ وہ اس کی بیماری اپنے ساتھ لے جائیں۔

شاہجہان کی بیٹی کی اس توہم پرستی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ توہم پرستی مسلمانوں میں دیگر اقوام سے ہی آئی تھی۔

          موجودہ دور میں، جب غلامی ختم ہو چکی ہے، بہت سے مسلم ممالک بالخصوص عرب دنیا میں یہ عام معمول ہے کہ لوگ رمضان میں زکوۃ نکالتے وقت اس کا ایک حصہ ان افراد کے لئے مختص کر دیتے ہیں جو جرمانے وغیرہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جیل میں قید ہیں۔

آزاد کردہ غلاموں سے متعلق اعداد و شمار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور خلفاء راشدین کے دور میں موجود کل آبادی، غلاموں اور آزاد کردہ غلاموں کی تعداد کے بارے میں بدقسمتی سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اعداد و شمار مرتب کئے جانےکا ذکر ملتا ہے جس میں انسانوں کے علاوہ زمین، باغات اور مویشیوں کی تعداد کا حساب بھی مرتب کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے یہ ریکارڈ ہمیں دستیاب نہیں ہو سکا۔ یہ اعداد و شمار بھی یقیناً تھوڑے ہی عرصے میں تبدیل ہو گئے ہوں گے کیونکہ اس کے بعد فتوحات کے سیلاب کے نتیجے میں بہت سے ممالک اسلامی حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی سرحدوں کے باعث اعداد و شمار کا ریکارڈ مرتب رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔

          ان اعداد و شمار کی عدم فراہمی کے باعث ہم نے خلافت راشدہ کے زمانے میں آزاد کردہ غلاموں کی تعداد اور معاشرے میں تناسب کا ایک نامکمل اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے جس کی تفصیلات ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔

          مسلمانوں کے ہاں ایک عجیب علم ایجاد ہوا ہے جس کی مثال دیگر اقوام میں نہیں ملی۔ اس علم کو "فن رجال" کہا جاتا ہے۔ چونکہ مسلمانوں کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور ان کی یہ شدید خواہش رہی ہے کہ آپ سے منسوب ایک ایک بات کی چھان بین اور جانچ پڑتال کر کے ہی اسے قبول کیا جائے، اس وجہ سے انہوں نے حدیث بیان رکھنے والوں کے حالات زندگی (Biographies) کو مرتب کرنا شروع کر دیا تاکہ کسی قابل اعتماد شخص سے ہی حدیث کو قبول کیا جا سکے۔ پہلے پہل تو یہ فن زبانی روایات کی صورت میں محفوظ کیا گیا اور دوسری اور تیسری صدی ہجری میں اس پر باقاعدہ کتب لکھی جانے لگیں۔

          ہم نے ان کتب میں سے ابن سعد (وفات 230H / 844CE) کی کتاب طبقات الکبری کا انتخاب کر کے اس میں آزاد کردہ غلاموں کی تعداد کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ اس میں احادیث بیان کرنے والے افراد کو ان کے اسلام قبول کرنے کے زمانے، سن پیدائش و سن وفات اور صحابہ کرام سے ان کی ملاقات کے اعتبار سے مختلف طبقات (Classes) میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اعداد و شمار مرتب کرنا ایک نسبتاً آسان کام ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں ہر طبقے کے آزاد کردہ غلاموں کو الگ سے بیان کیا گیا ہے۔ دیگر کتب رجال میں ان ناموں کو بالعموم حروف تہجی کی ترتیب پر مرتب کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان پر تحقیق کرنا ایک مشکل کام ہے۔ طبقات ابن سعد میں جن راویان حدیث کا نام دیا ہوا ہے اس کے مطابق جو نتائج سامنے آتے ہیں انہیں اس جدول میں بیان کیا گیا ہے:

طبقہ

کل تعداد

آزاد کردہ غلام اور نیم غلام

تناسب

مہاجرین

218

61

28%

انصار

512

86

17%

کبار تابعین

652

172

26%

صغار تابعین

238

46

19%

کل تعداد

1620

365

23%

اب ہم ان سب کو الگ الگ تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

مکہ کے رہنے والے مہاجر صحابہ

اس گروپ میں وہ صحابہ شامل ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی مکی زندگی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ ابن سعد نے ان کا ذکر تین طبقات میں کیا ہے۔ ایک تو وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ مدینہ ہجرت کی اور جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ دوسرا طبقہ ان مہاجرین پر مشتمل ہے جو بہت پہلے اسلام لے آئے اور انہوں نے پہلے حبشہ ہجرت کی اور پھر دوبارہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ تیسرا طبقہ ان مہاجرین پر مشتمل ہے جو فتح مکہ سے پہلے اور غزوہ احد کے بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے۔

          ابن سعد نے مکہ کے رہنے والے ان صحابہ میں سے 218 صحابہ کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے 61 حضرات ایسے ہیں جو اسلام سے پہلے غلام یا نیم غلام کے درجے پر تھے۔ اسلام نے ان کا درجہ بلند کر کے انہیں آزاد کیا اور انہیں وہی رتبہ عطا کیا جو قدیم الاسلام صحابہ کو حاصل ہے۔ اس طرح سے مہاجرین مکہ میں آزاد کردہ غلاموں کا تناسب 28% ہے۔

          ان میں مشہور غلاموں میں زید بن حارثہ، بلال، صہیب، عامر بن فہیرہ، مہجع بن صالح اور خباب بن ارت رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ مشہور نیم غلاموں میں عبداللہ بن مسعود، عمار بن یاسر اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔  اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہےکہ اسلام میں غلاموں کی بڑی تعداد کو کس قدر کشش محسوس ہوئی تھی۔

انصار مدینہ

ان میں وہ صحابہ شامل ہیں جو مدینہ کے رہنے والے تھے اور انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی بھرپور مدد کی اور انہیں مدینہ میں سیٹل ہونے میں مدد دی۔ انصار کی تقریباً پوری آبادی غزوہ احد سے پہلے اسلام قبول کر چکی تھی۔ ابن سعد نے ان میں سے 512 صحابہ کا ذکر کیا ہے جن میں سے 86 غلام یا نیم غلام تھے جنہیں آزادی نصیب ہوئی۔ ان کا تناسب 17% فیصد ہے۔ انصار کے ہاں نیم غلاموں کی تعداد مکمل غلاموں کی نسبت زیادہ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مدینہ ایک زرعی علاقہ تھا اور یہاں مزارعوں کی تعداد زیادہ تھی۔ یہ لوگ اپنی زمینوں کے مالکوں کے ساتھ "حلیف" بن کر رہتے اور ان کے مولی کہلاتے۔

بعد کے دور کے صحابہ

ان صحابہ کے علاوہ ابن سعد نے کم و بیش 580 مزید صحابہ کا ذکر کیا ہے جن میں مکہ و مدینہ کے علاوہ دیگر قبائل اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحابہ شامل ہیں۔ ان میں وہ صحابہ بھی شامل ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور انہوں نے مدینہ ہجرت نہیں کی۔ اس گروپ میں مصنف نے صرف ان افراد کا ذکر کیا ہے جو کسی وجہ سے مشہور ہو گئے تھے۔ عام طور پر یہ لوگ اپنے قبائل کے سرکردہ افراد میں سے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں آزاد کردہ غلاموں کا ذکر بہت کم ہے۔ اس وجہ سے ہم اس طبقے کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔

تابعین کا دور اول

تابعین کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات (11H / 632CE) سے شروع ہوتا ہے۔ ابن سعد نے تابعین کو سات طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں سے پہلا طبقہ وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں موجود تھا لیکن وہ آپ کی صحبت سے فیض یاب نہ ہو سکا تھا۔ ان لوگوں کو آپ کے خلفاء راشدین سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا تھا۔ دوسرا طبقہ ان تابعین کا ہے جو خلافت راشدہ کے دور میں پیدا ہو کر جوان ہوئے۔ ان حضرات کو اکثر صحابہ سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔ ان میں سے اکثر حضرات کا زمانہ [11 - 100H  / 632 - 718CE]  کا ہے۔

          تیسرے اور چوتھے طبقے کے تابعین کو ان صحابہ سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا ہے جو عہد رسالت میں درمیانی عمر کے تھے۔ اس طبقے کے اکثر تابعین کا زمانہ [60 – 130H / 679 – 747CE] کے لگ بھگ ہے۔

          ابن سعد نے ان چار طبقات کے 512 تابعین کا ذکر کیا ہے جن میں سے 172 آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان آزاد کردہ غلاموں کا تناسب تمام تابعین میں 26% ہے۔

تابعین کا دور ثانی

بعد کے دور کے تابعین وہ ہیں جنہیں ان صحابہ سے ملاقات کا موقع ملا جو عہد رسالت میں ابھی بچے تھے اور اس کے بعد انہوں نے طویل عمر بھی پائی۔ اس طرح سے یہ تابعین وہ ہیں جنہیں صحابہ سے براہ راست تربیت یافتہ ہونے کا زیادہ موقع نہیں مل سکا۔ ان کو ابن سعد نے تین مزید طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے ان طبقات کے 238 تابعین کا ذکر کیا ہے جن میں 46 آزاد کردہ غلام ہیں۔ اس طرح سے آزاد کردہ غلاموں کا تناسب 19%  ہے۔ ان میں سے خاص طور پر چھٹے طبقے [90 – 170H / 708 – 786CE] میں آزاد کردہ غلاموں کا تناسب 43% ہے۔

مجموعی نتائج

اگر ان تمام طبقات کے نتائج کو اکٹھا کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد صحابہ و تابعین میں مدینہ کی تعلیم یافتہ آبادی کا 23% حصہ آزاد کردہ غلاموں پر مشتمل تھا۔ واضح رہے کہ یہ تناسب صرف اور صرف ایک طبقے کا ہے جو کہ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کی روایت میں حصہ لیا تھا۔ ان میں وہ آزاد کردہ غلام شامل نہیں ہیں جو زراعت، گلہ بانی، گھریلو صنعت اور تجارت میں مشغول رہے تھے۔ معاشرے کے ان طبقوں میں یقیناً آزاد کردہ غلاموں کا تناسب بہت زیادہ ہو گا کیونکہ ایسے غلاموں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔

          اگر سہولت کے لئے ہم یہ فرض کر لیں کہ اسلامی معاشرے میں آزاد کردہ غلام کل آبادی کا 25% تھے اور مدینہ کی آبادی 100,000 فرض کر لی جائے تو آزاد کردہ غلاموں کی تعداد صرف مدینہ شہر میں 25,000 بنتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پورے عرب سے غلامی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کے عرب کی آبادی کو دس لاکھ بھی فرض کر لیا جائے تو آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 250,000 بنتی ہے۔

          اسلامی سلطنت کے مختلف حصوں میں آزاد کردہ غلاموں کے تناسب میں یقیناً فرق ہو گا۔ اگر بلوچستان کے ساحلوں سے لے کر مراکش تک پھیلی ہوئی اسلامی سلطنت کی آبادی کو اگر دس کروڑ بھی مان لیا جائے تو یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے نتیجے میں کم از کم اڑھائی کروڑ غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی ہو گی۔

          اگر غلاموں کی آزادی کے اس پیٹرن کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قدیم الاسلام صحابہ کے تقریباً تمام کے تمام غلام آزاد ہو چکے تھے۔ اس کے بعد تابعین کے دور اول میں بہت زیادہ غلام آزاد کئے گئے۔ تابعین کے دور ثانی میں اس تعداد میں کچھ کمی واقع ہو گئی تھی۔

          غلاموں کی خدمات کی قیمتوں سے بھی اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ تابعین کے دور ثانی تک پہنچتے پہنچتے معاشرے میں غلاموں کی تعداد میں بہت کمی واقع ہو چکی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں ایک عام سے غلام کی خدمات کی قیمت 400-800 درہم کے لگ بھگ تھی۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ کا بدل کتابت نو اوقیہ یعنی 360 درہم تھا (عمدۃ القاری)۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا بدل کتابت 300 درہم تھا (فتح الباری)۔

       سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ قیمت 40,000 درہم تک پہنچ چکی تھی۔ ابو سعید المقبری رحمۃ اللہ علیہ اجلہ تابعین میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے مالک سے 40,000 درہم پر مکاتبت کی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس رقم کو ادا کرنے میں ان کی مدد کی تھی۔ (دیکھیے تابعین طبقہ اول) اسی طرح سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے افلح کو 40,000 درہم میں مکاتبت دی تھی اور پھر خود ہی اس مکاتبت کو منسوخ کر کے انہیں بغیر کسی رقم کے آزاد کر دیا تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک غلام سے 35000 درہم پر مکاتبت کی تھی اور آخر میں اسے کچھ رقم معاف بھی کر دی تھی۔ (دیکھیے موطاء امام مالک، حدیث 2290)

          معاشیات کے قانون طلب و رسد کی رو سے کسی بھی سامان یا خدمات کی قیمت اتنی زیادہ بڑھ جانے کی وجوہات صرف دو ہی ہو سکتی ہیں؛ یا تو ان کی طلب (Demand) میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے اور یا پھر ان کی رسد (Supply) میں غیر معمولی کمی واقع ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور تک طلب میں غیر معمولی اضافے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ اگرچہ ان کے دور میں بہت سے غیر آباد زمینوں کو آباد کیا گیا لیکن اس سے غلاموں کی طلب میں اتنا اضافہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی قیمتیں چالیس گنا بڑھ جائیں۔ اس صورت میں واحد وجہ یہی رہ جاتی ہے کہ ان کی سپلائی میں غیر معمولی کمی واقع ہو چکی تھی۔

       غلاموں کی سپلائی میں کمی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جو غلام پہلے سے موجود تھے، وہ تو دھڑا دھڑ آزاد کئے جا رہے تھے جبکہ نئے غلام بنائے جانے پر تقریباً پابندی عائد ہو چکی تھی۔ نئے غلام بنائے جانے کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنا لیا جائے۔ اس صورت پر بھی بہت کم عمل کیا گیا اور اگر کبھی کسی بہت ہی سرکش دشمن کو غلام بنایا گیا تو اسے اطاعت قبول کر لینے پر آزاد کر دیا گیا۔ مفتوحہ ممالک میں جو غلام پہلے سے ہی موجود تھے، انہیں بالعموم مفتوحہ علاقوں ہی میں رکھا گیا تھا اور ان کی بڑے پیمانے پر منتقلی نہ کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت راشدہ کے دور میں غلاموں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی۔

غلاموں کے اسٹیٹس میں اضافے کے نتائج

غلاموں کے اسٹیٹس میں اس اضافے کے نہایت مثبت اثرات مسلم معاشرے پر مرتب ہوئے۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے مشہور مستشرق ڈینیل پائپس لکھتے ہیں:

In reality, too, the first experiences of slaves in Islam were extremely good. For a variety of reasons, they filled important positions from the first years of Islam and participated extensively in its early civilization. Where else have "slaves made important contributions and exerted strong influences in the realms of politics and public administration, warfare, religion, arts and crafts, music, poetry, grammar, and learning in general? Slaves pervaded every area of activity, and their names ranked among the most celebrated of early Islamicate history and culture.

(Daniel Pipes, Slavery Soldiers & Islam, www.danielpipes.com )

حقیقی زندگی میں اسلام میں غلاموں کا پہلا تجربہ آخری حد تک اچھا تھا۔ بہت سی وجوہات کی بنیاد پر، اسلام کے ابتدائی سالوں میں انہیں (معاشرے اور حکومت میں) اہم ترین عہدے دیے گئے اور انہوں نے ابتدائی تہذیب کی تعمیر میں گہرا کردار ادا کیا۔ (اسلام کے علاوہ) اور کس معاشرے میں ایسا ہے کہ غلاموں نے سیاست، حکومت، جنگ، مذہب، آرٹ، دستکاری، موسیقی، شاعری، گرامر اور عمومی تعلیم میں اتنا اہم کردار ادا کیا ہو؟ غلاموں نے انسانی زندگی کے ہر معاملے میں گہرا اثر و نفوذ حاصل کیا اور ان کے نام مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ اور ثقافت میں غیر معمولی شہرت اور مقام و مرتبے کے حامل ہو سکے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ نے غلاموں کا درجہ کس حد تک بلند کر دیا تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یروشلم کے پادریوں کی فرمائش پر مدینہ سے یروشلم کا سفر کیا تو ان کے ساتھ صرف ایک اونٹ اور ایک غلام تھا۔ آپ نے اس غلام کے ساتھ اپنی باری مقرر کر لی کہ ہر شخص باری باری اونٹ پر بیٹھے گا اور دوسرا اس کی نکیل تھام کر چلے گا۔

          جب یروشلم کے قریب پہنچے تو غلام کی باری تھی۔ اس نے بھرپور اصرار کیا کہ آپ امیر المومنین ہیں، اچھا نہیں لگتا کہ ہم مفتوحین کے سامنے اس طرح جائیں کہ آپ اونٹ کی نکیل تھامے چل رہے ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے غلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اس حالت میں شہر تک پہنچے کہ غلام تو اونٹ پر سوار ہے اور اس وقت کی متمدن دنیا کے پچاس فیصد رقبے کا حکمران اونٹ کی نکیل تھامے چل رہا ہے۔ آپ کے اس حسن سلوک کو دیکھتے ہوئے متعدد عیسائیوں نے اسلام قبول کیا۔

          یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے آئیڈیل عہد میں آزاد کردہ غلاموں، نیم غلاموں اور ان کی آنے والی نسلوں میں بہت سے ایسے افراد پیدا ہوئے جن پر امت مسلمہ آج فخر کرتی ہے۔ ایسے چند افراد کے حالات زندگی ہم بطور مثال یہاں پر طبقات ابن سعد کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کو مسلم معاشرے میں کیا مقام حاصل ہو چکا تھا۔ یہ وہ افراد ہیں جنہیں مسلمانوں کی تاریخ میں غیر معمولی مرتبہ و مقام حاصل ہے۔

بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

بلال ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا تعلق ایتھوپیا سے تھا۔ انہیں دور جاہلیت میں کسی وقت غلام بنا کر مکہ میں لا کر فروخت کر دیا گیا۔ انہوں نے اس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ ایمان لانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا آقا امیہ بن خلف ان پر جسمانی تشدد کرنے لگا۔

          مکہ کی گرمی میں جب درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ ہوا کرتا ہے، انہیں کھال میں لپیٹ کر تپتی ریت پر لٹا دیا جاتا اور کہا جاتا، "کہو تمہارے رب لات اور عزی ہیں۔" آپ جواب میں کہتے، "احد، احد" یعنی میرا رب ایک ہی ہے۔ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں سے کہا جاتا کہ انہیں مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھریں۔ اس وقت بھی بلال کی زبان سے احد احد کے سوا اور کچھ نہ نکلتا۔

          سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلال کو پانچ یا سات اوقیہ چاندی کے بدلے خرید کر خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا۔ ہجرت کے بعد انہیں ابو رویحۃ الخثعمی رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا گیا۔ بلال نے ان کا حسن سلوک آخر تک نہ بھلایا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا وظیفہ مقرر کیا تو انہوں نے اس وظیفے کو اپنے بھائی ابو رویحہ کو دینے کا مطالبہ کیا۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو وہ مقام عطا کیا جس کے لئے آپ مشہور ہوئے اور وہ یہ کہ انہیں اسلام کی تاریخ کا پہلا فرد بنا دیا جس نے اذان دی تھی۔ آج بھی دنیا بھر کے لاکھوں موذن حضرت بلال کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

          عید کے موقع پر بلال حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جانوروں کی قربانی کیا کرتے تھے اور آپ کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ آپ کے مقام اور مرتبے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور نے ان کی شادی قریش کے ایک خاندان بنو زہرہ میں خود کروائی تھی۔ یہ اس وقت کیا گیا تھا جب عرب میں آزاد کردہ غلاموں اور بالخصوص افریقی غلاموں کو بہت حقیر سمجھا جاتا تھا۔

          فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بلال کو کعبے کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔ مکہ کے لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری کہ ایک آزاد کردہ غلام کو یہ مقام مل جائے کہ وہ کعبے کی چھت پر کھڑے ہوں لیکن آپ نے اس کی پرواہ نہ کی۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلال کو اذان دینے کا حکم دیا تو بلال کہنے لگے، "اگر تو آپ نے مجھے اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا تھا تو مجھے جانے دیجیے۔ میں رسول اللہ کے بعد کسی کے لئے اذان نہیں دے سکتا۔" اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ شام جانے والے لشکر میں شامل ہو گئے اور شام کی فتح کے بعد وہیں آباد ہو گئے۔

          مسلم معاشرے میں بلال کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے بھائی نے ایک عرب خاتون کو شادی کے لئے پیغام بھیجا۔ خاتون کے وارثوں نے کہا، "اگر آپ بلال کو لے آئیں تو ہم آپ کی شادی کرنے کے لئے تیار ہیں۔" بلال ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے، "میں بلال ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ ہم دونوں حبشہ کے رہنے والے غلام تھے اور اپنی شکل و صورت اور دین کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ اللہ نے ہمیں ہدایت دی اور ہم دونوں کو اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا۔ اگر آپ ہم سے رشتہ کرنے پر تیار ہوں تو آپ کی مرضی ہے اور اللہ کا شکر ہے۔ اگر آپ انکار کر دیں آپ کی مرضی۔ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔" ان لوگوں نے یہ کہہ کر رشتے کو قبول کر لیا کہ، "آپ کے بھائی سے رشتہ تو ہم ضرور ہی کریں گے۔"

          بلال کے عجز و انکسار کا یہ عالم تھا کہ جب لوگ ان کی تعریف کیا کرتے تو یہ کہا کرتے تھے، "میں تو ایک حبشی ہوں۔ ابھی کل تک تو میں ایک غلام تھا۔" آپ نے 20H / 640CE میں دمشق میں وفات پائی۔ آج بھی پوری دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے دل بلال کا نام سن کر محبت و عقیدت کے جذبات سے معمور ہو جایا کرتے ہیں۔

سالم مولی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ

سالم ایک انصاری خاتون ثنیۃ بنت یعار رضی اللہ عنہا کے غلام تھے۔ انہوں نے ان کو آزاد کر دیا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنا بیٹا بنا لیا اور ان کی شادی اپنی قریشی بھتیجی فاطمہ بنت ولید سے کر دی۔ سالم رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ آنے والے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے قرآن مجید سیکھ لیا تھا اور اس میں اتنے ماہر ہو چکے تھے کہ مہاجرین کے اولین گروہ ہجرت کر کے جب مدینہ میں آئے تو قبا کے مقام پر سالم ہی ان کی امامت کیا کرتے تھے۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن چار صحابہ کو قرآن کی تعلیم کے معاملے میں غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے ان سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا تھا، ان میں سے ایک سالم بھی تھے۔ آپ صحابہ میں غیر معمولی مقام کے حامل تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے لیکن آپ اس سے بہت پہلے 12H / 633CE میں جنگ یمامہ میں شہید ہو چکے تھے۔

          آپ کی وصیت کے مطابق آپ کی میراث کے مال کا ایک تہائی حصہ اللہ کی راہ میں، ایک تہائی غلاموں کو آزاد کرنے میں اور ایک تہائی آپ کے سابقہ مالکوں کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس مال کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بیت المال میں شامل کر دیا گیا۔

          ان حضرات کے علاوہ سیدنا زید بن حارثہ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہما بھی ان غلاموں میں شامل ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں آزاد ہوئے اور انہیں اسلامی تاریخ میں غیر معمولی شہرت نصیب ہوئی۔

          نیم غلاموں یا حلیفوں میں سیدنا عبداللہ بن مسعود، مقداد بن الاسود اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم کو تاریخ میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو صحابہ کے بڑے علماء میں سے ایک ہیں۔ سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سابقون الاولون میں شامل ہیں اور مسلم افواج کے ایک بڑے کمانڈر بنے۔ سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، مسلم فوج کے ایک بڑے جرنیل اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

ام ایمن رضی اللہ عنہا

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی لونڈی تھیں۔ آپ نے انہیں آزاد کر کے ان کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔ ان کی شادی کے وقت آپ نے فرمایا، "کون ہے جو ایک جنتی خاتون سے شادی کرنا چاہے۔" زید سے ان کے ہاں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اپنا ایک باغ بطور تحفہ دیا تھا۔

          انہیں مسلم معاشرے میں جو احترام حاصل ہوا، اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کے بیٹے اسامہ کے آزاد کردہ غلام ابن ابی الفرات کو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں ایک شخص نے جھگڑے میں ابن برکۃ کہہ دیا۔ برکۃ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا اصل نام تھا۔ قاضی شہر ابوبکر بن محمد بن عمرو نے اس جرم میں اس شخص کو ستر کوڑے کی سزا دی کہ اس نے ان کا نام لینے میں حقارت کا اظہار کیا تھا۔

          صحابیات میں جن دیگر لونڈیوں کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، ان میں سیدہ عائشہ کی آزاد کردہ کنیز بریرہ رضی اللہ عنہا بھی شامل ہیں۔

          اب ہم تابعین میں سے چند مشہور حضرات کا بطور مثال ذکر کرتے ہیں جنہیں غلامی سے آزاد ہونے کے بعد مسلم معاشرے میں اعلی درجے کا مقام نصیب ہوا۔

سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ

سلیمان ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب تھے۔ ان کے چار بھائی سیدہ کے آزاد کردہ غلام تھے جن میں عطاء، عبدالملک اور عبداللہ رحمہم اللہ شامل تھے۔ مدینہ کے تابعین میں سات افراد علم دین میں غیر معمولی حیثیت کے حامل سمجھے جاتے تھے جن میں سعید بن مسیب، عروۃ بن زبیر، ابوبکر بن حارث، عبیداللہ بن عتبہ، ، قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق، خارجہ بن زید اور سلیمان بن یسار رحمہم اللہ شامل تھے۔ مدینہ کے لوگ انہی سے آ کر دینی سوالات پوچھا کرتے تھے۔

          سلیمان کے علم و فضل کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جلیل القدر تابعی سعید بن مسیب سے اگر کوئی شخص سوال پوچھتا تو وہ کہتے، "سلیمان بن یسار کے پاس جاؤ، وہ سب لوگوں سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔"

          سلیمان نے جلیل القدر صحابہ سیدنا زید بن ثابت، ابوہریرہ، ابو واقد اللیثی، ابن عمر، عبیداللہ، عبداللہ بن عباس، عائشہ اور میمونہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کی ہیں اور انہیں محدثین میں بہت بلند مقام ہے۔ آپ نے 107H / 725CE میں مدینہ میں وفات پائی۔

عکرمہ مولی ابن عباس رحمۃ اللہ علیہ

عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام اور چہیتے شاگرد تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اکثر روایات انہی سے مروی ہیں۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اپنے غلاموں سے نہایت شفقت کا سلوک کیا کرتے تھے اور ان کی تعلیم و تربیت کی طرف بہت توجہ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ انہیں شادی کی بھرپور ترغیب دلایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے، "شادی کرو، کیونکہ اگر کوئی بندہ بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے تو اللہ اس سے ایمان کا نور ختم کر دیتا ہے۔" اسی محبت کے باعث ان کے غلام آزاد ہونے کے بعد بھی انہی کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔

          عکرمہ کو تابعین میں تفسیر کا سب سے بڑا عالم مانا جاتا ہے۔ تابعین انہیں علم کا سمندر قرار دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ بصرہ آئے اور گدھے پر سوار ہو کر بازار میں نکلے۔ لوگوں کو جب یہ علم ہوا کہ یہ عکرمہ ہیں تو لوگ ان کے گدھے کے گرد جمع ہو کر سوال کرنے لگے اور ان کے جوابات لکھنے لگے۔ رش اتنا بڑھ گیا کہ انہیں مکان کی چھت پر چڑھ کر مجمع سے خطاب کرنا پڑا۔ ان کے ہم عصر طاؤس کو کہنا پڑا، "اگر ابن عباس کے یہ آزاد کردہ غلام اس طرح احادیث بیان کرنے سے رک جائیں تو لوگ ان کی طرف سفر کر کے جایا کریں گے۔"

          اپنے ہم عصروں میں انہیں یہ مقام حاصل تھا کہ ایک مرتبہ ایک مجلس میں جلیل القدر تابعین علماء سعید بن مسیب، طاؤس، عطاء بن یسار اور عکرمہ رحمہم اللہ اکٹھے تھے اور عکرمہ کی تقریر کی باری تھی۔ ان کی تقریر کے دوران مجمع کی محویت کا یہ عالم تھا کہ ان کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہیں اور وہ ذرا سا ہلے بھی تو یہ اڑ جائیں گے۔ انہوں نے 108H / 726CE میں وفات پائی۔

          تابعین کے دیگر جلیل القدر اہل علم میں طاؤس بن کیسان، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، یحیی بن ابی کثیر، محمد بن سیرین، نافع اور مکحول رحمۃ اللہ علیہم کے نام بہت مشہور ہیں۔ یہ سب کے سب آزاد کردہ غلام ہی تھے۔ یہ حضرات اپنے علمی مرتبے میں سلیمان بن یسار اور عکرمہ کے ہم پلہ تھے اور آج بھی ان حضرات کا بطور تابعی علماء بہت احترام کیا جاتا ہے۔ ابن قیم (691 - 751H / 1292 - 1350CE) لکھتے ہیں:

وقال عبد الرحمن بن زيد بن أسلم: "لما مات العبادلة عبد الله بن عباس وعبد الله بن عمر وعبد الله بن عمرو ابن العاص صار الفقه في جميع البلدان إلى الموالي فكان فقيه أهل مكة عطاء ابن أبي رباح وفقيه أهل اليمن طاووس وفقيه أهل اليمامة يحيى بن أبي كثير وفقيه أهل الكوفة إبراهيم وفقيه أهل البصرة الحسن وفقيه أهل الشام مكحول وفقيه أهل خراسان عطاء الخراساني إلا المدينة فإن الله خصها بقرشي فكان فقيه أهل المدينة سعيد بن المسيب غير مدافع". (ابن قیم، اعلام الموقعین)

عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کہتے ہیں، جب سارے (صحابی جن کا نام) عبداللہ تھا، یعنی عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم فوت ہو گئے تو تمام شہروں میں فقہ (یعنی قانون کا علم) آزاد کردہ غلاموں کے پاس چلا گیا۔ اہل مکہ کے فقیہ عطاء بن ابی رباح ہوئے، یمن کے فقیہ طاؤس، یمامہ کے فقیہ یحیی بن ابی کثیر، کوفہ کے فقیہ ابراہیم نخعی، بصرہ کے فقیہ حسن بصری، شام کے فقیہ مکحول، اور خراسان کے فقیہ عطاء الخراسانی۔ صرف مدینہ کا استثنا رہا جہاں اللہ تعالی نے خاص طور پر قریشی فقیہ کو قائم رکھا۔ اہل مدینہ کے فقیہ بلا شرکت غیرے سعید بن مسیب تھے۔ (ان کے بعد ایک آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کا درجہ تھا۔)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے غلاموں سے اولاد کی طرح محبت کیا کرتے تھے۔ عکرمہ سے آپ کی محبت خصوصی تھی۔  جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پوتے خالد بن یزید، جو کہ بہت بڑے سائنسدان تھے، نے عکرمہ کی خدمات ابن عباس کے بیٹے سے خرید لیا۔  وہ اپنے کسی علمی پراجیکٹ میں عکرمہ کی خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ عکرمہ کو یہ بات بہت بری لگی اور انہوں نے ابن عباس کے بیٹے سے سخت احتجاج کیا اور کہا: "تم نے اپنے باپ کا علم بیچ دیا۔" وہ بڑے شرمندہ ہوئے اور یہ ڈیل کینسل کر کے انہیں آزاد کر دیا۔

ان حضرات کے علاوہ اگر کتب رجال کا جائزہ لیا جائے تو بلامبالغہ ہزاروں کی تعداد میں آزاد کردہ غلاموں کو ذکر ان میں ملتا ہے جو بلند سماجی مرتبے پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد ان کی اولاد میں سے بہت سے جلیل القدر ائمہ پیدا ہوئے۔ ان تمام حضرات کو یہ سماجی مرتبہ اسی وجہ سے مل سکا ہے کہ دین اسلام نے غلاموں کو معاشرے کے سب سے نچلے طبقے سے اٹھا کر آزاد افراد کے برابر لا کھڑا کیا اور انہیں وہ سہولیات فراہم کیں جو ہر شخص کو حاصل تھیں۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability