بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ چہارم: اسلام کے بعد کے ادوار میں غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 14: مسلمانوں کے دور انحطاط میں غلامی (1)

جس طرح بعد کے ادوار میں بنی اسرائیل اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت پر قائم نہ رہ سکے بالکل اسی طرح مسلمان بھی اللہ تعالی کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا نہ رہ سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ جب تک زندہ رہے، اس وقت تک مسلمان دین پر پوری طرح عمل پیرا رہے۔ صحابہ کرام کے آخری دور میں فتنوں کا آغاز ہوا۔ اس کی ابتدا اس طرح سے ہوئی کہ دین اسلام نے مسلمانوں کو شورائیت پر مبنی ایسا نظام (Participative Government) اختیار کرنے کا حکم دیا تھا جس میں حکومت مسلمانوں کے مشورے سے قائم ہو، مشورے سے اپنے کام سرانجام دے اور ان کے مشورے ہی سے ختم ہو۔

          جب تک خلافت راشدہ قائم رہی، تمام حکومتی معاملات اسی طرح چلائے جاتے رہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی چونکہ ان کے اردگرد جلیل القدر صحابہ ہی تھے، اس وجہ سے شورائیت کی یہی اسپرٹ برقرار رہی۔ ان کے بعد حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے اور خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کر دیا گیا۔

بنو امیہ کے دور  (41 – 133H / 661 – 750CE)میں غلامی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کم و بیش دس سال کا عرصہ تو انارکی کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد بنو مروان نے ایک سخت گیر بادشاہت کا آغاز کیا جس میں حجاج بن یوسف جیسے ظالم گورنر کو مسلمانوں پر مسلط کر دیا گیا۔ بعد کے ادوار میں بنو امیہ کے خاندان نے مسلمانوں کے بیت المال کو ذاتی جاگیر سمجھ کر خوب لوٹا اور اپنی دولت میں اضافہ بھی کرتے رہے۔

          ان کے دور میں انسانی آزادیوں پر متعدد پابندیاں عائد کی گئیں اور خواتین کا استحصال کیا گیا۔ لونڈیوں کے ساتھ ساتھ مسلم معاشروں میں ایک اور طبقے "غلمان" کا اضافہ بھی ہوا۔ یہ خوبصورت نوخیز غلام لڑکوں کا طبقہ تھا جسے فروغ دینے میں حکمرانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ان لڑکوں کو بھی جنسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ محمد رضا الشیرازی بیان کرتے ہیں:

أما الاستقلال وحرية القول فجاهد الأمويون في مقاومتهما وقيّدوا الألسنة بإرادتهم تقييداً شديداً فكان ذلك عظيماً على الذين تعوّدوا الحق والحرية فعاقبهم الأمويون جزاء حريتهم واستقلال أفكارهم بالعذاب الشديد، ومن لم يستطيعوا مقاومته جهاراً قتلوه سراً،۔۔۔۔۔۔ بدأت المرأة بتبديل طباعها في أيام الأمويين لأن العفة والغيرة أصابتها في ذلك العصر صدمة قوية بتكاثر الجواري والغلمان وانغماس بعض الخلفاء في الترف والقصف وانتشار الغناء والمسكر فتجرّأ الشعراء على التشبيب والتغزّل وتكاثر المخنّثون في المدن وتوسّطوا بين الرجال والنساء بالباطل، فأخذ الفساد يتفشّى بين الناس وضعفت غيرة الرجال وقلّت عفة الناس حتى كان الشعراء يتشبّبون ببنات الخلفاء۔۔۔۔ فيركبان على نجيبين ويلقيان الحاج فيتعرّضان للنساء وينشدان الأشعار لا يباليان أن تكون فيهن بنت الخليفة أو امرأته، والظاهر أنهم لم يكونوا يفعلون ذلك إلا لما يرون من ارتياح النساء إليه لأن المرأة تفتخر بأن يثني الشعراء على جمالها وإن لم يرض أهلها، فقد كان لعبد الملك بن مروان بنت أرادت الحج فخاف أن يشبّب بها ابن أبي ربيعة فاستكتب الحجاج إليه إن هو فعل ذلك أصابه بكل مكروه، فلما قضت حجها خرجت فمر بها رجل فقالت له: (من أنت؟) فقال: (من أهل مكة) قالت: (عليك وعلى بلدك لعنة الله) قال: (ولم ذاك؟) قالت: (حججت فدخلت مكة ومعي من الجواري ما لم تر الأعين مثلهن فلم يستطع الفاسق ابن أبي ربيعة أن يزودنا من شعره أبياتاً نلهو بها في الطريق من سفرنا) قال: (إني لا أراه إلا قد فعل) قالت: (فآتنا بشيء إن كان قاله ولك بكل بيت عشرة دنانير) فمضى إليه فأخبره فقال: (لقد فعلت ولكن أحب أن تكتم عليّ) وأنشده قصيدة قالها فيها. (محمد رضا الشیرازی، الآداب الاجتماعیۃ فی المملکۃ الاسلامیۃ،  http://www.alshirazi.com)

جہاں تک انسانی آزادی اور آزادی اظہار رائے کا تعلق ہے تو امویوں نے اس پر قدغنیں لگانے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے زبانوں کو بند کرنے کے لئے شدید اقدامات کئے۔ یہ معاملہ ان لوگوں کے لئے سخت تھا جو حق بات کہنے اور آزادی کے قائل تھے۔ امویوں نے ان کی آزادی رائے کی خواہش کی پاداش میں انہیں سخت سزائیں دیں۔ جس شخص کو وہ کھلے عام نہیں روک سکتے تھے، اسے انہوں نے خفیہ طور پر قتل کروا دیا۔۔۔۔

اموی دور میں خواتین کے مزاج میں تبدیلی رونما ہونا شروع ہو چکی تھی۔ عفت و غیرت کے تصور کو اس دور میں شدید دھچکا لگا  جس کی وجوہات میں لونڈیوں اور غلمانوں کی کثرت، بادشاہوں میں دکھاوے اور فضول خرچی کا فروغ، اور موسیقی اور شراب کی کثرت تھی۔ شاعر لوگ عاشقانہ غزلیں کہنے لگے۔ شہروں میں مخنث کثرت سے پھیل گئے اور مردوں اور خواتین کے درمیان واسطے کا سبب بنے۔ لوگوں میں فساد پھیلتا چلا گیا، مردوں کی غیرت کمزور پڑتی چلی گئی اور لوگوں میں عفت و عصمت کم ہوتی چلی گئی۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ شاعر شاہی خاندان کی عورتوں کے بارے میں غزلیں کہنے لگے۔

شرفاء حج کے بعد خواتین کے ساتھ شعر و شاعری کی محفلوں میں شریک ہونے لگے۔ اس کی بھی پرواہ نہ رہی کہ ان میں بادشاہ کی بیٹی یا بیوی موجود ہے۔ ظاہری طور پر وہ یہ سب کچھ خواتین کی خوشنودی کے لئے کیا کرتے تھے کیونکہ عورتیں اس بات پر فخر کرتی تھیں کہ شاعر ان کے حسن و جمال کی تعریف کر رہے ہیں اگرچہ ان کے گھر والے اسے پسند نہ بھی کریں۔

عبدالملک بن مروان کی بیٹی نے حج کا ارادہ کیا تو بادشاہ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ ابن ابی ربیعہ (نامی شاعر) کہیں اس کے بارے میں عشقیہ غزل نہ کہہ دے۔ اس نے حجاج (بن یوسف) کو حکم لکھوایا کہ اگر وہ یہ کام کرے تو اسے ہر طرح کی سخت سزا دی جائے۔ جب اس کی بیٹی حج کر کے فارغ ہوئی اور واپسی کے لئے نکلی تو ایک شخص اس کے پاس آیا۔ شہزادی نے پوچھا، "تم کون ہو؟" اس نے کہا، "مکہ کے رہنے والوں میں سے ایک۔" وہ بولی، "تم پر اور تمہارے شہر والوں پر اللہ کی لعنت ہو۔" اس نے پوچھا، "وہ کیوں؟" وہ بولی، "میں حج کے لئے مکہ میں داخل ہوئی اور میرے ساتھ میری وہ لونڈیاں بھی تھیں جن کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ہوگی۔ فاسق (شاعر) ابن ابی ربیعہ کیا اتنی صلاحیت بھی نہ رکھتا تھا کہ وہ کچھ ایسے شعر کہہ دیتا جن سے ہم دوران سفر لطف اندوز ہی ہوتے۔" وہ بولا، "میرے خیال میں وہ یہ کرنا چاہتا ہے۔" وہ بولی، "اگر اس نے کچھ شعر کہے ہیں تو وہ ہمیں دے، ہر شعر کے بدلے اسے دس دینار ملیں گے۔" اس نے جا کر ابن ابی ربیعہ کو یہ بات بتائی۔ وہ کہنے لگا، "میں نے یہ کر تو لیا ہے لیکن میری یہی خواہش ہے کہ یہ بات چھپا لی جائے کہ یہ شعر میرے ہیں۔" اس کے بعد اس نے اس شہزادی کے بارے میں قصیدہ کہا۔

ایسا نہیں تھا کہ اس دور میں تمام کے تمام مسلمان ہی انحراف کا شکار ہو چکے تھے۔ ان میں جلیل القدر صحابہ و تابعین کی کمی نہ تھی جو انہیں اصل دین کی طرف لوٹنے اور نیکیاں کرنے کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَالِي أَرَى عُلَمَاءَكُمْ يَذْهَبُونَ ، وَأَرَى جُهَّالَكُمْ لاَ يَتَعَلَّمُونَ ، اعْلَمُوا قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ , فَإِنَّ رَفْعَ الْعِلْمِ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ ، مَالِي أَرَاكُمْ تَحْرِصُونَ عَلَى مَا تُكُفِّلَ لَكُمْ بِهِ ، وَتُضَيِّعُونَ مَا وُكِّلْتُمْ بِهِ ، لأَنَا أَعْلَمُ بِشِرَارِكُمْ مِنَ الْبَيْطَارِ بِالْخَيْلِ ، هُمَ الَّذِينَ لاَ يَأْتُونَ الصَّلاَةَ إِلاَّ دُبُرًا ، وَلاَ يَسْمَعُونَ الْقُرْآنَ إِلاَّ هَجْرًا ، وَلاَ يَعْتِقُ مُحَرَّرُهُمْ. (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث 35748)

سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ (d. 32H / 653CE) فرمایا کرتے تھے، "تمہیں کیا ہوا۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے علماء اٹھتے چلے جا رہے ہیں اور تمہارے غیر تعلیم یافتہ لوگ ان سے علم حاصل نہیں کرتے۔ ان سے سیکھ لو اس سے پہلے کہ علم ہی اٹھ جائے۔ علم علماء کی وفات کے ساتھ اٹھ جایا کرتا ہے۔ تمہیں کیا ہوا، میں دیکھتا ہوں کہ جتنا مال تمہاری کفالت کے لئے کافی ہے، تم اس سے زیادہ کا لالچ کرنے لگے ہو۔ تمہیں جس دولت (کو لوگوں تک پہنچانے) کا وسیلہ بنایا گیا ہے، تم اسے ضائع کرنے لگے ہو۔ میں تمہارے ان برے لوگوں کو جانتا ہوں جو گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ نماز کو آخری وقت میں ادا کرتے ہیں۔ قرآن کو سنتے ہیں تو اس پر توجہ نہیں دیتے اور اپنے غلاموں کو آزاد نہیں کرتے۔

یہ بنو امیہ کا دور ہی تھا جس میں کثیر تعداد میں آزاد کردہ غلام جلیل القدر علماء بن سکے۔ یہی مصلحانہ تحریک مسلمانوں میں زندہ رہی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہی بنو امیہ میں ایک صالح شخص سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمۃ کو جب حکومت حاصل ہوئی تو انہوں نے خلافت راشدہ کی یاد کو تازہ کر دیا۔ انہوں نے حکومت حاصل کرتے ہی جو اقدامات کئے ان میں سے یہ اقدام خاص طور پر قابل غور ہے:

و استخلف عمر بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم أبو حفص بدير سمعان في اليوم الذي توفي فيه سليمان بن عبد الملك ، و أم عمر بن عبد العزيز أم عاصم بنت عاصم بن عمر بن الخطاب و اسمها ليلى ، فلما ولي عمر جمع وكلاءه و نساءه و جواريه فطلقهن و أعتقهن. (سیرت ابن حبان)

سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد عمر بن عبدالعزیز بن مروان خلیفہ بنے۔ ان کی والدہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پوتی ام عاصم تھیں جن کا نام لیلی تھا۔ حکومت سنبھالتے ہی عمر نے (بنو امیہ کے) تمام نمائندوں، خواتین اور لونڈیوں کو جمع کیا۔ انہوں نے (زبردستی بیاہی گئی) خواتین کو طلاق دلوائی اور (شاہی خاندان کی) لونڈیوں کو آزاد کر دیا۔

افسوس کہ بنو امیہ نے اپنے اس جلیل القدر فرزند کو زندہ نہ رہنے دیا اور انہیں زہر دے کر شہید کر دیا۔ اس جرم کی پاداش میں بنو امیہ کا اقتدار زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔ ہشام بن عبدالملک نے اپنی ذہانت سے اس اقتدار کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن اس کے نااہل جانشینوں نے سب کچھ گنوا دیا۔ بغاوتوں پر بغاوتیں اٹھنے لگیں۔ نیک اور صالح لوگوں نے باغیوں کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں بنو امیہ اقتدار سے بے دخل ہوئے اور بنو عباس ان کی جگہ حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی دور میں بنو امیہ کے ایک لائق شخص عبدالرحمٰن نے اندلس میں اپنی حکومت قائم کر لی اور حسن انتظام سے اس کو سلطنت عباسیہ کا ہم پلہ بنا دیا۔ یہ دونوں حکومتیں کئی سو سال تک باقی رہیں۔

          بنو امیہ اگرچہ ایک کرپٹ خاندان تھا لیکن اس میں نیک افراد کی کمی نہ تھی۔ اس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ کئی اور لائق بادشاہ جیسے ولید اور ہشام پیدا ہوئے۔ بنو امیہ کا یہ دور خلافت راشدہ اور خالص ملوکیت کے درمیان ایک عبوری دور سمجھا جاتا ہے۔ بنو عباس اپنی ابتدا میں تو کسی حد تک درست رہے اور ان میں ہارون رشید جیسے نیک بادشاہ پیدا ہوئے لیکن اس کے بعد انہوں نے بدترین ملوکیت کو جنم دیا اور لوگوں کو یہ کہنا پڑا کہ اس سے تو بنو امیہ ہی بہتر تھے۔

          خلفاء راشدین کے طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے ہم باآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر خلافت راشدہ کا یہ ادارہ مزید تیس چالیس سال تک قائم رہتا تو مسلم معاشرے کو غلامی سے مکمل چھٹکارا مل چکا ہوتا۔ افسوس ایسا نہ ہو سکا اور کاٹ کھانے والی جبری ملوکیت نے مسلم معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس ملوکیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلامی کے دم توڑتے ہوئے ادارے میں دوبارہ جان پڑ گئی۔

بنو عباس(133 – 656H / 750 – 1258CE)  اور بعد کے ادوار میں غلامی

بنو عباس کا دور صحیح معنوں میں غلامی کے ارتقاء کا دور تھا۔ بنو عباس کے زوال کے بعد مختلف علاقوں میں مختلف خاندانوں نے اپنی حکومتیں قائم کر لیں اور اس کے بعد عباسی بادشاہ کا کام حکومت کے پروانے لکھنا اور ان حکومتوں کی تائید کرنا ہی رہ گیا۔

          تین چار سو سال کے اس پورے دور میں ایک طرف تو زرعی معیشت نے بھرپور ترقی کی اور دوسری طرف اشرافیہ کے طبقے شہوت پرستی کے رجحان میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر مسلم ممالک سے لونڈیوں اور غلاموں کی امپورٹ کو بڑے پیمانے پر شروع کیا گیا۔ ابن کثیر، ابن جوزی اور مقریزی کی تواریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایک امیر کے ہاں کئی کئی ہزار غلام موجود ہوا کرتے تھے۔

          بنو عباس کے دور ہی میں چند ایسے سماجی ادارے وجود میں آئے جنہوں نے غلاموں کی طلب میں یک لخت اضافہ کر دیا۔ ان اداروں کے لئے کسی ایک بادشاہ کو مورد الزام ٹھہرایا درست نہ ہو گا کیونکہ یہ ادارے بنو عباس کے پورے دور میں مجموعی طور پر رواج پذیر ہوئے تھے۔ ان اداروں کی تفصیل یہ ہے:

·       غلاموں پر مشتمل فوج

·       بادشاہوں اور امراء کے حرم

·       مخنث غلاموں پر مشتمل پولیس

·       فوجی جاگیرداری کا نظام

·       بادشاہت کے تقدس کا نظریہ

غلاموں پر مشتمل فوج

بادشاہوں نے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ آزاد افراد پر مشتمل افراد کی نسبت غلاموں پر مشتمل فوج ان کی بادشاہت کو قائم رکھنے میں زیادہ ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے غلاموں پر مشتمل افواج تشکیل دینا شروع کر دیں۔ اس سے پہلے اگرچہ غلام اپنے آقاؤں یا سابقہ آقاؤں کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا کرتے تھے لیکن سرکاری سطح پر غلاموں کی فوج کا تصور موجود نہ تھا۔ اس ادارے کا آغاز معتصم باللہ کے دور میں 213H / 828CE میں ترک غلاموں کی فوج سے ہوا۔ غلاموں پر مشتمل افواج کی تیاری کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈینیل پائپس لکھتے ہیں:

On occasion, slaves not only provided faithful service but even  excelled over free soldiers. Because they had usually lived through greater privations before enlistment, perhaps they could adjust more easily to the difficulties of military life, maintain higher morale, better exploit poor materials, serve free of competing civilian interests, resign themselves to long periods of compulsory service, and accustom themselves more readily to unquestioning obedience. "They understood discipline, fought with courage and honor to be free, adjusted to varying climates, and endured hard work.’’ Slaves also fought well because military service provided them with an opportunity to show their worth.

(Daniel Pipes, Slavery Soldiers & Islam, www.danielpipes.com )

بہت سے مواقع پر غلاموں نے نہ صرف وفاداری کے ساتھ خدمات انجام دیں بلکہ انہوں نے آزاد فوجیوں کی نسبت بہتر خدمت کا مظاہرہ کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ فوج میں آنے سے پہلے شدید غربت کا شکار رہتے تھے (اور فوج انہیں بہتر زندگی فراہم کرتی تھی)، وہ آسانی سے فوجی زندگی کی مشکلات میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے اور خراب میٹیریل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، سویلین مفادات کی سیاست سے وہ آزاد تھے، طویل لازمی فوجی خدمت کو قبول کرنا ان کے لئے زیادہ مشکل نہ تھا اور وہ بغیر سوال کئے اطاعت کرنا جانتے تھے۔ وہ ڈسپلن کو بہتر سمجھتے تھے، بہادری سے لڑتے تھے اور آزاد ہونے کی خواہش رکھتے تھے، مختلف موسموں میں باآسانی ایڈجسٹ ہو جایا کرتے تھے اور سخت محنت کے عادی تھے۔ غلام اس لئے بھی بہتر طریقے سے جنگ کیا کرتے ھتے کیونکہ اس سے انہیں اپنی قابلیت کا جوہر دکھانے کا موقع ملتا تھا (جس کے سبب انہیں آزادی بھی نصیب ہو جایا کرتی تھی۔)

ان افواج میں بھرتی کے لئے افریقہ اور وسط ایشیا سے بچوں کو پکڑ کر یا ان کے والدین سے خرید کر لایا جاتا۔ یہ بچے زیادہ تر ان علاقوں سے تعلق رکھا کرتے تھے جہاں تمدن اس درجے تک نہیں پہنچا تھا جہاں مسلم دنیا کے بڑے اور آباد شہر پہنچ چکے تھے۔ ابن خلدون ان علاقوں کے رہنے والوں کو "وحشی" قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ایک طرف تو یہ لوگ زیادہ جفاکش اور محنتی ہوتے تھے اور دوسری طرف "شہر" جا کر آباد ہونے میں ان کے لئے بڑی کشش پائی جاتی تھی۔

          تربیت کے شروع میں ان بچوں کو معاشرے سے کاٹ کر ان کی مکمل برین واشنگ کر دی جاتی اور انہیں بادشاہ کا فرمانبردار فوجی بنایا دیا جاتا۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات اتاری جاتی کہ بادشاہ زمین پر خدا کا نائب ہے اور سب لوگوں کو اس کے وفادار غلام بن کر رہنا چاہیے۔ اس کے بعد ان رنگروٹوں کو اعلی درجے کی فوجی تربیت دی جاتی۔ بادشاہ ان پر اپنا خاص دست شفقت رکھتا۔ بعض سلاطین تو اپنے بیٹوں کی طرح ان کی تربیت کرتے۔ اپنی تربیت کی تکمیل پر یا ملٹری کیریئر کے دوران کسی اہم موقع پر ان لوگوں کو آزاد بھی کر دیا جاتا۔

          تیسری صدی میں ترک یعنی وسطی ایشیائی غلام اس حد تک طاقتور ہو چکے تھے کہ بادشاہ کو مسند اقتدار پر بٹھانا اور پھر اسے معزول کر کے قتل کر دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا تھا۔ عباسی سلطنت کے دور زوال میں مختلف ممالک کے سلاطین نے اپنی اپنی آزاد سلطنتیں قائم کر لی تھیں۔ بغداد کے بادشاہ، جو بزعم خود خلیفہ کہلاتا تھا، کا کام بس یہی رہ گیا تھا کہ وہ ان سلاطین کو خلعتیں جاری کرتا رہے اور یہ سلاطین اس کا نام جمعہ کے خطبہ میں لے لیا کریں۔

          ان بادشاہوں نے بھی عباسی سلطان کی طرز پر غلاموں پر مشتمل افواج تشکیل دیں۔ علامہ بدر الدین عینی نے اپنی کتاب "عقد الجمان" میں ساتویں صدی کے اختتام پر کثیر تعداد میں غلاموں کی افواج کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بالکل متوازی سلطنت اسپین میں بھی عبدالرحمٰن الداخل کے پوتے حکم بن ہشام  (d. 206H) نے غلاموں کی افواج تیار کیں۔

          آہستہ آہستہ یہ افواج اس قدر طاقتور ہو گئیں کہ بعض ممالک میں انہوں نے ہی اقتدار پر قبضہ کر کے اپنے آقاؤں کے خاندان کو اس سے بے دخل کر دیا تھا۔ افغانستان کا غزنوی خاندان، ہندوستان کا خاندان غلاماں اور مصر کے مملوک سلاطین اس کی مثال ہیں۔

          اس قسم کے غلاموں کی حالت معاشرے کے دیگر غلاموں کی نسبت بہت بہتر تھی۔ غلاموں کے اقتدار کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے جمیکا یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر سلطانہ افروز لکھتی ہیں:

To call such boys “slaves” in English is misleading. To many poor nomadic families in central Asia, and the eastern shores of the Black Sea, Egypt was envisioned as an earthly paradise, its street paved with gold and therefore “gladly sold their sons into the service of Muslim rulers. Generally speaking, a boy became a Mamluk when he was between ten and twelve, just old enough to take care of himself but was doubtless a perfect natural rider. He would be sold into the service of the reigning sultan or to one of the emirs, and put into a barrack or dormitory with other Marnlukes of his age. Besides receiving basic instruction in Islam and Arabic, all the boys would be drilled in the care and riding of horses, and trained in the use of weapons, which included the bow, lance, sword and mace on horseback. During the rigorous training period of eight to ten years, the Mamlukes developed a feeling of group solidarity that lasted the rest of their lives. Upon completing  his military training, each maniluke received his liberation paper, a horse, and his fighting equipment.

Even as a freedman, the Mamluke remained loyal to the sultan or emir who had trained and liberated him, to his teachers and proctors, and to the men who had gone through training with him. Each group of trainees tended to become a faction once within the army. The best among them became emirs and from 1250 on, Sultans of Egypt. In short, the men who had been trained as manilukes became the owners and trainers of new maniluke boys from central Asia or Circassia. The ties between master and Mamluke were almost like a family relationship. Few sons of Manilukes who got into the system ranked below the sultan’s and even the emir’s Manilukes. The succession to the sultanate was rarely hereditary. The Mamhike sultans usually rose through the ranks of the sultan’s Mamlukes. His fellow Mamluke comrades, in recognition of his military skill and political acumen, would appoint one from among them as a sultan. In short, Maniluke slavery under Muslim rulers of the Middle East was no disgrace. On the contrary, the relationship ranked far above mere hired service, to that of a family relationship. The Mamluke system gave the less fortunate an opportunity to rise to the highest level in society conforming with the Qur’anic statement that everyone is of the same human status.

(Dr. Sultana Afroz, Islam & Slavery through the Ages: Slave Sultans & Slave Mujahids, http://gess.wordpress.com/2006/12/17/islam-and-slavery-through-the-ages-slave-sultans-and-slave-mujahids/  )

ان (مملوک) لڑکوں کو انگریزی میں "سلیو" کہنا غلط ہو گا۔ وسطی ایشیا اور بحیرہ اسود کے مشرقی ساحلوں کے رہنے والے خانہ بدوش خاندانوں کے لئے مصر ایک دنیاوی جنت کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں کی سڑکیں (ان کے نزدیک گویا) سونے کی بنی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹوں کو مسلم حکمرانوں کی خدمت میں بخوشی بیچ دیا کرتے تھے۔ عام طور پر دس سے بارہ سال کی عمر میں ایک لڑکا، جب وہ اپنا آپ سنبھالنے کے قابل ہو جاتا، مملوک بن جاتا تھا۔ یہ لڑکے قدرتی طور پر گھڑ سوار ہوا کرتے تھے۔ اسے سلطان یا اس کے کسی گورنر کی فوجی خدمت کے لئے بیچ دیا جاتا جہاں وہ اپنی عمر کے دیگر ممالیک کے ساتھ بیرک میں رہنا شروع کر دیتا۔

اسلام اور عربی زبان کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان لڑکوں کو پوری توجہ کے ساتھ فوجی تربیت دی جاتی جس میں گھڑ سواری اور تیر کمان، نیزہ بازی، شمشیر زنی وغیرہ جیسے ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دی جاتی۔ آٹھ سے دس سال کی تربیت کے بعد، مملوکوں کی اپنے گروہ سے ایسی جذباتی وابستگی پیدا ہو جایا کرتی تھی جو باقی عمر ان کے ساتھ رہتی۔ فوجی تربیت کی تکمیل کے بعد، مملوک کو اس کی آزادی کا پروانہ، گھوڑا اور ہتھیار مل جایا کرتے تھے۔

آزادی کے بعد بھی ایک مملوک اپنے سلطان یا امیر کا وفادار رہا کرتا تھا جس نے اسے تربیت دینے کے بعد اسے آزادی عطا کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے استاذ، مربی اور ساتھیوں کا وفادار بھی رہا کرتا تھا۔ تربیت پانے والے ممالیک کا ہر گروہ (batch) فوج کے اندر ایک سیکشن ہوا کرتا تھا۔ ان میں جو زیادہ باصلاحیت ہوتے، وہ امیر (گورنر) کے درجے تک ترقی پا لیتے جبکہ 1250ء کے بعد تو یہ مصر کے بادشاہ بھی ہونے لگے۔ مختصراً مملوک کے طور پر تربیت پانے والے وسطی ایشیا سے آنے والے نئے ممالیک کے مالک اور مربی بن جایا کرتے تھے۔

مالک اور غلام کے درمیان تعلق کم و بیش خاندانی رشتے کی طرح ہوا کرتا تھا۔ بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ممالیک کے بیٹوں کا درجہ سلطان یا امیر کے دیگر مملوکوں سے نیچے ہو۔ بادشاہت بہت کم ہی وراثتاً منتقل ہوا کرتی تھی۔ مملوک سلطان غلامی کے مختلف درجوں سے ترقی کرتے ہوئے بادشاہ بنا کرتے تھے۔ مملوک سلطان کے دیگر غلام ساتھی، اس کی فوجی صلاحیت اور سیاسی تدبر کے پیش نظر ہی اس کا انتخاب بطور سلطان کیا کرتے تھے۔

مختصر طور پر، مشرق وسطی کے مسلم حکمرانوں کے تحت مملوک غلامی کوئی ذلت کی چیز نہ تھی۔ اس کے برعکس ان کا اپنے آقاؤں سے تعلق محض تنخواہ دار سپاہیوں سے بڑھ کر خاندانی تعلق بن جایا کرتا تھا۔ ممالیک کا یہ نظام دراصل معاشرے کے پست طبقے کے ایک انسان کو اٹھا کر معاشرے کے بلند ترین مقام تک لے جانے کا نظام تھا جو کہ قرآن کی اس تعلیم کے عین مطابق تھا کہ ہر انسان ایک دوسرے کے برابر ہے۔

اس کے بعد فاضل مصنفہ برصغیر میں شہاب الدین غوری، قطب الدین ایبک، التمش، بلبن اور رضیہ سلطانہ کی مثالیں بیان کرتی ہوئی لکھتی ہیں:

Similar to the Mamluke and the Abbasid institutes which recognized human dignity and offered opportunities to the sons of the less fortunate to better themselves, the paternal care of the ruling masters in Afghanistan saw the production of great men from amongst their “owned” boys. The bonded men of a real leader often proved “the equals of their master.” The Muslim rulers found these able servants excellent advisors, gave them the highest posts, and at times rewarded them by marriage with their daughters…..

The Slave Kings exemplified in schooling their daughters both in war and peace, thus ensuring their position of respect and prominent role in government affairs…..

Evidently, the rule of the Muslim slaves in India was marked with an extraordinary degree of equality, justice, generosity and general prosperity. The greatness of the rulers was the result of their thorough grooming in Islamic virtues in their early days as “bonded” men or “sons” of the masters. Like the Manilukes, the leadership of the Delhi Sultanate was based on righteousness and meritocracy.

(Dr. Sultana Afroz, Islam & Slavery through the Ages: Slave Sultans & Slave Mujahids, http://gess.wordpress.com/2006/12/17/islam-and-slavery-through-the-ages-slave-sultans-and-slave-mujahids/  )

جس طرح مملوک اور عباسی سلطنتوں کے غلامی کے ادارے میں معاشرے کے پست طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے بیٹوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے مواقع فراہم کئے جاتے تھے، اسی طرح افغانستان میں بھی حکمران آقاؤں نے غلام لڑکوں میں سے عظیم انسان پیدا کئے۔ اکثر اوقات کسی حقیقی لیڈر کے غلام نے خود کو اپنے آقا کے برابر ثابت کیا۔ مسلم حکمرانوں کو ان قابل خدام کی صورت میں بہترین مشیر میسر آئے۔ انہوں نے انہیں اعلی عہدے دیے اور بسا اوقات انعام کے طور پر ان کی شادیاں اپنی بیٹیوں سے بھی کر دیں۔۔۔۔

غلام بادشاہوں نے بالعموم اپنی لڑکیوں کو بھی جنگ اور امن کی حالت میں تعلیم دینے کی مثال قائم کی جس کے نتیجے میں انہوں نے حکومتی معاملات میں اہم مقام اور مرتبہ حاصل کیا۔۔۔۔

ہندوستان میں مسلم غلاموں کی حکومت کے ادوار میں مساوات، انصاف، احسان اور خوشحالی کی غیر معمولی مثالیں قائم کی گئیں۔ ان حکمرانوں کی اصل عظمت یہ تھی کہ انہیں اپنے دور غلامی میں آقاؤں کے بیٹوں کے طور پر اعلی اسلامی اخلاقیات کی تربیت دی جاتی تھی۔ (مصر کے) ممالیک کی طرح دہلی کی سلطنت کی بنیاد بھی نیکی اور میرٹ ہی پر تھی۔

ان تمام فوائد اور اعلی اسٹیٹس کے باوجود یہ فوجی بہرحال غلام ہی ہوا کرتے تھے۔ فوجی غلاموں اور عام غلاموں میں فرق بیان کرتے ہوئے ڈینیل پائپس لکھتے ہیں:

The military slave thus differs from other slaves in numerous ways: he alone is carefully selected, purposely acquired as a youth, trained and indoctrinated, then employed as a professional soldier. He joins the ruling elite and belongs to a corps of soldiers which can seize power under the right circumstances. Yet, despite these many differences between him and other kinds of slaves, he remains a true slave as long as his master controls him. One must not dismiss his slavery as a formality or as legal fiction.

(Daniel Pipes, Slavery Soldiers & Islam, www.danielpipes.com )

فوجی غلام عام غلاموں سے کئی اعتبار سے مختلف ہے۔ اس کا انتخاب بڑی احتیاط سے کیا جاتا تھا۔ اسے کم عمری میں غلامی میں لے لیا جاتا، اس کی تربیت کی جاتی اور اس کی ذہن سازی کی جاتی، اور اس کے بعد اسے پیشہ ور فوجی کی حیثیت سے ملازم رکھا جاتا۔ وہ حکمران اشرافیہ کے طبقے کا حصہ بن جاتا اور فوجیوں کی ایسی کور سے تعلق رکھتا جو مناسب حالات میں حکومت پر قبضہ کرنے کی اہلیت رکھ سکتی تھی۔ اس کے اور عام غلاموں کے مابین اس قسم کے اور بہت سے فرق ہونے کے باوجود وہ بہرحال اس وقت تک غلام ہی ہوا کرتا تھا جب تک اس کا آقا اسے اپنے کنٹرول میں رکھتا۔ کسی شخص کو اس کی غلامی کو محض ایک رسمی کاروائی اور قانونی نکتہ رسی قرار نہیں دینا چاہیے۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ غلاموں کے اس استعمال کا، خواہ یہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، دین اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ بدعت، اسلام کے آئیڈیل دور کے اختتام کے ڈیڑھ سو برس بعد وجود پذیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ اگرچہ ڈینیل پائپس اور بعض دیگر مستشرقین نے دور کی کوڑی لاتے ہوئے اس کا رشتہ اسلام سے زبردستی قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین کے دور میں غلاموں کی فوج کے کسی ادارے کا سراغ نہیں ملتا۔

          اس کے برعکس ان غلاموں کی حالت زار کو بہتر بنانے میں اسلامی تعلیمات نے بہرحال اپنا کردار ادا کیا۔ چونکہ بادشاہ اور امراء بہرحال مسلمان تھے اور کسی حد تک دین پر عمل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس وجہ سے غلاموں سے اچھے برتاؤ اور ان کی آزادی سے متعلق اسلام کی تعلیمات پر بھی کسی نہ کسی صورت میں عمل کیا جاتا رہا ہے۔ ایسا ضرور ہے کہ بادشاہوں نے اپنی ملک گیری کی ہوس اور فتوحات کے شوق کے لئے "اسلامی جہاد" کے نام کو غلط طور پر استعمال کیا ہے لیکن اس میں اسلام کا کوئی قصور قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔

بادشاہ اور امراء کے حرم

حرم کے ادارے کا تصور مسلمانوں میں یونانی اور رومی سلطنتوں سے آیا۔ بادشاہ کو جو لڑکی پسند آ جاتی، اسے حرم میں داخل کر دیا جاتا۔ ان میں سے بعض خوش نصیب لڑکیوں کو ملکہ کی حیثیت حاصل ہو جایا کرتی تھی لیکن ان کی زیادہ تر تعداد لونڈیوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ اگر یہ معاملہ صرف بادشاہ تک ہی محدود رہتا تب بھی اس کے اثرات زیادہ نہ پھیلتے لیکن بادشاہ کی دیکھا دیکھی شہزادوں، وزراء، فوجی جرنیلوں، درباریوں اور بڑے تاجروں نے بھی اپنے حرم بنانے شروع کر دیے۔

          مسلم سلطنت کے ان علاقوں، جن میں حکومت کی رٹ مضبوط نہ ہوا کرتی تھی، کم سن بچیوں کو اغوا کر کے لونڈی بنایا جاتا۔ ان میں خاص طور پر وسط ایشیا کے ممالک جارجیا اور آذر بائیجان قابل ذکر ہیں جہاں کی خواتین بہت خوبصورت ہوا کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں بھی خواتین کی بطور طوائف اسمگلنگ میں ان علاقوں کا ایک خاص کردار ہے۔ اس کے علاوہ غیر مسلم ممالک جیسے یورپ وغیرہ میں بھی بچیوں کو اغوا کر کے مسلم ممالک میں اسمگل کر دیا جاتا۔

          ان بچیوں کو تجربہ کار نخاس یا بردہ فروش ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں فروخت کر دیا کرتے تھے۔ فروخت ہوتے ہوتے یہ ان لوگوں کے ہاتھ میں آ جایا کرتی تھیں جن کا کام ہی ان بچیوں پر طویل المدت سرمایہ کاری کرنا ہوا کرتا تھا۔ ان لونڈیوں کی اعلی درجے کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا اور انہیں شعر و ادب، موسیقی، رقص اور دیگر فنون لطیفہ کی تربیت دی جاتی۔ صنف مخالف کے جذبات کو ابھار کر اسے اپنے قابو میں لانے کی خاص تربیت ان لونڈیوں کو دی جاتی تھی۔ ان کے مربی عموماً ان سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں اپنی انوسٹمنٹ کو واپس وصول بھی کرنا ہوا کرتا تھا۔

          جوان ہونے پر ان لونڈیوں کی بولیاں لگتیں اور شاہزادے اور رئیس ان کی خریداری میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ جو شخص سب سے زیادہ بولی دیتا وہ لونڈی کا مالک بن جایا کرتا تھا۔ بسا اوقات کچھ رئیس کسی لونڈی کے مربی کو اس کے بچپن ہی میں ایڈوانس رقم دے کر اس کی جوانی کی بکنگ کروا لیا کرتے تھے۔ لونڈی کی پہلی ازدواجی رات اسے دلہن بنایا جاتا اور اس کا مالک اس سے بطور سہاگ رات کے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ یہ رسم آج بھی "نتھ اتروائی" کے نام سے جاری ہے۔ اس صورتحال کے معاشرے پر اثرات سے متعلق رضا الشیرازی لکھتے ہیں:

وآل تكاثر الجواري وشيوع التسري إلى ذهاب الغيرة من قلوب الرجال حتى صاروا يتهادون الجواري الروميات والتركيات والفارسيات وهنّ أجمل صورة وأشرق وجهاً من نساء العرب. فبعد أن كان الرجل لا يعرف غير امرأته والمرأة لا تفكر في غير زوجها وهي واثقة بأمانته فإذا هو قد تشتّتت عواطفه بين عدة نساء فقلّت غيرته عليها، ولما رأته مشغولاً عنها قلَّت ثقتها به إلا من عصمها عقلها وشرفها، فلم ينضج التمدن في العصر العباسي حتى تنوسيت المرأة العربية في المدن وذهبت حريتها وغيرتها وصارت هي نفسها تهدي زوجها الجارية وتحبّب إليه التقرب منها لا يهمّها ذلك ولا تغار عليه. (محمد رضا الشیرازی، الآداب الاجتماعیۃ فی المملکۃ الاسلامیۃ)

لونڈیوں کی کثرت ہوتی چلی گئی اور اس کے باعث مردوں کے دلوں سے غیرت نکلتی چلی گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ ایک دوسرے کو لونڈیوں کا تحفہ دینے لگے جن میں رومی، ترکی اور ایرانی لونڈیاں شامل تھیں۔ یہ عرب عورتوں کی نسبت زیادہ خوبصورت اور ملائم چہرے کی حامل ہوا کرتی تھیں۔ پہلے مرد دوسروں کی خواتین کو نہ تو دیکھا کرتے تھے اور نہ ہی ان کی طرف متوجہ ہوا کرتے تھے جس کی وجہ سے خواتین محفوظ ہوا کرتی تھیں۔ جب خواتین کی کثرت ہو گئی تو غیرت کم ہوتی چلی گئی۔ جب کسی بیوی کے ساتھ اس کے خاوند کی مشغولیت میں کمی واقع ہو گئی تو اس کی عصمت، عقل اور شرف کے بارے میں مرد کی توجہ بھی کم ہوتی چلی گئی۔

       جیسے جیسے عباسی عہد میں تمدن ارتقاء پذیر ہوتا رہا، عرب شہروں میں خواتین نے بھی اپنی آزادی اور غیرت کو بھلا دیا۔ بسا اوقات خواتین خود اپنے شوہر کا قرب حاصل کرنے کے لئے اسے خوبصورت لونڈی کا تحفہ دینے لگیں۔ خاوند کا دوسری عورت سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا ان کے لئے بڑا مسئلہ ہی نہ رہنے لگا اور نہ ہی ان کے لئے یہ بات حسد کا باعث رہنے لگی۔

ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں جا بجا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ خوبصورت رومی لونڈیاں امراء کے حرم میں موجود تھیں۔ اندلس اور ترکی کا ذکر کرتے ہوئے وہ اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں کے حماموں میں مرد اپنی لونڈیوں کو لے کر غسل کرنے کے لئے جاتے ہیں جہاں مرد و عورت ایک ہی بڑے سے ہال میں برہنہ ہو کر غسل کرتے ہیں۔ اس دور کے حمام کو آج کل کے مساج سینٹر اور بیوٹی پارلر سمجھ لیجیے۔ غرض یہ کہ جو کچھ آج عیاشی کے بڑے بڑے اڈوں پر ہو رہا ہے، وہی سب کچھ مسلم امراء کے حرم میں ہوا کرتا تھا۔

          حرم میں داخل ہونے کے بعد لونڈیوں کے ساتھ مختلف قسم کے حالات پیش آیا کرتے تھے۔ بعض لونڈیاں تیز طرار ہوتیں اور اپنے مالک کو قابو میں لے کر اس کے گھر کی مالکن بن بیٹھتیں۔ شاہزادوں اور بادشاہوں کی لونڈیاں بسا اوقات ان کے ہوش و حواس پر چھا کر مملکت کے امور کی نگہبان بن جایا کرتی تھیں۔ ابن الطقطقی کے بیان کے مطابق عباسی بادشاہ الھادی باللہ کو اس کی سوتیلی ماں کے حکم پر لونڈیوں ہی نے اس کا سانس بند کر کے قتل کیا تھا۔

          اسی طرح ابن طقطقی کے بیان کے مطابق آل بویہ کا حکمران عضد الدولہ ایک لونڈی کے عشق میں اتنا پاگل ہوا کہ امور سلطنت سے ہی غافل ہو گیا جس سے پوری سلطنت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اس کے بعد جب اسے ہوش آئی تو اس نے خود اپنے ہاتھ سے اسی لونڈی کو دریائے دجلہ میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔ اسی طرح مغلیہ دور میں انارکلی کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے شہزادہ سلیم کو اپنے قبضے میں کر رکھا تھا لیکن جہاندیدہ بادشاہ اکبر نے شہزادے کو اس سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے زندہ دیوار میں چنوا دینے کی سزا سنائی تھی۔ شہزادے صاحب اتنے دل پھینک واقع ہوئے تھے کہ جب بادشاہ بنے تو پھر بھی اپنی ملکہ نورجہاں کے مکمل کنٹرول میں رہے۔ اگر جہانگیر کے بعد دو اچھے کردار کے بادشاہ مغلیہ خاندان کو نہ ملتے تو مغلیہ سلطنت کا زوال سو برس پہلے ہی شروع ہو جاتا۔

          حرم کی جن لونڈیوں میں تیزی طراری کی صفت مفقود ہوا کرتی تھی، اول تو ان کا شاہی حرم تک پہنچنا ہی ناممکن تھا، اگر وہ یہاں تک پہنچ بھی جاتیں تو بادشاہ یا شہزادے کا دل ان سے جلد ہی بھر جاتا۔ اس کے بعد ان کی پوری زندگی ایک نہایت ہی بھیانک انتظار کا شکار ہو جاتی۔ جو زیادہ پارسائی کا مظاہرہ کرتیں، وہ ہسٹریا کی مریض بن جاتیں اور جو اپنی خواہشات پوری کرنے کے دوسرے راستے اختیار کرتیں، وہ شاہی عتاب کی زد میں آ کر موت سے ہمکنار ہوتیں۔

          کنیزوں میں محافظوں اور شاہی خاندان کے دوستوں کے ساتھ صنفی تعلقات استوار کر لینے کے واقعات بھی بکثرت ملتے ہیں۔ کسی کنیز سے دل بھر جانے کے بعد اسے کسی دوست یا افسر کو تحفتاً پیش کر دینے کا رواج بھی شاہی خاندانوں میں عام رہا ہے۔ بہت سی کنیزیں محلات کی اندرونی سازش میں مختلف بیگمات، شہزادوں اور شہزادیوں کے جاسوسوں کا کردار بھی ادا کیا کرتی تھیں۔ فریق مخالف کے غالب آ جانے کی صورت میں ان کی بقیہ زندگی پس زنداں گزرا کرتی تھی۔

          وزراء، امراء اور درباریوں کی کنیزوں کے ساتھ بھی ذرا کم تر سطح پر یہی معاملہ پیش آیا کرتا تھا۔ ان کی سیاست اپنے حرم کی حدود میں جاری رہتی۔ ان میں سے جو کنیز ذرا زیادہ تیز ہوتی، وہ ترقی پا کر کسی بادشاہ یا شہزادے کے حرم میں داخل ہو جاتی اور کچھ عرصہ دولت سمیٹنے کے بعد واپس اپنے مقام پر آ جاتی۔ افسوس کہ غلامی کے خاتمے کے بعد اب بھی حرم بنانے کا یہ سلسلہ مسلم دنیا میں جاری ہے جس میں لالچ، قانونی معاہدوں اور اغوا کے ذریعے لونڈیاں اور غلام بنائے جاتے ہیں۔

          لونڈیوں کے علاوہ ہم جنس پرست قسم کے امراء خوبصورت نوجوان لڑکے بھی اپنے حرم میں رکھ لیا کرتے تھے اور ان سے جنسی طور پر لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ ان لڑکوں کو "امرد" کہا جاتا تھا۔ ان لڑکوں کو بھی ناز و ادا دکھا کر اپنے شوقینوں کے صنفی جذبات کو بھڑکانے کی بھرپور تربیت دی جاتی تھی۔ جاحظ نے اپنے رسائل میں اپنے مخصوص ادیبانہ انداز میں ایسے لوگوں پر شدید تنقید کی ہے اور ان کی بدکاریوں پر کڑا محاسبہ کیا ہے۔ ابن بطوطہ نے جزیرہ مالی کے اپنے سفر میں شاہی دربار پر تنقید کی ہے جس میں خوبصورت لونڈیوں اور غلاموں کو عریاں کر کے کھڑا کیا جاتا تھا۔ لکھتے ہیں:

Female slaves and servants who went stark naked into the court for all to see; subjects who groveled before the sultan, beating the ground with their elbows and throwing dust and ashes over their heads; royal poets who romped about in feathers and bird masks. (Ibn Batuta’s Trip, Part Twelve, Journey to West Africa, salam.muslimonline.com )

لونڈیاں اور غلام دربار میں عریاں حالت میں کھڑے ہوتے تھے جہاں انہیں سب ہی دیکھتے تھے۔ بادشاہ کے ماتحت اس کے سامنے آ کر اپنے عجز و انکسار کا اظہار اس طرح سے کرتے کہ وہ اپنی کمانیں زمین پر مارتے اور راکھ اور خاک کو اپنے سر پر ڈالتے۔ شاہی شاعر پرندوں کے لباس پہنے ادھر ادھر گھوم رہے ہوتے تھے۔

جیسا کہ شیرازی نے بیان کیا ہے مردوں کی اس شہوت پرستی کے اثرات عام آزاد خواتین پر بھی وقوع پذیر ہونے لگے۔ ایک مرد اگر خوبصورت لونڈیوں کے جھرمٹ میں ہر وقت رہے گا تو اس کے پاس اپنی بیوی کے لئے وقت کہاں بچ سکے گا۔ اس کے نتیجے میں بیوی اور دیگر لونڈیاں لازماً دیگر راستے تلاش کرے گی۔ اس صورتحال کا تجزیہ مشہور محدث ابن جوزی نے ان الفاظ میں کیا ہے:

شكا لي بعض الأشياخ فقال : قد علت سني و ضعفت قوتي ، و نفسي تطلب مني شراء الجواري الصغار . و معلوم أنهن يردن النكاح و ليس في . و لا تقنع مني النفس بربة البيت إذ قد كبرت . فقلت له : عندي جوابان : أحدهما الجواب العامي ، و هو أن أقول : ينبغي أن تشغل بذكر الموت و ما قد توجهت إليه ، و تحذر من اشتراه جارية لا تقدر على أيفاء حقها فإنها تبغضك ، فإن أجهدت استعجلت التلف . وإن استبقيت قوتك غضبت هي ، على أنها لا تريد شيخاً كيف كان ۔۔۔۔‏ فاعلم أنها تعد عليك الأيام ، و تطلب منك فضل المال لتستعد لغيرك.  و ربما قصدت حنفك ، فاحذر السلامة في الترك ، و لإقتناع بما يدفع الزمان .

الجواب الثاني فإني أقول : لا يخلو أن تكون قادراً على الوطء في وقت أو لا تكون. فإن كنت لا تقدر فالأولى مصابرة الترك للكل. و إن كان يمكن الحازم أن يداري المرأة بالنفقة و طيب الخلق إلا أنه يخاطر .و إن كنت تقدر في أوقات على ذلك ، و رأيت من نفسك توقاً شديداً فعليك بالمراهقات فإنهن ما عرفن النكاح ، و ما طلبن بالوطء ، و اغمرهن بالإنفاق و حسن الخلق مع الإحتياط عليهن ، و المنع من مخالطة النسوة .و إذا اتفق وطء فتصبر عن الإنزال ريثما تقضي المرأة حاجتها .و اعتمد وعظها و تذكيرها بالآخرة ، و اذكر لها حكايات العشاق من غير نكاح ، و قبح صورة الفعل ، و لفت قلبها إلى ذكر الصالحين ، و لا تخل نفسك من الطيب و التزين و الكياسة و المداراة و الإنفاق الواسع .فهذا ربما حرك الناقة للمسير مع خطر السلامة .(ابن جوزی، صید الخاطر)

مجھ سے بعض بوڑھے حضرات نے شکایت کی، "میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور میری قوت کمزور پڑ گئی ہے، پھر بھی میرا نفس نوجوان لونڈیوں کی خواہش کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہیں جبکہ میں اس قابل نہیں رہا۔ اگرچہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں مگر میرا نفس گھر والی پر قناعت کرنے کو تیار نہیں ہے۔"

       میں نے کہا، "میرے پاس دو جواب ہیں: ایک تو عام لوگوں کا جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ موت کو زیادہ یاد کرنے میں مشغول ہو جائیے اور اسی طرف اپنی توجہ رکھیے۔ اس بات سے محتاط رہیے کہ جو شخص لونڈی خریدتا ہے اور پھر اس کے حقوق کی ادائیگی نہیں کر پاتا تو وہ اس سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ اگر وہ (ازدواجی تعلقات کی ناکام) کوشش کرتا ہے تو یہ نفرت جلد پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر اس کی خواہش باقی رہ جائے تو اس کی نفرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے لڑکیاں بوڑھوں کو پسند نہیں کرتیں۔ جان رکھیے کہ وہ اس کا بدلہ اس طرح لے گی کہ آپ سے مال بٹور کر کسی اور سے تعلق قائم کر لے گی اور آپ کا معاملہ ٹیڑھا کر دے گی۔ اس لئے اپنی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھیے اور اس کام کو ترک کر دیجیے اور اسی لذت پر قناعت کیجیے جو آپ پہلے حاصل کر چکے۔

       دوسرا جواب میں یہ دیتا ہوں کہ اس بات کو نہ بھولیے کہ اس وقت آپ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے قابل ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر آپ اس قابل نہیں ہیں تو اس کام کو مکمل طور پر چھوڑ کر اس پر صبر کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر کوئی کسی عورت کو محض اخراجات اور اچھے تعلقات کا لالچ دے کر ایسا کرے گا بھی تو یہ خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ اگر آپ اس وقت بھی ایسا کرنے کے قابل ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے نفس میں نوجوان لڑکیوں کی شدید خواہش ہے تو ان (بے چاریوں) کو تو نکاح یا ازدواجی تعلق کی خواہش ہی نہیں ہے۔ ایسی لونڈیوں سے تو حسن سلوک کرنا چاہیے اور ان پر خرچ کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

       اگر ان سے ازدواجی تعلقات قائم بھی کریں تو آپ کو انزال کو اس وقت تک روکنا چاہیے جب تک کہ خاتون کی ضرورت پوری نہ ہو جائے۔ (اس کے ساتھ ساتھ) خاتون کو آخرت کی یاد بھی دلاتے رہیے، نکاح سے ہٹ کر عشق کی برائی بیان کیجیے اور اسے عشاق کے (عبرت ناک انجام) کے واقعات سنائیے۔ اچھے لوگوں کے ذکر سے اس کے دل میں (نیکی کی) محبت پیدا کیجیے۔ اپنے لباس اور شکل و صورت کا خیال رکھیے، اس سے اچھا سلوک کیجیے، اس کی ضروریات کا خیال رکھیے اور اس پر خرچ کرنے میں وسعت سے کام لیجیے۔ اس طریقے سے امید ہے کہ آپ خطرہ مول لینے  کے ساتھ ساتھ زندگی کی گاڑی کو کھینچ لیں گے ۔

ایک طرف تو شہوت پرستی کا یہ سلسلہ مسلمانوں کے ہاں جاری تھا اور دوسری طرف ان کے ہاں اس کے بالکل متوازی ایک تحریک چل رہی تھی جس کا مقصد انہیں دنیا پرستی اور شہوت پرستی سے دور کرنا تھا۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر "مذہبی راہنماؤں کے کردار" کے تحت بیان کریں گے۔

مخنث (Eunuchs) غلاموں پر مشتمل پولیس

شاہی خاندانوں نے اتنے بڑے بڑے حرم بنا لئے تھے کہ ان میں ہزاروں کی تعداد میں لونڈیاں موجود رہا کرتی تھیں۔ حرم کا مالک، خواہ کتنے ہی کشتے اور معجون وغیرہ کھا کر اپنا رعب و دبدبہ قائم رکھنے کی کوشش کرے، اس کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں موجود خواتین کو جنسی اور نفسیاتی اعتبار سے مطمئن کر سکے۔ حرم رکھنے کا لازمی نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ یہ خواتین اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے متبادل راستے تلاش کریں۔ یہ بات شاہی خاندانوں کو گوارا نہ تھی۔

          شاہی خاندانوں کے لئے مشکل یہ تھی کہ اگر وہ حرم کی حفاظت پر محافظ مقرر کرتے ہیں تو یہی محافظ ان کی جھوٹی عزت کے لٹیرے بن جائیں گے۔ خواتین کی فوجی تربیت اتنی عام نہ تھی کہ ان پر فوجی خواتین کو ہی محافظ بنا دیا جائے۔ مسلمان بادشاہوں کو یونانی معاشرے سے اس مسئلے کا حل مل گیا۔ وہ حل یہ تھا کہ مخنثوں پر مشتمل ایک پولیس تشکیل دی جائے اور حرم کی حفاظت کا کام اس پولیس کے سپرد کر دیا جائے۔

          قدرتی طور پر مخنث اتنی بڑی تعداد میں پیدا نہیں ہوتے کہ ان کی ایک باقاعدہ پولیس فورس تشکیل دی جا سکے۔ اب ایک ہی صورت باقی رہ جاتی تھی اور وہ یہ کہ مردوں کو خصی کر کے مخنث بنایا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ اسلام میں کسی مرد یا خاتون کو مخنث بنانا قطعی حرام ہے۔ بعض راہبانہ مزاج رکھنے والے صحابہ نے ایسا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔

          ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ یہ کام مسلم سلطنتوں کی حدود سے باہر انجام دیا جانے لگا۔ بردہ فروشوں نے افریقہ، وسط ایشیا اور یورپ کے غیر مسلم ممالک کے بردہ فروشوں سے تعلقات قائم کر لئے۔ یہ لوگ اپنے ہاں کے غلاموں اور جنگی قیدیوں کو مخنث بنا کر انہیں مسلم ممالک کی طرف اسمگل کر دیتے۔ چونکہ یہ سارا کاروبار بادشاہوں کی خواہش سے ہوا کرتا تھا اس وجہ سے اس پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی عائد نہ تھی۔ ان مخنثین کو کس قدر تکلیف سے گزرنا پڑتا تھا، اس کا اندازہ اون علیک شہادۃ کے اس بیان سے ہوتا ہے:

The most expensive enslaved group in Arabian societies were the eunuchs who were castrated men drawn from Europe but also Darfur, Abyssinia, Korodofan and other African nations. Ironically because of their lack of sexual function they obtained great privileges while the women's privileges were due to their sexuality. Eunuchs were generally made by Coptic priest in Egypt but also a group of Arabs know as the Chamba. Young boys, victims from raids and wars were subjected to the horrid monstrous unspeakable inhumane process of castration without anaesthesia which had a 60% mortality. To stop the bleeding hot coals were casted into the naked wound, which was followed by the most blood curdling alien scream a human could make. The price for surviving this ungodly brutal act was a life of influence and luxury; silk garments, Arabian thoroughbreds, jewels, were bestowed on them to reflect the wealth of their masters . Strangely eunuchs were both distinguished and greatly revered as elites in Arab society, despite being enslaved. (Owen Alik Shahadah, Islam & Slavery )

عرب معاشروں میں غلاموں کا سب سے مہنگا طبقہ زبردستی مخنث بنائے گئے خواجہ سراؤں کا تھا جو کہ یورپ، دارفور، حبشہ، کاردوفان اور دیگر افریقی اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل تھا۔ غیر متوقع طور پر انہیں خواتین کی نسبت زیادہ مراعات حاصل ہوا کرتی تھیں کیونکہ یہ وہ جنسی کام نہیں کر سکتے تھے جو خواتین کر سکتی تھیں۔ عام طور پر مصر میں قبطی پادری مخنث بنانے کا عمل سرانجام دیتے تھے لیکن عربوں میں سے بھی ایک گروہ ایسا کیا کرتا تھا جو کہ "شمبا" کہلاتا تھا۔

نوجوان لڑکوں کو، جنہیں اغوا کر کے یا جنگوں میں شکار کیا جاتا تھا، بغیر بے ہوش کئے ایک ناقابل بیان، غیر انسانی اور خوفناک آپریشن کے ذریعے مخنث بنایا جاتا تھا۔ اس عمل میں عام طور پر ساٹھ فیصد لڑکے ہلاک ہو جاتے تھے۔ خون روکنے کے لئے دہکتے کوئلے زخموں پر لگا دیے جاتے تھے جس سے وہ انسان ایک خونی چیخ مارتا تھا۔ اس ظالمانہ اور وحشیانہ فعل کے بدلے ایسا کرنے والوں کو اثرورسوخ، عیاشی، ریشمی خلعتیں، جانور، ہیرے جواہرات عطا کئے جاتے تھے جو ان کی دولت میں اضافہ کیا کرتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر یہ خواجہ سرا غلامی کے باوجود عرب معاشرے میں ممتاز اور اعلی مقام کے حامل ہوا کرتے تھے۔

کم و بیش یہی تفصیلات ایڈم متز نے بھی بیان کی ہیں۔ یہ مخنث محض حفاظت کا کام ہی سرانجام نہ دیا کرتے تھے بلکہ محلاتی سازشوں میں بسا اوقات نہایت اہم کردار ادا کرتے تھے۔ بعض ہم جنس پرست قسم کے شہزادے ان سے بھی جنسی اعتبار سے لطف اندوز ہوا کرتے۔ ابن کثیر نے "البدایۃ و النہایۃ" میں چند ایسے عباسی بادشاہوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اپنے گرد بکثرت خوبصورت مخنث رکھے ہوئے تھے۔ بعض مخنث اعلی درجے کے موسیقار اور رقاص بھی ہوا کرتے تھے اور اپنے فن سے امراء کا دل بہلایا کرتے تھے۔ بعض خواجہ سراؤں کو اعلی عہدوں سے بھی نوازا جاتا۔ نیاز فتح پوری لکھتے ہیں:

(ہارون) رشید کے بعد پہلا خلیفہ جس نے غلاموں کی زیادہ قدر کی اور خواجہ سراؤں کو بڑی بڑی قیمتیں دے کر حاصل کیا، امین تھا۔ وہ ہمیشہ انہی سے سارے کام لیتا تھا اور انہی کے ذریعہ سے احکام جاری ہوتے تھے۔ ان میں ایک خاص طبقہ جرادی کے نام سے موسوم تھا اور دوسرا حبشیوں کا طبقہ غرابی کے نام سے۔ امین کا شغف غلاموں کے ساتھ کسی خاص ملکی یا سیاسی مصلحت کی بناء پر نہ تھا بلکہ محض تفریح اور عیش و نشاط کے سلسلے میں تھا۔ مامون، معتصم اور واثق کے زمانہ میں خواجہ سراؤں کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہوا۔

جب متوکل کے زمانہ میں اور اس کے بعد ترکوں (یعنی ترک غلاموں کو) عروج حاصل ہوا اور خلفاء کی موت و زیست ترکوں کے ہاتھ میں آ گئی تو خواجہ سراؤں اور غلاموں کے ساتھ خلفاء کی خصوصیت بڑھنے لگی کیونکہ قصر کے اندر انہی سے ہر وقت واسطہ رہتا تھا، اور انہی کی امداد کا انہیں سہارا تھا۔

یہ لوگ اپنے آقا کے ساتھ بہت وفاداری کرتے تھے اور سیاسی اور ملکی مصالح سے کوئی واسطہ نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ خلفاء کا یہ دستور ہو گیا کہ وہ غلاموں کی تعداد بڑھانے لگے اور انہی سے تمام معاملات میں مشورہ لینے لگے، اور رفتہ رفتہ ان کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ انہی کو فوج کی سیادت اور صوبوں کی گورنری بھی ملنے لگی۔۔۔۔ان کا اقتدار رفتہ رفتہ اس قدر بڑھ گیا کہ خلیفہ کی ہستی بے کار ہو گئی۔ یہ جو چاہتے خلیفہ کو مجبور کر کے کرا لیتے ورنہ اسے مقید کر دیتے۔ (نیاز فتح پوری، تاریخ دولتین)

ہندوستان میں مسلمانوں کے دور زوال میں چند ایسے بادشاہوں کا ذکر بھی ملتا ہے جو نسوانی رجحان کے حامل تھے اور بسا اوقات دربار میں زنانہ لباس اور زیور پہن کر بھی آ جایا کرتے تھے اور خواتین کی بجائے مردوں سے صنفی تعلقات رکھنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔

          خواجہ سراؤں کو محلات میں ایسا آزادانہ مقام حاصل ہو چکا تھا کہ حرم کی بیگمات اور لونڈیاں بھی بسا اوقات اپنی ناآسودہ خواہشات سے مجبور ہو کر انہی پر اکتفا کرنے پر مجبور ہو جایا کرتی تھیں۔

          کسی شخص کو خصی کرنا مثلہ کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام میں یہ حرام قطعی ہے جس پر پوری امت کا اتفاق رائے ہے۔ اسلام میں نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کو خصی کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ مسلم مصلحین نے مخنثین کے اس طبقے اور ان کے استعمال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان پر انحصار نہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ ان کی تحریک کو مسلم معاشروں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی لیکن پھر بھی کسی نہ کسی صورت میں یہ سلسلہ چلتا رہا۔

          بعض مذہبی بادشاہوں نے اس کے خلاف عملی اقدامات بھی کئے۔ ساقی مستعد خان، اورنگ زیب عالمگیر کے ایک اقدام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

(1668CE) The Emperor ordered the Subahdars and faujdars of the provinces of Allahabad and Oudh to search for and send manacled and fettered to the Court those men who castrated children and to regard it as a peremptory order that no one should be allowed to engage in this wicked practice. (Saqi Mustaid Khan, Maasir ul Alamgiri,translated by Jadunath Sarkar, www.archive.net )

1668ء میں شہنشاہ (اورنگ زیب) نے الہ آباد اور اودھ کے صوبے داروں اور فوج داروں کو حکم دیا کہ وہ ان افراد کو تلاش کریں جو بچوں کو مخنث بناتے ہیں اور انہیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر دربار میں لائیں۔ اسے ناقابل تنسیخ حتمی حکم سمجھا جائے کہ کسی کو اس مکارانہ عمل کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔

فوجی جاگیرداری کا نظام

دور ملوکیت میں ایک اور سماجی ادارے نے فوجی ضروریات کے تحت جنم لیا۔ بادشاہ کو اپنی ملوکیت برقرار رکھنے کے لئے مضبوط فوجی ڈھانچے کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ ایک مضبوط اور وفادار فوج برقرار رکھنے کے لئے بادشاہ اپنے علاقوں کو اہم جرنیلوں کو گورنر بنا کر ان میں بانٹ دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ شاہی خاندان کے اہم لوگوں کو بادشاہ مختلف علاقوں کا گورنر مقرر کرتا۔

          یہ گورنر بادشاہ کے غلام سمجھے جاتے تھے۔ یہ گورنر اپنے پورے علاقے کو اہم جرنیلوں، وزراء اور درباریوں میں بطور جاگیر تقسیم کر دیتا۔ یہ بڑے جاگیردار گورنر کے غلام ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح سے بڑی جاگیروں کو تقسیم کر کے انہیں چھوٹے جاگیرداروں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ یہ چھوٹے جاگیردار بڑے جاگیردار کے غلام ہوا کرتے تھے اور عام لوگ ان چھوٹے جاگیرداروں کے غلام ہوا کرتے تھے۔

          معاشرے کی اس مخروطی تنظیم (Hierarchical Organization) کے نتیجے میں تہہ در تہہ غلامی نے جنم لیا۔ درمیانی درجے کے افراد اگرچہ غلام سمجھے جاتے تھے لیکن عملی طور پر وہ اپنی زندگیوں میں آزاد تھے۔ سب سے بری حالت معاشرے کے سب سے پست طبقے کی تھی۔ ان سے ان کے جاگیردار نہایت سختی سے پیش آیا کرتے تھے۔ ان کی محنت کا بڑا حصہ جاگیردار لے جاتے اور انہیں کسمپرسی کی زندگی میں چھوڑ جایا کرتے تھے۔ جنگ کی صورت میں ہر جاگیردار کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ اپنے علاقے سے ایک فوج لے کر بادشاہ کی فوج میں شامل ہو۔ جب ایک بادشاہ کی جگہ دوسرا آتا تو وہ پہلے بادشاہ کے وفاداروں کی جگہ اپنے حامیوں کو جاگیریں تقسیم کر دیا کرتا تھا۔

          فوجی جاگیرداری کا یہ نظام عالم اسلام کے چند علاقوں میں رواج پذیر رہا ہے۔ بعض علاقوں میں یہ ظلم کی انتہائی صورت میں موجود رہا ہے جبکہ ان علاقوں میں جہاں مرکزی حکومت کی رٹ مضبوط ہوا کرتی تھی، اس نظام سے بہت زیادہ ظالمانہ شکل اختیار نہیں کی۔

بادشاہوں کے تقدس کا نظریہ

بنو عباس نے اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے بادشاہت، جسے وہ خلافت راشدہ کی نقل میں "خلافت" کہا کرتے تھے، کے تقدس کا نظریہ ایجاد کیا۔ بنو امیہ کے دور تک بادشاہ عام لوگوں کی دسترس میں ہوا کرتا تھا۔ جمعہ کا خطبہ دینا بادشاہ یا اس کے نائب کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ بنو عباس نے اس رسم کو موقوف کر کے جمعہ کا خطبہ مذہبی طبقے کے حوالے کیا اور بادشاہ خود عوام کی دسترس سے باہر ہو گیا۔

          جعلی احادیث گھڑ کر بادشاہ کو خدا کا نائب قرار دیا گیا اور اس سے بغاوت کو خدا سے بغاوت قرار دیا گیا۔ بادشاہ پر تنقید خدا پر تنقید قرار پائی۔ اس طریقے سے قانونی غلامی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی غلامی کا ادارہ وجود میں آیا۔ بادشاہت کے اس نظریے کی بدولت ایسی عمومی فضا پیدا ہوئی جس نے غلامی کو مسلم دنیا میں ایک قابل قبول سماجی ادارہ بنا دیا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب مغربی اقوام نے ترکی کی نام نہاد "خلافت" اور حقیقتاً بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔

غلاموں کی بغاوت

جنوبی عراق میں 255 – 269H / 868-883CE میں غلاموں کی ایک عظیم بغاوت وقوع پذیر ہوئی جو مسلم تاریخ میں غلاموں کی واحد بغاوت ہے۔ اس تحریک کو تشکیل دینے میں بہت سے عوامل نے اپنا کردار ادا کیا۔ دجلہ و فرات کے ڈیلٹا میں بکثرت سیلاب آنے کی وجہ سے آبادی کا بڑا حصہ علاقے کو چھوڑ گیا تھا۔ جاگیرداروں نے اس کا حل یہ نکالا کہ مشرقی افریقہ یا زنجبار کے علاقے سے کثیر تعداد میں غلام پکڑ کر یہاں لے آئے اور ان سے جبری مشقت لینے لگے۔ ان غلاموں کی حالت بہت خراب تھی کیونکہ انہیں نہایت سنگین موسمی حالات میں کام کرنا پڑتا تھا۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لنڈا شیفر لکھتی ہیں:

The Arabs were the first to import large numbers of enslaved Africans in order to produce sugar. Fields in the vicinity of Basra, at the northern end of the Persian Gulf, were the most important sugar-producing areas within the caliphates, but before this land could be used, it had to be desalinated. To accomplish this task, the Arabs imported East African (Zanj) slaves. This African community remained in the area, where they worked as agricultural laborers. The famous writer al Jahiz, whose essay on India was quoted earlier, was a descendant of Zanj slaves. In 869, one year after his death, the Zanj slaves in Iraq rebelled. It took the caliphate fifteen years of hard fighting to defeat them, and thereafter Muslim owners rarely used slaves for purposes that would require their concentration in large numbers. (Lynda Shaffer, Southernization)

عرب وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے افریقیوں کو غلام بنا کر گنے کی کاشت کے لئے امپورٹ کیا۔ خلیج فارس کے شمالی کنارے پر بصرہ کے اطراف میں کھیتوں میں کاشت کاری کے لئے ضروری تھا کہ پہلے زمین کو سمندری اثرات سے پاک کیا جائے۔ افریقی کمیونٹی اس علاقے میں رہی جہاں یہ زرعی مزدوروں کے طور پر کام کرتے رہے۔ مشہور مصنف الجاحظ، جن کا حوالہ انڈیا سے متعلق مضمون میں دیا جا چکا ہے، انہی زنگی غلاموں کی اولاد تھے۔ 869 میں، جاحظ کی وفات کے ایک سال بعد، عراق میں زنگی غلاموں نے بغاوت کر دی۔ انہیں شکست دینے کے لئے حکومت کو پندرہ سال تک سخت جنگ لڑنا پڑی۔ اس کے بعد مسلمان آقاؤں نے کبھی بھی غلاموں کو ایسے کاموں میں استعمال نہ کیا جس کے نتیجے میں ان کی بڑی تعداد ایک ہی علاقے میں رہنے لگ جائے۔

جاگیرداروں کے اس ظلم و ستم کے نتیجے میں بغاوت نے جنم لیا۔ غلاموں کو علی بن محمد کی صورت میں ایک لیڈر مل گیا جو کہ خود آزاد تھے۔ علی بن محمد نے یہ دعوی کیا کہ وہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں۔ وہ خارجی نظریات سے متاثر تھے۔ انہوں نے شہر شہر اور گاؤں گاؤں کا سفر کر کے غلاموں کو بغاوت پر آمادہ کیا۔ بغاوت کا آغاز بصرہ سے ہوا۔ یہ عباسی سلطان مہتدی باللہ کا زمانہ تھا۔ آہستہ آہستہ بغاوت پورے جنوبی عراق میں پھیلتی چلی گئی۔ غلاموں نے گوریلا طرز کی کاروائیاں شروع کر دیں۔ مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی اس بغاوت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

علی نامی ایک شخص نے اپنے آپ کو اس سے چند روز پیشتر علوی ظاہر کر کے اول بحرین میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، پھر احسا چلا آیا، وہاں بھی اپنے آپ کو علوی بتایا۔۔۔۔آخر بغداد میں اس نے چند غلاموں کو اپنے ساتھ ملایا اور ان کو ہمراہ لے کر بصرہ گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اعلان کیا کہ جو زنگی غلام ہمارے پاس چلا آئے گا وہ آزاد ہے۔ اس اعلان کو سن کر زنگی غلاموں کا انبوہ کثیر اس کے گرد جمع ہو گیا۔

       ان غلاموں کے آقا جب علی کے پاس آئے اور اپنے غلاموں کی نسبت اس سے گفتگو کرنی چاہی تو علی نے اشارہ کر دیا۔ زنگیوں نے اپنے آقاؤں کو فوراً گرفتار کر لیا۔ پھر علی نے ان کو چھوڑ دیا۔ علی کے جھنڈے کے نیچے زنگی غلاموں کی جمعیت ہر روز ترقی کرتی رہی اور علی ان کو ملک گیری اور تیغ زنی کی ترغیب اپنی پرجوش تقریروں سے دیتا رہا۔ پھر قادسیہ اور اس کے نواح کو لوٹ کر بصرہ کی طرف آیا۔ اہل بصرہ نے مقابلہ کیا مگر شکست کھائی۔ اس کے بعد بصرہ والوں نے بار بار مقابلہ کی تیاری کی اور ہر مرتبہ شکست ہی کھائی۔

کم وبیش یہی تفصیل طبری، مسعودی اور ابن خلدون نے بھی بیان کی ہے۔ تھوڑے ہی عرصے میں غلاموں نے مختلف علاقوں میں اکٹھا ہو کر قلعہ بندی شروع کر دی۔ انہوں نے اپنا ایک دارالحکومت بھی بنا لیا تھا جس کا نام انہوں نے "المختارہ" رکھا تھا۔ ڈاکٹر شوقی ابوخلیل نے اپنے اٹلس میں اس دارالحکومت کا مقام بصرہ کے قریب دکھایا ہے۔

          زنگیوں نے آبادیوں پر حملے شروع کر دیے۔ انہوں نےعام لوگوں کی سپلائی لائن کو اس طرح منقطع کیا کہ لوگوں کو کتے ذبح کر کے کھانا پڑے۔ ان کے لیڈر علی بن محمد نے نبوت کا دعوی بھی کر دیا۔ بادشاہ نے ایک بڑی فوج غلاموں کے مقابلے پر بھیجی جسے "الموافقین" کہا جاتا ہے۔ اس فوج نے طویل عرصے میں غلاموں کی مختلف ٹکڑیوں کو شکست دے کر ان کے لیڈروں کو سرعام سخت سزائیں دیں۔ المختارہ کو فتح کر کے غلاموں کو دوبارہ ان کے مالکوں کی طرف لوٹایا گیا اور بغاوت کا قلعہ قمع کر دیا گیا۔

          اس بغاوت کے بعد مسلم دنیا میں غلاموں کی کسی اور بغاوت کا سراغ نہیں ملتا۔ اس بغاوت کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ اس کے بعد غلاموں پر کام کا بوجھ کم کر دیا گیا اور ان سے اچھا سلوک کیا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ عراق کے غلاموں نے بھی ترقی کر کے مزارعوں یا نیم غلاموں کی شکل اختیار کر لی۔ اس بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے ولیم کلارنس لکھتے ہیں۔

The leaders of the famous Iraqi servile rebellion of 869-83 did not seek to abolish slavery. Rather they sought to subject to servitude those who had unjustly deprived the common people of their fair share of the economic and social fruits of the Islamic religious revolution. (Islam & Slavery)

عراق کی مشہور غلاموں کی بغاوت کا مقصد غلامی کا خاتمہ نہ تھا۔ اس کی بجائے اس بغاوت کی اصل وجہ اسلام کے مذہبی انقلاب سے ملنے والے معاشی اور معاشرتی فوائد میں غلاموں کو شریک نہ کیا جانا تھا۔

نائیگل ڈی فرلونج اس تحریک کے مختلف عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

The Zanj revolt was more than a revolt. Emerging amidst the confluence of political, economic, religious, social, racial, and ideological factors, the Zanj revolt is a conflict that reflects several interpretations, including rebellion, uprising, revolution and collective movement. (Revisiting the Zanj and Re-Visioning Revolt: Complexities of the Zanj Conflict)

زنگی بغاوت، محض ایک بغاوت سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ تھی۔ اس نے بہت سے سیاسی، معاشی، مذہبی، سماجی، نسلی اور نظریاتی عوامل کے آمیزے میں سے جنم لیا۔ زنگی بغاوت ایک ایسا جھگڑا تھا جس کی متعدد توجیہات کرتے ہوئے اسے بغاوت، بلند ہونے کی کوشش، انقلاب اور اجتماعی جدوجہد کا نام دیا گیا ہے۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability