بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ چہارم: اسلام کے بعد کے ادوار میں غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 14: مسلمانوں کے دور انحطاط میں غلامی (2)

سلطنت عثمانیہ (698 – 1341H / 1299 – 1923CE) میں غلامی

سلطنت عثمانیہ میں بھی غلامی کو اسی طرح ادارے کی شکل میں برقرار رکھا گیا جیسا کہ اس کی پیشرو عباسی سلطنت میں غلامی موجود رہی تھی۔ عثمانیوں کے دور میں 1908ء تک غلامی کے ادارے کا سراغ ملتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق استنبول کی آبادی کا 20% حصہ غلاموں پر مشتمل تھا۔ عثمانی ترکوں نے غلاموں کی فوج کے ادارے کو ایک خاص شکل دی اور اسے "دیوسرم (Devsirme)" کا نام دیا۔

          اس نظام کے مطابق مشرقی یورپ میں بلقان کے علاقے کے لوگوں کے بچوں پر ٹیکس مقرر کیا گیا۔ اس ٹیکس کی صورت یہ تھی کہ ہر خاندان پر اس کے بچوں کی تعداد کے اعتبار سے شرح مقرر کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو فوجی خدمات کے لئے بھیجیں۔ اس طریقے سے جو بچے حاصل ہوتے، انہیں مسلمان بنا کر ان کی کڑی فوجی تربیت دی جاتی۔ یہ فوجی سلطان کے ذاتی غلام سمجھے جاتے تھے۔

          غلامی کے باوجود ان فوجیوں کو ترک معاشرے میں اہم مقام حاصل تھا۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد مختلف افراد کو ان کے ذہنی رجحان کے پیش نظر چار شعبوں میں سے کسی ایک میں بھیج دیا جاتا۔ یہ شعبے شاہی محل، تصنیف و تالیف، مذہبی خدمات اور فوجی خدمات پر مشتمل تھے۔ سوار فوج کو "کپی کولو سواری (Kapikulu Suvari)" کا نام دیا جاتا اور پیدل فوج کو "جینی سری (Yeni Ceri)" کا نام دیا جاتا۔ ان فوجیوں کے اعلی سماجی رتبے کے باعث بسا اوقات عیسائی والدین خود اپنے بچوں کو اس فوج میں شامل کروا دیا کرتے تھے۔

          سولہویں صدی میں غیر مسلموں کے بچوں کو اس فوج میں لیا جانا کم کر دیا گیا اور اس فوج میں آزاد افراد کو بھی شامل کیا جانے لگا۔ اس ادارے سے قطع نظر عثمانی معاشرے میں غلاموں کی حالت کم و بیش مسلم دنیا کے دوسرے علاقوں جیسی ہی تھی۔

غلاموں کی بین الاقوامی تجارت

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں غلامی کے ادارے کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا۔ غلاموں کی خدمات کی منتقلی بھی زیادہ تر مقامی نوعیت کی تھی۔ اگر ایک شخص کو غلام کی ضرورت نہ رہتی تو وہ اس کی خدمات کو کچھ رقم کے عوض اپنے شہر ہی میں دوسرے شخص کو منتقل کر دیتا۔ بڑے پیمانے پر غلاموں کی ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی کا رواج موجود نہ تھا۔

          اسلام کی اصلاحات کے نتیجے میں غلاموں کی تعداد میں غیر معمولی کمی کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں چالیس گنا اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد بنو عباس کے دور میں حرم، غلاموں پر مشتمل فوج اور مخنث پولیس کے قیام کے نتیجے میں غلاموں کی ڈیمانڈ میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے اس فرق کے نتیجے میں غلاموں کی ایک بین الاقوامی منڈی نے جنم لیا۔ لوئیس برنارڈ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

In one of the sad paradoxes of human history, it was the humanitarian reforms brought by Islam that resulted in a vast development of the slave trade inside, and still more outside, the Islamic empire.   (Race & Slavery in Middle East)

انسانی تاریخ کا یہ افسوس ناک المیہ ہے کہ اسلام نے (غلاموں سے متعلق) جو انسانی نوعیت کی اصلاحات کیں، ان کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر غلاموں کی تجارت وجود میں آئی۔ یہ مسلمانوں کی سلطنت کے اندر بھی تھی لیکن اس سے زیادہ اس کی حدود سے باہر بھی تھی۔

غیر مسلم ممالک میں چونکہ بکثرت غلام پہلے سے ہی موجود تھے، اس وجہ سے بردہ فروشوں نے ان علاقوں سے غلاموں کو مسلم ممالک میں پہنچانا شروع کر دیا۔ غلاموں کی تربیت کے لئے باقاعدہ اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں ایک طرف لونڈیوں اور خوبصورت لڑکوں کو شعر و ادب، موسیقی اور رقص کی تربیت دی جاتی اور دوسری طرف غلاموں اور ہیجڑوں کو فوجی تربیت دی جاتی۔ غلام بنانے اور انہیں خصی کرنے کا عمل غیر مسلم ممالک یا پھر مسلم سلطنتوں کے دور دراز علاقوں میں انجام دیا جاتا اور انہیں بڑے بڑے مسلم شہروں میں لا کر فروخت کر دیا جاتا۔

          اس پورے عمل کے نتیجے میں غلاموں کی بین الاقوامی تجارت وجود میں آئی۔ افریقہ، وسط ایشیا اور یورپ غلاموں کی سپلائی کا مرکز تھے اور مسلم ممالک میں ان کی ڈیمانڈ موجود تھی۔ یہ ڈیمانڈ تاریخ کے تمام ادوار میں برقرار رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلم ممالک میں غلاموں کی آزادی کا باقاعدہ ادارہ موجود رہا ہے۔ اللہ کی رضا کے لئے غلام آزاد کرنا مسلمانوں کے ہاں ہمیشہ ایک نیکی سمجھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مکاتبت کا ادارہ بھی ان کے ہاں موجود رہا۔ ان عوامل کے نتیجے میں مسلمان غلام آزاد کرتے رہتے اور ان کی کمی کو پورا کرنے کے لئے باہر سے مزید غلام امپورٹ کر لیتے۔

          ایڈم متز نے جرمن زبان میں چوتھی صدی ہجری کے مسلم معاشروں کے تفصیلی حالات نہایت ہی دیانتداری سے بیان کئے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس دور کی مسلم دنیا کے بڑے شہروں میں غلاموں کے بڑے بڑے بازار (سوق الرقیق) وجود پذیر ہو چکے تھے اور بردہ فروشوں (نخاسین) کا طبقہ بڑے پیمانے پر یہ کام کر رہا تھا۔ ہمارے پیش نظر ان کی کتاب کا عربی ترجمہ ہے۔ لکھتے ہیں:

و فی القرن الرابع الھجری کانت مصر و جنوب جزیرۃ العرب و شمال افریقیہ اکبر اسواق الرقیق السود؛ و کانت قوافل ھذہ البلاد تجلب الذھب و العبید من الجنوب؛ ۔۔۔۔ اما فی سائر المملکۃ الاسلامیۃ فقد اقتصر المسلمون فی العبید البیض علی الترک و علی الصقالبہ۔۔۔۔۔اما الطریق الثانی الذی کان یاتی منہ رقیق الصقالبۃ، فقد کان یخترق المانیا الی الاندلس و الی الموانیء البحریۃ بایطالیا و فرنسا۔ و کان اغلب تجار الرقیق فی اوربا من الیھود۔۔۔۔ و الطریق الثالث لتجارۃ الرقیق یسیر من بلاد الرقیق فی لغرب۔ و کانت ھذہ البلاد بسبب حروبھا مع الالمان کثیرۃ الانتاج لھذۃ البضاعۃ الانسانیۃ۔ (ایڈم متز؛ الحضارۃ الاسلامیۃ فی القرن الرابع الھجری، فصل 11)

چوتھی صدی ہجری میں مصر، جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے اور شمالی افریقہ میں سیاہ فام غلاموں کے بڑے تجارتی مراکز قائم ہو چکے تھے۔ ان شہروں کے قافلے جنوب سے سونا اور غلام لے کر آیا کرتے تھے۔ مسلم دنیا کے باقی ممالک میں مسلمانوں نے ترکی اور وسط ایشیا کے سفید فام غلاموں پر اکتفا کیا ہوا تھا۔۔۔۔دوسرا تجارتی راستہ وہ تھا جس سے جنوبی اور وسطی یورپ کے غلام لائے جاتے تھے۔ یہ غلام جرمنی سے لے کر اسپین اور اٹلی سے لے کر فرانس کی بندرگاہوں سے لائے جاتے تھے۔ غلاموں کی اس تجارت کا غالب حصہ سود خور یہودیوں کے قبضے میں تھا۔۔۔۔غلاموں کی تجارت کا تیسرا راستہ (شمال) مغربی ممالک کے جنگی قیدیوں کا تھا۔ ان ممالک میں جرمنوں (اور روسیوں وغیرہ) کی بہت سی جنگیں جاری تھیں جن کے نتیجے میں یہ انسانی پراڈکٹ پیدا ہوتی تھی۔

متز نے اپنی کتاب میں غلاموں کے تجارتی مرکز کا باقاعدہ ڈیزائن بیان کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس دور میں بھی بردہ فروشوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا اور انہیں معاشرے کا ایک غلط کار طبقہ ہی سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ لونڈیوں اور غلاموں کو اس تجارتی مرکز میں اس طریقے سے پیش کیا کرتے تھے کہ ان کے عیب چھپ جائیں۔ ادھیڑ عمر لونڈیوں کا خاص طور پر میک اپ وغیرہ کر کے انہیں جوان بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ انہیں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ اپنے ناز و ادا سے خریدار کو مسحور کرنے کی کوشش کریں تاکہ بردہ فروش کو ان کی زیادہ سے زیادہ قیمت میسر آ سکے۔ ان بازاروں میں ہندوستانی اور افغانی لونڈیوں کی خاص ڈیمانڈ ہوا کرتی تھی۔

تھامس آرنلڈ مسلم اسپین میں غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت سے متعلق بیان کرتے ہیں:

The purchase of a slave was not so simple a transaction as is often imagined. It had to be concluded in the presence of a notary, and the purposes for which a female slave was required, as well as her capabilities and treatment, were carefully considered. Women enjoyed more freedom and more consideration under the Umayyads in Spain than under the Abbasids of Baghdad. (Thomas Arnold, The Legacy of Islam)

عام خیال کے برعکس غلام خریدنے کا طریق کار سادہ نہ تھا۔ غلام کی خرید و فروخت کے وقت سرکاری عہدے دار کا موجود ہونا ضروری تھا۔ لونڈی کو خریدنے کے مقصد، اس کی صلاحیتیں اور اس کے ساتھ سلوک کو احتیاط سے دیکھا جاتا تھا۔ بغداد کے عباسیوں کے مقابلے میں اسپین کے امویوں کی سلطنت میں خواتین کو زیادہ آزادی حاصل تھی۔

غلاموں سے متعلق مذہبی راہنماؤں کا کردار

مسلم علماء کے چار رویے

غلاموں سے متعلق مسلمانوں کے مذہبی راہنماؤں کے کردار کو سمجھنے سے پہلے ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ بنو عباس کے عہد میں مسلمانوں کے مذہبی راہنماؤں کا شاہی حکومت کے بارے میں کیا رویہ موجود تھا۔ اگر ہم تفصیل سے ان کے رویوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ضمن میں علماء چار گروہوں میں تقسیم ہو چکے تھے:

·       پہلا گروہ ان مفاد پرست راہنماؤں کا تھا جو بادشاہوں سے مالی مفادات کے حصول کے لئے ان کی ہر بات کے مطابق دین کو ڈھالنے کے لئے کوشاں رہا کرتے تھے۔ یہ لوگ دربار سے وابستہ ہوا کرتے۔ بادشاہ کی مرضی کے مطابق فتوی جاری کرتے، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے اور شاہی حکم کے مطابق دینی احکام میں تحریف سے بھی گریز نہ کیا کرتے تھے۔

·       دوسرا گروہ ان مذہبی راہنماؤں کا تھا جو بالعموم سرکاری ملازمتوں سے وابستہ تھے۔ یہ لوگ علوم دینیہ بالخصوص فقہ کی تکمیل کے بعد عدلیہ، احتساب اور پولیس وغیرہ کے محکموں سے وابستہ ہو جایا کرتے تھے۔ اپنی اصل میں تو یہ دین سے مخلص تھے لیکن ان میں وہ اخلاقی جرأت مفقود تھی جس کے باعث یہ حکومت کے منکرات کے خلاف آواز بلند کر سکتے۔ یہ حضرات اکثر اوقات یہ کوشش کیا کرتے تھے کہ اپنے دائرہ کار میں جس حد تک ہو سکے، نیکی کو فروغ دیں اور برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ معاشرے کی مجموعی سطح پر برائیوں کے خاتمے کی جدوجہد کرنا ان کے لئے عملاً ممکن نہ تھا۔

·         تیسرا گروہ ان مخلص مذہبی راہنماؤں کا تھا جو اگرچہ حکومت سے کسی درجے میں وابستہ ہوا کرتے تھے لیکن ان کے نزدیک اصل اہمیت حق بات کی ہوا کرتی تھی۔ ایسے حضرات بادشاہ کے قریب ہو کر اس کے نظام حکومت کو جس حد تک ممکن ہو، دین کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر یہ بادشاہ کے سامنے بھی کلمہ حق کہنے سے گریز نہ کیا کرتے تھے۔ اگر بادشاہ اچھی طبیعت کا مالک ہوتا تو وہ ان کی باتوں کا اثر قبول کرتا ورنہ ان میں سے بہت سے اہل علم کو پس زنداں ڈال کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا۔

·       چوتھا گروہ ان مخلص مذہبی راہنماؤں کا تھا جنہوں نے ہر حال میں حکومت سے دوری اختیار کی۔ انہوں نے خود کو علمی کاموں میں اتنا مشغول کر لیا کہ ان کے لئے حکمرانوں کے پاس جانے اور اس سے تعلق رکھنے کا وقت ہی نہ بچا۔ اگر انہیں حکومت کی طرف سے کوئی عہدہ سونپنے کی کوشش بھی کی گئی تب بھی انہوں نے انکار ہی کیا اور اس جرم کی پاداش میں بسا اوقات سزا بھی برداشت کی۔

ان چاروں گروہوں میں سے پہلے کو چھوڑ کر باقی تینوں طبقات مخلص علماء پر مشتمل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیسرے اور چوتھے گروہ کے علماء کی تعداد میں کمی واقع ہوتی چلی گئی اور زیادہ تر علماء دوسرے یا پہلے گروہ سے تعلق رکھنے لگے۔ تیسرے اور چوتھے طبقے کے ایک گروہ نے دینی فکر کو سیاسی اثرات سے پاک رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے باوجود یہ حضرات بھی اسی معاشرے کا حصہ تھے، جس کی وجہ سے کسی حد تک یہ اپنے معاشی اور معاشرتی حالات سے متاثر ہوئے، جس کے اثرات ان کی فکر پر بھی اثر پذیر ہوئے۔

          یہ بات غیر ضروری ہے کہ ان میں سے ہر طبقے کے اہل علم کے نام پیش کئے جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں شخصیتوں سے متعلق افراط و تفریط کے رویے پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی شخصیت کسی گروہ میں محترم سمجھی جاتی ہو، تو اس کی ہر بات کو سوچے سمجھے بغیر مان لینے کا رجحان ہمارے ہاں موجود ہے، خواہ وہ بات اسلام کی تعلیمات کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اگر وہ شخصیت مخالف فرقے یا مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہو تو اس کی ہر بات کو رد کر دینے کا رجحان ہمارے ہاں موجود ہے اگرچہ اس کی بات اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں شخصیات کا ذکر کئے بغیر ان کے نقطہ ہائے نظر کو بیان کریں گے تاکہ شخصی تعصب بات کو سمجھنے میں حائل نہ ہو۔

          چوتھے طبقے کے علماء کا حکومت سے دور رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی جگہ پہلے اور دوسرے طبقے کے راہنماؤں نے لے لی۔ تیسرے طبقے کے علماء بہت ہی کم تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی حکومتیں اسلام سے دور ہوتی چلی گئیں۔ اس صورتحال کا تجزیہ مسلم علماء کے برعکس دور جدید کے مستشرقین نے نہایت دقت نظر سے کیا ہے۔ ڈینیل پائپس۔۔۔ گرون بام، ابن خلکان، گوئٹے، ہڈسن، بولیٹ ۔۔۔ وغیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

Muslim subjects responded to troublesome realities by withdrawing from politics and warfare. They avoided the blatant nonimplementation of Islamic goals in the public sphere by re-treating into other domains, where Islam had much greater success. Not all Muslim subjects withdrew, of course, but insofar as an Islamicate pattern existed, Islam caused its believers not to participate in public affairs. As a result of the unattainable nature of Islamic public ideals, Muslim subjects in premodern times relinquished their political and military power.

The ulama’ did their best to avoid serving as qadis; some Sufis refused "to touch funds coming from an amir, on the ground that they represented illicit gains";….

In the 13th century courageous jurists in Egypt declared prayer in a cemetery chapel, which the Sultan had erected, as not permitted, on account of the inhumane methods used during its construction. A tacit, boycott-like opposition to the government existed in certain pious circles of the early Islamic Middle Ages, when any money coming from the government was considered religiously forbidden property. It is even reported that some pious people considered it forbidden to drink water from a canal dug by the government, or to fasten their bootlaces at the light of a lamp belonging to the government.

The reputations of Muslim authorities who did serve the rulers suffered as a result; the trustworthiness of Abi Yousuf (d. 182/798), author of Kitab al-Kharaj, came into doubt because he worked for the government. A number of prominent Muslim ethical and religious writers, such as Abu’l-Layth as-Samarqandi (d. 373/983) and Abu’l-H.amid al-Ghazali (d. 505/1111) discussed the problems entailed in dealing with rulers. Islamicate writings widely reflected this attitude to government. Further, Muslim subjects and rulers alike internalized this attitude, making it a normative pattern of behavior; all agreed that Muslim subjects should not become involved in public affairs…..

None of them (Muslim subjects) had coercive powers--they could not tax, raise armies, nor claim a monopoly on violence. Some of them might occasionally mobilize on a local scale, but none could challenge the rulers. They absorbed energies which otherwise would have gone into politics….

Withdrawal by Muslim subjects created a power vacuum which opened Islamicate public life to domination by others. Armies became the playthings of nonsubjects; one succeeded another with hardly any reference to the subject populations. (Daniel Pipes, Slavery Soldiers & Islam, www.danielpipes.com )

اسلام پر عمل کرنے والے مسلمانوں نے ان مشکلات کے ردعمل میں سیاست اور جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے حکومتی دائرے میں اسلام کے مقاصد پر عمل درآمد نہ کئے جانے پر اپنی قوتیں دیگر میدانوں میں لگا دیں جہاں اسلام کو بڑی کامیابی مل سکی۔ یقیناً تمام دین دار مسلمانوں نے تو گوشہ نشینی نہ اختیار کی مگر یہی رجحان ان کے ہاں غالب رہا کہ اسلام ہی کی وجہ سے اس کے ماننے والے حکومتی معاملات سے علیحدہ ہو گئے۔ حکومتی معاملات میں اسلام کے آئیڈیلز کے قابل حصول نہ ہونے کے سبب قرون وسطی کے دین دار مسلمانوں نے اپنی سیاسی اور فوجی قوت کھو دی۔۔۔۔۔

علماء نے قاضی کے عہدے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بعض صوفیاء نے حکمران کی طرف سے آنے والی رقم کو چھونے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ یہ غیر اخلاقی فوائد کے لئے دی جاتی تھی۔۔۔۔

تیرھویں صدی میں مصر میں باہمت فقہاء نے بادشاہ کی تعمیر کردہ ایک مسجد میں نماز پڑھنے کو حرام قرار دیا کیونکہ اس کی تعمیر میں غیر انسانی طریقے استعمال کئے گئے تھے۔ قرون وسطی کے مسلم علاقوں کے بعض مذہبی حلقوں میں بائیکاٹ کی طرز پر حکومت کے خلاف ایک خاموش اپوزیشن بھی موجود رہی جب حکومت سے حاصل شدہ رقم کو مذہبی طور پر حرام قرار دیا گیا۔ یہ بھی ملتا ہے کہ بعض نیک لوگ حکومت کی کھودی ہوئی نہر سے پانی پینے کو جائز نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی حکومت کی ملکیت کسی مشعل کی روشنی میں اپنے جوتوں کے تسمے باندھنے کو پسند کرتے تھے۔

ایسے مسلم علماء، جو حکومتی سروس کا حصہ بنتے تھے، کی ساکھ بری طرح متاثر ہوا کرتی تھی۔ (ابن خلکان کے مطابق) کتاب الخراج کے مصنف (قاضی) ابو یوسف (d.182H / 798CE) کی دیانت پر شک کیا گیا کیونکہ وہ حکومت کے لئے (بطور چیف جسٹس) کام کیا کرتے تھے (اگرچہ وہ ایک نہایت ہی دیانت دار عالم تھے۔) مسلمانوں کے بہت سے مذہبی اور اخلاقی موضوعات پر لکھنے والے، جیسے ابواللیث سمرقندی (d. 373H / 983CE) اور ابو حامد الغزالی (d. 505H / 1111CE) نے حکمرانوں کے ساتھ تعلق کے مسائل بیان کئے ہیں۔ دین دار مسلمانوں کی تحریریں حکومت کے ساتھ ان کے رویوں سے متعلق بہت کچھ بیان کرتی ہیں۔ اس کے بعد، دین دار مسلمان اور حکمران دونوں نے ذہنی طور پر اس بات کو متفقہ طور پر قبول کر لیا کہ دین دار مسلمان اجتماعی معاملات میں شریک نہیں ہوں گے۔۔۔

ان دین دار مسلمانوں میں سے کسی کے پاس ڈنڈے کی طاقت نہیں تھی۔ وہ نہ تو ٹیکس وصول کر سکتے تھے، نہ ہی فوج تیار کر سکتے تھے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کر سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ مقامی سطح پر لوگوں کو متحرک تو کر سکتے تھے لیکن حکمرانوں کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ان میں سے کوئی نہ تھا۔ (اپنے سماجی اور علمی کاموں میں) انہوں نے وہ توانائیاں استعمال کر لیں جو کہ بصورت دیگر سیاست میں استعمال ہوتیں۔۔۔۔

دین دار مسلمانوں کی اس گوشہ نشینی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں طاقت کا ایسا خلا پیدا ہوا جسے دوسرے (غیر مذہبی لوگوں) نے پورا کیا۔ افواج غیر مذہبی لوگوں کے ہاتھ میں کھلونا بن گئیں جن کی لڑائیوں کے نتیجے میں، مذہبی مسلمانوں سے قطع نظر، ایک کے بعد دوسرا برسر اقتدار آ جایا کرتا تھا۔

بحیثیت مجموعی، پائپس کے اس تجزیے سے، سوائے خط کشیدہ الفاظ کے ہم اتفاق کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مسلمانوں کے دین دار طبقے کے اجتماعی معاملات سے دور ہونے کی وجہ "اسلام" نہیں تھی۔ اسلام نے ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے کو سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہے البتہ جو لوگ اس کی ہمت اور استطاعت نہ رکھتے ہوں، انہیں خاموش رہنے کی رخصت بھی دی گئی ہے۔ تیسری صدی ہجری تک مسلم علماء میں کلمہ حق ادا کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے کا بھرپور رجحان رہا ہے۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں یہ معاملہ کمزور پڑ گیا لیکن ان میں صعوبتیں جھیل کر کلمہ حق ادا کرنے والے افراد بہرحال موجود رہے ہیں۔

          ان سے ہمارا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی آئیڈیلز ہرگز ہرگز ناقابل حصول نہیں ہیں۔ یہ آئیڈیلز اعلی ترین اخلاقیات پر مبنی ہیں جنہیں کوئی بھی معاشرہ، جو اخلاقی اعتبار سے ایک مناسب مقام پر ہو، اختیار کر سکتا ہے۔

غلامی سے متعلق دینی احکامات میں تحریف

غلامی سے متعلق علماء کے ہاں دو رویے موجود رہے ہیں۔ پہلے اور دوسرے طبقے کے علماء نے بنی اسرائیل کے علماء کی طرح غلاموں کی آزادی سے متعلق احکامات کا اثر محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ طبقہ تورات کے برعکس قرآن مجید میں کوئی اضافہ تو نہ کر سکا لیکن انہوں نے قرآن مجید کی اصلاحات کا اثر کم کرنے کی کچھ اور طریقوں سے کوشش کی ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہو گا کہ ایسا انہوں نے جان بوجھ کر غلامی کی حمایت میں کیا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ علماء اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوئے اور لاشعوری طور پر اس کے اثرات ان کے نظریات میں شامل ہو گئے۔ اس کی بعض تفصیلات یہ ہیں:

مکاتبت کے وجوب کی استحباب میں تبدیلی

قرآن مجید میں واضح طور پر مکاتبت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کوئی غلام آزادی کا طالب ہو تو اس سے مکاتبت کرنا اس کے مالک کے لئے لازم ہے۔ خلفاء راشدین بالخصوص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکاتبت کا یہ حکم "فرض" کے درجے میں تھا۔ اس حکم کو قرآن سے خارج تو نہ کیا جا سکا لیکن ایک گروہ نے اسے "فرض" کے درجے سے گرا کر "مستحب" قرار دے دیا۔ اب یہ بات آقا کے لئے بہتر قرار پائی کہ وہ غلام کو مکاتبت دے دے لیکن اگر وہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہو تو غلام کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ صبر شکر سے غلامی کی زندگی بسر کرتا رہے۔ اس طریقے سے مکاتبت کے اس انقلابی قانون کو غیر موثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

غلاموں کی شادیوں کے وجوب کی استحباب میں تبدیلی

قرآن مجید میں واضح طور پر غلاموں کی شادیاں کر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل سے یہ بات پوری طرح ثابت ہے کہ حکم بھی "فرض" کے درجے میں تھا۔ صحابہ کرام کے غلام تو اگر شادی نہ بھی کرنا چاہتے تو وہ خود انہیں شادی کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ ایک گروہ نے اس "فرض" کو بھی "مستحب" میں تبدیل کر دیا۔ اس طریقے سے یہ آقا کی مرضی قرار پائی کہ وہ چاہے تو غلام کی شادی کرے اور چاہے تو اسے بدکاری کرنے کے لئے چھوڑ دے۔

غلاموں کی آزادی کی تحریک کی شدت کا برقرار نہ رکھنا

احادیث کا مطالعہ کرنےسے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے پہلے سے موجود غلاموں کو آزاد کرنے کی ایک زبردست تحریک پیدا کی تھی۔ پورے معاشرے میں یہ جذبہ پیدا کر دیا گیا تھا کہ وہ خود اپنے غلاموں کو آزاد کریں۔ تحریک میں یہ شدت بعد کے ادوار میں کمزور پڑتی نظر آتی ہے۔ اس موقع پر یہ مذہبی راہنماؤں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس تحریک کو کمزور پڑتا دیکھ کر اس میں شدت پیدا کرتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا گیا۔ تیسرے اور چوتھے طبقے کے بعض علماء نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں معاشرے کی بھرپور حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

جسمانی تشدد کی صورت میں آزادی کے قانون میں تبدیلی

احادیث سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ غلاموں پر جسمانی تشدد کی قطعی ممانعت کر دی گئی تھی اور ایسا کرنے کی صورت میں غلام کو آزاد کر دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کو "فرض" کے درجے سے گرا کر "مستحب" کے درجے پر لایا گیا۔ ایسا تشدد جس میں غلام کے جسم کا کوئی حصہ ضائع ہو جائے تو اس صورت میں غلام کی آزادی کو واجب ہی سمجھا گیا ہے۔

غلام کے مال کی حرمت کے قانون میں تبدیلی

احادیث و آثار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عہد رسالت و صحابہ میں غلام اپنی کمائی ہوئی دولت کے مالک ہوا کرتے تھے۔ بعد کے ادوار میں غلام سے یہ حق چھین لیا گیا۔ اس کی تفصیل بھی ہم آخری باب میں بیان کریں گے۔

لونڈیوں کے حقوق میں کمی

ایک طبقے کی جانب سے لونڈیوں کے بعض حقوق میں تخفیف کی گئی۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بیوی یا لونڈی دونوں سے ازدواجی تعلقات میں عزل کو ناپسند کیا ہے۔ اس حکم کو تبدیل کر کے اس طرح سے کر دیا گیا کہ "بیوی سے عزل صرف اس کی اجازت سے ہی جائز ہے جبکہ لونڈی سے عزل بغیر اجازت کے جائز ہے۔" معلوم نہیں کہ اس نقطہ نظر کے حامل حضرات نے لونڈی کو جنسی طور پر ناآسودہ رکھنے کو کیسے جائز قرار دے دیا جس کا نتیجہ سوائے بدکاری کے فروغ کے اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ اس پر مزید بحث ہم نے کتاب کے آخری حصے میں پیش کریں گے۔

غلام کی بجائے آقا کی طرف جھکاؤ

قرآن مجید، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین کی سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے جہاں کہیں بھی غلام اور آقا کے باہمی حقوق سے متعلق کوئی صورت پیش کی گئی تو ان کے فیصلے میں جھکاؤ واضح طور پر غلام کے حقوق کی طرف ہے کیونکہ یہ کمزور طبقہ تھا۔ بعد کے ادوار میں ایسی صورتیں پیش آئیں جن میں قرآن و سنت میں حکم کی عدم موجودگی کے باعث علماء کو اجتہاد کرنا پڑا۔

          بعض علماء کے اجتہادات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فیصلے میں غلام کے حقوق کو نظر انداز کر کے آقا کے حقوق کی پاسداری کو فوقیت دی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ غلاموں میں اجتماعی مکاتبت رواج پذیر ہو گئی تھی جو کہ مکاتبت کی انشورنس کی ایک شکل تھی۔ اس صورت میں غلام مل کر مکاتبت کرتے۔ اگر کوئی غلام رقم ادا کرنے سے بیماری یا کسی اور وجہ سے عاجز ہو جاتا تو اس کی رقم اس کے باقی ساتھی ادا کیا کرتے تھے۔

          عقل و فطرت اور قرآن و سنت کے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک غلام کے دوران مکاتبت فوت ہو جانے کی صورت میں اس کے قابل ذمہ رقم کو ساقط کر دیا جاتا لیکن ایک طبقے کی جانب سے اس رقم کی ادائیگی بھی باقی ماندہ غلاموں کے ذمے لازم قرار دے دی گئی۔

غلاموں سے ہم جنس پرستانہ عمل کو ناقابل تعزیر جرم قرار دیا جانا

دور قدیم کے تمام فقہا اس بات پر متفق تھے کہ ہم جنس پرستی ایک حرام فعل ہے اور بدکاری کی طرح اس کا ارتکاب کرنے والے کو بھی حکومت کی جانب سے سزا دی جائے گی۔ چوتھی صدی کے بعض فقہاء نے غلام لڑکوں کے ساتھ ہم جنس پرستانہ تعلق رکھنے کو ناقابل تعزیر جرم قرار دے دیا۔ اس کا معنی یہ تھا کہ ایسا کرنے کی صورت میں حکومت اس فعل کے مرتکب کو کوئی سزا نہیں دے گی۔

قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں غلامی

ہندوستان کے بعض قاضیوں نے اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس سول لاء میں قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں غلام بنا لینے کو اپنے نام نہاد شرعی قانون میں جائز قرار دیا۔ اس کی تفصیل علی گڑھ یونیورسٹی اسٹڈیز ان ہسٹری کی تحریر کردہ کتاب “Administration of Justice in Medieval India” میں بیان کی گئی ہیں۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability