بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ چہارم: اسلام کے بعد کے ادوار میں غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 14: مسلمانوں کے دور انحطاط میں غلامی (3)

مسلم مصلحین کا غلامی سے متعلق کردار

غلامی کے حامی مذہبی راہنماؤں کے اقدامات کی چند مثالیں ہم نے یہاں پیش کی ہیں۔ اس کے برعکس اہل علم کا ایسا طبقہ بھی ہر دور میں موجود رہا ہے جنہوں نے غلامی سے متعلق دین اسلام کی تعلیمات پر ٹھیک طریقے سے عمل کرنے کی ترغیب دی۔ اگر انہوں نے کہیں بگاڑ پیدا ہوتا دیکھا تو اس کی بھرپور مخالفت کی اور لوگوں کو دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔

          ایسا ضرور ہے کہ ان اہل علم کی جانب سے بگاڑ کی صورت میں کسی مسلح جدوجہد کا سراغ ہمیں مسلمانوں کی تاریخ میں نہیں ملتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنو امیہ کی کرپشن کے خلاف جب بغاوتی تحریکیں اٹھیں تو نیک لوگوں کی طرف سے بالعموم ان کا ساتھ دیا گیا۔ جب یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں اور بنو امیہ کی جگہ بنو عباس برسر اقتدار آئے تو معلوم ہوا کہ وہ اخلاقی اور دینی اعتبار سے مجموعی طور پر بنو امیہ سے بھی بدتر تھے۔

          اس تجربے سے مسلمانوں کے مصلحین نے یہ سبق سیکھا کہ مسلح بغاوت ایک چھوٹی برائی کو ختم کر کے اس سے بڑی برائی کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے اس کے بعد سے معاشرتی اصلاح اور مظلومانہ جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جس کے واقعات سے ہماری تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اس ضمن میں مشہور مصلحین کے غلامی سے متعلق اقدامات کی تفصیل یہ ہے:

ابو درداء رضی اللہ عنہ

دور صحابہ و تابعین میں جلیل القدر اہل علم عوام الناس میں پیدا ہونے والی دنیا پرستی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی برائیوں کی طرف توجہ دلایا کرتے تھے اور انہیں نیکیوں کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ ان میں غلاموں کو آزادی دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَالِي أَرَى عُلَمَاءَكُمْ يَذْهَبُونَ ، وَأَرَى جُهَّالَكُمْ لاَ يَتَعَلَّمُونَ ، اعْلَمُوا قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ , فَإِنَّ رَفْعَ الْعِلْمِ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ ، مَالِي أَرَاكُمْ تَحْرِصُونَ عَلَى مَا تُكُفِّلَ لَكُمْ بِهِ ، وَتُضَيِّعُونَ مَا وُكِّلْتُمْ بِهِ ، لأَنَا أَعْلَمُ بِشِرَارِكُمْ مِنَ الْبَيْطَارِ بِالْخَيْلِ ، هُمَ الَّذِينَ لاَ يَأْتُونَ الصَّلاَةَ إِلاَّ دُبُرًا ، وَلاَ يَسْمَعُونَ الْقُرْآنَ إِلاَّ هَجْرًا ، وَلاَ يَعْتِقُ مُحَرَّرُهُمْ. (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث 35748)

سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ (d. 32H / 653CE) فرمایا کرتے تھے، "تمہیں کیا ہوا۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے علماء اٹھتے چلے جا رہے ہیں اور تمہارے غیر تعلیم یافتہ لوگ ان سے علم حاصل نہیں کرتے۔ ان سے سیکھ لو اس سے پہلے کہ علم ہی اٹھ جائے۔ علم علماء کی وفات کے ساتھ اٹھ جایا کرتا ہے۔ تمہیں کیا ہوا، میں دیکھتا ہوں کہ جتنا مال تمہاری کفالت کے لئے کافی ہے، تم اس سے زیادہ کا لالچ کرنے لگے ہو۔ تمہیں جس دولت (کو لوگوں تک پہنچانے) کا وسیلہ بنایا گیا ہے، تم اسے ضائع کرنے لگے ہو۔ میں تمہارے ان برے لوگوں کو جانتا ہوں جو گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ نماز کو آخری وقت میں ادا کرتے ہیں۔ قرآن کو سنتے ہیں تو اس پر توجہ نہیں دیتے اور اپنے غلاموں کو آزاد نہیں کرتے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ

تابعین کے مشہور عالم سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ (62 – 101H / 682 – 720CE) کو جب حکومت ملی تو انہوں نے سب سے پہلے شاہی خاندان کی جمع کردہ لونڈیوں کو آزاد کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ آپ کی اپنی لونڈیاں آپ سے بہت محبت کرتی تھیں۔ آپ نے انہیں بھی آزاد ہونے کا اختیار دے دیا جس پر انہوں نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔

و استخلف عمر بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم أبو حفص بدير سمعان في اليوم الذي توفي فيه سليمان بن عبد الملك ، و أم عمر بن عبد العزيز أم عاصم بنت عاصم بن عمر بن الخطاب و اسمها ليلى ، فلما ولي عمر جمع وكلاءه و نساءه و جواريه فطلقهن و أعتقهن. (سیرت ابن حبان)

سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد عمر بن عبدالعزیز بن مروان خلیفہ بنے۔ ان کی والدہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پوتی ام عاصم تھیں جن کا نام لیلی تھا۔ حکومت سنبھالتے ہی عمر نے (بنو امیہ کے) تمام نمائندوں، خواتین اور لونڈیوں کو جمع کیا۔ انہوں نے (زبردستی بیاہی گئی) خواتین کو طلاق دلوائی اور (شاہی خاندان کی) لونڈیوں کو آزاد کر دیا۔

حدثنی بعض خاصۃ عمر بن عبدالعزیز انہ حین افضت الیہ الخلافۃ ، سمعوا فی منزلہ بکاء عالیا ، فسئل عن البکاء، فقیل: ان عمر بن عبدالعزیز قد خیر جواریہ، فقال: انہ قد نزل بی امر قد شغلنی عنکن، فمن احب ان اعتقہ اعتقتہ، و من اراد ان امسکہ امسکتہ ، و لم یکن منی الیھا شییء۔ جبکین یاسا منہ، رحمہ اللہ۔ (ابن جوزی، سیرت عمر بن عبدالعزیز)

عمر بن عبدالعزیز کے قریبی لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ خلیفہ بنے تو ان کے گھر سے رونے کی اونچی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے بارے میں پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنی لونڈیوں کو (آزاد ہونے کا) اختیار دیا اور فرمایا، "مجھ پر اب ایسی ذمہ داری آ گئی ہے کہ میں تمہارے حقوق پورے نہیں کر سکتا۔ تم میں سے جو آزادی حاصل کرنا چاہے تو وہ آزاد ہے، اور جو میرے گھر میں رہنا چاہے وہ رہے لیکن میں اس کے حقوق پورے نہیں کر سکوں گا۔" اللہ ان پر رحم فرمائے کہ اس بات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی لونڈیاں رونے لگیں۔

اس کے علاوہ آپ نے ایسے اقدامات کئے جن کے نتیجے میں دشمن ممالک میں قید مسلم اور غیر مسلم غلاموں کو رہائی نصیب ہوئی۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، وَعَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَدَى رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ جَرْمٍ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ بِمِئَةِ أَلْفٍ. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، حدیث 33923)

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے ایک فوجی کا ایک لاکھ جرمانہ ادا کر کے اسے آزاد کروایا۔

A document of the time of the Umaiyad caliph 'Umar ibn 'Abdal-'Aziz (reported by Ibn Sa'd) says that the payment of the ransoms by the Muslim government includes liberating even the non-Muslim subjects who would have been made prisoners by the enemy. (Dr. Hamidullah, Introduction to Islam)

اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (علیہ الرحمۃ) کے دور کے ایک سرکاری کاغذ کے مطابق جسے ابن سعد نے بیان کیا ہے، مسلمان حکومت کو اپنے ایسے غیر مسلم شہریوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیے جو کہ دشمن کی قید میں ہوں۔

الجاحظ

بنو عباس کے عہد میں جب بڑی تعداد میں افریقی غلاموں کو مسلم دنیا میں امپورٹ کیا گیا اور حرم اور مخنث پولیس کے ادارے قائم ہوئے تو ابو عثمان عمرو بن البحر الکنانی مشہور بہ الجاحظ (164 - 255H / 781 - 868CE) وہ پہلے عالم تھے جنہوں نے اس کے خلاف اپنے مخصوص انداز میں آواز بلند کی۔ جاحظ خود افریقی غلاموں کی اولاد تھے۔ اپنے علم و فضل کے باعث انہیں عباسی بادشاہوں کا قرب حاصل ہو چکا تھا۔ انہوں نے مولویانہ انداز میں وعظ و نصیحت کرنے کی بجائے ادیبانہ انداز میں رسائل لکھنا شروع کئے جو کہ عربی ادب کا شاہکار مانے جاتے ہیں۔ ان رسائل میں انہوں نے غلاموں کی نفسیات میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

وله أن يجعل من عباده من شاء عربياً ومن شاء عجمياً ومن شاء قرشيَّاً ومن شاء زنجياً كما له أن يجعل من شاء ذكراً ومن شاء أنثى ومن شاء خنثى ۔۔۔۔۔ وإذا كان الخراساني مولىً والمولى عربي فقد صار الخراساني والبنوي والمولى والعربي شيئاً واحداً‏.‏ ‏ (رسائل الجاحظ، رسالة الحنين إلى الأوطان)

وہی اللہ ہے نے جس نے اپنے بندوں میں سے جسے چاہا عرب بنا دیا اور جسے چاہا عجمی بنا دیا، جسے چاہا قریشی بنا دیا اور جسے چاہا زنگی (افریقی) بنا دیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسا کہ اس نے جسے چاہا مرد بنا دیا، جسے چاہا عورت بنا دیا، اور جسے چاہا مخنث بنا دیا۔۔۔۔ اگر غلام خراسانی ہو اور مالک عربی ہو تب بھی درحقیقت خراسانی، بنوی، غلام اور عرب ایک ہی چیز تو ہیں۔

والزنجي مع حسن الخلق وقلة الأذى لا تراه أبداً إلا طيب النفس ضحوك السّنّ حسن الظّنّ‏.‏ وهذا هو الشرف‏.‏‏ (رسائل الجاحظ، كتاب فخر السودان على البيضان)

زنگی (افریقی) اپنی اچھی تخلیق اور دوسروں کو اذیت میں مبتلا نہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ انہیں ہمیشہ اچھی شخصیت کا مالک پائیں گے، ان کا چہرہ ہنستا مسکراتا ہو گا اور وہ (دوسروں کے بارے میں) اچھا گمان رکھتے ہوں گے۔ یہی ان کا شرف ہے۔

وقال النبي صلى الله عليه وسلم‏:‏ ‏"‏ بُعثت إلى الأحمر والأسود ‏"‏‏.‏ وقد علمت أنه لا يُقال للزِّنج والحبشة والنُّبة بيضٌ ولا حمر وليس لهم اسمٌ إلا السُّود‏.‏ وقد علمنا أن الله عزّ وجل بعث نبيه إلى الناس كافة وإلى العرب والعجم جميعاً‏.‏ فإذا قال‏:‏ ‏"‏ بُعثت إلى الأحمر والأسود ‏"‏ ولسنا عنده حُمرٌ ولا بيض فقد بُعث إلينا فإنما عنانا بقوله ‏"‏ الأسود ‏"‏‏.‏ ولا يخرج الناس من هذين الاسمين فإن كانت العرب من الأحمر فقد دخلت في عداد الروم والصَّقالبة وفارس وخراسان‏.‏ وإن كانت من السُّود فقد اشتَّق لها هذا الاسم من اسمنا‏.‏

وإذا كان النبي صلى الله عليه وسلم يعلمأن الزِّنج والحبشة والنوبة ليسوا بحمرٍ ولا بيض وأنهم سود وقد بعثه الله تعالى إلى الأسود والأحمر فقد جعلنا والعرب سواء ونكون نحن السُّود دونهم‏.‏ فإن كان اسم أسود وقع علينا فنحن السُّودان الخُلَّص والعرب أشباه الخُلَّص‏.‏ فنحن المتقدِّمون في الدَّعوة‏.‏ ‏ ‏ (رسائل الجاحظ، کتاب فخر السودان على البيضان)

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "میں سرخ و سیاہ (ہر ایک) کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔" آپ جانتے ہی ہیں کہ زنج، حبشہ اور نوبیہ کے لوگوں کو سفید یا سرخ تو نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا نام سوائے "سیاہ" کے اور کچھ نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو تمام انسانوں کی طرف بھیجا ہے جن میں عرب و عجم سب ہی شامل ہیں۔ جب آپ نے یہ فرمایا کہ " میں سرخ و سیاہ (ہر ایک) کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں" اور آپ کے پاس کوئی سرخ یا سفید لوگ موجود نہ تھے تو اس کا معنی یہی ہے کہ آپ اپنے فرمان "الاسود" کے تحت ہم سیاہ لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ ان دونوں ناموں سے انسانوں (کی کسی قسم کو بھی خارج نہیں کیا جا سکتا۔) سرخ میں عربوں کے علاوہ روم، سسلی، ایران اور خراسان کے لوگ سبھی شامل ہیں۔ جہاں تک "سیاہ فام" کا تعلق ہے تو یہ نام ہمارے ہی نام سے نکلا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم زنگی، حبشی اور نوبی افراد کو تعلیم دیا کرتے تھے اور یہ لوگ نہ تو سرخ اور نہ ہی سفید تھے بلکہ سیاہ فام تھے۔ اللہ نے آپ کو سرخ و سیاہ ہر ایک کی طرف مبعوث فرمایا۔ ہم اور عرب ایک دوسرے کے برابر ہیں کیونکہ ہم ہی ان کے علاوہ سیاہ فام ہیں۔ جب "سیاہ فام" کے نام کا اطلاق ہم پر ہوتا ہے تو ہم ہی خالص سیاہ فام ہیں اور عرب خالص سیاہ یا سفید فام نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگ آپ کی دعوت کے پہلے مخاطب ہیں۔

اپنے رسالے "مناقب الترک" میں انہوں نے ترک غلاموں کی خصوصیات بیان کیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے اخلاقی زوال سے متعلق متعدد رسائل لکھے جن میں "المعاش و المعاد او اخلاق المحمودۃ و الذمومۃ"، "فصل ما بین العداوۃ و الحسد"، "ذم اخلاق الکتاب" شامل ہیں۔

          انہوں نے لونڈیوں اور خوبصورت لڑکوں کے شوقین حضرات کے بارے میں ایک رسالہ "مفاخرۃ الغلمان و الجواری" لکھا۔ اس رسالے میں انہوں نے لطیف انداز میں ایسے لوگوں پر طنز کیا ہے۔ یہ رسالہ اگرچہ عربی ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے لیکن ہم جان بوجھ کر اس کا کوئی اقتباس پیش نہیں کر رہے کیونکہ اردو میں اس کا ترجمہ فحش نگاری کے ضمن میں سمجھا جائے گا۔ اس رسالے میں انہوں نے ہم جنس پرستوں اور مخنثوں  کی نفسیات کی ایسی تصویر کشی کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف اعلی درجے کے ماہر نفسیات ہیں۔

          اپنے رسالے "القیان" میں انہوں نے رقص و موسیقی کے میدان میں لونڈیوں کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ واعظانہ اور مولویانہ انداز میں نہیں کیا بلکہ ادیبانہ انداز میں ہلکی پھلکی گفتگو کی ہے۔

          مغربی مورخین کا خیال ہے کہ جاحظ ہی کے کام نے افریقی یا زنگی غلاموں کی نفسیات میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔ انہوں نے ان غلاموں میں ایسا شعور پیدا کیا جس کے نتیجے میں ان میں آزادی کی زبردست خواہش پیدا ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب علی بن محمد نے اعلان کیا کہ جو غلام میرے پاس آ جائے گا، وہ آزاد ہے تو یہ سب فرار ہو کر اس کے پاس جا پہنچے اور اس مشہور زنگی بغاوت نے جنم لیا جس کی تفصیل ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ اس بغاوت کا آغاز جاحظ کی وفات کے ایک سال بعد ہوا تھا۔

ابو یعلی الفراء

مسلمانوں کے نیک لوگ، جب غلاموں پر تشدد دیکھتے تو انہیں اس سے منع کیا کرتے تھے۔ قاضی ابو یعلی الفراء (210 -307H / 825 - 919CE) نے حکمرانوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ غلاموں پر تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ ابن منصور کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قال في رواية ابن منصور، في الرجل يضرب رقيقه، قال: إي والله، يؤدبه على ترك الصلاة، وعلى المعصية، ويعفو عنه فيما بينه وبينه".‏ (ابو یعلی الفراء، الاحکام السلطانیہ)

ابن منصور کی روایت میں ہے کہ ایک شخص اپنے غلام کو مار رہا تھا۔ انہوں نے کہا، "اے! اسے نماز چھوڑنے یا گناہوں میں مبتلا ہونے پر سزا تو دو مگر تمہارے اور اس کے درمیان جو معاملہ ہے، اس پر معاف کرتے رہو۔

غلاموں کے حقوق سے متعلق امام احمد بن حنبل کی رائے بیان کرتے ہوئے ابو یعلی مزید لکھتے ہیں:

وقد قال أحمد في رواية عبد الله  "حق المملوك يشبعه ويكسوه. ولا يكلفه ما لا يطيق. وإذا بلغ المملوك زوجه، فإن أبى تركه". وقال في رواية حرب: وقد سئل " هل يستعمل المملوك بالليل؟ قال: لا يسهره ولا يشق عليه ويخفف عنه".‏ (ابو یعلی الفراء، الاحکام السلطانیہ)

احمد (بن حنبل) عبداللہ کی روایت میں کہتے ہیں، "غلام کا حق یہ ہے کہ اسے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے اور لباس فراہم کیا جائے۔ اسے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادا جائے۔ جب غلام اپنی بیوی (یا خاوند) کے پاس جانا چاہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ حرب کی روایت میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا، "کیا غلام سے رات کو خدمت لی جا سکتی ہے؟" انہوں نے کہا، "اسے روک کر نہ رکھا جائے، نہ ہی اس پر سختی کی جائے اور اس کا بوجھ کم کیا جائے۔"

ويأخذ السادة بحقوق العبيد والإماء، وأن لا يكلفوهم من الأعمال ما لا يطيقون.‏ (ابو یعلی الفراء، الاحکام السلطانیہ)

مالکوں سے غلاموں اور لونڈیوں کے حقوق لئے جائیں گے۔ انہیں ان کاموں پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔

ابو الحسن الماوردی

ابو الحسن الماوردی (364 - 450H / 974 - 1058CE) چوتھی اور پانچویں صدی کے ایک بڑے عالم گزرے ہیں۔ انہوں نے بادشاہت کے ادارے کو اخلاقی حدود کا پابند کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہیں شاہی دربار میں اہم مقام حاصل تھا۔ انہوں نے اپنے مقام اور مرتبے کو مثبت انداز میں استعمال کیا۔ ایک طرف تو انہوں نے "احکام السلطانیہ" لکھ کر نظام حکومت کی اصلاح کی اور دوسری طرف "نصیحۃ الملوک" لکھ کر بادشاہ کو اخلاقیات پر کاربند رکھنے کی کوشش فرمائی۔ نظام حکومت کے قوانین و ضوابط بیان کرتے ہوئے غلاموں سے متعلق لکھتے ہیں:

ويأخذ السادة بحقوق العبيد والإماء وأن لا يكلفوا من الأعمال ما لا يطيقون، وكذلك أرباب البهائم يأخذه بعلوفتها إذا قصروا وأن لا يستعملوها فيما لا تطيق.‏ (ماوردی، احکام السلطانیہ)

مالکوں سے غلاموں اور لونڈٰوں کے حقوق وصول کئے جائیں گے اور ان سے ایسا کوئی کام نہیں لیا جائے گا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ اسی طرح جانوروں کے مالکان کو ان کے چارے کی فراہمی کا پابند کیا جائے گا اگر (عام چراگاہوں میں) چارہ کم پڑ جائے۔ جانوروں سے بھی کوئی ایسا کام نہیں لیا جائے گا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔

حکومتی محصولات کے خرچ سے متعلق لکھتے ہیں۔

والسهم الخامس سهم الرقاب وهو عند الشافعي وأبي حنيفة مصروف في المكاتبين يدفع إليهم قدر ما يعتقون به. وقال مالك يصرف في شراء عبيد يعتقون.‏ (ماوردی، احکام السلطانیہ)

امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک (حکومت کی آمدنی یعنی زکوۃ میں) پانچویں مد مکاتبین کو ادا کی جانے والی اتنی رقم ہے جس سے وہ اپنی آزادی خرید سکیں۔ امام مالک کے نزدیک اس رقم سے غلام خرید کر انہیں آزاد کیا جائے گا۔

اس دور میں احتساب کا محکمہ کس طریقے سے کام کرتا تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ماوردی لکھتے ہیں:

قد مر إبراهيم بن بطحاء ولي الحسبة بجانبي بغداد بدار أبي عمر بن حماد وهو يومئذ قاضي القضاة فرأى الخصوم جلوساً على بابه ينتظرون جلوسه للنظر بينهم وقد تعالى النهار وجرت الشمس، فوقف واستدعى حاجبه وقال: تقول لقاضي القضاة الخصوم جلوس على الباب وقد بلغتهم الشمس وتأذوا بالانتظار، فإما جلست لهم أو عرفتهم عذرك فيصرفوا غدا ًويعودوا، وإذا كان في سادة العبيد من يستعملهم فيما لا يطيقون الدوام عليه كان منعهم والإنكار عليهم موقوفاً على استعداد العبيد على وجه الإنكار والعظة فإذا استعدوه منع حينئذ وزجر.‏ (ماوردی، احکام السلطانیہ)

ابراہیم بن بطحاء جو کہ بغداد کے اطراف میں محکمہ احتساب کے سربراہ تھے، ابو عمر بن حماد کے گھر کے پاس سے گزرے جو کہ اس وقت قاضی القضاۃ (یعنی چیف جسٹس) تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ مقدمے کے فریقین (جو کہ غالباً آقا و غلام تھے) جسٹس کے گھر کے دروازے پر بیٹھے ان کی توجہ کے منتظر تھے جبکہ دن نکل چکا تھا اور سورج بلند ہو چکا تھا۔

       محتسب رکے اور انہوں نے حاجب (یعنی عدالت کے فرنٹ آفیسر) کو بلایا اور کہا، "چیف جسٹس صاحب کو کہیے کہ مقدمے کے فریقین ان کے انتظار میں دروازے پر دھوپ میں بیٹھے ہیں اور انتظار کی تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ اب یا تو ان کے پاس آ کر مقدمے کی کاروائی کیجیے یا پھر انہیں اپنی مجبوری بتا دیجیے تاکہ یہ آج واپس چلے جائیں اور بعد میں دوبارہ آ جائیں۔ اگر (ان فریقین میں سے) غلام کا آقا اس سے ایسا کام لینا چاہتا ہے جسے مستقل طور پر کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے تو اسے منع کر دیا جائے اور اس کا حق صرف اتنا ہی مقرر کیا جائے جتنی کہ غلام طاقت رکھتا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ غلام کو کام نہ کرنے پر صرف اسی وقت سزا دی جائے جب وہ واقعتاً اس کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ماوردی نے اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے نہ صرف غلاموں کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے حکمرانوں اور اشرافیہ کے طبقے کو نصیحت کرتے ہوئے ان کی شہوت پرستی کی طرف توجہ دلائی اور انہیں اس سے اجتناب کی تلقین فرمائی۔

و لیس یبعث علیہ الا الشیطان و سوء العادۃ۔۔۔۔۔۔من تزوج النساء مثنی و ثلاث و رباع، و استبدال زوج مکان زوج، الی ما لا غایۃ لہ، و شراء الاماء و تسری الجواری، الی ما تبلغ الیہ الطاقۃ و تنتھی الیہ الھمۃ. (ماوردی، نصیحۃ الملوک)

اس شخص کی طرف سوائے شیطان اور بری عادتوں کے اور کوئی نہیں آتا جو دو دو، تین تین، چار چار خواتین سے شادی کرتا ہے اور بغیر کسی وجہ کے بیوی پر بیوی بدلتا جاتا ہے، لونڈیاں خریدتا جاتا ہے اور کنیزیں اکٹھی کرتا جاتا ہے جن کی ضروریات پوری کرنے کی نہ تو اس میں طاقت ہے اور نہ ہی ہمت۔

مسلم اشرافیہ میں شہوت پرستی اور اس کے نتیجے میں بننے والے حرم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں ماوردی صرف اکیلے ہی نہ تھے۔ بہت سے دیگر اہل علم اس معاملے میں اپنی اپنی صلاحیت اور مرتبے کے لحاظ سے کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے۔

شہوت پرستی کے خلاف مصروف جہاد اہل علم

اس ضمن میں جو لوگ مشہور ہوئے، ان میں ابو داؤد سجستانی (d. 275H / 888CE) نے "کتاب الزھد"، ابن ابی الدنیا (d. 281H / 894CE) نے اپنی کتاب "الفوائد و الزھد"، بیہقی (d. 458H / 1065CE) نے "کتاب الزھد"، اور غزالی (d. 505H / 1111CE) نے "کیمیائے سعادت"، "مکاشفۃ القلوب" اور "احیاء العلوم" تصنیف کیں۔

          یہ مہم ان حضرات کی صرف تحریروں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ان کے وعظ میں بشمول حکمران طبقے کے ہزاروں افراد شریک ہوتے اور اپنی اصلاح کیا کرتے۔ نہ صرف یہ حضرات بلکہ علماء، صوفیاء اور واعظین کا ایک بہت بڑا طبقہ تھا جو یہی کام کر رہا تھا۔ اس مہم میں شہوت پرستی کو خاص نشانہ بنایا گیا اور اشرافیہ کے طبقے میں لونڈیاں اکٹھی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ یہاں ہم ان میں سے صرف دو حضرات کا بطور مثال ذکر کر رہے ہیں۔

ابو حامد الغزالی

غزالی نے اپنی تصانیف میں شہوت پرستی سے دور رہنے، غلاموں کو آزاد کرنے اور جب تک وہ غلام ہیں، ان سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ "احیاء العلوم" میں انہوں نے "حقوق المملوک" کے نام سے باقاعدہ ایک باب لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ احادیث نقل کی ہیں جو غلاموں کے حقوق سے متعلق ہیں۔ یہ احادیث بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لکھتے ہیں:

اعلم ان ملک النکاح قد سبقت حقوقہ فی آداب النکاح۔ فاما ملک الیمین فہو ایضا یقتضی حقوقا فی المعاشرۃ لا بد من مراعاتھا فقد کان من آخر ما اوصی بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔فجملۃ حق المملوک ان یشرکہ فی طعمتۃ و کسوتہ و لا یکلفہ فوق طاقتہ و لا ینظر الیہ بعین الکبر و الازداء و ان یعفو عن زلتہ و یتفکر عند غضبہ علیہ بہفوتہ او بجنایتہ فی معاصیۃ و جنایتہ علی حق اللہ تعالی و تقصیرہ فی طاعتہ مع ان قدرۃ اللہ علیہ فوق قدرتہ۔ (غزالی، احیاء العلوم الدین)

یہ بات جان رکھیے کہ جیسے نکاح کے تعلق کے حقوق ہم آداب النکاح میں بیان کر چکے ہیں ویسے ہی لونڈیوں اور غلاموں کے معاشرتی حقوق بھی ہیں جن کے تحت انہیں مراعات حاصل ہیں۔ (اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی آخری وصیت انہی سے متعلق فرمائی۔ غلاموں کے حقوق یہ ہیں کہ انہیں کھانے اور لباس میں شریک کیا جائے، ان پر ان کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے، انہیں تکبر اور حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ ان کی غلطیوں کو معاف کیا جائے۔ حقوق اللہ یا آقا کی بات ماننے سے متعلق ان سے جو غلطی سرزد ہو جائے، اس پر مالک کو سوچنا چاہیے کہ اللہ کو اس پر اس سے زیادہ قدرت ہے جو اس شخص کو غلام پر حاصل ہے۔

"منکرات الضیافۃ" کے باب میں امام غزالی اپنے زمانے کی دعوتوں میں موجود برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

و منہا سماع الاوتار او سماع القینات۔ و منہا اجتماع النساء علی السطوح للنظر الی الرجال مہما کان فی الرجال شباب یخاف الفتنہ۔ (غزالی، احیاء العلوم الدین)

ان دعوتوں میں موسیقی اور مغنیہ (اور رقاصہ) لونڈیوں کے گانے ہوتے ہیں۔ ان میں خواتین اونچی جگہ بٹھائی جاتی ہیں جہاں وہ مردوں کو دیکھتی ہیں جن میں (خوبصورت) نوجوان بھی ہوتے ہیں۔ اس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔

احیاء العلوم اور دیگر کتب میں انہوں نے شہوت پرستی کی بھرپور مذمت کی ہے اور شہوت کا زور توڑنے کے مختلف طریقے بیان کیے ہیں جن میں نفلی روزے رکھنا اور اپنی خوراک پر کنٹرول کرنا شامل ہے۔

ابن جوزی

ابن جوزی (d. 597H / 1200CE) نے دنیا پرستی اور شہوت پرستی کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ وہ اپنے وعظوں میں لوگوں بالخصوص اشرافیہ کے طبقے کی اصلاح کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے "صید الخاطر" اور "تلبیس ابلیس" تصانیف چھوڑی ہیں۔ مخاطبین کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ جس دقت نظر سے نصیحت کرتے ہیں، اس کا اندازہ اس مکالمے سے ہوتا ہے:

شكا لي بعض الأشياخ فقال : قد علت سني و ضعفت قوتي ، و نفسي تطلب مني شراء الجواري الصغار. و معلوم أنهن يردن النكاح و ليس في . و لا تقنع مني النفس بربة البيت إذ قد كبرت . فقلت له : عندي جوابان : أحدهما الجواب العامي ، و هو أن أقول : ينبغي أن تشغل بذكر الموت و ما قد توجهت إليه ، و تحذر من اشتراه جارية لا تقدر على أيفاء حقها فإنها تبغضك ، فإن أجهدت استعجلت التلف . وإن استبقيت قوتك غضبت هي ، على أنها لا تريد شيخاً كيف كان ۔۔۔۔‏ فاعلم أنها تعد عليك الأيام ، و تطلب منك فضل المال لتستعد لغيرك.  و ربما قصدت حنفك ، فاحذر السلامة في الترك ، و لإقتناع بما يدفع الزمان .

الجواب الثاني فإني أقول : لا يخلو أن تكون قادراً على الوطء في وقت أو لا تكون. فإن كنت لا تقدر فالأولى مصابرة الترك للكل. و إن كان يمكن الحازم أن يداري المرأة بالنفقة و طيب الخلق إلا أنه يخاطر .و إن كنت تقدر في أوقات على ذلك ، و رأيت من نفسك توقاً شديداً فعليك بالمراهقات فإنهن ما عرفن النكاح ، و ما طلبن بالوطء ، و اغمرهن بالإنفاق و حسن الخلق مع الإحتياط عليهن ، و المنع من مخالطة النسوة .و إذا اتفق وطء فتصبر عن الإنزال ريثما تقضي المرأة حاجتها .و اعتمد وعظها و تذكيرها بالآخرة ، و اذكر لها حكايات العشاق من غير نكاح ، و قبح صورة الفعل ، و لفت قلبها إلى ذكر الصالحين ، و لا تخل نفسك من الطيب و التزين و الكياسة و المداراة و الإنفاق الواسع .فهذا ربما حرك الناقة للمسير مع خطر السلامة .(ابن جوزی، صید الخاطر)

مجھ سے بعض بوڑھے حضرات نے شکایت کی، "میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور میری قوت کمزور پڑ گئی ہے، پھر بھی میرا نفس نوجوان لونڈیوں کی خواہش کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہیں جبکہ میں اس قابل نہیں رہا۔ اگرچہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں مگر میرا نفس گھر والی پر قناعت کرنے کو تیار نہیں ہے۔"

       میں نے کہا، "میرے پاس دو جواب ہیں: ایک تو عام لوگوں کا جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ موت کو زیادہ یاد کرنے میں مشغول ہو جائیے اور اسی طرف اپنی توجہ رکھیے۔ اس بات سے محتاط رہیے کہ جو شخص لونڈی خریدتا ہے اور پھر اس کے حقوق کی ادائیگی نہیں کر پاتا تو وہ اس سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ اگر وہ (ازدواجی تعلقات کی ناکام) کوشش کرتا ہے تو یہ نفرت جلد پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر اس کی خواہش باقی رہ جائے تو اس کی نفرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے لڑکیاں بوڑھوں کو پسند نہیں کرتیں۔ جان رکھیے کہ وہ اس کا بدلہ اس طرح لے گی کہ آپ سے مال بٹور کر کسی اور سے تعلق قائم کر لے گی اور آپ کا معاملہ ٹیڑھا کر دے گی۔ اس لئے اپنی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھیے اور اس کام کر ترک کر دیجیے اور اسی لذت پر قناعت کیجیے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔

       دوسرا جواب میں یہ دیتا ہوں کہ اس بات کو نہ بھولیے کہ اس وقت آپ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے قابل ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر آپ اس قابل نہیں ہیں تو اس کام کو مکمل طور پر چھوڑ کر اس پر صبر کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر کوئی کسی عورت کو محض اخراجات اور اچھے تعلقات کا لالچ دے کر ایسا کرے گا بھی تو یہ خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ اگر آپ اس وقت بھی ایسا کرنے کے قابل ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے نفس میں نوجوان لڑکیوں کی شدید خواہش ہے تو ان (بے چاریوں) کو تو نکاح یا ازدواجی تعلق کی خواہش ہی نہیں ہے۔ ایسی لونڈیوں سے تو حسن سلوک کرنا چاہیے اور ان پر خرچ کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

       اگر ان سے ازدواجی تعلقات قائم بھی کریں تو آپ کو انزال کو اس وقت تک روکنا چاہیے جب تک کہ خاتون کی ضرورت پوری نہ ہو جائے۔ (اس کے ساتھ ساتھ) خاتون کو آخرت کی یاد بھی دلاتے رہیے، نکاح سے ہٹ کر عشق کی برائی بیان کیجیے اور اسے عشاق کے (عبرت ناک انجام) کے واقعات سنائیے۔ اچھے لوگوں کے ذکر سے اس کے دل میں (نیکی کی) محبت پیدا کیجیے۔ اپنے لباس اور شکل و صورت کا خیال رکھیے، اس سے اچھا سلوک کیجیے، اس کی ضروریات کا خیال رکھیے اور اس پر خرچ کرنے میں وسعت سے کام لیجیے۔ اس طریقے سے آپ کچھ خطرہ مول لے کر زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ سکتے ہیں۔

ابن جوزی کے دور میں مسلمانوں کے امیر طبقے میں رقص و سرور کی محفلیں عام ہو چکی تھیں۔ ان محفلوں میں لوگ اپنی لونڈیوں کو بطور مغنیہ یا رقاصہ کے پیش کرتے تھے۔ اس پر گرفت کرتے ہوئے ابن جوزی لکھتے ہیں:

أبي الطيب الطبري قال أما سماع الغناء من المرأة التي ليست بمحرم فان أصحاب الشافعي قالوا لا يجوز سواء كانت حرة أو مملوكة قال وقال الشافعي وصاحب الجارية إذا جمع الناس لسماعها فهو سفيه ترد شهادته ثم غلظ القول فيه فقال وهو دياثة۔ قال المصنف رحمه الله وإنما جعل صاحبها سفيها فاسقا لأنه دعا الناس إلى الباطل ومن دعا إلى الباطل كان سفيها فاسقا.‏ (ابن جوزی، تلبیس ابلیس)

ابو طیب الطبری کہتے ہیں کہ امام شافعی کے ساتھیوں کی رائے کے مطابق کسی نامحرم خاتون سے گانا سننا جائز نہیں ہے خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی۔ شافعی کی رائے یہ ہے کہ جو شخص اپنی لونڈی کا گانا سنانے کے لئے لوگوں کو جمع کرتا ہے وہ نہایت ہی بے وقوف ہے اور ایسے شخص کی گواہی عدالت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی رائے میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بے غیرت (دیوث) ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ اس لونڈی کا مالک بے وقوف اور فاسق ہے کیونکہ وہ ایک غلط کام کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے۔ جس نے غلط کام کی طرف بلایا، وہ بے وقوف اور گناہ گار ہے۔

عبدالرحمٰن بن نصر الشیرزی

عبدالرحمٰن بن نصر الشیرزی (d. 589H / 1193CE) نے محکمہ احتساب کے قواعد و ضوابط سے متعلق ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کے دور میں بردہ فروشی کا کاروبار بہت بڑھ چکا تھا اور لوگوں کو اغواء کر کے غلام بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں لکھتے ہیں۔

يَكُونُ النَّخَّاسُ ثِقَةً أَمِينًا عَادِلًا، مَشْهُورًا بِالْعِفَّةِ وَالصِّيَانَةِ؛ لِأَنَّهُ يَتَسَلَّمُ جِوَارِي النَّاسِ وَغِلْمَانِهِمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَى بِهِمْ فِي مَنْزِلِهِ. وَيَنْبَغِي أَلاَ يَبِيعَ [النَّخَّاسُ] لِأَحَدٍ جَارِيَةً وَلاَ عَبْدًا حَتَّى يَعْرِفَ الْبَائِعَ، أَوْ يَأْتِيَ بِمَنْ يَعْرِفُهُ، وَيَكْتُبُ اسْمَهُ وَصِفَتَهُ فِي دَفْتَرِهِ، لِئَلاَ يَكُونَ الْمَبِيعُ حُرًّا، أَوْ مَسْرُوقًا. وَلاَ يَجُوزُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ الْجَارِيَةِ وَوَلَدِهَا۔ (شیرزی، نھایۃ الرتبۃ فی طلب الحسبۃ)

بردہ فروش (کے بارے میں تحقیقات کی جائیں کہ وہ) قابل اعتماد اور دیانت دار ہو۔ اس کی عفت و عصمت اور خدمات مشہور ہوں کیونکہ وہی لوگوں کے لئے لونڈی اور غلمان لاتا ہے اور ان کے ساتھ اپنے گھر میں اکیلا ہوتا ہے۔ کوئی بردہ فروش اس وقت تک کسی لونڈی یا غلام کی خدمات فروخت نہ کرے جب تک کہ جس سے اس نے غلام کو خریدا ہو، وہ اسے جانتا نہ ہو یا کسی ایسے شخص کو نہ جانتا ہو جو اسے جانتا ہو۔ وہ اس کا نام اور دیگر کوائف اپنے رجسٹر میں لکھ لے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کسی آزاد کو پکڑ کر یا اغوا کر کے غلام نہ بنا لیا جائے۔ اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ لونڈی اور اس کے بچے میں علیحدگی کروا دے۔

ابن الاخوۃ

ایک اور محتسب ابن الاخوۃ (729H / 1329CE) انہی قوانین میں اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ الْجَارِيَةِ أَوْ الْمَمْلُوكِ إذَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ كَمَا سَبَقَ إلَّا أَنْ يَتَبَيَّنَ أَنَّ الْمَمْلُوكَ لَيْسَ بِمُسْلِمٍ ، وَيَحْرُمُ بَيْعُ الْجَارِيَةِ لِمَنْ يَتَّخِذُهَا لِلْغِنَاءِ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَالْمُغَنِّيَاتِ وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ } وَفِي هَذَا أُنْزِلَتْ { وَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ }۔ (ابن الاخوۃ، نھایۃ الرتبۃ فی طلب الحسبۃ)

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کسی مسلمان لونڈی یا غلام کی خدمات کو اہل ذمہ (یعنی مسلم ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کے ہاتھ نہ بیچا جائے سوائے اس کے کہ یہ معلوم ہو کہ وہ لونڈی یا غلام غیر مسلم ہے۔ کسی لونڈی کی خدمات کو گانے بجانے کے لئے منتقل نہ کیا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "گانے والے لونڈیوں کو نہ تو بیچو اور نہ ہی خریدو، نہ ہی انہیں اس کی تربیت دو۔ ان کی خدمات کی تجارت میں کوئی خیر نہیں ہے اور ان کی کمائی حرام ہے۔" اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، "لوگوں میں سے جو بے کار چیزیں خریدتے ہیں۔"

حافظ ذہبی

حافظ ذہبی (663 - 748H / 1263 - 1347CE) نے کتاب الکبائر میں غلاموں کو خصی بنانے کو ایک بہت بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے اس کا شمار گناہ کبیرہ کی فہرست میں کیا ہے۔

ابن تیمیہ

ابن تیمیہ (1263 - 1328CE / 661 - 728H) نے اپنے زمانے میں معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے اس ضمن میں بہت سے مقالات لکھے جن کا مجموعہ "مجموعۃ الفتاوی" کے نام سے مشہور ہے۔ اعلی اخلاقیات سے متعلق لکھتے ہیں:

{ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا } . وَيَنْدُبُونَ إلَى أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَك ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَك ، وَتَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَك ؛ وَيَأْمُرُونَ بِبِرِّ الْوَالِدَيْنِ ، وَصِلَةِ الْأَرْحَامِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْإِحْسَانِ إلَى الْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالرِّفْقِ بِالْمَمْلُوكِ ؛ وَيَنْهَوْنَ عَنْ الْفَخْرِ.‏ (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

"مومنین میں سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔" اس میں ان باتوں کو مستحسن قرار دیا گیا ہے: جو تم سے تعلق کاٹے، تم اس سے تعلق جوڑنے کی کوشش کرو، جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رشتے داروں سے تعلق رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پڑوسیوں سے حسن سلوک، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں سے احسان اور غلاموں سے محبت کا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور (ان کے مقابلے پر) فخر سے منع کیا گیا ہے۔

وَالتَّعَاوُنِ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَالْإِحْسَانِ إلَى الْجَارِ وَالْيَتِيمِ وَالْمِسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالصَّاحِبِ وَالزَّوْجَةِ وَالْمَمْلُوكِ وَالْعَدْلِ فِي الْمَقَالِ وَالْفِعَالِ۔ (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

جن معاملات میں تعاون کرنا چاہیے ان میں نیکی، تقوی اور پڑوسیوں، یتیموں، مساکین، مسافروں، مالک، بیوی اور غلام سے احسان کا رویہ رکھنا اور قول و فعل میں عدل قائم رکھنا شامل ہے۔

انْفَكَّ مِنْهُ كَالْأَسِيرِ وَالرَّقِيقِ الْمَقْهُورِ بِالرِّقِّ وَالْأَسْرِ . يُقَالُ : فَكَكْت الْأَسِيرَ فَانْفَكَّ وَفَكَكْت الرَّقَبَةَ . قَالَ تَعَالَى { وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ } { فَكُّ رَقَبَةٍ } وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ الَّذِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ : { عُودُوا الْمَرِيضَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ : وَفُكُّوا الْعَانِي } . (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

(زکوۃ کی رقم سے) قیدیوں اور ظلم کا شکار غلاموں کو آزادی دلائی جائے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے "میں نے قیدی یا غلام کو آزاد کروایا۔" اللہ تعالی نے فرمایا، "تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے، غلاموں کو آزاد کروانا۔" نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بخاری کی صحیح روایت کے مطابق ارشاد فرمایا، "مریض کی عیادت کرو، بھوکوں کو کھانا کھلاؤ اور غلاموں کو آزاد کرواؤ۔"

ظلم کا شکار ہونے والے غلاموں کو آزاد کروانے کو ابن تیمیہ مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہیں:

وَكَذَلِكَ افْتِكَاكُ الْأَنْفُسِ الرَّقِيقَةِ مِنْ يَدِ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْهَا وَيَظْلِمُهَا فَإِنَّ الرِّقَّ الْمَشْرُوعَ لَهُ حَدٌّ فَالزِّيَادَةُ عَلَيْهِ عُدْوَانٌ . وَيَدْخُلُ فِي ذَلِكَ افْتِكَاكُ الزَّوْجَةِ مِنْ يَدِ الزَّوْجِ الظَّالِمِ ؛ (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

ایسے غلاموں کو آزاد کروانے کا معاملہ بھی اسی طرح (ضروری) ہے جن پر ظلم کیا جا رہا ہو۔ وہ بے چارہ پہلے ہی غلام ہے اور اس پر مزید زیادتی کی جا رہی ہے۔ اسی میں ایسی خاتون کو آزاد کروانا بھی شامل ہے جس سے اس کا شوہر ظلم کرتا ہو۔

سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام بنائے جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس سے آزاد کو غلام بنا لینے پر استدلال کرتے ہوئے ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

فَأُولَئِكَ أَخْرَجُوهُ مِنْ إطْلَاقِ الْحُرِّيَّةِ إلَى رِقِّ الْعُبُودِيَّةِ الْبَاطِلَةِ بِغَيْرِ اخْتِيَارِهِ۔ (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

(سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ و السلام کے واقعے کا اہل علم نے) ناجائز غلامی کے باطل ہونے اور ایسے شخص کو آزاد کر دینے پر اطلاق کیا ہے۔

ابن تیمیہ کے زمانے میں لوگ لونڈیوں کی محبت میں مبتلا ہو کر درحقیقت ان کے غلام بن رہے تھے۔ انہیں تنبیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فَالرَّجُلُ إذَا تَعَلَّقَ قَلْبُهُ بِامْرَأَةٍ وَلَوْ كَانَتْ مُبَاحَةً لَهُ يَبْقَى قَلْبُهُ أَسِيرًا لَهَا تَحْكُمُ فِيهِ وَتَتَصَرَّفُ بِمَا تُرِيدُ ؛ وَهُوَ فِي الظَّاهِرِ سَيِّدُهَا لِأَنَّهُ زَوْجُهَا . وَفِي الْحَقِيقَةِ هُوَ أَسِيرُهَا وَمَمْلُوكُهَا ؛۔۔۔۔۔۔ فَالْحُرِّيَّةُ حُرِّيَّةُ الْقَلْبِ وَالْعُبُودِيَّةُ عُبُودِيَّةُ الْقَلْبِ كَمَا أَنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَإِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ }. (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

ایسا شخص جس کا دل کسی عورت میں اٹکا ہوا ہے اور اگرچہ اس سے ازدواجی تعلقات رکھنا اس کے لئے جائز بھی ہے تب بھی اس کا دل اس کا قیدی بن جاتا ہے اور اس کی منشاء و مرضی کے مطابق ہی وہ عمل کرنے لگتا ہے۔ ظاہر میں تو وہ آقا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا خاوند ہے لیکن حقیقت میں وہ اس کا قیدی اور غلام بن جاتا ہے۔ حقیقی آزادی تو ذہنی آزادی ہے اور حقیقی غلامی ذہن ہی کی غلامی ہے۔ یہ وہی بات ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے "نفس کی بے نیازی" قرار دیا ہے اور فرمایا ہے، "غنی وہ نہیں جس کے پاس بہت زیادہ مال ہو بلکہ غنی وہی ہے جس کا دل غنی ہے۔"

اپنے زمانے کی رقص و موسیقی کی محفلوں سے متعلق لکھتے ہیں:

وَأَمَّا " الْفَوَاحِشُ " فَالْغِنَاءُ رُقْيَةُ الزِّنَا وَهُوَ مِنْ أَعْظَمِ الْأَسْبَابِ لِوُقُوعِ الْفَوَاحِشِ وَيَكُونُ الرَّجُلُ وَالصَّبِيُّ وَالْمَرْأَةُ فِي غَايَةِ الْعِفَّةِ وَالْحُرِّيَّةِ حَتَّى يَحْضُرَهُ فَتَنْحَلُّ نَفْسُهُ وَتَسْهُلُ عَلَيْهِ الْفَاحِشَةُ وَيَمِيلُ لَهَا فَاعِلًا أَوْ مَفْعُولًا بِهِ أَوْ كِلَاهُمَا كَمَا يَحْصُلُ بَيْنَ شَارِبِي الْخَمْرِ وَأَكْثَرُ .‏ (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

"فواحش" سے مراد گانا بجانا ہے جو بدکاری کی طرف مائل کرے۔ یہی فحش کاموں کا سب سے بڑا سبب ہے۔ مرد، بچے اور خواتین عفت و عصمت اور آزادی کے طالب ہوتے ہیں لیکن پھر یہ لوگ فحش کاموں میں اپنی جان کو ڈال لیتے ہیں اور ان کی طرف بطور فاعل یا مفعول کے اس طرح مائل ہو جاتے ہیں جیسا کہ شراب پینے والے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ابن تیمیہ کے زمانے میں خوبصورت غلاموں اور مخنثین سے بدکاری بھی رواج پذیر ہو چکی تھی۔ ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَالرَّجُلُ الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ بِمَمْلُوكِ أَوْ غَيْرِهِ هُوَ زَانٍ. وَلِهَذَا يَكْثُرُ فِي نِسَاءِ اللُّوطِيَّةِ مَنْ تَزْنِي بِغَيْرِ زَوْجِهَا وَرُبَّمَا زَنَتْ بِمَنْ يتلوط هُوَ بِهِ مُرَاغَمَةً لَهُ وَقَضَاءً لِوَطَرِهَا وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْمُزَوَّجَةُ بِمُخَنَّثِ يُنْكَحُ كَمَا تُنْكَحُ هِيَ مُتَزَوِّجَةٌ بِزَانٍ بَلْ هُوَ أَسْوَأُ الشَّخْصَيْنِ حَالًا فَإِنَّهُ مَعَ الزِّنَا صَارَ مُخَنَّثًا مَلْعُونًا عَلَى نَفْسِهِ لِلتَّخْنِيثِ غَيْرُ اللَّعْنَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ. فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ وَثَبَتَ عَنْهُ فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ والمترجلات مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ { أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ . } وَكَيْفَ يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَتَزَوَّجَ بِمُخَنَّثِ قَدْ انْتَقَلَتْ شَهْوَتُهُ إلَى دُبُرِهِ ؟ فَهُوَ يُؤْتَى كَمَا تُؤْتَى الْمَرْأَةُ وَتَضْعُفُ دَاعِيَتُهُ مِنْ أَمَامِهِ. (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

جو شخص اپنے غلام یا کسی اور سے ہم جنس پرستی کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ زنا کار ہے۔ اسی طرح بہت سے ایسی عورتیں بھی ہیں جو اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور مرد سے ازدواجی تعلقات قائم کرتی ہیں جو انہیں غیر فطری تعلقات پر مجبور کر کے ان سے اپنی خواہش پوری کرتا ہے۔ یہی حال اس عورت کا ہے جو کسی مخنث سے شادی کر لیتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ کسی بدکار مرد سے شادی کر لے۔ مخنث تو ایسے ملعون ہوتے ہیں جو اسی لعنت میں مبتلا ہوتے ہیں جس میں سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم مبتلا تھی۔

       اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہم جنس پرستوں پر لعنت فرمائی اور صحیح حدیث کے مطابق آپ نے زنانہ رجحان رکھنے والے مردوں اور مردانہ رجحان رکھنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ آپ نے حکم دیا کہ ایسے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نکال دو۔ کسی عورت کے لئے یہ کیسے جائز ہے کہ وہ مخنث سے شادی کرے جو اپنی شہوت کو صرف غیر فطری طریقے ہی سے پورا کر سکتا ہے۔ وہ تو خود عورت کی طرح مفعول ہوتا ہے اور اپنے اگلے حصے میں جنسی خواہش نہیں رکھتا

ابن تیمیہ سے کسی ظالم گروہ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے تو ان کا جواب کیا تھا، ملاحظہ فرمائیے:

عَنْ قَوْمٍ ذَوِي شَوْكَةٍ مُقِيمِينَ بِأَرْضِ وَهُمْ لَا يُصَلُّونَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ.... وَإِذَا أَسَرَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بَاعُوا أَسْرَاهُمْ لِلْإِفْرِنْجِ . وَيَبِيعُونَ رَقِيقَهُمْ مِنْ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ لِلْإِفْرِنْجِ عَلَانِيَةً وَيَسُوقُونَهُمْ كَسُوقِ الدَّوَابِّ . وَيَتَزَوَّجُونَ الْمَرْأَةَ فِي عِدَّتِهَا . وَلَا يُوَرِّثُونَ النِّسَاءَ ..... فَهَلْ يَجُوزُ قِتَالُهُمْ وَالْحَالَةُ هَذِهِ ؟ نَعَمْ ، يَجُوزُ ؛ بَلْ يَجِبُ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ قِتَالُ هَؤُلَاءِ  (ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاویٰ)

کیا ایسے لوگوں سے جنگ کی جائے جو طاقتور ہوں اور (مسلم سلطنت کی) زمین پر رہتے ہوں، فرض نماز نہ ادا کرتے ہوں اور ۔۔۔۔ لوگوں کو قیدی بنا کر انہیں فرنگیوں (Europeans) کے ہاتھ بیچ ڈالتے ہوں، اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو بھی فرنگیوں کے ہاتھ بیچتے ہوں اور ان کے ہاں مویشی منڈی کی طرح بردہ فروشی کے بازار ہو، وہ خواتین سے دوران عدت شادی کر لیتے ہوں اور خواتین کو وراثت میں حصہ نہ دیتے ہوں ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ (جواب دیا) نہ صرف ان سے جنگ کرنا جائز ہے بلکہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسے لوگوں سے (مسلمانوں کی حکومت) باقاعدہ جنگ کرے۔

غلاموں کے بچوں کی آزادی سے متعلق امام احمد بن حنبل کا قول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قال أحمد : إذا تزوج العبد حرة عتق نصفه . ومعنى هذا ، أن أولاده يكونون أحراراً وهم فرعه ، فالأصل عبد وفرعه حر والفرع جزء من الأصل .‏ (ابن تیمیہ، السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی و الرعیۃ)

احمد بن حنبل کہتے ہیں، "جب کوئی غلام کسی آزاد خاتون سے شادی کر لے تو اس کا نصف آزاد ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس غلام کی اولاد آزاد ہو گئی کیونکہ وہ اسی کی ایک شاخ ہے۔ تنا تو غلام ہے لیکن شاخیں آزاد ہیں اور شاخ تو تنے کا ایک حصہ ہی ہے۔"

ابن قیم

ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیم (691 - 751H / 1292 - 1350CE) نے غلاموں سے متعلق بہت سی اصلاحات پر زور دیا۔ غلاموں اور لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے متعلق ابن قیم لکھتے ہیں:

وأما إذا استكرهها فإن هذا من باب المثلة فإن الإكراه على الوطء مثلة فإن الوطء يجري مجرى الجناية ولهذا لا يخلو عن عقر أو عقوبة ولا يجري مجرى منفعة الخدمة فهي لما صارت له بإفسادها على سيدتها أوجب عليه مثلها كما في المطاوعة وأعتقها عليه لكونه مثل بها. قال شيخنا: "ولو استكره عبده على الفاحشة عتق عليه ولو استكره أمة الغير على الفاحشة عتقت عليه وضمنها بمثلها ".‏ (ابن قیم، اعلام الموقعین)

اگر کوئی اپنی لونڈی کو بدکاری کرنے پر مجبور کرے تو یہ ایک طرح کا "مثلہ (یعنی جسم بگاڑنا)" ہی ہے۔ ازدواجی تعلقات پر زبردستی مجبور کرنا سزا کا موجب ہے۔ ایسے شخص کو جرمانے یا سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ خدمت کا فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ تو اس کا استحصال ہے جس کے نتیجے میں اس پر لازم ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے اور اس کی جگہ دوسری لونڈی لے آئے۔ ہمارے شیخ (ابن تیمیہ) کہتے ہیں، "اگر کوئی اپنے غلام (یا لونڈی) کو فحش کام پر مجبور کرتا ہے تو اسے آزاد کر دیا جائے۔ اگر وہ کسی دوسرے کی لونڈی کو فحش کام پر مجبور کرتا ہے تو پھر وہ آزاد ہو جائے گی اور اس کے مثل (یا اس کی قیمت) مالک کو ادا کرے۔"

لونڈیوں پر بری نظر رکھنے اور انہیں بدکاری کے لئے استعمال کرنے سے متعلق ابن القیم لکھتے ہیں:

وأما تحريم النظر إلى العجوز الحرة الشوهاء القبيحة وإباحته إلى الأمة البارعة الجمال فكذب على الشارع فأين حرم الله هذا وأباح هذا والله سبحانه إنما قال {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ} ولم يطلق الله ورسوله للأعين النظر إلى الإماء البارعات الجمال وإذا خشي الفتنة بالنظر إلى الأمة حرم عليه بلا ريب۔(ابن قیم، اعلام الموقعین)

کسی آزاد بوڑھی خاتون پر بھی بری نیت سے نظر ڈالنا (سب کے نزدیک) برائی ہے۔ جو لوگ خوبصورت لونڈی پر نظر ڈالنے کو جائز سمجھتے ہیں وہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے کہاں (آزاد خاتون کو دیکھنے کو) حرام قرار دیا ہے اور (لونڈی کو دیکھنے کو) جائز قرار دیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے تو فرمایا، "مومنین سے کہیے کہ وہ اپنی نظروں کو باحیا رکھیں۔" اللہ اور اس کے رسول نے اس کا اطلاق اگرچہ لونڈیوں پر نہیں کیا ہے لیکن اگر فتنے (یعنی شہوت) کا اندیشہ ہو تو لونڈی کو نظر بھر کر دیکھنا بغیر کسی شک کے حرام ہے۔

غلاموں پر تشدد سے متعلق لکھتے ہیں:

أن من مثل بعبده عتق عليه وهذا مذهب فقهاء الحديث وقد جاءت بذلك آثار مرفوعة عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه كعمر ابن الخطاب وغيره.‏ (ابن قیم، اعلام الموقعین)

جس نے اپنے غلام کے جسم کو بگاڑا، اس پر لازم ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔ فقہاء حدیث کا یہی نقطہ نظر ہے اور اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے صحابہ جیسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایات موجود ہیں۔

ابن القیم ایک حدیث بیان کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ غلام پر تشدد کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دیا جائے۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا عبد الرزاق أخبرني معمر أن ابن جريج أخبره عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن زنباعا أبا روح وجد غلاما له مع جارية له فجدع أنفه وجبه فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال من فعل هذا بك قال زنباع فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما حملك على هذا فقال كان من أمره كذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه وسلم للعبد إذهب فأنت حر فقال يا رسول الله فمولى من أنا قال مولى الله ورسوله فأوصى به رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين قال فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء إلى أبي بكر فقال وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم نجري عليك النفقة وعلى عيالك فأجراها عليه حتى قبض أبو بكر فلما استخلف عمر جاءه فقال وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم أين تريد قال مصر فكتب عمر إلى صاحب مصر أن يعطيه أرضا يأكلها.‏ (ابن قیم، اعلام الموقعین)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو روح زنباع نے اپنے ایک غلام کو ایک لونڈی کے ساتھ مشغول پایا تو انہوں نے اس کی ناک کاٹ دی۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے پوچھا، "یہ کس نے کیا ہے؟" بتایا گیا، "زنباع نے۔" آپ نے زنباع کو بلایا اور فرمایا، "تم سے ایسا کرنے کے لئے کس نے کہا تھا؟" اس کے بعد آپ نے غلام سے فرمایا، "تم تو جاؤ، تم آزاد ہو۔" اس نے پوچھا، "یا رسول اللہ! میری ولاء کا رشتہ کس سے قائم ہو گا؟" فرمایا، "اللہ اور اس کے رسول سے۔" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے بارے میں مسلمانوں کو وصیت فرمائی۔

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات کے بعد وہی غلام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضور کی وصیت بیان کی۔ آپ نے فرمایا، "ہاں، ہم تمہارے اور تمہارے اہل و عیال کے اخراجات کے لئے وظیفہ جاری کریں گے۔" اس کے بعد انہوں نے یہ وظیفہ جاری کر دیا۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ پھر ان کے پاس آیا اور یہی وصیت بیان کی۔ انہوں نے فرمایا، "بالکل ٹھیک! تم کہاں جانا چاہتے ہو؟" وہ کہنے لگا، "مصر میں۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کو حکم جاری کیا کہ اسے اتنی (سرکاری) زمین دے دی جائے جسے کاشت کر کے وہ اپنے کھانے پینے کا بندوبست کر سکے۔

چونکہ غلام فطری طور پر اپنے آقا کے افکار و نظریات سے متاثر ہوتا ہے اور آزادانہ انداز میں سوچنا سمجھنا، اس کے لئے مشکل ہوتا ہے، اس وجہ سے مسلمانوں کے ہاں یہ عام معمول رہا ہے کہ وہ مسلمان غلام کو غیر مسلم آقا کی ملکیت میں جانے نہیں دیا کرتے تھے۔ اگر کسی غیر مسلم آقا کا غیر مسلم غلام، اسلام قبول کر لیتا تو اسے عام طور پر خرید کر آزاد کر دیا جاتا تھا۔ اس ضمن میں ابن القیم لکھتے ہیں:

وقد نص الإمام أحمد على منع أهل الذمة أن يشتروا رقيقا من سبي المسلمين وكتب بذلك عمر بن الخطاب إلى الأمصار واشتهر ولم ينكره منكر فهو إجماع من الصحابة۔(ابن قیم، اعلام الموقعین)

امام احمد بن حنبل نے مسلمان غلاموں کو اھل ذمہ (غیر مسلموں) کے ہاتھ بیچنے سے منع کیا ہے۔ یہ حکم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام شہروں کو لکھ کر بھیجا تھا اور اسے مشہور کر دیا تھا۔ اس کا انکار کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ اس پر صحابہ کا اتفاق رائے ہے۔

ابن القیم غلاموں کی آئندہ آنے والی نسلوں کو غلامی سے محفوظ رکھنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

إذا خاف العنت ولم يجد طول حرة وكره رق أولاده فالحيلة في عتقهم أن يشترط على السيد أن ما ولدته زوجته منه من الولد فهم أحرار فكل ولد تلده بعد ذلك منه فهو حر ويصح تعليق العتق بالولادة كما لو قال لأمته كل ولد تلدينه فهو حر قال ابن المنذر ولا أحفظ فيه خلافا.‏ (ابن قیم، اعلام الموقعین)

اگر کسی شخص کو یہ خوف ہو کہ وہ بدکاری میں مبتلا ہو جائے گا اور آزاد خاتون سے شادی کرنا وہ افورڈ نہ کر سکتا ہو اور یہ بات بھی اسے ناپسند ہو کہ اس کی اولاد غلام ہو تو انہیں آزاد کروانے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لونڈی کے مالک سے شرط رکھے کہ اس کی جو اولاد اس لونڈی میں سے ہو گی، وہ آزاد ہو گی۔ اس کے بعد جو بھی بچے پیدا ہوں گے، وہ آزاد ہوں گے۔ ولادت کے وقت آزادی کی شرط بالکل درست ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنی لونڈی سے کہے، "تمہارا ہر بچہ آزاد ہو گا۔" ابن المنذر کہتے ہیں کہ اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

مسلم حکومتوں میں یہ معمول رہا ہے کہ بطور ٹیکس مسلمان شہریوں سے زکوۃ اور غیر مسلم شہریوں سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ حکومت کے لئے دفاعی خدمات انجام دینا صرف اور صرف مسلمانوں کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی جبکہ جزیہ کی ادائیگی کے بدلے غیر مسلموں کو اس خدمت سے مستثنی قرار دے دیا جاتا تھا۔ ان کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ جزیے کی رقم غیر مسلم شہری کی مالی حالت کے پیش نظر طے کی جاتی تھی۔ غیر مسلم غلاموں کو قطعی طور پر جزیہ کی ادائیگی سے مستثنی کر دیا گیا تھا۔ ابن القیم اس طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں:

قال: أبو طالب سألت أبا عبد الله عن العبد النصراني عليه جزية قال: ليس عليه جزية. وقال: في موضع آخر قلت فالعبد ليس عليه جزية لنصراني كان أم لمسلم كما قال: أبو محمد رضي الله عنه. وقال: عبد الله بن أحمد سألت أبي عن رجل مسلم كاتب عبدا نصرانيا هل تؤخذ من العبد الجزية من مكاتبته؟ فقال: إن العبد ليس عليه جزية والمكاتب عبد ما بقي عليه درهم.‏ (ابن قیم، اعلام الموقعین)

ابوطالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ سے عیسائی غلام کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس پر بھی جزیہ عائد کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا، "نہیں، اس کے ذمے کوئی جزیہ نہیں ہے۔" دوسری جگہ انہوں نے فرمایا، "عیسائی غلام پر مسلمان کی طرح جزیہ نہیں ہے۔" ایسی ہی بات ابومحمد کہتے ہیں، "عبداللہ بن احمد نے اپنے والد (احمد بن حنبل) سے ایسے عیسائی غلام کے بارے میں پوچھا جس نے اپنے مسلمان آقا سے مکاتبت کی ہو کہ کیا اس غلام سے دوران مکاتبت جزیہ لیا جائے گا؟" انہوں نے فرمایا، "غلام پر کوئی جزیہ نہیں ہے۔ مکاتب پر اس وقت تک غلام کے احکام ہی جاری ہوں گے جب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہے۔"

ابن بطوطہ

ابن بطوطہ (d. 1377CE) نے اپنے سفرنامے میں جابجا مسلمانوں میں پھیلی ہوئی غلامی اور بے حیائی پر توجہ دلائی ہے۔ ترکی کے سفرنامے میں لکھتے ہیں:

"The inhabitants of this city make no effort to stamp out immorality - indeed, the same applies to the whole population of these regions. They buy beautiful Greek slave-girls and put them out to prostitution, and each girl has to pay a regular due to her master. I heard it said there that the girls go into the bath-houses along with the men, and anyone who wishes to indulge in depravity does so in the bath-house and nobody tries to stop him. I was told that the [governor] in this city owns slave-girls employed in this way."

اس شہر کے باشندے اس بداخلاقی کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہی معاملہ ان علاقوں کی پوری آبادی کا ہے۔ یہ لوگ خوبصورت یونانی لونڈیاں خریدتے ہیں اور انہیں قحبہ گری پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ہر لونڈی نے ایک متعین رقم اپنے آقا کو دینا ہوتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ یہ لڑکیاں مردوں کے ساتھ حماموں میں جاتی ہیں اور جو شخص ان کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتا ہے، وہ حمام ہی میں ایسا کر گزرتا ہے اور اسے کوئی نہیں روکتا۔ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اس شہر کے گورنر تک نے اپنی لونڈیوں کو اسی کام پر لگا رکھا ہے۔

ہر دور میں مسلمانوں کے اندر ایسے اہل علم رہے ہیں جنہوں نے غلاموں سے متعلق اصلاحات پر زور دیا۔ بدقسمتی سے ہمارے دیگر اہل علم کے نزدیک کچھ اور مسائل زیادہ اہمیت اختیار کرتے چلے گئے جس کے نتیجے میں غلامی کے خاتمے اور انسانی حقوق کا وژن ان کے ہاں اس درجے میں نہ رہا جس کی تلقین اسلام نے انہیں کی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم دنیا کے آزاد لوگ بھی نفسیاتی غلامی کا شکار ہو گئے۔ اس کی تفصیل ہم اگلے ابواب میں بیان کریں گے۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability