بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ چہارم: اسلام کے بعد کے ادوار میں غلامی

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 16: قرون وسطی کے مغربی ممالک میں غلامی

قرون وسطی کے مغربی معاشروں میں غلامی کا ادارہ نہ صرف موجود تھا بلکہ یہ اپنی اسی شکل میں موجود تھا جس کی تفصیلات ہم سلطنت روما کے باب میں بیان کر چکے ہیں۔ یورپ کی پوری تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام بنا کر ان سے بہیمانہ سلوک کیا جاتا رہا۔ انسانوں سے حسن سلوک کی عیسائی تعلیمات کے زیر اثر آہستہ آہستہ یہ ادارہ بہتر ہو کر مزارعت کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ بعد کے ادوار میں غلامی کے ادارے میں ایک انقلاب رونما ہوا جو کہ یورپ کی بڑھتی ہوئی بحری قوت کا نتیجہ تھا۔ زیادہ بہتر ہو گا کہ اس کی تفصیلات کو ہم مغرب کے اپنے محققین کے الفاظ میں بیان کر دیں۔

قدیم یورپ میں غلامی

یورپ کے علاقے اسکنڈے نیویا (یعنی فن لینڈ، ناروے، سویڈن اور ڈنمارک) میں غلامی کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مغربی مصنف لکھتے ہیں:

Slave catching and slave trade was one of the main occupations of the Vikings. Swedish Vikings, the Varangians or Rus, established strongholds and founded the first Russian state, Kievan Rus' during their trade and Slave catching operations. The Arab traveller Ibn Rustah recounts how they terrorized the Slavs and treated them like cattle. This trade was part of making the ethnic label Slav the name for "slave".

"As for the Rus [Swedes], they live on an island … that takes three days to walk round and is covered with thick undergrowth and forests; … They harry the Slavs, using ships to reach them; they carry them off as slaves and … sell them. They have no fields but simply live on what they get from the Slav's lands … When a son is born, the father will go up to the newborn baby, sword in hand; throwing it down, he says, 'I shall not leave you with any property: You have only what you can provide with this weapon.'"  (National Geographic, March 1985)

In Scandinavia, a thrall was cheaper than cattle, a question of supply and demand. A child born by a thrall woman (a Thir) was a thrall by birth, whereas a child born by a free woman was a free person even if the father was a thrall. The most dishonourable way of becoming a thrall was by debt, and it was the first kind of thralldom to be forbidden. (Adam Wilson, Chief Executive Activist, http://www.downbound.com/Slavery_s/29.htm )

غلاموں کو پکڑنا اور ان کی تجارت کرنا وائکنگز (اسکنڈے نیویا کے قرون وسطی کے باشندے) کے بڑے پیشوں میں سے ایک تھا۔ سویڈن کے وائکنگ، جو کہ وارنجینز یا رس کہلاتے تھے، نے غلام پکڑنے اور ان کی تجارت کے دوران ہی ایک مضبوط حکومت قائم کی اور پہلی روسی سلطنت "کیوان رس" کی بنیاد رکھی۔ عرب سیاح ابن رستہ نے ان طریقوں کا ذکر کیا ہے جن کی مدد سے وہ سلاوز (یعنی مشرقی یورپ کے باشندوں) کو خوفزدہ کرتے تھے اور ان سے مویشیوں کا سا سلوک کیا کرتے تھے۔ اس تجارت کی وجہ سے ہی لفظ "سلاو" ، "سلیو" میں تبدیل ہو گیا (جس کا معنی غلام ہے۔ ابن رستہ لکھتے ہیں:)

"رس ایک جزیرے پر رہتے ہیں جو کہ گھنے پودوں اور جنگلات سے بھرا ہوا ہے اور تین دن میں اس کے گرد چکر لگایا جا سکتا ہے۔ یہ "سلاوز" کو خوفزدہ کرتے ہیں۔ ان تک پہنچنے کے لئے بحری جہاز استعمال کرتے ہیں۔ انہیں پکڑ کر غلام بناتے ہیں اور پھر بیچ ڈالتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی کھیت نہیں ہیں۔ ان کی گزر بسر صرف اس پر ہوتی ہے جو وہ سلاووں کی زمین سے حاصل کرتے ہیں۔ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا باپ تلوار لے کر اس کے پاس جاتا ہے اور اسے بچے کے پاس پھینک کر کہتا ہے، 'میں تمہارے لئے کوئی جائیداد نہیں چھوڑوں گا بلکہ صرف تمہیں یہ اسلحہ دوں گا جس سے تم اپنی روزی روٹی کما سکو گے۔' " (نیشنل جیوگرافی، مارچ 1985)

اسکنڈے نیویا میں ایک غلام کی قیمت مویشی سے بھی کم تھی جو کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے قانون کی وجہ سے تھی۔ لونڈی کا بچہ بھی پیدائشی غلام ہوتا جبکہ آزاد عورت کا بچہ آزاد ہوتا اگرچہ اس کا باپ غلام ہی کیوں نہ ہوتا۔ غلام بنائے جانے کا سب سے برا طریقہ یہ تھا کہ مقروض کو غلام بنا لیا جائے۔ غلامی کی اس قسم کو سب سے پہلے ممنوع قرار دیا گیا۔

کولمبیا الیکٹرانک انسائیکلوپیڈیا کے مقالہ نگار تاریخ کے مختلف ادوار میں غلاموں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛

The introduction of Christianity toward the end of the Roman Empire had no effect on the abolition of slavery, since the church at that time did not oppose the institution. However, a change in economic life set in and resulted in the gradual disappearance of the agricultural slaves, who became, for all practical purposes, one with the coloni (tenant farmers who were technically free but were in fact bound to the land by debts). This process helped prepare the way for an economy in which the agricultural slave became the serf.

The semifreedom of serfdom was the dominant theme in the Middle Ages, although domestic slavery (and, to some extent, other forms) did not disappear. The church began to encourage manumission, while ignoring the fact that many slaves were attached to church officials and church property. Sale into slavery continued to be an extreme punishment for serious crimes.

Slavery flourished in the Byzantine Empire, and the pirates of the Mediterranean continued their custom of enslaving the victims of their raids…… In Western Europe slavery largely disappeared by the later Middle Ages, although it still remained in such manifestations as the use of slaves on galleys. In Russia slavery persisted longer than in Western Europe, and indeed the serfs were pushed into the classification of slavery by Peter the Great.

 (The Columbia Electronic Encyclopedia,  http://www.infoplease.com/ce6/bus/A0861124.html )

سلطنت روم میں عیسائیت کے آغاز سے لے کر سلطنت کے اختتام تک غلامی کے خاتمے پر کوئی اثر نہ پڑ سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چرچ نے اس وقت (موسوی شریعت کے برعکس) غلامی کے ادارے کی مخالفت نہ کی تھی۔ معاشی زندگی میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کے نتیجے میں زرعی غلام تدریجاً ختم ہوتے چلے گئے۔ عملی طور پر، تکنیکی اعتبار سے تو یہ کسان آزاد تھے لیکن یہ اپنے قرضوں کے باعث زمین سے جڑے ہوئے تھے۔ اس طریقے سے ایسی معیشت وجود پذیر ہوئی جس میں زرعی غلاموں کی جگہ مزارعوں نے لے لی۔

قرون وسطی میں مزارعوں کی نیم غلامی کا تصور غالب رہا ہے۔ گھریلو غلامی اور اس کی دیگر شکلیں بہرحال ختم نہ ہو سکیں۔ چرچ نے غلاموں کو آزادی دینے کی حوصلہ افزائی کی لیکن اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ بہت سے غلام تو چرچ کی جائیداد اور چرچ کے ملازموں سے وابستہ ہیں۔ بہت سے جرائم کی سزا کے طور پر غلام بنائے جانے کی رسم بھی موجود رہی۔

       بازنطینی سلطنت میں غلامی پھلتی پھولتی رہی اور بحیرہ روم کے حملہ آوروں نے اپنے شکاروں کو غلام بنا لینے کی رسم جاری رکھی۔۔۔۔ مغربی یورپ میں قرون وسطی کے آخر کے ادوار میں غلامی ختم ہونا شروع ہو گئی تھی مگر یہ کچھ جگہوں پر باقی رہ گئی جیسے بحری جہازوں میں غلاموں کو بطور ملاح استعمال کیا جاتا رہا۔ روس میں مغربی یورپ کی نسبت غلامی زیادہ عرصہ چلی اور پیٹر اعظم کے حکم کے تحت مزارعوں کو زبردستی غلام بنایا گیا۔

مذہبی بنیادوں پر غلامی

یورپ میں مذہبی بنیادوں پر غلامی کی رسم موجود رہی ہے۔ مذہبی راہنماؤں کے حکم سے یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے ان فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر، جو کلیسا سے کسی درجے میں اختلاف رکھتے تھے، حملہ کیا اور انہیں وسیع تعداد میں قتل کرنے کے بعد باقی بچ جانے والوں کو غلام بنا لیا گیا۔

یہودیوں کی غلامی

پہلی صلیبی جنگوں میں مذہبی راہنماؤں نے عوام کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کیا اور مقدس سرزمین کو ان کافروں سے پاک کروانے کے لئے مذہبی جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مذہبی جوش سے بھرے ہوئے جرمنوں اور فرانسیسیوں کی جو فوج تیار ہوئی، اس کا ابتدائی نشانہ مسلمانوں کی بجائے یہودی بنے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وکی پیڈیا کے مقالہ نگار لکھتے ہیں؛

The preaching of the First Crusade inspired an outbreak of anti-Semitism. In parts of France and Germany, Jews were perceived as just as much an enemy as Muslims: they were thought to be responsible for the crucifixion, and they were more immediately visible than the distant Muslims. Many people wondered why they should travel thousands of miles to fight non-believers when there were already non-believers closer to home…..

After the success of the First Crusade in the Holy Land, the Jews in Jerusalem were either slaughtered along with the Muslims, or expelled and forbidden from living in the city, unlike the traditional Islamic tolerance - at the price of a tax - for Christians and Jews.

(Wikipedia, http://en.wikipedia.org/wiki/Persecution_of_Jews_in_the_First_Crusade )

پہلی صلیبی جنگ کی تبلیغ کے نتیجے میں اینٹی سامیت (سام کی نسلوں کو تباہ کرنے کا نظریہ) نے جنم لیا۔ فرانس اور جرمنی میں یہودیوں کو مسلمانوں کے برابر کا دشمن سمجھا گیا۔ انہیں مسیح کو صلیب دینے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ چونکہ یہ لوگ دور رہنے والے مسلمانوں کی نسبت زیادہ قریب تھے، اس وجہ سے بہت سے لوگوں نے یہ سوچا کہ کافروں سے جنگ کرنے کے لئے ہزاروں میل کا سفر کیوں کیا جائے جبکہ کافر تو اپنے گھر کے قریب ہی موجود ہیں۔۔۔۔

       مقدس سرزمین میں پہلی مقدس جنگ کے اختتام پر، یروشلم کے یہودیوں کو یا تو مسلمانوں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا، یا پھر انہیں جلا وطن کر کے شہروں میں رہنے سے منع کر دیا گیا۔ یہ روایتی اسلامی رواداری کے برعکس تھا جس میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیہ کی ادائیگی کے بدلے (آزاد رہنے کی اجازت تھی۔)

اس جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے آگسٹ سی کرے لکھتے ہیں:

But Emico and the rest of his band held a council and, after sunrise, attacked the Jews in the hall with arrows and lances. Breaking the bolts and doors, they killed the Jews, about seven hundred in number, who in vain resisted the force and attack of so many thousands. They killed the women, also, and with their swords pierced tender children of whatever age and sex. The Jews, seeing that their Christian enemies were attacking them and their children, and that they were sparing no age, likewise fell upon one another, brother, children, wives, and sisters, and thus they perished at each other's hands. Horrible to say, mothers cut the throats of nursing children with knives and stabbed others, preferring them to perish thus by their own hands rather than to be killed by the weapons of the uncircumcised.

From this cruel slaughter of the Jews a few escaped; and a few because of fear, rather than because of love of the Christian faith, were baptized. With very great spoils taken from these people, Count Emico, Clarebold, Thomas, and all that intolerable company of men and women then continued on their way to Jerusalem.

(Mideval Source Book, http://www.fordham.edu/halsall/source/1096jews.html  )

(صلیبی مجاہد) ایمیکو اور اس کے ساتھیوں نے ایک اجلاس منعقد کیا اور سورج نکلتے ہی انہوں نے تیروں اور نیزوں سے اس ہال پر حملہ کر دیا (جس میں بشپ نے یہودیوں کو پناہ دی تھی)۔ دروازوں اور ان کے بولٹس کو توڑتے ہوئے انہوں نے سات سو یہودیوں کو قتل کر دیا جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں موجود اس فوج کے راستے میں مزاحمت کی تھی۔ انہوں نے خواتین کو بھی قتل کیا اور ان کی تلواروں نے ہر عمر اور جنس کے بچوں کے ٹکڑے اڑا دیے۔

       یہودیوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے صلیبی دشمن ان کے بچوں پر حملہ کر رہے ہیں اور کسی عمر کے بچے کو بھی معاف نہیں کر رہے تو وہ ایک دوسرے کے اوپر گرتے چلے گئے۔ بھائی، بچے، بیویاں، بہنیں، انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ یہ ایک خوفناک بات ہے کہ ماؤں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کا گلا خود چھریوں سے کاٹ ڈالا اور ایک دوسرے کے (خنجر و نیزے) گھونپ دیے۔ وہ اس بات کو ترجیح دیتے تھے کہ غیر ختنہ شدہ افراد کے ہاتھوں مرنے سے بہتر ہے کہ اپنے ہاتھوں ہی سے مرا جائے۔

       اس ظالمانہ قتل سے بعض یہودی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور بعض عیسائی مذہب کی محبت میں نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے بپتسمہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ان لوگوں سے بے پناہ مال غنیمت لوٹنے کے بعد، کاؤنٹ ایمیکو، کلیئر بورڈ، تھامس اور مردوں و عورتوں کی غیر روادار جماعت نے یروشلم تک یہی عمل جاری رکھا۔

مسلمانوں کی غلامی

سینڈرسن بیک صلیبی جنگوں کے بڑے لیڈروں ریمنڈ اور بوھمنڈ کے کارنامے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Raymond captured Albara; even though they had capitulated, all the Muslims were either killed or sold as slaves…. Raymond's and Bohemond's forces besieged Maarat an-Numan. Bohemond promised the defenders refuge; but the men were slaughtered, and the women and children were enslaved. Bohemond tried to spread terror by killing prisoners and roasting their heads.

(Sanderson Beck, Ethics of Civilizations, http://san.beck.org/AB18-Crusaders.html#1 )

البرا پر قبضہ کرنے کے بعد، اگرچہ وہاں کے باشندوں نے ہتھیار ڈال کر صلح کر لی تھی، تمام مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا یا پھر انہیں غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔۔۔۔ ریمنڈ اور بوھمنڈ کی افواج نے مرآۃ النعمان کا محاصرہ کر لیا۔ بوھمنڈ نے محصورین کو معاف کرنے کا اعلان کی لیکن ان کے مردوں کو ذبح کر دیا گیا اور خواتین اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا۔ بوھمنڈ نے قیدیوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے سروں کو بھون کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔

ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں:

In the double city of Mopsuestia, which is divided by the River Sarus, two hundred thousand Moslems were predestined to death or slavery, a surprising degree of population, which must at least include the inhabitants of the dependent districts. (Edward Gibbon, The History of Decline& Fall of Roman Empire, http://www.ccel.org )

میسو پوٹیمیا کے جڑواں شہر میں، جس کے درمیان سے دریائے سارس گزرتا ہے، دو لاکھ مسلمانوں کو موت یا غلامی کی سزا سنائی گئی جو کہ حیرت انگیز طور پر آبادی کا بڑا حصہ تھا جس میں کم از کم ان ضلعوں کی پوری آبادی شامل تھی۔

پہلی صلیبی جنگ میں یروشلم کی فتح کی منظر کشی کرتے ہوئے آگسٹ کرے لکھتے ہیں:

The battle raged throughout the day, so that the Temple was covered with their blood. When the pagans had been overcome, our men seized great numbers, both men and women, either killing them or keeping them captive, as they wished.

(August C. Krey, http://www.fordham.edu/halsall/source/gesta-cde.html#jerusalem2 )

جنگ پورا دن جاری رہی اور بیت المقدس ان کے خون سے بھر گیا۔ جب کفار (مسلمانوں) پر قابو پا لیا گیا تو ہمارے مردوں نے ان کے مردوں اور عورتوں کو کثیر تعداد میں گرفتار کر لیا اور اپنی اپنی خواہش کے مطابق انہیں یا تو قتل کر دیا گیا اور یا پھر غلام بنا لیا گیا۔

تیرہویں صدی کے آغاز میں یورپ میں بچوں کی ایک تحریک پیدا ہوئی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے کے لئے بچوں کا ایک بہت بڑا گروہ مارچ کرتا ہوا یروشلم تک جائے۔ بہت سے بچوں نے حلف اٹھا کر اس تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تحریک ناکام رہی اور اس میں شامل بچوں کو افریقیوں کے علاوہ خود یورپیوں نے بھی غلام بنا لیا۔

Accounts vary concerning what happened next, but all agree that few of the kids made it home. Some say one group went to Rome, where the pope released many of them from their crusaders' vows. Some may have been sold into slavery, others shipwrecked. (Cecil Adams, http://www.straightdope.com/columns/040409.html )

اس معاملے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ان میں سے بہت کم بچے اپنے گھروں میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک گروہ روم چلا گیا جہاں پوپ نے انہیں ان کے صلیبی حلف سے آزاد کیا۔ بعض بچوں کو غلامی میں فروخت کر دیا گیا ہو گا اور بعض جہازوں سمیت سمندر میں ڈوب گئے ہوں گے۔

صلیبی جنگوں کے کئی سو سال بعد اندلس کی فتح کے بعد اسپین کے مسلمانوں کو بھی کثیر تعداد میں غلام بنا لیا گیا۔

In Spain and Portugal, where the reconquest of the peninsula from the Moors in the 15th century created an acute shortage of labour, captured Muslims were enslaved.  (The Free Dictionary, http://encyclopedia.farlex.com/Chattel+slaves  )

اسپین اور پرتگال کے جزیرہ نما کو جب موروں (ہسپانوی مسلمانوں) سے پندہرویں صدی میں خالی کروایا گیا تو اس کے نتیجے میں مزدوروں کی بہت کمی واقع ہو گئی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو غلام بنا لیا گیا۔

اہل مغرب کی مذہبی و نفسیاتی غلامی

قرون وسطی کے یورپ میں غلامی کی ایک ایسی قسم پائی جاتی تھی جس کی مثال دیگر اقوام میں کم ہی ملتی ہے۔ ہم پچھلے باب میں بیان کر چکے ہیں اس قسم کی غلامی کسی حد تک مسلم ممالک میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اس کی نوعیت اور شدت قرون وسطی کے یورپ کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔

انکوئزیشن کے ادارے کا قیام

بنیادی طور پر یہ غلامی کلیسا کی فکری اور نظریاتی بالادستی کی بنیاد پر قائم تھی۔ پورے یورپ کے عیسائی بھی اس غلامی کا شکار تھے۔ پوپ کا حکم حتمی درجہ رکھتا تھا اور اس سے اختلاف رائے رکھنے والے شخص کو مرتد قرار دے کر اسے مذہبی عدالتوں (Inquisition Courts) کے ذریعے سزا دی جایا کرتی تھی۔ ان عدالتوں کا مقصد ہر قسم کے مذہبی انحراف کو روکنا تھا۔ مشہور سائنسدانوں اور مفکرین، جن میں گلیلیو، برونو، سریمونینی وغیرہ شامل تھے، ان عدالتوں کا شکار بنے۔ اس کی کچھ تفصیلات ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔ البرٹ وان ھلڈن نے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں فرقوں کے نظریات سے بالاتر ہو کر انکوئیزیشن کی تاریخ بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

The Inquisition was a permanent institution in the Catholic Church charged with the eradication of heresies. Unlike many other religions (e.g., Buddhism, Judaism), the Catholic Church has a hierarchical structure with a central bureaucracy. In the early years of the church, there were several competing sects that called themselves Christian. But after the Emperor Constantine I (280-337 CE) made Christianity the state religion of the Roman Empire and the local administrative structures were pulled together into one hierarchy centered in Rome, doctrinal arguments were settled by Church Councils, beginning with the Council of Nicea in 325 (which formulated the Nicean Creed). Those whose beliefs or practices deviated sufficiently from the orthodoxy of the councils now became the objects of efforts to bring them into the fold. Resistance often led to persecution.

Heresies (from L. haeresis, sect, school of belief) were a problem for the Church from the beginning. In the early centuries there were the Arians and Manicheans; in the Middle Ages there were the Cathari and Waldenses; and in the Renaissance there were the Hussites, Lutherans, Calvinists, and Rosicrucians. Efforts to suppress heresies were initially ad hoc. But in the Middle Ages a permanent structure came into being to deal with the problem. Beginning in the 12th century, Church Councils required secular rulers to prosecute heretics.

In 1231, Pope Gregory IX published a decree which called for life imprisonment with salutary penance for the heretic who had confessed and repented and capital punishment for those who persisted. The secular authorities were to carry out the execution. Pope Gregory relieved the bishops and archbishops of this obligation, and made it the duty of the Dominican Order, though many inquisitors were members of other orders or of the secular clergy. By the end of the decade the Inquisition had become a general institution in all lands under the purview of the Pope. By the end of the 13th centuries the Inquisition in each region had a bureaucracy to help in its function.

The judge, or inquisitor, could bring suit against anyone. The accused had to testify against himself/herself and not have the right to face and question his/her accuser. It was acceptable to take testimony from criminals, persons of bad reputation, excommunicated people, and heretics. The accused did not have right to counsel, and blood relationship did not exempt one from the duty to testify against the accused. Sentences could not be appealed. Sometimes inquisitors interrogated entire populations in their jurisdiction.

The inquisitor questioned the accused in the presence of at least two witnesses. The accused was given a summary of the charges and had to take an oath to tell the truth. Various means were used to get the cooperation of the accused. Although there was no tradition of torture in Christian canon law, this method came into use by the middle of the 13th century. The findings of the Inquisition were read before a large audience; the penitents abjured on their knees with one hand on a bible held by the inquisitor. Penalties went from visits to churches, pilgrimages, and wearing the cross of infamy to imprisonment (usually for life but the sentences were often commuted) and (if the accused would not abjure) death.

Death was by burning at the stake, and it was carried out by the secular authorities. In some serious cases when the accused had died before proceedings could be instituted, his or her remains could be exhumed and burned. Death or life imprisonment was always accompanied by the confiscation of all the accused's property.

Abuses by local Inquisitions early on led to reform and regulation by Rome, and in the 14th century intervention by secular authorities became common. At the end of the 15th century, under Ferdinand and Isabel, the Spanish inquisition became independent of Rome. In its dealings with converted Moslems and Jews and also illuminists, the Spanish Inquisition with its notorious autos-da-fé represents a dark chapter in the history of the Inquisition. In northern Europe the Inquisition was considerably more benign: in England it was never instituted, and in the Scandinavian countries it had hardly any impact.

Pope Paul III established, in 1542, a permanent congregation staffed with cardinals and other officials, whose task it was to maintain and defend the integrity of the faith and to examine and proscribe errors and false doctrines. This body, the Congregation of the Holy Office, now called the Congregation for the Doctrine of the Faith, part of the Roman Curia, became the supervisory body of local Inquisitions. The Pope himself holds the title of prefect but never exercises this office. Instead, he appoints one of the cardinals to preside over the meetings. There are usually ten other cardinals on the Congregation, as well as a prelate and two assistants all chosen from the Dominican order.

The Holy Office also has an international group of consultants, experienced scholars of theology and canon law, who advise it on specific questions. In 1616 these consultants gave their assessment of the propositions that the Sun is immobile and at the center of the universe and that the Earth moves around it, judging both to be "foolish and absurd in philosophy," and the first to be "formally heretical" and the second "at least erroneous in faith" in theology. This assessment led to Copernicus's De Revolutionibus Orbium Coelestium to be placed on the Index of Forbidden Books, until revised and Galileo to be admonished about his Copernicanism. It was this same body in 1633 that tried Galileo.

(Albert Van Helden, The Galileio Project, http://galileo.rice.edu/chr/inquisition.html )

انکوئزیشن، کیتھولک چرچ کا ایک مستقل ادارہ تھا جس کا مقصد انحراف کا خاتمہ کرنا تھا۔ یہودیت اور بدھ مذہب جیسے دیگر مذاہب کے برعکس کیتھولک چرچ میں مرکزی بیوروکریسی کے ساتھ ایک مخروطی تنظیمی ڈھانچہ (Hierarchy) موجود تھا۔ چرچ کے ابتدائی سالوں میں عیسائی کہلانے والے بہت سے فرقے موجود تھے جو ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے تھے۔

شہنشاہ قسطنطین (280-337CE) کے بعد عیسائیت سلطنت روما کا سرکاری مذہب قرار پائی اور مقامی تنظیموں کو اکٹھا کر کے ایک ہائیرارکی کی شکل دے دی گئی جس کا مرکز روم میں تھا۔ علم کلام (عقائد) سے متعلق مباحث کا فیصلہ چرچ کی کونسلیں کرنے لگیں۔ اس کا آغاز 325ء میں کونسل آف نائسیا سے ہوا جس نے نائسین عقائد کو تشکیل دیا۔ جن فرقوں کے عقائد یا اعمال میں کونسلوں کے عمومی نظریات سے انحراف پیدا ہو جاتا تو یہ انہیں مرکزی دھارے میں لانے کی کشش کرتے۔ اس مذہبی جبر کے خلاف اکثر اوقات مزاحمت  بھی پیدا ہو جایا کرتی تھی۔

       انحراف شروع ہی سے چرچ کے لئے ایک مسئلہ رہا تھا۔ شروع کی صدیوں میں آرینزم اور مانی ازم کے فلسفے، قرون وسطی میں کتھاری اور والڈن ازم کے نظریات، اور رینی ساں کے دور میں ہسی، لوتھر، کیلون اور روزی کروشن ازم کے فرقے موجود رہے ہیں۔ منحرف نظریات کو دبانے کی کوششیں شروع میں عارضی نوعیت کی تھیں لیکن قرون وسطی میں ایک مستقل ادارہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بنا دیا گیا۔ بارہویں صدی کی ابتدا میں چرچ کی کونسلوں نے حکمرانوں سے منحرف نظریات کے حاملین کو سزا دینے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

       1231ء میں پوپ گریگوری نہم نے ایک فتوے میں اعتراف اور توبہ کرنے والے منحرفین کے لئے توبہ کے ساتھ ساتھ عمر قید اور انحراف پر قائم رہنے والوں کے لئے موت کی سزا کا حکم جاری کیا۔ اس سزا پر عمل درآمد دنیاوی حکمرانوں کی ذمہ داری تھی۔ پوپ گریگوری نے بشپ اور آرک بشپ حضرات کو اس ذمہ داری سے مستثنی قرار دیتے ہوئے اسے ڈومینیکن سلسلے کے مبلغین کے ذمہ لگا دیا، اگرچہ احتساب کرنے والوں میں سے بہت سے دوسرے سلسلوں یا حکومتی علماء کے گروہوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس عشرے کے اختتام تک انکوئزیشن ایک عام ادارہ بن چکا تھا جس کا اطلاق ان تمام ممالک پر ہوتا تھا جو پوپ کے ماتحت سمجھے جاتے تھے۔ تیرہویں صدی کے اختتام تک ہر علاقے میں انکوئزیشن کی خدمات انجام دینے کے لئے ایک بیوروکریسی وجود میں آ چکی تھی۔

       جج یا احتساب کرنے والے کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی کے خلاف بھی مقدمہ شروع کر دے۔ مدعی علیہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے خلاف گواہی دے اور اسے یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ مدعی کا مقابلہ کرے یا اس پر اعتراض کرے۔ (مدعی کے حق میں) مجرموں، بری شہرت رکھنے والے افراد، ملعون قرار دیے جانے والے افراد اور مرتدوں کی گواہی کو بھی قبول کر لیا جاتا تھا۔ مدعی علیہ کو مشورہ کرنے کا حق بھی حاصل نہ تھا اور اس کے خونی رشتے داروں کی بھی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس کے خلاف گواہی دیں۔ جج کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہ کی جا سکتی تھی۔ بعض جج اپنے علاقے کی پوری آبادی سے تفتیش کیا کرتے تھے۔

       جج، مدعی علیہ پر دو گواہوں کی موجودگی میں جرح کرتا۔ مدعی علیہ کو اس کے جرائم کا خلاصہ دیا جاتا اور اس سے کہا جاتا کہ وہ سچ بولنے کی قسم کھائے۔ اس کا تعاون حاصل کرنے کے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے تھے۔ اگرچہ عیسائیت کے کینن قانون میں تشدد کی روایت موجود نہ تھی لیکن تیرہویں صدی کے وسط میں یہ طریقہ بھی استعمال کیا جانے لگا۔

تفتیش کے نتائج ایک بڑے مجمع کے سامنے پڑھ کر سنائے جاتے۔ توبہ کرنے والے شخص کو مجبور کیا جاتا کہ وہ اپنا گھٹنا ٹیک کر اور ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر توبہ کرے جو جج نے تھامی ہوتی تھی۔ (انحراف کی نوعیت کے مطابق) دی جانے والی سزاؤں میں گرجے میں عبادت، مقدس مقامات کی زیارت اور سزا یافتہ افراد کے لئے مخصوص صلیب پہننے سے لے کر قید کی سزا شامل ہوتی تھی۔ یہ عام طور پر عمر قید کی سزا ہوتی لیکن اکثر اوقات توبہ کے نتیجے میں سزاؤں میں تخفیف کر دی جاتی تھی۔ اگر مدعی علیہ توبہ کرنے پر تیار نہ ہوتا تو اسے موت کی سزا دے دی جاتی تھی۔

موت کی سزا عام طور پر کھمبے سے لٹکا کر جلا دینے کی صورت میں دی جاتی تھی اور اس پر عمل درآمد دنیاوی حکمران کروایا کرتے تھے۔ سنگین انحراف کی صورت میں اگر کوئی شخص تفتیش کے دوران مر جاتا تو اس کی باقیات کو قبر سے اکھاڑا اور جلایا جا سکتا تھا۔ موت یا عمر قید کی سزا کے ساتھ ہمیشہ مدعی علیہ کی جائیداد کو ضبط کر لیا جاتا۔

مقامی انکوئزیشن میں بے اعتدالیوں کی صورت میں، پہلے تو رومی حکمرانوں نے اس کی اصلاح کرنے اور اسے قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی لیکن چودہویں صدی میں انہوں نے اس عمل میں دخل اندازی بھی شروع کر دی تھی۔ پندہرویں صدی میں فرڈینینڈ اور ازابیل (اندلس میں مسلم حکومت کا خاتمہ کرنے والا حکمران جوڑا) کے دور میں اسپین کی انکوئزیشن، رومی انکوئزیشن سے علیحدہ ہو گئی۔ اسپینی انکوئزیشن نے مسلمانوں، یہودیوں اور الیومینسٹ فرقے کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انکوئزیشن کی تاریخ کا سب سے تاریک باب ہے۔ شمالی یورپ میں البتہ انکوئزیشن کافی بے ضرر رہی ہے۔ انگلینڈ میں اس نے کبھی ادارے کی شکل اختیار نہیں کی اور اسکنڈے نیوین ممالک میں تو اس کا شاید ہی کوئی اثر ہوا ہو۔

1542ء میں پوپ پال سوئم نے ایک مستقل مذہبی ادارہ قائم کیا جس میں کارڈینل (کیتھولک چرچ کی اعلی ترین کونسل کے ممبر) اور دوسرے افسران کام کرتے تھے۔ ان کا کام ہی مذہب کی حفاظت اور غلط اور گمراہ کن نظریات کا خاتمہ کرنا تھا۔ یہ ادارہ پہلے "مقدس آفس کا ادارہ" کہلاتا تھا، پھر اس کا نام "فلسفہ ایمان کا ادارہ" ہو گیا اور یہ رومی چرچ کی اعلی ترین کونسل کا حصہ بن گیا۔ اگرچہ پوپ خود اس کے سربراہ کا ٹائٹل رکھتے تھے لیکن وہ اسے چلانے میں عملی حصہ نہ لیتے تھے۔ اس کی بجائے وہ کسی ایک کارڈینل کو اس ادارے کی میٹنگ کی صدارت کے لئے نامزد کر دیتے۔ اس کے علاوہ اس کمیٹی میں عام طور پر دس مزید کارڈینل، ایک سینئر پادری اور اس کے دو نائبین ہوا کرتے تھے جن کا انتخاب ڈومینکن سلسلے میں سے ہوتا تھا۔

مقدس آفس کے ساتھ ماہرین کا ایک بین الاقوامی گروہ بھی ہوا کرتا تھا جو فلسفہ مذہب اور کینن کے قانون کے تجربہ کار ماہرین پر مشتمل ہوتا تھا۔ ان ماہرین سے مخصوص سوالات کے سلسلے میں رائے لی جاتی تھی۔ 1616ء میں ان ماہرین نے فتوی جاری کیا: یہ نظریہ کہ "سورج ساکن ہے اور کائنات کا مرکز ہے اور زمین اس کے گرد گردش کرتی ہے" ایک احمقانہ اور نامعقول فلسفیانہ نظریہ ہے۔ انہوں نے ایک تو اسے "ملحدانہ" نظریہ قرار دیا اور پھر اسے مذہبی فلسفے کی روشنی میں "کم از کم غلط" قرار دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوپرنیکس کی کتاب کو ممنوعہ کتب کی فہرست میں شامل کر لیا گیا جب تک کہ اسے تبدیل نہ کر دیا جائے۔ گلیلیو کو کوپرنیکس کے نظریے پر یقین رکھنے کے جرم میں سخت وارننگ دی گئی۔ یہی وہ ادارہ تھا جس نے 1633ء میں گلیلیو سے عدالتی تفتیش کی تھی۔       

زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ اس موقع پر کیتھولک حضرات کا نقطہ نظر بھی پیش کر دیا جائے۔ کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب علم کیتھولک انسائیکلوپیڈیا میں لکھتے ہیں:

During the first three decades of the thirteenth century the Inquisition, as the institution, did not exist. But eventually Christian Europe was so endangered by heresy, and penal legislation concerning Catharism had gone so far, that the Inquisition seemed to be a political necessity. That these sects were a menace to Christian society had been long recognized by the Byzantine rulers.

As early as the tenth century Empress Theodora had put to death a multitude of Paulicians, and in 1118 Emperor Alexius Comnenus treated the Bogomili with equal severity, but this did not prevent them from pouring over all Western Europe. Moreover these sects were in the highest degree aggressive, hostile to Christianity itself, to the Mass, the sacraments, the ecclesiastical hierarchy and organization; hostile also to feudal government by their attitude towards oaths, which they declared under no circumstances allowable.

Nor were their views less fatal to the continuance of human society, for on the one hand they forbade marriage and the propagation of the human race, and on the other hand they made a duty of suicide through the institution of the Endura (see CATHARI). It has been said that more perished through the Endura (the Catharist suicide code) than through the Inquisition. It was, therefore, natural enough for the custodians of the existing order in Europe, especially of the Christian religion, to adopt repressive measures against such revolutionary teachings….

It was certainly customary to grant the accused person his freedom until the sermo generalis, were he ever so strongly inculpated through witnesses or confession; he was not yet supposed guilty, though he was compelled to promise under oath always to be ready to come before the inquisitor, and in the end to accept with good grace his sentence…..

Curiously enough, torture was not regarded as a mode of punishment, but purely as a means of eliciting the truth. It was not of ecclesiastical origin, and was long prohibited in the ecclesiastical courts. Nor was it originally an important factor in the inquisitional procedure, being unauthorized until twenty years after the Inquisition had begun. It was first authorized by Innocent IV in his Bull "Ad exstirpanda" of 15 May, 1252, which was confirmed by Alexander IV on 30 November, 1259, and by Clement IV on 3 November, 1265…..

But one of the difficulties of the procedure is why torture was used as a means of learning the truth. On the one hand, the torture was continued until the accused confessed or intimated that he was willing to confess. On the other hand, it was not desired, as in fact it was not possible, to regard as freely made a confession wrung by torture….

Most of the punishments that were properly speaking inquisitional were not inhuman, either by their nature or by the manner of their infliction. Most frequently certain good works were ordered, e.g. the building of a church, the visitation of a church, a pilgrimage more or less distant, the offering of a candle or a chalice, participation in a crusade, and the like. Other works partook more of the character of real and to some extent degrading punishments, e.g. fines, whose proceeds were devoted to such public purposes as church-building, road-making, and the like; whipping with rods during religious service; the pillory; the wearing of coloured crosses, and so on. The hardest penalties were imprisonment in its various degrees, exclusion from the communion of the Church, and the usually consequent surrender to the civil power.….

Officially it was not the Church that sentenced unrepenting heretics to death, more particularly to the stake.

(Catholic Encyclopedia, Inquisition, http://www.newadvent.org/cathen/08026a.htm )

تیرہویں صدی کی پہلے تین عشروں میں انکوئزیشن، بطور ادارہ موجود نہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ عیسائی یورپ کو مذہبی انحراف سے خطرہ محسوس ہوا۔ کیتھرزم (ایک عیسائی فرقہ) کے خلاف سزاؤں پر مشتمل قانون سازی اتنی دور تک چلی گئی کہ انکوئزیشن کو ایک سیاسی ضرورت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ یہ فرقے عیسائی معاشرے کے لئے ایک خطرہ تھے جسے ایک طویل عرصے سے بازنطینی حکمران قبول کئے ہوئے تھے۔

دسویں صدی میں ملکہ تھیوڈورا نے پالیشین فرقے (ایک عیسائی فرقہ) سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد کو موت کی سزا دی۔ 1118ء میں شہنشاہ الیکسس کامنینس نے بوگومیلی فرقے (ایک اور عیسائی فرقہ) کے ساتھ ایسا ہی سخت سلوک کیا لیکن یہ معاملہ پورے مغربی یورپ میں نہ پھیل سکا۔ اس کے علاوہ یہ فرقے بہت شدت پسند تھے اور عیسائیت، اس کی عبادات و رسومات اور چرچ کی تنظیم کے دشمن تھے۔ یہ فرقے مقامی جاگیردارانہ حکومتوں کے بھی دشمن تھے۔ ان کی دشمنی کا اظہار اپنے حلف سے متعلق ان کے رویے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے فتوی جاری کیا کہ جاگیرداری کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔

ان کے عقائد و نظریات انسانی معاشرے کو جاری رکھنے کے بھی خلاف تھے۔ انہوں نے ایک طرف شادی کی ممانعت کی اور نسل انسانی کو پھیلانے سے روکا اور دوسری طرف انہوں نے اندورا (کتھاری فرقے کا خودکشی کرنے کا قانون) کے ادارے کے ذریعے خودکشی کو فرض قرار دیا۔ یہ کہا جاتا ہے اندورا کے قانون کے تحت جتنے لوگ موت سے ہمکنار ہوئے ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جو انکوئزیشن کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ اس وجہ سے یہ ایک فطری بات یہ تھی کہ یورپ کا نظام، خاص طور پر عیسائی مذہب، ان انقلابی تعلیمات کے خلاف اقدامات کرتا۔

       یہ بات یقینی ہے کہ مدعی علیہ کو اس وقت تک آزادی دی جاتی تھی جب تک کہ اس کا جرم (یعنی مختلف عقائد) گواہی یا اعتراف کی صورت میں مضبوطی سے ثابت نہ ہو جائے۔ اسے اب بھی سزا نہ دی جاتی تھی بلکہ اسے حلف کے تحت یہ وعدہ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ جج کے سامنے آنے کے لئے ہمیشہ تیار رہے گا اور آخر میں اس کے فیصلے کو سچے دل سے تسلیم کر لے گا۔

       یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ تشدد سزا کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ صرف سچ اگلوانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ اپنی اصل میں بھی یہ چرچ کی روایت نہ تھی بلکہ لمبے عرصے تک چرچ کی قائم کردہ عدالتوں میں تشدد ممنوع رہا ہے۔ اپنی اصل میں، تشدد تفتیشی عمل میں کوئی خاص اہمیت بھی نہ رکھتا تھا اور انکوئزیشن کے آغاز کے بعد بیس سال تک اس کی اجازت بھی نہیں تھی۔ تشدد کی سب سے اجازت انوسینٹ چہارم نے 15 مئی 1252ء کو دی جس کی توثیق بعد میں الیگزنڈر چہارم نے 30 نومبر 1259ء کو اور کلیمنٹ چہارم نے 3 نومبر 1265ء کو کی۔

اس عمل میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تشدد کو سچائی اگلوانے کے لئے استعمال ہی کیوں جاتا تھا۔ ایک طرف تو تشدد اس وقت تک کیا جاتا تھا جب تک کہ مدعی علیہ (منحرف عقائد و اعمال کا) اعتراف نہ کر لے یا پھر یہ اشارہ نہ دے دے کہ وہ اعتراف کرنے کے لئے تیار ہے۔ دوسری طرف تشدد کوئی بہت پسندیدہ ذریعہ بھی نہ تھا کیونکہ تشدد کے ذریعے کروایا گیا اعتراف بہرحال آزادانہ اعتراف تو نہیں سمجھا جا سکتا۔

انکوئزیشن کی زیادہ تر سزائیں اپنی نوعیت یا طریق کار کے اعتبار غیر انسانی نہیں تھیں۔ اکثر اوقات تو (بطور سزا) نیک کام کا ہی حکم دیا جاتا جیسے گرجے کی تعمیر، گرجے میں حاضری، قریب یا دور واقع کسی مقدس مقام کی زیارت، (لوگوں کو) موم بتی یا پیالہ پیش کرنا (یعنی چرچ میں خدمت)، مذہبی جنگ میں شریک ہونا وغیرہ وغیرہ۔

دیگر سزاؤں میں کسی حد تک حقیقی نقصان یا تذلیل کا پہلو پایا جاتا ہے جیسے جرمانے جو کہ سماجی مقاصد جیسے گرجے یا سڑک کی تعمیر وغیرہ کے لئے استعمال ہوتے تھے، عبادت کےدوران چھڑی سے پٹائی، عوام کے سامنے ستون سے باندھ دینا، رنگین صلیب پہننا وغیرہ وغیرہ۔ سب سے سخت سزا قید کرنا ہوتی تھی جس کے مختلف درجات تھے۔ چرچ کی کمیونٹی سے انخلاء بھی سخت سزا ہوتی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ وہ شخص قانون کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہو جایا کرتا تھا۔ رسمی طور پر چرچ، توبہ نہ کرنے والے منحرفین کو لٹکا کر موت کی سزا نہیں دیا کرتا تھا

کیتھولک انسائیکلوپیڈیا نے انکوئزیشن کو حق بجانب ثابت کرنے کی جو کوشش کی ہے، اس سے کم از کم یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ چرچ کے طے شدہ عقائد و اعمال سے انحراف کرنے والوں کو بہرحال تفتیش کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ اگرچہ انکوئزیشن کے ابتدائی ادوار میں دوران تفتیش تشدد نہیں کیا جاتا تھا لیکن بعد میں یہ اس عمل کا اگرچہ ناپسندیدہ ہی سہی، لیکن حصہ بن گیا۔

          توبہ کی صورت میں بھی منحرفین کو کچھ سزا دی جاتی تھی اور توبہ نہ کرنے والوں کو موت کی سزا دے دی جاتی تھی۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ بہرحال مذہبی جبر (Religious Persecution) یا نفسیاتی غلامی کی صورتحال موجود تھی اور لوگوں کو اپنے مذہب کے بارے میں اختیار حاصل نہ تھا۔

اسپین میں انکوئزیشن کا ادارہ

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اسپین کی انکوئزیشن، رومی انکوئزیشن سے مختلف تھی اور رومی انکوئزیشن نے اس سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ اس سے متعلق موصوف مقالہ نگار لکھتے ہیں:

The Spanish Inquisition, however, properly begins with the reign of Ferdinand the Catholic and Isabella. The Catholic faith was then endangered by pseudo-converts from Judaism (Marranos) and Mohammedanism (Moriscos). On 1 November, 1478, Sixtus IV empowered the Catholic sovereigns to set up the Inquisition…..

In Spain, however, it remained operative into the nineteenth century. Originally called into being against secret Judaism and secret Islam, it served to repel Protestantism in the sixteenth century, but was unable to expel French Rationalism and immorality of the eighteenth……

Torture was applied only too frequently and too cruelly, but certainly not more cruelly than under Charles V's system of judicial torture in Germany.

(Catholic Encyclopedia, Inquisition, http://www.newadvent.org/cathen/08026a.htm )

اسپینی انکوئزیشن کا آغاز کیتھولک حکمران فرڈینینڈ اور ازابیلا سے ہوا۔ کیتھولک مذہب کو یہودیت اور محمڈن ازم (اسلام) سے بظاہر عیسائی ہوجانے والوں سے خطرہ لاحق تھا۔ یکم نومبر 1478ء کو سکسٹس چہارم نے کیتھولک حکمرانوں کو انکوئزیشن کی عدالتیں قائم کرنے کی اجازت دی۔

اسپین میں انکوئزیشن انیسویں صدی تک چلی ہے۔ اپنی اصل میں یہ خفیہ یہودیت اور خفیہ اسلام کے خلاف تھی اور اس نے سولہویں صدی میں پروٹسٹنٹ ازم کو پیچھے دھکیلنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا لیکن یہ فرانسیسی عقلیت پسندی اور اٹھارہویں صدی کے اخلاقی انحطاط کو باہر نکالنے میں ناکام رہی۔

(اس انکوئزیشن کے دوران اگرچہ تشدد کا استعمال بہت زیادہ اور بہت ظلم کے ساتھ کیا جاتا تھا لیکن یہ یقیناً جرمنی کے چارلس پنجم کے عدالتی تشدد کے نظام کی نسبت کم ظالمانہ ہوا کرتا تھا۔

اس انکوئزیشن اور مذہبی جبر کے رد عمل میں یورپ میں آزادی فکر کی تحریک پیدا ہوئی جس نے آگے چل کر نہ صرف مذہبی غلامی بلکہ ہر قسم کی غلامی کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے لیکن بہتر ہو گا کہ پہلے افریقیوں کی غلامی کا جائزہ لے لیا جائے۔

افریقی غلاموں کی اٹلانٹک تجارت

کولمبیا الیکٹرانک انسائیکلوپیڈیا کے مقالہ نگار افریقیوں کو غلام بنائے جانے کے ارتقا سے متعلق لکھتے ہیں:

A revolution in the institution of slavery came in the 15th and 16th cent. The explorations of the African coast by Portuguese navigators resulted in the exploitation of the African as a slave, and for nearly five centuries the predations of slave raiders along the coasts of Africa were to be a lucrative and important business conducted with appalling brutality. The British, Dutch, French, Spanish, and Portuguese all engaged in the African slave trade. Although Africans were, as early as 1440, brought back to Portugal, and although subsequent importations were large enough to change distinctly the ethnography of that country, it was not in Europe that African slavery was to be most profitable and widespread, but in the Americas, where European exploitation began at the end of the 15th cent.

The first people to be enslaved by the Spanish and Portuguese in the West Indies and Latin America were the Native Americans, but, because the majority of Native American slaves either revolted or escaped, other forms of forced labor, akin to serfdom, were introduced (see repartimiento and encomienda). The resistance of the Native Americans to slavery only increased the demand for Africans to replace them. Africans proved to be profitable laborers in the Caribbean islands and the lowlands of the South American mainland. In the colder highlands Native American slavery or quasi-slavery continued; long after the introduction of the first Africans the Paulistas (inhabitants of the city and state of São Paulo, Brazil) continued their slave raids against the Native Americans of the Brazilian hinterlands. But African slavery gradually became dominant.

The first Africans arrived in the British settlements on the Atlantic coast when they were traded or sold for supplies by a Dutch ship at Jamestown, Va., in 1619. They may have been indentured servants, but by the 1640s lifetime servitude existed in Virginia, and slavery was acknowledged in the laws of Massachusetts. The raising of staple crops—coffee, tobacco, sugar, rice, and, much later, cotton—and the rise of the plantation economy made the importation of slaves from Africa particularly valuable in the Southern colonies of North America.

The slave trade moved in a triangle; setting out from British ports, ships would transport various goods to the western coast of Africa, where they would be exchanged for slaves. The slaves were then brought to the West Indies or to the colonies of North or South America, where they were traded for agricultural staples for the return voyage back to England. Later, New England ports were included in this last leg. The number of slaves in the colonies increased until in some (notably French Saint-Domingue, the modern Haiti) they constituted a majority of the population. In America by the date of the Declaration of Independence (1776) about one fifth of the population was enslaved.

(The Columbia Electronic Encyclopedia,  http://www.infoplease.com/ce6/bus/A0861124.html )

غلامی کے ادارے میں پندھرویں اور سولہویں صدی میں ایک انقلاب پیدا ہوا۔ پرتگیزی ملاحوں نے افریقی ساحلوں کو دریافت کرنے کی جو مہم شروع کی تھی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افریقیوں کو غلام بنایا جانے لگا۔ اگلی پانچ صدیوں تک حملہ آور افریقی ساحلوں پر غلام بنانے کے لئے جاتے رہے اور یہ عمل ایک نفع بخش اور اہم کاروبار بن گیا جس میں ظلم کا عنصر نمایاں تھا۔

انگریز، ڈچ، فرنچ، ہسپانوی اور پرتگیزی سب کے سب افریقی غلاموں کی تجارت میں شریک ہو گئے۔ 1440ء کے زمانے میں بھی افریقی پکڑ کر پرتگال لائے جاتے۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ کسی بھی ملک میں نسلی تناسب تبدیل کر دینے کے لئے کافی تھی۔ صرف یورپ ہی نہیں بلکہ امریکہ میں بھی افریقی غلامی سب سے زیادہ وسیع اور منافع بخش کاروبار بن گیا جس کی مہم جوئی یورپی اقوام نے پندہرویں صدی میں شروع کر دی تھی۔

ہسپانویوں اور پرتگیزیوں نے ویسٹ انڈیز اور لاطینی امریکہ میں جن لوگوں کو سب سے پہلے غلام بنایا وہ امریکہ کے قدیم باشندے تھے۔ قدیم امریکی غلاموں کی اکثریت نے چونکہ بغاوت یا فرار کا راستہ اختیار کیا تھا (اور مارے گئے تھے)، اس وجہ سے مزارعت سمیت، جبری مشقت کی دیگر اقسام کو بھی امریکہ میں متعارف کروایا گیا۔ قدیم امریکیوں کی بغاوت کے نتیجے میں افریقیوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا۔ جزائر کیریبین اور جنوبی امریکہ کے مین لینڈ کے زیریں علاقوں میں افریقی غلام منافع بخش مزدور ثابت ہوئے۔ شمالی امریکہ کے بلند علاقوں میں قدیم امریکیوں کی غلامی یا نیم غلامی جاری رہی۔ افریقیوں کے غلام بنائے جانے کے آغاز کے بہت عرصہ بعد تک برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو کے باشندے پاؤلیستاز نے برازیل میں حملہ کر کے قدیم امریکیوں کو غلام بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بہرحال افریقیوں کی غلامی کا عنصر بتدریج غالب ہوتا چلا گیا۔

1619ء میں افریقی غلاموں کی پہلی کھیپ جو برطانوی علاقوں میں پہنچی، وہ ایک ڈچ جہاز کے ذریعے جیمز ٹاؤن میں لائی گئی۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں متعین مدت کے غلام بھی شامل ہوں لیکن 1640 کے عشرے میں ورجینیا میں ساری عمر کی غلامی رواج پذیر ہو چکی تھی اور میساچوسٹس کے قانون میں غلامی کو جائز قرار دے دیا گیا تھا۔ بنیادی فصلوں جیسے کافی، تمباکو، گنا، چاول اور اس کے بعد کپاس کی بڑھتی ہوئی کاشت کاری نے شمالی امریکہ کی جنوبی کالونیوں میں افریقہ سے غلاموں کی امپورٹ کو نفع بخش بنا دیا۔

       غلاموں کی تجارت نے ایک مثلث کی شکل اختیار کر لی۔ برطانیہ کی بندرگاہوں نے بحری جہاز سامان بھر کر افریقہ کے مغربی ساحلوں کی طرف جاتے اور اس سامان کے بدلے غلام خریدتے۔ ان غلاموں کو ویسٹ انڈیز یا شمالی و جنوبی امریکہ کی برطانوی کالونیوں میں لایا جاتا۔ یہاں سے ان غلاموں کے بدلے زرعی اجناس خریدی جاتیں جنہیں لاد کر واپس انگلینڈ کا سفر کیا جاتا۔ بعد میں (امریکہ کے علاقے) نیو انگلینڈ کی بندرگاہیں بھی اس کام میں استعمال ہونے لگیں۔ ان کالونیوں میں غلاموں کی تعداد بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی کہ یہ آبادی کا اکثریتی حصہ بن گئے۔ 1776ء میں امریکہ کے اعلان آزادی کے وقت آبادی کا پانچواں حصہ غلام تھا۔

فری ڈکشنری کے مقالہ نگار بیان کرتے ہیں کہ یورپ میں مفتوحین کو غلام بنانے کی رسم موجود تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جدید غلامی کے ارتقاء کی تفصیلات بیان کرتے ہیں:

In Spain and Portugal, where the reconquest of the peninsula from the Moors in the 15th century created an acute shortage of labour, captured Muslims were enslaved. They were soon followed by slaves from Africa, imported by the Portuguese prince Henry the Navigator after 1444. Slaves were used for a wide range of tasks, and a regular trade in slaves was established between the Gulf of Guinea in West Africa and the slave markets of the Iberian peninsula.

Slavery became of major economic importance after the 16th century with the European conquest of South and Central America. Needing a labour force, but finding the indigenous inhabitants unwilling or unable to cooperate, the Spanish and Portuguese conquerors used ever-increasing numbers of slaves brought from Africa. Although slavery already existed in Africa, the status and relationship of African slaves to their African masters were very different from chattel slaves. Slaves in Africa were considered part of the extended family of their masters and held a status similar to children or wards. The function of indigenous African slavery was to increase the size of a family or clan rather than to perform labour or to serve as a material asset.

The rise of European capitalism directly influenced the slave trade. American plantation colonies grew and prospered using slaves as a labour force. These slaves had a great impact on the sugar and coffee plantations. A lucrative triangular trade was established - alcohol, firearms, and textiles were shipped from Europe to be traded for slaves in Africa, and the slaves would then be shipped to South or Central America where they would be traded for staples (such as molasses and later raw cotton). In 1619 the first black slaves landed in an English colony in North America (at Jamestown, Virginia). At first few slaves arrived from Africa, and their status as slaves was not legally defined. During the mid 17th century the colonies established the legal status of slavery, and increasing numbers of slaves from Africa were used in the South on coffee, tobacco, sugar, and rice plantations. After the invention of the cotton gin (1793), the demand for slaves soared, so much so that the slave populations of some states exceeded the free populations. Africans were also taken to Europe to work as slaves and servants.

The vast profits from the slave trade to the Americas became a major element in the British economy and the West Indian trade in general. It has been estimated that the British slave trade alone shipped 2 million slaves from Africa to the West Indies between 1680 and 1786. The number of slaves shipped to the Americas in 1790 alone may have exceeded 70,000. According to another estimate, during the nearly 400 years of the slave trade, a total of 15 million Africans were sold into slavery and some 40 million more lost their lives in transit.

Slaves were usually outsiders, removed from their own cultures but denied assimilation into their new ones. In the USA, treatment of slaves varied. Although they were entitled to some rights, such as support during periods of illness and in old age, they were often denied basic human dignities. The slave trade meant forced relocation and the breakup of families, including children from parents. Nevertheless, slaves retained some cultural elements from Africa, such as religious practices, music, and food. Some of these have survived and are evident in African-American culture.

(The Free Dictionary, http://encyclopedia.farlex.com/Chattel+slaves  )

اسپین اور پرتگال کے جزیرہ نما کو جب موروں (ہسپانوی مسلمانوں) سے پندہرویں صدی میں خالی کروایا گیا تو اس کے نتیجے میں مزدوروں کی بہت کمی واقع ہو گئی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اس کے بعد جلد ہی افریقہ سے غلام لائے جانے لگے جس کا آغاز پرتگیز شہزادے ہنری نے 1444ء میں کیا۔ غلاموں کو بہت سے کاموں میں استعمال کیا جانے لگا۔ مغربی افریقہ میں خلیج گنی اور جزیرہ نما آئبیریا (اسپین اور پرتگال پر مشتمل یورپ کا جنوب مغربی کونہ) کی غلاموں کی مارکیٹوں کے درمیان تجارت کا ایک مستقل سلسلہ شروع ہو گیا۔

سولہویں صدی میں جنوبی اور وسطی امریکہ کی یورپی فتوحات کے ساتھ ساتھ غلامی کی معاشی اہمیت بڑھتی چلی گئی۔ ان فاتحین کو مزدوروں کی ضرورت تھی لیکن اصل امریکی باشندے (ریڈ انڈینز) ان سے تعاون کے لئے تیار نہ تھے۔ اس وجہ سے اسپینی اور پرتگیزی فاتحین نے افریقہ سے غلام لا کر انہیں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اگرچہ غلامی افریقہ میں پہلے سے ہی موجود تھی لیکن افریقی آقا اور افریقی غلام کا تعلق اس (امریکی) غلامی سے بہت مختلف تھا جس میں غلاموں کو بے جان مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ افریقی غلام اپنے آقاؤں کے خاندان کا حصہ سمجھے جاتے تھے اور ان سے اپنی اولاد جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ افریقہ کی غلامی کا مقصد ایک بے جان اثاثے کی طرح کمانے کی بجائے خاندان یا قبیلے کی تعداد میں اضافہ کرنا تھا۔

یورپ میں سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقاء نے غلاموں کی تجارت پر گہرا اثر مرتب کیا۔ امریکی زرعی کالونیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور غلاموں کو لیبر فورس کے طور پر استعمال کرنے کے نتیجے میں سرمایہ دار خوشحال ہوتے چلے گئے۔ ان غلاموں نے گنے اور کافی کے پودوں کی کاشت پر بڑا اثر مرتب کیا۔ ایک منافع بخش تجارتی تکون قائم ہو گئی۔ شراب، آتشیں اسلحہ اور کپاس کی مصنوعات کو یورپ سے افریقہ بھیجا جاتا جہاں وہ ان مصنوعات کے بدلے غلام خریدتے۔ ان غلاموں کو جنوبی یا وسطی امریکہ میں بھیج دیا جاتا جہاں ان کے بدلے زرعی اجناس جیسے کپاس یا گنے کی پراڈکٹس خرید کر انہیں یورپ بھیج دیا جاتا۔

1619ء میں غلاموں کی پہلی کھیپ شمالی امریکہ میں جیمز ٹاؤن، ورجینیا کے مقام پر اتری۔ شروع شروع میں ان کا قانونی اسٹیٹس متعین نہ تھا۔ سترہویں صدی میں ان کالونیوں میں غلامی کو قانونی درجہ عطا کیا گیا اور افریقہ سے آنے والے غلاموں کو جنوبی علاقوں میں کافی، تمباکو، گنے اور چاول کی کاشت میں استعمال کیا جانے لگا۔ 1793ء میں کاٹن جننگ مشین کی ایجاد کے بعد، غلاموں کی ڈیمانڈ میں اس تیزی سے اضافہ ہونے لگا کہ بعض ریاستوں میں ان کی تعداد آزاد آبادی کی نسبت زیادہ ہو گئی۔ افریقیوں کو یورپ میں بھی غلاموں اور خدمت گاروں کے طور پر لایا جانے لگا۔

براعظم امریکہ کی غلاموں کی تجارت نے خاص طور پر اور ویسٹ انڈیز کی تجارت نے عمومی طور پرطانوی معیشت کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1680 – 1786CE کے درمیانی عرصے میں اکیلے انگریزوں نے بیس لاکھ سے زائد غلاموں کو افریقہ سے ویسٹ انڈیز منتقل کیا تھا۔ صرف 1790ء میں 70,000 سے زائد غلاموں کو امریکہ منتقل کیا گیا۔ ایک اور اندازے کے مطابق، غلاموں کی تجارت کے ان چار سو برس میں ڈیڑھ کروڑ افریقیوں کو غلام بنا کر بیچا گیا اور تقریباً چار کروڑ افراد منتقلی کے دوران ہی ہلاک ہوئے۔

غلام بیرون ملک سے لائے گئے تھے۔ انہیں ان کے اپنے معاشروں سے کاٹ دیا گیا تھا لیکن انہیں نئے معاشرے میں بھی قبول نہیں کیا گیا تھا۔ امریکہ میں غلاموں کے ساتھ مختلف طریقوں سے معاملہ کیا گیا۔ اگرچہ انہیں بیماری اور بڑھاپے میں علاج جیسے کچھ حقوق دیے گئے لیکن اکثر اوقات انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ غلاموں کی اس تجارت میں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر کے جبراً انہیں دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جاتا۔ بہرحال غلاموں نے افریقی ثقافت کے کچھ اجزا جیسے مذہبی رسومات، موسیقی اور خوراک کو باقی رکھا اور ان میں سے جو باقی بچے، انہیں ہم افریقی امریکی کلچر کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔

کالونیل ازم

سولہویں سے انیسویں صدی کے درمیانی عرصے میں انگریز، فرانسیسی، ڈچ، جرمن، بلجیئنز، ہسپانوی اور پرتگیزی اقوام دنیا کے اطراف میں پھیل گئیں۔ اس عمل میں برطانیہ اور فرانس سب سے آگے تھے۔ اپنی بحری طاقت کی بدولت انہوں نے امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں اپنی نو آبادیاں قائم کر لیں۔ آہستہ آہستہ یہ ان ممالک کی سیاست میں دخیل ہو کر ان ممالک پر حکومت کرنے لگے۔ یہ ایک اجتماعی غلامی کا نظام تھا۔

          یورپی اقوام نے اپنے اقتدار کے دوران اپنے مقبوضات کی قدرتی اور انسانی دولت کو جی بھر کر لوٹا۔ صنعتی انقلاب کے بعد مقبوضہ علاقوں کی معدنی اور زرعی دولت کو بحری جہازوں میں بھر بھر کر یورپ لے جایا جاتا اور وہاں سے تیار شدہ مال کو مقبوضہ ممالک کے عوام کو مہنگے داموں فروخت کر دیا جاتا۔ اس طرز عمل کے باعث یورپی اقوام امیر سے امیر تر اور مقبوضہ ممالک غریب سے غریب تر ہوتے چلے گئے۔

          مفتوحہ ممالک میں آزادی کی تحریکیں کالونیل ازم کے ہر دور میں جاری رہیں۔ اس قسم کی غلامی سے چھٹکارا پانے کی سب سے پہلی مہم امریکہ میں کامیاب ہوئی۔ ایشیا اور افریقہ کی نو آبادیاں بدستور دو صدیوں تک یورپ کے شکنجے میں جکڑی رہیں۔ دنیا کے اقتدار کے حصول کی اس دوڑ کے نتیجے میں بیسویں صدی کے نصف اول میں یورپی قوتوں کے مابین زبردست تصادم پیدا ہوا جس نے دو عالمی جنگوں کی شکل اختیار کر لی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی اقوام اس قابل نہ رہیں کہ وہ ایشیائی اور افریقی ممالک پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکتیں چنانچہ انہیں اپنے مقبوضات کو آزادی دینا ہی پڑی۔

قرون وسطی کے مسلم معاشروں میں موجود غلامی کا مغربی غلامی سے تقابلی جائزہ

جیسا کہ ہم پچھلے ابواب میں بیان کر چکے ہیں کہ مسلم معاشروں میں غلامی کی جو دوسری لہر پیدا ہوئی، وہ دین اسلام کی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ تھی۔ اس انحراف کے باوجود مسلم معاشروں میں موجود غلامی، اہل مغرب کی غلامی سے بہت مختلف تھی۔

          بی بی سی ٹیم کے مقالہ نگاروں نے قرون وسطی کے مسلم معاشروں کی غلامی کا مغربی غلامی سے تقابل کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے قانون یا طرز عمل کو بارہا "اسلام" کہہ کر پکارا ہے جبکہ اس قانون یا طرز عمل کا اسلام کے اصل مآخذ کے عین مطابق ہونا ضروری نہیں۔ اس وجہ سے ہم نے ترجمے میں بعض مقامات پر لفظ "اسلام" کا ترجمہ "مسلمانوں کا قانون" کیا ہیں۔ لکھتے ہیں:

·       The Atlantic trade lasted from the 15th to 19th centuries, the Eastern trade from the 7th or 9th century to the 20th

·       Under Islam slaves were considered people first, and then property. In the Atlantic trade slaves were considered property not people, and often just regarded as units of productive labour

·       Islamic law laid down considerable protection for slaves; those taken for the Atlantic trade had very little protection

·       Islamic law only permitted those conquered in legitimate warfare to be enslaved, all other methods being illegal - although this was often ignored - whereas the Atlantic trade enslaved anyone who had commercial value

·       In Islam, slave-owners were forbidden to take young children from their mothers, something common in the Atlantic trade

·       The owner-slave relationship could be kinder in Islam than in the Atlantic trade, and often more personal

·       Islam recommends the freeing of slaves in itself as a 'good' religious act and says that slaves who convert to Islam should be freed. Zakat (the requirement for charity) was used by Muslim states to free slaves. There were many other avenues whereby a slave could be freed, for example as expiation for irregularities in other religious rituals; as a result many more slaves were freed than in the Atlantic trade

·       Under Islamic law a slave could take his/her master to the Islamic courts to address a grievance, and the judge had the right to grant freedom against the master's wishes and/or other compensations; there was no such protection for slaves taken by the Atlantic trade

·       Islam permitted slaves to attain high office; those taken for the Atlantic trade stayed at the bottom of society

·       In the Atlantic trade there were two males to every female; in the Islamic trade, there were two females to every male

·       Islam permitted women to be enslaved for sexual purposes, although not for prostitution

·       Africans were enslaved in the Atlantic trade to work on an industrial scale in agricultural labour; in the Islamic trade they had a far wider variety of roles

·       The Atlantic trade only involved black Africans; Muslim slavery involved many racial groups

·       Slavery in the Atlantic trade was highly racist, something prohibited in Islam where there was much less institutionalised racism. Both masters and slaves had a wide range of colours and backgrounds; the result is that former slaves became absorbed into the Islamic world, while former slaves remained a discriminated-against underclass in the USA until comparatively recently

·       The nature of the Atlantic trade and therefore the survival of racism in the West has been one of segregation. There wasn't this separation in Islam. Whites didn't push blacks off the pavement. They didn't forbid restaurants to serve them. I don't think that there's any disputing that slavery was a more benevolent institution in Islam than it was in the West.

  (http://www.bbc.co.uk/religion/religions/islam/history/slavery_print.html )

·        بحر اوقیانوس کی غلاموں کی تجارت پندہرویں سے انیسویں صدیوں کے درمیان موجود رہی ہے جبکہ غلاموں کی مشرقی تجارت ساتویں یا نویں صدی سے بیسویں صدی تک موجود رہی ہے۔

·        مسلمانوں کے قانون میں غلاموں کو پہلے انسان اور اس کے بعد جائیداد سمجھا جاتا رہا ہے۔ مغربی تجارت میں غلاموں کو انسان کی بجائے محض ایک جائیداد سمجھا جاتا تھا۔ اکثر انہیں پیداواری صلاحیت رکھنے والی محنت سے تشبیہ دی جاتی تھی۔

·        مسلمانوں کے قانون نے غلاموں کو کافی تحفظ مہیا کیا ہے جو کہ اٹلانٹک تجارت میں نظر نہیں آتا۔

·        مسلمانوں کے قانون نے صرف اور صرف جائز جنگ میں دشمن کو غلام بنانے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں غلام بنانے کے تمام طریقوں کو ممنوع قرار دیا ہے البتہ اس اصول کو اکثر اوقات نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اٹلانٹک تجارت میں ہر اس شخص کو غلام بنا لیا جاتا رہا ہے جس کی کچھ کمرشل ویلیو ہوتی۔

·        اسلام میں، غلاموں کو مالکوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ماؤں سے ان کے بچوں کو چھین سکیں۔ اٹلانٹک تجارت میں یہ ایک عام معمول رہا ہے۔

·        مسلمانوں کے ہاں اٹلانٹک تجارت کے برعکس آقا اور غلام کا تعلق زیادہ ذاتی نوعیت کا اور رحم دلی پر مبنی رہا ہے۔

·        اسلام غلام آزاد کرنے کو بذات خود ایک اچھا مذہبی عمل قرار دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ جو غلام اسلام قبول کر لیں، انہیں آزاد کر دیا جائے۔ زکوۃ (یعنی لازمی خیرات) کو مسلم حکومتیں غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ایسے مواقع بھی موجود رہے ہیں جن میں غلام کو آزاد کر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مذہبی رسومات میں غلطیوں کے کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنے کا حکم موجود ہے۔ ان طریقوں سے غلاموں کی جس تعداد نے آزادی حاصل کی ہے، اس کی تعداد اٹلانٹک تجارت کے آزاد کردہ غلاموں سے کہیں زیادہ ہے۔

·        اسلامی قانون میں کوئی غلام اپنے آقا کی جانب سے تکلیف پہنچنے پر اس کے خلاف اسلامی عدالتوں میں مقدمہ چلا سکتا ہے اور جج کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آقا کی مرضی کے خلاف غلام کو آزادی دے دے یا اس آقا پر کوئی اور جرمانہ عائد کر دے۔ اٹلانٹک تجارت میں غلاموں کو ایسا کوئی تحفظ نہیں دیا گیا۔

·        اسلام غلاموں کو معاشرے میں اعلی ترین عہدہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اٹلانٹک تجارت میں غلام معاشرے کا پست ترین طبقہ ہی رہے ہیں۔

·        اٹلانٹک تجارت میں مرد غلاموں کی تعداد خواتین سے دوگنا رہی ہے جبکہ مسلمانوں کے ہاں، خواتین غلاموں کی تعداد مردوں سے دوگنا رہی ہے۔

·        مسلمانوں کا قانون کسی خاتون غلام سے صرف ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے عصمت فروشی کروانے کی نہیں۔

·        اٹلانٹک تجارت میں زراعت میں بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لئے لوگوں کو غلام بنایا گیا جبکہ مسلمانوں کے ہاں انہیں مختلف کاموں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

·        اٹلانٹک تجارت میں صرف سیاہ فام افریقی ہی غلام تھے جبکہ مسلمانوں کے ہاں بہت سی نسلوں سے تعلق رکھنے والے غلام موجود تھے۔

·        اٹلانٹک تجارت کی غلامی بڑے درجے میں نسل پرستی پر مبنی تھی جبکہ اسلام میں نسل پرستی سختی سے منع ہے۔ مسلمانوں کے ہاں نسل پرستی کو بہت ہی کم درجے میں سماجی ادارے کی شکل دی گئی ہے۔ آقا اور غلام سب ہی مختلف رنگ اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہوا کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ سابقہ غلام باآسانی مسلم معاشرے میں جذب ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے برعکس امریکہ میں موجودہ دور تک سابقہ غلام معاشرے میں ایک الگ طبقے کی صورت میں موجود ہیں۔

·        اٹلانٹک تجارت کی صورت یہ تھی کہ اس کے نتیجے میں مغرب میں نسلی امتیاز پیدا ہوا۔ مسلمانوں کے ہاں یہ امتیاز نہیں تھا۔ ان کے ہاں کوئی سفید فام، سیاہ فام کو اپنے احاطے سے نہیں نکال سکتا۔ وہ ہوٹلوں میں انہیں کھانا مہیا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس بارے میں کوئی اختلاف موجود ہے کہ مسلمانوں کے ہاں غلامی، مغرب کی نسبت ایک ایسا ادارہ تھی جس میں احسان کا عنصر غالب تھا۔

ان نکات میں یہ اضافے بھی کئے جا سکتے ہیں۔

·        مزارعوں کی نیم غلامی کی جو صورت مغرب میں رائج تھی، کم و بیش وہی صورت مسلمانوں کے ہاں بھی رائج رہی ہے۔ مسلم جاگیرداروں کا سلوک بھی بالعموم اپنے مزارعوں سے وہی رہا ہے جو مغربی جاگیرداروں کا اپنے مزارعوں سے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مسلم جاگیرداروں میں جو لوگ کسی حد تک نیکی کی طرف مائل ہوتے تھے، وہ اپنے مزارعوں سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کی بہرحال مسلم معاشروں میں کمی نہیں رہی ہے۔ یہ وہ جاگیردار تھے جن کی وفات پر ان کے وارثوں سے زیادہ ان کے مزارعے رویا کرتے تھے۔

·        مسلم اور عیسائی دنیا کی فکری و نظریاتی غلامی میں فرق یہ تھا کہ اگرچہ دونوں کے ہاں ایک مذہبی طبقہ موجود رہا ہے جو ہر نئی فکر کو دبانے کے لئے کوشاں رہا ہے لیکن عیسائی دنیا میں اس طبقے کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ جس کسی نے کلیسا کی فکر سے معمولی درجے میں بھی انحراف کیا، اسے انکوئزیشن کی عدالتوں کے ذریعے سخت سزا دی گئی۔ مسلم معاشروں میں معاملہ کفر و الحاد کے فتووں تک ہی محدود رہا اور حکومتی سطح پر بالعموم بڑی کاروائیوں سے اجتناب کیا جاتا رہا۔ البتہ کفر کے ان فتووں کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ فتوے متعلقہ شخص کا مکمل سماجی بائیکاٹ کر دیا کرتے تھے جس کی تکلیف شاید حکومتی سزا سے کچھ زیادہ ہی ہو گی۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability