بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ پنجم: غلامی اور دور جدید

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 17: غلامی کے خاتمے کی عالمی تحریک

تیرہویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک کا یورپ تضادات کا مجموعہ رہا ہے۔ ایک طرف یہاں چرچ کی جانب سے انکوئزیشن کے ادارے نے لوگوں کو نفسیاتی غلامی پر مجبور کیا اور دوسری طرف اس کے رد عمل میں آزادی فکر کی ایک عظیم تحریک نے جنم لیا۔ ایک طرف یورپی اقوام ایشیا، امریکہ اور افریقہ کے عوام کو غلام بنا کر ان کے وسائل لوٹتی رہیں اور دوسری طرف خود یورپ میں غلاموں کی آزادی کی تحریک پیدا ہوئی۔ ایک طرف جنوبی یورپ کے ممالک جیسے اٹلی اور اسپین میں مذہبی انتہا پسندی کی سی کیفیت رہی اور دوسری طرف مغربی یورپ کے ممالک جیسے فرانس اور برطانیہ میں پروٹسٹنٹ ازم، انلائٹنمنٹ، اور آزادی فکر کی تحریکیں پنپتی رہیں۔ اس باب میں ہم یورپ سے آغاز کرتے ہوئے دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا جائزہ لیں گے۔

یورپ میں آزادی فکر کی تحریک

یورپ میں آزادی فکر کی تحریک کا آغاز سترہویں صدی عیسوی کے ابتدائی سالوں میں ہوا۔ انکوئزیشن کی عدالت نے جب جیارڈانو برونو کو 1600ء موت کی سزا سنائی تو اس کے نتیجے میں پورے یورپ میں ایک فطری ردعمل پیدا ہوا۔ برونو کا جرم یہ تھا کہ مذہب اور کائنات سے متعلق ان کے عقائد چرچ کے عقائد سے مختلف تھے۔ الزامات ثابت ہونے کے بعد برونو سے توبہ کرنے کے لئے کہا گیا جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر انکوئزیشن کی عدالت نے برونو کو موت کی سزا دے دی۔

          برونو اور دیگر فلسفیوں کو دی جانے والی سزاؤں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے یورپ میں چرچ کے خلاف ردعمل کی تحریک پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس تحریک کی رفتار شروع میں کافی سست تھی۔ سترہویں صدی کے اختتام تک "آزاد مفکر (Free Thinker)" کی اصطلاح برطانیہ میں وجود میں آ چکی تھی۔ 1697ء میں ولیم مولینکس اور 1713ء میں انتھونی کولنس کی آزاد فکر سے متعلق تحریریں یورپ میں مقبولیت اختیار کرنے لگیں۔ فرانس میں یہ تحریک کچھ عرصہ بعد مضبوط ہوئی اور اس پر پہلی باقاعدہ تحریر 1765ء میں منظر عام پر آئی۔ اس دور کے مشہور فلسفی ایمانویل کانٹ لکھتے ہیں:

For enlightenment of this kind, all that is needed is freedom. And the freedom in question is the most innocuous form of all freedom to make public use of one's reason in all matters. But I hear on all sides the cry: Don't argue! The officer says: Don't argue, get on parade! The tax-official: Don't argue, pay! The clergyman: Don't argue, believe! (Only one ruler in the world says: Argue as much as you like and about whatever you like, but obey!). (Immanuel Kant; What is Enlightenment?)

اس قسم کی روشن خیالی کے لئے سب سے زیادہ ضرورت آزادی کی ہے۔ زیر بحث آزادی، ہر قسم کی آزادیوں کی سب سے بے ضرر قسم ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں انسانی عقل کو کھلے عام استعمال کیا جائے۔ لیکن میں ہر طرف سے یہی پکار سنتا ہوں، "بحث نہیں کرو۔" (فوجی) آفیسر کہتا ہے، "بحث نہیں کرو، پریڈ پر چلو۔" ٹیکس وصول کرنے والا کہتا ہے، "بحث نہیں کرو، ٹیکس ادا کرو۔" مذہبی راہنما کہتا ہے، "بحث نہیں کرو، (میری بات پر) ایمان لاؤ۔" دنیا میں صرف ایک حکمران ایسا ہے جو کہتا ہے، "جتنی چاہے بحث کرو اور جس موضوع پر چاہو بحث کرو لیکن میری اطاعت بہرحال کرو۔"

انگلینڈ کی نسبت فرانس کی تحریک میں الحاد یعنی خدا کے انکار کا پہلو زیادہ نمایاں تھا۔ یہ خیالات یورپ بھر میں پھیلتے چلے گئے۔ انیسویں صدی کے پہلے نصف میں یہ تحریک جرمنی میں کافی مضبوط ہو چکی تھی۔ 1848ء میں جرمن انقلاب کے بعد آزاد مفکرین جن میں دہریے اور ملحدین بھی شامل تھے کی بڑی تعداد جرمنی سے ہجرت کر کے امریکہ کے علاقے ٹیکساس میں آ کر آباد ہو گئی جس کے نتیجے میں اس تحریک کے اثرات امریکہ تک بھی پہنچے۔

          یورپ میں آزادی فکر کی تحریک کا ایک بڑا نتیجہ انقلاب فرانس کی صورت میں نکلا جس کے نتیجے میں یہاں بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریت کا ارتقا ہوا۔ اس عامل نے بھی غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

کیپیٹل ازم اور غلامی

اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں میں یورپ کی معیشت میں ایک بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی جس نے غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تبدیلی صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) کہلاتی ہے۔ اس سے پہلے یورپ کی معیشت بھی ایک زرعی معیشت تھی جسے چلانے کے لئے جاگیردارانہ نظام اپنے تمام تر ظلم و ستم کے ساتھ موجود تھا۔ زیادہ تر یورپی ممالک میں کھیت کسی فیوڈل لارڈ کی جاگیر ہوا کرتے تھے اور ان کھیتوں پر کام کرنے والے لوگ اس لارڈ کے غلام یا نیم غلام ہوا کرتے تھے۔

          صنعتی انقلاب کے بعد یورپ اور اس کی کالونی امریکہ میں بڑے پیمانے پر صنتعیں لگانے کا عمل شروع ہوا۔ ان صنعتوں میں بڑی تعداد میں کارکنوں کی ضرورت پڑی۔ یہ کارکن زرعی فارموں میں بطور غلام موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ داروں نے ان کارکنوں کے حصول کے لئے غلامی کے خاتمے کی تحریک کا بالعموم ساتھ دیا۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ سرمایہ داروں نے فرار ہونے والے غلاموں کو اپنی فیکٹریوں میں پناہ دی۔ سرمایہ دار ایسا غلاموں کی محبت میں نہیں بلکہ اپنے فائدے کے لئے کر رہے تھے۔

          اس دور میں زرعی سیکٹر کے لئے مشینوں کی ایجاد کے بعد غلام رکھنے کی لاگت، مشین سے زیادہ پڑنے لگی جس نے غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ غلام کے مقابلے میں آزاد ورکر کی پیداواری صلاحیت زیادہ تھی کیونکہ غلام کے مقابلے میں آزاد ورکر، دولت کمانے کے لئے زیادہ متحرک (Motivated) ہوا کرتا تھا۔ ایوسے ڈومر (d. 1970CE) نے اپنی تحریر The Causes of Slavery & Serfdom: A Hypothesis غلامی کے خاتمے کی یہی وجوہات بیان کی ہیں۔

          سرمایہ داری کے فروغ نے ایک اور قسم کی غلامی کو جنم دیا۔ مزدور کو اگرچہ ایک جگہ کام چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کی اجازت تھی لیکن اس کےباوجود اس کی حالت زرعی غلام سے بھی بدتر ہوتی چلی گئی۔ کھلے کھیتوں میں اپنی مرضی کے اوقات میں کام کرنے کی نسبت بند فیکٹری میں غیر صحت مند ماحول میں طویل اوقات کے لئے کام کرنا نہایت تکلیف دہ عمل تھا۔ اس وقت کے صنعتی مزدوروں کی حالت زار کا اندازہ کارل مارکس کی کتاب "داس کیپیٹیل" سے لگایا جا سکتا ہے۔

          ان مزدوروں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے سوشلسٹ تحریک کا آغاز ہوا۔ اس تحریک نے سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے یقیناً یہ بڑی کامیابی حاصل کی کہ مزدوروں کو میڈیکل، چھٹی، اچھی تنخواہیں اور دیگر سہولیات فراہم کر دی گئیں البتہ جہاں یہ تحریک کامیاب ہوئی وہاں اس نے ایک اور قسم کی بدترین غلامی کو جنم دیا۔

کمیونزم اور غلامی

کمیونسٹ تحریک کو جب روس اور چین میں اقتدار ملا تو انہوں نے غلامی کی ایک بدترین شکل کو جنم دیا جس میں پوری پوری اقوام کو کمیونسٹ پارٹی کا غلام بنا لیا گیا۔ اس غلامی میں انسانوں کو جن حقوق سے محروم کیا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے:

·       انسانوں کو ذاتی جائیداد رکھنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ ہر شخص کی ملکیت میں جو پراپرٹی تھی، اسے حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا۔

·       صرف اور صرف ایک سیاسی جماعت، کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی اجازت دی گئی۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی دوسری سیاسی جماعت یا نظریے کی بنیاد رکھ سکے۔

·       سرکاری نظریے اور اقدامات پر تنقید کرنے کا حق چھین لیا گیا اور آزادی اظہار کا خاتمہ کر دیا گیا۔

·       لوگوں کی جان، مال اور عزت کے خلاف کاروائی کرنے کا حق سوویت انٹیلی جنس ایجنسی (KGB) کو دے دیا گیا۔

·       جوزف اسٹالن کے دور میں کثیر تعداد میں ان لوگوں کو قتل کر دیا گیا جن کے بارے میں یہ شبہ موجود تھا کہ وہ کمیونزم نظام سے ذرا سا بھی اختلاف رکھتے ہیں۔ اسٹالن کے دور میں جن افراد کا موت کی سزا دی گئی، ان کا اندازہ 8,000,000  سے لے کر 50,000,000 تک لگایا گیا ہے۔ درست اندازہ لگانا اس وجہ سے ممکن نہیں ہے کہ سوویت حکومت کے ریکارڈز تک کسی کو رسائی حاصل نہ تھی۔

·       بسا اوقات پوری پوری کمیونٹی کو چند افراد کے جرائم کی سزا دی گئی۔ ان میں جرمن، یونانی، تاتار اور چیچنی کیمونٹیز شامل ہیں۔

·       آزادی اظہار پر ہر طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں اور سینسر شپ کو سختی سے نافذ کیا گیا۔

·       عوام الناس پر اکٹھا ہو کر اجتماع کرنے یا کوئی تنظیم بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔

·       مذہب پر پابندی عائد کر کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو بری طرح کچل دیا گیا۔ ان میں عیسائی، مسلمان، یہودی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔

·       حکومت کی اجازت کے بغیر کسی شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ بعض شہروں کو "بند شہر" قرار دے کر ان میں داخلے کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

·       کمیونسٹ چین میں روس کی نسبت صورتحال کچھ بہتر تھی اور لوگوں پر روس کی نسبت کم پابندیاں عائد کی گئیں۔ مذہب کی اجازت دے دی گئی لیکن اس پر بہت سی دیگر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ سیاسی آزادی کو تقریباً ختم کر دیا گیا۔ ہر خاندان پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ ایک سے زائد بچہ پیدا نہیں کر سکتے۔ آزادی اظہار کی اجازت پورے کمیونسٹ دور میں موجود نہیں رہی۔

·       کمیونسٹ غلامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نظام کی جو باقیات ابھی تک کیوبا میں موجود ہیں، ان میں انسانوں پر اس قدر جبر روا رکھا گیا ہے کہ اپریل 2008ء تک یہاں کے عوام کو کمپیوٹر رکھنے کی اجازت حاصل نہ تھی۔

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کمیونسٹ تحریک نے سرمایہ دارانہ ممالک میں مزدوروں کو بہت سے حقوق دلا کر انہیں غلامی سے بڑی حد تک آزاد کر دیا ہے لیکن کمیونسٹ ممالک میں اس تحریک نے تاریخ کی بدترین غلامی کو جنم دیا۔

جدید مغربی دنیا میں غلامی کے خاتمے کی تحریک

آزادی فکر کی تحریک کے نتیجے میں مختلف معاشروں میں چرچ کی گرفت ڈھیلی پڑتی چلی گئی اور "آزادی فکر" اور "آزادی اظہار رائے" بڑی اقدار کے طور پر ابھریں۔ جب "فکر کی آزادی" معاشرے کی ایک بڑی قدر بن جائے تو اس کے نتیجے میں خود بخود "جسم کی آزادی" کا بھی ایک مثبت قدر بننا بعید از قیاس نہیں ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ میں غلاموں کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی جس کے واقعات کو ہم برطانوی محقق، بریکن کیری کی "سلیوری ٹائم لائن" کے حوالے سے بیان کریں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے ماخذوں میں افریقہ آن لائن اور پبلک براڈکاسٹنگ سروس شامل ہیں۔ ان اداروں کے لنک یہ ہیں:

·       بریکن کیری: http://www.brycchancarey.com/slavery/chrono1.htm

·       افریقہ آن لائن: http://www.africanaonline.com/slavery_timeline.htm

·       پبلک براڈکاسٹنگ سروس: http://www.pbs.org/wnet/slavery/timeline/index.html

دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کی ٹائم لائن کچھ یوں ہے:

·       1335ء میں اسکنڈے نیویا کے ممالک میں غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس کے باوجود یہاں کئی صدیوں تک غلامی موجود رہی ہے۔

·       1400ء میں یورپ کے باقی حصوں میں میں روایتی غلامی اور نیم غلامی موجود تھی۔

·       1441ء میں افریقی غلاموں کی تجارت کا آغاز ہوا۔

·       1492ء میں سقوط غرناطہ کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کی کثیر تعداد کو غلام بنا لیا گیا۔

·       1492ء ہی میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا۔

·       1510ء میں افریقی غلاموں کو نئی دنیا یعنی شمالی و جنوبی امریکہ بھیجنے کا عمل شروع ہوا۔

·       1522ء میں غلاموں کی پہلی بغاوت وقوع پذیر ہوئی۔

·       1571ء میں فرانس کے ایک شہر بورڈیاکس میں مقامی پارلیمنٹ نے شہر میں موجود تمام سیاہ فام اور مسلمان غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم جاری کیا۔

·       1600ء میں اسپین کے بادشاہ فلپ سوئم نے ہسپانوی کالونیوں میں ریڈ انڈین غلاموں کے استعمال کو ختم کرنے کا حکم دیا۔

·       1604ء اور اس کے بعد کے سالوں میں شیکسپئر کے غلامی سے متعلق ڈراموں نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

·       1652ء میں “Religious Society of Friends” کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ لوگ عرف عام میں کویکر (Quakers) کہلاتے تھے۔ اس کے بانی کا نام جارج فاکس ہے۔ یہ مذہبی عیسائیوں کا ایک گروہ تھا جو موجودہ مذہبی فرقوں سے مطمئن نہ تھے۔ اگرچہ ابتدائی ایام میں اس تحریک کو مذہبی جبر کا سامنا کرنا پڑا لیکن جلد ہی یہ تحریک پورے یورپ اور امریکہ میں پھیلتی چلی گئی۔ اس تحریک نے بعد میں غلامی کے خاتمے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

·       1671ء میں جارج فاکس اور ان کے ساتھی ولیم ایڈمنڈسن نے بارباڈوس کا دورہ کیا۔ یہاں انہوں نے کھیتوں میں کام کرنے والے غلاموں کے مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے غلاموں سے انسانی سلوک کریں اور انہیں نرمی سے عیسائیت کی تبلیغ کریں۔ اس تنبیہ کے نتیجے میں ایک بڑا جھگڑا پیدا ہوا۔

·       1676ء میں جارج فاکس نے اپنی کتاب شائع کی جس میں انہوں نے غلاموں سے انسانی سلوک کرنے کی ترغیب دی۔ یہ کتاب یورپ اور امریکہ میں بہت مقبول ہوئی۔ اس کے بعد غلامی کے خلاف بہت سے حلقوں کی جانب سے کتب تواتر سے منظر عام پر آنے لگیں۔

·       1705ء میں فرار ہو جانے والے غلاموں کو نیویارک کی ریاست نے موت کی سزا دینے کا قانون بنایا۔ اس کے بعد مختلف ریاستوں میں غلاموں سے متعلق قوانین سخت ہوتے چلے گئے اور ان سے بہت سے حقوق چھین لئے گئے۔ ان قوانین میں غلاموں کو ایک بے جان جائیداد قرار دیا گیا۔

·       1712ء میں پنسلوانیا نے غلاموں کی امپورٹ پر پابندی عائد کر دی۔ اسی سال غلاموں کی بغاوت بھی ہوئی جس میں انیس باغیوں کو موت کی سزا دے دی گئی۔

·       1723ء میں ورجینیا میں غلاموں کو آزادی دینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

·       1723ء ہی میں روس میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

·       1730-1750ء کے درمیانی عرصے میں امریکہ میں غلاموں کی تعداد آزاد افراد کی نسبت زیادہ ہو گئی۔

·       1739ء میں جنوبی کیرولینا میں غلاموں کی ایک اور بڑی بغاوت ہوئی جس میں 40 سیاہ فام اور 20 سفید فام افراد مارے گئے۔

·       1758ء میں کویکرز نے اپنے ممبرز پر یہ پابندی عائد کر دی کہ وہ غلام نہیں رکھ سکیں گے۔

·       1775ء میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی پہلی سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا۔

·       1776ء میں امریکہ، برطانوی غلامی سے آزاد ہو گیا۔

·       1783ء کے بعد برطانیہ میں غلامی کے خاتمے کی تحریک زور پکڑتی گئی۔ اگلے دو عشروں میں کویکر اور دیگر تحریکوں نے غلامی پر پابندی عائد کرنے کی زبردست مہم چلائی۔

·       1784ء میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے حامیوں کی پیش کردہ تجویز کو مسترد کر دیا گیا کہ 1800ء کے بعد غلامی کو مکمل ختم کر دیا جائے۔ اس کے بعد کے عرصے میں مختلف ریاستوں میں کچھ قانون بنائے گئے جن میں کچھ غلاموں کے حق میں اور کچھ ان کے خلاف تھے۔

·       1791ء میں فرانس میں غلامی کے خاتمے کا قانون بنایا گیا لیکن 1802ء میں اسے منسوخ کر کے دوبارہ غلامی کی اجازت دے دی گئی۔

·       1793ء میں امریکہ میں ایک قانون منظور ہوا جس کے تحت فرار ہو جانے والے غلاموں کو پکڑنے کی کوششوں میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔

·       1800-1850ء کے درمیانی عرصے میں امریکہ میں غلاموں کی بہت سی بغاوتیں ہوئیں۔ غلاموں کے فرار میں اضافہ ہوا۔ ان میں سے بہت سے غلام کینیڈا میں جا کر چھپ گئے اور کینیڈا کی حکومت نے انہیں پکڑ کر واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ اس عرصے میں مختلف ریاستوں میں قانون سازی کا عمل جاری رہا جن میں کچھ قوانین غلاموں کے حق میں اور کچھ ان کے خلاف تھے۔ بعض ریاستوں میں غلاموں کو آزادی دینے کی اجازت دے دی گئی۔ اسی دوران مختلف ریاستوں میں "اینٹی غلامی" سوسائٹیوں کا قیام عمل میں لایا جاتا رہا۔ بعض ریاستوں میں غلامی پر پابندی عائد کی جانے لگی۔

·       1807ء میں برطانیہ میں غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد غلاموں کو لانے والے بحری جہازوں کے کپتانوں پر سو پاؤنڈ فی غلام جرمانہ عائد کیا جانے لگا۔

·       1807ء ہی میں جرمنی میں غلامی پر پابندی لگا دی گئی۔

·       1808ء میں امریکہ میں افریقہ سے غلاموں کی امپورٹ پر پابندی عائد کر دی گئی البتہ ان کی اسمگلنگ اس کے بعد بھی جاری رہی۔

·       1807-35ء کے عرصے میں برازیل کے علاقے باھیہ میں مسلمان افریقی غلاموں نے ایک بڑی بغاوت پیدا کی۔ انہوں نے اسے جہاد قرار دیا۔ اس میں غلاموں کے ساتھ ساتھ آزاد مسلمان بھی شریک ہوئے۔ یہ بغاوت کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کی تفصیلات محمد شریف بن فرید نے اپنی کتاب “Bahia Slave Revolt” میں بیان کی ہیں۔

·       1819ء میں ورجینیا کی ریاست نے غلام یا آزاد، سیاہ فام افراد کو تعلیم دینے پر پابندی عائد کر دی۔ اسی اثنا میں بعض دیگر ریاستوں جیسے جارجیا وغیرہ میں غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کر دی گئی۔

·       1833ء میں برطانیہ میں غلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کا اطلاق برطانوی کالونیوں بشمول ہندوستان، پر بھی ہوتا تھا لیکن وہاں غلامی کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔

·       1835ء میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے سے متعلق لٹریچر شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

·       1849-50ء میں امریکہ میں غلاموں میں فرار ہو کر ان ریاستوں میں جانے کا رجحان رہا جہاں غلامی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

·       1850ء ہی میں فرانس میں غلامی پر دوبارہ پابندی عائد کر دی گئی لیکن افریقہ میں فرانسیسی نو آبادیوں میں غلامی اس کے بعد بھی جاری رہی۔

·       1852ء میں امریکہ میں غلاموں کی حالت زار سے متعلق ایک ناول شائع ہوا جس کی تین لاکھ کاپیاں بہت کم عرصے میں فروخت ہو گئیں۔

·       1857ء میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سیاہ فام امریکی شہری نہیں ہو سکتے اور کانگریس کو غلامی کے خلاف قانون سازی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

·       1860ء کے عشرے میں امریکہ کی خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ ٹیکساس نے غلاموں کو آزادی دینے کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ خانہ جنگی میں بعض افواج نے غلاموں کو بطور فوجی قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعض افواج نے انہیں اپنا حصہ بنا لیا۔ ابرہام لنکن امریکہ کے صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے غلامی کے خاتمے کا منصوبہ پیش کیا۔

·       1861ء میں روس میں مزارعوں کی آزادی کی اصلاح کو نافذ کیا گیا۔

·       1865ء میں امریکی آئین میں تیرہویں ترمیم کے ذریعے غلامی کے خاتمے کا مکمل اعلان کر دیا گیا۔ اس قانون کا اثر نہ صرف امریکہ میں ہوا بلکہ اس نے آنے والے وقت میں دنیا کے بہت سے حصوں میں بھی غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ افسوس ابرہام لنکن کے جانشین موجودہ دور میں دیگر اقوام کے وسائل پر قبضہ کرنے کے انہیں غلام بنانے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی کے عروج و زوال کے قانون کے تحت بعید نہیں کہ اس جرم کی پاداش میں اگلے چند عشروں میں انہیں سپر پاور کی حیثیت سے معزول کر دیا جائے۔

·       1888ء میں برازیل میں غلامی کے مکمل خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس سے پہلے 1871ء میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اب سے غلاموں کے جو بچے بھی پیدا ہوں گے وہ آزاد ہوں گے۔

·       1910ء میں چین میں غلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا لیکن اس کے بیس سال بعد بھی غلام بچوں کی بڑی تعداد چین میں موجود تھی۔

·       1948ء میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت غلامی کی ہر حالت کو ممنوع قرار دیا گیا۔

ان تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کے ادارے کا خاتمہ کوئی آسان عمل نہ تھا۔ غلامی کے خاتمے کی تحریک کو یورپ اور امریکا میں بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے بعد جا کر کہیں غلامی کا قانون کی حد تک خاتمہ ممکن ہو سکا ہے۔ جہاں تک غیر قانونی غلامی اور نیم غلامی کا تعلق ہے تو یہ دنیا میں اب بھی موجود ہے۔

          موجودہ مغربی معاشروں میں غلاموں کی اب چھٹی ساتویں نسل موجود ہے لیکن آج تک وہ اپنے معاشروں میں جذب نہیں ہو سکے۔ ایک افریقی امریکی مصنفہ ڈاکٹر روزی ملیگن لکھتی ہیں:

The implications an the after-effects of slavery, did a lot of damage to both the minds and the economy of colored people even years after slavery. Racism still flourishes in society. Unfortunately, it is one of those predicaments Blacks have to face in their economic struggle….. Things have changed and times are different, but many Blacks today are suffering from the after-effects of the struggle for justice.....

Our outcry of racism has emotionally crippled us as we continue to suffer from a self-imposed inferiority complex, complacency, and impotence of action. Everybody knows we must develop a strong economic base through networking and being dedicated to successful strategies in business. We must get rid of this slave mentality to free our minds from cognitive blindness, and mental paralysis. These are serious diseases causing lack of progress for Black people.

(Dr. Rosie Milligan, Solutions to Black Predicaments: Changing the Mindset of People in Mental Slavery!)

غلامی کے بعد کے اثرات نے رنگ دار نسل کے لوگوں کے ذہنوں اور معاش کو غلامی کے بہت عرصے بعد بھی تباہ کئے رکھا ہے۔ معاشرے میں اب بھی نسل پرستی موجود ہے۔ بدقسمتی سے یہ ان نحوستوں میں سے ایک ہے جن کا سامنا ایک سیاہ فام کو اپنی معاشی جدوجہد میں کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔ چیزیں بدل چکی ہیں اور وقت مختلف ہے لیکن بہت سے سیاہ فام آج بھی انصاف کے حصول کی جدوجہد کے بعد کے نتائج کو بھگت رہے ہیں۔۔۔

نسل پرستی کی پکار نے ہمیں جذباتی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور ہم مسلسل خود پر مسلط احساس کمتری، احساس محرومی اندرونی کمزوری کا شکار ہیں۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ہمیں تعلقات بڑھانے کے ذریعے اور کاروبار میں کامیاب حکمت عملی اختیار کرنے کے ذریعے اپنی معاشی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے۔ ہمیں غلامانہ ذہنیت سے نجات حاصل کرنا ہو گی تاکہ ہمارے دماغ نفسیاتی اندھے پن اور ذہنی جمود سے آزاد ہو سکیں۔ یہ وہ سنگین بیماریاں ہیں جو سیاہ فام افراد کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

جدید مسلم دنیا میں غلامی کے خاتمے کی تحریک

جدید مسلم دنیا میں غلامی کے خاتمے کے لئے چند عوامل نے اہم کردار ادا کیا۔ ان عوامل میں سب سے اہم اور فیصلہ کن عامل یہ تھا کہ مغرب میں غلاموں کی آزادی کی تحریک کا اثر یورپی اقوام کی نوآبادیات پر بھی پڑا۔ 1844ء میں برطانوی حکومت نے برصغیر میں غلامی کے خاتمے کا ایکٹ نافذ کیا۔ یہی کام مصر میں انہوں نے 1896ء میں کیا۔ جن ممالک میں ان کی نوآبادیات قائم نہیں تھیں وہاں انہوں نے متعلقہ حکومتوں پر دباؤ ڈال کر انہیں اس بات کے لئے مجبور کیا کہ وہ غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیں۔

          غلامی کے خاتمے میں اگرچہ مغربی دباؤ نے اہم ترین اور فیصلہ کن کردار ادا کیا مگر یہ بات درست نہیں ہے کہ اس میں مسلم معاشروں کے اندر کوئی اندرونی دباؤ موجود نہ رہا تھا۔ انیسویں صدی کی مسلم فکر میں غلامی سے متعلق سوچ گہری تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان میں سے بعض کی طرف بی بی سی کے مقالہ نگار نے بھی اشارہ کیا ہے۔ ان تبدیلیوں کی تفصیل یہ ہے:

·       غلاموں کی اٹلانٹک تجارت کے خاتمے نے بعض مسلم مفکرین میں غیرت پیدا کی کہ غیر مسلم تو اپنے غلاموں کو آزاد کر رہے ہیں جبکہ مسلمان اپنے دین کی تعلیمات کے باوجود انہیں بدستور غلامی بنائے رکھے ہوئے ہیں۔

·       بعض مفکرین نے انسانی مساوات کے اسلامی تصور کو وہی اہمیت دینا شروع کر دی جسے ایک عرصے سے مسلمانوں کے ذہین لوگ بھلا چکے تھے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں غلامی کے ایک غیر انسانی ادارہ ہونے کا تصور پیدا ہوا۔

·       جب تک مسلمان دوسروں کو غلام بناتے رہے، انہیں یہ اندازہ نہ ہوا کہ غلامی کتنی بری چیز ہے لیکن جب یورپی اقوام نے آ کر انہیں غلام بنایا، تب انہیں اس کی شناعت کا اندازہ ہوا۔ مسلمانوں کے قوم پرست مفکرین نے یورپی اقوام کے کالونیل ازم کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی تحریک شروع کی۔ ان کے نزدیک مسلم ممالک میں غلامی، اینٹی کالونیل ازم کی تحریک کے خلاف تھی۔ اس تصور کی بائی پراڈکٹ کے طور پر اینٹی غلامی تحریک بھی پیدا ہوئی۔

·       مسلمانوں کے جدیدیت پسند مفکرین نے محسوس کیا کہ غلامی، دور جدید سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان میں سے جو لوگ مغربی اقوام کے مقلد بنے، انہوں نے مغربی اقوام کی تقلید میں غلامی کے خاتمے پر زور دینا شروع کیا۔

·       یورپی اقوام کے صنعتی انقلاب کے اثرات مسلم دنیا تک پہنچنا شروع ہوئے جن کے نتیجے میں مسلم معاشروں میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ وہی معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں جن کی سرمایہ دارانہ نظام کو ضرورت تھی۔ لوگ دیہات کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کرنے لگے۔ زرعی مزدوروں کی جگہ صنعتی مزدوروں کی ضرورت پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں جاگیردارانہ نظام کا زوال شروع ہوا۔ اس عامل نے بھی غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

مسلم دنیا میں غلامی کے خاتمے کی ٹائم لائن کی تفصیلات یہ ہیں:

·       1810ء کے عشرے میں افریقہ کے وسطی علاقوں بالخصوص نائجر اور نائجیریا میں "سکوٹو خلافت" قائم ہوئی۔ یہ خلافت غلاموں کی بغاوت کے نتیجے میں قائم ہوئی اور انہوں نے اسلامی شریعت کو اپنا منبع قرار دیا۔ اس کے لیڈر عثمان ڈان فوڈیو تھے۔ اس خلافت نے غلاموں کو امریکہ ایکسپورٹ کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ریاست میں افریقی غلاموں کی صورتحال میں کافی بہتری پیدا ہوئی مگر غلاموں کی تجارت کا مکمل خاتمہ نہ کیا جا سکا۔ بعد میں یہ خلافت برطانوی افواج کا مقابلہ نہ کر سکتے ہوئے ختم ہو گئی۔

·       1844ء میں برطانوی حکومت نے برصغیر پاک و ہند میں غلامی کے خاتمے کا قانون پاس کیا۔

·       1846ء میں تیونس پہلا مسلم ملک تھا جہاں غلامی کا خاتمہ کر کے اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔

·       1847ء میں سلطنت عثمانیہ کے ایک حکم کے تحت خلیج فارس میں غلاموں کی تجارت کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

·       1857ء میں افریقی غلاموں کی تجارت کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

·       1864ء میں جارجیا اور آذر بائیجان کے علاقوں سے بچوں کو غلام بنا کر لانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

·       1867ء میں سلطنت عثمانیہ نے روس میں موجود غلاموں کو اپنی آزادی خریدنے میں مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

·       1876ء میں سلطنت عثمانیہ میں بھی غلامی کو ممنوع قرار دے دیا گیا لیکن عملی طور پر غلامی سلطنت کے مختلف علاقوں میں موجود رہی۔ 1908ء تک استنبول میں غلام بیچے جاتے رہے۔

·       1880-87ء کے دوران سلطنت عثمانیہ نے برطانیہ سے متعدد معاہدے کئے جن کی رو سے غلاموں کی تجارت کو تدریجاً ختم کیا جانا تھا۔

·       1923-24ء میں عراق اور افغانستان میں غلامی کو خلاف قانون قرار دیا گیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایران میں بھی غلامی ممنوع قرار پائی۔ سوڈان میں بھی غلامی کو ختم کرنے کا قانون بنایا گیا لیکن عملی طور پر اسے ختم کرنا آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔

·       1952-1970ء درمیانی عرصے میں خلیج کی عرب ریاستوں میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔

·       1990ء میں قاہرہ میں مسلم ممالک کے وزراء خارجہ کی ایک کانفرنس میں متفقہ طور پر غلامی کو غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دے دیا گیا۔

·       2003ء میں نائیجر میں غلام رکھنے کو جرم قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے اگرچہ یہاں فرانسیسی قانون کے تحت سرکاری طور پر غلامی کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا لیکن عملی طور پر غلامی موجود تھی۔

·       2007ء میں موریطانیہ نے بھی غلام رکھنے کو جرم قرار دیا۔ یہ غلامی کے خلاف اقدام کرنے والا آخری ملک تھا۔

یہ درست ہے کہ مسلم معاشروں میں غلامی کے حالیہ خاتمے میں فیصلہ کن کردار مغربی اثر نے ادا کیا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ مسلم معاشرے میں غلامی کے خلاف کوئی تحریک سرے سے موجود ہی نہ رہی تھی۔ کلارنس اسمتھ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Opposition to slavery did not begin as a result of Western influence, as is so often assumed, for the Druzes abolished slavery in the eleventh century. However, they were such a heterodox Isma'ili sect as to have little or no impact on the wider community. They were in any case confined to the mountains of Greater Syria.

More striking, albeit less radical, were notable reforms in the 'gunpowder empires' that arose from the sixteenth century. At best, in the case of Akbar, Mughal emperor of India from 1556 to 1605, there was a possibility that slavery might have withered away, if his reforms had been continued. At worst, the questioning of forms of enslavement and slave use, from Timbuktu to Sulawesi, became part of a tradition that later reformers could draw upon.

The emergence of fully-fledged Islamic abolitionism from the 1870s was no mere response to Western pressure. Reformers of various kinds returned to the original texts of the faith, especially the Qur'an, as part of a broader movement of revival and renewal. Rather to their surprise, they discovered that the foundations for slavery in holy writ were extremely shaky, not to say non-existent. The Qur'an nowhere explicitly allowed the making of any new slaves by anybody save the Prophet himself, and called repeatedly for the manumission of existing slaves.

The Hadith literature was scarcely more supportive of slavery, and many reformers queried the authenticity of some of these traditions. The entire edifice of slavery, accounting for a third of the compendium of holy law most used in Inner and South Asia, was found to be built on a cumulative set of dubious exegetical exercises.

The reformers split into four broad groups. In more rural and remote areas, some ulama, usually with a Sufi background, evolved a quasi-abolitionist stance. In its most extreme form, as enunciated by Ahmad b. Khalid al-Nasiri of Salé in Morocco, no wars since the times of the companions of the Prophet could be dignified with the epithet of holy, and thus no slaves had been taken legitimately after those early years. As unbroken servile descent from the slaves of that time could not be proven, all slaves should be freed. Musa Kamara later spread such notions in West Africa.

An even more radical version of liberation emerged from millenarian Mahdist movements. One, based in what are today Nigeria and Niger in the 1900s, called for the root and branch abolition of slavery. This was part of the process of filling the earth with justice prior to the imminent last judgement. Other millenarian movements were rarely so explicit, but often contained an emancipatory potential.

Gradualist modernists were often more urban and middle class, and less likely to be drawn from the ranks of the ulama. They became more numerous and influential as the twentieth century progressed. They were particularly inspired by Sayyid Amir 'Ali, a Shi'i lay reformer from Bengal, and Muhammad 'Abduh, grand mufti of Egypt. They argued that the Prophet personally opposed slavery. However, he risked losing his following had he explicitly banned the institution. Since the infidel had adopted abolition, the time was now ripe for the command of God and the desire of his messenger to be fulfilled.

Radical modernists, in contrast, held that the Prophet had openly prohibited the making of new slaves, and ordered the freeing of existing ones. Subsequent generations of Muslims had therefore sinned grievously by failing to heed his commands. Indeed, this might have been one of the reasons for which the infidel had become so powerful relative to the believers. The early torchbearers of this strand of abolitionism were Sayyid Ahmad Khan and Maulvi Chiragh Ali, in India, and Musa Jarulla Bigi, in Russian Tatarstan. The Lahori branch of the Ahmadiyya took a similar position, but its 'heretical' status limited its influence….

Emancipatory legislation was pushed through by a combination of Western colonial governments, puppet Islamic rulers, and secularist Muslim politicians, but there was a wide gulf between the law and social reality. As with narcotics, it was one thing to proclaim an international campaign, and quite another thing to enforce it. Ultimately, an Islamic dynamic of renewal and reform spawned varieties of abolition, which turned the shadow of legislation into a lived reality. Where this failed to happen, slavery persisted, typically in the Sahelian belt from Mauritania, through the Sudan and the Arabian Peninsula, to the confines of Iran, Pakistan and Afghanistan. (William G. Clarence-Smith, Islam & Slavery)

(مسلم معاشروں میں) غلامی کی مخالفت، عام خیال کے برعکس، مغربی اثرات کا نتیجہ نہیں ہے۔ (شام و لبنان کے) دروز فرقے نے گیارہویں صدی میں اپنے اندر غلامی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ، عام مسلمانوں سے ہٹا ہوا ایک اسماعلی فرقہ ہیں اس وجہ سے ان کا اثر وسیع کمیونٹی میں نہ پھیل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر عظیم تر شام (یعنی موجودہ شام، اردن، فلسطین اور لبنان پر مشتمل علاقہ) کے پہاڑوں ہی میں محدود رہا ہے۔

بارود استعمال کرنے والی سلطنتوں میں سولہویں صدی میں جو اصلاحات کی گئی ہیں، وہ اگرچہ زیادہ فرق نہیں پیدا کر سکیں لیکن چونکا دینے والی ضرور ہیں۔ ان اصلاحات میں سب سے بہتر معاملہ انڈیا کے مغل شہنشاہ اکبر (1556-1605CE) کا ہے۔ یہ ممکن تھا کہ اگر اس کی اصلاحات کا تسلسل جاری رہتا تو اس کے دور میں غلامی کا خاتمہ ہو جاتا۔ ان اصلاحات کا کم سے کم پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں ٹمبکٹو (نائیجر) سے لے کر سولاوسی (انڈونیشیا) تک کے مصلحین میں یہ روایت موجود رہی ہے کہ انہوں نے غلاموں کے استعمال اور غلام بنائے جانے کی شکلوں پر اعتراض کر کے ان کی طرف توجہ دلائی ہے۔

مسلمانوں کے ہاں غلامی کے خاتمے کی جو تحریک 1870 کے عشرے سے شروع ہوئی، یہ صرف اور صرف مغربی دباؤ کا نتیجہ نہ تھی۔ مختلف قسم کے مصلحین نے تجدید و اصلاح کی تحریک کے حصے کے طور پر مذہب کے اصل مآخذ بالخصوص قرآن کی طرف رجوع کیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مقدس ماخذوں میں غلامی کی بنیادیں اگر غائب نہیں تو بہرحال بہت کمزور ہیں۔ قرآن نے کہیں یہ اجازت نہیں دی کہ پیغمبر کے سوا کوئی اور نئے غلام بنا سکتا ہے۔ اس نے بار بار پہلے سے موجود غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

حدیث کے لٹریچر میں غلامی کی حمایت میں بہت کم مواد ملتا ہے اور ان روایات کے مستند ہونے پر بہت سے مصلحین نے اعتراض کیا ہے۔ غلامی کی پوری عمارت جو فقہ کے تہائی حصے کے قوانین پر کھڑی ہے اور جس کا استعمال وسطی اور جنوبی ایشیا میں کیا جاتا رہا ہے، محض اجتہاد اور قیاس کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے۔

مصلحین کو چار گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ (پہلا گروہ) دیہی اور دور دراز علاقوں میں، صوفیانہ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے کچھ علماء کا ہے جن میں غلامی کے خاتمے کا نقطہ نظر ارتقاء پذیر ہوا۔ اس کی سب سے شدید شکل وہ ہے جو مراکش کے احمد بن خالد النصیری نے بیان کی ہے کہ چونکہ رسول اللہ کے صحابہ سے لے کر آج تک کی کسی جنگ کو مقدس جہاد کا نام نہیں دیا جا سکتا، اس وجہ سے ان جنگوں میں جن لوگوں کو غلام بنایا گیا، وہ قانونی طور پر غلام نہیں ہیں۔ چونکہ عہد رسالت سے لے کر آج تک کے غلاموں کے درمیان کوئی نسلی زنجیر موجود نہیں ہے اس وجہ سے تمام غلاموں کو آزاد کر دینا چاہیے۔ مغربی افریقہ میں بعد میں موسی کمارا نے یہی نظریات پیش کئے۔

(دوسرا گروہ) ہزار سال کے بعد مہدی کی آمد پر یقین رکھنے والی تحریکوں کا ہے جن میں غیر روایتی نظریات پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک تحریک جو 1900 کے عشرے میں نائیجیریا اور نائیجر میں موجود رہی ہے، اس نے غلامی کی بنیاد اور اقسام کو ختم کر دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس مطالبے کو قیامت سے پہلے زمین کو عدل سے بھر دینے کے عمل کا حصہ قرار دیا۔ دیگر مہدوی تحریکوں میں اگرچہ یہ بات واضح طور پر نہیں کہی گئی لیکن ان میں بھی غلاموں کو آزادی دینے کا پوٹینشل موجود تھا۔

(تیسرا گروہ) تدریجی اصلاح کے حامی متجددین کا ہے۔      یہ اکثر اوقات شہری اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے اور (روایتی) علماء کے طبقے سے کم ہی تعلق رکھتے تھے۔ بیسویں صدی کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ان کا اثر بڑھتا گیا۔ یہ لوگ خاص طور پر بنگال سے تعلق رکھنے والے شیعہ مصلح سید امیر علی اور مصر کے مفتی اعظم محمد عبدہ کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے دلائل پیش کئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ذاتی طور پر غلامی کی مخالفت کی ہے۔ اگر آپ کو لوگوں کے اسلام چھوڑ جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو آپ اس پر واضح الفاظ میں پابندی عائد فرما دیتے۔ اب چونکہ غیر مسلموں نے غلاموں کو آزادی دینے کا راستہ اختیار کر لیا ہے، اس وجہ سے اب وہ وقت ہے کہ خدا کے حکم کو زندہ کیا جائے اور اس کے پیغمبر کی منشاء کو پورا کیا جائے۔

(چوتھا گروہ) شدت پسند متجددین کا ہے۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے واضح طور پر نئے غلام بنانے کو حرام قرار دیا ہے اور پہلے سے موجود غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا ہے۔ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں نے آپ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے ایک عظیم گناہ کیا ہے۔ درحقیقت یہی وہ وجہ ہے کہ غیر مسلم، اہل ایمان کی نسبت زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے ذریعے غلامی کے خاتمے کے علمبردار انڈیا میں سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے جبکہ روسی تاتارستان میں یہ نقطہ نظر موسی جار اللہ بیگ نے پیش کیا۔ احمدیوں کی لاہوری جماعت نے بھی یہی نقطہ نظر اختیار کیا لیکن اس کے "مرتد" ہونے کے درجے نے اس کے اثر و رسوخ کو محدود کر دیا۔۔۔۔

(مسلم ممالک میں غلاموں کی) آزادی سے متعلق قانون سازی کے پیچھے مغرب کی کالونیل حکومتوں، کٹھ پتلی مسلم حکمرانوں اور سیکولر مسلم سیاستدانوں کا ہاتھ تھا لیکن قانون اور سماجی حقیقت کے درمیان ایک وسیع خلیج برقرار رہی۔ یہ بالکل منشیات ہی کی طرز کا معاملہ ہے کہ ایک چیز اس کے خلاف بین الاقوامی مہم ہے اور دوسری چیز اس پر حقیقی عمل درآمد کروانا ہے۔ مسلمانوں کی تجدید و احیائے دین کی کوششوں کے نتیجے میں غلاموں کی آزادی کی مختلف شکلیں وجود میں آئیں جس کے نتیجے میں قانون سازی کے اثرات زندہ معاشرے میں رونما ہوئے۔ جہاں ایسا نہ ہو سکا، وہاں (باوجود قانون سازی کے) غلامی موجود رہی (اور کافی عرصے میں جا کر ختم ہوئی۔) مثال کے طور پر افریقہ کی سواحلی پٹی جس میں موریطانیہ، سوڈان، جزیرہ نما عرب، ایران، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔

دور جدید کے مسلم معاشروں کو ہم بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک تو قدیم عربی مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات اور دوسرے دنیاوی تعلیم پانے والے جدید تعلیم یافتہ حضرات۔ کلارنس اسمتھ نے مسلم معاشروں میں غلامی کے خلاف تحریک چلانے والے جن چار گروہوں کا ذکر کیا ہے، ان کے نقطہ ہائے نظر میں استدلال کی کچھ کمزوریاں موجود تھیں۔ اس وجہ سے ان کا اثر صرف دوسرے طبقے پر رونما ہوا۔ پہلے طبقے پر ان تحریکوں کا شروع میں تو کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ ان متجددین کو بالعموم کافر، ملحد، مرتد اور گمراہ ہی قرار دیا گیا۔

          اب سے سو برس پہلے کے روایتی علماء کے لئے غلاموں کی موجودگی کوئی مسئلہ ہی نہ تھی۔ جب ان تحریکوں کے ذریعے انہیں اس طرف توجہ دلائی گئی تب انہیں علم ہوا کہ "ارے!!! انسانوں کو حقوق دلوانا اور غلاموں کی آزادی کی جدوجہد بھی کرنے کا کوئی کام ہے۔" اس کے بعد روایتی علماء کے طبقے میں سے بھی ایسے اہل علم پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے غلامی کے ادارے کو ختم کرنے کی حمایت کی اور اس ضمن میں اسلام کا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کی۔ ایسے اہل علم کی تعداد بہرحال بہت کم ہے۔

عہد رسالت اور جدید مغربی معاشروں میں غلاموں کی آزادی کی تحریک  کا تقابلی جائزہ

اگر ہم مغربی معاشروں میں موجود غلاموں کی آزادی کی تحریک کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے عہد میں موجود غلامی کی آزادی کی تحریک سے تقابل کریں تو یہ نکات سامنے آتے ہیں:

·       مغربی معاشروں میں غلاموں کی آزادی کی جدوجہد کو ایک طویل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس مزاحمت کے پیچھے اس طبقے کا ہاتھ تھا جس کا کام ہی غلام بنانا، انہیں بیچنا اور ان سے خدمت لینا تھا۔ عہد رسالت و صحابہ میں حیرت انگیز طور پر غلاموں کی آزادی کی تحریک کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام کے آخری دور میں خانہ جنگیوں کی بھرمار ہے لیکن ان میں سے ایک خانہ جنگی بھی غلامی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں ہے۔

·       مغربی معاشروں نے بالعموم غلاموں کو آزادی دینے کے لئے بنیادی طور پر قانون کی طاقت کو استعمال کیا۔ عہد رسالت و خلفاء راشدین میں غلاموں کو آزادی دینے کے لئے مذہب کی طاقت کو استعمال کیا گیا۔ قانون کی طاقت اس معاملے میں ایک مددگار کے طور پر تو موجود تھی لیکن اس سلسلے میں حکومتی قوت کا استعمال کرنے کی عملی ضرورت بہت ہی کم پیش آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں آزاد کردہ غلاموں اور ان کے سابقہ آقاؤں کے مابین محبت کا تعلق پایا جاتا ہے وہ مغربی معاشروں میں آزاد کردہ غلاموں اور ان کے آقاؤں کی نسلوں میں ڈیڑھ سو برس کے بعد بھی استوار نہیں ہو سکا۔

·       غلاموں کی آزادی کی مغربی تحریک میں ایک بڑا کردار اس عامل کا ہے کہ یورپی معاشرے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں جاگیردارانہ سے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ سرمایہ داروں کو وسیع تعداد میں صنعتی کارکنوں کی ضرورت تھی جن پر جاگیردارانہ نظام قبضہ کئے ہوئے بیٹھا تھا۔ عہد رسالت و صحابہ کے معاشی نظام کی ایسی کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں معاشی عوامل غلامی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرتے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گلہ بانی کرنے والے عرب بدو عراق اور شام کی زرخیز زمینوں میں کھیتی باڑی کرنے لگے تھے لیکن اس سے غلامی کے ادارے پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

·       غلاموں کی آزادی کی مغربی تحریک قانونی اعتبار سے دنیا بھر میں غلاموں کو قانونی آزادی دینے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن یہ تحریک نیم غلامی کو ابھی تک مغربی معاشروں میں بھی ختم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ پست طبقوں کے اسٹیٹس کو بلند کرنے میں اگرچہ معاش کی حد تک مغربی اقوام کو کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن معاشرتی درجہ بلند کرنے میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی سطح پر ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ عہد رسالت و صحابہ میں غلاموں کو نہ صرف قانونی آزادی ملی بلکہ انہیں اپنا معاشی و معاشرتی اسٹیٹس بلند کرنے میں بھی ایسی کامیابی نصیب ہوئی جس کے نتیجے میں یہ لوگ صحابہ و تابعین کے جلیل القدر اہل علم میں شمار ہوئے۔

·       غلاموں کی آزادی کی موجودہ تحریک کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس کے خلاف اس وقت دنیا میں کوئی بڑی کاؤنٹر ابالیشن موومنٹ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے امید کی جا سکتی ہے کہ کم از کم یہ تحریک اب رول بیک نہیں ہو گی اور دنیا میں غلامی کے ادارے کو دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ عہد رسالت و صحابہ کی تحریک کے نتیجے میں جب غلاموں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہو گئی تو مسلم دنیا میں غلاموں میں اضافے کی ایک کاؤنٹر ابالیشن تحریک پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں غلاموں کو امپورٹ کر کے لایا جانے لگا۔ یہ مسلم معاشرے کا ایک منفی پہلو رہا ہے۔

مغربی اور مسلم معاشروں میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا تقابلی جائزہ

اگر غلاموں کی آزادی کی اس مغربی تحریک کا ان کے ہم عصر مسلم معاشروں سے تقابل کیا جائے تو ایک مختلف صورتحال سامنے آتی ہے۔

·       اہل مغرب کے ہاں غلاموں کی حالت زار بہت ہی خراب تھی۔ ان پر ظلم و ستم نے ایک طرف ان غلاموں کو فرار اور بغاوت پر مجبور کیا اور دوسری طرف معاشرے کے اجتماعی ضمیر میں اس ظلم اور جبر کے خلاف ایک عظیم تحریک پیدا کی۔ مسلم معاشروں میں چونکہ غلاموں پر بہت زیادہ ظلم و ستم نہیں کیا گیا اور کچھ استثنائی امور کو چھوڑ کر عمومی طور پر مسلمانوں نے غلاموں سے حسن سلوک سے متعلق اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کیا ہے، اس وجہ سے یہاں نہ تو غلاموں کو فرار اور بغاوت پر مجبور ہونا پڑا ہے اور نہ ہی معاشرے کے اجتماعی ضمیر میں کوئی بڑی تحریک پیدا ہو سکی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم دنیا میں مکاتبت کا ادارہ بھی موجود رہا ہے۔ جو غلام آزادی حاصل کرنا چاہتا، اس کے لئے اپنی آزادی کو خود خریدنے کا راستہ کھلا رہا ہے۔

·       اہل مغرب کے ہاں تین صدیوں کی انکوئزیشن اور مذہبی جبر کے رد عمل میں "آزادی فکر" کی ایک غیر معمولی تحریک پچھلی چار صدیوں سے موجود ہے۔ مسلم معاشروں میں ان صدیوں میں بالعموم اسٹیٹس کو برقرار رکھنے، اجتہاد کا دروازہ بند کئے رکھنے اور دینی اور دنیاوی ہر میدان میں تقلید کی روش اختیار کئے رکھنے کا رجحان غالب رہا ہے۔ اگر اس رجحان کے خلاف کسی نے چلنے کی کوشش کی بھی ہے تو اسے معاشرے میں قبول عام حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ یہی وجہ ہے یہاں اس قسم کی کوئی تحریک بڑے پیمانے پر نہیں پھیل سکی۔ مسلم معاشروں میں  مذہبی جبر کو بھی بالعموم قانونی شکل نہیں دی گئی بلکہ اسے معاشرتی سطح پر رکھا گیا ہے۔ اس وجہ سے اس کے ردعمل میں آزادی فکر کی کوئی تحریک پیدا نہیں ہو سکی۔

·       اہل مغرب صنعتی انقلاب کے نتیجے میں جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے نتیجے میں غلامی اور نیم غلامی کو ختم کرنے کی ایک بڑی معاشرتی ضرورت پیدا ہو گئی لیکن مسلم دنیا میں جاگیردارانہ نظام کی قوت اب بھی کافی حد تک باقی ہے اور نیم غلامی کے خاتمے میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

·       اہل مغرب نے بڑی حد تک معاشی اعتبار سے سابقہ اور نیم غلاموں کی حالت کو بہتر بنا لیا ہے۔ مسلم معاشرے ان سے اس معاملے میں بہت پیچھے ہیں۔

·       اہل مغرب کے ہاں نسل پرستی اب بھی ایک خوفناک درجے میں موجود ہے لیکن مسلم دنیا میں نسل پرستی کے اثرات بہت ہی کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ غلاموں کی اولادیں مغربی دنیا میں اب بھی نسل پرستی کا شکار ہیں جبکہ مسلم دنیا میں سابقہ غلاموں کی اولاد کو شاید ہی یہ معلوم ہو گا کہ ان کے آبا و اجداد کبھی غلام ہوا کرتے تھے۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability