بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ پنجم: غلامی اور دور جدید

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 18: موجودہ دور میں جسمانی غلامی اور اس کا سدباب

موجودہ دور میں اگرچہ غلامی قانونی اعتبار سے ختم کر کے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن بہت سے ممالک میں غیر قانونی غلامی بہرحال موجود ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک اور بالخصوص مسلم ممالک میں جاگیردارانہ غلامی یا نیم غلامی بھی بہرحال موجود ہے اور اس کی قوت بھی ابھی تک برقرار ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی و نفسیاتی غلامی بھی مسلم دنیا میں اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ اس باب میں ہم خاص طور پر مسلم دنیا میں موجود مختلف اقسام کی غلامی کا جائزہ لیں گے اور اس کے سدباب کے طریقوں پر بحث کریں گے۔

          ہمارے ہاں ایک غلط نظریہ رواج پا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی برائی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حکومت پر قبضہ کر کے قانون کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے برائی کا خاتمہ کیا جائے۔ اس نظریے کے پیش نظر مسلم مصلحین کی ایک بڑی تعداد سیاسی میدان میں کود پڑی۔ حکومت تو ان کے ہاتھ نہ آئی لیکن انہوں نے غیر حکومتی میدان میں تجدید و احیائے دین کے بہت سے مواقع ضائع کر دیے ہیں۔

          ہم اس بات کے قائل ضرور ہیں کہ سیاسی مزاج رکھنے والے نیک لوگوں کو اس میدان کو کرپٹ اور موقع پرست سیاستدانوں کے لئے کھلا نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ ہمیں اختلاف صرف اس بات سے ہے کہ جو لوگ معاشرتی سطح پر برائی کے خلاف جدوجہد میں نہایت ہی اعلی کردار ادا کر سکتے ہوں، انہیں سیاست کے لئے معاشرتی جدوجہد کے اس میدان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دور جدید میں بے شمار انقلابات پیدا ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر ایسے ادارے وجود میں آ چکے ہیں جن کی قوت حکومت کی قوت سے اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔ ان اداروں کو بدقسمتی سے خیر کے داعی اس طریقے سے استعمال نہیں کر رہے جس طرح سے انہیں برائی پھیلانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

          یہی وجہ ہے کہ ہم موجودہ غلامی کے سدباب سے متعلق جو اقدامات اس باب میں پیش کر رہے ہیں، ان کا تعلق زیادہ تر معاشرتی سطح سے ہے۔ ہر قسم کی غلامی کے سدباب سے متعلق تجاویز میں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ عہد رسالت کی قائم کردہ سنت کے مطابق پہلے سے موجود غلاموں اور آئندہ بنائے جانے والے غلاموں سے متعلق ہمیں مختلف طرز کے اقدامات کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ہر قسم کی غلامی میں اس تقسیم کو ملحوظ رکھا ہے۔

غلامی کی مخفی صورتیں

موجودہ دور میں غلامی اور نیم غلامی کی درج ذیل شکلیں پائی جاتی ہیں:

·       غیر قانونی غلامی

·       جاگیردارانہ غلامی

·       سرمایہ دارانہ غلامی

·       جیل کے قیدیوں کی غلامی

·       ذہنی و نفسیاتی غلامی

ان میں سے جسمانی غلامی کو ہم اس باب میں جبکہ نفسیاتی غلامی کو اگلے ابواب میں بیان کریں گے۔

غیر قانونی غلامی

غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو سبز باغ دکھا کر ترقی یافتہ ممالک میں لا کر انہیں غلام بنانے کا سلسلہ پچھلے دو عشروں سے اپنے عروج پر ہے۔ یورپی کونسل کے ایک اندازے کے مطابق اس صنعت کا ٹرن اوور 42.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ بردہ فروشوں کا ایک عالمی نیٹ ورک پوری دنیا بالخصوص پس ماندہ ممالک (جن میں زیادہ تر مسلم ممالک شامل ہیں) میں کام کر رہا ہے۔

غلام بنائے جانے کے طریقے

بردہ فروش مختلف افراد کو جن طریقوں سے گرفتار کرتے ہیں، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

·       بہت سے سادہ لوح افراد، جن کا تعلق بالعموم دیہات یا چھوٹے شہروں سے ہوتا ہے، کو بالعموم انہی کے جاننے والوں کے ذریعے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ ہم تمہیں فلاں ملک میں لے جا کر ملازمت دلوائیں گے۔ جو تنخواہ انہیں بتائی جاتی ہے، وہ اس آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جو یہ افراد اپنے ممالک میں کما رہے ہوتے ہیں۔

·       بچوں کو اغوا کر کے غلام بنا لیا جاتا ہے۔ اس کے لئے اغوا کاروں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک دنیا میں موجود ہے جو بالخصوص رش کے مقامات جیسے میلوں، بازاروں، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات سے بچوں کو اغوا کر کے آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ بچے متعدد ہاتھوں میں فروخت ہوتے ہوئے دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بکتے چلے جاتے ہیں۔

·       بعض بچوں کو ان کے غریب والدین سے خرید لیا جاتا ہے۔

·       بعض اوقات غریب والدین کے بچوں کو قانونی طور پر گود لیا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں غلام بنا لیا جاتا ہے۔

·       بعض بالغ افراد کو اغوا کر کے انہیں غلام بنا لیا جاتا ہے اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض افراد کو نشہ آور ادویات پلا کر انہیں اپنے کنٹرول میں کر لیا جاتا ہے۔

·       بعض لوگ بذات خود، اچھے مستقبل کی تلاش میں ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، یورپ، جاپان اور مشرق وسطی کا وزٹ ویزا حاصل کر کے ان ممالک میں جا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد بالعموم مختلف افراد کے ہاتھوں میں جا کر عملاً غلام بن جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں عمرے کا ویزا حاصل کر کے غائب ہو جانے کا رواج بہت زیادہ ہے۔

·       ان افراد میں سے جو پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے ہیں وہ سرکاری طور پر جیل میں رکھ کر غلام بنا دیے جاتے ہیں۔ بعض ممالک کی حکومتیں ان سے کچھ عرصہ خدمت لینے کے بعد انہیں رہا کر کے ان کے اپنے ممالک میں بھیج دیتی ہیں جہاں کی حکومتیں انہیں پھر جیل میں قید کر دیتی ہیں۔

·       نوجوان ہوتی ہوئی لڑکیوں سے محبت کا ناٹک رچایا جاتا ہے۔ ان کے محبوب، صنف نازک کو لبھانے کے تمام ہتھکنڈوں کے لئے پوری طرح تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ان لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ خاص طور پر جو لڑکیاں اپنے گھریلو حالات سے تنگ ہوتی ہیں، انہیں گھر سے بھگا کر لے جانا آسان ہوتا ہے۔ ان لڑکیوں کو اپنے گھروں سے زیورات وغیرہ لانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جب وہ یہ کر بیٹھتی ہیں تو ان کے محبوب زیور اور رقم حاصل کر کے اور ان کا جنسی استحصال کرنے کے بعد انہیں اگلے ہاتھوں میں فروخت کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد ان لڑکیوں کی زندگی ہاتھ در ہاتھ فروخت ہوتے ہی گزرتی ہے۔

·       جو خواتین پہلے سے ہی عصمت فروشی کے پیشے سے وابستہ ہیں، ان کی پیدا ہونے والی ناجائز بیٹیوں اور اب بیٹوں کو بھی عصمت فروشی کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے جنسی غلامی کا یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔

اس تجارت کے حجم کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے چھ سے آٹھ لاکھ افراد امریکہ میں لائے جاتے ہیں۔ ان میں ستر فیصد تعداد خواتین اور پچاس فیصد بچوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

          جنوب مشرقی ایشیا میں فلپائن اور تھائی لینڈ سے تین لاکھ کے قریب خواتین اور بچوں کو غلام بنا کر جاپان اور امریکہ میں اسمگل کیا جاتا ہے۔ عراقی جنگ کے بعد پچاس ہزار سے زائد خواتین صرف شام کے اندر عصمت فروشی پر مجبور ہوئیں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آزادہ شدہ روسی ریاستوں میں سے بے شمار خواتین کو عصمت فروشی کے لئے اسمگل کیا گیا۔ دو لاکھ نیپالی لڑکیوں کو بھارت میں غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔ یورپ کے جنگ زدہ علاقوں جیسے بوسنیا اور کوسوو میں کثیر تعداد میں لوگوں کو غلام بنایا گیا۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے لاکھوں افراد مغربی ممالک اور مشرق وسطی میں غلامی پر مجبور ہیں۔

          بہت سے افریقی ممالک میں مذہبی غلامی کا سلسلہ بھی ابھی باقی ہے اور نوجوان بچیوں کو مندروں میں غلام بنا دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ تجارت دنیا بھر کے ممالک کے قانون میں جرم قرار دی گئی ہے لیکن یہ نیٹ ورک تیزی سے پوری دنیا میں نہ صرف کام کر رہا ہے بلکہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سوزان میئرز لکھتی ہیں:

Women and children of both sexes are trafficked into prostitution all over the rich world from the Balkans, Russia and other poor areas around the globe.…. All agree, however, that child and forced prostitution are forms of contemporary slavery. These are the victims of the growing global sex industry….

Children are liable to many forms of exploitation. Most tragic are the little girls sold into prostitution whose families will not take them back if they contract aids. Children are also victims of sex tourism, pornography, illegal adoption, and even deliberate mutilation so that they can make money begging. Child soldiers have been forced into warlord and rebel armies as small wars have proliferated. Some have been made to commit atrocities, as in Sierra Leone. Girls are also captured as ‘wives’ or servants for warlords and their followers. Little boys are imported into Arabia and tied onto camels as jockeys for camel races in the Gulf States.

Desperate parents from Roumania bring their teenage sons to Italy and hire them out prostitutes.74 Thousands of children work in hazardous and unhealthy conditions – the victims of poverty, debt bondage and sometimes of trafficking. A serious problem is that traffickers are constantly becoming more sophisticated and tapping new fields. Thus whole families in Moldavia are being offered jobs in Poland and end up in servitude in Warsaw.  (Suzanne Meirs, Solution for Abolition)

خواتین، بچوں اور بچیوں کو بلقان، روس اور دنیا کے دیگر غریب علاقوں سے امیر دنیا میں عصمت فروشی کے لئے لایا جاتا ہے۔۔۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ جبری عصمت فروشی اور بچوں کی عصمت فروشی دور جدید کی غلامی ہی کی صورتیں ہیں۔ یہ خواتین اور بچے دنیا کی پھیلتی ہوئی سیکس انڈسٹری کے شکار ہیں۔

       بچوں کا کئی طریقوں سے استحصال کیا جاتا ہے۔ سب سے بری حالت ان لڑکیوں کی ہوتی ہے جنہیں عصمت فروشی کے لئے بیچ دیا جاتا ہے اور اگر انہیں ایڈز لاحق ہو جائے اور ان کے خاندان بھی انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچے سیکس ٹورازم، پورنو گرافی، غیر قانونی طریقے سے گود لینے اور بھیک مانگنے کے لئے اعضا کے کاٹ دیے جانے کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے دنیا میں چھوٹی چھوٹی (گوریلا) جنگیں پھیلتی جا رہی ہیں، ویسے ویسے بچوں کو زبردستی سپاہی بنا کر وار لارڈز کی بغاوتی تحریکوں کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض بچوں کو تو، جیسے سائرا لیون میں، انتہا درجے کی بربریت کرنے پر مجبور بھی کیا جاتا ہے۔ وار لارڈز اور ان کے ساتھی بچیوں کو اغوا کر کے انہیں بطور خادمہ یا بیوی کے رکھتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو بعض عرب ممالک میں لا کر اونٹوں پر باندھ کر ریس میں دوڑایا جاتا ہے۔

غلاموں سے سلوک

غیر قانونی غلاموں کو چونکہ کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا ہے اس وجہ سے ان سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے جسے بیان کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مردوں سے بالعموم ایسے سخت کام لئے جاتے ہیں جنہیں کرنا عام آدمی کے بس میں نہیں ہے۔ سخت گرمی اور شدید برفباری میں انہیں بھاری وزن اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

          بہت سے صحت مند مردوں کے گردے اور دیگر اعضا نکال کر انہیں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ انہیں بس اتنا کھانا دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے جسم و روح کا تعلق برقرار رہے اور ان سے جبری مشقت لی جاتی رہے۔ انہیں کوڑے مار مار کر مزدوری کروائی جاتی ہے۔ ان سے بغیر کسی چھٹی کے سولہ سولہ گھنٹے مزدوری کروائی جاتی ہے۔ بہت سے ایجنٹ ویران جزیروں پر ایسے افراد کو چھوڑ کر فرار بھی ہو جاتے ہیں جہاں یہ لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

          خواتین غلاموں کی حالت ان سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق خواتین کا دو تہائی حصہ اس غلامی کے بعد عصمت فروشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے پچھتر فیصد خواتین وہ ہوتی ہیں جن کی عصمت اس سے پہلے محفوظ ہوتی ہے۔ ان خواتین کو دھندے پر لگانے سے پہلے انہیں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہر جیسے ٹوکیو، سنگاپور، بنکاک، دوبئی، بمبئی، استنبول، لندن، پیرس اور نیویارک اس قسم کی طوائفوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

          سب سے نازک معاملہ بچوں کی غلامی کا ہے۔ ان بچوں سے شدید جبری مشقت کروائی جاتی ہے اور انہیں اجتماعی طور پر ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض بچوں کو اونٹ دوڑ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم جنس پرستی کے فروغ کے بعد مغربی ممالک میں ایسے بچوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خواتین اور بچوں کے اس جنسی استحصال کے نتیجے میں ان میں ایڈز پھیلتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ اپنی جوانی ہی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ایک دردناک موت سے ہمکنار جاتے ہیں۔

جاگیردارانہ غلامی

دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ معاشروں کے برعکس ہمارے یہاں اکیسویں صدی میں جاگیردارانہ نظام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ غریب مزارعوں اور ہاریوں کو ان کی شب و روز خدمات کا اتنا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا جس سے وہ اپنی صرف بنیادی ضروریات ہی پوری کر سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ صرف روٹی کے حصول کے لئے بھاری شرح سود پر قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

          اس قرض کی عدم ادائیگی نہ صرف ان کی آئندہ آنے والی نسلوں کو غلام بنا دیتی ہے بلکہ انہیں نہایت ہی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ لوگ جب تک دباؤ برداشت کر سکتے ہیں، کرتے ہیں لیکن جب پانی حد سے گزر جاتا ہے تو خودکشی پر مجبور ہو کر اپنے قرضے آنے والی نسل کو منتقل کر جاتے ہیں۔ جاگیرداروں کی نجی جیلوں کی تفصیلات اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

          خوش قسمتی سے اس ظلم کے خلاف ہمارے معاشرے میں ایک مضبوط آواز موجود ہے لیکن افسوس کہ اس آواز میں مذہبی طبقے کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر مذہبی طبقہ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور سود خوروں کے خلاف "فاذنوا بحرب من اللہ و رسولہ" کا مطالبہ حکومت کے سامنے پیش کرے تو اس ظلم کی شدت میں کم از کم بڑی حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔

سرمایہ دارانہ غلامی

بیسویں صدی کے نصف اول میں چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کو کمیونزم کے ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا تھا، اس وجہ سے دنیا بھر میں مزدوروں اور ملازموں کی حالت میں نمایاں بہتری سامنے آئی۔ ملازمین کے اوقات کار مقرر کئے گئے۔ ان کی چھٹی کا حق تسلیم کر لیا گیا۔ انہیں میڈیکل کی سہولت مہیا کی گئی۔ پنشن اور پراویڈنٹ فنڈ کی سہولتوں پر ملازمین کا حق تسلیم کر لیا گیا۔ ملازمین کو نوکری کی حفاظت کی گارنٹی دی گئی۔

          بیسویں صدی کے آخر میں جیسے ہی کمیونزم کا خطرہ ٹلا، تو سرمایہ دارانہ نظام کی تمام تر خباثتیں، جن پر پہلے پردہ پڑا ہوا تھا، منظر عام پر آ گئیں۔ ملازمین کے قانونی حقوق اگرچہ ختم نہ کئے جا سکے لیکن ان سے فرار کی دو راہیں دنیا بھر کے ممالک میں نکالی جا چکی ہیں۔ ایک تو یہ کہ "ایگزیکٹو کلاس" کو لیبر لاء سے مستثنی قرار دے دیا گیا حالانکہ یہ بے چارے ذرا اچھے درجے کے ملازم ہی ہیں اور دوسرے "کنٹریکٹ ملازمین" کا متبادل طبقہ وجود میں لایا گیا۔

          ان طریقوں سے سرمایہ دار طبقہ اب مستقل ملازمین کی بجائے کنٹریکٹ ملازمین پر انحصار کرتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈز اور پرسنل لونز کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ حالیہ عشرے میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں جو مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ غربت بڑھتی چلی جائے گی، امیر امیر سے امیر تر اور غریب قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ اس طریقے سے غلامی کے ادارے کو دوبارہ زندہ کر دیا جائے۔ اگر خدانخواستہ صورتحال یہی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب سرمایہ داری کا عفریت وہی صورت اختیار کرتا چلا جائے گا جس کی تصویر کارل مارکس نے اپنی کتاب میں کھینچی ہے۔

          موجودہ دور میں دیکھیے تو ایگزیکٹو کلاس کے اعلی تعلیم یافتہ ملازمین کی حالت بھی غلاموں کی سی ہے۔ انہیں بہترین تنخواہیں، سہولیات، بزنس کلاس کے سفر، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام اور اس قسم کی درجنوں تعیشات حاصل ہیں لیکن ان سے ان کی اپنی زندگی کو انجوائے کرنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ ان بے چاروں کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ کچھ وقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی گزار سکیں۔ بارہ سے چودہ گھنٹے کام کرنے کے بعد جب تھک ہار کر یہ گھر آتے ہیں تو اس وقت بھی موبائل پر باس کی دھڑا دھڑ کالز ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

          ان حضرات کو میڈیکل کی بہترین سہولیات تو میسر ہوتی ہیں لیکن بیماریوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے لئے ورزش کا وقت ان کے پاس نہیں ہوتا۔ اس طبقے پر کام کا دباؤ بے پناہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں شوگر، بلڈ پریشر، ڈپریشن اور دل کی بیماریاں عام ہیں۔ اس ڈپریشن کو دور کرنے کے لئے یہ حضرات پھر شراب و شباب میں پناہ ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں برائیوں کو فروغ ملتا ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ جب اعلی تعلیم یافتہ ایگزیکٹوز کا یہ حال ہے تو پھر کم تعلیم یافتہ ملازمین کا کیا حال ہوگا۔

          دنیا کا یہ اصول ہے کہ "اللہ تعالی کسی بھی قوم یا طبقے کی حالت اس وقت تک بہتر نہیں بناتا جب تک وہ خود اپنی حالت بہتر نہ بنائیں۔" اس اصول کے تحت استحصال کا شکار ہونے والے ملازمین کو اپنی جدوجہد کا آغاز خود کرنا پڑے گا۔ چونکہ ہمارا سرمایہ دار طبقہ مغرب کی اندھا دھند پیروی میں فخر محسوس کرتا ہے، اس وجہ سے مناسب ہو گا کہ حالیہ برسوں میں اہل مغرب کے ہاں ملازمت کے ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں، انہیں ملازمین کا طبقہ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کی ذمہ داری سب سے پہلے ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو مختلف کمپنیوں میں اعلی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

          اہل مغرب کے ہاں ملازمت کے ادارے میں دو طرح کی مثبت تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ حقیقی آفس کو اب "ورچوئل آفس(Virtual Office) " میں تبدیل کیا جا سکے۔ سرمایہ دار، ملازمین کے فائدے کے لئے نہیں بلکہ اپنے فائدے کے لئے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

          تنظیمی کرداریت (Organisational Behaviour) کی متعدد تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ سوٹ پہن کر سخت ڈسپلن میں کام کرنے کی نسبت گھر میں آرام دہ ماحول میں کام کرنے والے کارکنوں کی پیداواری صلاحیت (Productivity) کہیں بہتر ہوتی ہے اور وہ کم وقت میں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ اس طریقے سے مہنگے ترین دفاتر کا کرایہ بھی بچایا جا سکتا ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی اور کرایے کی بچت سے ورچوئل آفس والی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہو رہا ہے۔

          دوسری تبدیلی کا تعلق اوقات کار (Working Hours) سے ہے۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ مختلف انسانوں کے سونے جاگنے اور کام کرنے کی عادات میں فرق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مغربی ممالک میں ملازمین کو اوقات کار میں لچک (Flexible Hours) کی سہولت دی جار ہی ہے۔ اگر کوئی شخص صبح کے وقت میں بہتر کام کر سکتا ہے تو وہ جلد آ جائے اور جلد چلا جائے۔ جو شخص دوپہر اور شام میں بہتر کام کر سکتا ہے، وہ دیر سے آئے اور دیر سے جائے۔ دن میں کچھ ایسے اوقات مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں ہر شخص کا دفتر میں موجود رہنا ضروری ہے۔ اس نظام کے نتائج یہ ہیں کہ کاروباری ادارے کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست مثبت اثر کمپنیوں کے منافع پر پڑا ہے۔

          اگر ملازمین کا طبقہ ان اصلاحات کو اپنے معاشرے میں بھی متعارف کروا دے تو اس کے نتیجے میں ان کی اپنی زندگی بھی آسان ہو جائے گی۔

جیل کے قیدیوں کی غلامی

جیل کے ادارے کی صورت میں کثیر تعداد میں غلام دنیا بھر میں موجود ہیں۔ جیل کے قیدیوں کو دی جانے والی سزا عملاً ان کے ساتھ ساتھ ان کے پورے خاندان کو بھی بھگتنا پڑتی ہے۔ جیلیں جرم کی نرسریاں بن چکی ہیں اور پہلی مرتبہ سزا پانے والے افراد جو کسی نازک لمحے میں جرم کر بیٹھتے ہیں، عادی اور پیشہ ور مجرموں کے ساتھ رہ کر مکمل مجرم بن جاتے ہیں۔

          حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا سے سزائے موت، جو انسانیت کو قاتلوں اور دہشت گردوں سے بچانے کے لئے ضروری ہے، کے خاتمے کے لئے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں تو ایک بڑی تحریک چلا رہی ہیں لیکن جیل کی سزا کے خاتمے کے لئے دنیا بھر میں کوئی تحریک موجود نہیں ہے حالانکہ یہ غلامی ہی ایک صورت ہے۔

          ہمیں یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ جیل کی سزا کو صرف اور صرف عادی مجرموں کے لئے مخصوص کر دینا چاہیے۔ ایسے مجرم، جنہوں نے مختلف قسم کے نفسیاتی دباؤ کے تحت پہلی مرتبہ کوئی جرم کیا ہو، کے لئے جیل کی سزا کو "کمیونٹی ورک" میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ کمیونٹی ورک کا یہ تصور دنیا کے بہت سے ممالک میں موجود ہے۔ جو شخص عادی مجرم نہیں ہوتا اور اس کے پیچھے اس کا خاندان موجود ہوتا ہے اور عادی مجرموں کے برعکس اس کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ کمیونٹی ورک کی سزا کا فائدہ یہ ہوگا کہ معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔ مجرم کو اس کے جرم کی سزا بھی مل جائے گی اور اس کی سزا میں اس کے بیوی بچے بھی شریک نہ ہوں گے۔

          اب ہم مخفی غلامی کی ان صورتوں کے خاتمے کی چند تجاویز پیش کریں گے۔

مخفی غلامی کے خاتمے کا طریق کار

ہمارے ہاں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہم ہر برائی کے خاتمے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر خود مطمئن ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم ممالک کی اکثر حکومتیں ان افراد کے قبضے میں ہیں جنہیں مذہب اور انسانی اخلاقیات سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ یہ انسان نما بھیڑیوں کا ایسا غول ہے جو ہم پر مسلط ہے۔

          عام لوگ جب حکومت پر ذمہ داری عائد کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں تو اس کے نتائج نہایت بھیانک نکلتے ہیں۔ عام لوگوں کے انسانیت کے کام آنے سے جو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، ہم ان سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر ہماری حکومتیں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتیں تو ہمارا فرض ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم جو کچھ کر سکتے ہیں، کر گزریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلاموں اور زیردست طبقوں سے متعلق اپنی اصلاحات کے لئے مدینہ میں حکومت ملنے کا انتظار نہیں کیا تھا بلکہ مکی زندگی ہی میں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ غلاموں کی آزادی کی تحریک شروع کر چکے تھے۔

          جو افراد پہلے سے ہی اس قسم کی غلامی میں موجود ہیں، انہیں آزادی دلوانے کی ذمہ داری درجہ بدرجہ ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو معاشرے میں بہتر مقام کے حامل ہیں۔ اس کے بعد اس کی ذمہ داری معاشرے کے باقی افراد پر عائد ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنا کردار مختلف طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں۔

          ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ہماری اولاد مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلامی کا شکار ہو جائے لیکن ہمیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ انسانیت کے یہ دشمن اگر اسی طرح کام کرتے رہے تو معلوم نہیں کس وقت ہمارے کسی بچے یا بچی کو غلام بنا لیا جائے۔ اگر ہم حقیقتاً یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اس قسم کی غلامی سے محفوظ رہیں تو ہمیں اپنے معاشروں میں ہمہ جہتی نوعیت کی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان اصلاحات میں مذہبی، قانونی، سیاسی، سماجی، معاشی ہر نوعیت کی اصلاحات شامل ہیں۔ اس ضمن میں چند تجاویز ہم بیان کر رہے ہیں جو ہر قسم کی غلامی کے خاتمے کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

انسانی حقوق کے لئے مذہبی طبقے کی بیداری

غلامی کی ہر قسم کے مکمل خاتمے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے مذہبی طبقے کو انسانی آزادی کے لئے متحرک اور بیدار کرنا ہو گا۔ بدقسمتی سے ہمارا مذہبی طبقہ دین اسلام کی واضح تعلیمات کے برعکس انسانی آزادی سے متعلق مجرمانہ غفلت کا شکار ہے۔ ہر مذہبی گروہ نے چند غیر اہم ایشوز کو غیر ضروری اہمیت دی ہوئی ہے اور وہ ان کے لئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ اگر ان ایشوز پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کا زیادہ تر حصہ نان ایشوز پر مشتمل ہے۔ انسانی آزادی مذہبی طبقے کی ترجیحات کی فہرست میں دور دور تک کہیں موجود ہی نہیں ہے۔

          انسانی حقوق سے متعلق مذہبی طبقے کی غفلت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ معمولی معمولی مسائل پر تو ریلیاں نکالی جاتی ہیں، سڑکیں بلاک کی جاتی ہیں، لوگوں کو جہاد اور قتال کے لئے تیار کر لیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں چند خواتین کو جب معاشرے کے مقتدر طبقات کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نتیجہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں، چند علماء کے سوا، کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ ہمیں یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اگر آج کے معاشرے میں موجود ہوتے تو وہ ان مجرموں کو عبرت کا نشان بنا دیتے لیکن افسوس کہ آپ کے دین کے علم برداروں کی اکثریت نے اس معاملے میں معمولی بیان بازی کو بھی ضروری نہ سمجھا۔

          افسوس کہ حدود آرڈیننس کے تحفظ کے لئے تو اپنا خون بہا دینے کا عہد کیا گیا لیکن قرآن کی قائم کردہ حدود کے ان حقیقی مجرموں کو فساد فی الارض کی سزا دینے کا معمولی درجے میں بھی کوئی مطالبہ کسی مذہبی حلقے کی جانب سے سامنے نہ آیا۔ اگر کسی نے ہلکا پھلکا رسمی بیان دے بھی دیا تو کوئی تحریک حکومت کو مجبور کرنے کے لئے پیدا نہ کی گئی۔ اس کے برعکس اس سے کہیں معمولی معاملات پر ملکی معیشت کا پہیہ جام کر دینے کی حمایت کر دی گئی۔

          مذہبی طبقے کی جانب سے انسانی حقوق کے معاملے میں غفلت کے دو نقصانات سامنے آ رہے ہیں۔ بڑا نقصان یہ ہے کہ ان کی بدولت جدید تعلیم یافتہ طبقہ معاذ اللہ دین اسلام سے بے زار ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے تعلیم یافتہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام کا مقصد تو نعوذ اللہ انسانی آزادی پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔ اسلام کو انسانی آزادیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اس غلط فہمی میں جہاں ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے کی مذہبی امور کے بارے میں جہالت کا قصور ہے، وہاں ہمارا مذہبی طبقہ بھی اس معاملے میں پورا قصور وار ہے جس نے دین اسلام کی ان اعلی و ارفع تعلیمات کو جدید تعلیم یافتہ طبقے کے سامنے ان کی زبان میں پیش کرنے میں غفلت کا ثبوت دیا ہے۔

          انسانی حقوق سے متعلق مذہبی طبقے کی اس غفلت کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی تحریک سیکولر یا دنیا دار طبقے کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ یہ طبقہ ایک طرف تو مخلص افراد کی کمی کا شدید شکار ہے۔ زیادہ تر افراد کا کام اندرون و بیرون ملک سے چندے حاصل کر کے اس سے اپنی جائیدادوں کی تعمیر ہی رہ گیا ہے۔ دوسری طرف یہ طبقہ عوام الناس کا اعتماد جیتنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ ہمارے مذہبی راہنماؤں کی اپیل پر تو لوگ اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جبکہ غیر مذہبی راہنما بالعموم عام لوگوں کے جذبات کو متحرک کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مغربی معاشروں کے برعکس ہمارے ہاں انسانی حقوق کے لئے بہت کم کام ہو سکا ہے۔

          مثال کے طور پر برصغیر میں انگریز کے اقتدار سے پہلے تمام دینی مدارس کی مالیات کی ذمہ داری حکومت کے سپرد تھی۔ انگریزی اقتدار کے نتیجے میں ان مدارس کی فنانسنگ کا سلسلہ تقریباً بند ہو گیا۔ اس موقع پر ہمارے مذہبی طبقے نے یہ عہد کیا کہ اگر حکومت ان کی مدد نہیں کر سکتی تو وہ خود اپنے علوم کو زندہ رکھیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری قوم ان کی مدد کے لئے تیار ہو گئی۔ درختوں کے نیچے بیٹھ کر قال اللہ و قال الرسول کی صداؤں سے شروع ہونے والے تعلیمی ادارے اب اتنے بڑے نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو کہ چھوٹے سے چھوٹے دیہات کے مدرسوں سے لے کر تدریس علم کی بڑی بڑی بڑی یونیورسٹیوں تک پھیلا ہوا ہے۔

          ہمیں یقین ہے کہ اگر ہمارے مذہبی علماء اسی جذبے کے ساتھ انسانی حقوق کے لئے نکلیں تو چند ہی سالوں میں وہ اس درجے کے نتائج پیدا کرنے کا پوٹینشل رکھتے ہیں جس کا عشر عشیر بھی سیکولر این جی اوز کو حاصل نہیں ہے۔

          رہا یہ سوال کہ مذہبی طبقے کو قائل کیسے کیا جائے کہ انسانی حقوق کی جدوجہد بھی کرنے کا کوئی کام ہے۔ اس ضمن میں سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو وہ آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ احادیث، جو انسانی حقوق سے متعلق ہیں کو عام کیا جائے۔ ہر ہر طریقے سے ان آیات و احادیث کو معاشرے میں پھیلایا جائے اور مذہبی طبقات کو ان آیات و احادیث کے ذریعے یاد دہانی کروائی جائے کہ ان کے کرنے کا کام اصل میں یہ ہے، جسے وہ ایک طویل عرصے سے نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔

          انسانی آزادیوں سے متعلق قرآن مجید کی آیات تو معروف و مشہور ہیں۔ اس کتاب میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ غلامی کے خاتمے اور آزادی کی حمایت میں جس قدر احادیث ہمیں مل سکی ہیں، کم از کم متن کی حد تک ہم نے انہیں یہاں درج کر دیا ہے۔ ان کی مزید اسناد کی تخریج حدیث کی کتب میں کی جا سکتی ہے۔

          اللہ تعالی کے احکامات کی موجودگی میں اب مذہبی طبقات پر فرض کے درجے میں یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں میں "فک رقبۃ" یعنی غلاموں کی آزادی کی مہم چلائیں۔ آزادی کو ایک اسلامی "قدر" کے طور پر متعارف کروایا جائے۔ لوگوں کو اس بات پر تیار کیا جائے کہ وہ ان غلاموں کی آزادی کے لئے کام کریں۔

آزادی فکر کا فروغ

ہر قسم کی غلامی کے مکمل خاتمے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشروں میں آزادی فکر کو ایک مثبت قدر بنا کر پیش کریں۔ موجودہ غلامی کے خاتمے اور آئندہ غلامی کے ادارے کے احیاء سے بچنے کے لئے ہمیں، ملحدین کی آزادی اظہار کی اپروچ کی اس غلطی کو واضح کرتے ہوئے اپنے معاشروں میں آزادی فکر کے اسلامی تصور کو فروغ دینا ہو گا۔ اس کی مزید تفصیل آگے میں آ رہی ہے۔

سول سوسائٹی کا کردار

مسلم معاشروں میں سول سوسائٹی ایک ابھرتا ہوا طبقہ ہے۔ قدیم زمانے میں اشرافیہ جاگیرداروں، درباریوں اور فوجی جرنیلوں پر مشتمل طبقے کا نام تھا۔ اب اس طبقے میں عدلیہ، میڈیا، مذہبی تنظیمیں، سیاسی تنظیمیں اور سماجی تنظیمیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سول سوسائٹی کا درست کردار متعین کیا جائے۔ سول سوسائٹی سے متعلق افراد، جو معاشرے میں تھوڑا بہت بھی اثر و رسوخ رکھتے ہوں، غلامی کی موجودہ صورتوں کے خلاف جہاد میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

          جن لوگوں کو ایسے غلاموں سے متعل علم ہو، وہ فوری طور پر پولیس اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کو اطلاع دیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ہاں پولیس کا نظام کافی ترقی یافتہ ہے۔ اس پر مستزاد ان کے ہاں عدلیہ اور میڈیا کی صورت میں دو ایسے ادارے موجود ہیں جو حکومت کا احتساب کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو مجرم گروہوں کی طرف سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہو تب بھی وہ خفیہ کال یا ای میل کے ذریعے پولیس اور میڈیا تک اطلاع پہنچا سکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں، یہ ادارے اتنے فعال نہیں، وہاں بھی کم از کم پولیس اور میڈیا کو اطلاع دے کر اپنا فرض تو پورا کیا جا سکتا ہے۔

          صاحب ثروت افراد اگر کسی شخص کو غلامی سے رقم دے کر آزاد کروا سکتے ہیں تو وہ ایسا کر گزریں۔ اس طریقے سے عموماً ان غلاموں کو آزاد کروایا جا سکتا ہے جو قرض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جبری مشقت کا شکار ہیں۔ اس مقصد کے لئے بہت زیادہ امیر ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بھی باآسانی سال یا دو سال میں ایسے ایک فرد کی رہائی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہر شخص کو یہ تلقین کی جانے چاہیے کہ اگر اس نے ایسے ایک غلام کو بھی آزاد کروا دیا تو اللہ تعالی اسے اس کے بدلے جہنم سے آزاد کر دے گا۔

          قانون کے پیشے سے وابستہ افراد کو اس ضمن میں اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ نیکی کا شوق رکھنے والے وکلاء کو خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے سال میں کچھ مقدمات ایسے افراد کے لئے مفت لڑنے کی روایت قائم کرنی چاہیے۔ جج حضرات کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جس قدر سہولیات فراہم کر سکتے ہوں، کر گزریں۔

          میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی خاص کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے معاملات جن میں جبری مشقت عام ہو، کو خاص کوریج دی جائے اور حکومتی عہدے داروں پر اس سلسلے میں دباؤ برقرار رکھا جائے۔ خوش قسمتی سے مغربی اور مسلم ممالک کا میڈیا اس معاملے میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔ اس کردار کو مزید بہتر بنانے اور پھر اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

          انسانوں کی آزادی کے لئے جو غیر سرکاری ادارے (NGOs) واقعتاً کام کر رہے ہیں، ان سے بھرپور مالی اور عملی تعاون کیا جائے۔ نوجوان ہر سال چھٹیوں میں کچھ دن ان اداروں کے ساتھ کام کرنے کے لئے وقف کر دیں۔ ملازمت کرنے والے اور کاروباری افراد بھی کچھ نہ کچھ وقت نکال کر ان اداروں کے ساتھ کام کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے ادارے عام طور پر کام کرنے کی بجائے چندے بٹورنے اور ان سے اداروں کے مالکان کی جائیداد میں اضافہ کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ ان کے مقابلے پر ہمیں ایسے ادارے بنانے کی ضرورت ہے جو واقعتاً خلوص نیت سے کام کرنے پر تیار ہوں۔ اس کے علاوہ کرپٹ این جی اوز کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

          یہاں ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ بہت سے مخلص مذہبی اور سماجی اداروں میں ایک فتنہ یہ بھی پیدا ہو چکا ہے کہ عوام الناس سے حاصل کردہ چندوں کو غیر ضروری اخراجات پر صرف کیا جاتا ہے اور اس طرح یہ رقم اصل حقدار تک پہنچنے کی بجائے ضائع ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دفاتر کے کرایوں اور ایڈورٹائزنگ پر بے جا رقم خرچ کی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں معلوماتی انقلاب (Information Revolution) کے بعد دفاتر وغیرہ پر رقم خرچ کرنے کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ مذہبی اور سماجی اداروں کے مخلص کارکن ایک دوسرے سے فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ رکھ سکتے ہیں۔ اداروں کے ریکارڈ کو بھی ویب بیسڈ کیا جا سکتا ہے اور اس پر کچھ خاص خرچ بھی نہیں آتا۔

          اس وقت ضرورت ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے اسی روایت کو زندہ کریں کہ وہ لوگ درخت کے نیچے بیٹھ کر بھی دین کی خدمت کرتے رہتے تھے اور بڑی بڑی عمارتوں اور دیگر اللے تللوں کی خواہش میں نہ رہتے تھے۔ اگر ہم میں بھی وہی جذبہ پیدا ہو جائے تو جو کچھ ہے اور جہاں ہے، کی بنیاد پر دین اور انسانیت کی بہت بڑی خدمت، نہایت ہی کم خرچ میں کی جا سکتی ہے۔

          ہماری رائے میں مخلص لوگوں کو امراء سے فنڈز اکٹھے کر کے ضرورت مندوں کو دینے کی روش کو بھی ترک کر دینا چاہیے۔ اس کی بجائے انہیں ضرورت مند افراد اور صاحب حیثیت افراد کے درمیان رابطے کا کام کرنا چاہیے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں کسی کی مدد کرنا چاہتا ہے، جب وہ خود تحقیق کر کے اپنے ہاتھ سے کسی ضرورت مند کی مدد کرے گا تو اس کے نتیجے میں انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی ساکھ میں اضافہ ہو گا۔

          جو تجاویز ہم نے پیش کی ہیں، ان پر عمل کرنے کے لئے انسان کا بہت اعلی عہدے پر ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر شخص اپنی اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

سیکس ایجوکیشن

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ زیادہ تر لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی وجہ ان کے گھریلو حالات اور صنفی معاملات سے ناواقفیت ہوتی ہے۔ انہی لڑکیوں کو عصمت فروشی کا دھندہ کرنے والے پکڑ کر غلام بنا لیتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارا معاشرہ بہت افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ایک طرف تو ہمارے ہاں لڑکے اور لڑکی کا تعلق ایک ناقابل معافی جرم ہے لیکن دوسری طرف انہیں اس معاملے میں مناسب تربیت کی فراہمی کا کوئی سلسلہ ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔

          والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے لڑکے لڑکیوں کو مناسب انداز میں تعلیم دیں۔ ہمارے ہاں باپ اور بیٹے اور ماں اور بیٹی میں جو ایک نامعقول سا حجاب پایا جاتا ہے، اس کے نتائج بہت بھیانک نکل رہے ہیں۔

          اگر والدین اور اساتذہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ ان کی اولاد اپنے دوستوں اور انٹرنیٹ سے یہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جس کے نتیجے میں انہیں غلط معلومات حاصل ہوں گی۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا کہ معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی چلی جائے گی۔ اگر ہم اپنی اولاد کو بردہ فروشوں کا غلام بننے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان سے دوستانہ تعلق قائم کرنا پڑے گا۔

          ہمارے ہاں ایک اور غلط رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آ جائے تو پھر اسے قبول نہیں کیا جاتا بالخصوص اگر وہ لڑکی ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو لڑکیاں جوانی کی ابتدائی منزل میں والدین کی عدم تربیت کے باعث کوئی غلط اقدام کر بیٹھتی ہیں، اور اس کے بعد اپنے کئے پر پشیمان بھی ہوتی ہیں، انہیں خود ان کے والدین اور معاشرہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہ ہم ہی لوگ ہیں جو اس کے بعد انہیں برائی کی دلدل میں اترے رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس ضمن میں واضح تلقین فرمائی ہے کہ ایسی کسی صورت میں مجرم کو توبہ کا موقع دیا جائے اور معاملہ کو جس حد تک ممکن ہو عدالت سے دور رکھا جائے۔ متعدد مرتبہ ایسا ہوا کہ بدکاری کے کسی مجرم نے خود آ کر بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے اعتراف کر لیا تو آپ نے رخ انور دوسری طرف کر کے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ جب اس نے چار مرتبہ اعتراف کر لیا تو پھر آپ نے یہ تحقیق کی کہ کہیں یہ پاگل تو نہیں ہے۔ تب جا کر آپ نے اس پر سزا نافذ کی۔ اسی اسوہ حسنہ کو زندہ کرتے ہوئے ہمیں اپنوں کو معاف کر دینا سیکھنا ہو گا۔

کرپشن کا خاتمہ

غیر قانونی غلامی کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے۔ تمام مسلم ممالک میں غلامی کے ادارے کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود حکومتوں کی عین ناک کے نیچے یہ کاروبار جاری ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ کرپشن ہمارے معاشروں میں زہر کی طرح سرایت کی ہوئی ہے۔ ہر طرف رشوت اور سفارش کا دور دورہ ہے۔ کوئی کام بغیر رشوت کے ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔

          کرپشن صرف جذباتی تقریروں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ ہمارے معاشروں میں اس درجے میں موجود ہے کہ اس کے خاتمے کا کوئی شارٹ ٹرم حل موجود نہیں ہے۔ اس کے لئے ہمیں وہ حکمت عملی اختیار کرنی پڑے گی جو سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل میں سے غلامی کے دور کی باقیات نکالنے کے لئے کی تھی۔ انہوں نے نئی نسل کو اللہ تعالی کے احکام کے مطابق تربیت دینے کی حکمت عملی اختیار فرمائی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں ایک ایسی نسل تیار ہوئی جو دور غلامی کی کرپشن سے پاک تھی۔ اس کام کو بھی حکومت کے ذمے لگانے کی بجائے ہمیں خود آگے آ کر، اپنی اپنی استعداد کے مطابق، یہ ذمہ داری سنبھالنا ہو گی۔

غربت کا خاتمہ

غیر قانونی غلامی کی بڑی وجہ غربت ہے۔ ہمارے ممالک کو اللہ تعالی نے بھرپور قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا ہے۔ کرپشن کی بدولت ان وسائل کا بڑا حصہ ایک مخصوص طبقے کے حصے میں چلا جاتا ہے اور بہت کم عوام الناس کے حصے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہترین انسانی وسائل ہجرت کر کے ترقی یافتہ ممالک کی طرف جا رہے ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد تو قانونی طریقے سے امیگریشن میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن کم تعلیم یافتہ افراد کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ ایجنٹوں کے ہاتھوں یرغمال بنیں۔

          معیشت میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا تو خیر حکومت ہی کا کام ہے لیکن اس عمل میں عام لوگ بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ صاحب ثروت ہیں اور خدا کا خوف رکھتے ہیں تو اپنے ملازمین کو کم از کم اتنی تنخواہ تو دیجیے جس سے ان کی بنیادی ضروریات اس درجے میں پوری ہو سکیں جس میں آپ اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اگر آپ ہنر مند ہیں تو سال میں کم از کم ایک ہی غیر ہنر مند شخص کو ہنر مند بنا دیں تاکہ وہ اپنے خاندان کی حد تک غربت کا خاتمہ کر سکے۔ اگر آپ تاجر ہیں تو غریب خواتین کی دستکاریوں کے اتنے دام ادا کیجیے کہ وہ اپنے گھر کا خرچ چلا سکیں۔ اگر آپ کے پاس کچھ فالتو رقم موجود ہے تو کسی غریب شخص کو بطور قرض دے دیجیے کہ وہ اس سے اپنے کاروبار کا آغاز کر سکے۔

          حکومتی سطح پر غربت کے خاتمے کا ایک حل تو کمیونزم نے تجویز کیا تھا کہ تمام وسائل کو سرکاری قبضے میں لے لیا جائے۔ ستر سالہ تجربے سے اس نظام کی حماقت اس حد تک واضح ہو چکی ہے کہ کوئی احمق ہی اب کمیونزم کو غربت کے خاتمے کا حل سمجھتا ہو گا۔ غربت کے خاتمے کا حل وہی ہے جو چودہ سو برس پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے معاشرے میں نافذ کیا تھا اور کسی حد تک اسے موجودہ دور کے مغربی ممالک نے "ویلفیئر اسٹیٹ" کے تصور میں عملاً رائج کیا ہے۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غربت کے خاتمے کے لئے جو اقدامات کیے اس کی تفصیل آپ باب 8 میں دیکھ سکتے ہیں۔

انارکی اور جنگ کا خاتمہ

ہمیں اس بات کو ایمان کی حد تک مان لینا چاہیے کہ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو غلامی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں امن قائم رکھنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تمام ایشوز اہم ہیں لیکن اگر اہم نہیں ہے تو وہ "امن" ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جب لاقانونیت جنم لیتی ہے تو وہ سب سے پہلے کاروبار اور ملازمتوں کو ختم کرتی ہے جس کے نتیجے میں بھوک پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھوک اتنی ظالم چیز ہے کہ اس کے لئے انسان پہلے مرحلے پر اپنی اولاد اور دوسرے مرحلے پر خود کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

          موجودہ دور میں اس کی مثالیں ہمارے اپنے مسلم ممالک میں موجود ہیں۔ عراق سے لاکھوں کی تعداد میں خواتین اور بچے اپنے ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں۔ ان خواتین، جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں، کے پاس اپنی بھوک مٹانے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ یہ جنسی درندوں کے ہاتھوں پامال ہوتی رہیں۔ جن احباب نے بھی عراق کے ہمسایہ ممالک کا سفر کیا ہے وہ یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ لبنان اور فلسطین کی صورتحال بھی یہی ہے۔ افغانستان میں کم عمر لڑکوں کی کثیر تعداد جسم فروشی پر مجبور ہے۔ یہ سب کے سب پیشہ ور طوائف نہیں ہیں بلکہ سب کے سب شریف گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچے ہیں جو آخری حد تک مجبور ہو جانے کے بعد اس حال تک پہنچے ہیں۔ یہی صورتحال اب پاکستان میں عام ہوتی جا رہی ہے۔

          حکومت خواہ کتنی ہی ظالم کیوں نہ ہو، اس کا ظلم ایک دائرے ہی میں محدود رہتا ہے۔ حکومت کی رٹ اگر طاقتور ہو تو وہ مجرم گروہوں کو ایک حد سے آگے کا موقع نہیں دیتی۔ جیسے ہی حکومت کی رٹ کمزور پڑتی ہے، مجرم گروہ اپنی پوری قوت سے معاشرے میں سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ مردوں کو غلام بنا کر مکروہ کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور خواتین کو عصمت فروشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے، اس کے ظلم کے خلاف عوام کو بیدار کرنے اور ظلم کے خاتمے کے لئے پرامن جدوجہد کی اجازت دی ہے لیکن مسلح بغاوت کے بارے میں آپ نے سختی نے منع فرمایا۔

حدثنا محمد بن المثنى ومحمد بن بشار. قالا: حدثنا محمد بن جعفر. حدثنا شعبة عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وائل الحضرمي، عن أبيه. قال:  سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال: يا نبي الله! أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا، فما تأمرنا؟ فأعرض عنه. ثم سأله فأعرض عنه. ثم سأله في اثانية أو في الثالثة فجذبه الأشعث بن قيس. وقال (اسمعوا وأطيعوا. فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4782)

سیدنا سلمہ بن یزید الجعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھا، "یا نبی اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو اپنا حق تو ہم سے وصول کریں لیکن ہمارا حق ہمیں نہ دیں تو آپ اس معاملے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟" آپ نے اس بات پر رخ انور پھیر لیا۔ انہوں نے دوبارہ سوال کیا لیکن آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری یا تیسری مرتبہ پھر پوچھا تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا، "سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر ان کے اعمال کی ذمہ داری ہے اور تم پر تمہارے اعمال کی۔"

حدثني محمد بن المثنى. حدثنا أبو الوليد بن مسلم. حدثنا عبدالرحمن بن يزيد بن جابر. حدثني بسر بن عبيدالله الحضرمي؛ أنه سمع أبا إدريس الخولاني يقول: سمعت حذيفة بن اليمان يقول: كان الناس يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير. وكنت أسأله عن الشر. مخافة أن يدركني. فقلت: يا رسول الله! إنا كنا في جاهلية وشر. فجاءنا الله بهذا الخير. فهل بعد هذا الخير شر؟ قال (نعم) فقلت: هل بعد ذلك الشر من خير؟ قال (نعم. وفيه دخن). قلت: وما دخنه؟ قال (قوم يستنون بغير سنتي. ويهدون بغير هديي. عرف منهم وتنكر). فقلت: هل بعد ذلك الخير من شر؟ قال (نعم. دعاة على أبواب جهنم. من أجابهم إليها قذفوه فيها). فقلت: يا رسول الله! صفهم لنا. قال (نعم. قوم من جلدتنا. ويتكلمون بألسنتنا) قلت: يا رسول الله! فما ترى إن أدركني ذلك! قال (تلزم جماعة المسلمين وإمامهم) فقلت: فإن لم تكن لهم جماعة ولا  إمام؟ قال (فاعتزل تلك الفرق كلها. ولو أن تعض على أصل شجرة. حتى يدركك الموت، وأنت على ذلك). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4784)

سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے خیر سے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ سے شر کے متعلق ہی سوال کیا کرتا تھا تاکہ میں برائی میں نہ پڑ جاؤں۔ میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! ہم لوگ جاہلیت اور برائی میں تھے۔ اس کے بعد اللہ نے ہمیں بھلائی میں داخل کیا۔ کیا اس کے بعد پھر برائی ہوگی؟ آپ نے فرمایا، "ہاں"۔ میں نے عرض کیا، "کیا اس کے بعد پھر بھلائی آئے گی؟" آپ نے فرمایا، "ہاں، لیکن اس میں کچھ دھواں سا ہو گا۔" میں نے عرض کیا، "وہ دھواں سا کیا ہوگا؟

       آپ نے فرمایا، "ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میری ہدایت کے مطابق عمل نہیں کریں گے۔ ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور برائی بھی ہو گی۔" میں نے عرض کیا، "کیا اس خیر کے بعد پھر برائی پیدا ہو جائے گی؟" فرمایا، "ہاں۔ لوگ جہنم کے دروازوں کی طرف بلائیں گے اور جو ان کی بات مان لے گا، اسے جہنم تک پہنچا کر دم لیں گے۔" عرض کیا، "ان کی کچھ مزید خصوصیات بیان فرمائیے۔" فرمایا، "ان کی شکل و صورت ہماری جیسی ہی ہوگی اور وہ ہماری زبان ہی بولیں گے۔"

       میں نے عرض کیا، "اگر میرا واسطہ ان لوگوں سے پڑ جائے تو میں کیا کروں؟" فرمایا، "مسلمانوں کی جماعت (حکومت) اور ان کے حکمران کی پیروی کرو۔" عرض کیا، "اگر حکومت اور حکمران ہی نہ رہیں (یعنی انارکی پیدا ہو جائے)۔" فرمایا، "ہر فرقے سے الگ ہو کر رہو خواہ اس کے لئے تمہیں درختوں کی جڑیں ہی کیوں نہ چبانی پڑیں۔ اور مرتے دم تک ایسا ہی کرو (یعنی ہر صورت فتنہ و فساد اور انارکی سے دور رہو۔)"

اسی حدیث کی دوسری روایت میں بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔

وحدثني محمد بن سهل بن عسكر التميمي. حدثنا يحيى بن حسان. ح وحدثنا عبدالله بن عبدالرحمن الدارمي. أخبرنا يحيى (وهو ابن حسان). حدثنا معاوية (يعني ابن سلام). حدثنا زيد بن سلام عن أبي سلام. قال: قال حذيفة بن اليمان: قلت: يا رسول الله! إنا كنا بشر. فجاء الله بخير. فنحن فيه. فهل من وراء هذا الخير شر؟ قال (نعم) قلت: هل من وراء ذلك الشر خير؟ قال (نعم) قلت: فهل من وراء ذلك الخير شر؟ قال (نعم) قلت: كيف؟ قال (يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي، ولا  يستنون بسنتي. وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس) قال قلت: كيف أصنع؟ يا رسول الله! إن أدركت ذلك؟ قال (تسمع وتطيع للأمير. وإن ضرب ظهرك. وأخذ مالك. فاسمع وأطع). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4785)

سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! ہم لوگ غافل تھے، پھر اللہ نے ہمیں خیر عطا فرمائی۔ اب ہم خیر کی حالت میں ہیں۔ کیا اس خیر کے بعد برائی بھی ہے؟" فرمایا، "ہاں۔" عرض کیا، "کیا اس برائی کے بعد پھر خیر ہو گا۔" فرمایا، "ہاں۔" عرض کیا، "پھر اس خیر کے بعد برائی ہوگی؟" فرمایا، "ہاں۔" عرض کیا، "وہ کیسی ہوگی؟" فرمایا، "میرے بعد ایسے حکمران پیدا ہوں گے جو میری ہدایت کی پیروی نہ کریں گے۔ وہ میری سنت پر عمل نہ کریں گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے اور دل شیطانوں کے ہوں گے۔" میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! اگر میرا سامنا ان سے ہو جائے تو اس وقت میں کیا کروں؟" فرمایا، "حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہاری کمر پر کوڑے بھی لگائے۔"

وحدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا عبدالوارث. حدثنا الجعد. حدثنا أبو رجاء العطاردي عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال (من كره من أميره شيئا فليصبر عليه. فإنه ليس أحد من الناس خرج من السلطان شبرا، فمات عليه، إلا مات ميتة جاهلية). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4791)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جسے اپنے حکمران کی کوئی بات ناگوار گزرے، وہ اس پر صبر کرے (یعنی بغاوت نہ کرے۔) جو شخص بھی حکمران کی اطاعت سے بالشت بھر بھی نکلے گا، وہ جاھلیت کی موت مرے گا۔"

حکومت کی اطاعت اس کی غلامی کا نام نہیں ہے۔ ان احدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ حکومت کی برائیوں پر لوگ دم سادھ کر بیٹھے رہیں بلکہ ان برائیوں کو برائی سمجھنا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے خلاف آواز اٹھانا نیک لوگوں کی ذمہ داری ہے۔

حدثنا داود بن رشيد. حدثنا الوليد (يعني ابن مسلم). حدثنا عبدالرحمن بن يزيد بن جابر. أخبرني مولى بني فزازة (وهو زريق بن حيان)؛ أنه سمع مسلم بن قرظة، ابن عم عوف بن مالك الأشجعي، يقول: سمعت عوف بن مالك الأشجعي يقول:  سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم. وتصلون عليهم ويصلون عليكم. وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم. وتلعنونهم ويلعنونكم) قالوا قلنا: يا رسول الله! أفلا ننابذهم عند ذلك؟ قال (لا. ما أقاموا فيكم الصلاة. لا ما أقاموا فيكم الصلاة. ألا من ولى عليه وال، فرآه يأتي شيئا من معصية الله، فليكره ما يأتي من معصية الله، ولا  ينزعن يدا من طاعة). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4805)

سیدنا عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا، "تمہارے بہترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں۔ تم ان کے لئے دعا کرو اور وہ تمہارے لئے دعا کریں۔ تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں۔ تم ان پر لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔ ہم نے عرض کیا، "ہم ایسے حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہ کر دیں۔" فرمایا، "نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ لیکن جب تم اپنے حکمرانوں میں اللہ تعالی کی کوئی نافرمانی ہوتی دیکھو تو اسے برائی ہی سمجھتے رہو البتہ اس کی اطاعت سے ہاتھ مت کھینچو (کیونکہ اس سے پہلے سے زیادہ بڑی برائی یعنی انارکی جنم لے گی۔)

یہی وجہ ہے کہ آپ نے ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق ادا کرنے کو افضل ترین جہاد قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ تاکید فرما دی کہ اس سے مسلح بغاوت کا راستہ اختیار نہ کی جائے بلکہ مظلومانہ انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھی جائے۔

          ہمارے زمانے میں دین سے جو انحراف پیدا ہوا ہے اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے واضح ارشادات کے مطابق ہم لوگ ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی بجائے ان سے مسلح تصادم کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا کہ ہمارے تمام معاشرے یکے بعد دیگرے انتشار کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔وار لارڈز کا طبقہ لوگوں کو اپنا غلام بنا رہا ہے اور ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی عفت و عصمت نیلام کرنا پڑے گی۔ فلسطین، عراق، افغانستان اور اب خدانخواستہ پاکستان کی بہنیں اور بیٹیاں ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

          اس نوبت تک پہنچنے سے بہتر یہ ہے کہ ہم ظالم حکمرانوں کے ظلم پر صبر کریں اور ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرتے رہیں خواہ اس کے لئے ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق درختوں کی جڑیں چبا کر گزارا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

سماجی امتیاز کا خاتمہ

غیر قانونی غلامی کی ایک بڑی وجہ ہمارے معاشروں میں موجود سماجی امتیاز ہے۔ دور جاہلیت کی طرح ہمارے ہاں بالعموم ہاتھ سے کام کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے پرعزم نوجوان بھی اپنے معاشرے میں ایسا کوئی کام کرنا پسند نہیں کرتے۔ یہی نوجوان جب مغربی اور عرب معاشروں میں جا کر آباد ہوتے ہیں تو وہ پٹرول پمپ پر کام کرنے سے لے کر ٹیکسی چلانے تک ایسے تمام کام کر لیتے ہیں۔ اپنے معاشرے میں یہ سب کام نہ کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارا معاشرہ انہیں وہ عزت نہیں دیتا جس کے وہ حق دار ہیں۔

          اس امتیاز کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ عمومی غربت کا شکار رہتے ہیں اور اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے غیر قانونی طریقوں سے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرنے کی کوشش میں بردہ فروشوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

قانونی نظام کی اصلاح

ہمارے ہاں قانونی نظام اس طرح سے تشکیل دیا گیا ہے کہ اس میں بے گناہ اور شریف شہری کی گردن تو آسانی سے پھنس جاتی ہے لیکن بڑے بڑے مگرمچھ اور بردہ فروش محفوظ رہ جاتے ہیں۔ اس نظام کی اصلاح بنیادی طور پر تو حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن عوام بالخصوص تعلیم یافتہ طبقے کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

سیکس ورکرز سے متعلق اصلاحات

سیکس ورکرز سے متعلق بڑے پیمانے پر معاشرتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر یہ بھی حکومت ہی کا کام ہے لیکن معاشرے کے افراد کو اپنی اپنی سطح پر اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس پیشے سے منسلک خواتین اور بچوں کی بہت کم تعداد ہو گی جو اپنی خوشی سے اس پیشے سے وابستہ ہو گی۔ یہ خواتین بالعموم اپنے سرپرستوں اور دلالوں کے ایک بہت بڑے گروہ کے دباؤ کے تحت اس پیشے کو جاری رکھتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ عمر کے کسی حصے میں بھی جب ایسی خاتون اپنی سابقہ زندگی سے توبہ کر کے شریفانہ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے تو معاشرہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔

          یہی معاملہ ایسی خواتین کی معصوم بچیوں کا ہوتا ہے جو کسی طرح بھی اس پیشے سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ ان خواتین کو غلامی کی اس زندگی سے نجات دلانے کے لئے معاشرے کے مختلف طبقات خاص طور پر میڈیا، طب اور قانون کے پیشوں سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں حکومت سے خاص طور پر مطالبہ کرنا ہوگا کہ اس پیشے کے محافظوں اور دلالوں پر "فساد فی الارض" کی قرآنی سزا نافذ کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جائے کیونکہ یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔

 

اگلا باب                                    فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability