بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 21: اسلام اور غلامی سے متعلق فلسفیانہ اور تاریخی سوالات

کیا قرآن غلامی کو فطری قرار دیتا ہے؟

بعض مستشرقین نے یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ قرآن نے غلامی کو ایک فطری چیز قرار دے کر اسے اپنے نظام میں قبول کیا ہے۔ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا کہ انہوں نے ایک قرآنی آیت کو اس کے سیاق و سباق سے نکال کر اس سے ایک غلط نتیجہ اخذ کیا ہے۔ ہم اگر اس آیت کو اس کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھیں تو ایسا کوئی نتیجہ وہی اخذ کر سکتا ہے جو علمی دیانت سے واقف نہ ہو۔

وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الأَعْلَى فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ. ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِكُمْ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ. بَلْ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ. (روم 30:27-29)

وہی (خدا) ہی تو ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اسے دوہرائے گا اور یہ اس کے لئے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی یہ صفت سب سے برتر ہے اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ وہ تمہیں خود تمہاری ذات سے ایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، تم پسند کرو گے کہ کچھ غلام ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے برابر شریک ہو جائیں اور تم ان سے اس طرح ڈرنے لگو جس طرح اپنے برابر کے لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم عقل مندوں کے لئے اپنی نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ مگر یہ ظالم بغیر سوچے سمجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ ہی نے گمراہی کے راستے پر (اس کے رویے کے باعث) چھوڑ دیا ہو۔ ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔

سورہ روم ایک مکی سورت ہے۔ ان آیات میں اہل مکہ کو توحید اور آخرت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ اس کے لئے انہیں یہ بات بطور مثال بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے غلاموں کو تو اپنے برابر سمجھتے نہیں لیکن عجیب بات ہے کہ تم لوگ خدا کے حقیقی بندوں کو اس کے برابر قرار دے دیتے ہو۔ ان آیات میں مشرکین مکہ کے ایک غلط تصور ہی کو لے کر انہیں اسی کی بنیاد پر اتمام حجت کیا گیا ہے۔

††††††††† ان آیات سے یہ کہیں اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن غلامی کو قبول کرتا ہے اور وہ اسے ایک ادارے کے طور پر باقی دیکھنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر اگر تفصیل سے ان تمام آیات و احادیث کو سامنے رکھا جائے جو ہم نے باب 7 سے لے کر باب 12 کے درمیان بیان کی ہیں تو کوئی معقول شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا۔ دوسری آیات یہ ہیں جنہیں ان کے سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے:

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ. وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجاً وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنْ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً مِنْ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ شَيْئاً وَلا يَسْتَطِيعُونَ۔ فَلا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقاً حَسَناً فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرّاً وَجَهْراً هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهُّ لا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (النحل 16:71-76)

اللہ نے تم میں سے بعض کو دیگر پر رزق کے معاملے میں بہتر بنایا ہے۔ تو ایسا کیوں نہیں ہے کہ جو رزق کے معاملے میں فوقیت رکھتے ہیں وہ اسے غلاموں کو منتقل کر دیں تاکہ وہ ان کےبرابر آ سکیں۔ تو کیا اللہ کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے؟

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تم میں سے ہی جوڑے بنائے ہیں اور اسی نے ان میں سے تمہیں اولاد اور پوتے پوتیاں عطا کئے ہیں اور تمہارے کھانے پینے کے لئے اچھی اور صاف چیزیں پیدا کی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ (دیکھ بھال کر بھی) باطل پر تو ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے احسانات کا انکار کرتے ہیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں آسمانوں اور زمین میں سے کوئی چیز بطور رزق کے نہیں دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پس اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔

اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا۔ دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ (جب تمہارے خیال میں یہ دونوں برابر نہیں ہیں) تو الحمد للہ مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ اللہ دو افراد کی ایک اور مثال بیان کرتا ہے۔ ان میں سے ایک گونگا بہرا ہے اور کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور مکمل طور پر اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ جہاں وہ اسے بھیجتا ہے وہ کوئی سیدھا کام کر کے نہیں آتا۔ دوسرا شخص ایسا ہے جو انصاف کی تلقین کرتا ہے اور سیدھے راستے پر ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں؟

ان میں سے پہلی آیت تو کھلم کھلا غلامی کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔ یہ حقیقت تھی کہ اس دور کی معاشرت میں غلام کسی طرح بھی آزاد افراد کے برابر نہیں تھے۔ قرآن نے ان غلاموں کو رقم دے کر آزاد افراد کے برابر لانے کا حکم دیا ہے۔

††††††††† آخری دو آیات میں اللہ تعالی نے عربوں کو خطاب کرتے ہوئے انہی کی معاشرت میں سے دو مثالیں بیان کی ہے۔ عربوں کے ہاں یہ غلط تصور پایا جاتا تھا کہ معاذ اللہ خدا بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح ہے۔ جس طرح دنیاوی بادشاہ کسی کو نہیں ملتے اور ان سے کچھ عرض کرنے کے لئے ان کے قریبی لوگوں اور درباریوں کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، اسی طرح ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اس کے نیک بندوں کا وسیلہ درکار ہے۔

††††††††† اللہ تعالی نے ان کے سامنے یہ مثال دی ہے کہ جس طرح تمہاری معاشرت میں آقا اور غلام کو برابر اختیارات حاصل نہیں ہیں اور غلام کو سامنے رکھ کر آقا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کےبادشاہ جو کہ اللہ تعالی کے غلام اور بندے ہیں، پر پوری کائنات کے مالک کو قیاس کر لیا جائے؟ اس سے یہ کہاں سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن غلامی کو فطری قرار دیتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لئے برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

††††††††† اگر ان آیات کو اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر ایک غلط نتیجہ اخذ کر لیا جائے تو یہ معاملہ تو پھر دنیا کی ہر کتاب کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے والے کارل مارکس کی کتابوں سے کیپیٹل ازم کا جواز اور مہاتما گاندھی کی کتب سے تشدد کا فلسفہ اخذ کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس رویے کو علمی بددیانتی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability