بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 21: اسلام اور غلامی سے متعلق فلسفیانہ اور تاریخی سوالات

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

ایسا غلام جس کے بارے میں اس کا آقا یہ وصیت کر دے کہ اس کے مرنے کے بعد وہ غلام آزاد ہو جائے گا، "مدبر" کہلاتا ہے۔ یہ بھی غلام کو آزاد کرنے کا ایک طریقہ تھا جو دور جاہلیت سے چلا آ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس طریقے کو پسند نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک آقا ساری عمر تو بے چارے غلام سے خدمت لیتا رہے اور مرتے وقت اسے آزاد کر دے جب وہ غلام بھی جوانی کی عمر گزار چکا ہو اور اس کے لئے آزادی و غلامی بے معنی ہو چکی ہو۔

قال أخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو الأحوص ، عن أبي إسحاق ، عن أبي حبيبة ، عن أبي الدرداء أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الذي يعتق عند الموت كالذي يهدي بعدما شبع . (سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4873)

سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص بھی مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے، وہ تو اس شخص کی طرح ہے جو (گناہوں سے) اچھی طرح سیر ہونے کے بعد (نیکی کی طرف) ہدایت پاتا ہے۔

حدیث میں دو ایسے واقعات ملتے ہیں جن کے بارے میں اسلام اور غلامی کے تعلق کے بارے میں اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ ان کا جائزہ لے لیا جائے۔ پہلی حدیث یہ ہے:

حدثنا آدم بن أبي إياس: حدثنا شعبة: حدثنا عمرو بن دينار: سمعت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: أعتق رجل منا عبدا له عن دبر، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم به فباعه. قال جابر: مات الغلام عام أول. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2534)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے اپنے غلام کو مرتے وقت آزاد کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے بلایا اور اس کی خدمات کو فروخت کر دیا۔ جابر کہتے ہیں کہ وہ غلام (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت کے) پہلے سال فوت ہوا۔

اس حدیث میں دراصل کسی راوی نے پوری بات بیان نہیں کی۔ پورا واقعہ اسی حدیث کے ایک اور طرق میں ملتا ہے:

أخبرنا أبو داود ، قال : حدثنا محاضر ، قال : حدثنا الأعمش عن سلمة بن كهيل عن عطاء عن جابر قال أعتق رجل من الأنصار غلاما له عن دبر وكان محتاجا وكان عليه دين فباعه رسول الله صلى الله عليه وسلم بثمانمائة درهم فأعطاه فقال اقض دينك . (سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4985)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مرتے وقت آزاد کر دیا۔ وہ صاحب خود محتاج تھے اور ان پر قرض تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس غلام کی خدمات کو آٹھ سو درہم کے بدلے فروخت کر دیا اور وہ رقم ان کے (قرض خواہ) کو ادا کر کے فرمایا، "اپنے قرض کو پورا کر لو۔"

دوسری حدیث یہ ہے:

حدثنا علي بن حجر السعدي وأبو بكر بن أبي شيبة وزهير بن حرب. قالوا: حدثنا إسماعيل (وهو ابن علية) عن أيوب، عن أبي قلابة، عن أبي الملهب، عن عمران بن حصين؛أن رجلا أعتق ستة مملوكين له عند موته. لم يكن له مال غيرهم. فدعا بهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فجزأهم أثلاثا. ثم أقرع بينهم. فأعتق اثنين وأرق أربعة. وقال له قولا شديدا. (مسلم الکبری، کتاب الايمان، حديث 4335)

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے مرتے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔ ان صاحب کے پاس اور کوئی مال نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں بلا کر تین ٹکڑیوں میں تقسیم کیا۔ اس کے بعد ان میں قرعہ اندازی فرمائی۔ (قرعہ اندازی میں جیتنے والے) دو غلاموں کو تو آپ نے آزاد فرما دیا اور باقی چار کو بدستور غلامی میں برقرار رکھا اور وصیت کرنے والے کے لئے سخت بات ارشاد فرمائی (کہ انہیں وصیت کرتے ہوئے اپنے بال بچوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔)

ان دونوں احادیث میں بات بالکل واضح تھی۔ پہلی حدیث میں ایک صاحب قرض چھوڑ کر فوت ہو گئے۔ ان کے پاس ایک غلام کے سوا اور کچھ نہ تھا جسے انہوں نے آزاد کر دیا۔ اسلام کے قانون وصیت کی رو سے وصیت اسی وقت کی جا سکتی ہے جب میت پر قرض نہ ہو اور یہ وصیت بھی ترکے کے ایک تہائی حصے میں کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس غلام کی آزادی کی وصیت کو منسوخ (Void) قرار دیا۔

††††††††† دوسرے واقعے میں بھی بالکل یہی صورتحال تھی۔ جو صاحب وصیت کر کے فوت ہوئے، ان کے بال بچے تھے جن کے پاس کوئی مال و دولت نہ تھا۔ ان کی کفالت کا واحد ذریعہ یہی غلام تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک تہائی حصے پر وصیت برقرار رکھتے ہوئے دو غلاموں کو بذریعہ قرعہ اندازی آزادی دے دی۔

††††††††† اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قانون میں ان غلاموں کا کیا قصور تھا کہ انہیں آزادی نہیں دی گئی؟ جہاں تک پہلے غلام کا معاملہ ہے تو ان صاحب کی بقیہ زندگی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں آزاد ہونے کی کوئی خواہش ہی نہ تھی اور ان کے لئے آزادانہ طور پر کما کر زندگی بسر کرنا ایک مشکل کام تھا۔ یہ صاحب اگر چاہتے تو اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مکاتبت کی درخواست کر سکتے تھے۔ آٹھ سو درہم کوئی اتنی بڑی رقم نہ تھی جس کا انتظام کرنا حکومت یا مخیر صحابہ کے لئے مشکل ہوتا۔ یہ صاحب اس کے بعد کم و بیش 50-60 سال تک زندہ رہے لیکن انہوں نے آزادی کی خواہش کا اظہار نہ کیا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور حکومت کے پہلے سال 62H میں جا کر فوت ہوئے۔

††††††††† دوسری روایت کے چار غلاموں کے بارے میں تفصیلات نہیں مل سکیں۔ ان حضرات کے لئے بھی مکاتبت کے ذریعے آزادی کا دروازہ کھلا تھا۔ چونکہ آقا کے فوت ہونے کے وقت ان کی آزادی سے آقا کی بیوہ اور بچوں کی کفالت کا مسئلہ تھا، اس وجہ سے انہیں اسی وقت آزادی نہیں دی گئی۔ ممکن ہے کہ بعد میں انہوں نے مکاتبت کر لی ہو یا انہیں بطور احسان کے آزاد کر دیا گیا ہو۔ اس کی کوئی تفصیل ہمیں نہیں مل سکی۔

††††††††† اس حدیث کی عملی تشریح میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کا یہ نقطہ نظر ہے کہ ایسی صورت میں غلاموں میں قرعہ اندازی کی جائے گی اور جو ایک تہائی غلاموں کو آزاد کر دیا جائے گا۔ دیگر علماء جن میں امام شعبی اور امام ابراہیم النخعی شامل ہیں کی رائے یہ ہے کہ ان تمام غلاموں کو ایک تہائی حصہ آزاد ہو جائے گا۔ اب وہ لوگ بقیہ دو تہائی رقم کما کر یا کسی سے مدد قبول کر کے مالکان کو ادا کریں گے اور اس کے بعد آزاد ہو جائیں گے۔

††††††††† یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ دونوں واقعات محض استثنائی (Exceptional) حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بلامبالغہ سینکڑوں احادیث ہیں جو غلاموں کو آزادی دینے سے متعلق ہیں۔ ان سینکڑوں احادیث کو نظر انداز کر کے صرف ان دو واقعات کا پروپیگنڈہ کرنا کسی دیانت دار شخص کا کام نہیں ہے۔ ایسا صرف متعصب افراد ہی کیا کرتے ہیں۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability