بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 21: اسلام اور غلامی سے متعلق فلسفیانہ اور تاریخی سوالات

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

اسلام اور غلامی کے موضوع پر مسلم علماء نے تو کم ہی کچھ لکھا ہے۔ اس کے برعکس اہل مغرب کے ان اہل علم، جنہوں نے اسلام کے مطالعے کو اپنی زندگیوں کا مقصد بنا لیا ہے، نے اس حوالے سے بہت سی کتب اور آرٹیکل تحریر کئے ہیں۔ یہ علماء مستشرقین (Orientalists) کے ایک بڑے طبقے کا حصہ ہیں جن کی تحقیقات کا موضوع مشرقی علوم ہوا کرتے ہیں۔

          مستشرقین دو طرح کے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو اپنے مذہبی اور قومی مقاصد کے پیش نظر اسلام اور دیگر مشرقی مذاہب کا مطالعہ تعصب کی عینک سے کرتے ہیں۔ یہ حضرات اہل مشرق کی ہر قسم کی مثبت باتوں کو جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور منفی بات کو لے کر اس کا بھرپور پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی منفی بات نہ مل سکے تو کسی بات کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر اسے غلط معنی پہناتے ہیں اور پھر اس سے غلط نتائج اخذ کرتے ہوئے اپنی تقریر و تحریر کے زور پر اسے دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

          دوسری قسم کے مستشرقین وہ ہیں جو تعصب سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں اہل مشرق کے علوم کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے دین نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ ہم کسی بھی شخص کے کے بارے میں، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، بدگمانی کا رویہ اختیار نہ کریں، اس وجہ سے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ کون سے مستشرق کی نیت اور ارادہ کیا تھا۔

          یہاں پر ہم نیت کی بحث میں پڑے بغیر دور جدید کے ایک مشہور مستشرق اسکالر کے اقتباس پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہیں:

The Qur'an, like the Old and the New Testaments, assumes the existence of slavery. It regulates the practice of the institution and thus implicitly accepts it. The Prophet Muhammad and those of his Companions who could afford it themselves owned slaves; some of them acquired more by conquest. (Lewis Bernard, Race & Slavery in the Middle East)

عہد نامہ قدیم و جدید کی طرح قرآن یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ غلامی موجود ہے۔ اس نے اس ادارے کی پریکٹس کو قانونی دائرے میں لانے کے لئے اقدامات کئے اور اس طرح سے اسے قبول کر لیا۔ محمد رسول اللہ اور ان کے وہ صحابہ، جو غلام رکھنا افورڈ کر سکتے تھے، غلاموں کے مالک تھے۔ ان میں سے کچھ فتوحات کے نتیجے میں غلام بنتے تھے۔

فاضل مصنف نے یہ بیان کرنے کے بعد ان اقدامات کی ایک نامکمل فہرست بیان کی ہے جو اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لئے کئے۔ مکمل تفصیلات کی عدم موجودگی کو ہم فاضل مصنف کا نہیں بلکہ اپنا قصور قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمیں اپنے قصور کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ ہم نے غلامی سے متعلق اسلام کے اقدامات کو دنیا کے سامنے مکمل طریقے سے پیش نہیں کیا۔

          غلاموں کی آزادی اور ان کی حالت بہتر بنانے کے اقدامات کی تفصیلات حدیث، رجال اور تاریخ کی کتب میں بکھری پڑی ہیں۔ قرون وسطی میں کسی عالم نے اکٹھا کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

          انیسویں صدی کے بعض اہل علم نے ایسا کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے آیات و احادیث سے غلط معنی اخذ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام نے تو غلامی کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔ ظاہر ہے یہ نظریہ خلاف حقیقت ہونے اور اسلاف کے نقطہ نظر سے مختلف ہونے کے باعث قبول نہیں کیا جا سکا۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر غلامی کے خلاف اسلام کے اقدامات کی مکمل تفصیلات فاضل مصنف کے سامنے پیش کی جائیں اور انہوں نے علمی دیانت کی روایت کو ترک نہ کیا تو وہ اپنی عبارت میں ترمیم کر کے اسے اس طرح سے لکھیں گے:

The Qur'an, like the Old and the New Testaments, assumes the existence of slavery. It explicitly took serious steps to abolish the slavery. The Prophet Muhammad and those of his Companions who could afford it themselves owned slaves but manumitted all of them and set a glorious example for others to manumit their slaves.

عہد نامہ قدیم و جدید کی طرح قرآن یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ غلامی موجود ہے۔ اس نے اس ادارے کو ختم کرنے کے لئے ایسے واضح اقدامات کئے۔ محمد رسول اللہ اور ان کے وہ ساتھی، جو غلام رکھنا افورڈ کر سکتے تھے، غلاموں کے مالک تھے لیکن انہوں نے اپنے تمام غلام آزاد کئے اور دوسروں کے لئے ایک عظیم مثال قائم کر دی تاکہ وہ بھی اپنے غلاموں کو آزاد کر دیں۔

انہی مستشرقین میں ایک برطانیہ کے ولیم گرویز کلارنس اسمتھ (William Garvase Clarence-Smith)  بھی ہیں۔ انہوں نے غلامی کے خلاف اسلامی اقدامات پر قابل قدر کام کیا ہے اور اس ضمن میں ایسی معلومات فراہم کی ہیں جس کی طرف عام طور پر مسلم علماء کی نظر بھی نہیں گئی۔ انہوں نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام نے غلامی کے خلاف بھرپور اقدامات کئے ہیں۔ ان کی تحریریں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ تادم تحریر، ان کی اس موضوع پر دو تحریریں لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ http://www.lse.ac.uk اس کے علاوہ ان کی ایک بڑی کتاب “Abolition of Slavery in Islam” بھی ہے جو ہارڈ کاپی کی صورت میں ایمیزان ڈاٹ کام وغیرہ پر دستیاب ہے۔

          اسی طرح پچھلی صدی کے عظیم مستشرق ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب “Preaching of Islam” میں تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے والے ابتدائی لوگ غلام ہی تھے۔ اس کے بعد مدینہ میں کثیر تعداد میں غلاموں نے اسلام قبول کیا۔ مسلم اسپین میں جب اسلام پہنچا تو اگرچہ اس کا آئیڈیل دور ختم ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود اسلام قبول کرنے والوں کی بڑی تعداد غلاموں پر مشتمل تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام غلامی کو برقرار رکھنے کا اتنا بڑا حامی ہے تو پھر اس کی دعوت کو قبول کرنے میں غلام ہی کیوں پیش پیش تھے؟ ہم تمام مستشرقین کو اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ خود اپنے ہی طبقے کے افراد کلارنس اسمتھ اور آرنلڈ کی کتب کا مطالعہ کریں اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

          رہے وہ مستشرقین جو علمی دیانت سے عاری ہیں اور مخصوص سیاسی یا مذہبی مفادات کے تحت دوسروں کی ہر بات کو تعصب کی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں، تو ان کا حل صرف یہی ہے ہم سچائی کو دنیا کے سامنے اس درجے میں پیش کر دیں کہ کسی کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ رہ جائے۔ سورج کے طلوع ہونے کے بعد کوئی لاکھ چیختا رہے کہ 'بڑا اندھیرا ہے'، کوئی اس کی بات پر یقین نہ کرے گا۔ اس ضمن میں ہمارے لوگ جو احتجاج اور ہنگامے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، وہ درست نہیں ہے۔ اس طریقے سے تو ہم خود ان لوگوں کی غلط بات کی توثیق اپنے طرز عمل سے کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں علمی اور مثبت انداز میں اپنی بات کو علم کی طاقت سے پیش کرنا چاہیے۔ اس کے بعد یہ فتنے خود بخود ختم ہوتے چلے جائیں گے۔

          اسی جذبے کے تحت یہ کتاب پیش کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ بھی ایک معمولی سے طالب علم کا انسانی کام ہے اور اس میں بہت سی کوتاہیاں باقی رہ گئی ہوں گی۔ امید ہے کہ مستقبل کے اہل علم ان کوتاہیوں کو دور کرتے ہوئے اس کام کو مزید بہتر انداز میں پیش کر سکیں گے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطری  قرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability