بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 21: اسلام اور غلامی سے متعلق فلسفیانہ اور تاریخی سوالات

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

اس موضوع پر ہم نے تفصیل سے باب 14 ، باب 18 اور باب 19 میں تفصیلی بحث کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں آزادی فکر کے برعکس لوگوں کو نفسیاتی غلام بنانے کے لئے بہت بڑے مذہبی اور سیاسی ادارے بہت بڑے پیمانے پر کم و بیش ایک ہزار سال سے کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے اثرات مسلم معاشروں پر معمولی نہیں ہیں۔ انڈونیشیا سے لے کر ہندوستان، وسطی ایشیا اور افریقہ میں ان اداروں کے اثرات نے بلامبالغہ اربوں افراد کو متاثر کیا ہے۔ اس کی کچھ جھلکیاں یہ ہیں:

       ہمارے ہاں ایک ہزار سال سے یہ بات بڑے پیمانے پر ہے کہ قدیم دور کے اہل علم جو علمی کام کر گئے ہیں، وہ قیامت تک کے لئے کافی ہے۔ اب مزید کسی غور و فکر اور اجتہاد کی ضرورت باقی نہیں رہی اور نہ ہی موجودہ دور میں ایسے لوگ پیدا ہو سکتے ہیں جو اجتہاد کرنے کے اہل ہوں۔ اس تصور کے باعث علماء کا کام یہی رہ گیا ہے کہ وہ قدیم علماء کی کہی ہوئی باتوں کو بغیر کسی تنقیدی سوچ کے دوہراتے رہیں، اسی کی تعلیم دیتے رہیں اور اسی پر عمل کرتے رہیں۔

       ہمارے ہاں قرآن مجید اور حدیث رسول کی تعلیم اگر دی بھی جاتی ہے تو انہی قدیم علماء کی آراء کی روشنی میں دی جاتی ہے۔ دین کے ان بنیادی ماخذوں کو اپنے مسلک اور مکتب فکر کے تعصب کی عینک سے دیکھا جاتا ہے اور ان پر آزادانہ غور و فکر کرنے کی روایت بہت ہی کم موجود ہے۔

       ہمارے ہاں پچھلے ایک ہزار سال سے شاگردوں اور مریدوں پر یہ نفسیاتی پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے استاذ یا مرشد کے فکری غلام بنیں۔ استاذ یا مرشد سے اختلاف رائے کرنا ایک ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی ذہین شاگرد علمی دلائل کی بنیاد پر ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کے ارد گرد کا پورا معاشرہ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور لعن طعن کے ذریعے اسے اپنی رائے سے رجوع کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اختلاف رائے کرنے والوں کو لعن طعن سے آگے بڑھ کر گولی کا نشانہ بھی بنا دیا جاتا ہے۔

       کسی بھی تحریک کو فروغ دینے کے لئے ایسے طبقے کی اہمیت ناگزیر ہے جو معاشرے میں تحریک پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔ ہمارے ہاں یہ حیثیت مذہبی طبقے کو حاصل ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ الا ماشاء اللہ یہ طبقہ انسانی حقوق، آزادی فکر اور آزادی اظہار رائے کے تصورات کو غیر اسلامی اور مغربی تصورات سمجھتا ہے۔ قرآن و حدیث میں انسان کے جو حقوق بیان کئے گئے ہیں، وہ ہمارے مذہبی طبقے کی تقریروں اور تحریروں کا بہت ہی کم موضوع بنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تصورات کو ہمارے ہاں تقدس حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

       ہمارے ہاں مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کو مقدس بنانے کی باقاعدہ مہم بڑے پیمانے پر چلائی جاتی ہے۔ ان راہنماؤں کی باتوں کو خدا کا پیغام قرار دے کر ان سے اختلاف رائے کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی عقل کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور راہنما پر اندھے اعتماد پر زور دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے لوگوں کی برین واشنگ کے وہ تمام طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جو پوری دنیا میں اس مقصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی مزید تفصیل آپ باب 19 میں دیکھ سکتے ہیں۔

       ہمارے ہاں دیگر مذاہب کی طرح یہ تصور پیدا کیا جاتا ہے کہ کسی بندے کو خدا سے تعلق پیدا کرنے کے لئے کسی مذہبی راہنما کو واسطہ بنانا چاہیے۔ اس طرز فکر کی کم از کم اس اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے جو قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے لیکن اس طرز فکر کو بھرپور طریقے سے مسلمانوں کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے۔

       قرآن مجید کی جو آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جو احادیث، حکومت کی اطاعت سے متعلق ہیں، انہیں زبردستی استاذ و شاگرد اور پیر و مرید کے تعلق پر چسپاں کیا جاتا ہے تاکہ ذہنی غلامی کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم اور اس قسم کے دیگر نفسیاتی فنون کو لوگوں کو نفسیاتی غلام بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ نفسیاتی غلاموں کو اس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کے ذہن میں بھی نفسیاتی غلامی اتارتے رہیں تاکہ یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے چلتا رہے۔

       مسلمانوں کے ہاں ایک طویل عرصے سے جاگیردارانہ نظام قائم ہے۔ اس نظام کے تحت بے شمار افراد غلامی اور نیم غلامی کی کیفیت میں موجود ہیں۔

اس صورتحال میں یہ بات باعث حیرت ہو گی کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی کوئی روایت پروان چڑھ سکے۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability