بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 22: اسلام اور غلامی سے متعلق فقہی اور قانونی سوالات

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

بعض فقہاء نے یہ بیان کیا ہے کہ مکاتب کے ذمے جب تک ایک درہم بھی باقی ہے، وہ غلام ہی رہے گا اور اگر وہ رقم ادا کرنے سے عاجز آ جائے تو اسے دوبارہ غلام بنا دیا جائے گا۔ یہ نقطہ نظر صریح احادیث کے خلاف ہے۔ چند احادیث و آثار ہم یہاں پیش کر رہے ہیں:

حدثنا سعيد بن عبد الرحمن قال حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن نبهان مولى أم سلمة عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان عند مكاتب إحداكن ما يؤدي فلتحتجب منه قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح. (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1261)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (جنہوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کر لی تھی) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جب تم میں کوئی مکاتبت کرے اور اس نے پوری ادائیگی نہ بھی کی ہو تب بھی اس سے حجاب کرو۔"

حدثنا هارون بن عبد الله البزار حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن أيوب عن عكرمة عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا أصاب المكاتب حدا أو ميراثا ورث بحساب ما عتق منه وقال النبي صلى الله عليه وسلم يؤدي المكاتب بحصة ما أدى دية حر وما بقي دية عبد۔ (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1259، مستدرک حاکم، 2865-2866)

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اگر مکاتب کو (کسی جرم میں) سزا دی جائے یا اسے (مالک کے فوت ہو جانے کی صورت میں اس کے) وارثوں کے حوالے کیا جائے تو ایسا کرتے ہوئے اس کا معاملہ اس کی آزادی کے تناسب سے کیا جائے۔ آپ نے فرمایا، " (اگر مکاتب کو کسی حادثے میں نقصان پہنچا ہو تو) اس کی دیت کی ادائیگی اس حساب سے کی جائے گی کہ اس نے جتنے (فیصد مکاتبت کی رقم) ادا کی ہو، اسے اتنے (فیصد) آزاد سمجھا جائے گا اور جتنے (فیصد) باقی ہو، غلام سمجھا جائے گا۔

مکاتب کے حقوق و فرائض کے بارے میں اگر تمام روایات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بالعموم مکاتب کو وہ اکثر حقوق دیے گئے ہیں جو کسی آزاد شخص کو حاصل تھے لیکن اس پر وہ ذمہ داریاں جیسے زکوۃ، حج، جہاد اور حکومتی جرمانے وغیرہ کے معاملے میں عائد نہیں کی گئیں جو کہ آزاد افراد پر عائد کی گئی تھیں۔

حدثنا عبد الباقي بن قانع وعبد الصمد بن علي قالا نا الفضل بن العباس الصواف ثنا يحيى بن غيلان ثنا عبد الله بن بزيع عن بن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس في مال المكاتب زكاة حتى يعتق. (دارقطنى، سنن، كتاب الزكوة)

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "مکاتب کے مال میں کوئی زکوۃ نہیں ہے جب تک وہ مکمل آزاد نہ ہو جائے۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض تو اس بات کے قائل تھے کہ مکاتبت کرتے ہی غلام آزاد ہو جاتا ہے اور کی حیثیت سابقہ مالک کے مقروض کی سی ہو جاتی ہے اور بعض اسے ادائیگی کے تناسب سے آزاد قرار دیا کرتے تھے:

عند ابن عباس فإنه يعتق بنفس العقد وهو غريم المولى بما عليه من بدل الكتابة وعند علي رضي الله تعالى عنه يعتق بقدر ما أدى۔ (عينى، عمدة القارى شرح البخارى)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ معاہدہ کرتے ہی آزاد ہو جاتا ہے۔ اب وہ اپنے سابقہ مالک کا مقروض ہے کیونکہ اس پر مکاتبت کی رقم کی ادائیگی لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ جتنی رقم ادا کر دے، اسی تناسب سے آزاد ہو جاتا ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو یہ قانون بنا دیا تھا کہ اگر مکاتب نصف رقم کی ادائیگی کر چکا ہو اور اس کے بعد وہ باقی رقم ادا نہ بھی کر سکے تب بھی اسے غلامی کی طرف نہ لوٹایا جائے گا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إنَّكُمْ تُكَاتِبُونَ مُكَاتَبِينَ ، فَإِذَا أَدَّى النِّصْفَ فَلاَ رَدَّ عَلَيْهِ فِي الرِّقِّ. (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 20960)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "تم لوگ مکاتبت کرتے ہو، جب مکاتب آدھی رقم ادا کر دے تو پھر اسے غلامی کی طرف نہ لوٹایا جائے گا۔

یہی بات سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نصف رقم کی ادائیگی کے بعد مکاتب آزاد ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت ایک مقروض شخص کی ہو جایا کرتی ہے۔ (مسند ابن الجعد)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام طور پر اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ مکاتب کا مالک کسی اور شخص سے رقم لے کر مکاتب کی بقیہ اقساط کو کسی اور شخص کی طرف منتقل کر دے۔ ہاں اگر وہ خود اس کی اجازت دے دے تو اسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ بَيْعَ الْمُكَاتَبِ. (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 23054)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکاتب کے منتقل کئے جانے کو سخت ناپسند کیا کرتے تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مکاتب کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایاکہ اگر وہ پوری رقم کی ادائیگی سے پہلے فوت ہو جائے اور اس کے بچے ہوں تو وہ بچے آزاد ہی قرار پائیں گے۔ (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب المکاتب)

††††††††† صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ معمول تھا کہ اگر مکاتبین رقم ادا کرنے سے عاجز ادا آ جاتے تو وہ انہیں بالعموم رقم معاف کر کے آزاد کر دیا کرتے تھے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَاتَبَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ شَرْفًا بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا فَخَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ فَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى حُمُرٍ لَهُ حَتَّى أَدَّى خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَقَالَ مَجْنُونٌ أَنْتَ أَنْتَ هَا هُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَكَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَشْتَرِى الرَّقِيقَ يَمِينًا وَشِمَالاً ثُمَّ يُعْتِقُهُمَ ارْجَعْ إِلَيْهِ فَقَلْ لَهُ قَدْ عَجَزْتُ فَجَاءَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَتِهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ عَجَزْتُ وَهَذِهِ صَحِيفَتِى فَامْحُهَا فَقَالَ لاَ وَلَكِنِ امْحُهَا إِنْ شِئْتَ فَمَحَاهَا فَفَاضَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَحْسِنْ إِلَى ابْنىَّ قَالَ هُمَا حُرَّانِ قَالَ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَحْسِنْ إِلَى أُمَّىْ وَلَدَىَّ قَالَ هُمَا حُرَّتَانِ فَأَعْتَقَهُمْ خَمْسَتَهُمْ جَمِيعًا فِى مَقْعَدٍ. (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب المکاتب)

زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر نے ایک غلام، جس کا نام شرف تھا، سے 40,000 درہم پر مکاتبت کی۔ وہ کوفہ کی جانب نکل گیا اور وہاں وہ اسفالٹ کا کام کرنے لگا یہاں تک کہ اس نے 15,000 درہم ادا کر دیے۔ اس کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا، "تم عجیب پاگل آدمی ہو، یہاں تم سخت محنت کر رہے ہو جبکہ عبداللہ بن عمر تو ادھر ادھر سے غلام خریدتے ہیں اور اسے آزاد کر دیتے ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور کہو، میں رقم ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں۔"

(اب وہ واپس ان کے پاس آیا اور اس کے طلب کرنے پر) اس کے پاس اس کی مکاتبت کا معاہدہ لایا گیا۔ وہ کہنے لگا، "اے ابو عبدالرحمٰن! میں رقم ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں۔ یہ میرا معاہدہ ہے، اسے مٹا دیجیے۔" آپ نے فرمایا، "نہیں، ہاں تم ہی غلام رہنا چاہو تو میں اسے مٹا دوں گا۔" جب معاہدہ مٹایا گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، "جاؤ، تم آزاد ہو۔" وہ کہنے لگا، "اللہ آپ کے ساتھ بھلائی کرے، میرے دونوں بیٹوں پر بھی احسان کیجیے۔" فرمایا، "وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔" کہنے لگا، "میرے دونوں بچوں کی ماؤں پر بھی احسان کیجیے۔" آپ نے فرمایا، "وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔" اس طرح آپ نے بیٹھے بیٹھے وہیں ان پانچوں کو آزاد کر دیا۔

ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکاتب کا اسٹیٹس آزاد اور غلام کے درمیان ہے۔ اسے آزاد شخص کے سے بہت سے حقوق حاصل ہوں گے لیکن اس پر ذمہ داریاں وہی ہوں گی جو غلام کی ہوں گی۔ اس ضمن میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے:

والمكاتب عبد ما بقي عليه درهم.

مکاتب اس وقت تک غلام ہی ہے جب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہے۔

یہ مکمل حدیث نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پوری بات کا ایک ٹکڑا ہے جس سے غلط طور پر ایک قانون اخذ کر لیا گیا ہے۔ یہاں پر دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مکاتب کے حقوق کی نہیں بلکہ اس کے فرائض کی بات کر رہے ہیں۔ اس کا منشا یہ ہے کہ مکاتب پر جب تک ایک درہم بھی باقی ہے، اس کی ذمہ داریوں میں غلام کی طرح کمی کی جائے گی۔ اس پر نماز جمعہ، زکوۃ، حج، جہاد، جرمانہ اور جزیہ واجب نہیں ہوں گے۔ فقہ کے جلیل القدر ائمہ کا یہی نقطہ نظر ہے۔ امام احمد بن حنبل کا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے ابن قیم لکھتے ہیں:

قال: أبو طالب سألت أبا عبد الله عن العبد النصراني عليه جزية قال: ليس عليه جزية. وقال: في موضع آخر قلت فالعبد ليس عليه جزية لنصراني كان أم لمسلم كما قال: أبو محمد رضي الله عنه. وقال: عبد الله بن أحمد سألت أبي عن رجل مسلم كاتب عبدا نصرانيا هل تؤخذ من العبد الجزية من مكاتبته؟ فقال: إن العبد ليس عليه جزية والمكاتب عبد ما بقي عليه درهم. (ابن قيم، احكام اهل الذمة)

عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے ایسے مسلمان کے بارے میں پوچھا جس نے اپنے عیسائی غلام کو مکاتبت دی ہوئی ہو تو کیا ایسی صورت میں اس غلام سے دوران مکاتبت جزیہ لیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا، "غلام کے ذمے جزیہ کی ادائیگی نہیں ہو گی کیونکہ مکاتب کے ذمے جب تک ایک درہم بھی باقی ہو، وہ غلام ہی سمجھا جائے گا۔"

صحیح نقطہ نظر یہی ہے کہ مکاتب پر ذمہ داریوں میں اسی طرح کمی جاری رکھی جائے گی جیسا کہ دین میں غلام پر ذمہ داریوں میں کمی رکھی گئی ہے لیکن اسے وہ حقوق حاصل ہوں گے جو آزاد شخص کو حاصل ہوا کرتے ہیں۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability