بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 22: اسلام اور غلامی سے متعلق فقہی اور قانونی سوالات

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

فقہاء کے ہاں یہ اختلاف بھی پیدا ہوا ہے کہ غلام کو مال رکھنے کی اجازت ہے یا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ بھی اسلام اور غلامی کے حوالے سے تحقیق کا ایک اہم موضوع ہے۔ یہ اختلاف بھی دراصل بعد کے دور کی پیداوار ہے۔

دور رسالت و صحابہ میں غلام کے لئے مال کمانے اور رکھنے کے حقوق

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلاً أَنْ يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ۔ (قرآن 4:25)

جو شخص تم میں سے اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ آزاد مسلمان خواتین سے شادی کر سکے تو تمہاری ان لڑکیوں میں سے کسی سے نکاح کر لے جو تمہاری ملکیت میں ہیں اور مومن ہیں۔ اللہ تمہارے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے لہذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو اور معروف طریقے سے ان کے مہر ادا کرو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں اور آزاد شہوت رانی اور چوری چھپے آشنائی سے بچ سکیں۔

ظاہر ہے کہ لونڈیوں سے شادی کرتے وقت انہیں حق مہر ادا کرنا ضروری ہے جو انہی کو ادا کیا جائے گا نہ کہ ان کے مالکوں کو۔ عہد رسالت و صحابہ کا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں غلام اگر مال کما سکتے تو اپنے مالکوں کو ایک طے شدہ رقم ادا کرنے کے بعد اپنے مال کے مالک ہوا کرتے تھے۔ ان احادیث و آثار پر غور فرمائیے:

حدثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى.عبد اللهِ بْنُ وَهْبٍ. أَخْبَرَنِي ابن لَهِيعَةَ. ح وَ حدّثَنَا مُحَمَّد بْنُ بحيى. ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ. أَنْبَأَنَا الَّليْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعاً، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفِرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابٍنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلى الله عليه وسلم:((مَنْ أَعْتَقَ عَبْداً ولَهُ مَالٌ، فَمَالُ العَبْدِ لَهُ. إِلاَّ أَنَّ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ، فَيَكُونَ لَهُ)). (ابن ماجة، کتاب العتق، حديث 2529)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس نے غلام آزاد کیا اور اس غلام کے پاس مال بھی تھا، تو وہ مال غلام ہی کا ہو گا سوائے اس کے کہ مالک (مکاتبت کی) شرط لگا لے تو وہ مال اسی کا ہو جائے گا۔

حدثنا مُحَمَّد بْنُ يَحْيَى. ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّد الجرمِيُّ. ثنا المُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ، وَهُو مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ؛ أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَالَ لَهُ:يَا عُمَيْرُ! إِنِّي أَعْتَقْتُكَ عِتْقاً هَنِيئاً. إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ:((أَيُّما رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلاماً، وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ، فَالْمَالُ لَهُ)). فأخْبَرَنِي مَا مَالُكَ؟ (ابن ماجة، کتاب العتق، حديث 2530)

عمیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے عمیر سے کہا، "اے عمیر! میں تمہیں اپنی خوشی سے آزادی دے رہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، 'جو شخص بھی غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا ذکر نہ کیا جائے، تو مال غلام ہی کا ہے۔' یہ تو بتاؤ تمہارے پاس مال ہے کیا؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک شخص کے فوت ہو جانے پر اس کا کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں غلام ہی کو وارث بھی بنایا تھا۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا سفيان عن عمرو عن عوسجة عن ابن عباس: رجل مات على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يترك وارثا إلا عبدا هو أعتقه فأعطاه ميراثه. (مسند احمد، باب ابن عباس)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص فوت ہو گیا اور اس نے سوائے ایک غلام کے اور کوئی وارث نہ چھوڑا تھا جسے اس نے آزادی دے دی تھی۔ حضور نے اس شخص کی میراث بھی غلام کو دلا دی۔

یہ تمام احادیث اس بات کی شہادت پیش کرتی ہیں کہ غلاموں کو مال رکھنے اور اسے استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مال غنیمت میں سے غلاموں کو جو حصہ ملتا تھا وہ بھی انہی کا مال ہوا کرتا تھا۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا أبو النضر عن ابن أبي ذئب عن القاسم بن عباس عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي المرأة والمملوك من الغنائم ما يصيب الجيش. (مسند احمد، باب ابن عباس)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے لشکر کو جو بھی مال غنیمت ملتا تھا، آپ اس میں سے خواتین اور غلاموں کو بھی حصہ دیا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ : قَسَمَ لِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ كَمَا قَسَمَ لِسَيِّدِي. (ابن ابی شيبة، حديث 33889)

ابو قرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جیسا میرے آقا کو غنیمت میں سے حصہ دیا ویسا ہی مجھے بھی دیا۔

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِيَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ , فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَالأَمَةِ , وَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ. (ابن ابی شيبة، حديث 33895)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس ظبیہ کے مقام پر خرز لائی گئی۔ آپ نے اسے ایک آزاد اور ایک لونڈی میں تقسیم کر دیا۔ میرے والد (ابوبکر) بھی آزاد اور غلام دونوں کو حصہ دیا کرتے تھے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے جب ان کے غلام سیرین نے مکاتبت طلب کی تو سیرین کے پاس کثیر تعداد میں مال موجود تھا۔

أن سيرين سأل أنسا المكاتبة، وكان كثير المال فأبى، فانطلق إلى عمر رضي الله عنه فقال: كاتبه، فأبى، فضربه بالدرة ويتلو عمر: {فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا}. فكاتبه. (بخاری، کتاب المکاتب، ترجمة الباب عند حديث 2559)

سیرین (جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے) کے پاس کثیر مال موجود تھا۔ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کی درخواست کی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ یہ معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لے گئے۔ انہوں نے (انس سے) کہا: "مکاتبت کرو۔" انہوں نے پھر انکار کیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں درے سے مارا اور یہ آیت تلاوت کی، "ان سے مکاتبت کرو اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو۔" اب انس نے مکاتبت کر لی۔

ان احادیث و آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور خلفاء راشدین کے دور میں غلاموں کے پاس مال ہوا کرتا تھا اور وہ ان کے مالک ہی سمجھے جاتے تھے۔

††††††††† حضرت سیرین نے جو کثیر مال کمایا تھا، وہ اسی کے ذریعے اپنی مکاتبت خریدنا چاہتے تھے۔ اگر غلام اپنے مال کا مالک نہ ہوتا اور اس کے جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری نہ ہوتی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ ان سے وہ مال لے لیتے اور کہ دیتے کہ " یہ تو میرا ہی ہے، جاؤ جا کر مزید کما کر لاؤ اور پھر مکاتبت کی بات کرنا۔" سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس مال کی کوئی بات نہیں کی۔ سیرین کے پاس اتنا مال تھا کہ 40,000 درہم بطور مکاتبت ادا کرے وہ آزاد ہوئے اور اس کے بعد انہوں نے بصرہ کے نواح میں زرعی زمین کا ایک بڑا ٹکڑا خریدا اور اس پر ایک زرعی فارم بنا کر اپنے بیوی بچوں کو وہاں آباد کیا۔ ان کے بچوں میں محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے بصرہ کے فقیہ کا درجہ حاصل کیا۔

††††††††† بنو عباس کے دور میں یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ غلام اپنے مال کا مالک بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس سے متعلق ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لائے ہیں، کسی فقیہ پر نہیں خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالم ہو۔ فقہ کے تمام ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ان کا قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کے مخالف ہو تو اسے دیوار پر دے مارا جائے۔

غلام کے مال رکھنے کے حق پر چند شبہات اور ان کا جواب

غلام کے لئے مال رکھنے کے حق پر جو سب سے بڑا شبہ پیش کیا گیا ہے وہ یہ حدیث ہے:

"من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترطه المبتاع ".

جس کے کسی غلام کی خدمات فروخت کیں اور اس غلام کے پاس مال تھا تو مال، بیچنے والے مالک کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے۔

اس حدیث پر غور کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہاں "مال" سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ غلام کے ذاتی مال کی بات ہو رہی ہے یا کسی اور مال کی۔

††††††††† اس حدیث سے بعض فقہاء نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غلام، اپنے مال کا مالک نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے مال کا مالک اس کا آقا ہے۔ یہ حضرات نہایت ہی شدت پسندی سے کام لیتے ہوئے اس کے بعد غلام کے لئے اپنے باپ کی وراثت سے حاصل ہونے والے مال کو بھی اس کا حق قرار نہیں دیتے بلکہ اسے اس کے آقا کی ملکیت قرار دیتے ہیں۔

††††††††† ان فقہاء کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم صرف اتنا کہنے کی جسارت کریں گے کہ ان کا یہ قول اوپر بیان کردہ ان تمام احادیث کے خلاف ہے جن میں غلام کے مال رکھنے کے حق کی اجازت دی گئی ہے۔ ان حضرات کو یہ غلط فہمی دراصل اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اس کے موقع و محل اور سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس حدیث کے مزید طرق اکٹھے کیے جائیں تو ایک مختلف صورتحال سامنے آتی ہے۔ یہ حدیث ایک عمومی حکم نہیں ہے بلکہ ایک خاص مقدمے کے فیصلے سے متعلق ہے۔ اس کی تفصیل جاننے کے لئے اس حدیث کی دیگر روایات پر غور کیجیے۔

وهو من حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، وله عنه طرق . الأولى : عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " من ابتاع نخلا بعد أن تؤبر فثمرتها للبائع الا أن يشترط المبتاع ، ومن ابتاع عبدا ، وله مال ، فماله للذي باعه إلا أن يشترط المبتاع " (بخارى، کتاب المساقاة، حديث 2379)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس نے پیوند کاری کرنے کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس درخت کا پھل بیچنے والے کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے۔ اسی طرح جس نے کسی غلام کی خدمات فروخت کیں اور اس غلام کے پاس مال بھی تھا تو اس کا مال اسی کا ہو گا جس نے اسے بیچا تھا سوائے اس کے خریدار شرط لگا دے (کہ یہ مال میرا ہو گا۔)

مسند احمد کی روایت میں صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔

قال عبد اللَّهِ وَجَدْتُ في كِتَابِ أبي أنا الْحَكَمُ بن مُوسَى قال عبد اللَّهِ وثناه الْحَكَمُ بن مُوسَى ثنا يحيى بن حَمْزَةَ عن أبي وَهْبٍ عن سُلَيْمَانَ بن مُوسَى أَنَّ نَافِعاً حدثه عن عبد اللَّهِ بن عُمَرَ وَعَطَاءَ بن أبي رَبَاحٍ عن جَابِرِ بن عبد اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال من بَاعَ عَبْداً وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ (مسند احمد بن حنبل، باب ابو سعيد خدري)

عبداللہ بن عمر اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس نے کسی غلام کی خدمات فروخت کیں اور اس غلام کے پاس مال بھی تھا تو مال بیچنے والے کا ہو گا اور اس کے قرض کی ادائیگی مالک کے ذمے ہو گی سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے۔"

اس روایت سے پوری صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ عہد رسالت میں بہت سے غلام اپنے آقاؤں کے بزنس منیجر ہوا کرتے تھے۔ جب ان کے آقا ان کی خدمات کو کسی دوسرے کی طرف منتقل کرتے تو بسا اوقات غلام کے ساتھ اس کے مالک کا کاروبار بھی خریدار کی طرف منتقل ہو جایا کرتا تھا۔

††††††††† اس وقت ایک ایسا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے لایا گیا جس میں کاروبار کی منتقلی کی شرط خریدار کی جانب سے نہیں لگائی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ اگر کوئی شرط موجود نہ ہو تو اس کاروبار کے تمام اثاثے اور قرضے (Assets & Liabilities) پہلے مالک کے ہوں گے کیونکہ یہ اسی کا کاروبار تھا۔ ہاں اگر خرید و فروخت کے وقت شرط لگا دی گئی ہو تب یہ کاروبار بھی غلام کے ساتھ ہی نئے آقا کو منتقل کر دیا جائے گا۔ اس میں کہیں بھی غلام کے ذاتی مال کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ امام بیہقی یہی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا الحكم بن موسى ثنا يحيى بن حمزة عن أبي وهب عن سليمان بن موسى أن نافعا حدثه عن عبد الله بن عمر وعطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من باع عبدا وله مال فله ماله وعليه دينه إلا أن يشترط المبتاع ومن أبر نخلا فباعه بعد توبيره فله ثمرته إلا أن يشترط المبتاع وهذا إن صح فإنما أراد والله أعلم العبد المأذون له في التجارة إذا كان في يده مال وفيه دين يتعلق به فالسيد يأخذ ماله ويقضي منه دينه(بيهقي سنن الكبرى، کتاب الطهارة، باب الولي يخلط ماله بمال اليتيم وهو يريد إصلاح ماله بمال نفسه، حديث 10786)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس نے کسی غلام کی خدمات فروخت کیں اور اس غلام کے پاس مال بھی تھا تو مال بیچنے والے کا ہو گا اور اس کے قرض کی ادائیگی مالک کے ذمے ہو گی سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط لگا دے۔ اسی طرح اگر پیوند کاری کے بعد کسی نے درخت بیچا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہی ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے۔

†††††† اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ایسا غلام جسے اس کے آقا نے تجارت کی اجازت دی ہے اور (اس کی خدمات کی منتقلی کے وقت) اس کے ہاتھ میں (تجارتی) مال ہے اور اس پر کوئی (کاروباری) قرض بھی ہے تو اس کا تعلق پہلے آقا سے ہو گا۔ وہ یہ مال لے لے گا اور اس سے (کاروباری) قرضے ادا کر دے گا۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہاں جس مال کی بات ارشاد فرمائی تھی، اس کا کوئی تعلق غلام کے مال سے نہیں تھا بلکہ آقا کے اس مال سے تھا جسے اس نے تجارت میں لگا کر اس کا ذمہ دار غلام کو بنایا تھا۔ یہ معاملہ بالکل کھجور کے پھل کا سا تھا جس پر ساری محنت پہلے آقا نے کی تو اس کا پھل بھی اسی کا ہونا چاہیے۔ اس تفصیل کے بعد اس حدیث کو غلام کے مال رکھنے کے حق کے خلاف پیش کرنا نہایت ہی نامعقولیت ہو گی۔

††††††††† دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی حدیث سے فقہ کے ایک بڑے امام بھی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ غلام کو مال رکھنے کی اجازت ہے۔

وقال مالك وأصحابه يملك ماله كما يملك عصمة نكاحه وجائز له التسري فيما ملك وحجتهم قول رسول الله صلى الله عليه وسلم من باع عبدا وله مال فأضاف المال إليه وقال الله عز وجل فانكحوهن بإذن أهلهن وآتوهن أجورهن بالمعروف فأضاف أجورهن إليهن إضافة تمليك(ابن عبدالبر، التمهيد)

امام مالک اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ غلام اپنے مال کا مالک بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ وہ نکاح کے ذریعے اپنی عصمت کا مالک ہوتا ہے اور اس کے لئے لونڈی رکھنا بھی درست ہے۔ ان کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ "جس نے غلام کی خدمات فروخت کیں اور اس کا مال تھا۔" اس میں مال کا تعلق اس غلام سے جوڑا گیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا، "ان کے گھر والوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرو اور انہیں ان کے مہر معروف طریقے سے ادا کرو۔"اس میں بھی اضافت کا صیغہ ملکیت کے لئے ہے۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability