بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 22: اسلام اور غلامی سے متعلق فقہی اور قانونی سوالات

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

اللہ تعالی نے سورۃ نساء میں وراثت کا جو قانون بیان فرمایا ہے، وہ عام ہے اور اس میں یہ کہیں بیان نہیں کیا گیا کہ یہ حکم خاص طور پر صرف آزاد افراد کے لئے ہے۔ غلام کو وارث نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی اس کی میراث کو تقسیم کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالی ہے:

يُوصِيكُمْ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيماً حَكِيماً۔ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ۔ (النساء 4:11-12)

اللہ تمہیں تمہاری اولادوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے کہ ہر بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا۔ اگر (بیٹے نہ ہوں اور صرف) دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو ان کے لئے دو تہائی ترکہ ہو گا۔ اگر ایک ہی بیٹی ہو تو اس کا حصہ نصف ترکہ ہو گا۔ اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکے کا چھٹا حصہ ہے اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہو گی۔ یہ سب میت کی وصیت اور اس کے ذمے قرض کی ادائیگی کے بعد کے حصے ہیں۔

تم نہیں جانتے کہ تمہارے والدین اور اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کئے ہیں اور اللہ تمام حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔ تمہاری بیویوں نے جو کچھ ترکہ چھوڑا ہے، تمہارے لئے اس کا نصف حصہ ہے اگر وہ بے اولاد ہوں۔ اولاد ہونے کی صورت میں تم چوتھائی حصے کے حق دار ہو جبکہ میت کی کی گئی وصیت پوری کر دی گئی ہو اور اس پر واجب الادا قرض ادا کر دیا گیا ہو۔ اسی طرح جو ترکہ تم نے چھوڑا ہے، تمہاری بیویاں اس کے چوتھائی حصے کی حق دار ہیں اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ اگر اولاد ہو تو پھر ان کا حصہ آٹھواں ہے جبکہ میت کی کی گئی وصیت پوری کر دی گئی ہو اور اس پر واجب الادا قرض ادا کر دیا گیا ہو۔

بدقسمتی سے ہمارے بہت سے فقہاء نے قرآن کے اس حکم کو صرف آزاد شخص تک محدود تک کر دیا اور غلاموں کو وراثت سے محروم کرنے لگے۔ اس موضوع پر ہم نے فقہاء کی جس قدر کتب کا مطالعہ کیا ہے، ہمیں اس ضمن میں کوئی ایک حدیث بھی نہیں مل سکی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی غلاموں کو وراثت سے محروم کیا ہو۔ اس کے برعکس ایسی احادیث ضرور ملتی ہیں جن میں آپ نے غلاموں کو وراثت میں حصہ دیا ہے۔

††††††††† معلوم نہیں کہ فقہاء نے یہ بات کہاں سے اخذ کر لی ہے کہ اللہ کے واضح احکام کے ہوتے ہوئے غلام کو وارث نہ بنایا جائے۔ اس پر ہم اپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ فقہ کے ایک بڑے امام ہی کا تبصرہ پیش کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے ساتھی فقہاء پر کیا ہے۔ یہ تبصرہ اگرچہ کچھ دیگر آیات سے متعلق ہے لیکن اس کا اطلاق موجودہ صورتحال پر بھی ہوتا ہے:

ما ندري أيهما أشد إقداما على الله وجرأة أتخصيصهم الأحرار في الآية الأولى دون العبيد أم استشهادهم بالآية الثانية في ذلك فأول إبطال قولهم إن النبي صلى الله عليه وسلم بعث إلى العبيد والأحرار بعثا مستويا بإجماع جميع الأمة ففرض استواء العبيد مع الأحرار إلا ما فرق فيه النص بينهم۔(ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام)

ہم نے اللہ تعالی کے (احکام کے) بارے میں اس سے زیادہ شدید اقدام نہیں دیکھا کہ انہوں نے پہلی آیت کے حکم میں سے غلاموں کو نکال کر اسے صرف آزاد افراد کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔یہی معاملہ وہ دوسری آیت کے بارے میں کرتے ہیں۔ ان کے قول کے باطل ہونے کے لئے پہلی بات یہ ہے کہ اس بات پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو آزاد اور غلام دونوں کی طرف ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ نے تمام احکام میں غلاموں کو آزاد افراد کے ساتھ شریک فرمایا سوائے اس کے کہ کہیں کسی موقع پر واضح ارشاد فرما کر ان کے احکام میں فرق کیا ہو۔

اس بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی شریعت میں غلاموں کو وراثت میں اسی طرح حصہ دیا جائے گا جیسا کہ آزاد افراد کو۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability