بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 22: اسلام اور غلامی سے متعلق فقہی اور قانونی سوالات

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس معاملے میں ہمارے فقہاء میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے کہ غلام، کسی آزاد خاتون کے سرپرست کی اجازت سے اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اور ان کے بچے بھی آزاد تصور ہوں گے۔ یہی معاملہ سابقہ غلام کا بھی ہے۔ اسلام سے پہلے اس بات کو نہایت ہی شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی موجودہ یا سابقہ غلام سے کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس تصور کو ختم کر دیا اور مختلف سماجی رتبے کے حامل بہت سے صحابہ و صحابیات کے مابین شادیاں ہوئیں۔ اس کی تفصیل ہم پچھلے ابواب میں بیان کر چکے ہیں، یہاں اسی تفصیل کو دوبارہ نقل کیے دیتے ہیں۔

††††††††† آزاد کردہ غلاموں کا درجہ بلند کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے خاندان سے مثال قائم فرمائی۔ آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی کزن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کیا۔ یہ خاتون قریش کے خاندان بنو ہاشم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ بات مشہور و معروف ہے کہ عربوں میں قریش کو سب سے افضل سمجھا جاتا تھا اور قریش میں بنو ہاشم کا درجہ خصوصی سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی لیکن بہرحال یہ مثال قائم ہو گئی کہ مولی کا درجہ اس کی قوم کے برابر ہے۔ اس کے بعد صحابہ کرام میں نہ صرف آزاد کردہ غلاموں بلکہ موجودہ غلاموں سے بھی اپنی لڑکیوں کی شادی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

حدثنا أبو اليمان: أخبرنا شعيب، عن الزهري قال: أخبرني عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها:أن أبا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس، وكان ممن شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم، تبنى سالما، وأنكحه بنت أخيه هند بنت الوليد ابن عتبة بن ربيعة، وهو مولى لإمرأة من الأنصار.(بخاری، کتاب النکاح، حديث 5088)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس (جو کہ قریش کے ایک ممتاز خاندان بنو عبدشمس سے تھے) اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حصہ لیا تھا، نے سالم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دی تھی۔ یہ سالم ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ نُفَيْعاً مُكَاتَباً كَانَ لأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ عَبْداً لَهَا، كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ, فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذاً بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَسَأَلَهُمَا، فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعاً فَقَالاَ : حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَرُمَتْ عَلَيْكَ.(موطاء مالک، کتاب الطلاق، حديث 1672)

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام یا مکاتب نفیع تھے۔ ان کے نکاح میں ایک آزاد خاتون تھیں۔ انہوں نے انہیں دو مرتبہ طلاق دے دی اور پھر رجوع کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج نے معاملے کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (جو کہ خلیفہ تھے) کی عدالت میں لے جانے کا حکم دیا۔ وہ ان سے فیصلہ کروانے کے لئے گئے تو ان کی ملاقات سیڑھیوں کے نزدیک ان سے ہوئی۔ اس وقت وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ جلدی جلدی کہیں جا رہے تھے۔ ان سے پوچھا تو وہ دونوں کہنے لگے، "وہ اب تمہارے لئے حرام ہے، وہ اب تمہارے لئے حرام ہے۔"

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ اشْتَرَى عَبْداً فَأَعْتَقَهُ، وَلِذَلِكَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ، فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ.، وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ : بَلْ هُمْ مَوَالِينَا. فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَضَى عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلاَئِهِمْ.†† (موطاء مالک، کتاب العتق و الولاء، حديث 2270)

ربیعۃ بن ابو عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کو خرید کر اسے آزاد کر دیا۔ اس غلام کے ایک آزاد بیوی میں سے بچے تھے۔ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے آزاد کیا تو فرمایا کہ تمہارے بچے بھی میرے موالی ہیں۔ اس شخص نےکہا، "نہیں، یہ تو اپنی ماں کے موالی ہوئے۔" وہ یہ مقدمہ لے کر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں گئے۔ آپ نے ان بچوں کی ولاء کا فیصلہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں کر دیا۔

اس ضمن میں فقہاء کے ہاں ایک مسئلے نے جنم لیا ہے اور وہ ہے "کفو" یعنی میاں بیوی کے خاندانوں کے ہم پلہ ہونے کا مسئلہ۔ بعض فقہاء کے نزدیک غلام یا آزاد کردہ غلام چونکہ آزاد خاتون کو کفو نہیں ہے، اس وجہ سے اگر کوئی خاتون کسی غلام یا سابقہ غلام سے شادی کر لے تو اس خاتون کے سرپرستوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کروا دیں۔

††††††††† حقیقت یہ ہے کہ کفو کے اس مسئلے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق قرون وسطی کے سماجی نظام ہے۔ یہ معاملہ اسلام کے قانون مساوات اور اوپر بیان کردہ آیات و احادیث کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود فقہاء میں سے بہت سے اہل علم نے اس معاملے میں شدید اختلاف کیا ہے۔

 

اگلا صفحہ††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست†††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا صفحہ

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کا انسداد: ہوم پیج

فلسفیانہ سوالات

انسان، اپنے جیسے انسان کو غلام بنانا کیوں چاہتا ہے؟

کیا قرآن غلامی کو فطریقرار دیتا ہے؟

قرآن نے غلامی کو برائی قرار کیوں نہیں دیا؟

تاریخی سوالات

کیا اسلام نے غلامی کو باقاعدہ ایک سماجی ادارے کی شکل دی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ذاتی غلامی میں کیوں رکھا؟

اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہیں کیا؟

اسلام نے غلاموں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

اسلامی تاریخ میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا گیا؟

عہد رسالت میں بنو قریظہ کو غلام کیوں بنایا گیا؟

کیا عہد رسالت میں چند غلاموں کی آزادی کو منسوخ کیا گیا تھا؟

کیا عہد رسالت میں ام ولد کی خدمات کو منتقل کیا جاتا تھا؟

کیا وجہ ہے کہ اسلام کی اصلاحات کے باوجود، مسلم تاریخ میں غلامی کا ادارہ بڑے پیمانے پر موجود رہا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلم تاریخ میں لونڈیوں کو کثرت سے سیکس کے لئے استعمال کیا گیا؟

مسلم مصلحین نے امراء کے حرم اور خواجہ سرا پولیس کے اداروں کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نفسیاتی غلامی بڑے پیمانے پر موجود رہی ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض مستشرقین نے اسلام کو غلامی کا حامی قرار دیا ہے؟

غلامی کے خاتمے سے متعلق سوالات

کیا وجہ ہے کہ موجودہ دور میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کا آغاز مسلمانوں کی بجائے اہل مغرب کی طرف سے ہوا؟

کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں آزادی فکر کی تحریک اہل مغرب کی نسبت بہت کمزور ہے؟

کیا موجودہ دور میں مسلمان غلامی کے دوبارہ احیاء کے قائل ہیں؟

فقہی سوالات

فقہ سے متعلق چند بنیادی مباحث

موجودہ دور کے جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

کیا غیر مسلم غلاموں کی آزادی بھی اسلام کے نزدیک نیکی ہے؟

مکاتبت واجب ہے یا مستحب؟

مکاتب غلام ہے یا آزاد؟

کیا اسلام میں غلام کو مال رکھنے کا حق حاصل ہے؟

کیا غلام کو بھی اسلام نے وراثت کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے غلام کو گواہی دینے کا حق دیا ہے؟

کیا اسلام نے عرب اور عجم کے غلاموں میں فرق کیا ہے؟

کیا اسلام غلام کو شادی کرنے کا حق دیتا ہے؟

کیا اسلام موجودہ یا سابقہ غلام کو آزاد خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے؟

کیا لونڈی کی اجازت کے بغیر عزل جائز ہے؟

کیا اسلام میں غلام کا فرار ہونا حرام ہے؟

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

"اما مناء او اما فداء" کی تفسیر کیا ہے؟

کیا غلام کے بچے بھی غلام ہی ہوں گے؟

 

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/ ††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability