بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام میں ذہنی و جسمانی کے انسداد کی تاریخ

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 8MB)

حصہ ششم: اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن کے شبہات

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 22: اسلام اور غلامی سے متعلق فقہی اور قانونی سوالات

کیا غلام کو قتل کرنے کی سزا بھی قتل ہے؟

اس بات پر تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی آزاد شخص کسی غلام کو قتل کر دے تو قاتل کو سخت سزا ضرور دی جائے۔ ان میں اختلاف اس بات پر ہے اس آزاد شخص کو غلام کے بدلے قصاص میں قتل کیا جائے گا یا نہیں۔ فقہاء کا ایک گروہ اس بات کی قائل ہے کہ اس آزاد شخص کو بھی غلام کے بدلے قصاص میں موت کی سزا دی جائے گی۔ دوسرے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آزاد کو قتل تو نہیں کیا جائے گا البتہ سخت سزا ضرور دی جائے گی۔

قصاص کے قائلین کے دلائل

پہلے گروہ کے دلائل یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے قصاص کا قانون بیان کرتے ہوئے آزاد و غلام میں فرق نہیں کیا ہے بلکہ انسانی جان لینے کی صورت میں قاتل کو موت کی سزا دینے کا حکم دیا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَى بِالأُنثَى۔ (البقرة 2:178)

اے ایمان والو! تمہارے لئے قصاص کا قانون بنا دیا گیا ہے۔ آزاد نے قتل کیا ہو تو وہی آزاد، غلام نے قتل کیا ہو تو وہی غلام، اور عورت نے قتل کیا ہو تو وہی عورت قتل کی جائے گی۔

حدیث میں بھی یہی قانون بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی انسانی جان کے قاتل کو موت کی سزا دی جائے گی خواہ وہ آزاد ہو یا غلام۔

حدثنا عمر بن حفص: حدثنا أبي: حدثنا الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمفارق لدينه التارك للجماعة). (بخاری، کتاب الديات، حديث 6878)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کسی مسلمان جو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور میں اس کا رسول ہوں، کا خون حلال نہیں ہے سوائے ان تین چیزوں کے: جان کے بدلے قتل کرنے والے کی جان، ثیب بدکار، اور دین کو ترک کر کے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والا۔"

درج ذیل حدیث میں تو واضح طور پر ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ غلام کی جان لینے والے سے پورا پورا قصاص لیا جائے گا۔

أخبرنا محمود بن غيلان وهو المروزي ، قال : حدثنا أبو داود الطيالسي ، قال : حدثنا هشام عن قتادة عن الحسن عن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من قتل عبده قتلناه ومن جدعه جدعناه ومن أخصاه أخصيناه .

أخبرنا نصر بن علي ، قال : حدثنا خالد ، قال : حدثنا سعيد ، عن قتادة عن الحسن عن سمرة۔ اخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو عوانة عن قتادة عن الحسن عن سمرة، حدّثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّد. ثنا وَكِيعٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ۔ قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب (ترمذی، کتاب الديات، حديث 1414، ابن ماجة، کتاب الدية، حديث 2663، نسائی، کتاب القسامة، حديث 4736)

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جو اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم بھی اسے ہی قتل کریں گے۔ جو اس کا کوئی عضو کاٹے گا تو ہم بھی اس کا وہی عضو کاٹیں گے، اور جو اسے خصی کرے گا، ہم بھی اسے خصی کریں گے۔

وَأَخْبَرَنِى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىُّ أَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِذَا قَتَلَ الْحُرُّ الْعَبْدَ مُتَعَمِّدًا فَهُوَ قَوَدٌ. (بيهقى؛ سنن الكبرى؛ حديث 15941)

سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے فرمایا، "اگر آزاد نے غلام کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو اسے قتل کیا جائے گا۔

دوسرے گروہ کی رائے

دوسرے گروہ کے دلائل میں صرف چند ضعیف احادیث موجود ہے:

حديث : " لا يقاد مملو