بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پس منظر

رات اپنے اختتام کے آخری مراحل میں تھی اور سورج طلوع ہونے کے لئے پر تول رہا تھا۔ فلائٹ آنے میں ابھی وقت تھا۔ اس اجالے اور تاریکی کے ملاپ نے ائیرپورٹ کے مادیت سے بھرپور ماحول میں بھی روحانیت کا احساس پیدا کردیا تھا۔یہ مئی ۲۰۰۹ کا واقعہ ہے جب میں ائیر پورٹ پر اپنے والدین ، بھائی اور دادی کو رسیو کرنے آیا تھا جو عمرہ ادا کرکے واپس آرہے تھے۔ فجر کا وقت ہوگیا تھا چنانچہ میں نے نماز فجر مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جب فلائٹ آگئی تو میرے والدین باہر آگئے۔

میں نے جب اپنے بھائی اور والد کے منڈےہوئے سر دیکھے تو طبیعت میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا ہونے لگا۔ میرا دل چاہا کہ میں بھی اپنا سر منڈوا کر خود کو اللہ کی غلامی میں دے دوں، میں بھی سفید احرام میں ملبوس ہوکر اس کی بارگاہ میں حاضری دوں، میں بھی اس کے در پرجاکر لبیک کا ترانہ پڑھوں۔ یہ احساس زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے ہوا جو ایک خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔مجھے یوں محسوس ہو ا کہ شاید حرم سے بلاوے کا وقت آگیا ہے۔

اس کے بعد میں نے اپنا یہ احساس کسی سے شئیر نہیں کیا لیکن خاموشی سے حج پر جانے کا طریقہ کار لوگوں سے معلوم کرنے لگا۔دوسری جانب جب میں نے زمینی حقائق کا جائزہ لیا تو علم ہوا کہ میرے پاس معقول رقم کا بندوبست نہیں ہے اور نہ ہی ملازمت سے آسانی سے چھٹی ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ میری اس وقت دو بیٹیا ں بھی تھیں جن کی عمر یں چھ سال اور ساڑھے تین سال تھیں اور انہیں چھوڑ کر جانا ایک مشکل امر تھا۔

یہ سب حقائق امور حج پر جانے میں رکاوٹ تھے۔ لیکن میں جانتا تھا کہ جب بلاوہ آجائے تو کوئی روک نہیں سکتا۔ چنانچہ ان تمام رکاوٹوں سے قطع نظر میں نے حج پر جانے کی نیت کرلی۔ میں نے اس بات کا ذکر اپنی بیوی سے بھی کیا جس پر انہوں نے اصولی طور پر اتفاق کرلیا۔ میں نے انہیں یہی بتایا کہ ابھی حالات سازگار نہیں لیکن میں نے اپنا کیس اللہ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر اس نے بلانا ہوگا تو ضرور راستہ نکالے گا۔

کچھ ہی دنوں بعد میرے والدین نے خود ہی ہمیں حج پر جانے کی ترغیب دینا شروع کردیاور ساتھ ہی بچوں کو رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔میرے بچے اس سے قبل ایک رات کے لئے بھی ہم سے جدا نہیں ہوئے تھے اور ان کا پاکستان میں رکنے کا معاملہ خاصہ گھمبیر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن ایک عالم ظاہری اسباب کا ہے اور ایک اسباب سے ماوراء دنیا ہے۔ انسان ظاہری اسباب کا پابند ہے لیکن اللہ نہیں۔ چنانچہ ایک ایک کرکے تمام مسائل حل ہوتے چلے گئے۔ مالی مشکل بھی آسان ہوگئی، بچوں کو چھوڑنے کی ہمت بھی ہوگئی اور ملازمت سے چھٹی کا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔

روانگی

حج کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔ ویکسین لگوالی تھی اور ساتھ ہی تمام سامان کی خریداری مکمل کرلی تھی۔ سن ۲۰۰۹ میں حج ۲۶ نومبر کو متوقع تھا۔ میری فلائٹ کا شیڈول ۵ نومبر رات ۱یک بجے کا تھا۔ میں چار نومبر کو جب کالج سے گھر پہنچا تو ارادہ تھا کہ کچھ دیر آرام کرلوں گا تاکہ رات کو سفر کی تکان سے بچ سکوں۔ لیکن جب کالج سے گھر پہنچا تو مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ یہ ہمارے سماج رابطوں ایک حصہ ہے۔ اور اسے نبھانا بھی پڑتاہے۔ چنانچہ میں نے سب سے ملاقات کی۔ اور فراغت کے بعد فائنل پیکنگ کی۔ اسی اثنا ء میں عشاء کی نماز ادا کی۔ عشاء کے بعدروانگی تھی۔ احرام باندھا جس کی بنا پر چلنے میں خاصی دشواری ہورہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بعد میں مشکل آسان کردی۔ احرام دراصل حج اور عمرے کا یونی فارم ہے۔ جس طرح کسی ملک کے فوجی وردی پہننے کے پابند ہوتے ہیں اسی طرح ایک حاجی بھی اس وردی کا پابند ہے۔مجھے احرام باندھنے کے بعد ایک طمانیت اور قرب الٰہی کا احساس ہوا کہ اللہ نے مجھے اپنے سپاہیوں میں شامل کرلیا۔

پاکستان سے جانے والے حاجی زیادہ تر حج تمتع کرتے ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ اپنے وطن سے احرام عمرے کے لئے باندھا جائے اور پھر مکہ میں عمرے کی ادائگی کے بعد احرام اتار دیا جائے۔ پھر جب حج کے ایام شروع ہوں تو دوبارہ حج کے لئے دوسرا احرام باندھا جائے۔ حج کی دوسری قسم حج قران ہے جس میں حاجی اپنے ملک سے حج ہی کی نیت سے احرام باندھتا ہے اور دس ذی الحج تک اسے پہنے رکھتا ہے۔میرا حج بھی حج تمتع تھا۔

احرام

ہمارے گروپ لیڈر رافع صاحب نے بتایا تھا کہ بعض اوقات فلائیٹ لیٹ ہوجاتی ہیں یا کسی ایمرجنسی کے سبب کینسل بھی ہوسکتی ہیں۔ اسی بنا پر احرام باندھنے کے باوجودمیں نے عمرے کی نیت نہیں کی تھی کیونکہ نیت کرنے کے بعد اور میقات کی حدود شروع ہوتےہی احرام کی پابندیا ں شروع ہوجاتی ہیں۔ ان پابندیوں میں سر یا چہرے کو ڈھانپنا، بال یا ناخن کاٹنا،خوشبو لگانا، خشکی کا شکار کرنا، شہوت کی باتیں کرنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان پابندیوں کا فلسفہ یہی ہے کہ حج شیطان کے خلاف جہاد کا اعلان ہے۔ چنانچہ جب رب اپنے بندے کو پکارتا اور شیطان کے خلاف برسر پیکار ہونے کا حکم دیتا ہے تو یہ بندہ سفید کپڑوں کی وردی ملبوس کرلیتا ہے۔ اب اس پر دنیا کی زیب و زینت اور لذت حرام ہے یہاں تک کہ وہ اس جنگ میں برسر پیکار ہوکر اپنے دشمن کی ناک رگڑ دے اور اور اپنے مالک کی وفاداری کا ثبوت پیش کردے

ائیرپورٹ پر کافی رش تھا۔ وہاں کچھ مدد گار لوگوں کو گائیڈ کررہے تھے اور انہیں حج کے بارے میں بتارہے تھے۔ میرے گھر والے اور بیٹیاں بھی مجھے چھوڑنے آئیں تھیں لیکن ان کی محبت پر خدا کی محبت غالب آچکی تھی اور اب ان کی اتنی فکر محسوس نہیں ہورہی تھی۔ بہرحال تمام گھر والے ائیر پورٹ پر آئے تھے۔ ان سے ملنے کے بعد تقریباً دس بجے بورڈنگ شروع ہوئی اور میں اندر داخل ہوا۔ امیگریشن کے مراحل طے ہونے میں دو گھنٹے لگ گئے۔ بالآخر تمام مراحل طے کرنے کے بعد ڈیپارچر لاؤنج میں بیٹھ گئے۔ ہمارے گروپ کے تمام ساتھی جمع ہوچکے تھے۔میرا ایک دوست آصف بھی اسی گروپ سے جاررہا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔

لبیک

ہماری فلائٹ رات ایک بج کر بیس منٹ پر تھی۔میں نے لاؤنج میں اردگرد نگاہ ڈالی تو سب ہی مرد حضرات سفید احرام میں ملبوس تھے اور یہ منظر انتہائی دلفریب لگ رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے عمرے کی نیت کرلی تھی۔ تقریباً رات کے ایک بجے ہم جہاز میں سوار ہوئے۔ رن وے پر اس وقت تاریکی کاراج تھا لیکن فضا ساکت اور خوشگوار تھی۔ جہاز تقریباً آدھے گھنٹے لیٹ تھا۔میری بائیں جانب ایک بزرگ بیٹھے تھے جبکہ دائیں جانب میں نے اپنی بیوی کو بٹھا یا تھا۔ جہاز نے ہولے ہولے سرکنا شروع کیا اور میں نےبھی تلبیہ پڑھ عمرے کی نیت کرلی۔ طیارے کی فضا میں لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

لبیک اللہم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک۔

یہ تلبیہ پڑھتے ہی اپنے رب کے بلاوے پر بندہ اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: اے رب میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں کہ تیرا کوئی شریک نہیں، تعریف تیرے ہی لئے، نعمت تیری ہی ہے اور تیری ہی بادشاہی ہے جس میں تیرا کوئی شریک نہیں۔

یہ ترانہ پڑھتے ہوئے بندہ اپنی وفاداری کا اظہار کرکے،اپنا مورال بلند کرتا او ر یقینی فتح کے نشے میں جھومتے ہوئے دشمن کے تعاقب میں نکل چکا ہے۔ وہ دشمن جو اس کا ازلی دشمن ہے جس نے اس کے آباو اجداد کو جنت سے نکلوایا اور اب بھی اس کوشش میں مصروف ہے کہ اسے شکست دے سکے۔

پاکستان سے جانے والوں کے لئے فضا میں ہی نیت کرنا لازمی ہوتا ہے کیونکہ جہاز فضا ہی میں میقات پر سے گذرجاتا ہے۔ میقات وہ حرم کی حدود ہے جس سےباہر احرام باندھنا اور اس کی نیت کرنا باہر سے آنے والوں کے ضروری ہوتا ہے۔

شیطان اور انسان

جہاز فضا میں بلند ہوتا گیا اور میرا ذہن ماضی کے دھندلکوں میں گم ہونے لگا۔میں چشم تصور میں اس زمانے میں پہنچ گیا جب انسان کی تخلیق ہونے والی تھی۔اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ زمین پر ایک ایسی ہستی کو بھیجنے والے ہیں جسے دنیا میں بھیج کر آزمایا جائے گا۔اس فیصلے سے قبل اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام انسانی ارواح کو نکال کر اس آزمائش کے بارے میں بتایا اور ان کے سامنے ارادہ و اختیار کی امانت پیش کی جسے انسان نے برضا و رغبت قبول کرلیا۔اس کے بعد اللہ نے ااپنا تعارف کروایا اور اپنی توحید کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا۔انسان کو یہ واضح طور پر بتادیا گیا کہ اس آزمائش میں اللہ کی وفاداری میں کامیابی کا نتیجہ جنت کی کبھی نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہیں جبکہ سرکشوں کا ٹھکانہ جہنم کے گڑھے ہیں۔

انسان تخلیق کرنے سے قبل اللہ نے دیگر مخلوقات کو بھی اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا۔ ان مخلوقات میں جنات اور فرشتے شامل تھے۔ فرشتوں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انسان کو ارادہ و اختیار دے کر دنیا میں بھیجا گیا تو یہ بڑا خون خرابا اور فساد برپا کرے گا۔ خدا نے جواب دیا : ہاں ایسا تو ہوگا لیکن انہی لوگوں میں انبیاء، شہداء ، صدیقین اور نیک لوگ بھی پیدا ہونگے جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر میری وفاداری نبھائیں گے اور میرے لئے اپنی جان اور اپنا مال قربان کریں گے۔ یہ سیج انہی کے لئے سجائی جارہی ہے۔ باقی جو نافرمانوں کی گھاس پھونس ہے اسے میں جہنم کے ایندھن کے طور پر استعمال کرونگا۔

پھر اللہ نے اپنے ہاتھوں سے کھنکھناتی مٹی سے آدم کو تخلیق کیا اور فرشتوں حکم دیا کہ وہ سجدے میں گر جائیں۔اس سجدے کا مطلب یہ تھا کہ انسان دنیا میں محدود معنوں میں بادشاہ اور حاکم کی حیثیت سے بنے گا۔ یہ خدا کی مشیت کے مطابق اس دنیا میں مسکن بنائے گا، تمدن کی تعمیر کرے گا، کائنات مسخر کرے گا، اپنی مرضی سے خیر و شر کا انتخاب کرے گا اور آزمائش کے مراحل طے کرکے اپنی جنت یا دوزخ کا انتخاب کرے گا۔ اس سارے عمل میں فرشتوں اور جنات کو انسان کے سامنے عمومی طور پر سرنگوں رہنا اور اس آزمائشی عمل میں روڑے اٹکانے سےگریز کرنا لازم تھا۔

یہ حکم صرف فرشتوں ہی کے لئے نہیں تھا بلکہ ان کی مانند دیگر مخلوقات کے لئے بھی تھا جن میں جنات بھی شامل تھے۔ انہی جنوں میں سےایک جن عزازیل نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ سجدے سے انکار درحقیقت خدا کی اسکیم سے بغاوت کا اعلان تھا۔ خدا نے جب شیطان سےپوچھا کہ تونے سجدہ کیوں نہ کیا؟ ؟ تو اس نے کہا کہ میں اس انسان سے بہتر ہوں۔میں آگ اور یہ مٹی۔چنانچہ اللہ نے شیطان کو مردود بنادیا۔ لیکن شیطان جھک جانے کی بجائے اکڑ گیا اور وہ خدا کو چیلنج دے بیٹھا: "اے خداوند! تیری عزت کی قسم! میں نچلا نہیں بیٹھنے والا۔میں اس انسان کو تجھ سے گمراہ کردوں گا، میں اس کی گفتگو، میل جول، لباس، تمدن و تہذیب غرض ہر راستے سے اس پر نقب لگاؤنگا تاکہ اسے تیری وفاداری و بندگی سے برگشتہ کردوں اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا پائے گا۔ بس تو مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے دے"۔

شیطان نے یہ مہلت اس لئے مانگی تھی تاکہ وہ انسان کو منزل مقصود یعنی جنت تک نہ پہنچنے دے۔ لیکن اللہ کو اپنے چنے ہوئے اور متقی بندوں پر اعتماد تھا اس لئے اللہ نے فرمایا: "جا تجھے اجازت ہے۔ تو اپنے پیادے اور سوار سب لشکر لے آ۔لیکن تیرا اختیار صرف وسوسے ڈالنے اور بہکانے کی حد تک ہے۔ پھر جس نے بھی تیری پیروی کی تو میں ان سب کو تیرے ساتھ جہنم میں ڈال دونگا جبکہ میرے چنے ہوئے بندوں پر تیرا کوئی اختیا ر نہ ہوگا"۔

اس چیلنج کے بعد اللہ نے حضرت آدم اور انکی بیوی کو جنت میں بسادیا اور جنت کی تمام نعمتیں ان پر ظاہر کر دیں۔ بس ایک پابندی تھی کہ وہ ایک مخصوص درخت کا پھل نہیں کھائیں گے۔ لیکن شیطان نے انہیں ورغلایا کیونکہ وہ ان کا ازلی دشمن تھا۔ یہاں تک کہ اس نے انہیں اس درخت کا پھل کھانے پر مجبور کردیا اور یوں وہ اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوگئے۔لیکن شیطانی رویے کے برعکس دونوں اللہ کے سامنے عجزو انکساری کا پیکر بن گئے اور رجوع کرلیا۔ چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں دنیا میں بھیجا اور ساتھ ہی یہ ہدایات بھی کیں۔

"اے آدم، اس تجربے سے سبق حاصل کرنے کے بعد اب تم اپنی بیوی کے ساتھ زمین میں اترو اور ساتھ ہی یہ مردود شیطان بھی۔ تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اسی زمین میں جینا اور یہیں مرنا ہے اور اسی زمین سے تم دوبارہ زندہ کرکے آخرت کی جوابدہی کے لئے اٹھائے جاؤگے۔بس اپنے اس ازلی دشمن ابلیس اور نفس امارہ سے بچ کر رہنا۔ میں نے تمہاری فطرت میں خیر اور شر کا بنیادی شعور رکھ دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی میں نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہدایت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ چنانچہ جس کسی کے پاس بھی یہ نور ہدایت پہنچے اور وہ اس کی پیروی کرے تو وہ شیطان کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔ یاد رکھو شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تمہارا گمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں فحاشی، خدا سے بغاوت، ظلم و عدوان اور فساد فی الارض کی زندگی میں ملوث رکھے تاکہ تمہیں میری بندگی سے نکال کر لے جائے۔ پس جس نے میرا کہا مانا تو وہ میراوفادار ہے اور جس نے اس کی بات مانی تومیری بندگی سے نکل گیا"۔

شیطا ن کا چیلنج اور حج

شیطان کا چیلنج آج بھی موجود ہے۔ وہ اور اس کے چیلے مصروف ہیں کہ کسی طرح انسان کو اس امتحان میں فیل کرواکے خدا کے انتخاب کو غلط ثابت کروادیں۔ چنانچہ ہر دور میں شیطان نے انسان پر نقب لگائی اور اسے راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کی۔شیطان کے ہتھکنڈے بڑے مؤثر نکلے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان کبھی شرک و الحاد کی غلاظتوں میں لت پت ہوا تو کبھی مادہ پرستی سے دامن کو داغدار کیا۔ کبھی جنسی بے راہ روی کو اپنایا تو کبھی معاشی فساد کو پھیلایا۔

شیطانی سازشوں کے باوجود ہر دور میں خدا کے ایسے بندے ضرور موجود رہے جنہوں نے خود کو ان آلائشوں سے پاک رکھا لیکن اکثریت نے شیطان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے نفس کو آلودہ کردیا۔ اس آٖلودگی کو دور کرنے کے لئے اللہ نے انسان کے لئے کئی اہتمام کئے۔ ایک طرف تو اس نے انسان کے اندر نفس لوامہ یعنی ضمیر میں خیر و شر کاشعور رکھ دیا تاکہ اس کے نفس پر جب بھی غلاظت کا چھینٹا پڑے تو اسے احساس ہوجائے اور وہ توبہ کے ذریعے دوبارہ اسے پاک کرلے۔ دوسری جانب اس نے وحی کا سلسلہ روز اول ہی سے شروع کردیا تاکہ انسان کو خیرو شر کے تعین میں جو ٹھوکر لگ سکتی تھی اس سے بچایا جاسکے۔ اس عظیم الشان اہتمام کے باوجود انسان کا نفس آلودگی کا شکار ہوتا رہا۔ چنانچہ عبادات کا ایک جامع تربیتی نظام مرتب کیا تاکہ ان آلائشوں سے پاکی اختیار کی جاسکے۔

جدہ ائیرپورٹ

بالآخر جدہ ائیر پورٹ آگیا۔اس وقت وہاں فجر کی نماز کا وقت ہورہا تھا۔ چنانچہ لاؤنج ہی میں فجر ادا کی۔ وہاں فلو کی ویکسی نیشن بھی ہوئی۔ امیگریشن کے مراحل ڈیڑھ گھنٹے ہی میں طے ہوگئے پھر کچھ دیر بعد ہی ہمیں پاکستان کے کیمپ میں بٹھا دیا گیا جہاں سے مکہ روانگی تھی۔ اس دوران پہلی مرتبہ سعودی باشندوں کو دیکھا۔ ابتدا میں ا نکی باڈی لینگویج خاصی جارحانہ لگی لیکن بعد میں احساس ہوا کہ میرا یہ احساس غلط تھا اور یہ ان کا فطری انداز تھا۔

موجودہ سعودی عرب کی بنیاد عبدالعزیز بن سعود نے سن ۱۹۳۲ عیسوی میں رکھی۔ اس کی ابتدا سن ۱۷۴۷ میں ہوچکی تھی جب محمد بن سعود نے ایک اسلامی اسکالر عبدالوہاب کے ساتھ اشتراک قائم کیا۔ابتدا میں سعودی عرب ایک غریب ملک تھا لیکن ۱۹۳۸ میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد اس ملک کی قسمت بدل گئی۔ آج سعودی عرب کا شمار امیر ملکوں کی فہرست میں ہوتا ہے۔ یہاں کا سیاسی نظام بادشاہت پر قائم ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کی یہاں کوئی اجازت نہیں۔

مکہ روانگی

تقریباً تین سے چار گھنٹے کے بعد مکتب کی بس آئی جب اس میں سوار ہوئے تو ہم سے پاسپورٹ لے لیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ اب واپس جاتے وقت ہی ہمیں پاسپورٹ ملیں گے۔ بس جب مکہ میں داخل ہونے لگی تو ایک عجیب سی کیفیت عود آئی۔ میں سوچنے لگا کہ یہ وہی مقدس مکہ ہے جہاں خدا کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے، جہاں خدا کا کلام نازل ہوا، جہاں جبریل امین نے قدم رنجا فرمایا، جہاں معراج کا واقعہ ہوا، جہاں کفر و اسلام کی جنگ لڑی گئی۔ یہ وہی مکہ ہے جہاں انسانوں کے لئے عبادت کا پہلا گھر تعمیر کیا گیا،جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیوی اوربچے کو خدا کے حکم سے بسایا، جہاں حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سعی کرکے صفا مروہ کو امر کردیا، جہاں اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی داستان رقم کی گئی۔

جدہ سے مکہ قریب دوگھنٹے میں پہنچے اس وقت وہاں کے وقت کے مطابق بارہ بج رہے تھے۔وہاں حج مرکز میں رجسٹریشن ہوئی۔ مرکز میں بس کھڑی ہوئی تھی۔ رجسٹریشن کے بعد بس اگلی منزل روانہ ہوئی جو معلم کا دفتر تھا۔ یہاں رجسٹریشن ہونے کے بعد سوئے حرم چلے۔ہوٹل پہنچتے پہنچتے دیڑھ گھنٹا مزید لگ گیا۔

ہوٹل کا نام السرایا ایمان تھا اور یہ ہوٹل حرم سے پانچ منٹ کی واک پر تھی۔ مجھے کمرہ چوھویں فلو ر پر دیا گیا جس میں میرے ساتھ دو نوجوان دانش اور یاسر تھے۔ میری بیوی کا فلورتیرھواں تھا۔ جب ہم ہوٹل پہنچے تو اس وقت سعودی وقت کے مطابق ساڑھے تین بج رہے تھے۔ ہوٹل پہنچ کر تھکن سے چور ہوچکے تھے چنانچہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھی اور بستر پر ڈھیر ہوکر یاسر کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کی پلاننگ کرنے لگے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ کعبہ پر پہلی نظر پڑے تو جو دعا مانگو قبول ہوجاتی ہے۔ لیکن محدثین اس روایت کو ضعیف مانتے ہیں۔

عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے میں دانش اور یاسر کے ساتھ مسجدالحرام جانب نکلا لیکن تاخیر سے پہنچنے کی بنا پر پہلی رکعت رہ گئی اور مسجد الحرام کے باہر ہی جگہ ملی۔ نماز کی امامت میرے فیورٹ قاری الشریم کررہے تھے۔ ان کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ شاید میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں اور ابھی کوئی مجھے جگا د ےگا۔ لیکن وہ ایک حقیقت تھی۔

 

نماز ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ مسجد الحرام کو غور سے دیکھا۔میں اس وقت باب عزیز کے سامنے کھڑا تھا۔میں نے ارد گرد نگاہ ڈالی تو علم ہوا کہ یاسر اور دانش جدا ہوچکے ہیں۔ اب مجھے تن تنہا مسجد میں داخل ہوکر عمرہ کرنا تھا۔ میں باب عزیز کے سامنے کھڑا ہوکر لوگوں کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن جب دس منٹ تک بھی نکلنے والے لوگوں کی تعداد میں کوئی کمی نہ ہوئی تو پھر بائیں جانب ایک ذیلی دروازے سے داخل ہونے کی ٹھانی۔ دروازے سے داخل ہوا تو سمت بھول گیا کہ کعبہ کس جانب ہے۔ سوچا کسی سے پوچھ لوں۔ لیکن پھر شرم آئی کہ کوئی کیا کہے گا کہ اسے کعبہ کا علم نہیں ہے۔ بہر حال اندازے سے دائیں جانب چلنے لگا۔ جب تھوڑا سا آگے چلا تو سامنے کعبہ موجود تھا۔

بیت اللہ

سامنے بیت اللہ اپنی پوری آب و تاب سے سیاہ غلاف میں ملبوس موجو دتھا۔ اس وقت پورا ماحول دودھیا روشنی سے منور تھا اور اس کے ساتھ ہی خدا کی رحمت کانور بیت اللہ کو چار چاند لگائے دے رہا تھا۔وہ خانہ کعبہ جس کی سمت ہمیشہ سجدے کئے وہ آج بالکل سامنے تھا۔ اس سے پہلے کعبہ ٹی وی پر یا تصویروں میں دیکھا تھا لیکن وہ دیکھنا کوئی دیکھنا نہ تھا۔ آج کے دیدار کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔

کعبہ کا سیاہ غلاف ہیبت الٰہی کی عکاسی کررہا تھا۔ یہ کعبہ قدرت الٰہی کی تمام صفات کو خاموش زبان میں بیان کرہا تھا۔یہ کہہ رہا تھا کہ خدا بادشاہوں کے بادشاہ ہیں، ان کے جیسا رعب ، وجاہت، قہاری، عظمت، بزرگی، بڑائی،جلال اور شان وشوکت کسی کے پاس نہیں۔وہ ایک عزت والی، زبردست، صاحب قوت و اختیار، غالب اور قادر ہستی ہیں۔ وہ ملکیت رکھنے والے ، آقا، حاکم ، بااختیار، قابض اور متصرف ہیں۔وہ ایسی قدرت مطلق کے حامل ہیں کہ کسی سرکش، بڑے سے بڑے قوی اور باجبروت کا ناپاک ہاتھ انکی عظمت اور طاقت کی بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔

میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور زبان پر دعائیں۔ ساتھ ہی خدا کا شکر گذار تھا کہ اس نے آج ان گناہ گار آنکھوں کو وہ گھر دکھایا جسے ابراہیم، اسماعیل اور نبی کریم علیہم السلام نے دیکھا۔

طواف

میں لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے مطا ف میں داخل ہوا۔ وہاں خلاف توقع رش کم تھا۔ کچھ دور چلنے کے بعد سبزلائٹ کی سیدھ میں آگیا۔ اب حجر اسود میرے بائیں جانب تھا۔ یہاں حجر اسود کو استلام کیا یعنی اس کی جانب ہاتھ کا اشارہ کیا۔ یہ درحقیقت اپنا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دینے کی تعبیر تھی۔ یہ اللہ سے بیعت اور عہد کرنے کا انداز تھا، یہ تجدید عہد کا اظہار تھا۔ یہ اپنی خواہشات، رغبات، شہوات، مفادات اور تعصبات کو خدا کی رضا اور اس کے حکم پر قربان کرنے کا وعدہ تھا۔

طواف کی حقیقت یہ ہے کہ قدیم زمانےسے روایت تھی کہ قربانی کے جانور کو معبد ( عبادت گاہ) کے گرد پھیرے دلوائے جاتے تھے جس سے معبد کی عظمت اظہاراور قربانی کے ثمرات کا کا حصول مقصودہو تا تھا۔ طواف اسی روایت کا علامتی اظہار ہے۔

میں نے طواف کا آغاز کیا۔ اس دوران مقام ابراہیم کو قریب سے دیکھا اور کعبہ کا بغور مشاہدہ کیا۔ ان سات چکروں میں کوئی مخصوص دعا نہیں، کوئی بھی دعا مانگ سکتے اور کسی بھی زبان میں مانگ سکتے ہیں۔ لیکن میں نے کچھ لوگوں کو مطاف میں دیکھا کہ وہ طواف کے دوران دعاؤں کی کتاب ہاتھ میں لئے طواف کررہے تھے۔ جبکہ کچھ لوگ کورس کی شکل میں دعائیں پڑھ رہے تھے۔ اس سے طواف کا حسن اور روح برباد ہورہی تھی۔ طواف تو خاموشی سے اللہ سے لو لگانے ، اس کےمناجات کرنے اور اس کی بڑائی بیان کرنے کا نام ہے۔ یہ اپنی جان کا نذرانہ خدا کے حضور پیش کرنے کا علامتی اظہار ہے۔ لیکن ہمارے بھائی عام طور پر اس فلسفے سے ناواقف ہوتے ہیں اور ظاہر پرستی کی تعلیم نے انہیں اتنا الجھادیا ہوتا ہے کہ وہ ان اعمال کی روح بالکل کھو بیٹھتے ہیں۔

طواف مکمل کرنے کے بعد دورکعت نماز ادا کی۔ اکثر لوگ مقام ابراہیم کے پاس ہی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں جس سے نماز پڑھنے والوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے۔ کسی کو تکلیف دینا یوں تو ویسے ہی حرام ہے لیکن حرم میں یہ حرمت اور بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ بہتر یہ ہے کہ ایسی جگہ نوافل ادا کئے جائیں جہاں لوگوں کے طواف میں رکاوٹ نہ ہو۔ اسی طرح کچھ لوگ حجر اسود اور ملتزم یعنی بیت اللہ کی چوکھٹ کو پکڑنے کے چکر میں لوگوں کو دھکا دیتے اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔ حجر اسود کو بوسہ دینا ایک نفلی عمل ہے اور ایک نفل کے حصول کے لئے لوگوں کو اذیت دینے جیسا کام کرنا گناہ کا باعث ہے۔

سعی

اس کے بعد اگلا مرحلہ سعی کرنے کا تھا۔ سعی کے لغوی معنی کوشش کے ہیں۔ مسلمانوں کی معروف روایات کے مطابق سعی حضرت حاجرہ علیہ اسلام کی اضطرابی کیفیت کی نقالی ہے جو انہوں نے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑ کر کی۔ لیکن کچھ اور علما ء کی تحقیق کے مطابق حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام جب حضرت اسمٰعیل علیہ اسلام کو قربان کرنے کے لئے صفا پر پہنچ کر آگے بڑھے تو شیطان نے حکم عدولی کے لئے وسوسہ ڈالا۔ اس وسوسے کے برخلاف وہ حکم کی تعمیل کے لئے تیزی سے دوڑے اور مروہ پر پہنچ کر لختِ جگر خدا کے قدموں میں ڈال دیا۔ بہرحال سعی شیطان کی ترغیب سے بھاگنے اور خدا کی رضا کی جانب دوڑنے کا نام ہے۔

حلق اور غلامی

سعی کے بعد میں باب فتح سے باہر آیا اور لوگوں سے حجام کے بارے میں دریافت کیا۔ قریب ہی بڑی تعدا د میں حجاموں کی دوکانیں تھیں۔ ایک دوکان میں داخل ہوا۔ وہ پانچ ریال میں حلق کررہے تھے۔ بال کٹوانے کے دو آپشن شریعت میں موجود ہیں۔ یا تو پورا سر منڈوایا جائے جسے حلق کہتے ہیں اور یا پھر کچھ بال کٹوالئے جائیں جو قصر کہلاتا ہے۔ حلق کا فلسفہ یہ ہے کہ زمانہء قدیم میں جب لوگوں کو غلام بنایا جاتا تو انکا سر مونڈ دیا جاتا تھا جو اس بات کی تعبیر ہوتی کہ یہ کسی کا غلام ہے۔ حاجی علامتی طور پر غلامی کے لوازمات پورے کرتا ہے لہٰذا یہ بھی اپنا سر منڈا کر خدا کی غلامی کی تجدید کرتا اور ہمیشہ اسی کا وفادار رہنے کا عہد کرتا ہے کہ وہ ہر سرد و گرم ،دھوپ چھاؤں، فقروامارت ، تنگی و آسانی پر راضی رہے گا کیونکہ وفادار غلاموں کا یہی شیوہ ہوتاہے۔

ایک روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ دعا فرمائی۔ چنانچہ میں نے زیادہ فضیلت والے عمل کو فوقیت دی۔ شعور کی عمر تک پہنچنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب میں گنجا ہوا۔لیکن اللہ کی غلامی کا احساس اتنا شدید تھا کہ یہ عمل بھی پر لطف معلوم ہونے لگا۔

یہاں سے واپس ہوٹل کی راہ لی۔ یہ ہوٹل حرم سے صرف ۳۰۰ میٹر کے فاصلے پر اجیاد روڈ پر واقع تھا۔ وہاں غسل کیا اور احرام اتارا۔ یوں احرام پہننے سے لے کر اتارنے تک کے عمل میں پورے چوبیس گھنٹے لگے۔ اب عمرہ پورا ہوچکا اور احرام کی پابندیاں ختم ہوچکی تھیں۔ لیکن مجھے اس بات کا احسا س تھا کہ میں حدود حرم میں ہوں۔ حدود حرم میقات کے اندر موجود رقبے کو کہتے ہیں۔حرم کا مطلب ہے حرمت والی جگہ۔ یہ حدود حرم بادشاہ سے قربت کی علامت ہے۔ جب ایک شخص بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے تو اس کا پورا وجود انتہائی ادب اور احترام کی تصویر پیش کرتا ہے۔ نگاہیں نیچی،اعضا ساکن، ہاتھ بندھے ہوئے اور چہرے پر سنجیدگی۔ گویا ہر عضو یہ کہہ رہا ہے کہ سرکار میں آپ کا تابعدار اور وفادار ہوں۔ اس دربار میں اونچی آواز بھی گستاخی سمجھی جاتی اور معمولی غلطی بھی کڑی سزاکا پیغام بن جاتی ہے۔

مکہ کا حرم بادشاہوں کے باشاہ کا دربارہے۔ اس دربار کا اپنا پروٹوکول ہے۔ یہاں لمحوں کی غلطی ابدی سزاکا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اس دربار میں معصیت بدرجہء اولیٰ حرام ہوجاتی اور کچھ جائز امور پر اضافی پابندی لگ جاتی ہے۔مثلاََ یہاں حکم ہے کہ ادب پیشِ نظر رہے، خیالات پاکیزہ ہوں، کسی جاندار کونہ مارا جائے، کسی پتے یا گھاس کو نہیں توڑا جائے اور کسی کو ایذانہ پہنچائی جائے۔

شیطانی مشن

عمرے کی ادائیگی کے بعد میں ہوٹل پہنچا۔ تھکن کافی ہوچکی تھی جس کی بنا پر نیند آجانا چاہئے تھی۔ لیکن نئی جگہ کے باعث نیند نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ میری سوتی جاگتی آنکھوں میں وہی منظر آنے لگا جب شیطان نے چیلنج دیا تھا کہ میں انسان کے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے غرض ہر جگہ سے آؤں گا اور اسے جنت کے راستے سے بھٹکا کر جہنم کے دہا نے تک لے جاؤں گا۔ میں نے غور کیا تو علم ہوا کہ شیطان نے بڑی عیاری سے انسان کے گرد اپنے فریب کا جال بنا اور اکثریت کو راہ راست سے دور لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔

اس نے پہلا وار تو حضرت آدم و حوا علیہما السلام پر کیا اور انہیں جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری کاری ضرب حضرت آدم کے بیٹے قابیل پر لگائی اور اسے حسد اور مادہ پرستی کی راہ پر ڈال کر اپنے ہی بھائی کے قتل پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد اس نے انسان کا پیچھا نہ چھوڑا اور تواتر سے اپنی سازشوں کا دائرہ وسیع کرتا گیا۔ قوم نوح کو شرک کی گمراہیوں میں اس طرح الجھایا کہ وہ مرتے مر گئے لیکن خدا کی توحید پر ایمان نہ لائے۔ شرک کی گمراہیوں میں تو اس نے ہر قوم کو الجھایا لیکن اس کے ساتھ کئی دوسرے پہلوؤں سے لوگوں کو خدا سے دور کرتا رہا۔ اس نے کبھی تو قوم عاد ، قوم ہود قوم ثمود اور قوم شعیب کو مادہ پرستی ، جھوٹی شان و شوکت ، انکار آخرت، لوٹ مار اور قتل و غارت جیسے گناہوں میں الجھادیا تو کہیں قوم لوط کو جنسی بے راہ روی کی پست ترین سطح میں ملوث کردیا۔ لیکن یہ سب کام کرنے پر اسے انسان پر کوئی اختیار نہ تھا۔ اس نے تو بس انسان کو دعوت دی اور لوگوں نے اس کی دعوت پر لبیک کہہ کر خود کو طاغوت کے سپرد کردیا۔ شیطان کی کارستانیوں اور نفس کے جھانسوں کے سبب کئی قومیں طاغوت کی بندگی میں داخل ہوئیں اور بے شمار شخصیات نے اپنے نفس کو آلودہ کرکے جہنم کا حق دار بنالیا۔

دوسری جانب شیطان کے مقابلے میں خدا کا فرمان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا کہ میرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہ ہوگا۔ چنانچہ شیطان کو ہر دور میں ان بندوں نے شکست فاش سے دوچار کیا۔ اگر قابیل نے شیطان کی دعوت پر لبیک کہا تو ہابیل نے تقویٰ کا پیکر بن کر خدا کی راہ امیں جان دے ڈالی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے مخالفین کی سختیاں برداشت کیں اور بیٹے کو قربان کردیا لیکن خدا کی راہ نہ چھوڑی۔حضرت صالح، ہود،شعیب اور لوط علیہم السلام نے مشکلات، جبر و تشدد اور شدید مخالفت کے باوجود خدا کی بندگی کا قلادہ نہ اتارا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں کودنا گوارا کرلیا لیکن صراط مستقیم پر قائم رہے۔حضرت موسی و ہارون علیہما السلام تنہا فرعون کے ظلم و ستم برداشت کرتے رہے لیکن ان کے قدموں میں لغزش نہ ہوئی۔ حضرت زکریا کو آرے سے چیر دیا گیا اور حضرت یحی کا سر رقاصہ کی فرمائش تھال پر رکھ کر پیش کیا گیا لیکن وہ کلمہ حق سے دستبردار نہ ہوئے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے یہود کے الزامات سہے اور ان کی تمام سازشیں جھیلیں لیکن خدا کا پیغام پہنچاتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کی سختیاں جھیلیں، طائف میں پتھر کھائے، جنگوں میں سختیوں سے گذرے لیکن کبھی کوئی شکایت کا حرف بھی زبان پر نہ لائے۔

ان پیغمبروں کے علاوہ ان کے ماننے والے بھی ہر دور میں طاغوت کو شکست دینے کے لئے کھڑے رہے۔گو کہ یہ سب تعداد میں کم تھے لیکن شیطان کی ناک رگڑنے کے لئے کافی تھے۔

یہ کشکمش آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔ آج بھی شیطان نے انسان کو اپنے جال میں جکڑا ہوا ہے اور ہر طرف سے اس کی یلغار جاری ہے۔ ماضی کی تمام برائیاں آج وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہیں۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار الحاد کا ہے جس میں اس نے ڈارونزم، کمیونزم اور مادہ پرستی جیسے فلسفوں کے ذریعے خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری جانب آج کے ماڈرن اور سائنسی دور میں بھی لوگوں کو بت پرستی اور شرک کے دیگر مظاہر میں الجھا رکھا ہے۔ ابلیس کا تیسرا جال آخرت سے غفلت کا ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو مادہ پرستی، نفسانی خواہشات کی تکمیل اور مفاد پرستی کی جانب لانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کا ایک اور طریقہ واردات ماڈرنزم کا ہے جس کی بنا پر اس نے حیا کو ایک فرسودہ روایت اور عریانی کو ایک جدید اور اعلی قدر کے طور پر پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کی بنا پر زنا، ہم جنس پرستی، فحش تصاویر، جنسی فلمیں اور عریاں ادب عام ہوچکے ہیں۔ معیشت کے میدان میں شیطان نے لوگوں کو سرمائے کا غلام بنادیا کہ صبح سے رات تک غلاموں کی طرح کام کرتے رہتے اور اگلے دن دوبارہ کولہو کے بیل کی طرح اس لامتناہی مشقت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیطان نے انسان کو صرف دعوت دی باقی اس دعوت پر لبیک انسان نے خود کہا اور طاغوتی قوتوں کا ساتھی بن گیا۔

شیطان کی اس عظیم یلغار کے باوجود اللہ نے انسانیت کی راہنمائی کا بہترین اہمتام کر رکھا ہے۔ چنانچہ آج دنیا کے کسی بھی خطے میں انسان موجود ہو وہ برائی کو برائی ہی مانتا ہے اور جب بھی وہ کوئی برا عمل کرتا ہے اس کا ضمیر اس پر اسے ملامت کرتا ور معاشرہ بحیثیت مجموعی اسے ٹوکتا ہے۔ چنانچہ آج بھی خدا کے وجود کا انکار کرنے والے اقلیت میں ہیں۔ آج بھی حیا کو ایک اعلی اخلاقی قدر مانا جاتا اور اس کی خلاف ورزی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب شرک کو بھی چند کمزور قسم کے دلائل سے سہارا دینے کی کوشش کی جاتی ہے جسے سائنس کی دریافتیں آہستہ آہستہ رد کررہی ہیں۔ لہٰذا ایسا نہیں کہ شیطان نے دنیا پر قبضہ کرلیا ہے۔ خدا کی ہدایت آج بھی فطرت اور وحی کی صورت میں موجود ہے اور آج بھی اس شورش زدہ ماحول میں خدا کے بندوں نے اپنے نفس کو آلودگی سے پاک رکھا ہوا ہے۔ اب یہ لوگوں کا اختیار ہے کہ وہ ابلیس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں یا رحمٰن کی دعوت پر لپکتے ہیں۔

مسجدالحرام

اگلے دن جمعہ تھا۔ لوگوں نے بتایا تھا کہ جمعہ کے دن مسجدالحرام میں جگہ مشکل سے ملتی ہے۔ چنانچہ میں صبح دس بجے ہی مسجد پہنچ گیا۔ ایک ایسی جگہ منتخب کی جہاں سے کعبہ بالکل سامنے تھا۔ وہاں مسجدالحرام کے درو دیوار کا بغور جائزہ لینے لگا۔ مسجد کی چھت، دیواریں، فانوس اور بلندو بالا ستون آرٹ کا بہترین نمونہ تھے۔مسجدا لحرام کا موجودہ رقبہ ۸۸ ایکڑ سے زائد ہے۔میرے سامنے بیت اللہ تھا۔ اسے دیکھ کر مجھے اس کی تاریخ یاد آنے لگی۔

مکہ کا پرانا نام بکہ ہے۔ خانہء کعبہ وہ پہلا گھر ہے جسے اللہ نے عبادت کے لئے خاص کیا۔ اس کی تاریخ کی ابتدا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت حاجرہ اور حضرت اسمٰعیل علیہما لسلام کو اس وادی میں بسا کر کی۔ بعد میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام نے اللہ کے حکم سےکعبہ کی تعمیرِنو کی۔ ایک تحقیق کے مطابق یہودیوں کا بھی یہی قبلہ تھا اور بیت المقدس کا رخ کعبہ کی طرف ہی تھا۔ بعد میں یہودیوں نے تحریف کرکے کعبے کا ذکر ہی بائبل سے غائب کردیا۔

اگر پیغمبروں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا دور حضرت آدم سے حضرت نوح علیہ السلام کا ہے۔ اس دور میں پیغمبر براہ راست قوم سے مخاطب ہوتا اور اسے انذارو تبشیر کرتا تھا۔ اگر قوم انکار کردیتی تھی تو ایک مخصوص مدت کے بعد ان پر موت کی سزا نافذ ہوجاتی تھی اس قانون کو قانون دینونت کہا جاتا ہے۔دوسرا دور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے جس میں پیغمبر ایک ہی نسل میں پیدا ہوتے رہے اور ساتھ ہی ان میں سے کچھ پیغمبروں کو کتاب بھی دی گئی۔ اس دور میں بھی رسولوں کو بھیج کر قانون دینونت کا اطلاق کیا گیا جبکہ انبیاء بھی بھیجے گئے۔

تیسرا دور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ہے جس میں ایک کتاب اور نبی کی سنت کو رہتی دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنادیا گیا۔ اس تیسرے دور کے آغاز کے لئے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی انتظام کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنی بیوی حضرت حاجرہ علیہا السلام اور اپنے پہلوٹھے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک غیر آباد لیکن مقدس وادی میں بسایا۔ اس کا مقصد ایک ایسی قوم کو پیدا کرنا تھا جو حامل کتاب بن کر دنیا کو ابدی ہدایت کا راستہ دکھا سکے۔ حضرت حاجرہ علیہاالسلام نے اللہ کے اس فیصلے پر سر تسلیم خم کیا اور ایک عظیم قربانی کے لئے تیار ہوگئیں۔ حضرت حاجرہ علیہا السلام کے رہائش پذیر ہوجانے کے بعد قبیلہ جرہم اور ارد گرد کے دیگر قبائل بھی کعبہ کے گرد آباد ہوگئے۔ امام حمیدالدین فراہی کی تحقیق کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت حاجرہ علیہا السلام ہی کے ساتھ قیام کیا جبکہ وہ کبھی کبھی فلسطین حضرت سارہ علیہا السلام کے پاس چلے جایا کرتے تھے۔

جب حضرت اسمٰعیل بڑے ہوئے تو خواب میں حضرت ابراہیم کو اشارہ ملا کہ وہ اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کریں۔ آپ نے حضرت اسماعیل کی رائے دریافت کی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا،چنانچہ آپ حکم کی تکمیل کے لئے مقررہ مقام پر پہنچے تو اس وقت اللہ نے ایک دنبہ بھیج دیا اور حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچالیا۔

اس کے کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہماالسلام نے کعبہ کی تعمیر کی۔ یہ معلوم تاریخ میں کعبہ کی پہلی تعمیر تھی جو ۲۱۳۰ قبل مسیح میں عمل میں آئی۔ حضرت ابراہیم ہی کی دعا کی بنا پر مکہ کو رزق میں انتہائی برکت عطا کی گئی۔ پھر مکہ کو حرم بنادیا گیا جس میں لڑائی جھگڑا، ایذارسانی ، قتل یہاں تک کہ کسی جاندار کو اذیت پہنچانا حرام قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ لوگوں کو حج کے لئے بلاؤ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے حج کی منادی کی۔ چنانچہ یہ حج اس وقت سے آج تک مکہ میں ہورہا ہے۔بیت اللہ کی یہ اہمیت صرف بنی اسمٰعیل کے لئے ہی نہیں تھی بلکہ یہ بنی اسرائیل کے لئے بھی تھی۔ چنانچہ ایک تحقیق کے مطابق یہود کوبھی قربانی اور عبادات کے وقت اپنا رخ بیت اللہ کی جانب ہی رکھنے کا حکم تھا اور بیت المقدس کا رخ بھی کعبہ ہی کی جانب رکھا گیا۔

حضرت ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کی تعمیر کے بعد کعبہ دوبارہ قریش کے دور میں تعمیر ہوا۔ اس وقت کعبہ کی حالت کافی خستہ تھی۔ البتہ قریش کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کعبہ کی تعمیر میں صرف حلال رقم ہی خرچ کریں گے۔ چنانچہ رقم کم پڑ جانے کے باعث ایک حصہ کو کعبہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ حصہ آج بھی موجود ہے جسے حطیم کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ جس نے حطیم میں نماز پڑھی اس نے گویا کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔

کعبہ کی اگلی تعمیر حضرت عبداللہ بن زبیر نے ۶۸۳ عیسوی میں کی جب یزید کی افواج نے خانہ کعبہ کو نقصان پہنچایا۔ اس تعمیر میں حطیم کو کعبہ کے اندر شامل کردیا گیا۔ بعد ازاں ۶۹۳ عیسوی میں عبدالملک بن مروان نے کعبہ کو ڈھا کر دوبارہ قریش کی طرز پر شامل کردیا اور حطیم کو کعبہ سے باہر کردیا۔ موجودہ کعبہ آج تک اسی تعمیر پر قائم ہے۔قدیم کعبہ چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا لیکن آج یہ بلندو بالا عمارتوں کے نرغے میں ہے۔ ایک جانب مکہ اور زم زم ٹاور ہے تو دوسری جانب سعودی محلات موجود ہیں۔

حرم میں لڑائی

میں ابھی بیٹھا جمعہ کی نماز کا انتظار ہی کررہا تھا کہ اچانک دو آدمی جگہ پر لڑ پڑے۔ اتفاق سے وہ دونوں پاکستانی تھے۔ میرے لئے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ کوئی عین کعبہ کے سامنے بھی لڑ سکتا ہے۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ لوگ لاکھوں روپے خرچ کرکے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر اللہ کی رہ میں حج کرنے آتے ہیں لیکن انہیں حج کا مقصد ہی معلوم نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی مناسب تربیت نہ ہونا ہے۔ اکثر علماء نے اسلام کو ظاہری عبادات اور رسومات کا ایک ڈھانچہ بنا کر ہی لوگوں کے سامنے پیش کیا اور عام طور پر اسی کی تبلیغ کی۔ انہوں نے اخلاقیات پر بہت زیادہ زور نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان عام طور پر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔

بالآخر اما م صاحب نے جمعہ خطبہ دیا جس میں زیادہ تر عمومی ہدایات تھیں۔ نماز اول وقت میں پڑھادی گئی اور نماز کے بعد کوئی دعا نہیں مانگی گئی۔ سعودی علماء حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔سعودی حکومت کے قیام سے قبل حرم میں چار مصلے ہوتے تھے جس کی ابتدا کافی پہلے ہوئی تھی۔ ہر مسلک کی جماعت الگ ہوتی تھی جن میں سب سے پہلے حنبلی مسلک کی جماعت ہوتی تھی۔ بعد میں یہ مصلیٰ ایک ہی کردیا گیا۔

حنبلی مسلک میں جماعت بالکل ابتدائی وقت میں ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر ظہر کا وقت بارہ بج کر نو منٹ پر شروع ہو تو اسی وقت اذان دے دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حرم میں نماز کے اوقات ہردوسرے دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ حنبلی مسلک میں عصر کی نماز کا وقت بھی جلدی شروع ہوتا ہے۔ بلکہ حنفی مسلک کو چھوڑ کر تمام مسالک میں عصر کی نماز کا وقت وہ ہے جب سایہ ایک مثل یعنی اپنے قد کے برابر ہوجائے۔ پاکستا ن اور انڈیا کی اکثریت چونکہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہے اس لئے وہ خاصے تشویش میں ہوتے ہیں۔ لیکن احناف کے علماء کا فتوٰی ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینے سے اول وقت میں بھی جماعت ہوجاتی ہے۔

طریق طریق

نماز پڑھ لینے کے بعد میں نے طواف شروع کیا۔ یہ میرا دوسرا طواف تھا۔ طواف اصل میں نماز ہی ہے لیکن یہ عبادت صرف کعبہ کے گرد ہی ہوسکتی ہے اور اس میں ضرورت کے وقت بات چیت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ طواف کے دوران میں نے کچھ لوگوں کو احرام کی حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھا۔ یہ رمل کہلاتا ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے اگلے سال مسلمان عمرہ ادا کرنے مکہ آئے تو قریش کی عورتوں نے مسلمانوں پر طنز کیا کہ یہ تو مدینے میں رہ کر کمزور ہوگئے ہیں۔ اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ تم لوگ اپنے پنجوں کے بل اکڑ کر تیز تیز چلو تاکہ دیکھنے والوں کو رعب اور طاقت کا احساس ہو۔ یہ رمل آج بھی سنت کے طور پر پہلے تین چکروں میں کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس سے کسی کو تکلیف ہو تو یہ ممنوع ہے۔

مسجدالحرام میں تقریباً ہر نماز میں جنازے لائے جاتے تھے۔ جنازہ کے بعد لوگ تیزی سے جنازہ اٹھاکر باہر کی جانب لے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ طریق طریق بولتے جاتے تھے یعنی راستہ راستہ۔ پاکستانی حاجیوں کو عربی آئے یا نہ آئے لیکن وہ طریق طریق ضرور سیکھ لیتے ہیں۔

الرحیق المختوم

میری ہوٹل کافی آرام دہ تھی۔ میں اپنے ساتھ مولانا صفی مبارک پوری کی سیرت النبی کی معرکۃ الآراء کتاب الرحیق المختوم بھی ساتھ لے گیا تھا۔ یہ کتاب میں نے اس سے قبل پڑھی ہوئی تھی لیکن مکہ میں پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو یوں لگا کہ میں چودہ سو سال قبل کے دور میں پہنچ چکا ہوں۔ آج وہ گلیاں اور محلے تو موجود نہ تھے لیکن اس کے آثار ضرور موجود تھے۔ یہ مکہ کے پہاڑ گواہ تھے اس تاریخ کے جو یہاں پر رقم ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبو ت سے قبل کی زندگی، آپ کا صادق وامین کا لقب پانا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال تجارت کی غرض سے لے کر جانا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت خدیجہ سے نکاح کرنا۔پھر آپ کا غار حرا میں یکسوئی کے لئے جانا اور پھر فرشتے کا پہلی وحی لے کر آنا۔ وہ آپ کا قریش کو انذار کرنا اور پھر ان کے ظلم و ستم برداشت کرنا۔ وہ آپ کے چچا ابو طالب کا آپ کو سپورٹ کرنا، شعبہ بن ابی طالب میں ڈھائی سال تک مقاطعہ برداشت کرنا۔ وہ طائف کے سرداروں کو اسلام کی دعوت دینا اور پھر ا ن کا توہین آمیز سلوک جھیلنا۔ یہ سب واقعات میرے ذہن میں ایک فلم کے مناظر کی طرح چل رہے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دراصل ایک نئے دور کا پیش خیمہ تھی۔ آپ کی بعثت کے ساتھ ہی آخری مرتبہ خدائی عدالت دنیا میں لگی تھی۔ اس سے قبل کئی رسولوں کو دنیا میں بھیجا جاچکا تھا اوران رسولوں کے انکار پر اللہ کی عدالت سے موت کا فیصلہ ان کافر اقوام پر نافذ ہوچکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے موقع پر یہی پیغام قریش یعنی بنی اسماعیل کو دے دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے سوچتے سمجھتے انکار کیا تو ان کا انجام بھی قوم عاد اور ثمود سے مختلف نہ ہوگا۔

تیرہ سالہ مکی دور کی جدوجہد کے نتیجے میں نبی کریم پر چند ہی لوگ ایمان لائے۔ بعد میں مدینے کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا اور آ پ نے مدینے ہجرت کی جہاں آپ نے ایک ریاست کی بنیاد رکھی۔مدینے میں قیام کے دس سال کے دوران اسلام عرب پر چھاگیا اور یوں ایک ایسی امت تیار ہوگئی جس نے رہتی دنیا تک پیغمبروں کا کام کرنا اور لوگوں کو شیطان کے رغبات سے دور کرکے رحمان کی جانب بلانا تھا۔

حج اور آج کے مسلمان

ابتدا میں تو مسلمانوں نے پوری دنیا کو خدا کی وحدانیت سے روشناس کرایا اور انہیں آخرت میں کامیابی کا پیغام خوش اسلوبی سے پہنچایا۔ لیکن آہستہ آہستہ مسلمانوں کی اکثریت شیطان اور نفس امارہ کے مقابلے میں شکست کھانے لگی۔آج چودہ سو سال بعد یہ حالت ہے کہ غیرمسلم دنیااس وقت الحاد، شرک، انکار آخرت، مادہ پرستی، جنسی بے راہروی، معاشی فساداورقتل و غارت گری جیسے گناہوں میں مبتلا ہے۔ ان تمام مسائل کا واحد علاج اسلام کی دعوت ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ آج کے مسلمان جو معالج کی جگہ پر تھے خود ہی اخلاقی و روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔ جنہیں تعلیم دینا تھی خود ہی مغربی فلسفے سے مرعوب ہوگئے، جنہیں اسلامی تہذیب دنیا میں پھیلانی تھی خود ہی اغیار کی تہذیب کے خوگر ہوچلے۔

آج مسلمانوں کی اکثریت ظاہر پرستی کا شکار ہے۔ ان کی اکثریت خدا کو مانتی ہے لیکن رسمی طور پر، آخرت کا عقیدہ رکھتی ہے لیکن زبانی حد تک۔اس امت کی اکثریت نے قرآن کو سمجھنا چھوڑ دیا ، نماز کو ترک کردیا، زکوۃ سے جان چھڑانے کے حیلے اختیار کئے،روزے کی روح سے محروم ہوگئے اور حج کو ظاہری رسومات کا مجموعہ بنالیا۔

دوسری جانب ہماری اخلاقی حالت بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ چنانچہ فقہی یا سیاسی اختلاف پر تکفیر اور قتل کردینا ایک عام سی بات ہے۔ فرقہ بندی، حسد، نفرت، تشدد، جھوٹ، غیبت، بہتان ، فحش کلامی اور بدگوئی معمول ہے۔ اسی طرح سود خوری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اورناجائز منافع خوری ہمارے معاشی نظام کے اجزا ہیں۔ سیاسی میدان میں دھوکہ دہی، بدعنوانی، مفاد پرستی، لوٹ مار اور اقربا پروری کی مثالیں عام ہیں۔

کم وبیش یہی مناظر پوری مسلم دنیا میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ آج مسلمانوں کی ایمان و اخلاق کی بگڑی ہوئی حالت کی بنا پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ شیطان کا پلہ بھاری ہے۔ ایک طرف تو اس نے غیر مسلم دنیا میں بگاڑ پیدا کررکھا ہے تو دوسری جانب اس بگاڑ کو دور کرنے والے داعیوں کو بھی اپنے دام فریب میں الجھالیاہے۔ لیکن خدا کے چنے ہوئے بندے ہر دور میں موجود رہے ہیں جنہوں نے فساد کی فضا میں اپنے ایمان و عمل کی حفاظت کی اور خود کو طاغوتی یلغار سے محفوظ رکھا۔ یہی لوگ اصل میں وہ لوگ ہیں جن کے لئے اس دنیا کی سیج سجائی گئی اور جنت کے انعامات مخصوص کردئے گئے۔ انہی بندوں پر آج دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے امت مسلمہ کے داخلی بگاڑ کو درست کرنا ہے اور دوسری جانب غیر مسلم دنیا کو بھی اسلام کا پیغام حکمت و دانائی کے ساتھ پہنچانا ہے۔

حج اس داخلی و خارجی اصلاح کا نکتہ آغاز ہے۔حج کا بنیادی مقصد انسان کوروحانی تطہیر کا ایک موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنی اصل فطرت پرلوٹ آئے اور جنت کی شہریت کے قابل ہوجائے۔ یہ حج مختلف عبادات کا ایک جامع پیکیج ہے جوتزکیہ نفس کے لئے اکسیر ہے۔ اس پیکیج میں نماز ، انفاق ، ہجرت، بھوک و پیاس، مجاہدہ، جہاد، زہد و درویشی ،قربانی، صبر، شکر سب شامل ہیں۔ دوسری جانب حج کے ذریعےمسلمان اسلام کے مرکز ، تاریخ اور شعائر سے آگاہ ہوتے اور اپنے آباء حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی قربانیوں سے روشنا س ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ حج شیطان کے خلاف جنگ کا ایک علامتی اظہار ہے۔ بندہ اپنے رب کی رضا کے لئے دنیا کی زینت کو خود پر حرام کرلیتا ہے۔ وہ اپنا میل کچیل دور نہیں کرتا، ناخن نہیں کاٹتا، جائز جنسی امور سے گریز کرتا ، مختصرلباس زیب تن کرتا، برہنہ پا اور ننگے سر ہوکرروحانی مدارج طے کرتا اور خدا کا تقرب حاصل کرتا ہے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتا جب تک وہ اپنے ازلی دشمن یعنی شیطان کو شکست سے دوچار نہ کردے۔

حج کا اصل فلسفہ تو یہی تھا کہ مسلمان اپنے ایمان و اخلاق کا جائزہ لیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اپنی اصلاح وتربیت کریں اور پھر خدا کا پیغام پوری دنیا تک انسانوں کو پہنچائیں۔ اس طرح وہ خود بھی اس جنگ میں سرخرو ہوجائیں گےاور اپنے غیر مسلم بھائیوں کو بھی طاغوت کے فریب سے نکال دیں گے۔ لیکن افسوس آج کے مسلمان حج کو ایک فقہی حکم کے طور پر ادا کرنے آئے تھے اوران کی اکثریت حج کی روح سے نابلد تھی۔انہیں حج کے ظاہری مسائل کے بارے میں تو خوب تربیت دی گئی تھی لیکن حج کی روح اور فلسفے پر بہت کم علم فراہم کیا گیا تھا۔

رفث ، فسوق اور جدال

حج کے بارے میں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ہدایات دیں جن میں سب سے اہم ہدایت اس آیت میں ہے:

الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی فسق وفجور،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِ حج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاؤ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔(البقرہ ۱۹۷:۲)

اس آیت میں واضح طور پر تین باتوں سے منع کیا گیا ہے جن میں پہلی ہدایت یہ ہےکہ رفث نہ ہو۔ رفث شہوانی باتوں کو کہتے ہیں۔ جنسی امور دو طرح کے ہوتے ہیں جائز اور ناجائز۔ حج کے دوران نہ تو کوئی جنسی عمل یعنی جماع کی اجازت ہے اور نہ ہی جنسی بات چیت کی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حج جہاد کی ایک شکل ہے اور جہاد میں اصل مقصد اپنے دشمن کو شکست سے دوچار کرنا ہے نہ کہ جنسی معاملات سے لذت حاصل کرنا۔ اس قسم کی کوئی بھی کوتاہی انسان کو اپنے اصل مقصد سے ہٹادیتی ہے۔

دوسری بات جس سے منع کیا گیا وہ ہر قسم کا چھوٹا اور بڑا گنا ہ۔ یوں تو گناہ ویسے ہی ممنوع ہے لیکن حرم میں یہ بدر جہ اولیٰ منع ہے۔ حج میں گناہ کا جان بوجھ کر ارتکاب ایسا ہی ہے جیسے کوئی فوجی پیٹھ پھیر کر میدان جنگ سے فرار ہوجائے اور اسی پر بس نہ کرے بلکہ دشمن کی فوجوں میں شامل ہوجائے۔ حج کا مقصد خدا کی غلامی کا تقاضا پورا کرتے ہوئے طاغوتی محرکات کو شکست دینا ہے لیکن جب کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ خدا کی بندگی سے نکل کر طاغوت کی یلغار کا شکار ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ابلیس کو شکست دینے کے لئے لازم ہے کہ خدا کی ہر چھوٹی اور بڑی نافرمانی سے حتی المقدور گریز کیا جائے۔

تیسری چیز جس سے روکا گیا وہ لڑائی جھگڑا ہے۔ اس میں ہر وہ عمل شامل ہے جو یا توبذات خود لڑائی ہو یا کسی فساد کا سبب بنے۔ جدال سے مرادزبانی لڑائی، بدتمیزی، بدگوئی اور ہاتھا پائی ہے۔ لڑائی کے اساب میں ایذا رسانی ، طنزو تشنیع ، دھکے بازی، بے احتیاطی سے طواف کرنا، بدگمانی ، بہتان ، تکبر وغیر ہ شامل ہیں۔ان سب سے گریز لازمی ہے ورنہ حج کے ثمرات حاصل کرنا مشکل ہے۔

یہ آیت میں نے اس قبل بھی کئی مرتبہ پڑھی تھی لیکن سمجھ میں اس وقت آئی جب حرم پہنچا۔ ان تینوں گناہوں کے مواقع بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے مختلف رنگ اور نسل کے مسلمان حاضر ہوتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر شام ، لبنا ن اور مصر کے لوگ غیر معمولی طور پر حسین ہوتے ہیں۔اس تنوع اور ظاہری حسن کی بنا پر بدنگاہی کا پورا امکان موجود ہوتا ہے۔ دوسری جانب لوگوں کی جائز جنسی ضروریات پر بھی پابندی کی بنا پر صنف مخالف میں کشش بڑھ جاتی ہے۔ نیز مطاف میں عورت اور مرد ایک ساتھ طواف کررہے ہوتے ہیں جس سے ایک دوسرے سے جسمانی طور پر بچنا بعض اوقات دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ سارے عوامل شہوت کو ابھارنے میں معاون ہوسکتے ہیں اس لئے پہلے ہی حکم دے دیا کہ جائز و ناجائز جنسی عمل سے متعلق ایک لفظ بھی زبان پر نہ آئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب خیالات میں پاکیزگی اختیا ر کی جائے اور یکسو ہو کر حج کے فلسفے پر عمل کیا جائے۔

جہاں تک عام زندگی کا تعلق ہے تو مسلمان بالعموم مختلف گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں لیکن حج ایک تزکیہ اور تربیت کا عمل ہے۔ چنانچہ یہاں اپنے آپ کو ہر قسم کے گناہ سے بچانا، آئیندہ کے لئے تربیت حاصل کرنا اور اسے ترک کرنے کا عزم کرنا لازمی ہے۔ اسی بنا پر ہر قسم کے گناہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ حج میں عام طور پر لوگ جن گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ا ن میں زبان کے گناہ یعنی جھوٹ، غیبت، بہتان، بدزبانی،لغو باتیں ، گستاخانہ مکالمے وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح لوگ غیر قوم کے لوگوں کی زبان اور باڈی لینگویج نہ سمجھنے کی بنا پر بدگمانی، ٹوہ لینا، حسد، نفرت، کینہ وغیر ہ جیسے گناہوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ طواف کے دوران دھکے دینا ، حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئےلوگوں کو ایذا دینا ، راستے میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجانابھی بہت عام گناہ ہیں۔ نیز بازاروں میں اسراف کرنا، اللہ کی یاد کی بجائے شاپنگ میں وقت ضائع کرنا، خاص طور پر فجر کی نماز ترک کرنا بھی چند اور غیر مطلوب کام ہیں۔ سب سے اہم گناہ اللہ کے شعائر کی بے حرمتی کرنا ہے۔ اس میں مسجدالحرام میں بلاوجہ شور شرابہ ، ہنسی مذاق، طواف میں بے ادبی، صفا مرو ہ کی تکریم نہ کرنا اور ان جگہوں کو پکنک پوائنٹ کے طور پر استعمال کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب سے بچنے کے لئے تعلیم اور تربیت دونوں کی ضرورت ہے۔

مکہ میں معمولات زندگی

مکہ میں قیام کی ابتدا میں ہی گلا خراب ہوگیا جوکہ یہاں ایک معمول کی بات تھی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ماسک لگا کر پھر رہے ہیں۔ ان دنوں میں سوائن فلو پھیلا ہوا تھا اور پاکستان سے بھی بہت سے لوگ اسی خدشے کی بنا پر حج کرنے نہیں آئے تھے۔ میرا یہ معمول تھا کہ تمام نمازیں حرم میں پڑھتا اور دن میں دو سے تین مرتبہ طواف بھی کرتا تھا۔ ابتدا میں رش اتنا نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ رش بڑھتا جارہا تھا۔

سردی اور کثرت طواف کے باعث میرے پاؤں پھٹ چکے تھے چنانچہ میں نے پہلی مرتبہ چمڑے کے موزے پہنے۔لیکن وہ موزے سلپری تھے۔ ایک مرتبہ میں یہی موزے پہن کر طواف کررہا تھا کہ اچانک سلپ ہوگیا۔ برابر چلنے والی ایک پاکستانی بوڑھی خاتون نے بسم اللہ کہہ کر مجھے پکڑ لیا اور گرنے سے بچالیا۔

ایک اور واقعہ طواف میں یہ پیش آیا کہ میری بیوی نے خواہش ظاہر کی کہ حطیم میں نماز پڑھنی ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ نہ مانیں۔ چنانچہ جب میں انہیں حطیم کے قریب لے کر گیا تو ان کا دم رش کی بنا پر گھٹنے لگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ البتہ رکن یمانی کو چھونے کی خواہش ظاہر کی۔ میں جب انہیں لے کر رکن یمانی کے قریب پہنچا تو پیچھے سے ایک ریلا آیا اور میں اپنی بیوی سمیت آگے موجود عرب میاں بیوی پر جاگرا۔ انہوں نے شکایتی نظروں سے مجھے دیکھا لیکن میں نے جب اپنی باڈی لینگویج سے اپنا عذر پیش کیا تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔

طواف کے دوران میں نے ایک مثبت بات نوٹ کی کہ لوگ ایک دوسرے کو جان بوجھ کر دھکا دینے سے گریز کرتے تھے۔ البتہ کچھ لوگ بلاوجہ چلتے ہوئے آگے والے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے اور اپنا بوجھ دوسرے پر منتقل کرنے کی کوشش کرتے جس سے بڑی الجھن ہوتی تھی۔

مسجد الحرام میں خاکی وردی والے شرطے (عربی میں شرطہ پولیس کو کہتے ہیں) اور برقع پوش خواتین خدام حرم کی صورت میں تعینات تھے۔ یہ لوگوں کو راستے میں بیٹھنے سے روکتے اور کسی بھی ناخوشگوارواقعے سے نبٹنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص کو شرطے پکڑ کر لے جارہے ہیں۔ یہ غالبا کسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔ لیکن اس دوران کوئی بدنظمی نہیں ہوئی اور لوگ طواف میں مصروف رہے۔ ایک صاحب کو طواف کرتے دیکھ کر رشک آنے لگا۔ یہ صاحب دونوں ٹانگوں سے محروم تھے اور گھسٹ کر طواف کررہے تھے۔ حالانکہ وہاں وہیل چئیر کی سہولت موجود تھی لیکن انہوں نے اپنے جسم کو اللہ کی راہ میں ڈال کر طواف کرنا پسند کیا۔

مسجد میں نماز کے دوران تو مکمل خاموشی رہتی تھی لیکن نماز کے بعد ہر وقت مسلسل شور ہوتا رہتا۔ اس کی بڑی وجہ لوگوں کا باتیں کرنا تھا۔ اس شور کی بنا پر یکسوئی میسر نہ آتی تھی۔ اسی یکسوئی کو حاصل کرنے کے لئے میں حرم میں رات ڈھائی بجے بھی گیا لیکن شور میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی۔

مسجد میں جگہ جگہ آب زم زم کے کولر رکھے تھے جن میں ٹھنڈا اور گرم پانی تھا۔ طواف کے بعد اکثر پیاس زیادہ لگتی تھی جس سے لوگ ٹھنڈا پانی پیتے اور اپنا گلا زیادہ خراب کرلیتے تھے۔ میں نے یہ احتیاط کی کہ پانی ملا کر پیوں۔ کچھ لوگ زم زم کے کولر ہی سے وضو کرنے لگ جاتے تھے۔ وہاں کےخدام انہیں منع کرتے لیکن لوگ پھر بھی باز نہ آتے۔ وہاں صفائی کا نظام بہت شاندار دیکھا۔ عین طواف کے دوران صفائی ہوتی رہتی تھی اور یہ کام مسلسل جاری رہتا۔

قیام کے دوران اکثر دوستوں کا پاکستان سے فون آجایا کرتا تھا جن میں الطاف، صبیح، مفتی طاہر عبداللہ، طاہر کلیم اور پرویز صاحب سر فہرست تھے۔ یہ حضرات اکثر اپنے لئے دعاؤں کا کہتے اور میں یاد سے ان تمام لوگوں کے لئے دعائیں مانگتا۔ایک ہفتے کے بعد ایک اور عمرہ بیگم کے ساتھ ادا کیا۔ عمرے کے لئے ایک ٹیکسی مسجدعائشہ جانے کے لئے ۳۰ ریال میں حاصل کی۔ اس میں دانش اور یاسر بھی میرے ساتھ تھے۔ مسجد عائشہ جاکر عمرے کی نیت کی اور پھر واپس ہوکر عمرہ اور سعی کی۔

دوسرے عمرے کے بارے میں فقہا کا اختلاف ہے۔ اہل حدیث حضرات کا کہنا ہے کہ یہ خلاف سنت ہے کیونکہ نبی کریم نے ایک سفر میں ایک ہی عمرہ ادا کیا حالانکہ انہوں نے مکے میں ۱۵ دن سے زائد بھی قیام کیا۔ دوسر ی جانب احناف اس حدیث سے استدلا ل کرتے ہیں جس میں حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت عائشہ عمرہ اد انہ کرپائی تھیں اورمخصوص ایام سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے عمرہ ادا کرنے کی کی خواہش ظاہر کی تو نبی کریم نے انہیں تنعیم کے مقام پر جاکر احرام باندھنے اور عمرہ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ وہی تنعیم ہے جہاں آ ج مسجد عائشہ موجود ہے۔

حرم چاروں طرف سے بازاروں اور ہوٹلوں سے گھرا ہوا تھا۔ لوگ نمازوں سے فارغ ہوکر اپنا زیادہ وقت یہیں گذارتے تھے۔ دراصل لوگوں کی تربیت نہیں ہوئی تھی کہ کس طرح اللہ سے تعلق قائم کیاجاتا ہے؟ کس طرح اس سے مناجات کی جاتی، کیسے اس کے تصور میں کھویا جاتا اور کس طرح سے اپنے معاملات اس کے سپرد کئے جاتے ہیں۔

حج کے اس سفر کا بنیادی مقصد آخرت کی فلاح تھا لیکن لوگ دنیا سے نکلنے کو تیار نہ تھے۔ نماز، طواف اور تلاوت کے علاوہ باقی دنیا ہی دنیا تھی۔ دعائیں بھی اسی دنیا کی ترقی کے لئے مانگی جاتی تھیں۔ حرم کے باہر یہی دنیا منہ کھولے کھڑی تھی اور سرماِ یہ آخرت کی بجائے دنیاوی سامان کی خریداری زورو شور سے جاری تھی۔ ہمارے گروپ کی تربیتی کلاسوں میں نہ صرف حج کے مناسک کے بارے میں بتایا گیا تھا بلکہ غیبت، جھوٹ، چغلی ، ایذارسانی اور دیگر اخلاقی برائیوں سے بھی آگاہ کیا گیا اور ان سے بچنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ ان کی بنا پر گروپ کے لوگ بالعموم ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے اور ظاہر کے ساتھ اپنا باطن بھی درست رکھنے کا اہتما م کررہے تھے۔

ان طوافوں کے دوران میں نے ایک بات نوٹ کی وہ یہ کہ جو جوش ولولہ اور کیفیت ابتدائی دنوں میں تھی اس میں کمی آرہی تھی۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں اللہ سےدور ہورہا ہوں۔ لیکن پھر ایک عارف کی بات یاد آئی کہ کیفیت تو آنی جانی شے ہے۔ اصل مقصود تو اللہ کی عبادت اور اطاعت ہے۔ اگر یہ ہو تو کیفیت کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ اکثر لوگ جذباتیت اور رقت ہی کو تعلق باللہ کی علامت سمجھتےہیں اور جب یہ کم ہونے لگتی ہے تو خودبھی عبادت میں کمی یا اسے ترک کردیتے ہیں۔ حالانکہ کیفیت کا ہونا یا نہ ہونا دونوں آزمائش ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ میرا بندہ میرے لئے عبادت کرتا ہے یا دل کی لذت و کیفیت کے لئے۔

میرا روم میٹ یاسر ایک ۳۰ سالہ نوجوان تھا۔ وہ روزانہ صبح اٹھتا اور ایک عمرہ کرکے آجاتا۔ جبکہ ہر نماز کے بعد ایک طواف اس کا معمول تھا۔ میں ایک دن میں تین طواف ہی کرپاتا کیونکہ گروپ لیڈر نے ہدایت کی تھی کہ حج سے پہلے توانائی بچائی جائے اور کسی بھی غیر ضروری تھکن سے بچا جائے تاکہ حج کے مناسک پر کوئی اثر نہ پڑے۔

ہوٹل میں صبح کا ناشتہ فری ہوتا تھا جبکہ باقی اوقات کا کھانا باہر کھانا پڑتا تھا۔ وہاں سالن کے ساتھ روٹی فری تھی۔ ایک پلیٹ میں دو افراد باآسانی کھا لیتے تھے۔ ایک دو مرتبہ برگر کھانے کا بھی اتفاق ہوا لیکن وہ زیادہ پسند نہ آیا۔۸ نومبر کو میرے ہم زلف آفتاب جدہ سے مکہ ملنے کے لئے آئے۔ جدہ سے تمام راستوں پر سخت چیکنگ تھی اور کسی کو مکہ آنے نہیں دیا جارہا تھا لیکن آفتاب کسی نہ کسی طرح مکہ میں داخل ہوہی گئے۔ آفتاب کے ساتھ وہاں کی ایک مقامی ڈش مندی بھی کھائی جس میں چاول کے ساتھ گوشت بھی شامل تھا۔ آفتاب کے علاوہ دیگر رشتے داروں سے بھی ملاقات ہوئی ان میں میرے رشتے کے چچا رشید انکل بھی تھے۔ وہ امریکہ میں قیام پذیر ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ حج کرنے آئے ہوئے تھے۔

کعبہ کا دیدار اور صفات الٰہی

مکہ میں قیام کے دوران میرا معمول تھا کہ میں اکثر بیٹھ کر کعبے کو دیکھتا رہتا کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ کعبہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ جب میں نے غور کیا تو اس حکم کا فلسفہ سمجھ میں آگیا۔میں نے جب بھی کعبہ کو دیکھا تو مجھے اللہ کا جمال، جلال اور کمال نظر آیا۔

کعبہ کے دیدا ر میں اللہ کی رحمت مطلق کی شبیہ دکھائی دیتی کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کتنے مہربان، شفیق، نرم دل اور سخی اور ہیں انہوں نے انسان کو وجود بخشا، اسکی فطرت میں خیر و شر کا شعور ودیعت کیا ، اس کی راہنمائی کے لئے وحی کا سلسلہ شروع کیا اور پھر کعبے کی صورت میں اپنا گھر تعمیر کردیا کہ جسے خدا سے محبت ہے وہ کعبے کے دیدار سے اپنی نگاہوں کو سیر کرلے۔

میں اکثر بیٹھا خدا کی رحمت کے بارے میں سوچتا رہتا کہ اس نے مخلوقات کو پیدا کیا ، ان میں تقاضے پیدا کئے اور پھر ان تقاضوں کو انتہائی خوبی کے ساتھ پورا کرتے ہوئے اپنی رحمت، لطف اور کرم نوازی کا اظہار کیا۔چنانچہ اس دیدار کے دوران کبھی خدا مجھ پر محبت اور شفقت نچھاور کرتا نظر آتاتو کبھی وہ میری باتیں سنتا، میری غلطیوں پر تحمل سے پیش آتا، خطاؤں سے درگذر کرتا ، میری حقیر نیکی کی قدر دانی کرتا اور مجھے بے تحاشا نوازتا دکھائی دیتا۔ یہی نہیں بلکہ جب بھی میں مشکل میں گرفتا ر ہوا تو وہ میرے لئے سراپا سلامتی ،پناہ کی چٹان اور ہدایت کا نور بنتا محسوس ہوتا۔

لیکن اسی رحمت مطلق کے ساتھ ساتھ مجھے کعبے میں خدا کے جلا ل کا اظہار بھی نظر آتا۔ اس میں مجھے کائنات کے بادشاہ کا جلا ل و عظمت دکھائی دیتی جو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے،جو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔جو مقتدر اور بااختیار حاکم ہے، جو اپنی مخلوق پر ہر قسم کا تصرف رکھتا اور اپنی سلطنت کے ایک ایک پتے اور ہر ذرے پر مکمل اقتدار کا حامل ہے۔ اس دنیا کے ٹٹ پونجئیے صدور اور بادشاہ کے دربار میں لوگ جب جاتے ہیں تو زبانیں گنگ ہوجاتی، حلق خشک اور قدم لرزتے ہیں کہ کون سی بات حضور کو ناگوار گذر جائے اور میرا قصہ پاک ہوجائے۔ چنانچہ جب مجھے اس بادشاہوں کے بادشاہ کی قہاری عظمت اور بزرگی، بڑائی، شان اورشوکت کا تصور آتا تو ایک سنسنی اور خوف کا احساس ہوتا کہ کس ہستی کے محل میں بیٹھا ہوں۔ اس احساس کے باعث میں لرز جاتا اور دل میں انتہائی خشیت ، پستی اور تذلل کا احساس ہوتا۔ لیکن پھر میں اسی کی رحمت کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتا۔

کعبے کا تفرد خدا کی یکتائی اور کمال کا بھی اظہار تھا کہ خدا اپنی ذات میں تنہا اور اکیلا ہے اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنی صفات میں بھی یکتا و یگانہ ہے۔ وہ قدوس ہے یعنی ہر نقص، عیب، برائی سے پاک اور منزہ۔ ہر ظلم، ناانصافی، بدیانتی ، بے حکمتی ، جذبات کی مغلوبیت اور ہر غلط صفت یا فعل سےمبرا۔ وہ ممدوح، ستودہ، پسندیدہ اور قابل تعریف ہستی ہے۔

کعبے کا دیدار خدا کے گھر کا دیدار تھا۔ اور جب کوئی چاہنے والا اپنے محبوب کی چوکھٹ پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے دیگر لوگ بھی کعبے کے دیدار میں مشغول رہتے اور اپنے رب کے جمال ، جلال اور کمال کو محسوس کرتے تھے۔ ان کا دل یہی دعا کر رہا ہوتا تھا:

"اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری لونڈی کا بیٹا ہوں اور مکمل طور پر تیرے قبضہ میں ہوں۔ میری پیشانی کے بال تیرے ہاتھ میں ہیں تیری مدد کے بغیر مجھے حرکت و سکون کی قوت بھی حاصل نہیں۔ تیرے حکم کو کوئی روکنے والا نہیں۔ جو تو کہتا اور چاہتا ہے وہی ہوتا ہے میرے بارے میں تیرا فیصلہ سراپا عدل و انصاف ہے۔ پس میں تجھ سے ہر نام کے وسیلہ سے مانگتا ہوں جسے تو نے اپنی ذات کے لئے اختیار کیا ہے یا اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اس کو اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھایا ہے کہ تو مجھے کامل طور پر اپنی غلامی میں لے لے اور مجھے غلامی کے آداب سکھا کر کامیابی سے ہمکنار کردے"۔

مقدس مقاما ت کی زیارت

کچھ دنوں بعد ہمیں مقدس مقامات کی زیارت پر لے جایا گیا۔ دو بسوں میں ہمارے گروپ کے تمام افراد سماگئے۔ سب سے پہلے غار ثور کو دور سے دیکھا۔ یہ انتہائی بلندی پر واقع تھی۔ اس غار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ پناہ لی تھی۔ یہ غار مدینے جانے والے راستے کی مخالف سمت تھی۔ روایات کے مطابق درالندوہ یعنی پارلیمنٹ میں قریش کے سرداروں نے مل جل کر فیصلہ کرلیا کہ تمام قبیلے ایک ساتھ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں۔ اس طرح بنو ہاشم یعنی نبی کریم کے قبیلے کے لئے سب سے بدلہ لینا ممکن نہ ہوگا اور وہ دیت پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اس پلاننگ کے بعد سب مخالفین نے آپ کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہیں۔ چنانچہ اللہ نے اس گھناؤنی سازش سے بچانے کا پہلے ہی اہتمام کردیا تھا۔ آپ نے اپنے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلادیا اور خود کفار کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ان کے سامنے سے نکل گئے اور کوئی آ پ کو نہ دیکھ پایا۔

آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مدینے جانے والے راستے کی مخالف سمت چلے اور اس غار میں پناہ لی۔ یہ غار انتہائی پرخطر اور پتھروں سے بھرا ہوا تھا جس کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں بھی زخمی ہوگئے۔ یہاں نبی کریم نے تین راتیں چھپ کر گذاریں۔ اس غار کے ارد گردحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ بکریاں چراتے رہتے اور جب رات ہوجاتی تو انہیں بکریوں کا دودھ پلاتے۔ ایک مرتبہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غار کے باہر چند آدمیوں کے پاؤں دیکھے تو انہوں نے آپ سے اس تشویش کا اظہار کیا۔ لیکن آپ نے کمال کے توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابو بکر تمہارا ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو۔

غار ثور کے بعد اگلا مقام غار حرا دیکھا۔ یہ وہ غار تھا جہاں نبوت سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ غار مکہ سے دو میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک مختصر سا غار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دو گز ہے۔ غار حرا کا رخ کچھ اس طرح کا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کعبہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں آپ ستو اور پانی لے کر قیام کرتے، آنے جانے والے مسکینوں کو کھانا کھلاتے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اسی غار میں آپ کی ملاقات جبریل امین علیہ السلام سے ہوئی جنہوں نےپہلی مرتبہ آپ کے قلب پر اللہ کی آیات القا ء کیں۔

آگے چلے تو میدان عرفات دیکھا۔ یہ وہ میدان ہے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا جاتا ہے۔ حاجی کے لئے اس میدان میں نو ذی الحج کو زوال کے بعد قیام کرنا لازمی ہے اور اگر کسی وجہ سے ایسا نہ ہوپائے تو حج نہیں ہوتا۔ یہ ایک بہت بڑا میدان ہے جو نوذی الحج کو لاکھوں حاجیوں کو سمونے کی گنجائش رکھتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حشر بھی اسی میدان میں واقع ہوگا۔یہیں وہ عظیم پہاڑ جبل رحمت بھی واقع ہے جس کے دامن میں آپ نے اپنا مشہور خطبہ حجۃ الوداع خطاب فرمایا تھا۔

عرفات کے ساتھ ہی منیٰ کی وادی بھی دیکھی۔ یہ وادی خیموں سے پٹی ہوئی تھی۔ ان خیموں میں حجاج ۸ ذی الحج اور پھر دس ، گیارہ اور بارہ ذی الحج کو قیام کرتے ہیں۔ بس میں گائیڈ ہمیں راستوں کے بارے میں بتا رہا تھا کیونکہ حج کے دنوں میں ہمیں بھی یہیں آنا تھا۔ منیٰ سے متصل جمرات کو بھی دور سے دیکھا جہاں کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اسی راستے پر اسمٰعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کی جگہ بھی دیکھی جہاں نشانی کے طور پر سفید پتھر نصب کیا گیا تھا۔

عزیزیہ میں شفٹنگ

زیارت کے بعد یکم ذی الحج کو ہم حرم کے قریب واقع ہوٹل سے عزیزیہ کے مقام پر شفٹ ہوگئے۔ عزیزیہ کعبے سے پانچ کلومیٹر دور ہے اور اس کے قریب منیٰ اور جمرات واقع ہیں۔ یہ ہوٹل السرایا ایمان کی طرح شاندار تو نہ تھا البتہ صاف ستھرا تھا۔ اسی بلڈنگ میں الخیر گروپ کے لوگ بھی ٹہرے ہوئےتھے۔ اس بلڈنگ میں تبلیغی جماعت کے لوگ آکر بیان دیتے تھے اور ایک مرتبہ سعید انور صاحب نے بھی بیان کیا۔ اس ہوٹل سے کچھ ہی دور مولانا طارق جمیل ، جنید جمشید اور دیگر اہم شخصیات قیام پذیر تھیں۔

اس سے پہلے جس ہوٹل میں قیام تھا وہاں ایک کمرے میں تین افراد ہی مقیم تھے جس کی بنا پر لوگوں سے ملاقات کا کم وقت ملتا تھا۔ لیکن یہاں ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں کوئی آٹھ افراد قیام پذیر تھے اور لوگوں سے رابطہ بڑھ گیا۔ یہاں پر شارق، ریحان عابد اور دیگر لوگوں سے بھی دوستی ہوگئی۔ جبکہ میرا دوست آصف بھی برابر والے کمرہ میں مولانا اسلم شیخوپوری کے ہمراہ موجود تھا۔یہاں لدھیانوی ٹریولرز نے تین وقت کا کھانا بھی دینا شروع کردیا حالانکہ یہ پیکیج کا حصہ نہ تھا۔یہاں معمول یہ تھا کہ مولانا اسلم شیخوپوری فجر کے بعد اپنا بیان دیتے جس میں حج کے بارے میں ہدایات دی جاتی تھیں۔ اس بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر ایک حصہ مسجد کے لئے مختص کردیا گیا تھا جہاں ہر نماز کے بعد تبلیغی جماعت والوں کا بیان ہوتا تھا جس میں حج کے فضائل بیان کئے جاتے تھے۔

عزیزیہ کا علاقہ سیاہ پہاڑوں کی آماجگاہ تھا۔ ارد گرد بے شمار حاجی رکے ہوئے تھے۔ بلڈنگ سے ایک گلی چھوڑ کر ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں کے امام عرب تھے اور انکی قرات بہت خوبصورت تھی۔ قریب آدھے میل دور ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹور بن داؤد بھی تھا جہاں اکثر چیزیں خریدنے کے لئے جانا ہوا۔ عزیزیہ چونکہ مسجد الحرام سے دور تھا اس لئے اکثر نمازیں یہیں ادا کرنی پڑتیں۔

چپلیں

یہاں سے ایک شٹل سروس بھی چلتی تھی جو لوگوں کو حرم لے کر جاتی اور آتی تھی۔ عزیزیہ منتقل ہونے کے دوسرے دن میں آصف اور ان کے دو دوستوں کے ہمراہ شٹل میں بیٹھ کر حرم کی جانب روانہ ہوا۔ راستے میں بس خراب ہوگئی چنانچہ راستہ پیدل طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عصر کی نماز قریب تھی چنانچہ تیز تیز قدموں سے مسجد پہنچے جہاں چھت پر جگہ ملی۔میرے پاس چپل رکھنے کے لئے کوئی تھیلی نہ تھی البتہ راستے سے ایک تھیلی اٹھائی اور اس میں اپنی اور آصف کی چپلیں رکھ لیں۔ عصر کی نماز کے قریب آدھے گھنٹے بعد تک وہیں بیٹھے رہے پھر طواف کرنے کے لئے نیچے اترے۔ مجھے علم نہیں تھا کہ واپسی کا راستہ کس طرح طے کرنا ہے اس لئے میں نے دانش کو بتادیا تھا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں گا۔ عصر کے بعد ایک طواف کیا۔مغرب اور عشاء پڑھی اور پھر ایک اور طواف کیا۔

آصف مجھ سے جدا ہوچکا تھا لیکن اس کی چپلیں میرے پاس تھیں۔ ہم نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ جدائی کی صورت میں باب عزیز کے پاس جو گھنٹہ گھر ہے وہاں ملاقات کرنی ہے۔ چنانچہ میں وہاں پہنچ گیا لیکن وہاں بے پناہ رش تھا۔ میں نے آصف کو کال کی لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے کالز کا سلسلہ جاری رکھا لیکن کوئی رابطہ نہ ہوپایا۔ اسی اثنا میں دانش کو فون کیا تو پتا چلا کہ وہ نکل چکا ہے اور بس کے اسٹاپ پر موجود ہے۔ میں گھبراگیا۔ ایک جانب آصف سے رابطہ نہیں ہورہا تھا اور وہ ننگے پاؤں تھا تو دوسری جانب بس نکل رہی تھی جو غالبا آخری بس تھی۔اب میرے پاس دو راستے تھے۔ یا تو میں وہیں کھڑا رہ کر آصف کا انتظار کروں جس کے آنے کا کوئی علم نہ تھا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ دانش کے پاس چلا جاؤں اور آصف کو راستہ بھی گائیڈ کروں کیونکہ امکان تھا کہ وہ چپلیں قریب بازار سے لے لےگا۔ چنانچہ میں نے دانش کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔

جب میں بس میں بیٹھ کر روانہ ہوا تو آصف کا فون آگیا لیکن میں نکل چکا تھا۔ آصف بے چارہ ننگے پاؤ ں ہی راستہ طے کرکے عزیزیہ پہنچا۔ آصف کے ساتھیوں نے مجھ سے شکایت کی لیکن آصف نے میرا فیور لیا۔ بعد میں میں نے آصف سے اپنے غلط اجتہاد کی معافی مانگ لی۔

مولانا اسلم شیخوپوری سے نشست

میرے کمرے سے متصل کمرے میں مولانا اسلم شیخوپوری مقیم تھے۔ ایک دن جب وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ملاقات کی غرض سے ان کے پاس گیا۔ میں نےان سے دریافت کیا کہ اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے کیا اقدام کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ایک آہ بھری اور کہا کہ میاں یہ تو ساری زندگی کا سودا ہے، یہ اپنی زندگی کا ہر پہلو رب کے نام کرنے کا مشن ہے۔ کئی لوگ اس میدان میں آئے اور ناکام ہوگئے۔ بس اس کا حل یہی ہے کہ اپنی رضا خدا کی رضا کے تابع کردی جائے۔ میں نے ان سے کچھ تفاسیر کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے اس کےبارے میں بتایا لیکن اختلاف رائے کے باوجود کسی کی برائی نہیں کی۔ آخر میں ان کو میں نے اپنے خود احتسابی سوالنامے کا تعارف کرایا۔ وہ اس کے بارے میں سن کر بڑے خوش ہوئے اور خاصی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان پہنچنے پر اسے دیکھنے کی خواہش بھی کی۔اس پوری گفتگو میں میں نے انہیں ایک عجزو انکساری کا پیکر پایا۔

مسجد عقبہ

عزیزیہ میں فراغت کا کافی وقت ہوتا تھا اس لئے نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر ہم مٹرگشت کے لئے نکل جاتے تھے۔ وہاں سے جمرات یعنی کنکریاں مارنے کی جگہ صرف دس منٹ کی واک پر تھی۔ جمرات کے قریب ایک قدیم تاریخی مسجد دیکھی۔ اس پر پیلے رنگ کا روغن تھا اور وہ کچے گارے کی بنی ہوئی تھی۔ اس کے دروازے پر تالا تھا اور چند صفیں باہر سے منتشر حالت میں دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک تختی پر عربی رسم الخط میں کچھ لکھا ہوا تھا جو پرانا ہونے کے سبب ناقابل مطالعہ تھا۔ البتہ تختی پر خلیفہ مستنصر باللہ کا نام کندہ تھا اس سے پتا چلتا تھا کہ یہ عباسی دور کی مسجد ہے۔ جب تحقیق کی تو علم ہوا کہ اس کا نام مسجد عقبہ ہے۔ یہاں پر یثرب سے آنے والوں نےبیعت کی تھی۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ حج عرب میں ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے جاری ہے۔ چنانچہ یہ حج اس وقت بھی جاری تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت نہیں ملی تھی۔ نبوت کے بعد جب نبی کریم صلہ اللہ علیہ وسلم نے دعوت کی ابتدا کی تو حج کے موقع کا بھی بھرپور استعما ل کیا کیونکہ سارے عرب کے قبائل یہاں حج کے لئے حاضر ہوتے تھے۔کئی سالوں تک آپ حج میں تبلیغ کرتے رہے۔ ابتدا میں تو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی لیکن بعد میں مدینے سے آنے والے وفد نے نبوت کے گیارہویں سال اس دعوت پر غور کیا اور گیارہ آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ مدینے جاکر اسلام کی تبلیغ کریں گے۔

اگلے سال حج میں دوبارہ مدینے سے وفد آیا اور اس نے پہلی بیعت کی۔ یہ بیعت ایک گھاٹی پر خفیہ طریقے سے ہوئی تاکہ قریش کو کانوں کان خبرنہ ہو۔ گھاٹی کو عربی میں عقبہ کہتے ہیں اسی لئے اس بیعت کوبیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کے لئے حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی ساتھ بھیج دیا۔نبوت کے کے تیرہویں سال ایک مرتبہ پھر حج کے دنوں میں مدینے کا وفد آیا اور ایک اور بیعت ہوئی جسے بیعت عقبہ ثانی کہتے ہیں۔ یہ بیعت بھی اسی مقام پر رات کی تاریکی میں ہوئی۔ چونکہ یہ گھاٹی منیٰ کے آخری کونے پر بڑے جمرے کے سامنے واقع تھی اس لئے اس کا انتخاب کیا گیا۔اس میں نبی کریم کی ہجرت کے منصوبے کو فائنل کیا گیا۔ اسی مقام پر یہ مسجد بعد میں تعمیر کی گئی جسے مسجد عقبہ کہتے ہیں۔

خیمے کی سیر

حج کے دن قریب آتے جارہے تھے۔ میں کعبے سے دور تھا لیکن دل وہیں لگا رہتا تھا۔ درمیان میں ایک جمعہ بھی آیا۔ جسے ادا کرنے کے لئے میں شارق اور ریحان کے ساتھ مسجد الحرام روانہ ہوا۔ یہ راستہ ہم نے طریق المشا ہ یعنی پیدل چلنے والوں کے راستے کے ذریعے طے کیا۔ یہ ایک طویل سرنگ تھی جو تقریباً پون گھنٹے پیدل چلنے کے بعد مسجدالحرام پر جاکر ختم ہوتی تھی۔ وہاں پہنچے تو مسجد بھر چکی تھی اور باہر ہی جگہ ملی۔ امام صاحب نے خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔

وہاں میں نے طواف کیا جس میں غیر معمولی رش تھا۔ میں نے حسرت سے ملتزم کو دیکھا جس پر لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹے ہوئے تھے۔ وہاں مجھے مقام ابراہیم بھی نظر آیا۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ اس پتھر پر آج بھی ان کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ کچھ لوگ اس کو چومنے کی کوشش کررہے تھےاور شرطے انہیں ہٹا رہے اور سمجھارہے تھے کہ یہ چومنے کی جگہ نہیں صرف دیکھنے کا مقام ہے۔

۶ ذی الحج کو ہمارے گروپ لیڈر رافع نے بتایا کہ وہ منی ٰ میں ہمارے گروپ کا خیمہ دیکھنے جائیں گے۔ انہوں نے جوانوں کو چلنے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ روٹ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ لیکن اچانک رات میں ہمارے گروپ کے ایک بزرگ اسمٰعیل صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی۔ ان کے دونوں پاؤں سوج کر موٹے ہوگئے تھے اور ان سے بالکل بھی چلا نہیں جارہا تھا۔ ہمارے گروپ میں ایک ڈاکٹر صاحب بھی تھے۔ ان کے مشورے پر انہیں ہسپتال لے جانے کی تیاری شروع کی گئی۔ یہ ذمہ داری بھی گروپ لیڈر رافع نے انجام دی اور اسمٰعیل صاحب کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا۔

رافع کو آنے میں دیر ہوگئی اور ہم سمجھے کہ اب منیٰ جانے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے۔ بارہ بج رہے تھے اور میں سونے کے لئے لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں رافع آگئے اور انہوں نے ہمیں چلنے کے لئے کہا۔ لہٰذا میں شعیب برنی، ریحان، اسمٰعیل صاحب، دانش ، یاسر۔ شارق، عابد اور ایک اور صاحب منی کی جانب پیدل روانہ ہوئے۔ کچھ دور آگئے تو مسجد خیف دیکھی۔ یہ منیٰ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کے مینار بہت دلکش تھے۔اس کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ یہاں کئی انبیاء نے نمازیں پڑھی ہیں۔

کچھ اور دور آگے بڑھے تو منی ٰ کے خیمے شروع ہوگئے۔ ہم تیز قدموں سے چلتے رہے یہاں تک کہ سوا گھنٹے میں منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ ہمارا مکتب نمبر ۷۶ تھا جس کا خیمہ پول نمبر ۲/۵۰۸ پر واقع تھا۔ جب ہم خیمے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ ایک بڑا سا ہال نما خیمہ تھا جس میں ایک پسلی کی چوڑائی کے برابر گدے بچھے ہوئے تھے۔ اس میں ائیر کنڈیشنر بھی لگا ہوا تھا۔ اس میں قریب پچاس افراد سما سکتے تھے۔ خیمہ کے باہر باتھ رومز بنے ہوئے تھے۔

یہاں لوکیشن کو اچھی طرح دیکھ لینے کے بعد واپسی کا سفر شروع کیا اور جمرات سے گذرے تاکہ شیطان کو کنکریاں مارنے کی جگہ بھی دیکھ لیں۔ سب سے پہلے جمرہ صغریٰ یعنی چھوٹا شیطان آیا۔ کچھ آگے بڑھے تو جمرہ وسطیٰ اورآخر میں جمر ہ کبریٰ یا عقبہ (یعنی گھاٹی کا شیطان) نظر آیا۔ ہر شیطان ایک بڑی سی دیوار سے ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ دیواریں مستطیل شکل کی تھیں اور خاص پتھر سے بنائی گئی تھیں۔ہر دیوار کے نیچے چاروں طرف ایک پیالے نما گھیرا بنا ہوا تھا تاکہ کنکریاں اس میں گر سکیں۔

ماضی میں کنکریاں مارتے وقت بہت حادثے ہوئے اور کئی لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پہلے شیطان کی علامت کے لئے ستون تعمیر تھے۔ نیز کنکریاں مارنے والوں کے لئے آنے اور جانے کا ایک ہی راستہ تھا۔ چنانچہ جب لوگ کنکریاں مار کر واپس جاتے تو آنے والوں سے ٹکراؤ ہوتا اور اس مڈبھیڑ میں بھگدڑ مچ جاتی اور کئی لوگ کچلے جاتے۔ اب حکومت نے ان ستونوں کو خاصی بڑی دیوار کی شکل دے دی ہے۔ نیز آنے اور جانے کے راستے الگ کردئے گئے ہیں اور سامان لانے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح کنکریاں مارنے کے لئے تین پل بنادئے گئے ہیں اور کسی بھی پل سے رمی کی جاسکتی ہے۔

میں نے ان شیطانوں کو غور سے دیکھا تو مجھے ان دیواروں میں کوئی ابلیسیت نظر نہ آئی۔ حج کے تمام مناسک دراصل علامتی نوعیت کے ہیں چنانچہ یہ شیطان بھی کوئی اصلی نہیں بلکہ علامتی تھے۔ ان شیاطین کی معروف تاریخ یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے فرزند عزیز کو قربان کرنے کے لئے نکلے تو شیطان نمودار ہوا اور اس نے آپ کو ورغلایا اور قربانی سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آپ نے اس پر کنکریاں ماریں اور دھتکاردیا۔ آپ کچھ اور آگے بڑھے تو دوبارہ شیطان نے یہی عمل دہرایا اور آپ نے پھر اسے کنکریوں سے پرے کیا۔ تیسری مقام پر پھر شیطان نمودار ہوا اور آپ کو جھانسا دینے کی کوشش کی۔ لیکن آپ نے ایک مرتبہ پھر ابلیس کو دھتکاردیا۔ یہ کنکریاں اسی یاد میں ماری جاتی ہیں۔

جمرات سے واپسی پر تقریباً رات کے تین بج گئے۔ اگر یہ کراچی ہوتا تو اتنے پیدل چلنے کے بعد طبیعت خراب ہوجاتی لیکن یہاں طواف اور سعی کرکر کے پیدل چلنے کی عادت ہوچکی تھی۔بہرحال میں گہری نیند سوگیا اور فجر کے وقت اٹھا۔ فجر پڑھنے کے بعد دوبارہ سوگیا۔کیونکہ اگلے روز رات میں حج کی ابتدا ہونی تھی اور منیٰ کے لئے روانہ ہونا تھا۔

حج کی ابتدا

بالآخر وہ گھڑی آپہنچی جس کا انتظار تھا۔ یہ سات ذی الحج کی شب تھی۔ رات کا کھانا کھایا اور عشاء کی نماز پڑھی۔ آج کی رات منیٰ کی جانب روانگی تھی۔ میرے سب ساتھی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ میں نے بھی غسل کیا اور حج کا احرام زیب تن کرلیا۔ میرے چاروں طرف کے کمروں سے لبیک کی صدائیں آرہی تھیں۔میں بھی تلبیہ پڑھ کر ان لوگوں کی صف میں شامل ہوگیا۔

لبیک اللہم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک ، ان الحمد النعمۃ لک والملک، لاشریک لک

حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔

یہ لبیک خدا کی پکار کا جواب تھی۔ اللہ نے پکارا تھا کہ آؤ میرے بندو، میری جانب آؤ، شیطان کے خلاف جنگ میں حصہ لو ، اس کو آج شکست فاش سے دوچار کردو، اس کی ناک رگڑ دو، آج تم نے اپنا گھر بار ، بیوی بچے ، زیب و زینت سب ترک کردی تو طاغوتی رغبات سے بھی دست بردار ہوجاؤ اور تمام ابلیسی قوتوں کو شکست دے دو۔میں زبان سے لبیک کہہ رہا تھا اوردل کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے۔

"میں حاضر ہوں اس اعتراف کے ساتھ کہ تعریف کے قابل توہی ہے۔ تو تنہا اور یکتا ہے، تجھ سا کوئی نہیں۔ تیرا کرم، تیری شفقت، تیری عطا ،اور تیری عنایتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ تیری عظمت ناقابل بیان ہے، تیری شان لامتناہی طور پر بلند ہے، تیری قدرت ہر عظمت پر حاوی ہے، تیرا علم ہر حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔تجھ سا کوئی نہیں اور کوئی تیری طرح تعریف کے لائق نہیں۔ "

اب تمام زینتیں حرام ہوگئی تھیں، اب نہ کوئی خوشبو لگانی تھی، نہ بال کٹوانے نہ ناخن ترشوانے اور نہ ہی پیر اور چہرے کو ڈھانکنا تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی اور وہ یہ کہ کس طرح ازلی دشمن کو شکست سے دوچار کیا جائے۔

احرام پہننے کے بعد ہم سب بس میں بیٹھے اور منیٰ کی جانب روانہ ہوئے۔ بس لبیک کی صداؤں سے گونج رہی تھی۔ تقریباً رات ڈیڑھ بجے منیٰ کے خیموں تک پہنچے۔ ہمارا کیمپ ایکسٹنڈ ڈ منیٰ یعنی مزدلفہ میں تھا۔ ہم سب نے سامان اتارا۔ میں نوجوان ساتھیوں کے ہمراہ باہر کا جائزہ لینے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ اردگرد بدو عورتوں نے اسٹالز لگارکھے تھے۔ باہر ایک چہل پہل تھی اور لگ نہیں رہا تھا کہ رات کے دو بج رہے ہیں۔ کچھ دیر مٹر گشت کرنے کے بعد ہم سب واپس آگئے۔ بستر نہایت ہی کم چوڑائی کے تھے اور بمشکل آدمی سیدھا لیٹ سکتا تھا۔ بہر حال سونے کے لئے لیٹ گئے تاکہ صبح تازہ دم ہوکر اٹھ سکیں۔

شیطانی کیمپ کے مناظر

میں کروٹیں بدل رہا تھا۔ غنودگی اور بیداری کی ملی جلی کیفیت تھی۔ اچانک میں تصور کی آنکھ سے اس جنگ کے مناظر دیکھنے لگا۔ اب منظر بالکل واضح تھا۔ اس طرف اہل ایمان تھے اور دوسری جانب شیطان کا لشکر بھی ڈیرے ڈال چکا تھا۔ شیطانی خیموں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان میں ایک ہل چل بپا تھی۔ رنگ برنگی روشنیوں سے ماحول میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ باہر پنڈال لگا تھا جہاں بے ہنگم موسیقی کی تھاپ پر شیطانی رقص جاری تھا۔ کچھ نیم برہنہ عورتیں اپنے مکروہ حسن کے جلوے دکھا رہی تھیں۔ ایک طرف شرابوں کی بوتلیں مزین تھیں جنہیں پیش کرنے کے لئے بدشکل خدام پیش پیش تھے۔ اس پنڈال کے ارد گرد شیاطین کے خیمے نصب تھے جو مختلف رنگ اور ڈیزائین کے تھے۔

سب سے پہلا خیمہ شرک و الحاد کا تھا۔ اس خیمے پر ان گنت بتوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ خیمے میں موجود شیاطین اپنے سردار کے سامنے ماضی کی کارکردگی پیش کررہے تھے کہ کس طرح انہوں نے انسانیت کو شرک و الحاد کی گمراہیوں میں مبتلا کیا۔نیز وہ اس عظیم موقع پر مستقبل کی منصوبہ بندی کررہے تھے کہ آئندہ کس طرح انسانیت کو شرک میں مبتلا کرنا اور خدا کی توحید سے دور کرنا ہے۔ان کا طریقہ واردات بہت سادہ تھا جس میں خدا کی محبت دل سے نکال کر مخلوق کی محبت دل میں ڈالنا، خدا کے قرب کے لئے ناجائز وسیلے کا تصور پیدا کرنا ، کامیابی کے لئے شارٹ کٹ کا جھانسا دکھانا وغیرہ جیسے اقدام شامل تھے۔

ایک اور خیمے پر عریاں تصایر اور فحش مناظر کی مصوری تھی۔ یہ عریانیت کے علمبرداروں کی آماجگاہ تھی۔ ان شیاطین کے مقاصد فحاشی عام کرنا، انسانیت کو عریانیت کی تعلیم دینا، نکاح کے مقابلے میں زنا کو پرکشش کرکے دکھانا، ہم جنس پرستی کو فطرت بنا کر پیش کرنا وغیرہ تھے۔ یہاں کے عیار ہر قسم کے ضروری اسلحے سے لیس تھے۔ ان کے پاس جنسی کتابیں، فحش سائیٹس، عریاں فلمیں، فحش شاعری و ادب، دل لبھاتی طوائفیں، جنسیاتی فلسفہ کے دلائل، دجالی تہذیب کے افکار سب موجود تھے۔ ان کا نشانہ خاص طور پر نوجوان تھے جنہوں نے ابھی بلوغت کی دنیا میں قدم ہی رکھا تھا اور وہ ان ایمان فروش شیاطین کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔

ایک اور خیمے پر ہتھیاروں کی تصویر آویزاں تھی۔ یہ انسانوں کو لڑوانے والوں کا کیمپ تھا۔ یہاں کا لیڈر اپنے چیلوں سے ان کی کامیابیوں کی رپورٹ لے رہا تھا۔ چیلے فخریہ بتارہے تھے کس طرح انہوں نے انسانیت میں اختلافات پیدا کئے، ان میں تعصب و نفرت کے بیج بوئے، ان کو ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا، انہیں اسلحہ بنانے پر مجبور کیا جنگ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کا قلع قمع کیا۔ اس کیمپ کی ذیلی شاخ کا مقصد خاندانی اختلافات پیدا کرنا، میاں بیوی میں تفریق کرانا، ساس بہو کے جھگڑے پیدا کرنا، بدگمانیاں ڈالنا، حسد پیدا کرنا،خود غرضی اور نفسا نفسی کی تعلیم دینا تھا۔

اگلے خیمے پر بڑی سی زبان بنی ہوئی تھی جو اس بات کی علامت تھی کہ یہاں زبان سے متعلق گناہوں ترغیب دی جاتی ہے۔ یہاں کے شریر شیاطین اس بات پر مامور تھے کہ لوگوں کو غیبت ، جھوٹ، چغلی، گالم گلوج، فحش کلامی، بدتمیزی، لڑائی جھگڑا اور تضحیک آمیز گفتگو میں ملوث کرکے انہیں خدا کی نافرمانی پر مجبور کریں۔

ایک اور خیمے پر بلند وبالا عمارات اور کرنسی کی تصاویر چسپاں تھیں۔ یہ دنیا پرستی کو فروغ دینے اور آخرت سے دور کرنے والوں کا کیمپ تھا۔ اس کیمپ میں اسراف، بخل، جوا، سٹہ، مال سے محبت، استکبار، شان و شوکت، لالچ، دھوکے بازی، ملاوٹ، چوری و ڈاکہ زنی، سود اور دیگر معاشی برائیوں کو فروغ دئے جانے کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ یہاں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا تھا کہ انسانیت بالعموم اور مسلمان بالخصوص آخرت کو بھول چکے ہیں۔ ا ب ان کی اکثر سرگرمیوں کا مقصود دنیا کی شان و شوکت ہی ہے۔ نیز جو مذہبی جماعتیں دین کے لئے کام کرہی ہیں ان کی اکثریت کا مقصد بھی اقتدار کا حصول ہے نہ کہ آخرت کی فلاح بہبود۔

ایک آخری کیمپ بڑے اہتمام سے بنایا گیا تھا۔ یہ خاص طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے لئے بنایا گیا تھا تاکہ وہ اپنی اصلاح کرکے دنیا کی راہنمائی کا سبب نہ بن جائیں۔ یہاں مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے قرآن سے دوررکھنے کی باتیں ہو رہی تھیں، یہا ں ان کو نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کی ادائگی سے روکنے کا منصوبہ تھا ، یہاں انکی اخلاقی حالت کو پست کرنے کی پلاننگ تھی، انہیں آخرت فراموشی کی تعلیم دی جانی تھی، مغرب پرستی کا درس تھا، دنیا کی محبت کا پیغام تھا۔ اسی کے ساتھ ہی یہاں مسلمانوں کو فرقہ پرستی میں مبتلا کرنے کا بھی اہتما م تھا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے رہیں اور غیر مسلم اقوام تک خدا کا آخری پیغام پہنچانے سے قاصر رہیں۔

رحمانی خیموں کی کیفیت

دوسری جانب اہل ایمان بھی اپنے خیمے گاڑ چکے تھے۔ شیطان کے خلاف جنگ کا میدان سج چکا تھا۔شیطانی کیمپ کے برعکس یہاں خامشی تھی ، سکوت تھا، پاکیزگی تھی، خدا کی رحمتوں کا نزول تھا۔اعلیٰ درجے کے اہل ایمان تعداد میں کم تھے جبکہ اکثر مسلمان شیطان کی کارستانیوں سے نابلد، روحانی طور پر کمزور، اورنفس کی آلودگیوں کا شکار تھے۔ لیکن یہ سب مسلمان شیطان سے جنگ لڑنے آئے تھے چنانچہ یہ اپنی کمزوریوں کے باوجود خدائے بزرگ و برتر کے مجاہد تھے۔ان فرزندان توحید کو امید تھی کہ خدا ان کی مدد کے لئے فرشتے نازل کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔

شیطان کے ہتھکنڈوں سے نمٹنے کے لئے اللہ مسلمانوں کو پہلے ہی کئی ہتھیاروں سے لیس کرچکے تھے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ شرک و الحاد کا توڑ اللہ کی وحدانیت ، اسے تنہا رب ماننے اور اسے اپنے قریب محسوس کرنے میں تھا۔ فحاشی و عریانی کی ڈھال نکاح ، روزے ، نیچی نگاہیں اور صبر کی صورت میں موجود تھی۔ فرقہ واریت کا توڑ اخوت و بھائی چارے اور یگانگت میں تھا۔ معاشی بے راہ روی کا علاج توکل و قناعت میں پوشیدہ تھا۔ دنیا پرستی کا توڑ آخرت کی یاد تھی۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے علم میں تو تھا لیکن شیطان کے بہکاووں نے ان تعلیمات کو دھندلا کردیا تھا۔ ایک قلیل تعدا د کے علاوہ اکثر مسلمان ان احکامات کو فراموش کرچکے تھے یا پھر ان کے بارے میں لاپرواہی اور بے اعتنائی کا شکار تھے۔

منٰی کے میدان میں یہ سب فرزندان توحید اسی لئے جمع ہوئے تھے کہ وہ اللہ سے کئے ہوئے عہد کو یاد کریں، وہ اس کے احکامات پر غور کریں، وہ اس کی پسند و ناپسند سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ کر آئندہ شیطان کے چنگل سے بچنے کی تربیت حاصل کریں۔ یہاں اہل ایمان کے ہتھیار توکل ،تفویض ، رضا، تقویٰ، قنوت، توبہ اور صبر کی صورت میں ان کے ساتھ تھے۔ان کی مدد سے وہ طاغوتی لشکروں کے حملوں کا جواب دینے کےلئے تیار تھے۔چنانچہ اہل ایمان کے خیموں سے لبیک کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ وہ سب اپنے رب کی مدد سے اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کئے بے چین تھے۔

منیٰ کی صبح

صبح فجر کی نماز پڑھی اور دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ چنانچہ میں قریب نو بجے اٹھا تو سب لوگ خیمے میں سو رہے تھے۔ مجھے نیند آنا مشکل تھی لہٰذا میں باہر نکلا۔ میں نے بیگم کو کہا کہ باہر چلتےہیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ چنانچہ میں اکیلا ہی اپنے بیگ میں دعاؤں کی کتاب حصن حصین لے کر نکلا۔ باہر کا موسم بہت سہانا تھا اور آسمان ابر آلود تھا۔ باہر بے شمار لوگ زمین اور ٹیلوں پر لیٹے اور بیٹھے ہوئے تھے۔چنانچہ میں نے بھی سوچا کہ کسی پہاڑی پر چڑھ کر اللہ کی حمد وثنا کروں۔ میں خیمے کی بائیں جانب چلنے لگا۔ کافی دور جاکر ایک پہاڑی نظر آئی جو موزوں لگی۔ میں نے اس پر چڑھنے کا ارادہ کرلیا۔

پہاڑ پرچڑھنے کا میرا کافی وسیع تجربہ تھا اور میں اس قبل مری، حسن ابدال، کاغان، ناران، سوات اور نورانی کے پہاڑوں پر چڑھ چکا تھا۔ لیکن مکہ کے یہ پہاڑ کالے پتھروں کی چٹانوں کے بنے ہوئے تھے جن پر چڑھنا خاصا دشوار تھا۔نیز احرام کی بنا پر تو چلنا دشوار معلوم ہوتا تھا چہ جائیکہ اوپر چڑھنا۔ بہرحال ایک جگہ منتخب کی اور اوپر چڑھنا شروع کیا۔ ایک دفع تو سلپ ہوتے ہوتے بچا لیکن دوسری کوشش میں اللہ نے مشکل آسان کردی اور میں اوپر آہی گیا۔ میں نے وہاں پڑا ہوا ایک گتا اٹھایا اس پر پر بیٹھنے کا قصد کیا۔

یہاں کافی بڑی تعداد میں لوگ براجمان تھے۔ کچھ لوگوں نے چھوٹے چھوٹے سفری خیمے نصب کئے ہوئے تھے۔یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جو معلم کے بغیر حج کررہے تھے اور یہ غیر قانونی طور پر آئے تھے۔ سعودی حکومت کی جانب سے پابندی ہے کہ حج کرنے کے بعد پانچ سال تک کوئی اور حج نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ ان حاجیوں کو موقع فراہم کرنا ہے جو اپنا فرضی حج کررہے ہوں۔ یہ غیر قانونی لوگ مختلف راستوں سے کچھ رقم دے کر عقیدت میں حج کرنے آجاتے ہیں۔ لیکن ان پر ایک گروہ یہ تنقید کرتا ہے کہ ان کا رویہ درست نہیں کیونکہ اس طرح وہ حکومت وقت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ فرضی حج کرنے والے حاجیوں کے وسائل پر بھی تصرف کرتے ہیں جو مناسب نہیں۔

میرے سامنے لوگوں کا ایک جم غفیر تھا چنانچہ میں نے یکسوئی حاصل کرنے کے لئےرخ تبدیل کرلیا۔ اب میرے سامنے ایک انتہائی بلند پہاڑ تھا۔ آسمان ابھی تک کچھ حصے چھوڑ کر بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے حصن حصین کی

کتا ب نکالی۔ یہ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں پر مشتمل ہے۔ میں نے اس میں سے دعائیں منتخب کیں اور حمدو ثنا میں مصروف ہوگیا۔ ہمارے ہاں دعا کو انتہائی محدود معنو ں میں لیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب مال، اولاد، صحت اور دنیاوی مقاصد کی تکمیل کے لئے اللہ کو پکارا جانا سمجھا جاتا ہے۔ نیز کچھ لوگ آخرت اور جنت کی کامیابی بھی مانگ لیتے ہیں لیکن دعا کا ایک انداز کچھ اور بھی ہے۔ یہ دعا اللہ سے باتیں کرنے کا نام ہے۔ یہ اپنے د ل کی بات کہنے کا نام ہے۔ یہ خدا کی حمد و ثنا، تسبیح و تہلیل، اس کی بڑائی بیان کرنے کا موقع ہے۔ اس کی جھلک اگر دیکھنی ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ارد گرد کا ماحول انتہائی روح پرور تھا چنانچہ جلد ہی روحانیت کے دریچے کھلنے لگے۔ خدا کی عظمت پہاڑ کی شکل میں میرے سامنے موجود تھی۔ اس کی رحمت بادلوں کی صورت میں سایہ فگن تھی، اس کی محبت احساسات کی شکل میرے ذہن میں تھی، اس کی عنایت یاد کی صورت میں مرے دل میں تھی۔

میں رب سے باتیں کرتا رہا اور وہ مجھے اشاروں کنایوں میں جواب دیتا رہا۔ میں بولتا رہا وہ سنتا رہا۔ پھر وہ بولا اور میں نے سنا۔ وہ مجھے میری خطائیں، میرے جرائم، میری سرکشیاں، میری ہٹ دھرمی، میری چالاکیاں گنواتا رہا اور میں کہتا رہا کہ میں خطا کرتا ہوں اور تو معاف کردیتا ہے۔ میں چالاکی دکھاتا ہوں اور تو نظر انداز کرتا ہے، میں بھول جاتا ہوں پر تو یاد رکھتا ہے،میں گناہ کرتا ہوں پر تو پکڑتا نہیں، میں جرم کرتا ہوں اور اور تو لاتصریب کہہ کر چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ تو عظیم ہے اور میں رذیل، تو آقا ہے اور میں غلام ابن غلام، تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور میں فقیروں سے بھی حقیر، تو بے حساب عطا کرنے والا ہے، تیرا عرش سب سے بلند ہے، تیرے قبضے میں سب کچھ ہے، تو آسمان و زمین کی ہر شے کا مالک ہے جبکہ میری ملک میں ایک ذرہ بھی نہیں۔ تیرا اذن و اختیار ہر شے پر ہے جبکہ میری قدرت انگلی کو ہلانے تک کی نہیں۔زمین و آسمان اور ساری کائینات کی بادشاہی آج بھی تیری ہے اور کل بھی تیری ہی ہوگی۔ تیری باتیں لکھنے کے لئے اگر تمام درخت قلم اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو بھی تیری تعریف بیان نہیں جاسکتی۔ پس تو تو ہے اور میں میں۔ میں خطا کرتا ہوں اور تو معاف کرتا ہے۔

ارد گرد کا ماحول مزید خوشگوار ہوگیاتھا اور بادل اب پورے آسمان پر چھاچکے تھے۔وہاں پہاڑ پر میں دو تین گھنٹے بیٹھا روتا رہا گڑگڑاتا رہا۔ اپنی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی مجھے بادلوں کی گڑگڑاہٹ بھی سنائی دی۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ میرا وہم ہے کیونکہ اس صحرا میں کہاں بارش ہوگی۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ گڑگڑاہٹ بڑھی اور میری تشویش میں اضافہ ہونے لگا۔ بارش اگر شروع ہوجاتی تو پہاڑ سے نیچے اترنا خاصا دشوار ہوتا نیز میں اپنے خیمے سے کافی دور تھا جبکہ وہاں جگہ جگہ بورڈ لگے تھے کہ بارش کی صور ت میں اپنے خیمے سے نہ نکلیں کیونکہ منیٰ نشیب میں تھا اور سیلاب کا قوی امکان تھا۔ چنانچہ میں نے واپسی کا سفر باندھا اور بارش سے قبل ہی خیمے میں پہنچ گیا۔

منیٰ کا خیمہ

خیمے میں اب بھی اکثر لوگ سورہے تھے۔ کچھ دیر بعد مجھے باتھ روم کی حاجت ہوئی لیکن باتھ رومز کا تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ وہاں طویل لائینیں لگی ہوئی تھیں۔ بہرحال فراغت کے بعد واپس ہی آیا تھا کہ بارش شروع ہوگئی۔ یہ بارش قریب بارہ بجے تیز ہوئی اور عصر تک جاری رہی۔ خیموں میں پانی تو نہیں بھرا البتہ عورتوں کی سائیڈ پر پانی آگیا۔لوگ بارش کے نافع ہونے اور اس کے ضرر سے بچنے کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بارش کافی طوفانی تھی اور جدہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ خدا خدا کرکے بارش رکی۔ اور سب نے اطمینان کا سانس لیا۔ بعد میں علم ہوا کہ اس بارش سے خاص طور جدہ میں بڑی تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں لوگ اس سیلاب کی نظر ہوگئے۔

حج کا فرض اسلام سے قبل بھی ادا کیا جاتا تھا اور مشرکین مکہ منی میں قیام کے دوران شعرو شاعری کی محفلیں منعقد کرتے، اپنے آباو اجداد کے قصے بیان کرتے، جگت بازی کرتے، کہانیاں و قصے بیان کرتے اور دیگر باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کے رویے پر تنقید کی اور مسلمانوں کو ان خرافات سے بچنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ ہدایت بھی کہ اللہ کا ذکر اپنے آبا و اجداد کے ذکر سے بڑھ کر کرو اور اللہ کی حمدو ثنا کرو۔

میں نے مشاہدہ کیا کہ مسلمانوں کی اکثریت اس حکم پر عمل کرنے سے قاصر تھی۔ کوئی فون پر باتوں میں مشغول تھا تو کوئی سیاست پر اپنے خیالات کا اظہار کررہا تھا۔ کسی کو اپنے بچے یاد آرہے تھے تو کوئی وقت پاس کرنے کے لئے اونگھ رہا تھا۔ کبھی کبھی لبیک کی صدائیں بلند ہوجاتی تھیں اور اس کے بعد پھر وہی دنیا۔ حالانکہ یہ وہ موقع تھا کہ لوگ اپنا احتساب کرتے، اپنے گناہوں کی لسٹ بنا کر ان پر توبہ کرتے، انہیں دور کرنے کی پلاننگ کرتے۔ اچھائیوں کو اپنانے کا عہد کرتے، نیکیوں میں سبقت لے جانی کی منصوبہ بندی کرتے۔ سب سے بڑھ کر اللہ کو یاد کرتے، اس کی حمدو ثنا کرتے، اس کی بڑائی بیان کرتے، اس سے محبت کا اظہار کرتے ، اس کی رحمتوں کو گن کر شکر کرتے اور آئندہ ہر مشکل میں اس پر توکل کے ساتھ صبر کرنے کا عزم کرتے۔انہی اقدام کی بدولت وہ طاغوت کے خلاف جنگ میں اس حج کے موقع پرکامیاب ہوسکتے اور جنت کے حصول کی تمنا کرسکتے تھے۔ اس قسم کا ذوق لوگوں میں اسی وقت پیدا کیا جاسکتا تھا جب انہیں اس بارے میں تربیت فراہم کی گئی ہو۔ لیکن ہمارے مذہبی حلقے میں عام طور پر ظاہری فقہ کی تو تعلیم دی جاتی ہے لیکن باطن کی صفائی کا اہتمام نہیں کیا جاتا اور لوگوں کو بغیر کسی تعلیم وتربیت کے یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

عرفات میں پڑاؤ

۸ ذی الحج کا پورا دن بارش کی نظر ہوا اور مغر ب تک مطلع صاف ہوچکا تھا۔ اکثر لوگ منیٰ میں نمازیں اپنے اپنے وقت پر قصر کرکے پڑھتے ہیں۔ البتہ احناف نماز قصر نہیں کرتے بلکہ وہ پوری ہی نماز پڑھتے ہیں۔منیٰ میں ایک عجیب خبر سنی۔ اسمٰعیل صاحب جنہیں اسپتال میں داخل کرادیا تھا ان کے بارے میں رافع نے بتایا کہ وہ اسپتال سے فرار ہوچکے ہیں تاکہ حج کے مناسک انجام دے سکیں۔ رافع نے مزید کہا کہ ان کا ہم سے ملنا خاصا مشکل ہے کیونکہ ان کے پاؤں چلنے کا قابل نہیں تھے۔

عشاء کی نماز کے بعد اگلی منزل عرفات کا میدان تھا۔ بس تقریباً بارہ بجے رات میں آئی اور ہم لوگ بس میں سوار ہوگئے۔ کچھ لوگ بس میں بیٹھنے سے رہ گئے اور دوسری بس کا انتظار کرنے لگے جبکہ کچھ نوجوان چھت پر بھی بیٹھ گئے۔ عرفات پہنچتے پہنچتے رات کے دو بج چکے تھے۔ وہاں کے خیموں پر قالین بچھی ہوئی تھی جو بارش کے باعث گیلی ہوگئی تھی۔ چار سو اندھیرے کا راج تھا۔ میں نمی سے بچنے کے ٖلئے چٹائی بچھا کر لیٹ گیا۔

نیند دوبار کچی پکی آرہی تھی۔میرے تخیل میں دوبارہ اسی تمثیلی جنگ کا نقشہ سامنے آنے لگا۔ابلیس کی افواج بھی اپنا پڑاؤ بدل کر عرفات پہنچ چکی تھیں۔ ان شریروں کا مقصد حاجیوں کو تزکیہ و تربیت حاصل نہ کرنے دینا اور مناسک حج کی ادائیگی میں خلل پیدا کرنا تھا۔ لیکن اس مرتبہ شیطانی کیمپ میں ایک اضطراب اور بےچینی تھی۔ رحمانی لشکراپنی پوزیشن لے چکا تھا۔ اور اب وہ ایسے میدان میں تھا جو خدا کی رحمتوں کامنبع تھا۔ آج کے دن خد انے بے شمار لوگوں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دینا تھا۔ آج فرشتوں کے نزول کا دن تھا۔ چنانچہ شیطان کو اپنی شکست سامنے نظر آرہی تھی لیکن وہ اپنی اسی ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا تھا۔ اس کے چیلے گشت کررہے تھے اور اپنے شکار منتخب کررہے تھے۔ ان کا نشانہ زیادہ تر کمزور مسلمان تھے جو علم و عمل میں کمزور تھے۔یہ وہ مسلمان تھے جنہوں نے دین کا درست علم حاصل نہیں کیا تھا اور زیادہ تر نفس کے تقاضوں کے تحت ہی زندگی گذاری تھی۔ اس سے بڑھ یہ کہ یہ لوگ اس عظیم جہاد کی حقیقت سے بھی نابلد تھے۔

عرفات کی صبح

صبح میری آنکھ کھلی تو فجر پڑھی اور پھر سوگیا۔ پھر صبح کو گیارہ بجے آنکھ کھلی۔ دیکھا تو اسمٰعیل صاحب سامنے بیٹھے تھے۔ وہ اسپتال سے فرار ہوکر ہمارا کیمپ جوائین کرچکے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے معجزوں پر ایک بار پھر یقین آگیا۔ اللہ نے انکے جذبے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے پیروں کو چلنے کی طاقت بھی عطا کی اور عافیت کے ساتھ کیمپ بھی پہنچادیا۔ صبح اٹھ کر ہلکا پھلکا ناشتہ کیا۔ اسی اثناء میں آفتاب کا فون آیا۔ وہ بھی حج کرنے اپنےساتھیوں کے ساتھ موجود تھا اور مجھے مسجد نمرہ بلا رہا تھا۔ میں نے انکار کردیا کیونکہ مسجد نمرہ میرے کیمپ سے خاصی دور تھی اور وہاں بھٹک جانے کا اندیشہ تھا۔

عرفات کا میدان کافی بڑا ہے اور اس میں لاکھوں حجاج کو سمولینے کی گنجائش ہے۔ اس میں ایک پہاڑی جبل رحمت ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ دیا تھا۔ یہاں ایک مشہور مسجد۔۔ مسجد نمرہ موجود ہے جہاں اما م حج کا خطبہ دیتا ہے۔ یہ امام امت مسلمہ کا لیڈر یا اس لیڈر کا نمائندہ ہوتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو خدا سے کیا ہوا عہد یاد دلاتا، انہیں شیطان اور نفس کے فریب سے بچنے کی ترغیب دیتا اور شیطان کو اس علامتی جنگ میں شکست دینے کی ہدایات جاری کرتا ہے۔

میں نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو وہاں شامیانے لگے ہوئے تھے۔ قریب میں بنگالی بھائیوں کے کیمپ بھی تھے۔ باتھ روم اس مرتبہ خالی تھے اور کوئی لائین نہیں لگی ہوئی تھی۔ دھوپ خاصی تیز تھی جس کی بنا پر گیلے قالین سوکھ چکے تھے۔ مولانا یحیٰ نےبتایا کہ وقوف عرفہ کا وقت زوال کے فوراً بعد شروع ہوجاتا اور غروب آفتاب تک جاری رہتا ہے۔ یہاں حاجی کا قیام حج کا رکن اعظم ہے اور اگر کوئی حاجی یہاں وقف کرنے سے رہ جائے تو تو اس کا حج نہیں ہوتا۔ یہاں مناسب تو یہی ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے برہنہ پا کھڑے ہوکر دعائیں مانگی جائیں لیکن تھکاوٹ کی صورت میں بیٹھنا یا لیٹنا ممنوع نہیں۔ یہاں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کرکے اور ملا کر یعنی ایک ہی وقت میں پڑھتے ہیں البتہ احناف اس کے قائل نہیں ہیں۔

جتنی دعائیں یاد تھیں۔۔۔

ظہر کے بعد وقف شروع ہوگیا۔ لوگ باہر نکل کر بلند آوازمیں دعائیں کررہے تھے جس سے ارد گرد کے لوگ ڈسٹرب ہورہے تھے۔ میں نے سوچا کہ کوئی گوشہ تنہائی تلاش کی جائے چنانچہ میں بس اسٹینڈ کے پیچھے جگہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ موسم خوشگوار ہوچلا تھا اور بادلوں کی آمدو رفت تھے۔ کافی دور چلنے کے باوجود مجھے کوئی مناسب جگہ نہ مل پائی چنانچہ میں واپس کیمپ میں ہی آگیا۔ یہاں کھانا کھایا اور پھر برہنہ پا ہوکر باہر نکلا اور قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگیا۔یہاں رب کی حمد وثنا بیان کی اور اور دعاؤں میں مشغول ہوگیا۔یہاں میں لبیک کہتا رہا ، اپنے رب کے بلاوے پر۔ میں کہتا رہا :

میں حاضر ہوں تیرے احسان کے بوجھ کے ساتھ کہ یہ ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ اور عنایت ہیں۔ میری آنکھوں کی بینائی تیری دین، میرے کانوں کی سماعت تیری عطا، میرے سانسوں کے زیر و بم تیرا کرم، میرے دل کی دھڑکن تیری بخشش، میرے خون کی گردش تیری سخاوت، میرے دہن کا کلام تیرا لطف، میرے قدموں کی جنبش تیراا حسان ہے۔کوئی ان کو بنانے میں تیرا ساجھی، تیرا معاون اور شریک نہیں۔

میں حا ضر ہوں اس عجزکے ساتھ کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری ملکیت ہے، یہ زمین تیری ، آسمان تیرا، سورج ، چاندستارے تیرے، پہاڑ تیرے ، میدان تیرے ، دریا و سمندر تیرے ہیں۔یہ میرا گھر، میرا مال، میری دولت، میرا جسم، میرے اہل و عیال میرے نہیں تیرے ہیں۔ کوئی ان کو بنانے اور عطا کرنےمیں تیر ا شریک نہیں۔ پس تیرا اختیارہے توجس طرح چاہے اپنی ملکیت پرتصرف کرے۔

میں حاضر ہوں اپنے تمام گناہوں کے بار کےساتھ کہ تو انہیں بخش دے، اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ کہ تو انہیں معاف کردے، اپنے تمام بدنما داغوں کے ساتھ کہ تو انہیں دھودے، اپنی تمام ظاہری و باطنی بیماریوں کے ساتھ کہ تو ان کا علاج کردے ،اپنے من کے کھوٹ کے ساتھ کہ تو اسے دور کردے ، اپنی نگاہوں کی گستاخیوں کے ساتھ کہ تو ان سے چشم پوشی کرلے، اپنی کانوں کی گناہ گار سماعت کے ساتھ کہ تو اس کا اثر ختم کردے، اپنے ہاتھوں کی ناجائز جنبشوں کے ساتھ کہ تو ان سے درگذر کرلے، اپنے قدموں کی گناہ گار چال کے ساتھ کہ تو انہیں اپنی راہ پر ڈال دےاوربدکلامی کرنے والی زبان کے ساتھ کہ تو اس کو اپنی باتوں کے لئے خاص کرلے۔

میں حاضر ہوں اور پناہ مانگتا ہوں تیری رضامندی کی ،تیرے غصے سے اور تیری مغفرت کی ،تیرے عذاب سے اور میں تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری تعریف کر ہی نہیں سکتا پس تو ایسا ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔

میں حاضر ہوں شیطان سے لڑنے کے لئے، نفس کےناجائز تقاضوں سے نبٹنے کے لئے، خود کوتیرے سپرد کرنے کے لئے اور اپنا وجود قربان کرنے کے لئے۔پس اے پاک پروردگار! میرا جینا، میرا مرنا، میری نماز، میری قربانی، میرا دماغ ، میرا دل، میرا گوشت، میرا لہو، میرے عضلات اورمیری ہڈیاں غرض میرا پورا وجود اپنے لئے خاص کرلے۔

حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔"

اہل ایمان ادھر خدا سے مناجات میں مصروف تھے اور دوسری جانب طاغوتی لشکر اپنے کام میں مصروف تھا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کو شیطانی چیلے یہ درس دے رہے تھے کہ اب بہت دعا مانگ لی اب بس کرو، کچھ کو انہوں نے دنیاوی باتوں میں مصروف کررکھا تھا، کچھ کو کھانے پینے میں لگادیا تھا تو کچھ کو تھکاوٹ کاحساس دلا کر نڈھال کرنے کی سعی کی تھی۔

سورج اپنی منزل جانب رواں دواں تھا اور اہل ایمان اپنی منزل کی جانب۔ ارد گرد لوگ تھک کر بیٹھ گئے تھے اور کچھ باتوں میں مصروف تھے۔ اصل میں وہی مسئلہ سامنے آیا کہ ہمارے مسلمان بھائی دعا کے فلسفے سے ناآشنا ہونے کی بنا پر کچھ ہی دیر میں دعا سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ کچھ دیر بعد مولانا یحیٰ نے اجتماعی دعا کرائی جو خاصی رقت آمیز تھی۔ اس نے کئی آنکھوں کو اشکبار کردیا۔ دعا کے دوران مغرب ہوگئی لیکن اب رب کا حکم یہ تھا کہ یہ مغرب مؤخر کرنی ہے اور اسے اگلے پڑاؤ مزدلفہ میں جاکر ادا کرنا ہے۔

مزدلفہ میں زندگی موت کی کشمکش

اب اگلی منزل مزدلفہ کا میدان تھا۔ یہاں سے ہمارا قافلہ دو حصوں میں منقسم ہوگیا۔ ایک وہ لوگ جو تھے جو بس میں جارہےتھے اور دوسرے وہ لوگ تھے جو پیدل روانہ ہورہے تھے۔ میں بھی پیدل مسافرین میں تھا کیونکہ سنا تھا کہ بس کافی دور اتارتی ہے اور اس میں خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمارا قافلہ ۳۵ افراد پر مشتمل تھا۔ یہاں سے ہمیں قریب پانچ کلو میٹر کا سفر طے کرنا تھا۔ ہمارا خیمہ ایکسٹنڈڈ منیٰ یعنی مزدلفہ ہی میں تھا چنانچہ ہمیں وہیں پہنچنا تھا۔

جب میں عرفات سے نکل رہا تھا تو دل میں خیال آیا کہ لوگ بلاوجہ حج سے ڈراتے تھے کہ یہاں بہت رش ہوتا ہے بالخصوص عرفات سے مزدلفہ جاتے وقت بڑا رش ہوتا ہے۔ لیکن مجھے تو ایسا کچھ بھی ابھی تک دکھائی نہیں دیا تھا۔ لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا اور اگلے مرحلے میں وہ سب کچھ نظر آگیا جس کا لوگ ذکر کرتے تھے۔

ہمارا قافلہ مولانا یحیٰ کی سربراہی میں مزدلفہ کی جانب رواں دواں تھا۔ ایک جم غفیر طریق المشا یعنی پیدل چلنے والوں کے راستے پر رواں دواں تھا۔ ہم نے رش سے بچنے کے لئے بائیں جانب کا راستہ لیا جہاں مسجد نمرہ کا بھی قریب سے دیدار کیا۔ راستے میں آدھے گھنٹے کے لئے رکے تاکہ تازہ دم ہولیں۔ پھر دوبارہ سفر شروع کیا۔ ہمارے ساتھ خواتین بھی تھیں اور ایک چھ ماہ کی بچی بھی تھی جس کو پرام میں ڈال کر اس کے والدین گھسیٹ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک وہیل چئیر بھی تھی جس پر ایک بزرگ کو بٹھا یا ہوا تھا اور نوجوان باری باری انہیں دھکیل رہے تھے۔

اب تک سب کچھ ٹھیک تھا۔لیکن جونہی مزدلفہ کی حدود میں داخل ہوئے تو نقشہ ہی بدل گیا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد راستے ہی میں لیٹی ہوئی تھی جس کی بنا پر پیدل چلنے والوں کو راستہ ملنا مشکل تھا۔ آگے راستہ تنگ ہوتا جارہا تھا۔ اس پر طرفہ تماشا یہ ہوا کہ گروپ کے نوجوانوں نے خواتین اور بچوں کو محفوظ کرنے کے لئے ہاتھوں کا ایک حصار بنالیا جو ایک غلط طرز عمل تھا کیونکہ اس سے راستہ مزید تنگ ہورہا تھا۔ ہمارے لیڈر صاحب جو جھنڈا لے کر آگے جارہے تھے وہ بار بار گروپ سے آگے نکل جاتے تھے اور ان کو روکنا پڑتا تھا۔ سامنے ایک بس کھڑی تھی جس کی بنا پر راستہ مزید تنگ ہوگیا تھا۔ آگے رش بڑھتا گیا یہاں تک کہ بوٹل نیک کی صورت حال پیدا ہوگئی اور دم گھٹنے لگا۔ جب ہم کھڑی ہوئی بس کے نزدیک آئے تو انتہا ہوگئی اور سامنے ایک ریلے سے مڈبھیڑ ہوگئی اور میں گرتے گرتے بچا۔ دم گھٹنے لگا اور خاص طور پر عورتیں اور بچے بلبلا اٹھے۔

مجھے یوں لگا کہ شاید یہ ہمارا آخری سفر ہو۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سب طرف لوگوں کا اژدہام تھا اور کہیں کوئی فرار کی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ بس ایسے میں خدا ہی سہارا تھا جس کی راہ میں ہم نے یہ سفر شروع کیا تھا۔ کچھ دیر بعد تھوڑی کشادگی ملی تو علم ہوا کہ بچے کی پرام ٹوٹ چکی ہے۔ پھر ہم سب نے اپنے بوجھ ہلکے کرنا شروع کئے اور میں نے بھی ایک تھیلا جس میں جائے نماز اور چٹائی تھی وہ پھینک دیا۔کچھ دور اور آگے بڑھے تو اللہ نے معاملہ آسان کردیا اور کشادگی میسر آگئی۔

اس گھمسان میں ہم سمت بھول چکے تھے کہ ہمارا خیمہ کدھر ہے۔ بس ناک کی سیدھ میں چلتے رہے۔ یہاں تک کہ منیٰ کے خیمے دکھائی دینے لگے۔ کچھ جان میں جان آئی۔ عرفات سے مسلسل چلتے ہوئے پانچ گھنٹے ہوچکے تھے اور اقدام شل ہوگئے تھے۔ بہرحال منیٰ کے خیمے نزدیک آتے گئے۔یہاں تک کہ ایک ٹیلے کو کراس کرکے ہم پہاڑ پر چڑھ گئے اس وقت ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ گویا یہ زندگی اور موت کا سفر ساڑھے چھ گھنٹوں میں اختتام پذیر ہوا۔

یہ تو پیدل چلنے والوں کا حال تھا۔ جو لوگ بس میں آرہے تھے انکی حالت ہم سے بھی ابتر تھی۔ بس نے انہیں نامعلوم مقام پر اتاردیا تھا جہاں سے خیمے تک کا راستہ ٹیڑھا میڑھا تھا۔ لہٰذا اکثر لوگ بھٹک کر ادھر ادھر نکل کھڑے ہوئے اور جس کا جدھر سینگ سمایا نکل کھڑا ہوا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ تو فجر کے بعد منزل تک پہنچے۔

شیطانی و رحمانی لشکر کی روداد

رات کو مغرب اور عشاء ملا کر ادا کی اور پھر سونے کے لئے لیٹ گئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات عبادت نہیں کی تھی حالانکہ تہجد بھی جو آپ کا معمول تھا وہ نہیں پڑھی تھی۔ میں جب نیند کے عالم میں گیا تو شیاطین کے کے کیمپ تصور میں آنے لگے۔وہاں ابتری پھیل چکی تھی۔ اہل ایمان میں سے جو چنے ہوئے لوگ تھے انہوں نے تو اللہ سے اپنے عہد کی تجدید کرلی تھی، اپنے نفس کی کڑی دھوپ میں کھڑے رہنے کی تربیت کی، بھوک کو برداشت کیا، جنسی تقاضوں کو تھام کررکھا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی دعا کی۔ وہاں انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ اورآئیندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرلیا تھا۔ اب وہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرکے اگلے مورچے پر طاغوت کو شکست دینے کے لئے تیار تھے۔ گویا انہوں نےخدا کی مدد سے عرفات کا میدان مار لیا تھا۔ اب انہوں نے خیمے چھوڑ دئے تھے اور کھلے آسمان تلے فیصلہ کن معرکے کے لئے تازہ دم ہورہے تھے۔ دوسری جانب کمزور مسلمان بھی ان چنے ہوئے لوگوں کی معیت میں تھے اور انہوں نے بھی حتی المقدور ان کی تقلید کی کوشش کی اور خدا کی رضا کی اپنے تئیں پوری کوشش کرڈالی۔ لیکن آ ج خدا کی رحمتوں کے نزول کا وقت تھا او ر یہ رحمتیں کمزو ر وطاقتو ر ہر طرح کے مسلمان کے لئے نازل ہورہی تھیں اور ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق ان سے فیض یاب ہورہا تھا۔

ادھر شیطانی کیمپوں کی حالت ابتر تھی۔ آسمانی فرشتوں نے شیاطین کا ناطقہ بند کردیا تھا اور وہ ان پر تازیانے برسا رہے تھے۔ چنانچہ طاغوتی کیمپ میں ایک صف ماتم بچھی تھی۔ کوئی اپنے زخموں کو سہلا رہا تھا تو کوئی اپنا خون چاٹ رہا تھا۔ وہاں کے ہر ابلیس پر ایک مایوسی اور افسردگی طاری تھی۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ اہل ایمان کے لشکر کو اگلے مورچے تک جانے سے روکا جائے لیکن اب انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا کیونکہ خدا ان کے ساتھ تھا۔ اب بس سورج نکلنے کی دیر تھی کہ شیطا ن پر سنگ باری شروع ہوجانی تھی۔

سنگ باری

صبح ہم نے فجر کی نماز پڑھی۔ کچھ دیر وقوف کیا اور پھر سوگئے اور دس بجے اٹھے۔ اتنا پیدل چلنے کے بعد عام حالات میں تو شاید اسپتال جانا پڑتا لیکن اللہ کے کرم سے تھکن دور ہوچکی تھی۔ اگلا معرکہ رمی کرنے کا تھا یعنی شیطان کو کنکریاں مارنا۔ بچپن سے میں یہ قصے سنتے آرہا تھا کہ رمی میں بھگدڑ مچ جاتی ہے اور کئی لوگ کچل کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کئی سال پہلے بھی یہ واقعہ ہوچکا تھا۔ ایک بڑا سانحہ ۲۰۰۵ میں شاید پیش آیا تھا جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک صاحب جنہوں نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بتانے لگے کہ کس طرح لاشیں چاروں طرف بکھری ہوئی تھیں اور کمانڈوز آگئے تھے۔ یہ سب سن کر عجیب سا خوف پیدا ہورہا تھا اور واقعی یہ لگ رہا تھا کہ ہم شیطان کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ پہلے ہی رمی کے لئے نکل چکے تھےاور ہمیں رافع کے ساتھ ایک بجے روانہ ہونا تھا۔ ابھی ہم نے ظہر کی نماز پڑھی ہی تھی کہ اچانک بارش شروع ہوگئی۔ رافع نے بتایا کہ بارش کی صورت میں رمی انتہائی دشوار ہوجاتی ہے اور حادثے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بہر حال خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے شیطان پر سنگباری تو کرنی ہی تھی۔

تقریباً ایک بجے ایک مرتبہ پھر ہمارا قافلہ لدھیانوی ٹریولرز کے جھنڈے تلے نکلا۔ اس مرتبہ ہمارے ساتھ تیس افراد موجود تھے۔میں نے چونکہ جمرات دیکھا ہوا تھا اس لئے رافع سےاکیلے جانے کی اجازت لی تاکہ جلد جمرات تک پہنچ سکوں۔ انہوں نے اجازت دے دی۔چنانچہ میں اپنی بیوی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔

شیطان کی شکست

ایک بار پھر مرتبہ لبیک کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ چاروں طرف کفن پوش سرفروشان اسلام شیطان کی ناک رگڑنے کے لئے چل رہے تھے۔ قافلہ دھیمے دھیمے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس رحمانی لشکر کے جوش کے باوجود ابلیسی افواج کے ہرکارے مسلمانوں پر حملہ کرنے سے باز نہیں آرہے تھے۔ چنانچہ ان کی کوشش تھی کہ مختلف رنگ و نسل کے مسلمانوں میں فساد پیدا کردیں، وہ انہیں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کروا کر بھگدڑ مچوادیں، انہیں دنیاوی باتوں میں مشغول کریں، انہیں آنکھوں کے زنا میں مبتلا کردیں ، وہ اپنی زبان سے لوگوں کی غیبت کریں، وہ دوسری قوم کے لوگوں کے بارے میں بدگمانی کریں، وہ کالوں کو دیکھ کر ان کو حقیر سمجھیں اور سب سے بڑھ کر حج کے فلسفے سے غافل ہوکر اسے ایک رسم کے طور پر ادا کریں۔

لیکن شیطان کے وسوسوں، ڈراووں ، لالچوں کے باوجود حجاج اس مقام تک پہنچ چکے تھے۔ وہ خدا کے حکم کے مطابق پچھلے تمام محاذوں پر شیطان کو شکست دیتے چلے آئے تھے اب یہ مرحلہ بھی آہی گیا تھا۔ یہاں بھی ان کا ہتھیار توکل تھا۔ انہیں خدا کی مدد پر بھروسہ تھا۔ میں نے تصور میں شیطانی لشکر کو دیکھا تو وہ بزدلوں کی طرح پسپائی رہا تھا۔ پچھلے مورچوں پر شکست کھانے کے بعد شیطان اور اس کے پہلے ہی حواری بدحواس ہوچکے تھے۔

لیکن اہل ایمان پر خدا کی رحمتوں کا خاص نزول تھا۔ اس کے فرشتے شیاطین کو دھتکار رہے تھے اور اہل ایمان کی کمزوریوں کے باوجود ان کی معاونت کررہے تھے۔اہل ایمان کا لشکر شیاطین کو آہستہ آہستہ پیچھے دھکیل رہا تھا۔ لبیک کی صدائیں ان طاغوتی قوتوں کے دل چیر رہی تھیں۔

شیطان کی کوشش تھی کسی طرح اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے حوصلے بلند کرے لیکن اب دیر ہوچکی تھی اور معاملات ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ شیطان ایک بار پھر بھول گیا تھا کہ اس کا مقابلہ ان نہتے انسانوں سے نہیں بلکہ تنہا خدا سے ہے جس کے قبضے میں تمام طاقتیں ہیں۔ان سب برائیوں کا منبع بڑا شیطان ہی تھا چنانچہ اہل ایمان کا پہلا نشانہ یہی بڑا شیطان تھا۔ اگر اس کی ناک رگڑ دی جائے تو باقی چھوٹے شیاطین خود ہی دبک کر بیٹھ جائیں گے۔

بڑا شیطان پسپا ہوتا گیا اور پیچھے بھاگتا رہا یہاں تک کہ وہ گھاٹی پر پہنچ گیا۔ یہی وہ مقام تھا جب اس نے آج سے کئی ہزار سال قبل پیغمبر خدا ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی اور منہ کی کھائی۔جب ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم ہوا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا کے حکم پر ذبح کردیں تو آپ اس حکم کی تعمیل کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ آپ جب آگے بڑھے تو شیطان نمودار ہوا اور وسوسہ ڈالا کہ کیا اپنے اکلوتے فرزند کو قربان کردو گے جو تمہارے بڑھاپے کا سہارا ہے ، جو تمہاری آنکھ کا تارا ہے؟ لیکن خلیل اللہ نے اس آواز پر کان نہ دھرے بلکہ شیطان کو کنکریاں مار کر دھتکار دیا۔

آج اسی شیطان کی پٹائی لاکھوں فرزندان توحید کے ہاتھوں ہورہی تھی۔بڑا شیطان جونہی اہل ایمان کے سامنے آیا تو انہوں نے اپنے جد امجد کی سنت پر عمل شروع کردیا۔اہل ایمان نے پہلی کنکری مار کر شیطان کے شرک کا انکار اور خدا کی توحید کا اقرار کیا۔ دوسری کنکری مار کر انکار آخرت اور الحاد کے فتنے کا بطلان کیا۔ تیسری کنکری شیطان کی جنسی ترغیبات کو ماری۔ چوتھی کنکری معاشی ظلم و عدوان پر پھینکی۔ پانچویں کنکری شیطان کی پرفریب دجالی تہذیب پر ماری۔ چھٹی کنکر ی ابلیس کے قتل انسانیت کے فتنے پر پھینکی اور آخری کنکری اخلاقی بگاڑ کے عوامل پر ماردی۔ اہل ایمان کے یہ سنگ ریزے اس پر ایٹم بم کی طرح برس رہے تھے کیونکہ ان میں قوت ایمانی موجود تھی۔شیطان ان سے بچنے کی بھر پور کوشش کرہا تھا لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام تھا۔

اب لبیک کا تلبیہ ختم ہوچکا تھا کیونکہ اہل ایمان اپنے رب کے بلاوے پر حاضر ہوچکے اور شیطان کو سنگسار کرچکے تھے۔ اب اللہ کی حمد ثنا اور بڑائی بیان کی جا رہی تھی۔

اللہ اکبر اللہ اکبر لاالٰہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد

اللہ بڑا ہے اللہ بڑا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ بڑا ہے اللہ بڑا ہے اور اللہ کے لئے ہی تمام تعریفیں ہیں۔

اب اہل ایمان قربانی کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے اللہ کی مدد سے اپنے خارجی دشمن کی تو ناک رگڑ دی تھی لیکن اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ کو لگام دینا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ تمام حجاج نے قربانی کرکے اپنے رب کا شکر ادا کیا اور اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو قربا ن کرکے خدا کے ایک او ر حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے حلق کروایا۔ یہ سر منڈوانا دراصل خود کو خدا کی غلامی میں دینے کا عہد تھا۔ یہ بات عہد الست کی تجدید تھی کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے۔ یہ اس وعدے کا اعادہ تھا کہ اللہ کی بندگی میں پورے پورے داخل ہونا ہے، اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنا ہے، اس کی نافرمانی سے حتی الامکان گریز کرنا اور اسے راضی رکھنے کی کوشش میں کسی بھی انتہا سے گذرجانا ہے۔

اب احرام اتر گیا تھا لیکن تمام اہل ایمان باطنی احرام سے آراستہ ہوچکے تھے۔ شکرانے کے طور پر انہوں نے اللہ کے گھر کا طواف کیا اور سعی کے بعد دوبارہ منیٰ میں قیام پذیر ہوگئے جہاں شیطان کے بچے کچھے چیلوں پر مزید سنگباری کرنی تھی۔

رمی قربانی حلق

میں اپنی بیوی کےساتھ آگے بڑھتا رہا۔ رمی کے لئے تین پل تھے۔ ہم نے پہلی منزل کے پل کا انتخاب کیا کیونکہ یہاں رش نسبتاً کم تھا۔ لوگوں کو سامان کے ساتھ داخل نہیں ہونے دیا جارہاتھا۔ پہلے دن بڑے شیطان ہی کو کنکریاں مارنی تھیں۔ میں اس کے قریب پہنچا اور دل میں اعادہ کیا کہ یہ کنکریاں میں شیطان کی ناک رگڑنے کے لئے اور رحمان کو راضی کرنے کے لئے ماررہا ہوں۔ سات کنکریاں مار کر دعا نہیں کی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا۔ یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ دیگر مذاہب کا تو معاملہ یہ ہے کہ ان کی اصل کتاب تک محفوظ نہیں۔

سنگباری کرنے کے بعد نیچے اترنے لگے کیونکہ حفاظت کے لئے اب سعودی حکومت نے آنے اور جانے کے راستے الگ کردئے تھے۔ چنانچہ پلٹ کر جانے کا کوئی راستہ نہ تھا اور نہ ہمیں واپسی کی ضرورت تھی کیونکہ ہمارا عزیزیہ کا ہوٹل جمرات سے صرف ۲۰ منٹ کی واک پر تھا۔ جمرات کے پل سے نیچے اترنے کے بعد کچھ کھانے کو لیا اور تین دن بعد ڈٹ کر کھایا کیونکہ منی ٰ میں باتھ روم کے خوف کی بنا پر کھانے پینے میں احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ ہوٹل پہنچ کر رافع کو فون کیا کہ ہم نے رمی کرلی ہے اور ہمارے نام کی قربانی کرلی جائے تاکہ ہم حلق کرواکے احرام اتار دیں۔ حنفی مسلک میں رمی قربانی اور حلق کی ترتیب برقرار رہنی چاہئے اور اگر ایسا نہ ہو تو دم واجب آجاتا ہے جبکہ دیگر مسالک میں یہ ترتیب اگر غلط ہوجائے تو دم کی ضرورت نہیں۔

آدھے گھنٹے بعد علم ہوا کہ قربانی ہوگئی ہے چنانچہ ہم نے حلق کروالیا۔ چونکہ حجام کے پاس بہت رش تھا اس لئے ہم نے ایک دوسرے کے سر خود ہی مونڈ نےشروع کردئے۔ میرا سر ریحان نے مونڈا۔ اس کے بعد غسل کیا اور سول ڈریس زیب تن کرلیا۔ چنانچہ وہ احرام جو ۷ ذی الحج کو باندھا تھا وہ ۱۰ ذی الحج کی شام کو اتاردیا۔ اب اگلا مرحلہ طواف زیارت اور دو دن منیٰ میں قیام اور رمی کرنا باقی تھا۔

طواف زیارت

اگلے دن ایک اور معرکہ سر کرنا تھا اور وہ تھا طواف زیارت۔ تقریباً ۳۲ لاکھ حاجیوں کو یہ طواف بارہ تاریخ تک کرنا تھا جس کی بنا پر حر م میں غیر معمولی رش تھا۔ ہمارے گروپ کے کچھ لوگ دس تاریخ ہی کو طواف کر آئے تھے اور باقی لوگ وقتاً فوقتاً یہ فرض انجام دے کر آرہے تھے۔ لیکن ہر آنے والا گروہ رش میں اضافے کی خبریں ہی لارہا تھاجس سے اضطراب بڑھ رہا تھا۔

بہرحال نماز ظہر پڑھ کر۲۵ افراد کا قافلہ رمی اور طواف کرنے کے لئے نکلا۔ یہ گروہ عورتوں بوڑھوں اور چند نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ اس میں وہ نوجوان بھی شامل تھے جو پہلے ہی طواف کرکے آگئے تھے اور اب صرف بزرگوں کی مدد کے لئے جارہے تھے۔مجھے ان کے ایثار پر رشک آگیا۔ رمی تو ہم نے سیکنڈ فلور پر جاکر پندرہ منٹ ہی میں کرلی لیکن اگلا محاذ طواف زیارت کرنا تھا۔ ٹرانسپورٹ سے جانا ایک مسئلہ تھا کیونکہ ٹرانسپورٹر حضرات ٹریفک جام ہونے کی بنا پر راستے ہی میں اتاردیتے تھے اور پھر باقی سفر پیدل ہی طے کرنا پڑتا تھا۔ دوسرا آپشن طریق المشاہ یعنی پیدل چلنے والوں کا راستہ تھا جو جمرات سے قریب پون گھنٹے کا سفر تھا۔

رمی کے بعد گروپ کے کچھ لوگوں نے چاہا کہ طواف کو رات تک موخر کردیا جائے کیونکہ ایک لڑکی کے رشتے دار نے فون پر رش کی بنا پر حرم آنے سے منع کردیا تھا۔ لیکن مجھے اس رائے سے اختلاف تھا۔ اس وقت پونے تین بج رہے تھے اور امید تھی کہ عصر سے قبل حرم پہنچ جائیں گے۔ بہرحال گروپ کے لوگوں نے میری رائے سے اتفاق کیا اور ہم طواف کے لئے چل پڑے۔ طریق المشاہ ایک لمبی سی سرنگ ہے جو آگے جاکر دو حصوں میں منقسم ہوجاتی ہے اور پھر یہ راستہ سیدھا باب صفا پر جاکر نکلتا ہے۔ اس سرنگ میں جگہ جگہ ٹوائلیٹ اور پانی پینے کے انتظامات ہیں۔ وہاں ہم چلتے رہے۔ کچھ دیر بعد ہی ہم گروپ والوں سے بچھڑ گئے۔

میری بیوی کے گھٹنے میں جھٹکا آگیا تھا جس کی بنا پر اسپیڈ مدھم رکھنا پڑ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ تھکن میں بھی اضافہ ہورہا تھا لیکن خدا سے کیا ہوا عہد بھی یاد تھا کہ خواہ ٹانگیں ٹوٹ جائیں لیکن اس کی راہ میں چلتے رہنا ہے۔ اس دوران یہ بھی گھبراہٹ تھی کہ حرم میں نہ جانے کیا صورت حال ہوگی۔ راستے ہی میں نماز عصر ادا کی اور پھر سفر جاری رکھا۔ پیدل چلتے چلتے یوں محسوس ہورہا تھا گویا ساری عمریونہی چلتے رہنا ہے اور بات بھی کچھ غلط نہ تھی کیونکہ خدا کی راہ میں تو ساری زندگی ہی چلنا تھا خواہ وہ سرنگ ہو یا پھر یا زندگی کا سفر۔

بہرحال سرنگ کے دہانے پر دور ایک روشنی دکھائی دے رہی تھی جو سورج کی روشنی تھی۔ جب دہانے سے باہر نکلے تو دل باغ باغ ہوگیا کیونکہ مسجد الحرام کے مینار دیکھنے والوں کو دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ وہاں کے درو بام دیکھ کر ساری تھکن دور ہوگئی۔ جب آگے بڑھے تو پتا چلا کہ لوگوں نے جو بے پناہ ر ش کے قصے سنائے تھے وہ غلط تھے یا کم از کم اب رش ختم ہوچکا تھا۔

میں لرزتے قدموں سے مسعیٰ کے راستے مطاف تک پہنچا اور سبز لائیٹ کی سیدھ میں آکر حجر اسود کی جانب استلام کیا اور خدا سے عہد کی تجدید کرتے ہوئے طواف زیارت کا آغاز کیا۔ اس وقت پانچ بج رہے تھے اور ہم سوچ رہے تھے کہ نہ جانے مغرب تک کتنے چکر ہو پائیں کیونکہ مغرب پانچ بج کر چالیس منٹ پر تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وسعت اور آسانی پیدا کردی اور مغرب تک پانچ چکر مکمل ہوگئے۔ اسی اثنا ء میں مغرب ہوگئی اور امام نے بڑی جلدی نماز پڑھائی تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ طواف کا موقع مل سکے۔نماز کے بعد باقی چکر مکمل کئے ، زم زم پیا، دو نفل پڑھے اور سعی کے لئے کمر کس لی۔سعی کے دوران عشاء کی اذان ہوگئی چنانچہ نماز پڑھی اور پھر باقی چکر مکمل کئے۔ اس کے بعد خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے حج کا یہ اہم فریضہ بھی خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی توفیق دے دی۔

اب اگلا مرحلہ واپسی کا تھا۔ واپسی کے لئے باب اسمٰعیل استعما ل کیا اور پھر کھانے کے بعد ٹیکسی والوں سے عزیزیہ چلنے کی بات چیت کی۔ کوئی پچاس ریال مانگ رہا تھا تو کوئی تیس ریال فی بندہ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کوئی بھی منزل مقصود تک پہنچانے کی گارنٹی نہیں دے رہا تھا۔ چنانچہ ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ واپسی کے لئے طریق المشاہ ہی استعما ل کرنا ہے۔ اس کے لئے واپسی حرم کے اندر ہی سے ہوئی وہاں دیکھا تو مطاف بہت خالی تھا اور ایک اور طواف کرنے کا دل چاہ رہا تھا۔ لیکن تھکاوٹ کے ڈر سے اس ارادے باز رہے۔ منی ٰ کے خیموں میں واپس پہنچتے پہنچتے رات کے بارہ بج گئے۔ اس طرح وہ پیدل سفر جو دوپہر دو بجے شروع کیا تھا دس گھنٹے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ تھکن سے چور ہونے کی جہ سے نیند جلد ہی آگئی۔

ابلیسی فوج کا کہرام

ادھر اہل ایمان شیطان کو کاری ضرب لگانے کے بعد منٰی میں چین کی نیند سورہے تھے اور دوسری جانب ابلیس کے خیموں میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ وہاں کی طوائفیں بدصورتی کی مثال بن گئی تھیں، شراب کےجام ٹوٹے پڑے تھے، رقص و موسیقی بند ہوچکی تھی، خیمےالٹے پڑے تھے اور قہقوں کی بجائے آہیں اور سسکیاں تھیں۔ شیطان اپنی بے پناہ طاقت، وسائل اور منصوبہ بندی کے باوجود اہل ایمان کو شکست دینے میں ناکام رہا تھا۔ لیکن ابھی جنگ کے دو دن باقی تھے اور اس میں وہ اپنی بچی کچھی فوجیں جمع کرکے خاموشی سے اہل ایمان کو گمراہ کرنے کی سازشیں تیار کررہا تھا۔

اگلا دن بھی منی میں قیام کا تھا۔ اکثر لوگ احرام اتار کر سمجھ رہے تھے کہ حج مکمل ہوگیا ہے۔ چنانچہ منٰی میں قیام کے دوسرے روز اہل ایمان کا جذبہ سرد ہوتا جارہا تھا۔ یہ بات شیطانی لشکر کے فائدے میں تھی۔ شیطان کے چیلوں نے دوبارہ اپنے زخموں کو بھلا کر سازشیں شروع کردیں۔ ان کی کوششوں کے باعث کمزور اہل ایمان خدا کی یاد کی بجائے دنیاوی باتوں میں مشغول ہوچکے تھے۔ اب کچھ لوگوں کی گفتگو کا موضوع سیاست تھی، دنیاداری تھی، وطن میں موجود بیوی بچے تھے، کھانے کے وسائل پر قبضہ تھا، لوگوں کی برائیاں تھیں۔ ان کے علی الرغم خدا کے چنے ہوئے بندے بھی تھے۔ وہ اب بھی خدا کی حمد و ثنا میں مصروف تھے، وہ اس کی یاد میں آنسو بہا رہے تھے، حج میں اپنی کوتاہیوں پر معافی کے خواستگار تھے، مستقبل میں اس کی رحمت کے طلبگار تھے۔

فرزندان توحید کو تربیت کے ایک اور مرحلے سے گذارنے کے لئے ۱۱ ذی الحجہ کو بھی شیطان پر سنگباری کرنی تھی۔چنانچہ اس معرکہ کا وقت آن پہنچا اور اہل ایمان کی فوجوں نے بچے کچھے شیاطین کو پیچھے دھکیلنا شروع کردیا۔ دوبارہ ان کا ٹارگٹ جمرات ہی تھا۔ شیطان کی فوجیں تھکی ماندی مایوس اور افسردہ تھیں جبکہ اہل ایمان ترو تازہ، طاقت ور اور پرامید۔ شیطان کے لشکر سے آہ و بکا کی آوازیں تھیں جبکہ رحمانی لشکر سے خدا کی بڑائی اور حمد کے ترانے۔شیطانی لشکر میں ابتری تھی جبکہ رحمانی افواج میں تنظیم۔ شیطان کا کوئی والی وارث نہیں تھا جبکہ اہل ایمان کا سرپرست خداوند قدوس تھا۔

شیطان کا لشکر پسپا ہوتا رہا یہاں تک کہ جمرات آگیا۔ یہاں شیطانی افواج کا پڑاؤ چھوٹے جمرے پر ہوا۔ اہل ایمان کا ہلہ اس چھوٹے جمرے (شیطان)کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ چنانچہ طاغوتی قوتیں پیچھے ہٹ کر جمرہ وسطیٰ(درمیانی شیطان) پر جمع ہوگئیں۔ اہل ایمان نے ایک اور کاری وار کیا اور شیطان کی فوج کی بڑی تعداد کام میں آگئی۔ بچی کچھی طاقت اپنے سردار بڑے شیطان کے جھنڈے تلے جمع ہوگئی۔ یہاں بھی تائید ایزدی سے اہل ایمان نے شیطان کوایک اور زک پہچائی اور اب اس کے لئے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا۔ چنانچہ وہ پٹتا رہا اور قیامت تک پٹنا اس کا مقدر تھا۔

اگلے دن بارہ ذوالحج کو بھی یہی عمل دہرایا گیا اور یوں حج کے مناسک مکمل ہوچکے تھے۔ اہل ایمان وقوف عرفات ، قیام مزدلفہ، رمی ، قربانی ، حلق ،طواف وداع اور منی میں ۱۲ ذولحج تک قیام کرکے حج کے تمام ظاہری مناسک پورے کرچکے تھے۔ حج ختم ہوگیا تھا۔ یعنی شیطان کے خلاف تمثیلی جنگ کا اختتام ہوچلا تھا۔

جنگ کے نتائج

سوال یہ تھا کہ اس جنگ میں فتح کس کو نصیب ہوئی۔ اس کا ایک جواب تو بہت سادہ تھا کہ طاغوتی لشکر کو شکست اور اہل ایمان کو فتح نصیب ہوئی تھی۔ لیکن اس فتح میں اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا بھی ضروری تھا۔ مسلمانوں میں تین گروہ تھے جنہوں نے اپنے تقوی اور استطاعت کے مطابق حج سے استفادہ کیا۔

ایک گروہ سابقون کا تھا۔ اس گروہ کے مسلمانوں نے اپنی نیت خالص رکھی، اپنا مال اللہ کے لئے خاص کردیا، اپنے جسم کے ہر عضو کو اللہ کی اطاعت میں دے دیا ، اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ کی حمدو ثنا کی ، ا س کی بڑائی بیان کی۔ یہ وہ ہراول دستہ تھا جس نے اس تمثیلی جنگ سے تربیت حاصل کی کہ کس طرح شیطانی چالوں سے نبٹنا ہے اور نفس کے گھوڑے کو لگام دے کر اپنا مستقبل اللہ کی غلامی میں بتانا ہے۔ ان کے حج کو اللہ نے قبول کرلیا اور انہیں اس طرح کردیا جیسے وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہوں۔ ان کی خطائیں معاف ہوگئیں اور ان کا حج حج مبرور ہوگیا جس کا صلہ جنت کے سوا کچھ نہ تھا۔

مسلمانوں کا دوسرا گرو ہ تقوی کے اس مقام پرنہ تھا۔ اس گروہ میں علم کی کمی تھی، عمل میں کوتاہیاں تھیں اور نیت میں اتنا اخلاص نہ تھا۔ یہ لوگ حج کی اسپرٹ سے بھی پوری طرح آگاہ نہ تھے بس ظاہری فقہی احکامات مان کر حج کی رسومات انجام دے رہے تھے۔ لیکن یہ خدا کے وفادار تھے۔ انہوں نے اپنا دامن شرک کی گندگی سے پاک رکھا تھا۔ یہ اپنی کوتاہیوں پر شرمسار تھے، یہ معافی کے خواستگار تھے، جنت کے طلبگار تھے۔ یہ جانتے تھے کہ خدا اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہے اور اس نے اعلان کیا ہوا ہے کہ اگر تم چل کر آؤگے تو میں تمہارے پاس دوڑ کر آؤنگا۔ چنانچہ وہ مالی اور بدنی مشقتیں جھیل کر اپنے بادشاہ کے دربار میں چل کر آگئے تھے۔ چنانچہ یہ کیسے ممکن تھا کہ خدا دوڑ کر ان کے پاس نہ آتا، ان کی کوتاہیوں پر چشم پوشی نہ کرتا، ان کی خطاؤں سے درگذر نہ کرتا اور ان کے عمل کی کمی کو دور نہ کردیتا۔

مسلمانوں میں تیسرا گروہ ان لوگوںپر مشتمل تھا جو حج خدا کو راضی کرنے کی بجائے کسی اور نیت سے کرنے آئے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ حاجی لگوانا چاہتے تھے، کچھ اپنے حرام کی کمائی پر سیر سپاٹے کے لئے نکلے تھےاورکچھ شاپنگ کی غرض سے آئے تھے۔ظاہری مناسک توا نہوں نے بھی کئے تھے لیکن کسی اور نیت اور مقصد کے ساتھ۔ ان کی حیثیت قابیل کی مانند تھی جو قربانی کے لئے کچھ اناج تو لایا لیکن یہ ردی اور فالتو اناج تھا۔ ا س کی نیت یہی تھی کہ اگر قربانی قبول ہوگئی اور آگ نے اسے جلا دیا تو خو امخواہ اعلی درجے کا اناج ضائع ہوجائے گا۔یعنی اس نے قربانی کی ظاہری شکل تو پوری کی لیکن اس کی نیت میں فتور ہونے کی بنا پر اسے قبول نہ کیا گیا۔ بہر حال ان حاجیوں کا معاملہ اللہ کے سپر د تھا وہ جو چاہے فیصلہ کرے۔

منٰی سے واپسی

۱۰ذی الحج کو رمی کا وقت فجر کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے لیکن دس اور گیارہ تاریخ کو رمی کا وقت زوال کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ ظہر کےبعد ایک مرتبہ پھر رمی کرنے کے لئے روانہ ہوئے اور چونکہ یہ آخری روانگی تھی اس لئے خیمے سے اپنا سامان بھی اٹھالیا کیونکہ اب رخصتی کا وقت تھا۔ جب میں بیگم سے ساتھ باہر نکلا تو دیکھا کہ میری ایرو سافٹ کی قیمتی چپل کھو گئی ہے۔ اسی طرح ہمارے ایک ساتھی اقبال انکل کی وہیل چئیر بھی کوئی لے گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کچھ لوگ شیطان کے خلاف جنگ میں پیچھے رہ گئے تھے۔

اس مرتبہ رمی کے لئے گراؤنڈ فلور کا انتخاب کیا۔ پہلے چھوٹے شیطان کو کنکریاں ماریں اور دعا مانگی۔ پھر درمیانے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد بھی دعا مانگی البتہ بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہیں مانگی کیونکہ سنت یہی تھی۔ اس کے بعد ہم عزیزیہ میں اپنی قیام گاہ پر چلے گئے۔ یوں حج کے مناسک کا اختتام ہوا جس پر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ تاریخ کو بھی رمی کی تھی جو کہ آپشنل تھی۔ چنان&